کتب

نثر اللآلی

نَثْرُ اللَّآلِیْ مِنْ حِکَمِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ اَلْاِمَامِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبْ ؑ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ وَالْصَّلٰوۃُ والسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَ آلِہ ِالْطَّاھِرِیْنَ۔

انسان کی مادی و جسمانی زندگی کے لیے پانی ایک اہم عنصر ہے ۔انسان پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پیاس محسوس کرتا تو اس کے حصول کے لیے سعی و کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح روحانی زندگی کے لیے علم و حکمت اُس کی ضرورت ہے اور جو روحانی و معنوی طور پر زندہ رہنا چاہتا ہے وہ علم و حکمت کی پیاس کا احساس کرتا ہے اور اس کو تلاش کرتا ہے اور اُسے سیکھنے کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔

اللہ سبحانہ نے انسان کی خلقت کے بعد اُسے علم سکھانے کا کام بھی اپنے ذمہ لیا۔ اُسے عقل و شعور کی نعمت سے نوازا تاکہ اُس میں سیکھنے کی طلب پیدا ہو ۔اور انبیاءؑ کی صورت میں معلّم بھیجےجو اُن کے شعور کو بیدار کریں اور اُن کو علم و حکمت کی باتیں سکھائیں۔

پیغمبر اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد قرآن مجید نے اسی تعلیم کو قرار دیا :﴿ھُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ﴾(سورہ جمعہ،آیہ:۲) ’’وہ وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے”۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے ساری زندگی قول و عمل سے علم و حکمت کی تعلیم دی۔ اور ساتھ ہی اس فرمان کو بار بار بیان فرمایا : اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُھَا۔ ’’میں شہر علم ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں”۔ اور کبھی فرماتے : اَنَا دَارُ الْحِکْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا۔“میں حکمت کا گھر ہوں اور علی ؑاس کا در ہیں”۔

امیر المؤمنینؑ اہل بیت ؑ کو علم کا خزانہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهٖ، وَ لَجَاُ اَمْرِهٖ، وَ عَیْبَةُعِلْمِهٖ، وَ مَوْئِلُ حِكَمِهٖ، وَ كُهُوْفُ كُتُبِهٖ، وَ جِبَالُ دِیْنِهٖ، بِهِمْ اَقَامَ انْحِنَآءَ ظَهْرِهٖ، وَ اَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَآئِصِهٖ(نہج البلاغہ ،خطبہ،۲)

“وہ سرِ خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ ہیں، علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں، کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اور اس کے پہلوؤں سے ضعف کی کپکپی دور کی”۔

امیر المؤمنینؑ ایک اور مقام پر اہل بیتؑ کے لئے مرکزِ علم و حکمت ہونے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

فَالْتَمِسُوْا ذٰلِكَ مِنْ عِنْدِ اَهْلِهٖ، فَاِنَّهُمْ عَیْشُ الْعِلْمِ، وَ مَوْتُ الْجَهْلِ، هُمُ الَّذِیْنَ یُخْبِرُكُمْ حُكْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ، وَ صَمْتُهُمْ عَنْ مَّنْطِقِهِمْ، وَ ظَاهِرُهُمْ عَن بَاطِنِهِمْ۔) نہج البلاغہ، خطبہ:۱۴۵)
“جو ہدایت والے ہیں انہی سے ہدایت طلب کرو۔ وہی علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا (دیا ہوا) ہر حکم ان کے علم کا اور ان کی خاموشی ان کی گویائی کا پتہ دے گی اور ان کا ظاہر ان کے باطن کا آئینہ دار ہے”۔

امیرالمومنینؑ صاحبانِ عقل میں علم کی پیاس پیدا کرکے سیراب کرنے والے چشمہ کا پتا یُوں بتاتے ہیں :

﴿فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ﴾ وَ ﴿اَنّٰی تُؤْفَكُوْنَ﴾! وَ الْاَعْلَامُ قَآئِمَةٌ،وَ الْاٰیَاتُ وَاضِحَةٌ، وَ الْمَنَارُ مَنْصُوْبَةٌ، فَاَیْنَ یُتَاهُ بِكُمْ؟ بَلْ كَیْفَ تَعْمَهُوْنَ وَ بَیْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِیِّكُمْ؟ وَ هُمْ اَزِمَّةُ الْحَقِّ، وَ اَعْلَامُ الدِّیْنِ، وَ اَلْسِنَةُ الصِّدْقِ! فاَنْزِلُوْهُمْ بِاَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْاٰنِ، وَ رِدُوْهُمْ وُرُوْدَ الْهِیْمِ الْعِطَاشِ.( نہج البلاغہ، خطبہ:۸۵)

