
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سید رضیؒ نے 400 ہجری میں نہج البلاغہ کے نام سے کلام امام علیہ السلام سے منتخب حصہ کو جمع کیا۔ اس وقت سے اب تک نہج البلاغہ کے پیغام کو عام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جناب سراج نقوی صاحب جو ہندوستان کے سینئر صحافی اور معروف جرنلسٹ ہیں انہوں نے ان کاوشوں کو زیر نظر مضمون میں سمیٹنے کی سعی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے ذاکرین و خطباء نے مولائے کائناتؑ کی شخصیت کے علمی پہلوؤں خصوصاً آپ کے خطبات اور خطوط پر مبنی ”نہح البلاغہ“ کے تعلق سے منبروں سے بہت کم گفتگو کی ہے۔ ذکرِ علیؑ کا دائرہ دعوت ذی العشیرہ، شب ہجرت بستر رسول ﷺ پر علیؑ کا سونا، جنگ خیبر اور غدیر تک ہی زیادہ تر محدود رہا ہے۔ حالانکہ علیؑ کے خطبات اور خطوط علم و حکمت کا ایسا خزانہ ہیں کہ جو ہمیں تخلیق کائنات کے راز سر بستہ سے لیکر عصر حاضر کی سائنسی و تکنیکی فتوحات کے اصل ماخذ تک رسائی میں ہمارے لیے مددگار ہو سکتے تھے، اور ہمیں سائنسی و تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ اقوام سے بہتر پوزیشن میں کھڑا کر سکتے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہج البلاغہ پر ابتدائی کام اور شرحیں لکھنے والے علماء میں بڑی تعداد اہل سنت علماء کی ہے۔ دوسری طرف یورپین دانشوروں نے بھی ”نہج البلاغہ“ سے کسبِ فیض کرتے ہوئے پوری دنیا میں اپنے علم و دانش اور تحقیقی برتری کے جھنڈے گاڑ دیے اور اسی بنا پر دنیا میں طاقت کا توزان بھی بدل ڈالا۔ یہی سبب ہے کہ نہج البلاغہ کے توسط سے ”باب العلم“ کی چوکھٹ تک پہنچنے والے اہم دانشوروں میں مسیحی دانشوروں اور مفکرین کی بھی خاطرخواہ تعداد ہے۔ مسیحی علماء اور دانشوروں کی اس تعلق سے کاوشیں اس لیے خصوصاً قابلِ ذکر ہیں کہ انھوں نے صرف یہی نہیں کہ علی ابن ابی طالبؑ کے افکار و نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا، بلکہ اس سے اپنی سائنسی تحقیقات میں بالواسطہ طور پر رہنمائی بھی حاصل کی۔ یہ الگ بات کہ اس کا راست طور پر اعتراف کسی نے نہیں کیا۔ البتہ آپ کی شخصیت کے اخلاقی پہلوؤں پر مغرب میں بھی بہت کچھ کہا اور لکھا گیا۔
مولائے کائناتؑ کے خطبات و خطوط کی تدوین کا گراں قدر کام آپؑ کی شہادت کے تقریباً ۳۶۰ سال بعد علامہ سید رضی نے انجام دیا، لیکن عالم اسلام کی بد قسمتی ہے کہ خود کو مسلمان کہنے والے اور در پردہ دشمنانِ علی ان خطبات کی صداقت، صحت، سند، نسبت اور اس کی علمی عظمت سے انکار کرتے رہے اور اسے سید رضیؒ کی تصنیف ثابت کرکے اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جس وقت سید رضی کی یہ تالیف منظر ِعام پر آئی ہمارے ۱۱ ویں امام حسن عسکریؑ اس سے ۱۴۰ سال قبل شہادت پا چکے تھے اور ۱۲ ویں امام کا زمانہ غیبت شروع ہو چکا تھا۔ اس لیے کسی امام سے اس معاملے کو نہیں جوڑا جا سکتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ دشمنانِ اہلبیت کی سازشوں اور رخنہ اندازیوں کے سبب ائمہ طاہرینؑ کو تبلیغ دین کے لیے کن کن سخت مراحل سے گزرنا پڑا، اور کیا کیا مظالم برداشت کرنے پڑے۔چوتھے امام جناب زین العابدینؑ نے اپنے دورِ امامت میں صحیفہ سجادیہ تحریر فرمائی جسے ”زبور آلِ محمد“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ امامؑ کے ذریعہ تعلیم کی گئی دعاؤں کا مجموعہ ہے۔ دوسری کتاب ”رسالۃ الحقوق“ ہے جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد بیان کیے گئے ہیں۔ امام نے صحیفہ سجادیہ میں کچھ مقامات پر مولائے کائنات اور رسول خدا ﷺ کو وسیلہ تو بنایا ہے لیکن مولا علی کے خطبات اس میں شامل نہیں ہیں۔ البتہ اس معاملے میں سب سے زیادہ گفتگو اور مولائے متقیان کے خطبات کا حوالہ ہمارے چھٹے امام جعفر صادقؑ کے دور میں ملتا ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارے تمام ائمہ میں تبلیغ کا سب سے زیادہ موقع آپ ہی کو ملا اور آپ نے ہی اپنی محفلوں کو تعلیمات علیؑ سے علمی عظمت بخشی۔آپ کے تعلق سے یہ بات مشہور ہے کہ آپ اپنی گفتگو میں اپنے جد حضرت علیؑ کے خطبات کو بطور سند پیش کرتے تھے۔ آپ کے والد بزرگوار اور شیعوں کے پانچویں امام محمد باقرؑ نے بھی اپنے خطبات میں امام علیؑ کے اقوال کو کثرت سے نقل کیا اور انھیں بالواسطہ طور پر تاریخ میں محفوظ کرنے کا کام کیا۔ لیکن ان تمام سامنے کے حقائق کے باوجود ابن خلکان (۶۸۱ہجری)، امام الذہبی (۷۴۸ ہجری)، ابن تیمیہ (۷۲۸ ہجری) اور ابن ہجر عسقلانی جیسے مورخین نے بغض علیؑ میں اسے خطبات علی ماننے یا اس کی سند و نسبت سے انکار کیا۔ امام الذہبی نے اسے سید رضی کی جعل سازی کہا اور ”رافضی“ کا کلام قرار دیا۔ صاف سی بات ہے کہ الذہبی نے ان خطبات اور خطوط میں موجود دانش و حکمت کے گوہروں کو بغض علیؑ میں نظر انداز کر دیا۔ عسقلانی نے بھی اس سے ملتے جلتے اعتراضات کیے ہیں جبکہ ابن تیمیہ نے بالواسطہ طور پر ان خطبات کی صحت پر شک کا اظہارکیا ہے۔ لیکن جیسا کہ خود مولائے کائنات نے کہا ہے کہ ”حق ہمیشہ غالب آتا ہے، اور اسے کوئی دبا نہیں سکتا“۔
نہج البلاغہ کی صداقت کا بھی سب سے پہلا اور مدلل اعتراف اہل سنت کے جید عالم اور محقق ابن الحدید معتزلی نے کیا۔ الحدید پہلے عالم اور محقق ہیں کہ جنھوں نے بیس جلدوں پر مشتمل نہج البلاغہ کی تفصیلی اور ضخیم شرح لکھی۔جسے آج بھی محققین میں بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور معتبر شرحوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابن الحدید نے ثابت کیا کہ نہج البلاغہ سید رضی کا کلام نہیں بلکہ انھوں نے اسے صرف جمع کیا ہے اور سید رضی سے کئی صدی قبل ان خطبات میں سے بیشتر کا ذکر ابو القاسم بلخی کی کتابوں میں موجود ہے۔ بہرحال یہ شرح ۶۴۴ ہجری سے ۶۴۹ ہجری (۱۳ویں صدی) کے درمیان یعنی تقریباً چار سال آٹھ ماہ کی مدت میں مکمل ہوئی۔ اس کے چند سال بعد کمال الدین میثم بن علی بن میثم البحرانی نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی۔ اس شرح کو ”مصباح السالکین“ یا ”الشرح کبیر“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شرح ۶۷۹ ہجری (۱۴ ویں صدی کے اواخر) سے کچھ پہلے ہی منظر عام پر آئی، اس لیے کہ بحرینی کی وفات اسی سال ہوئی تھی۔ یعنی اپنی وفات سے کچھ ماہ پہلے ہی غالباً اس شرح کو مکمل کیا گیا ہوگا۔ یہ شرح چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ ابن میثم نے اس شرح کے تعلق سے خود یہ لکھا ہے کہ انھوں نے یہ شرح ”عطاء الملک جوینی“ کی درخواست پر لکھی۔ ابن میثم شیعہ تھے اور ان کا مذکورہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ ابن الحدید کی شرح سامنے آنے کے بعد شیعہ علماء میں بھی اس موضوع پر کام کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ ۱۵ ویں سے ۱۷ ویں صدی کے درمیان اس موضوع پر کوئی معرکتہ الآرا کام نہیں ہوا۔ الحدید کی شرح سے متعلق تحریریں ہی زیادہ تر سامنے آئیں۔ خصوصاً شیعہ علماء کی اس موضوع پر توجہ اس دور میں نسبتاً کم رہی۔ البتہ ایران میں صفوی حکومت (۱۵۰۱ سے ۱۷۳۶) میں نہج البلاغہ کی شرح اور ترجمہ کا سلسلہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا اور شیعہ و سنّی دونوں ہی مسلک کے علماء نے اس موضوع پر کافی کام کیا۔ اس دور میں لکھی گئی شرحوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں نہج البلاغہ کے کئی منفرد پہلوؤں پر بھی کا م ہوا۔ اسی طرح کئی دیگر زبانوں مثلاً فارسی و ترکی اور بعد کی چند صدیوں میں انگریزی، اردو و دیگر عالمی زبانوں میں بھی اس کے تراجم اور شرحیں سامنے آئیں۔ صفوی دور میں ہی فارسی میں کئی شرحیں اور منتخب خطبات کی تفسیریں بھی لکھی گئیں۔
بارہویں سے تیرہویں ہجری یعنی ۱۸ ویں اور ۱۹ویں صدی میں بھی اس موضوع پر سب سے زیادہ کام ایرانی علماء اور دانشوروں نے کیا۔ لیکن ۱۹ ویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروع میں مشہور مصری عالم دین شیخ محمد بن عبدہ (۱۸۴۹ سے ۱۱ جولائی ۱۹۰۵) نے جو شرح لکھی اسے بھی بہت اہم شرح تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس شرح میں نہج البلاغہ کے ادبی و اخلاقی پہلوئوں پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اسے اہل سنّت علماء کے ذریعہ لکھی گئی اہم ترین شرحوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایران میں اس حوالے سے سب سے اہم اور قابلِ ذکر نام علامہ محمد تقی مجلسی کا ہے۔ علامہ محمد تقی علامہ محمد باقر مجلسی (مصنف بحار الانوار) کے والد تھے، اور اپنے دور کے بڑ ے شیعہ عالم دین مانے جاتے تھے۔ موصوف نے حالانکہ باقاعدہ کوئی شرح اس موضوع پر نہیں لکھی لیکن انھوں نے جو حوالہ جاتی کام اس تعلق سے کیا وہ بے حد اہم مانا جاتا ہے۔ صفوی دور کے ایک اہم عالم دین فتح اللہ کاشانی نے بھی اسی کے آس پاس اور علامہ محمدتقی سے کچھ پہلے فارسی زبان میں نہج البلاغہ کا ترجمہ ”تنبیہ الغافلین“ کے عنوان سے کیا اور شرح بھی لکھی۔ اس ترجمے کو نہج البلاغہ کے سب سے قدیم ترجموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
۱۹ویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس موضوع پر شیعہ علما میں سب سے اہم اور جامع کام بھی ایران کے ہی ایک بڑے عالم دین سید حبیب اللہ ہاشمی خوئی کا مانا جاتا ہے۔حبیب الخوئی کی وفات ۱۹۱۱ عیسویں میں ہوئی۔ آپ سرکردہ شیعہ علماء و محققین میں شمار ہوتے تھے۔ موصوف کا سب سے اہم علمی کارنامہ ”منہاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ“ کے عنوان سے ہے۔ شیعہ علماء کے ذریعہ لکھی گئی شرحوں میں اسے بہت بلند مقام حاصل ہے۔ یہ شرح اکیس جلدوں میں ہے۔ اس کا اردو ترجمہ علامہ شیخ محمد علی فاضلؒ نے کیا ہے لیکن یہ مکمل نہیں ہے اور صرف چند جلدوں میں دستیاب ہے۔ بنیادی طور پر یہ شرح عربی میں ہی لکھی گئی ہے۔
بیسویں صدی میں ہی علامہ علی نقی فیض الاسلام (ایران) نے فارسی میں نہج البلاغہ کا ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ تفصیلی شرح بھی لکھی۔ اسے آج بھی فارسی زبان کی مشہور ترین شرح مانا جاتا ہے۔ اسی صدی میں بعد کی دہائیوں میں ڈاکٹر صبحی صالح لبنانی نے نہج البلاغہ کے عربی متن کی تحقیق و تصحیح کے ساتھ نہج البلاغہ کی شرح تیار کی۔ اس کے بعد اسی صدی کی ساتویں دہائی میں آیت اللہ عبد الحسین امینی، اس کے چند سال بعد آیت اللہ سید محمود طالقانی نے عصری سیاسی و سماجی تناظر میں شرح لکھی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب ایران میں آیت اللہ خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی انقلاب آیا۔ اسی لیے طالقانی کی شرح کو مخصوص سیاسی تناظر کے سبب بہت اہمیت و مقبولیت حاصل ہوئی، اور آج بھی ہے۔
