
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
یہ امر کسی تصریح کا محتاج نہیں ہے کہ عصمت ملکی اور ہے اور عصمت بشری اور ہے۔ فرشتوں کے معصوم ہونے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ان میں کسی خطا و لغزش کی تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی۔ مگر انسان کے معصوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں بشری تقاضے اور نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں، مگر وہ انہیں روکنے کی ایک قوت خاص رکھتا ہے اور ان سے مغلوب ہو کر کسی خطا کا مرتکب نہیں ہوتا اور اسی قوت کا نام عصمت ہے کہ جو ذاتی خواہشات و جذبات کو ابھرنے نہیں دیتی۔
حضرتؑ کے ارشاد: «فَاِنِّیْ لَسْتُ فِیْ نَفْسِیْ بِفَوْقِ اَنْ اُخْطِئَ»: ’’میں اپنے کو اس سے بالاتر نہیں سمجھتا کہ خطا کروں‘‘، میں انہی بشری تقاضوں اور خواہشوں کی طرف اشارہ ہے اور «اِلَّا اَنْ یَّكْفِیَ اللهُ مِنْ نَّفْسِیْ»: ’’مگر یہ کہ خدا میرے نفس کو اس سے بچائے رہے‘‘ میں عصمت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ اسی لب و لہجہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی قرآن میں وارد ہوا ہے کہ ﴿وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِىْۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىْ ؕ﴾ [1]: ’’میں اپنے نفس کو گناہ سے پاک نہیں ٹھہراتا کیونکہ انسان کا نفس گناہ پر بہت ابھارنے والا ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے‘‘، تو جس طرح یہاں پر ﴿اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ۰ۭ﴾ کا جو استثناء ہے اس کی وجہ سے آیت کے پہلے جزو سے آپؑ کی عصمت کے خلاف دلیل نہیں لائی جا سکتی، اسی طرح امیر المومنین علیہ السلام کے کلام میں «اِلَّا اَنْ یَّكْفِیَ اللهُ مِنْ نَّفْسِیْ» کا جو استثناء ہے اس کے ہوتے ہوئے کلام کے پہلے ٹکڑے سے آپؑ کے غیر معصوم ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا، ورنہ ایک نبی کی عصمت سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔
یونہی اس خطبہ کے آخری ٹکڑے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپؑ بعثت رسولؐ سے پہلے دور جاہلیت کے عقائد سے متاثر رہ چکے ہوں گے اور جس طرح دوسروں کا دامن کفر و شرک سے آلودہ رہ چکا تھا اسی طرح آپؑ بھی تاریکی و ضلالت میں رہے ہوں گے، کیونکہ آپؑ پیدائش کے دن سے رہبر عالم کے زیر سایہ پرورش پا رہے تھے اور انہی کی تعلیم و تربیت کے اثرات آپؑ کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے تھے۔ لہٰذا یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ابتدائے عمر سے پیغمبر ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا زندگی کے کسی لمحہ میں ہدایت سے بیگانہ رہا ہو گا۔
چنانچہ مسعودی نے تحریر کیا ہے کہ:
اِنَّهٗ لَمْ يُشْرِكْ بِاللّٰهِ شَيْئًا فَيَسْتَاْنِفُ الْاِسْلَامَ، بَلْ كَانَ تَابِعًا لِّلنَّبِیِّ ﷺ فِیْ جَمِيْعِ فِعَالِهٖ، مُقْتَدِيًۢا بِهٖ، وَ بَلَغَ وَ هُوَ عَلٰى ذٰلِكَ.
آپؑ نے کبھی شرک ہی نہیں کیا کہ اس سے الگ ہو کر آپؑ کے اسلام لانے کا سوال پیدا ہو، بلکہ تمام افعال و اعمال میں رسول ﷺ کے تابع اور ان کے پیرو تھے اور اسی حالت اتباع میں آپؑ نے سرحد بلوغ میں قدم رکھا۔
(مروج الذہب، ج 2، ص 3)
اس مقام پر ان لوگوں سے جن کو اللہ نے تاریکی و گمراہی سے راہ راست پر لگایا وہ لوگ مراد ہیں جو آپؑ کے مخاطب تھے۔
چنانچہ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ:
لَيْسَ هٰذَا اِشَارَةٌ اِلٰى خَاصِّ نَفْسِهٖ ؑ، لِاَنَّهٗ لَمْ يَكُنْ كَافِرًا فَاَسْلَمَ وَ لٰكِنَّهٗ كَلَامٌ يَّقُوْلُهٗ وَ يُشِيْرُ بِهٖۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ يُخَاطِبُهُمْ مِنْ اَفْنَآءِ النَّاسِ.
یہ خود امیر المومنین علیہ السلام کی طرف اشارہ نہیں، کیونکہ وہ کبھی کافر نہیں رہے کہ کفر کے بعد اسلام لاتے، بلکہ لوگوں کی مختلف جماعتیں جو آپؑ کے مخاطب تھیں، ان کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [2]
[1] سورۂ یوسف، آیت 53
[2] شرح ابن ابی الحدید، ج 11، ص 108




