
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ مقالہ چار فصول پر مشتمل ہے۔
فصل اول:
امام علیؑ کی نظر میں عدالت کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امامؑ نے عدالت کے معیار کو اچھے طریقے سے پہچانا اور اچھے لفظوں اور جملوں میں لوگوں کو بتایا اور انہیں زندگی کے نشیب و فراز میں عدالت کو دکھایا اور عدالت کے معیار سے ایک لحظہ بھی جدا نہیں ہوا۔ میدان جنگ میں بھی اور سخت ترین دشمنان کے ساتھ اور حتیٰ اپنے قاتل کے ساتھ بھی عدالت سے پیش آئے۔ گذشتہ تاریخ اور زمان حاضر میں بہت سے لوگوں نے عدل اور عدالت کے بارے میں لکھا لیکن بہت کم نے عدل کے دقیق معنیٰ کو سمجھا اور عدل و عدالت کو اچھی طرح سے بیان نہیں کیا اور عدالت کو ایک قانون سمجھا ہو بہت کم ہیں اور اس طرح عدالت کو ایک اصل عام جہان تکوین اور نظام تشریع میں باور کیا ہو بہت کم ہیں۔
لیکن شناخت عدل اور اس پر ایمان اور شناخت عدل کے اصول اور اطراف اور آثار عدل اور مختلف طریقوں سے اجراء علیؑ کی خصوصیات میں سے ہے۔ امام علیؑ نے اپنی زندگی چاہے فردی ہو یا اجتماعی اور خصوصا اپنی حکومت کے دوران عدالت کا علم اتنا ہی اونچا کیا کہ اس کو مجسمہ عدل و عدالت کہا گیا۔ علیؑ نے عدل کو ایک عام قانون اور ایک ایسی سنت جو تغیر ناپذیر ہے جہان خلقت میں بھانپا اسی وجہ سے ان کا مذہب اور مکتب، مکتب عدل اور عدالت سے پہچانا گیا، اور یہ کہا گیا کہ یہ مذہب اور مکتب عدل والا مذہب اور مکتب ہے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے سے کہا گیا کہ التوحید والعدل علویان (توحید اور عدل دو اصل علوی ہیں) اور بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مکتب ناشناختہ رہ گیا اور امام علیؑ تاریخ میں مظلوم واقع ہوئے اور انہیں حکومت میں بہت موانع کے ساتھ روبرو ہونا پڑا اور اس مقدمہ کو امامؑ کے ایک قول کے ساتھ تمام کرتا ہوں کہ امامؑ نے لوگوں کو متوجہ کیا کہ عدالت اجتماعی کا اجرا کرنا بہت دشوار ہے اور عدالت خواہان کو یہ تذکر دیتا ہے کہ راستہ بہت دشوار اور کٹھن ہے، محکم اور شکست نا پذیر ارادے کی ضرورت ہے، امام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
فان اطعتمونی فانی حاملکم ان شاء اللہ علیٰ سبیل الجنۃ و ان کان ذا مشقہ شدیدۃ و مزاقۃ مریرۃ (نہج البلاغہ ۴۸۷ فیض لاسلام) اہل بصرہ کے ساتھ خطاب میں فرمایا:
اگر میری اطاعت کریں گے تو ان شاء اللہ جنت میں لے جاؤں گا اگرچہ یہ راستہ بہت دشوار اور سخت وتلخ ہے۔
کیونکہ بہت سے لوگ باطل کو طلب کرتے تھے اور رسول خدا ﷺ اور خدا کی پیروی ان کی نظر میں مشکل تھی۔
فصل دوم:
(۱) عدل کی تعریف: عدل کے بارے میں متعدد تعریفیں کی گئی ہیں۔ ایک تعریف جو جامع اور مانع ہو نہیں ہے اور جامع اور مانع ہونا بہت مشکل کام ہے وہ چیز جو عدل کے مفہوم کو واضح کرے عدل کی ضد ہے۔ یعنی ظلم کی پہچان سے عدل کی پہچان ہوتی ہے یا ہر جگہ ظلم کا ایک مصداق ہو وہاں سے کشف کیا جاتا ہے کہ عدل اس کی مخالف سمت میں ہے۔ یہ جو معیار ہے بہت حقائق پر جاری ہوا ہے۔
