مرکزی سلائیڈرمقالات

قوموں کی تباہی کے اسباب

علامہ مفتی جعفر حسینؒ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

تاریخ کے صفحات اس کے شاہد ہیں کہ اکثر و بیشتر قوموں کی ہلاکت و تباہی ان کے ظلم و جور اور علانیہ فسق و فجور کی وجہ سے ظہور میں آئی۔ چنانچہ وہ قومیں جنہوں نے ربع مسکون کے ہر گوشہ پر اپنے اقتدار کے سکے جمائے اور شرق و غرب عالم پر اپنے پرچم لہرائے جب ان کی بد اعمالیوں اور بدکرداریوں سے پردہ ہٹا تو پاداش عمل کے قانون نے اس طرح ان کا استیصال کیا کہ صفحۂ عالم سے حرف غلط کی طرح محو ہو گئے۔ عاد و ثمود کی سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا، فرعون و نمرود کی شہنشاہیاں مٹ گئیں، طسم و جدیس کی سر بفلک عمارتیں سنسان کھنڈر بن گئیں،اصحاب الرس کی بستیاں اُجڑ کر ویرانہ ہو گئیں اور جہاں زندگی کے قہقہے تھے وہاں موت کی اداسیاں اور جہاں جمگھٹے تھے وہاں بھیانک سناٹے چھا گئے۔ یہ قوموں کا عروج و زوال چشم بینا کیلئے ہزاروں عبرت کے سامان رکھتا ہے اور ان واقعات کے پیش کرنے سے مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ انسان ان کے احوال و واردات سے عبرت اندوز ہو اور غرور و طغیان کی سر مستیوں میں کھو کر اپنے انجام کو بھول نہ جائے۔ چنانچہ امیر المومنین علیہ السلام نے اسی موعظت و عبرت کیلئے عمالقہ، فراعنہ اور اصحاب الرس کی تباہیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو عظمت و ارتفاع کی چوٹیوں سے ہلاکت و بربادی کے قعرِ مذلت میں اس طرح گرے کہ ان کا نام و نشان بھی نہ رہا۔

یہ ’’عمالقہ‘‘ کون تھے؟ اس کیلئے ابن قتیبہ نے تحریر کیا ہے:
وَ مِنْ وُّلْدِ اِرَمَ بْنِ سَامِ بْنِ نُوْحٍ ؑ طَسْمٌ وَّ جَدِيْسٌ ابْنَا لَاوِدِ بْنِ اِرَمَ بْنِ سَامِ بْنِ نُوْحٍ ؑ، وَ نَزَلُوا الْيَمَامَةَ وَ اَخُوْهُمَا عِمْلِيْقُ بْنُ لَاوِدِ ابْنُ اِرَمَ بْنِ سَامِ بْنِ نُوْحٍ ؑ، نَزَلَ بَعْضُهُمْ بِالْحَرَمِ وَ بَعْضُهُمُ الشَّامَ، فَمِنْهُمُ الْعَمَالِيْقُ اُمَمٌ تَفَرَّقُوْا فِی الْبِلَادِ، وَ مِنْهُمْ فَرَاعِنَةُ مِصْرٍ وَّ الْجَبَابِرَةُ.
ارم ابن سام ابن نوحؑ کی اولاد میں سے طسم اور جدیس تھے کہ جو لاود ابن ارم ابن سام ابن نوحؑ کے بیٹے تھے۔ یہ یمامہ میں فروکش ہوئے اور ان کا ایک بھائی عملیق ابن لاود ابن ارم ابن سام ابن نوحؑ تھا کہ جس کی اولاد میں سے کچھ افراد مکہ میں اور کچھ شام میں مقیم تھے اور انہی قبائل عرب میں سے ’’عمالقہ‘‘ تھے کہ جو متعدد گروہوں کی صورت میں مختلف شہروں میں پھیل گئے اور انہی میں سے فراعنہ مصر اور شام کے فرمانروا تھے۔ (المعارف، ص 13)

