مقالات

مظلومیت امام علی علیہ السلام

تحریر: محسن عباس متعلم مدرسہ حجتیہ، قم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محققین کی نظر میں انسانی معاشرہ ساکن اور بی حرکت سمندر کے مانند ہے اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سمندر کا بعض حصہ خشک ہوتا جاتا ہے اور بعض اوقات کلی طور نابود ہو جاتا ہے۔ تند و تیز ہوائیں اور طوفان ہیں جو اس بی حرکت سمندر میں موجیں اور طغیان پیدا کرتے ہیں اور کشتیوں کی سرنوشت رقم کرتے ہیں۔ ان میں بعض طوفان سمندر کے دوش پر چلنے والی کشتیوں کیلئے باعث غرق ثابت ہوتا ہے تو نرم و ملائم ہوائیں نہ صرف انہی کیلئے موجب غرق نہیں بلکہ ساحل سمندر پر پہنچنے کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

بالکل اسی طرح تاریخ انسانیت میں بعض ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو معاشرے کیلئے ناسور ثابت ہوتی ہیں تو دوسری طرف ایسی شخصیات بھی موجود ہوتی ہیں جو نجات بخش، زندگی ساز اور باعث سعادت بنتی ہیں۔

بی شک رہبران آسمانی اور خداوند متعال کے برگزیدہ پیامبران اور ان کے حقیقی جانشینین انسانی معاشرے کیلئے ایسے موج آفرین شخصیات ہیں جن کی ہدایت کے موج سے معاشرہ راہ نجات حاصل کرکے ساحل سعادت و خوش بختی پر پہنچ جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا ارتباط وحی اور الہام کے ذریعہ اس ذات پاک سے ہوتا ہے جس میں نقص و عیب کا شائبہ تک نہیں۔ یہی شخصیات ہیں جو راہ حق پر گامزن ہوکر معاشرے کی بہتری اور معنوی اور روحانی کمالات کی تحصیل کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو راہ حق میں رکاوٹ ڈال کر اپنے مذموم عزائم کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ لیکن قرآنی اور آسمانی وعدہ کے مطابق حق ہمیشہ کامیاب اور پیروز ہوتا ہے جبکہ باطل کا انجام سرنگونی ہے۔

مکتب وحی اور آسمانی نمائندوں میں ایک نمایاں اور کامل ترین نمائندہ پیامبر اعظم ﷺ کی ذات ہے جنہوں نے عرب معاشرے میں موجود جہل و بت پرستی کی ظلمت و تاریکی کو ہدایت کے نور سے ختم کرکے ایک روشن اور تابناک معاشرے میں تبدیل کیا۔ جنگ و جدال اور تعصب سے بھر پور معاشرے کو پرامن بنا کر پوری انسانیت کیلئے ایک نمونہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ لیکن مقام افسوس یہ کہ رسول اعظمؐ کی جان سوز رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں دوبارہ جنگ و جدال، ہوا پرستی اور مقام پرستی کی فضا قائم ہوئی اور راہ ہدایت و سعادت کو منحرف کرنے کی مذہوم کوششیں شروع ہوئیں۔ اور آن حضرت ﷺ کے حقیقی جانشین اور حقداروں کو اپنے حق سے محروم کرکے ظلم کے بیج بو دئیے۔ یہاں سے تاریخ انسانیت میں مظلومیت کی ایک اور داستان کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد واحد شخصیت جو اسلامی معاشرے کیلئے نجات کی کشتی اور نور ہدایت کی حیثیت رکھتی تھی وہ امیر المومنین حضرت علیؑ کی ذات والا تھی۔ جن کو دستگاہ خلاف سے دور رکھ کر امت اسلامیہ پر وہ مصیبتیں وارد کیں جن کی سزا امت آج تک بھگت رہی ہیں۔

قارئین محترم آئیے اس مختصر تحریر میں ’’اول المظلوم‘‘ حضرت علیؑ کی مظلومیت کے بارے میں چند مطالب کا جائزہ لیتے ہیں۔ امام علیؑ کی مظلومیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے سے پہلے چند روایات ذکر کرتے ہیں۔