(۲) تفسیر عدل: العدل یضع الامور مواضعھا (نہج البلاغہ ۱۲۹۰فیض لاسلام) ہر چیز اور شی کو اپنی جگہ پر قرار دینا۔
(۳) نظام تکوین میں عدل: امام علیؑ نے فرمایا: العدل اساس بہ قوام العالم (بحارلانوار ۷۸، ۸۳) عدل ایک زیر بنا ہے اسی سے جہان اور عالم قائم ہیں۔ اس کلام میں مولا علیؑ نے تمام جہان عالم کے لئے ایک عام قانون کی طرف اشارہ کیا ہے وہ عدل اور تعادل ہے اور یہ جہان ہستی میں ایسا قانون ہے جو تبدیل ہونے والا نہیں ہے اور خدا کے عدل سے یہ قانون پیدا ہوا ہے۔
(۴) نظام تشریع میں عدل: امام علیؑ نے فرمایا: ان العدل میزان اللہ الذی وضعہ للخلق و نصبہ لاقامۃ الحق فلا تخالفہ فی میزانہ ولا تعارضہ فی سلطانہ (ترجمہ الحیاۃ ۶۔ ۶۰۴) عدل اور عدالت اللہ کا میزان ہے کہ لوگوں کے کاموں کے لئے وضع کیا گیا ہے اور حق کو قائم کرنے کے لئے وضع کیا پس میزان خدا کے ساتھ مخالفت نہ کریں اور خدا کے اقتدار کے ساتھ جنگ نہیں کریں۔ پھر امامؑ نے فرمایا: جعل اللہ سبحانہ العدل قواماَ لانام (غرر الحکم ۱۶۵) خداوند نے عدالت کو لوگوں کے لئے مائہ پائیداری قرار دیا ہے۔ پھر فرمایا: العدل قوام البریۃ (ترجمہ الحیاۃ ۶۔ ۶۰۶) عدالت کو مخلوقات کے لئے مایہ پائیداری قرار دیا۔
فصل سوئم
(۱) ارزش عدالت: عدالت ان مسائل میں سے ایک ہے کہ اسلام نے ان کی بہت تاکید کی ہے اسلام نے نہ فقط عدالت کی وصیت نہیں فرمائی یا عدالت کے اجراء کا فقط نہیں کہا بلکہ اس کی ارزش کا زیادہ قائل ہوا، پس بہتر ہے اس مطلب کو نہج البلاغہ میں مولا علیؑ کی زبانی سنتے ہیں، ایک آدمی جو باہوش اور دقیق تھا مولا علیؑ سے سوال کیا۔ العدل افضل ام الجود (نہج البلاغہ حکمت ۴۳۷) آیا عدالت افضل ہے یا جود و سخا؟ دو خصائص انسان کے بارے میں سوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت آسان ہے، جود و سخا عدالت سے بالا تر ہے چونکہ عدالت میں دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا ہے اور دوسرے کے حقوق کا تجاوز نہ کرنا ہے، لیکن جود و سخا کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مسلم حقوق کو دوسروں پر قربان کرنا، عدالت میں دوسروں کے حقوق کا تجاوز نہ کرنا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے، لیکن جود و سخا میں فدا کاری کیا جاتا ہے اور اپنے مسلم حق کو دوسروں کے سپرد کرنا ہوتا ہے، پس اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جود و سخا بالا تر ہے اگر فقط اخلاقی معیار کو سامنے رکھیں تو ایسا ہی ہے کہ جود و سخا انسان کے نفس کے لئے کمال ہے۔ لیکن امام علیؑ نے اس کے بر عکس جواب دیا ہے۔
امام علیؑ نے دو دلیل کی بنیاد پر عدل و عدالت کو جود و سخا سے برتر سمجھا۔
پہلی دلیل: العدل یضع الامور مواضعھا والجور یخرجھا من جہتھا (نہج البلاغہ حکمت ۴۳۷) عدل تمام امور کو ان کے موقع محل پر رکھتا ہے اور سخاوت ان کو ان کے حدوں سے باہر کر دیتی ہے، کیونکہ عدالت کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس میں مستحق واقعی اور طبیعی کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور ہر ایک کو اپنے استعداد کے مطابق عطا کیا جاتا ہے، گویا یہ ایک مشینری کی طرح ہے کہ اس میں ہر پرزہ اپنی جگہ پر ہے۔
