مقالات

جبر و تفویض کی وضاحت

علامہ مفتی جعفر حسینؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کائناتِ ہستی کے نظم و نسق میں جس طرح نتائج کے ترتّب کو انسانی کار گزاریوں سے وابستہ کیا ہے جس سے قوت عمل باطل نہیں ہوتی، اسی طرح ان مساعی کی کامیابی و ناکامی کو اپنی مشیت کا پابند بھی بنایا ہے تاکہ انسان اپنی طاقتِ عمل پر بھروسا کر کے خالق کو نہ بھول جائے۔ یہی ’’جبر و تفویض‘‘ کے درمیان ’’امر بین الامرین‘‘ کا نقطہ ہے۔ چنانچہ جس طرح تمام کائنات میں قدرت کا ہمہ گیر اور محکم قانون کام کر رہا ہے، اسی طرح رزق کی پیداوار اور اس کی تقسیم بھی تدبیر و تقدیر دونوں کی کارفرمائی کے ساتھ اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازے کے مطابق ہوتی ہے جو انسانی نتائج عمل کے تناسب اور پھر اس کی حکمت و مصلحت کی کارفرمائی کی وجہ سے کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ۔ اب چونکہ سامان معیشت کا وہی خالق و موجد ہے اور اکتسابِ رزق کی قوتیں اس کی بخشی ہوئی ہیں، اس لئے رزق کی کمی و بیشی کی نسبت اسی کی طرف دی گئی ہے کہ اس نے سعی و عمل کے اختلاف اور مصالح عباد کے پیش نظر رزق کے الگ الگ معیار اور مختلف پیمانے مقرر کئے ہیں۔ کہیں افلاس ہے اور کہیں خوش حالی، کہیں تکلیف ہے اور کہیں راحت، کوئی مسرت و اطمینان کے گہوارے میں جھول رہا ہے اور کوئی فقر و ناداری کی سختیاں جھیل رہا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ‌ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏ ﴾
اللہ جس کیلئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔[1]

امیر المومنین علیہ السلام نے خطبہ 23 میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ الْاَمْرَ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ كَقَطَرَاتِ الْمَطَرِ اِلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا قُسِمَ لَهَا مِنْ زِیَادَةٍ اَوْ نُقْصَانٍ.
ہر شخص کے مقسوم میں جو کم یا زیادہ ہے اسے لے کر فرمانِ قضا آسمان سے زمین پر اس طرح اترتے ہیں جس طرح بارش کے قطرے۔

چنانچہ جس طرح بارش کے فیضان کا ایک نظم و انضباط ہے کہ سطح سمندر سے بخارات اٹھیں اور پانی کے ذخیرے اٹھائے ہوئے فضا میں گھنگور گھٹا کی صورت میں پھیل جائیں اور قطرہ قطرہ کر کے اس طرح ٹپکیں کہ قطروں کے تار بندھ جائیں اور میدانی زمینوں اور بلند ٹیلوں کی رگوں اور نسوں کو سیراب کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں اور جہاں نشیب ہو پانی کے خزانے جمع کرتے رہیں تا کہ پیاسے آ کر پئیں، جانور سیراب ہوں اور سوکھی زمینوں کی اس سے آبیاری ہو، یونہی اللہ سبحانہ نے زندگی و معیشت کے تمام سروسامان مہیا کر رکھے ہیں، لیکن اس کی بخشش کا ایک مقررہ اندازہ ہے جس میں ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا چنانچہ ارشاد قدرت ہے:

﴿وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآٮِٕنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ‏ ﴾
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے (بھر پور) خزانے ہمارے پاس موجود نہ ہوں، لیکن ہم ہر چیز کو مقررہ پیمانے پر بھیجتے ہیں۔[2]

اگر انسان کی بڑھتی ہوئی طمع و حرص کے پیمانے چھلکنے لگیں تو جس طرح بارش کی فراوانی، روئیدگی اور شادابی کے بجائے فصلیں تباہ کر دیتی ہے، یونہی سامانِ معیشت و ضروریاتِ زندگی کی کثرت، انسان کو اللہ سے بے نیاز اور بغاوت و سرکشی پر آمادہ کر دے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ فرماتا ہے:

﴿وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِى الْاَرْضِ وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ‌ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ‏ ﴾
اگر خدا اپنے بندوں کی روزی میں فراخی کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں۔ وہ تو ایک اندازے پر جس کیلئے جتنا چاہتا ہے بھیجتا ہے اور وہ اپنے بندوں (کی مصلحتوں) سے واقف اور ان پر نظر رکھتا ہے۔ [3]

اور اگر رزق میں کمی کر دے تو جس طرح بارش کا رک جانا زمین کو بنجر اور چوپاؤں کو ہلاک کر دیتا ہے، یونہی ذرائع رزق کی بندش سے انسانی معاشرہ تباہ و برباد ہو کر رہ جائے اور زندگی و معیشت کا کوئی سروسامان باقی نہ رہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

﴿اَمَّنْ هٰذَا الَّذِىْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ‌ ۚ﴾
اگر خدا اپنی روزی کو روک لے تو کون ایسا ہے جو تمہیں روزی دے۔ [4]

لہٰذا اس حکیم و دانا نے ایک متناسب و معتدل طریقہ پر نظام رزق جاری کیا ہے اور رزق و روزی کی اہمیت ظاہر کرنے اور ایک کو دوسرے سے مرتبط رکھنے کیلئے رزق کی تقسیم میں تفرقے پیدا کر دیئے ہیں۔ یہ تفرقہ اور غیر مساویانہ تقسیم کبھی خود انسانی مساعی کے اختلاف کا نتیجہ ہوتی ہے اور کبھی نظام عالم کے مجموعی مفاد اور اس کی حکمت و مصلحت کی کارفرمائی کی بنا پر ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اگر فقر و احتیاج میں نادار کے صبر و استقلال کا امتحان لیا ہے تو ثروت و دولت میں دولتمند کے شکر اور ادائیگی حقوق کی کڑی آزمائش ہے کہ وہ فقراء و مساکین کے حقوق ادا کرتا ہے یا نہیں، ناداروں اور فاقہ کشوں کی خبر لیتا ہے یا نہیں۔ اور پھر جہاں دولت ہو گی، طرح طرح کے خطرات بھی پیدا ہوں گے، کبھی مال و جائیداد کیلئے خطرہ ہو گا، کبھی فقر و افلاس کا کھٹکا ہو گا۔ چنانچہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ جو دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے کو زیادہ مطمئن اور خوش پاتے ہوں گے۔ ان کے نزدیک یہ بے سروسامانی اور بے مائیگی اس دولت سے کہیں زیادہ بہتر ہو گی جو ان کے آرام و اطمینان کو چھین لے اور کبھی یہی دولت جسے انسان جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے اس کی جان جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب تک دولت نہ تھی، اخلاق محفوظ تھے، سیرت بے داغ تھی اور ادھر مال و دولت کی فراوانی ہوئی کہ اخلاق تباہ ہو گئے، کر دار بگڑ گیا۔ اب شراب کا دور بھی ہے، مہوشوں کا جمگھٹا بھی ہے، نغمہ و سرود کی بزم بھی ہے۔ اس صورت میں دولت کا نہ ہونا ہی ایک نعمت تھا، لیکن انسان اللہ کی مصلحت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے چیخ اٹھتا ہے اور وقتی تکلیف سے متاثر ہو کر شکوہ شکایت پر اتر آتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کتنی برائیوں سے اس کا دامن بچا رہا ہے کہ جو دولت کے ہونے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی تھیں، لہٰذا دولت اگر راحت کی کفیل ہے تو فقر اخلاق کا نگہبان ہے۔

حوالہ جات

[1] سورۂ شوریٰ، آیت 12
[2] سورۂ حجر، آیت 21
[3] سورۂ شوریٰ، آیت 27
[4] سورۂ ملک، آیت 21

نہج البلاغہ خطبہ 89 مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ 285

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button