پیامبر اسلام ﷺ نے کئی بار مختلف عبارت کے ساتھ مظلومیت علیؑ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک جملہ یہ ہے:
’’یَا عَلی أنتَ المَظلومُ مِن بَعدی فَوَیلٌ لِمَن ظَلمَکَ وَ اَعتدیٰ علیک …‘‘
یعنی اے علیؑ آپ میرے بعد مظلوم واقع ہوں گے اور جہنم ہے اس شخص کیلئے جو تم پر ظلم روا رکھے۔
(شیخ صدوقؒ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۳۳)

بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ پیامبر اسلام ﷺ نے مظلومیت امام علیؑ پر گریہ فرمایا۔ ایک دن رسول اعظم ﷺ نے مولا علیؑ کے چہرہ مبارک کی طرف نظر کی اور با آواز بلند گریہ کرنا شروع کیا۔ اصحابؓ نے آپؐ سے گریہ کرنے کی وجہ دریافت کی تو آپؐ نے فرمایا:
’’ضَغائنٌ فی صُدُور قومٍ لا یَبدُونہا لَکَ حتّیٰ یَفقِدُونی‘‘۔ (طبری)
’’یعنی (میرے گریہ کرنے کی وجہ یہ ہے) کہ لوگوں کے دلوں میں علی کی نسبت دشمنی اور کینہ ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں وہ لوگ اظہار نہیں کریں گے‘‘۔

مولا علی علیہ السلام نے بھی مختلف مناسبات اور گوناگوں تعبیر کے ذریعے اپنی مظلومیت کا اظہار کیا۔ جیسا کہ فرمایا:

’’ما ذلتُ مظلوماً مُنذُ قبض رسول اللہ‘‘۔ یعنی فرمایا کہ رسول اعظم ﷺ کی رحلت سے لے کر اب تک میں ہمیشہ مظلوم رہا ہوں‘‘۔
(شیخ مفید، الجمل، ص۱۲۳)

ابن ابی الحدید (شارح بزرگ نہج البلاغہ) کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام جب بالائے منبر تشریف لاتے اس جملہ کو ہمیشہ زبان پر جاری فرماتے۔ ایک دن مولا علیہ خطبہ بیان فرما رہے تھے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا ’’وا مَظلمَتاہ‘‘ یعنی ’’ہائے مجھ پر ظلم ہوا ہے‘‘۔ مولا علیؑ نے اس شخص کو اپنے نزدیک بلایا اور فرمایا: انا قَدْ ظُلمتُ عَدَدَ المدرِ والوبر یعنی تم پر ایک ظلم ہوا ہے لیکن مجھ پر بے حساب ظلم ہوا ہے۔

ایک اور جگہ پر طلحہ اور زبیر کے ستم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہمَّ انَّہُما قَطَعانی و ظَلُمانی و نَکثَا بَیْعَتی و الَّبا النَّاسَ علیَّ‘‘۔ یعنی خداوندا تو گواہ رہنا کہ ان دونوں (طلحہ اور زبیر) نے مجھ سے ناطہ توڑ دیا ہے۔ مجھ پر ظلم کیا ہے اور میری بیعت توڑ کر لوگوں کو میرے خلاف اُکسایا ہے۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۱۳۷، ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی)

جناب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جو کہ خود ہی مظلومہ ہیں حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ کرتی ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ’’حضرت فاطمہ (ع) نے فرمایا ان ظلم و ستم کی وجہ سے گریہ کرتی ہوں جو میرے بعد لوگ روا رکھیں گے‘‘۔

یہ نمونے کی چند روایت تھیں۔ جن کو بطور اختصار ذکر کیا۔ وگرنہ مظلومیت کے متعلق اس سے زیادہ روایات کتب احادیث میں مذکور ہیں۔

اب ظلم کے معنی اور مظلومیت علیؑ کے چند مصادیق اور جلوؤں کے بارے میں اختصاراً بیان کریں گے۔

جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں مذکور ہوا کہ بزرگان اسلام سے منسوب بہت سے احادیث میں حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت سے متعلق تصریحاً و کنایۃً بیان ہوا ہے۔ ظلم کے معنی دوسروں کے حقوق کو پائمال کرنا ہے چونکہ حضرت علیؑ رسول خدا ﷺ کے بعد واجب الاطاعت جانشین بلافصل آن حضرتؐ اور خلافت کیلئے شأئستہ ترین اور لائق ترین انسان تھے اس لئے آپؑ کو خلافت سے دور رکھنا آپؑ پر سب و شتم کرنا، آپؑ کے دستورات پر عمل نہ کرنا۔ اس میں سے ہر ایک آن حضرتؑ پر ظلم شمار ہوتا ہے۔ اس بناء پر مظلومیت علیؑ مختلف مصادیق رکھتی ہے لہذا س مختصر مقالے میں مظلومیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
،