بیسویں صدی کو نہج البلاغہ پر ہوئے کام کے حوالے سے اس لیے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ اسی دور میں فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی، اردو اور دیگر عالمی زبانوں میں بھی اسے منتقل کرنے میں تیزی آئی اور اس تعلق سے بیداری میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کے علامہ مفتی جعفر حسینؒ نے خطبات کا نہایت معیاری اور ادبی زبان میں ترجمہ کیا۔ہندوستان میں علامہ سید ذیشان حیدر جوادیؒ، علامہ سید محمد صادق اور مولانا خورشید حسن سمیت کئی علماء نے اس سمت توجہ کی اور نہج البلاغہ کی شرحیں اور ترجمے یا مختصر شروحات تحریر کیں۔ ان خطبات سے متعلق اہم موضوعات کو بھی الگ الگ شرح اور گفتگو کا موضوع بنایا گیا۔
ان شرحوں کے تعلق سے ایک بہت اہم تحقیقی کام امروہہ کے مولانا سید شہوار حسین نقوی نے چند سال قبل انجام دیا ہے۔ موصوف نے برصغیر کے ۱۲۶ شارحین نہج البلاغہ کے مختصر تعارف پر مبنی ایک کتاب ”بر صغیر کے شارحین نہج البلاغہ“ شائع کرکے ان ریسرچ اسکالرز کے لیے آسانی پیدا کر دی ہے جو اس موضوع پر دونوں ممالک میں ہوئے کام کا تحقیقی یا تنقیدی جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر زبانوں میں اس تعلق سے کوئی قابلِ ذکر کام تو نہیں ہوا، البتہ مختلف ہندوستانی زبانوں میں اس کے ترجمے یا اس کے کسی خاس پہلو پر مضامین تحریر کیے گئے اور اس طرح تمام ہندوستانی زبانوں کے بولنے والوں تک کسی نہ کسی شکل میں ”نہج البلاغہ“ پہنچی۔
مسلم ممالک مثلاً ایران، مصر، سعودی عرب اور ترکی وغیرہ اور برصغیر ہند، پاکستان و بنگلہ دیش سے ہٹ کر اگر یورپ و امریکہ کی بات کریں تو صرف یہ بتانا کافی ہوگا کہ دنیا کی تقریباً بیس یا اس سے بھی زیادہ زبانوں میں نہج البلاغہ کے ترجمے ہوئے اور اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ان میں فرانسیسی، روسی، ہسپانوی، جرمنی اور اطالوی جیسی زبانیں بھی شامل ہیں۔ لیکن یہاں بھی قابل ذکر بات یہ ہے کہ انگریزی تراجم میں بھی ایرانی علماء اور دانشوروں کا رول سب سے اہم رہا۔ لیکن نہج البلاغہ پر تحقیقی کام مغربی ممالک میں بھی کافی ہوا۔ فرانسیسی مفکر اور فلسفی ہینری کوربن (انتقال ۱۹۷۸) نے نہج البلاغہ کو قرآن اور احادیث نبوی کے بعد اسلامی فکر کا اہم ماخذ تسلیم کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اہل یورپ پر واضح کیا۔
مولائے کائنات کے دو اہم مسیحی مدّاح اور دانشور بھی بیسویں صدی کے اوخر اور رواں اکیسویں صدی کے حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں پہلا اور شائد سب سے بڑا نام لبنانی عیسائی جارج جرداق کا ہے۔ جارج جرداق (۱۹۳۱۔۲۰۱۴) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے بھائی فواد جرداق نے جب جارج جرداق کی عمر صرف ۱۳ سال تھی نہج البلاغہ لا کر دی اور اس طرح جرداق نے کم عمری میں ہی اس کا مطالعہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جرداق نے تقریباً دو سو مرتبہ نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے صوت العدالة الإنسانية کے نام سے عربی زبان میں کتاب لکھی جس کا انگریزی میں The voice of Human justice کے عنوان سے ترجمہ ہوا۔ اس کے علاوہ اس کتاب کا اردو اور فارسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس میں جرداق نے امام علیؑ کی شخصیت، سیرت، اور سب سے بڑھ کر آپ کے عدل کا گہرائی سے مطالعہ کرکے اسے مغرب کے سامنے پیش کیا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن عربی میں ۱۹۵۶ میں شائع ہوا تھا۔ جرداق کا بیان ہے کہ انھوں نے ”نہج البلاغہ“ کو 40 مرتبہ پڑھا۔ ایک روایت کے مطابق جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ انھوں نے دو سو مرتبہ نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا اور جب وہ اس تعلق سے کتاب لکھ رہے تھے تو بقولِ خود وہ ایک طرح کی الہامی کیفیت سے دو چار تھے۔
جرداق کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ ان کی کتاب نے مولائے کائنات کی علمی عظمت اور دانشورانہ گہرائی کے نقوش اہلِ یوروپ کے دلوں پر مرتسم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ جرداق نے اس کے علاوہ بھی نہج البلاغہ پر ایک کتاب لکھی، روائع نہج البلاغہ جس کا فارسی اور انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔ عصر حاضر میں جرداق کو نہ صرف عالم تشیع یا عالم اسلام بلکہ مغرب میں بھی اپنے مذکورہ تحقیقی کام کے سبب احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مسیحی مصنفین میں اس سلسلے کا دوسرا بڑا اور قابلِ ذکر نام ولفریڈ میڈلنگ کا ہے۔ ولفریڈ جرمن-امریکی مورخ تھا، جس کا چند سال پہلے ۲۰۲۳ میں ہی انتقال ہوا ہے۔ الفریڈ میڈلنگ کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نہج البلاغہ میں پیش کیے گئے امام علیؑ کے سیاسی مؤقف خصوصاً خلافت کے تعلق سے آپ کے دعوے کی تصدیق کی اور اسے درست قرار دیا۔ الفریڈ میڈلنگ آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے اور انھوں نے نہج البلاغہ سمیت مختلف حوالوں سے خلافت سمیت دیگر کئی موضوعات پر شیعہ مؤقف کی تائید کی ہے۔ اس کے سبب عالم تشیع میں انھیں بہت احترام حاصل ہے۔ میڈلنگ نے خلافت کی تاریخ پر جو تحقیقی کام کیا وہ The succession to Muhammad کے عنوان سے کتابی شکل میں کیمبرج یونیورسٹی پریس سے ۱۹۹۷ میں شائع ہو چکا ہے۔ غیر مسلم دانشوروں میں میڈلنگ عصر حاضر کا ایسا تنہا نام ہے جس نے سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے کو ”سیاسی چالاکی“ پر محمول کیا ہے اور اسے شیعہ سنی اختلافات کی اصل جڑ قرار دیا۔ جہاں تک نہج البلاغہ کا تعلق ہے تو اس معاملے میں بھی میڈلنگ نے اس کی سند اور نسبت پر شک کرنے والے دشمنان علیؑ کے اعتراضات کو دلائل کے ساتھ رد کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ سید رضیؒ کی تصنیف نہیں بلکہ تدوین ہی ہے اور حضرت علیؑ کے یہ خطبات اور خطوط بکھری ہوئی شکل میں پہلے ہی سے موجود تھے۔
نہج البلاغہ کے تعلق سے ایک اور تحقیقی مقالہ ۲۰۱۶ میں شائع ہو چکا ہے۔ یہ مقالہ بھی ۲۱ دانشوروں کی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔ ان دانشوروں میں جارج جرداق کے علاوہ جوزف ہاشم، ریمون قاسیس، صبحی صالح، خلیل فرحات ہینری کاربن اور نصری سلہب کے نام شامل ہیں۔ ان سب نے مختلف زاویوں سے نہج البلاغہ کی عظمت و اہمیت کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انسانی فکر کا شاہکار قرار دیا ہے۔
