مقالات

نہج البلاغہ اور معاشرتی اقدار کی حفاظت

مقالہ نگار: مبین فاطمہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

خلاصہ

زیرِ نظر مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں معاشرتی اقدار کے تصور، ان کی معنویت اور ان کے تحفظ کے عملی پہلوؤں کا جامع و تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ نہج البلاغہ، جو امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ اقوال پر مشتمل ہے، انسانی فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست کے لیے ایک مکمل اخلاقی و سماجی ضابطۂ حیات فراہم کرتا ہے۔ اس مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح نہج البلاغہ فرد کی اصلاحِ نفس سے آغاز کر کے سماجی روابط، معاشی عدل، حکمرانی کے اصول اور عالمی انسانی اقدار تک ایک متوازن اور ہمہ گیر اخلاقی نظام پیش کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں پائے جانے والے اخلاقی زوال اور معاشرتی انتشار کے تناظر میں نہج البلاغہ کی تعلیمات کی عصری افادیت کو نمایاں کرتے ہوئے یہ مقالہ ثابت کرتا ہے کہ نہج البلاغہ ہر دور کے لیے ایک زندہ اور مؤثر رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
کلیدی الفاظ: نہج البلاغہ، معاشرتی اقدار، اخلاقی تربیت، اصلاحِ معاشرہ، عدلِ اجتماعی، انسانی حقوق، اسلامی سماجی فکر

تمہید

انسانی معاشرہ محض افراد کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ اقدار، اصولوں اور اخلاقی ضابطوں کے ایک منظم نظام سے تشکیل پاتا ہے۔ جب معاشرتی اقدار مضبوط ہوتی ہیں تو معاشرہ امن، عدل اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اور جب یہی اقدار کمزور پڑ جائیں تو انتشار، ظلم اور اخلاقی زوال جنم لیتا ہے۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جن معاشروں نے اپنے اخلاقی اصولوں کی حفاظت کی وہ باوقار رہے اور جنہوں نے ان سے انحراف کیا وہ زوال کا شکار ہوئے۔

اسلام نے معاشرتی اقدار کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، اور قرآنِ مجید کے بعد جس کتاب نے ان اقدار کی جامع، عملی اور فکری تشریح پیش کی ہے وہ نہج البلاغہ ہے۔ یہ کتاب حضرت امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور حکیمانہ اقوال کا مجموعہ ہے، جو فرد کی اصلاح سے لے کر ریاستی نظم تک معاشرتی اقدار کے تحفظ کا واضح لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے۔

باب اوّل: نہج البلاغہ کا تعارف اور فکری اہمیت

نہج البلاغہ کو سید رضیؒ نے چوتھی صدی ہجری میں مرتب کیا۔ اس کا نام ہی اس کی فکری عظمت کا مظہر ہے، یعنی "بلاغت کا راستہ”۔ یہ کتاب محض ادبی شاہکار نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی، سماجی اور سیاسی دستور ہے۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت عابد، مجاہد، حاکم، معلم اور مصلح کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے ان کا کلام زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

باب دوم: معاشرتی اقدار کا مفہوم اور نہج البلاغہ

معاشرتی اقدار سے مراد وہ اصول، اخلاقی ضابطے اور رویّے ہیں جو افراد کے باہمی تعلقات کو منظم کرتے ہیں، جیسے عدل و انصاف، احترامِ انسانیت، صداقت، امانت اور مساوات۔ نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام ان اقدار کو وحیِ الٰہی اور انسانی تجربات کی روشنی میں واضح کرتے ہیں اور بدعت، اخلاقی انحطاط اور بے اقداری سے خبردار کرتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں:
وَ اعْلَمُوْا عِبَادَ اللهِ! اَنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْتَحِلُّ الْعَامَ مَا اسْتَحَلَّ عَامًا اَوَّلَ، وَ یُحَرِّمُ الْعَامَ مَا حَرَّمَ عَامًا اَوَّلَ، وَ اَنَّ مَاۤ اَحْدَثَ النَّاسُ لَا یُحِلُّ لَكُمْ شَیْئًا مِّمَّا حُرِّمَ عَلَیْكُمْ، وَ لٰكِنَّ الْحَلَالَ مَاۤ اَحَلَّ اللهُ، وَ الْحَرَامَ مَا حَرَّمَ اللهُ، فَقَدْ جَرَّبْتُمُ الْاُمُوْرَ وَ ضَرَّسْتُمُوْهَا، وَ وُعِظْتُمْ بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَ ضُرِبَتِ الْاَمْثَالُ لَكُمْ، وَ دُعِیتُمْ اِلَی الْاَمْرِ الْوَاضِحِ، فَلَا یَصَمُّ عَنْ ذٰلِكَ اِلَّاۤ اَصَمُّ، وَ لَا یَعْمٰی عَنْ ذٰلِكَ اِلَّاۤ اَعْمٰی. (1)
خد اکے بندو! یاد رکھو کہ مومن اس سال بھی اسی چیز کو حلال سمجھتا ہے جسے پار سال حلال سمجھ چکا ہے اور اس سال بھی اسی چیز کو حرام کہتا ہے جسے گزشتہ سال حرام کہہ چکا ہے اور یاد رکھو کہ لوگوں کی پیدا کی ہوئی بدعتیں ان چیزوں کو جو خدا کی طرف سے حرام ہیں حلال نہیں کر سکتیں،بلکہ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال کیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ تم تمام چیزوں کو تجربہ و آزمائش سے پرکھ چکے ہو اور پہلے لوگوں سے تمہیں پند و نصیحت بھی کی جا چکی ہے اور (حق و باطل کی) مثالیں بھی تمہارے سامنے پیش کی جا چکی ہیں اور واضح حقیقتوں کی طرف تمہیں دعوت دی جا چکی ہے۔ اب اس آواز کے سننے سے قاصر وہی ہو سکتا ہے جو واقعی بہرا ہو اور اس کے دیکھنے سے معذور وہی سمجھا جا سکتا ہے جو اندھا ہو۔