۱) غصب خلافت:
سب سے بڑا ظلم امیرالمومنین علیہا السلام پر یہ ہے کہ آپؐ کو حق خلافت سے محروم رکھا گیا۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بعض افراد حیات رسول اللہ میں ہی کوشش کرتے تھے کہ مانع خلافت امیر المومنینؑ ہوں۔ قرآن مجید کا یہ جملہ ’’وَاللہ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاس‘‘۔ جو کہ واقعہ غدیر خم سے مربوط ہے۔ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ اگر علی علیہ السلام کو منصب خلافت پر نصب کیا جاتا ہے تو رسول اللہ کیلئے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لیکن خدا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

پیامبر اسلام ﷺ کی طرف سے لشکر اسامہ کو مجہز کرنا اور ان کے ساتھ ہونے کا حکم کرنا مخالفین پر لعن و طعن کرنا۔ آخری ایام میں قلم و دوات کا طلب کرنا، خلیفہ دوم کی طرف سے صریحتاً ان جملات کے ساتھ پیامبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کرنا کہ ’’انَّ الرَّجُلَ لَیہجُر‘‘ یہ تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کو خلافت سے دور رکھنے کی مذموم کوشش بلکہ سازش پہلے سے ہی طے شدہ تھی۔ بعد میں اس نقشے پر عمل ہوا اور امام المتقین کو خلافت سے دور رکھا گیا۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے مختلف مقامات اور خطبات میں خلافت کو اپنے مسلم حق سے تعبیر کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امام علیہ السلام خلافت کے اس لئے خواہاں نہیں تھے کہ اس سے قدرت حاصل کریں بلکہ آپ علیہ السلام تیز بین اور دور رس نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ اسلام اور مسلمانون کا حق غصب ہو رہا ہے۔ جیسے خطبہ نمبر (۳) میں آپ علیہ السلام کا قول ہے کہ ’’اَما وَاللہ لَقَدْ نفمَّصہا فلانٌ …‘‘۔

’’آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی قسم فلان شخص (ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلافت کی چکی کیلئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔ علم کا سیلاب میری ذات سے گذر کر نیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا۔ پھر ہھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈال دیا اور اس سے پہلو تہی کرلی۔ اور یہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پر صبر کروں جن میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے ‘‘۔
(نہج البلاغہ، خطبہ ۳)

قریش سے شکایت اور فریاد کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہمَّ اَستَعْدِلُکَ علیٰ قریش…‘‘ یعنی خدایا! میں قریش سے اور ان کے مددگاروں سے تیری مدد چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری قرابت داری کا خیال نہیں کیا اور میرے ظرف عظمت کو الٹ دیا ہے اور مجھ سے اس حق کے بارے میں جھگڑا کرنے پر اتحاد کر لیا ہے جس کا میں سب سے زیادہ حق دار تھا۔ اور پھر یہ کہنے لگے ہیں کہ آپؐ اس حق کو لے لیں تو یہ بھی صحیح ہے آپ کو اس سے روک دیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔ آب چاہیں ہم و غم کے ساتھ صبر کریں یا رنج و الم کے ساتھ مر جائیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ ۲۱۷)

امام علیہ السلام نے ایک اور مقام پر اس شخص سے جس نے سوال کیا کہ لوگوں نے آپؑ کو آپؑ کی منزل سے کس طرح ہٹا دیا، فرمایا:

’’یا اَخَابَنی اسَد انَّکَ لَقَلقُ الوَضین تُرسلُ فی غَیر سَددٍ…‘‘۔
یعنی اے براد بنی اسد! تم بہت تنگ حوصلہ ہو اور غلط راستہ پر چل پڑے ہو لیکن بہرحال تمہیں قرابت کا حق بھی حاصل ہے اور سوال کا حق بھی ہے اور تم نے دریافت بھی کرلیا ہے تو اب سنو! ہمارے بلند نسبت اور رسول اکرمؐ سے قریب ترین تعلق کے باوجود قوم نے ہم سے اس حق کو اس لئے چھیں لیا کہ اس میں ایک خود غرض تھی جس پر ایک جماعت کے نفس مرمٹے تھے اور دوسری جماعت نے چشم پوشی سے کام لیا۔ لیکن بہرحال حاکم اللہ ہے اور روز قیامت اسی کی بارگاہ میں پلٹ کرجانا ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۲)

