مطبوعات

حکمرانی کے آفاقی اصول طبع دوم

مکتوب امام علی علیہ السلام بنام مالک اشترؓ

﴿اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی﴾
عدل کرو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے۔ (1)

مملکتِ خدا داد پاکستان کی تشکیل کے وقت بانیء پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ذہن میں کیسا نظامِ حکومت تھا، اس کی ایک جھلک برصغیر کے مشہور دانشور اور خطیب علامہ رشید ترابی نے اپنے ایک بیان میں یوں پیش کی:

قائداعظم مرحوم نے 1947ء میں تقسیمِ ہندو پاکستان کے بعد فوراً مجھے یہاں طلب کیا تھا اور کراچی میں میرے قیام کے واسطے کارٹن ہوٹل میں کچھ کمرے لیے گئے تھے۔ مجھ سے یہ خواہش کی گئی تھی کہ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا خط جو مالک اشتر کے نام ہے، اس کا انگریزی میں ترجمہ کروں۔ چنانچہ میں نے یہیں یہ کام شروع کیا۔ (2)

یہ مکتوب قائد اعظم کے حکم پر اکتوبر 1947ء میں ترجمہ ہوا اور دسمبر 1947ء میں اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا۔ ہم یہاں اس مکمل مکتوب کو عربی اور اردو میں پیش کر رہے ہیں اور اس کا انگلش ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

اس عہد نامہ میں کیا ہے؟ وہ آپ خود مطالعہ سے جان سکیں گے۔ حقیقت میں یہ خط’’میثاقِ مدینہ‘‘یا ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے دستور کی جامع تشریح ہے۔ یہ خط حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور مواعظ پر مبنی کتاب ’’نہج البلاغہ‘‘ میں مکتوب نمبر 53 ہے۔ اس خط میں نظامِ حکومت کو کس گہرائی سے بیان کیا گیا اس بارے میں ایک عیسائی عرب دانشور لکھتے ہیں:

’’اقوامِ متحدہ کے منشور‘‘ اور ’’حقوقِ انسانی کے اعلامیہ‘‘ میں کوئی ایسا عنوان نہیں جس کی نظیر علی علیہ السلام کے دستور میں نہ پائی جاتی ہو، بلکہ حضرتؑ کے دستور میں اس سے بہتر اور بالا تر چیزیں موجود ہیں۔ میرے نزدیک دونوں دستوروں میں چار نمایاں فرق ہیں:

اول یہ کہ: اقوامِ متحدہ کے منشور کو دنیا کے ہزاروں عقلمندوں نے مرتب کیا جو تمام ملکوں سے اکٹھے ہوئے تھے لیکن دستورِ علوی کو صرف ایک ذات نے تحریر کیا اور وہ ہیں علی بن ابی طالب علیہ السلام ۔
دوسری یہ کہ: علی علیہ السلام اس سے چودہ سو سال پہلے تشریف لائے تھے۔
تیسری یہ کہ: اقوامِ متحدہ کا منشور وضع کرنے والے یا در حقیقت اس کا مواد اکٹھا کرنے والوں نے اپنی اس قدر خود ستائی کی کہ لوگ سنتے سنتے تھک گئے اور پھر لوگوں کے کاندھوں پر ہزاروں احسانات کا بارگراں بھی لادا گیا، لیکن علی علیہ السلام نے بارگاہِ خداوند میں خضوع و خشوع اور لوگوں میں فروتنی اختیار کی۔ نہ اپنی برتری چاہی، نہ بزرگی تلاش کی۔
چوتھی وجہ جو ان تینوں سے اہم ہے یہ کہ: اقوامِ متحدہ میں سے جنہوں نے حقوقِ انسانی کے منشور مرتب کرنے میں شرکت کی خود اس کو تسلیم کیا کہ اکثر نے خود ہی اس کو توڑ دیا اور اس عہد نامے کو پارہ پارہ کرنے اور ان حقوق کو باطل کرنے کے لیے لڑائی کے میدانوں میں فوجیں اتار دیں، لیکن علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے جس مقام پر قدم رکھا، جس موقع پر بات کہی اور جس وقت نیام سے تلوار نکالی، ہمیشہ جور و استبداد کا پردہ چاک کیا، ظلم وستم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور زمین کو ہموار کیا تا کہ اس پر آسانی سے قدم بڑھائے جاسکیں۔ یہاں تک کہ انسانی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہوئے، باوجود یکہ آپؑ اپنی زندگی میں ہزاروں بار شہید ہو چکے تھے۔ (3)