“اب تم کہاں جا رہے ہو؟ اور تمہیں کدھر موڑا جارہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند، نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جارہا ہے اور کیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو؟ جبکہ تمہارے نبی ﷺ کی عترتؑ تمہارے اندر موجود ہے جو حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں ہیں۔ جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہیں انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سر چشمہ ہدایت پر اترو”۔

علم وحکمت کے پیاسے اِس دریائے علم و حکمت اور سر چشمۂ ہدایت سے اپنے ظرف کے مطابق اخذ فیض کرتے رہے۔ خود سیراب ہوتے رہے اور دوسروں کی پیاس بھی بجھاتے رہے۔

امیرالمومنینؑ کے کلامِ ذیشان سے جن لوگوں کو واسطہ پڑا اور تعلق قائم ہوا اُن کی علمی پیاس بڑھتی ہی گئی اور آپؑ کے کلام کو جمع کرنے کی تلاش میں کوشاں رہے۔۔ آپؑ کے کلمات کو الگ طور پر جمع کرنے والے افراد میں سے جو کلام اِس وقت کتاب کی صورت میں موجود ہے وہ مشہور عرب ادیب ابو عثمان عمرو بن الجاحظ متوفی ۲۵۵ ھ کے سو کلمات ہیں۔جاحظ مشہور اور کثیر التصنیف مصنف ہیں ۔ انہوں نے دو جلدوںمیں ’’البیان والتبیین‘‘ نامی کتاب لکھی جس میں عرب کے مشہور افراد کے فصاحت و بلاغت پر مبنی اقوال لکھے۔ وہاں کافی مقدار میں امیرالمومنینؑ کے اقوال درج کئے اور آپؑ کے ایک فرمان: قِیْمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَّا یُحْسِنُهٗ۔(نہج البلاغہ،حکمت:۸۱) ’’ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ،جو اس شخص میں ہے”۔ درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس ایک کلمہ کی اتنی قیمت ہے کہ اگر میری اس کتاب میں فقط یہ ایک فرمان ہو تو کافی ہے۔

جامع نہج البلاغہ سید رضیؒ متوفی ۴۰۶ھ نے ائمہ کے حالات پر کتاب ’’خصائص الآئمہ‘‘ لکھنی شروع کی۔ اس میں امیر المومنینؑ کے مختصر اقوال درج کئے۔ پڑھنے والوں نے اِن فرامین کے مطالعہ سے مزید فرامین کی پیاس محسوس کی اور امیر المؤمنینؑ کا مزید اور مفصل کلام جمع کرنے کی سید رضیؒ سے خواہش کی ۔سید رضیؒ نے مختصر اقوال کے ساتھ خطبات و خطوط اور وصیتیں اور دعائیں جمع کیں ۔سیدؒ نے اس مجموعہ کا نام نہج البلاغہ رکھا اور آپؑ کا یہ کلام اس وقت سارے جہان میں شہرت رکھتا ہے۔متعدد زبانوں میں اس کے ترجمے ہیں اور سینکڑوں شرحیں لکھی گئیں۔

جاحظ کے سو کلمات کو عبد الواحد بن محمد بن عبد الواحد الآمدی متوفی ۵۵۰ ھ نے دیکھا تو بےتاب ہو گئے کہ جاحظ جیسا بڑا عالم اور علیؑ جیسی شخصیت کے فقط سو کلمات؟ الآمدی نے خود امیرالمؤمنینؑ کے کلمات کو جمع کرنا شروع کیا اور غرر الحکم و درر الکلم کے نام سے گیارہ ہزار کے قریب کلمات جمع کئے۔

اہل سنت کے مشہور عالم عزالدین ابو حامد ابن ابی الحدید معتزلی متوفی ۶۵۵ ھ نے ساڑھے چار سال کی محنت سے بیس جلدوں میں نہج البلاغہ کی شرح لکھی، مگر بیس عالیشان جلدیں لکھنے پر ان کی پیاس ختم نہیں ہوئی بلکہ اور بڑھ گئی اور بیسویں جلد کے آخر میں امیر المومنینؑ کے ایک ہزار کلمات جمع کئے ۔یہ کلمات ’’الف کلمۃ‘‘ کے نام سے ۱۹۲۹ ء میں الگ کتاب کی صورت میں بیروت سے شایع ہوئے۔