امام علیہ السلام نے ایک اور مقام پر حاکم اور رعایا کے حقوق کا تذکرہ کرنے ہوئے فرمایا ’’وَاعظَمُ ما افترضَ سِبحانہُ مَن تلک الحُقوق حقُّ العرایی علی الرَّعیَّۃ…‘‘۔ یعنی تمام حقوق میں سب سے عظیم ترین حق رعایا پر والی کا حق ہے جسے پروردگار نے ایک دوسرے کیلئے قرار دیا ہے اور اسی سے ان کی باہمی الفتوں کو منظم کیا ہے۔ اور ان کے دین کو عزت دی ہے…‘‘۔
(نہج البلاغہ، خطبہ ۲۱۶)

خلاصہ یہ کہ تین بنیادی پہلوؤں کے رو سے خلافت حق مسلم اہل بیت (ع) بنتا ہے ایک یہ کہ اہل بیت (ع) کیلئے خاص مقام حاصل ہے اس لئے کہ علوم اور معارف اہل بیت (ع) ایک خاص منبع سے سرچشمہ پاتے ہیں۔ لہذا ان کو دوسروں پر قیاس کرنا درست نہیں اور انصاف سے دور کی بات ہے۔ دوسرا یہ کہ نص اور وصیت پیامبر اسلامؐ بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ خلافت کے حقدار اہل بیت کرام (ع) ہیں۔ تیسرا یہ کہ لیاقت اور فضیلت کے حوالے سے بھی فقط اہل بیت رسولؐ منصب خلافت کیلئے مناسب بلکہ انسب ہیں۔ ان تین چیزوں کی طرف نہج البلاغہ میں بعض مقامات پر صراحتاً اور بعض جگہوں پر اشارۃً بیان آیا ہے۔ لیکن طوالت کے خاطر ذکر نہیں کیا جائے گا۔

۲) مظلومیت امام علی علیہ السلام کا دوسرا مصداق غصب فدک ہے۔ فدک وہ ملکیت ہے جسے رسول خدا ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہ الزہراء علیہا السلام کو بخشا لیکن زمانے کے ظالموں نے ان کو اس حق سے دور کر دیا اور غاصبانہ طورپر ان سے چھین لیا۔ مسلماً فدک کو غصب کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کے منافع اور درآمدات سے امام علی علیہ السلام کے مقاصد کی ترویج کو روک دیا جائے۔ اس لئے غصب فدک بالواسطہ ہی صحیح حضرت علی علیہ السلام پر ظلم شمار ہوتا ہے۔ اگر فدک حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کی ملکیت نہ ہوتا یا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ نہ ہوتیں تو ہرگز غصب فدک کا واقعہ پیش نہ آتا۔ پس کہہ سکتے ہیں کہ غصب فدک پیش خیمہ بنا غصب خلافت کیلئے۔

مولا علی علیہ السلام ایک خط میں اس کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ ’’بَلی کانَت فی اَیدینا فَدَکٌ مِن کلّ ما اظَلَّتہ السَّماء …‘‘۔
یعنی ہاں ہمارے ہاتھوں میں اس آسمان کے نیچے صرف ایک فدک تھا مگر اس پر بھی ایک قوم نے اپنی لالچ کا مظاہرہ کیا اور دوسری قوم نے اس کے جانے کی پرواہ نہیں کی اور بہرحال بہترین فیصلہ کرنے والا پروردگار ہے اور ویسے بھی مجھے فدک و غیر فدک سے کیا لینا دینا ہے جبکہ نفس کی منزل اصلی کل کے دن قبر ہے جہاں کی تاریکی میں تمام آثار منقطع ہو جائیں گے اور کوئی خبر تمہیں آئے گی‘‘۔
(نہج البلاغہ، نامہ ۴۵)