لیکن جود و سخا میں، ٹھیک ہے کہ اس میں وہ آدمی جو اپنی ملکیت میں سے دوسروں کو بخش دیتا ہے یہ بھی بہت با ارزش ہے لیکن جریان غیر طبیعی ہے گویا یہ ایک بدن کی طرح ہے کہ اس میں ایک عضو بیمار ہے اور دوسرے اعضاء کچھ مدت کیلئے اس عضو کو نجات دیں ا سی وجہ سے فعالیت کرتے ہیں۔
دوسری دلیل: علیؑ فرماتے ہیں: العدل سائس عام والجود عارض خاص (نہج بلاغہ حکت ۴۳۷)
عدالت ایک عام قانون ہے اور لوگوں کے لئے تدبیر کرتا ہے، سب کی نگہداشت کرنے والا ہے، عدالت ہر چیز کو اپنے اندر گھیرے ہوئے ہے، عدالت اتنا بڑا راستہ ہے کہ ہر شخص اس سے گزر سکتا ہے جود و سخا ایک استثنائی حالت ہے اور کلی نہیں ہے اگر جود و سخاوت قانونی شکل اختیار کر لیں اور کلی بنے تو یہ جود و سخاوت نہیں رہے گا۔
علیؑ نتیجہ لیتے ہیں اور فرماتے ہیں: فالعدل اشرفھما وافضلھما (نہج البلاغہ ۴۳۷) پس عدالت اور جود و سخاوت میں سے افضل اور اشرف عدالت ہے۔ علیؑ کی نظر میں وہ چیز اور اصل جو اجتماع کے تعادل کو حفظ کرے سب کو راضی کرائے اجتماع کے پیکر اور روح کو آرام دے عدالت ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عثمان بن عفان اموال مسلمین کو اپنے دور خلافت میں اپنے لوگوں میں تقسیم کرتا ہے اور اس خلافت کے ختم ہونے کے بعد علیؑ خلافت کا باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو کچھ لوگ علیؑ کو مشورہ دیتے ہیں کہ جو کچھ گزر گیا اس کے بارے میں نہ سوچیے، اپنے دور خلافت میں جو کچھ اپنی صوابدید کے ساتھ کرنا ہے کر لیں۔ لیکن علیؑ جواب میں کہتے ہیں کہا الحق القدیم لا یبطلہ شئی حق قدیم کسی بھی صورت میں باطل نہیں ہو سکتا اور فرمایا خدا کی قسم ان اموال سے اپنی کنیزیں خریدی ہوں اس کے باوجود بھی ان اموال کو بیت المال کیلئے پلٹا دوں گا، اس کے بعد ایک قیمتی جملہ ارشاد فرمایا: فان فی العدل سعۃ و من ضاق علیہ العدل فالجور علیہ اضیق (حکمت ۴۳۷) عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اسے ظلم کی صورت میں زیادہ تنگی محسوس ہوگی۔
عدالت مصلحت پر قربان نہیں ہونا چاہیے:
بعض دوستان جو خیر اندیش تھے علیؑ کی خدمت میں آئے اور اپنے خلوص اور خیر خواہی کے ساتھ تقاضہ کرتے ہیں مصلحت یہ ہے کہ اپنے آپ کو درد سر سے بچائیں۔ ان افراد میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو با نفوز بھی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ اس وقت معاویہ جیسے دشمن کے مقابلہ میں ہیں جو ذرخیز علاقہ شام پر قابض ہے پس مصلحت کے لئے مساوات اور برابری کو چشم پوشی کریں۔ امام علیؑ جواب میں فرماتے ہیں:
اتا مرونی ان اطلب النصر بالجور واللہ ما اطور بہ سمر سمیر ام نجم فی السماء نجما (نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۶) آیا مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اپنی کامیابی کے لئے ان لوگوں پر جن پر میں ولایت رکھتا ہوں تبیعض اور ظلم و ستم برقرار رکھوں، خدا کی قسم جب تک میں زندہ ہوں اور دن اور رات جب تک بر قرار ہے اور جب تک ستارے طلوع اور غروب کریں گے ایسا کام میں ہرگز نہیں کروں گا ، میں اور تبعیض و ظلم و ستم، میں اور عدالت کا پائمال کرنا؟
اگر یہ پورا مال جو تمام لوگوں کے لئے ہے میرے اختیار میں دیا جائے اور میں چاہوں کہ تمام لوگوں میں تقسیم کر لوں ہرگز میں تبعیض نہیں کرتا درحالیکہ یہ مال مالِ خدا ہے اور میں اس مال کا امانت دار ہوں۔ (سیری نہج البلاغہ)
۳: عدالت کے اجراء میں قاطعیت: امام علیؑ نے فرمایا: ذمتی بما اقول رھینۃو انا بہ زعیم (نہج البلاغہ ٖفیض لاسلام ۶۶) جو کہتا ہوں ذمہ بھی لیتا ہوں اور اجراء کا ضامن ہوں میرے حق کہنے میں کوئی تردید نہیں ہے اور باطل اور نادرست کے لئے میرے گفتار میں جگہ نہیں ہے۔
امام کی نظر میں وہ کامیابی اور فتح جو ظلم کے راستے میں آئے یہ در حقیقت کامیابی نہیں ہے اور یہ اسکو کامیابی لوگوں کی نظر میں پہچاننا یہ خام اور سطحی نظر انسانوں کا کام ہے۔ اور کسی مقام پر فرماتے ہیں: ما ظفر من ظفر الاثم بہ والغالب بالشّر مغلوب(نہج البلاغہ ۱۲۴۱) اس نے کامیابی حاصل نہیں کی جس پر گناہ کامیاب ہوا اور شکست کھایا جس نے شر کے الات سے غالب آیا۔
امام علیؑ اجراء عدالت کے قاطییت کے لئے ارشاد فرماتے ہیں: لا یقیم امراللہ سبحانہ الا من لا یصانع و لا یضارع ولا یتبع المطامع (نہج البلاغہ فیض لاسلام ۱۱۳۷) خدائی سبحان کے فرمان کو فقط وہ اجراء کرتا ہے کہ جو سازش کار نہ ہو اس طرح سے رنگ پذیر نہیں ہونا چاہئے اور اپنے لئے کچھ بھی نہ چاہئے وہ آدمی عدالت کو جاری کر سکتا ہے کہ پہلے صحیح طریقے سے عدالت کو سمجھے۔ اور پہلے بھی عرض ہو گیا ہے دنیا میں علی ؑکی طرح عدالت کو کسی نے نہیں سمجھا ہے۔
فصل چہارم:
عدالت اجتماعی کیلئے زمینہ سازی
۱: فرھنگی زمینہ سازی
الف: انسان کے حقوق پر ایمان
امام علیؑ نے فرمایا: فضّل حرمۃ المسلم علیٰ الحرم کلھا (نہج البلاغہ ٖفیض۵۴۴)
خداوند تبارک و تعالیٰ نے مسلمان کی حرمت کو ہر حرمت پر برتری دی ہے اور دوسری جگہ میں فرمایا: ولعل بالحجاز اوالیمامۃ من لاطمع لہ فی القرص ولا عھد لہ فی الشبع (نہج البلاغہ ٖفیض ۹۷۰)
شاید حجاز میں یا یمامہ (یمن میں شہر کا نام) میں کوئی ہو جو روٹی کے ٹکڑے بھی نہیں پاتا ہو (کیونکہ ان کے دسترس میں نہیں تھا) اور سیر ہونے کو نہیں جانتے اور سمجھتے اور میں پر شکم سو جاؤں؟ اور دور والے بھوکے؟ اور میں علیؑ لذیذ کھانا کھاؤں؟ اس سے چشم پوشی کرتا ہوں شاید دور دور جگہوں پر ایک انسان بھوکا ہو حتیٰ ایک انسان جو مسلمان نہیں ہے علیؑ کی حکومت میں ظلم و ستم ہو جائے؟ اور علیؑ آواز بلند کرتے ہیں:
فلو ان امرئً مسلماًمات من بعد ھذٰا اسفاماکان بہ ملوما،بل کان عندی جدیراــ (فیض لاسلام ۹۵)