اس خط کی اہمیت اقوامِ متحدہ کے سابقہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے اس بیان سے بھی واضح ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا:
پیغمبر محمد ﷺ کے بعد چوتھے خلیفہ امام علی علیہ السلام نے مصر کے گورنر کو حکم دیا کہ تمام امور میں رحمت ورافت کو مد نظر رکھنا اور کہا:

’’تمہارے نزدیک محبوب ترین ذخیرہ نیک اعمال کا ذخیر ہو نا چاہیے۔ رعایا کے لیے اپنے دل کے اندر رحم ورافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔ ان کے لیے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نِگل جانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگو۔ اس لیے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہارے جیسی مخلوقِ خدا‘‘۔ (4)

اقوامِ متحدہ کی’’ عرب ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2002ء کے صفحہ 107 پر حضرت امام علی علیہ السلام کے کلام سے چھ نکات نمونے کے طور پر درج کیے گئے ہیں اور ان میں چھٹا نکتہ اسی خط سے لیا گیا، جہاں حضرت علی علیہ السلام چیف جسٹس کے انتخاب کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سے سب سے بہتر ہو ، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے دل تنگ نہ ہو جاتا ہو اور نہ جھگڑنے والوں کے رویہ سے غصّہ میں آتا ہو۔‘‘ (5)

اس آفاقی دستاویز کی عظمت و رفعت اور گہرائی و گیرائی کے متعلق مولانا ابو الکلام آزاد کے قریبی ساتھی اور عربی رسالہ ثقافۃ الہند کے مدیر اعلیٰ عبد الرزاق ندوی ملیح آبادی لکھتے ہیں:

یہ نہایت قیمتی دستاویز ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں نہ کالج تھے نہ یونیورسٹیاں، علمِ سیاست مدوّن ہوا تھا نہ عربوں کو حکمرانی کا تجربہ تھا، اس پر بھی امیر المومنین علیہ السلام نے انتہائی اختصار و بلاغت سے حکمرانی اور سیاستِ مدن کے جو اصول اس تحریر میں جمع کر دیے ہیں، آج بھی ان سے متمدن حکمران مستغنی نہیں ہو سکتے۔ (6)

حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں اس تفصیلی دستور العمل کے علاوہ اپنے عمل اور اپنے گورنروں اور دوسرے عہدہ داروں کو دیے جانے والے احکامات کے ذریعہ اسلام کے نظامِ حکومت وعدل کا ایک روشن آئینہ پیش فرمایا ہے۔

اس کتاب میں سیاست علوی کی وضاحت مقصود نہیں ،بلکہ فقظ مالک اشتر کو لکھے گئے آپؑ کے خط کو پیش کرنا مطلوب ہے۔ صاحبانِ ذوق اور حق کے متلاشی اس سلسلے میں آپؑ کی تعلیمات وارشادات کے تفصیلی مطالعہ کے لیے آپؑ کے ارشادات پر مبنی کتاب نہج البلاغہ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

یہاں اختصارسے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں:

1۔ اپنے دور خلافت میں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر حکومتی اہلکاروں کا تقرر کرتے وقت یہ ہدایت نامہ تحریر فرمایا:
’’جس کے سپر د مال کرو اسے سمجھا دینا کہ وہ اونٹنی اور اس کے دودھ پیتے بچے کو الگ الگ نہ رکھے اور نہ اس کا سارے کا سارا دودھ دوہ لے کہ بچے کے لیے ضرر رسانی کا سبب بنے، اونٹنیوں میں سواری کرنے اور دوہنے میں انصاف و مساوات سے کام لینا‘‘۔ (7)

2۔ حضرت محمد ابن ابی بکر کو جب مصر کی حکومت سپرد کی تو فرمایا:

’’لوگوں سے انکساری سے ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ رُوئی سے پیش آنا اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا، تا کہ بڑے لوگ تم سے اپنی ناحق طرفداری کی امید نہ رکھیں اور چھوٹے لوگ تمہارے عدل و انصاف سے ان بڑوں کے مقابلے میں نا امید نہ ہو جائیں “۔ (8)

3۔ بصرہ کے گورنر کسی ایسی دعوت پر چلے گئے جس میں صرف ثروت مند لوگ مدعو تھے تو ان کی سرزنش کرتے ہوئے ان کے نام خط میں تحریر فرمایا:

’’مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں میں سے ایک نے تمہیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے ، رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمہارے لیے چن چن کر لائے جارہے تھےاور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جارہے تھے۔ مجھے امید نہ تھی کہ تم ایسی دعوت قبول کر لو گے جہاں سے فقیر و ناداردُور رکھے گئے ہوں اور دولت مند مدعو ہوں، جو لقمے چباتے ہو انہیں دیکھ لیا کرو اور جس کے لیے شبہ بھی ہوا سے چھوڑ دیا کرو “۔ (9)

4۔ آپؑ کے دورِ خلافت میں آپؑ کے سگے بھائی جناب عقیل نے سخت فقر و فاقہ کی حالت میں بیت المال سے گندم کے چند کلو اضافی مانگے تو آپؑ نے انکار کر دیا اور فرمایا:

’’خدا کی قسم مجھے کانٹے دار جھاڑیوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنا اور طوق و زنجیر میں قید کر کے گھسیٹا جانا، اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے کسی بندے پر ظلم کیا ہو “۔ (10)

5۔ شہادت سے چند دن پہلے اسلامی فوج کے سامنے آپؑ کی زندگی کے آخری خطبہ کا ذکرکرتے ہوئے آپؑ کے صحابی نوف بکالی آپؑ کا حلیہ یوں بیان کرتے ہیں :

آپؑ کوفہ میں ایک پتھر پر کھڑے تھے، آپؑ کے جسم پر اونی لباس تھا، تلوار کا نیام کھجور کے پتوں کا تھا اور پیروں میں جوتے بھی کھجور کے پتوں کے تھے اور سجدوں کی وجہ سے پیشانی یوں معلوم ہوتی تھی جیسے اونٹ کے گھٹنے پرکا گھٹا“۔ (11)

ہاں یہ ہیں اسلامی حکومت کے حکمران اور یہ ہے ان کی ذاتی زندگی۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو تعلیماتِ قرآن اور سیرتِ مصطفی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہمیں ذاتی و معاشرتی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی سعادت عطا کرے۔

وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى
مقبول حسین علوی
مرکز افکارِ اسلامی پاکستان

حکمرانی کے آفاقی اصول

نام کتاب حکمرانی کے آفاقی اصول
شرح مکتوب نہج البلاغہ: عہد نامہ حضرت علیؑ بنام مالک اشتر
تاریخ اشاعت: فروری 2026ء، شعبان المعظم 1446ھ
طبع: دوم
پیشکش: مرکز افکار اسلامی، پاکستان
صفحات: 64
ملک: پاکستان
زبان: اردو
کتاب ملنے کا پتہ جامعہ جعفریہ، جنڈ، ضلع اٹک
فون: 0302-5230406

آن لائن پڑھیں

ڈاؤن لوڈ کریں

مرکز افکار اسلامی کی مزید مطبوعات یہاں دیکھیں

حوالہ جات

[1] سورۂ مائدہ، آیت 8
[2] ملاحظہ فرمائیں: (The biogaraghi of Allama Rasheed turabi in his own vice)
[3] ندائے عدالتِ انسانی، جورج جرداق، ص 188
[4] اقوام متحدہ ویب سائٹ،گفتگو کوفی عنان،۹ دسمبر 1997ء
[5] United Nations Development Programme (UNDP), Arab human development report 2002: Box 7.3, p. 107
[6] نہج البلاغہ، مکتوب 53، ترجمہ مولوی عبدالرزاق خان ملیح آبادی، ص 819
[7] نہج البلاغہ، مکتوب 25
[8] نہج البلاغہ، مکتوب 27
[9] نہج البلاغہ، مکتوب 45
[10] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 221
[11] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 180

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button