۳) حضرت علی علیہ السلام کی ایک اور بڑی مظلومیت آپ علیہ السلام پر سب و لعن طعن کرنا ہے۔ چند سال تک معاویہ کے حکم سے منبروں سے آپ علیہ السلام پر سب و شتم ہوتے رہے۔ ایک دن لوگوں نے معاویہ سے کہا: اے امیرالمومنین! کیا علی علیہ السلام پر سب و شتم کرنے سے تیرا مقصد حاصل ہوتا ہے؟ تم کب اس برے عمل سے باز آؤ گے؟ معاویہ نے کہا: نہ، خدا کی قسم۔ میں ضرور اسی عمل کو انجام دیتا ر ہوں گا یہاں تک کہ بچے بڑے ہو جائیں، بڑے ضعیف اور سن رسیدہ ہو جائیں اور کوئی بھی علی علیہ السلام کی فضیلت زبان پر نہ لائے۔
(شرح ابن ابی الحدید، ج۴، ص۵۷)

۴) فضائل علی علیہ السلام کے نشر سے روک تھام: فضائل علی علیہ السلام کو چھپانا بھی مظلومیت شمار ہوتاہے۔ کیونکہ آپؐ کی فضیلت میں قرآن بھی رطب اللسان نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود دشمنوں نے بغض و حسد کی بنیاد پر آپ کے فضائل کو چھپانے کی کوشش کی۔ اسکافی کہتے ہیں کہ بنی امیہ علی علیہ السلام کے فضائل کو چھپاتے تھے اور انکی فضیلت کا اظہار کرنے والوں کو سزائیں دیتے تھے۔ اگر کوئی امام علی علیہ السلام کا قول نقل کرتا تو صراحتاً امام علی علیہ السلام کا نام نہیں لے سکتا تھا بلکہ اشارہ اور کنایات کے ذریعے نقل حدیث کرتے تھے۔

۵) امام علی علیہ السلام کے دستورات سے لوگوں کا سرپیچی کرنا۔ علی علیہ السلام کی مظلومیت کا ایک مظہر یہ ہے کہ لوگ آپ کے دستورات پر عمل پیرا نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے بہت سے مقامات پر آپ علیہ السلام نے لوگوں کی شکایت زبان مبارک پر لاتے تاکہ لوگ گمراہی سے نکل کر راہ سعادت پر چل پڑیں۔ اس بات پر شاہد حضرتؐ کے یہ اقوال ہیں۔ امام علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا ’’مُنیتُ بِمَنْ لَا یُطیعُ اذا امرتُ وَلا یُجیبُ اذا دَعَوت…‘‘۔ یعنی ’’میں ایسے افراد میں گھر گیا ہوں جنہیں حکم دیتا ہوں تو اطاعت نہیں کرتے ہیں اور بلاتا ہوں تو لبیک نہیں کہتے۔ خدا تمہارا برا کرے، اپنے پروردگار کی مدد کرنے میں کس چیز کا انتظار کررہے ہو؟ کیا تمہیں جمع کرنے والا دین نہیں ہے اور کیا جوش دلانے والی غیرت نہیں ہے؟ میں تم میں کھڑا ہو کر آواز دیتا ہوں اور تمہیں فریاد کیلئے بلاتا ہوں لیکن نہ میری بات سنتے ہو اور نہ میرے حکم کی اطاعت کرتے ہو۔
(نہج البلاغہ، خطبہ ۳۹)

اہل عراق کی مذمت کے بارے میں فرمایا … ’’لَقَدْ بلَغَنی انَّکُم تَقولون علیٌّ یَکذِبُ…‘‘۔ یعنی ’’… اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم لوگ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگاتے ہو۔ خدا تمہیں غارت کرے۔ میں کس کے خلاف غلط بیانی کروں گا؟ خدا کے خلاف؟ جبکہ میں سب سے پہلے اس پر ایمان لایا ہوں۔ ہرگز نہیں! بلکہ یہ بات ایسی تھی جو تمہاری سمجھ سے بالاتر تھی اور تم اس کے اہل نہیں تھے…‘‘۔
(نہج البلاغہ، خطبہ ۷۲)

اس کے علاوہ بعض دوسرے خطبات اور خطوط میں آن حضرتؑ نے اپنی مظلومیت کا اظہار کیا ہے۔

(تمّت)

منابع

[1] ترجمہ و شرح نہج البلاغہ، ترجمہ اردو، علّامہ ذیشان حیدر جوادی
[2] فروغ ولایت، آیت اللہ جعفر سبحانی
[3] سیری در نہج البلاغہ، شہید مطہری
[4] شرح ابن ابی الحدید، ج۴
[5] دانشنامہ امام علوی علیہ السلام، ج۱۱، حصّۂ سیرہ

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button