ایک مرد جو معاویہ کے لشکر سے ایک مسلمان یا کافر عورت سے گوشوارہ یا خلخال لیتا ہے، اگر ایک مسلمان اس واقعہ کے سننے کے بعد غم اور حزن میں مر جائے تو اس کی سر زنش نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسطرح (سر زنش) سے مرنا چاہئے۔
۲: اقتصادی زمینہ فراہم کرنا:
(الف): زمین آباد کرنا: حضرت علیؑ اس جگہ میں زمین آباد کرنے کے بارے میں نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
و لیکن نظرک فی عمارۃ الارض ابلغ من نظرک فی استجلاب الخراج۔ لان ذالک لا یدرکہ الا بالعمارۃ و من طلب الخراج بغیر عمارۃ اخرب البلاد و اھلک العباد ولم یستقم امرہ الا قلیلا فان شکو اثقلًاــاو علۃ اوانقطاع شرب او بالۃ او حالۃ ارضِِ اغتمر ھا غرق او اجحف بہا عطش خففت عنھم بما ترجوان یصلح بہ امر ھم ولا یثقلن علیک شی خففت بہ المونۃ عنھم فانہ ذخر یعودون بہ علیک فی عمارۃ بلادک و تزیین اھل ولایتک مع استجلابک حسن ثنائھم و تبجّحک با ستفاضۃ العدل فیھم فان العمران محتمل ما حملتہ و انما یوتی خراب لارض من اعواز اھلھا و انما یعوز اھلھا للا شراف النفس الوللا ۃ علی الجمع وسوء ِ ظنھم بالبقاء۔ (نہج البلاغہ فیض الاسلام ۱۰۱۳،۱۰۱۴)
ترجمہ: خراج کی جمع آوری سے زیادہ زمین کی آبادی کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ خراج بھی تو زمین کی آبادی سے حاصل ہو سکتا ہے اور جو آباد کئے بغیر خراج چاہتا ہے وہ ملک کی بربادی اور بندگان خدا کی تباہی کا سامان فراہم کرتا ہے اور اس کی حکومت تھوڑے دنوں سے زیادہ نہیں رہ سکتی۔ اب اگر وہ خراج کی گرانباری یا کسی آفت ناگہانی یا نہری و بارانی علاقوں میں ذرائع آب پاشی کے ختم ہونے یا زمین کے سیلاب میں گھر جانے یا سیرابی علاقوں کے نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ ہونے کی شکایت کریں تو خراج میں تنی کمی کرو جس سے تمہیں ان کے حالات سدھرنے کی توقع ہو اور ان کے بوجھ کو ہلکا کرنے سے تمہیں گرانی محسوس نہ ہو۔
کیونکہ انہیں زیر باری سے بچانا ایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جو تمہارے ملک کی آبادی اور تمہارے قلمر و حکومت کی زیب و زینت کی صورت میں تمہیں پلٹا دیں گے۔ اور اس کے ساتھ تم ان سے خراج تحسین اور عدل قائم کرنے کی وجہ سے مسرت بے پایان حاصل کر سکو گے۔ اور اپنے اس حسن سلوک کی وجہ سے کہ جس کا ذخیرہ تم نے ان کے پاس رکھ دیا ہے، تم (اڑے وقت پر) ان کی قوت کے بل بوتے پر بھروسہ کر سکو گے اور رحم و رافت کے جلو میں جس سیرت عادلانہ کا تم نے انھیں خوگر بنایا ہے اس کے سبب سے تمھیں ان پر وثوق و اعتماد ہو سکے گا۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے حالات بھی پیش آئیں کہ جن میں تمھیں ان پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہو تو وہ انہیں بطبیب خاطر جھیل کر لے جائیں گے کیونکہ ملک آباد ہے تو جیسا بوجھ اس پر لادو گے وہ اٹھا لے گا اور زمین کی تباہی تو اسی سے آتی ہے کہ کاشتکاروں کے ہاتھ تنگ ہو جائیں اور ان کی تنگ دستی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ حکام مال سمیٹنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں اور ان کو اپنے ا قتدار کے ختم ہونے کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔
(ب) سرمایہ گزاری: امام علیؑ فرماتے ہیں۔ انّ من النّعم سعۃ المال (نہج البلاغہ ۱۲۷۱ فیض الاسلام ) نعمتوں میں سے ایک نعمت سرمایہ کا زیادہ ہونا ہے۔ کام کا پیدا ہونا اور معیشت عمومی کا پیدا ہونا اور اسی طرح تعادل اقتصادی یہ تمام چیزیں سرمایہ گزاری پر موقوف ہے اسی لیے اپنے دور خلافت کے حاکم اور گورنروں کو توصیہ کرتے ہیں۔ حاکم اور گورنروں کا وظیفہ ہے کہ مشکلوں کا بار لوگوں کے کندھوں سے ہٹا دیں اور لوگوں کے سرمایہ اور اموال کو افزائش دیں تاکہ لوگ سرمایہ گزاری کی طرف رخ کریں۔
(ج) کام اور کوشش: قرآن سے ایک مثال پیش کرتا ہوں لقد خلقنا لانسان فی کبد (سورہ بلد آیت ۴) انسان کو رنج اور دشواری کے لیے پیدا کیا ہے پھر امام علیؑ فرماتے ہیں: من یعمل یزد قوۃً ومن یقصّر فی العمل یزددفترۃً ہر آدمی کا کام کریں تو قوت میں اضافہ ہوتا ہے او ر وہ شخص جو کم کام کریں سستی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
(د) حکومت اور ملّت میں ہم آہنگی: امام علیؑ اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ملّت اپنا حق حکومت کے ساتھ دیں اور حکومت بھی ملّت کے لیے حق ادا کریں تو حق ان کے درمیان عزت پیدا کرے گا۔ (نہج البلاغہ صفحہ ۶۸۳ فیض الاسلام) اسی کے ساتھ یہ بھی دنبال میں ہے کہ اس طرح ہو تو دین کی بنیادیں استوار ہوں گی اور عدالت کی نشانیاں پیدا ہو جائیں گی امام علیؑ کے نظر میں ملّت اور حکومت کے درمیان متقابل حقوق ہیں یعنی حکومت کا یہ وظیفہ ہے اپنی اختیارات کے پیش نظر ترقی کے مواقع ملّت کے لیے فراہم کرے اسی طرح ترقی مادی اور معنوی کو لوگوں کے لیے فراہم کرے اس طرح حکومت اجتماعی توازن اسی طرح ہر ایک کے لیے عادلانہ نظام میسر کرے اور اپنے حق تک پہنچنے کے ذرائع فراہم کرے۔ اسی طرح لوگوں کا وظیفہ یہ ہے کہ اپنے تعہدات پر حکومت کے ساتھ وفا کریں جامعہ کے کام کو انجام دیں۔ اور ہر ایک ملّت میں سے جس بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو مسئولیت شناس ہونا چاہیے اور جامعہ کی ترقی کے لیے کوشش کرے۔ اور اس طرح دوسرے وظائف پر بھی عمل پیرا ہوں اور اس صورت میں حق اور حقوق عزت پیدا کر جائیں گے اور عدالت کی نشانیاں جامعہ میں نمودار اور پیدا ہو جائیں گی۔
(ح) وحدت اجتماعی اور امنیت: حضرت امام علیؑ نے ارشاد فرمایا۔ العدل نظام لامرۃ (غرر الحکم ۲۰) عدالت حکومت کا نظام ہے ایک اور مقام پر فرمایا۔ عدالت کو استعمال کریں اور بے عدالتی اور بے انصافی سے دور ہو جائیں کیونکہ ملّت اور لوگوں کے ساتھ بے انصافی کرنا لوگوں کو آورہ کرنا ہے اسی طرح بے عدالتی اور بے انصافی لوگوں کو جنگ کی طرف دعوت دیتی ہے۔ (نہج البلاغہ ۱۳۰۴ فیض لاسلام) اجتماعی امنیت عدالت کے اجراء کے زمینوں میں سے ہے امنیت اور عدالت کے درمیان رابطہ متقابل ہے۔