مؤرخ طبری نے لکھا ہے:
وَ وُلِدَ لِلَاوِذَ اَيْضًا عِمْلِيْقُ بْنُ لَاوِذَ، وَ كَانَ مَنْزِلُهُ الْحَرَمَ وَ اَكْنَافَ مَكَّةَ، وَ لَحِقَ بَعْضُ وَلَدِهٖ بِالشَّامِ، فَمِنْهُمْ كَانَتِ الْعَمَالِيْقُ، وَ مِنَ الْعَمَالِيْقِ الْفَرَاعِنَةُ بِمِصْرَ.
لاوذ کا ایک بیٹا عملیق تھا اور مکہ اور اس کے اطراف میں اس کی رہائش تھی اور اس کی اولاد میں سے کچھ لوگ شام چلے گئے اور اسی کی اولاد میں سے عمالقہ تھے اور انہی عمالقہ میں سے فراعنہ مصر تھے۔ (طبری، ج 1، ص 142)

اس سے ظاہر ہوا کہ عمالقہ عرب کے قبائل بائدہ تھے جنہوں نے شام و حجاز پر اپنی حکومتیں قائم کر رکھی تھیں۔ چنانچہ ابتدا میں اس خاندان کے مورث اعلیٰ عملیق کو اقتدار حاصل تھا، مگر اس کے بعد طسم کی طرف منتقل ہو گیا اور طسم کے بعد جب عملوق ابن طسم بر سر اقتدار آیا تو اس نے ظلم و جور اور فسق و فجور کی حد کر دی، یہاں تک کہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ قبیلہ جدیس کی جو عورت بیاہی جائے وہ شوہر کے ہاں جانے سے پہلے اس کے شبستان عشرت میں ایک رات گزار کر جائے۔ چنانچہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور جب اسی خاندان کی ایک عورت عفیرہ بنت عفار کے ساتھ یہی شرمناک برتاؤ ہوا تو اس نے شوہر کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اور اپنے قبیلہ کو اشعار کے ذریعہ سے غیرت دلائی جس پر پورا قبیلہ اپنی عزت و ناموس کی بربادیوں پر تلملا اٹھا اور انتقام لینے کے درپے ہو گیا۔ چنانچہ عفیرہ کے بھائی اسود ابن عفار نے عملوق کو اس کے عملہ کے ساتھ دعوت کے بہانے سے اپنے ہاں بلوا لیا اور ان کے پہنچتے ہی بنی جدیس نے تلواریں نیاموں سے نکال لیں اور ان پر اس طرح اچانک ٹوٹ پڑے کہ ریاح ابن مر کے علاوہ کوئی اپنا بچاؤ نہ کر سکا۔ یہ بھاگ کر شاہ یمن کے دربار میں جا پہنچا اور اسے بنی جدیس پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔ چنانچہ وہ ایک لشکر جرار لے کر ان پر چڑھ دوڑا اور انہیں شکست دے کر ہلاک و منتشر کر دیا اور اقتدار ان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ یہ عمالقہ وہی ہیں جنہوں نے 2000 قبل مسیح مصر پر حملہ کیا تھا اور جنہیں ہیکسوس (چرواہے بادشاہ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

