
بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
شعیب نے کہا : اے میری قوم! مجھے بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل کے ساتھ ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے بہترین رزق (نبوت) سے نوازا ہے، میں ایسا تو نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں میں تو حسب استطاعت فقط اصلاح کرنا چاہتا ہوں اور مجھے صرف اللہ ہی سے توفیق ملتی ہے، اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (سورہ ھود: 88)
السَّلام عَلَى الحُسَيْن، وَعَلَى عَليِّ بْنِ الحُسَيْنِ، وَعَلَى أوْلادِ الحُسَيْنِ، وَعَلَى أصْحابِ الحُسَين.
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام مشن انبیاء علیہیم السلام کے وارث اور اُن کے مشن و مقصد کے محافظ ہیں۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے آپ نے کربلا میں ایک آٹھ روزہ مدرسہ قائم کیا۔ امام عالی مقام نے اس ہدف کے لیے دس محرم تک ہر قربانی دی۔ شام غریباں سے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے شریکۃ الحسینؑ بن کر ان قربانیوں کو قیامت تک زندہ رکھنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ گیارہ محرم کو بنتِ رسول بھائی سے یہ کہہ کر کربلا سے چلیں:
جو بچ گیا تیری مقتل سے وہ کام میری ردا کرے گی
دین الٰہی کی خاطر اس خاندان کی قربانیوں کی یاد کو ”عزاداری“ کہتے ہیں۔
شہید کربلا کمر کے زور بھائی عباسؑ کا علم جھکی کمر سے مقتل سے اٹھالائے تھے آج ہر بوڑھا خم کمر سے، جوان زور بازو سے، بچہ عشق و الفت سے اور مستورات امانت زینبؑ سمجھتے ہوئے کربلا کے اس نشان کو کندھے پر اٹھائے، زبان سے یا حسین کہتے ہوئے کربلا کی یاد منا رہے ہیں اور انہی کو ”عزادار“ کہتے ہیں۔ ہر عزادار یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ”میرا ہے حسینؑ“ اور امام کے مقصد کو زندہ رکھنا اپنی زندگی کا ہدف جانتا ہے۔ سید الشہداء نے سفر کربلا کی ابتدا میں اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام اپنی تحریر میں اپنے مقصد کو یوں بیان فرمایا:
اِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْاِصْلَاحِ فِی اُمَّةٍ جَدِّىْ۔۔۔
”میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں“۔
عزاداری آئمہ کے فرامین کے مطابق عظیم عبادت اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ عزاداری کے فوائد کا غیر مسلم بھی اقرار کرتے ہیں۔ فرانس کے مشہور مؤرخ ڈاکٹر جوزف اپنی کتاب ”الاسلام والمسلمین“ میں عزاداری کو مذہب شیعہ کی ترویج و ترقی اور بقا کا سبب و ذریعہ سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں:
یہ مجالس و محافل دینی مسائل و معارف کا بہترین مدرسہ ہیں اسی وجہ سے شیعہ عوام دیگر فرقوں کی نسبت اپنے عقائد و مذہب سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو شیعوں کی مانند کسی قوم کو علمی و اقتصادی ترقی کے ذرائع مہیا نہیں۔ عزاداری پر جتنا خرچ شیعہ کرتے ہیں کوئی مذہب تبلیغ و دعوت پر اتنا خرچ نہیں کرتا۔ اگر دنیا کے دور ترین علاقے میں بھی کوئی ایک شیعہ رہتا ہے تو ان مجالس عزا کا اہتمام کرے گا۔ شیعہ مذہب نے زور بازو و شمشیر سے نہیں قوت دعوت و تبلیغ سے پیش رفت کی ہے۔
(پرتوی از عظمت حسینؑ ص 436 آیت الله صافی گلپایگانی)
ایک جرمن مؤرخ ڈاکٹر مسیو ماربین نے اپنی کتاب ”سیاسۃ اسلامیہ“ کے ساتویں باب کا عنوان بنایا ”فلسفہ مذہب شیعہ“ اس کا اردو ترجمہ رسالہ اصلاح کھجوہ سے فلسفہ شہادت کے عنوان سے شائع ہوا۔ وہ لکھتے ہیں:
یہ لوگ حسینؑ کی عزاداری کو مذہب کا جزو عظیم قرار دیتے ہیں اور جس قدر اس کے نتائج سے علیؑ کے تابعین میں قوت پیدا ہوتی گئی مصائب حسینؑ کا ذکر زیادہ آشکار ہونے لگا اور جس قدر ان لوگوں نے اس باب میں زیادہ کوشش کی اسی قدر ان کی قوت اور ترقی بڑھتی گئی۔
(فلسفہ شہادت، ص 143)
عزاداری کے فلسفہ و مقصد کو پورا کرنے کے لیے عزاداروں کو درج ذیل چیزیں مد نظر رکھنی چاہیے۔
1۔ غم خواران اہل بیتؑ مجالس عزاداری میں فضائل اہل بیتؑ کو سنتے ہیں تو ان صفات جمیلہ کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں۔
2۔ سید الشہداءؑ کی عظیم قربانیوں کو سن کر دین کی خاطر اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
3۔ مقصد کربلا کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عقیدے میں پختگی، خدا پر بھروسا اور اعمال صالحہ کی بجا آوری پر توجہ دیں۔
بقول نجم افندی:
عمل میں اس کا ساتھ دو کہ اس کے دل کو چین ہو
زمین سے آسمان تلک حسین ہی حسین ہو
4۔ کربلا کے شہیدوں کے اسم و جسم 72 تھے مگر اتباع امام میں روح گویا ایک تھی تو ان کی یا دمنانے والوں میں بھی اتحاد و اتفاق ایسے ہی ہونا چاہیے۔
5۔ نوحے و ماتم اور لباس و نیاز سے سوگوار ہونا ظاہر ہو نہ کہ نمائش۔
6۔ ٹھنڈا پانی پیتے وقت، چاند محرم دیکھتے وقت یاد امام حسین علیہ السلام میں آنسو آنے چاہیں۔
7۔ عبادت کی روح اخلاص ہوتی ہے۔ عزاداری کی عبادت میں بھی خطبا و ذاکرین اور بانیان وسا معین خلوص کو مد نظر رکھیں۔
کربلا کے مدرسہ ہدایت اور عبادت عزا سے اگر کسی نے واقعی سبق لیا تو ایسا شیعہ بن جائے گا جیسا امام الہدیٰ علی المرتضیٰ علیہ السلام نے چاہا۔
”اپنے نبی ﷺ کے اہل بیت علیہم السلام کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔“
(نہج البلاغہ، خطبہ 95 ص 317)
امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں اللہ سے تعلق اس جملے سے عیاں ہے۔
”رِضًا بِقَضَائِهِ وَتَسْلِيمًا لِاَمْرِهٖ“
اور مجید امجد نے گویا اس کا ترجمہ کیا۔
سلام ان پر تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
پمفلٹ کے حصول یا دیگر معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:
جامعہ جعفریہ جنڈ ضلع اٹک
مولانا سید سعید حیدر ہمدانی۔ مولانا سید مجتبی حیدر نقوی
03144505912 – 03222249862




