خطبات

نہج البلاغہ خطبات

اردو ترجمہ: علامہ مفتی جعفر حسینؒ

نمبر خطبہ پی ڈی ایف
1 معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2 عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3 (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4 آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5 پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6 طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7 منافقین کی حالت
8 جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9 اصحاب جمل کا بوداپن
10 طلحہ و زبیر کے بارے میں
11 محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12 عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13 بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14 اہل بصرہ کی مذمت میں
15 عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16 جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17 مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18 علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19 اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20 موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21 دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22 قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23 حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24 جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25 بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26 عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27 جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28 دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29 جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30 قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31 جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32 دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33 جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34 اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35 تحکیم کے بارے میں فرمایا
36 اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37 اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38 شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39 جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40 خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41 غداری کی مذمت میں
42 نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43 جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44 جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45 اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46 جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47 کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48 جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49 اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50 حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51 جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52 دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53 گوسفند قربانی کے اوصاف
54 آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55 میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56 میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57 معاویہ کے بارے میں فرمایا
58 خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59 خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60 جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61 دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62 دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63 صفات باری کا تذکرہ
64 جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65 سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66 محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67 اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68 شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69 اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70 پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71 حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72 جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73 قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74 پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75 بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76 دعائیہ کلمات
77 منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78 عورتوں کے فطری نقائص
79 پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80 اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81 موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82 عمرو بن عاص کے بارے میں
83 تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84 آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85 دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86 امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87 بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88 صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89 (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90 جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91 خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92 خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93 بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94 نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95 اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96 بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97 ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98 اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99 عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100 بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101 زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102 بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103 پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104 شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105 صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106 پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107 خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108 فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109 دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110 ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111 دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112 زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113 طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114 آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115 خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116 اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117 جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118 اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119 تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120 جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121 جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122 میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123 تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124 بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125 خوارج کے عقائد کے رد میں
126 بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127 دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128 حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129 خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130 موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131 خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132 جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133 غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134 اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135 طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136 ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137 شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138 غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139 سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140 بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141 طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142 اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143 دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144 جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145 بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146 طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147 موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148 حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149 فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150 خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151 غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152 اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153 چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154 حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155 دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156 بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157 لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158 خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159 دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160 حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161 اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162 امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163 مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164 شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165 حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166 جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167 جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168 اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169 صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170 جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171 خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172 طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173 غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174 پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175 حکمین کے بارے میں فرمایا
176 خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177 جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178 اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179 خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180 خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181 خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182 جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183 خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184 مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185 فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186 خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187 پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188 تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189 خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190 (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191 متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192 پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193 خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194 بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195 حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196 خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197 نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198 معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199 راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200 جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201 دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202 اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203 طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204 صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205 جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206 صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207 علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208 اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209 خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210 حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211 خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212 پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213 آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214 حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215 قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216 طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217 متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218 ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219 ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220 ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221 ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222 آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223 دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224 آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225 انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226 اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227 تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228 جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229 عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230 جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231 لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232 پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233 ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234 زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235 حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236 آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237 جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238 اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button