چنانچہ مسعودی نے ان کے مصر میں داخل ہونے کے سلسلہ میں لکھا ہے:
وَ مَلَّكُوا النِّسَآءَ، فَطَمِعَتْ فِيْهِمْ مُلُوْكُ الْاَرْضِ، فَسَارَ اِلَيْهِمْ مِنَ الشَّامِ مَلِكٌ مِّنْ مُّلُوْكِ الْعَمَالِيْقِ يُقَالُ لَهُ الْوَلِيْدُ بْنُ دُوْمَعٍ، فَكَانَتْ لَهٗ حُرُوْبٌۢ بِهَا، وَ غَلَبَ عَلَى الْمُلْكِ، فَانْقَادُوْۤا اِلَيْهِ، وَ اسْتَقَامَ لَهُ الْاَمْرُ اِلٰۤى اَنْ هَلَكَ، ثُمَّ مَلَكَ بَعْدَهُ الرَّيَّانُ بْنُ الْوَلِيْدِ الْعِمْلَاقِيُّ، وَ هُوَ فِرْعَوْنُ يُوْسُفَؑ… ثُمَّ مَلَكَ بَعْدَهٗ دَارِمُ بْنُ الرَّيَّانِ الْعِمْلَاقِيُّ، ثُمَّ مَلَكَ بَعْدَهٗ كَامِسُ بْنُ مِعْدَانَ الْعِمْلَاقِيُّ.
جب اہل مصر نے عورتوں کے ہاتھ میں اقتدار دے دیا تو دوسرے بادشاہوں کے دل میں اسے فتح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ شاہانِ عمالقہ میں سے ایک بادشاہ نے جسے ولید ابن دومع کہا جاتا ہے، مصر پر چڑھائی کی اور بہت سی لڑائیاں لڑیں۔ آخر اہل مصر نے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اس کی حکومت تسلیم کر لی۔ جب یہ مر گیا تو ریان ابن ولید عملاقی تخت فرمانروائی پر بیٹھا او ریہی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا فرعون تھا۔ اس کے بعد دارم ابن ریان اور پھر کامس ابن معدان عملاقی فرمانروا ہوا۔ (مروج الذہب، ج 1، ص 222)

یہ انتہائی سر کش و ظالم حکمران تھے جس کی پاداش میں قدرت نے ان کو نیست و نابود کرنے کے سامان پیدا کر دیے۔

چنانچہ مسعودی تحریر کرتے ہیں:
وَ قَدْ كَانَتِ الْعِمَالِيْقُ بَغَتْ فِی الْاَرْضِ، فَسَلَّطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مُلُوْكَ الْاَرْضَ فَاَفْنَتْهَا.
عمالقہ نے زمین میں شر و فساد پھیلا رکھا تھا، جس کے نتیجہ میں قدرت نے ان پر دوسرے فرمانرواؤں کو مسلط کر دیا جنہوں نے انہیں فنا و برباد کر دیا۔ (مروج الذہب، ج 1، ص 265)

ان عمالقہ کے بعد ولید ابن مصعب حکمران ہوا۔ یہ بعض مؤرخین کے نزدیک شام کے قبیلہ لخم سے تھا اور بعض نے اسے قبطی لکھا ہے اور یہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کا فرعون تھا۔ اس کے کبر و انانیت اور غرور و نخوت کی یہ حالت تھی کہ ﴿اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى۝۲۴ْۖ﴾ کا دعویٰ کر کے دنیا کی ساری قوتوں کو اپنے تصرف و اختیار میں سمجھنے لگا تھا اور اس زعم میں مبتلا تھا کہ کوئی طاقت اس سے سلطنت و حکومت کو چھین نہیں سکتی۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس کے دعویٰ «اَنَا وَ لَا غَیْرِیْ» کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

﴿قَالَ يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِىْ مُلْكُ مِصْرَ وَهٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِىْ‌ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ‏﴾
اس نے کہا کہ اے قوم! کیا یہ ملک مصر میرا نہیں ہے؟ اور یہ میرے محل کے نیچے بہتی ہوئی نہریں میری نہیں ہیں؟ کیا تمہیں یہ نظر نہیں آتا؟ [1]

مگر جب اس کی سلطنت مٹنے پر آئی تو لمحوں میں مٹ گئی۔ نہ اس کی جاہ و حشمت سدراہ ہوئی اور نہ مملکت کی وسعت روک تھام کر سکی، بلکہ جن نہروں کی ملکیت پر اسے گھمنڈ تھا انہی کی تلملاتی لہروں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے کر اس کی روح کو دار البوار میں اور جسم کو کائنات کی عبرت و بصیرت کیلئے کنارے پر پھینک دیا۔