مشہور شیعہ مفسرِ قرآن،صاحب تفسیر مجمع البیان علامہ فضل بن حسن طبری متوفی ۵۴۸ ھ نے اتنی عظیم الشان تفسیر کے ساتھ ساتھ امیرِ کلام علی علیہ السلام کے فرمودات میں سے ۳۱۳ مختصر فرامین جمع کیے اور اس کا نام رکھا ’’نَثْرُ اللَّآلِیْ مِنْ حِکَمِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ اَلْاِمَامِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبْ ؑ‘‘ ۔یہ فرامین مختلف اوقات میں الگ الگ انداز سے شایع ہوتے رہے ۔کبھی ان کی تعداد میں کمی واقع ہو گئی اور کبھی ترتیب میں تبدیلی کر دی گئی۔ اس وقت یہ کتاب علامہ السید محمد رضا الحسینی الجلالی کی تحقیق اور ترتیب کے مطابق پیش کی جا رہی ہے۔ اس میں ۲۹۱ کلمات درج ہیں۔ حرم امام رضا علیہ السلام کے شعبہ نشر و اشاعت آستانہ قدس رضوی سے یہ کتاب ۳۱۳ مکمل اقوال پر مشتمل عربی اور فارسی ترجمہ کے ساتھ شایع ہوئی ہے مگر اس کی ترتیب تھوڑی سی بدل دی گئی ہے۔ اس لیے اصل ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب جلالی صاحب والے نسخہ کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

مرکز افکارِ اسلامی ایک مدت سے امیرِ کلام امیرالمومنینؑ کے کلام کو عام کرنے کی کوشش و سعی میں مشغول ہے۔اس مقصد کے لیے(۱) مکمل نہج البلاغہ اُردو ترجمہ اور حاشیہ علامہ مفتی جعفر حسین ؒ بارہا شائع ہوا۔۔(۲) علا مہ مفتی جعفر حسینؒ کے حاشیہ کے بغیر ان کا عربی اردو ترجمہ شایع کیا جا چکا ہے۔ (۳) علامہ مفتی جعفر حسینؒ کا ترجمہ فقط اُردو میں الگ بھی دو بار شایع ہو چکا ہے ۔ (۴)نہج البلاغہ کے بعض حصوں کو مثلاً خطبہ۱۹۱، خط۳۱۔ خط۵۳ الگ شایع کئے گئے ہیں ۔(۵) نہج البلاغہ کا تیسرا حصہ کلمات قصار الگ شایع ہوا ہے(۶)نہج البلاغہ سے ۳۶۵ فرامین ’’چراغِ راہ‘‘ کے نام سے عربی ، اُردو اور انگلش میں دو ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں۔(۷) ان ۳۶۵ اقوال کی مختصر شرح ’’شمعِ زندگی‘‘ کے نام سے اشاعت کے لئے آمادہ ہے۔(۸)نہج البلاغہ کا انگریزی کا ترجمہ دو بار شایع ہو چکا ہے۔(۹) خط ۵۳ کا انگریزی ترجمہ دو ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔کلام امامؑ کی نشر و اشاعت کے لیے متعدد دوسرے ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مرکز افکارِ اسلامی کی طرف سے نہج البلاغہ کے علاوہ امیرالمومنینؑ کے جمع شدہ کلام کو اُردو ترجمہ کے ساتھ شایع کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ مرکز نے جاحظ کے سو کلمات کے اُردو ترجمہ کی گذارش جناب مولانا غلام حر شبیر صاحب سے کی اور پہلی بار اس کا اردو ترجمہ کیا گیا جو افکار کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ ابن ابی الحدید کے ہزار کلمات کا ترجمہ مرکز کی خواہش پر جناب مولانا اقبال حسین مقصود پوری صاحب نے کیا جو ہزار گوہر کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ غرر الحکم و درر الکلم کے ۱۵۰۰ کے قریب وہ کلمات جو نہج البلاغہ کے کلمات سے ملتے جلتے ہیں اُردو ترجمہ کے ساتھ اشاعت کے آخری مراحل میں ہیں۔اور علامہ طبرسی کے جمع کئے ہوئے ۳۱۳کلمات میں سے ۲۹۱ کلمات کا ترجمہ پہلی بار امریکہ سے جناب حجۃ الاسلام مولانا سید تلمیذ حسین رضوی صاحب نے فرمایا اور وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

ادارہ ان بہترین مساعی پر تمام علماء کا شکرگزار ہے۔ اور اس کتاب کے مترجم جناب مولانا تلمیذ الحسنین رضوی صاحب کا خصوصیت سے شکر گزار ہے کہ انہوں نے مختصر وقت میں اس کا ترجمہ کر دیا۔ اللہ سبحانہ و تعالی محبان امامؑ کو کلامِ امام ؑ سے محبت نصیب فرمائے اور امامِ مظلوم کے کلام مظلوم کو سمجھنے، زندگیوں میں اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

والسلام
مرکز افکارِ اسلامی
۱۷ جون ۲۰۲۱

 

آن لائن پڑھیں ڈاؤنلوڈ کریں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button