اس مقالے نے بھی یورپ میں حضرت علیؑ کی عظمت اور آپ کی دانشورانہ و حکیمانہ اپروچ کو ثابت کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ شیعہ محققین نے بھی اس سے استفادہ کیا ہے۔
رواں صدی یعنی اکیسویں صدی میں اس تعلق سے ہونے والے کام میں کافی تیزی آئی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بڑھتا دائرہ بھی ہے۔ آج تحقیق کے میدان میں جو سہولیات میسر ہیں ان کا ایک اہم پہلو تاریخی اور قدیمی مواد کا ڈیجیٹلائزیشن اور اس کا انٹرنیٹ پر مہیا ہونا بھی ہے۔
رواں صدی میں نہج البلاغہ پر سب سے اہم کام آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ قطب الدین کا ہے۔ موصوفہ کی یہ شرح اور ترجمہ Nahj al Balaghah: The wisdom and Eloquence of Ali. کے عنوان سے Brill publishers نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ قطب الدین کو ۲۰۲۴ میں ترجمہ کے لیے باوقار ”شیخ حمّاد ایوارڈ“ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ مغربی حلقوں میں اسے اکیڈمک کام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فارسی سے انگریزی میں براہ راست ترجمہ کی گئی آیت اللہ شہید مطہریؒ کی شرح کا پہلا ایڈیشن حالانکہ ۱۹۹۷ میں شائع ہوا تھا لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں صدی میں بھی اس کا ایڈٹ شدہ ایڈیشن شائع ہو چکا ہے۔ یہ اپنے آپ میں مکمل شرح نہیں ہے لیکن اس میں نہج البلاغہ کا موضوعاتی تجزیہ بہت مدل انداز میں کیا گیا ہے اور خطبات کے ادبی حسن، الہیات، عبادت، عدل و حکومت سمیت مختلف موضوعات پر عالمانہ بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب انگریزی، فارسی اور اردو میں انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے۔
جرمن میں فاطمہ اوزوگر نے نہج البلاغہ کا ترجمہ کیا ہے۔ اسے جرمنی کے مسلمانوں میں خصوصاً بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ دو جلدوں میں ہے۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی شرح بھی اسی صدی میں منظر عام پر آئی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی پندرہ جلدوں میں ہے۔ یہ ترجمہ علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی زیر نگرانی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آیت اللہ حبیب اللہ ہاشمی خوئی قدس سرہ کی شرح کا اردو ترجمہ بھی ۲۰۰۸ میں شیخ محمد علی فاضلؒ نے شائع کیا۔
نہج البلاغہ کے تعلق سے کیے گئے تحقیقی کام و تراجم کا یہ بہت مختصر جائزہ ہے۔ ممکن ہے اس میں بہت سے نام راقم الحروف کی کوتاہی کے سبب چھوٹ گئے ہوں، لیکن اس سے یہ اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ کے تعلق سے اس صدی میں بیداری میں اضافہ ہوا ہے اور اہلِ یورپ تک مولائے کائناتؑ کے ارشادات اور حکمت کے سرچشموں کو پہنچانے کی سنجیدہ کوششیں ہوئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف کتابوں اور تراجم کی اشاعت کی شکل میں مزید تیزی سے آگے بھی جاری رہے، بلکہ ہمارے ذاکرین منبروں سے بھی خصوصاً اسے موضوع گفتگو بنائیں، تاکہ وہ نئی نسل جو اردو، فارسی ہی نہیں بلکہ انگریزی سے بھی نا آشنا ہے وہ کم از کم مجالس عزا کے توسط سے ”نہج البلاغہ“ کی عظمت سے نہ صرف روشناس ہو سکے بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں بھی اتار سکے۔
naqvisiraj58@gmail.com
Mob:981160230