اسی طرح ’’اصحاب الرس‘‘ ایک نبی کی دعوت و تبلیغ کے ٹھکرانے اور سرکشی و نافرمانی کرنے کے نتیجہ میں ہلاک و برباد ہو گئے۔

چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے:
﴿وَّعَادًا وَّثَمُوْدَا۟ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰ لِكَ كَثِيْرًا‏ ﴿۳۸﴾ وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ‌ وَكُلًّا تَبَّـرْنَا تَـتْبِيْرًا‏﴾
اور اسی طرح عاد و ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے درمیانی زمانہ کی بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ ہم نے سب کیلئے مثالیں بیان کی تھیں اور آخر ہم نے ان سب کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ دیا۔ [2]

’’رس‘‘ آذربائیجان کے علاقہ میں ایک نہر کا نام تھا جس کے کنارے پر بارہ بستیاں آباد تھیں جن کے رہنے والوں کو ’’اصحاب الرس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان بستیوں کے نام: 1۔ آبان، 2۔ آذر، 3۔ دی، 4۔ بہمن، 5۔ اسفندار، 6۔ فروردین، 7۔ اردی بہشت، 8۔ خرداد، 9۔ مرداد، 10۔ تیر، 11۔ مہر، 12۔ شہریور [3] تھے۔ ان میں اسفندار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور اس میں صنوبر کا ایک درخت تھا جسے یافث ابن نوحؑ نے لگایا تھا اور اسے ’’شاہ درخت‘‘ کہا جاتا تھا۔ اسی درخت کے بیجوں سے دوسری بستیوں میں بھی ایک ایک درخت لگایا گیا تھا۔ یہ لوگ ہر مہینے ایک بستی میں جمع ہوتے اور اس درخت کی پرستش کرتے اور سال میں ایک مرتبہ نوروز کے موقع پر اسفندار میں ان کا اجتماع ہوتا تھا اور اس اصل درخت کی خاص اہتمام سے پوجا کرتے، قربانیاں چڑھاتے اور منتیں مانتے تھے۔ قدرت نے انہیں اس درخت کی عبادت سے روکنے کیلئے یہود ابن یعقوب کی نسل سے ایک پیغمبر ان کی طرف بھیجا جنہوں نے انہیں اس مشرکانہ عبادت سے روکنا چاہا، مگر انہوں نے ان کا کہنا نہ مانا اور انکار و سرکشی پر اتر آئے اور ان کی ہلاکت کے درپے ہو گئے۔ چنانچہ ان لوگوں نے چشمہ کے اندر ایک کنواں کھود کر اس میں انہیں پھینک دیا اور اس کا منہ ایک پتھر سے بند کر دیا جس سے وہ تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہو گئے۔ اس ظلم و سفاکی کے نتیجہ میں قہر الٰہی نے کروٹ لی اور ان پر لو کے ایسے جھونکے چلے کہ ان کے بدن جھلس کر رہ گئے اور زمین سے گندھک کا لاوا پھوٹ نکلا جس سے ان کے جسم کی ہڈیاں تک پگھل گئیں اور ساری کی ساری بستیاں الٹ گئیں۔

[1] سورۂ زخرف، آیت 51
[2] سورۂ فرقان، آیت 38 – 39
[3] یہی نام فارسی مہینوں کے ہیں جو انہی بستیوں کے نام پر رکھے گئے تھے، کیوں کہ ہر مہینے ان لوگوں کا ایک بستی میں اجتماع ہوتا تھا جس کی وجہ سے اس مہینے کا بھی وہی نام ہو گیا جو اس بستی کا نام تھا۔

نہج البلاغہ خطبہ 180 مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ 505

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button