نہج البلاغہ کےاس اقتباس میں قدر کیلئے حلال،حق،واضح حقیقت اورتجربات سے و نصایح سے حاصل ہونے والی بشریت کے لئے مفید چیزیں اقدار شمار ہوتی ہیں اور جو چیزیں ان کے خلاف ہوں وہ اقدار کے خلاف بے اقداری، اخلاقی زوال،بد اقداری، اخلاقی انحطاط کہلاتی ہے۔

امام علیہ السلام اقدار پر قائم رہنے والوں اور اقدار سے دورجانے والوں کو ان الفاظ میں متعارف کراتے ہیں:
وَ مَنْ لَّمْ یَنْفَعْهُ اللهُ بِالْبَلَآءِ وَ التَّجَارِبِ لَمْ یَنْتَفِعْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْعِظَةِ، وَاَتَاهُ التَّقْصِیْرُ مِنْ اَمَامِهٖ، حَتّٰی یَعْرِفَ مَاۤ اَنْكَرَ، وَ یُنْكِرَ مَا عَرَفَ.وَاِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: مُتَّبِـعٌ شِرْعَةً، وَ مُبْتَدِعٌۢ بِدْعَةً لَّیْسَ مَعَهٗ مِنَ اللهِ سُبْحَانَهٗ بُرْهَانُ سُنَّةٍ وَّ لَا ضِیَآءُ حُجَّةٍ. (2)
اور جسے اللہ کی آزمائشوں اور تجربوں سے فائدہ نہ پہنچے وہ کسی پند و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسے زیاں کاریاں ہی درپیش ہوں گی، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھا اور اچھی باتوں کو برا سمجھے گا۔ چونکہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک شریعت کے پیروکار اور دوسرے بدعت ساز کہ جن کے پاس نہ سنت پیغمبرؑ کی کوئی سند ہوتی ہے اور نہ دلیل وبرہان کی کوئی روشنی۔

معاشرتی اقدار کا دائرہ وسیع، ہمہ گیر اور ہمہ زمانی ہے جو فرد سے لے کر ریاست تک پھیلا ہوا ہے۔

باب سوم: فردی سطح پر معاشرتی اقدار

نہج البلاغہ کے مطابق معاشرتی اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ تزکیۂ نفس، قناعت، حیا، صبر، تقویٰ، ذمہ داری اور خود احتسابی وہ بنیادی اقدار ہیں جو فرد کو صالح اور معاشرے کو مستحکم بناتی ہیں۔ امام علی علیہ السلام کے حکیمانہ اقوال فرد کی اخلاقی تعمیر کا جامع نقشہ پیش کرتے ہیں۔

معاشرتی اقدار کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ جب فرد اخلاقی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

بغیر صالح فرد کے صالح معاشرہ ممکن نہیں۔
مِنْهُ هَرَبَ، وَ یَفُوْتُهُ الْغِنَى الَّذِىْ اِیَّاهُ طَلَبَ، فَیَعِیْشُ فِی الدُّنْیَا عَیْشَ الْفُقَرَآءِ، وَ یُحَاسَبُ فِی الْاٰخِرَةِ حِسَابَ الْاَغْنِیَآءِ. وَ عَجِبْتُ لِلْمُتَكَبِّرِ الَّذِیْ كَانَ بِالْاَمْسِ نُطْفَةً وَّ یَكُوْنُ غَدًا جِیْفَةً. وَ عَجِبْتُ لِمَنْ شَكَّ فِی اللهِ، وَ هُوَ یَرٰى خَلْقَ اللهِ. وَ عَجِبْتُ لِمَنْ نَسِیَ الْمَوْتَ، وَ هُوَ یَرَى الْمَوْتٰى. وَ عَجِبْتُ لِمَن اَنْكَرَ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى، وَ هُوَ یَرَى النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى. وَ عَجِبْتُ لِعَامِرِ دَارِ الْفَنَآءِ، وَ تَارِكِ دَارِ الْبَقَآءِ!. (3)
مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوشحالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا۔

اور مجھے تعجب ہوتا ہے متکبر و مغرور پر کہ جو کل ایک نطفہ تھا اور کل کو مردار ہو گا۔
اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے۔
اور تعجب ہے اس پر کہ جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔
اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے۔
اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔

آخرکار آپ ساری فردی اقدار کا خلاصہ ان دو باتوں میں کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مَا خَیْرٌۢ بِخَیْرٍۭ بَعْدَهُ النَّارُ، وَ مَا شَرٌّۢ بِشَرٍّۭ بَعْدَهُ الْجَنَّةُ، وَ كُلُّ نَعِیْمٍ دُوْنَ الْجَنَّةِ فَہُوَ مَحْقُوْرٌ، وَ كُلُّ بَلَآءٍ دُوْنَ النَّارِ عَافِیَةٌ. (4)
وہ بھلائی قدر شمار نہیں جس کے بعد دوزخ کی آگ ہو، اور وہ برائی قدر تک رسائی میں مانع نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ جنت کے سامنے ہر نعمت حقیر اور دوزخ کے مقابلہ میں ہر مصیبت راحت ہے۔

یاۤ اَیُّهَا الْاِنْسَانُ! مَا جَرَّاَكَ عَلٰی ذَنْۢبِكَ، وَ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ، وَ مَاۤ اٰنَسَكَ بِهَلَكَةِ نَفْسِكَ؟ اَمَا مِنْ دَآئِكَ بُلُوْلٌ، اَمْ لَیْسَ مِنْ نَّوْمَتِكَ یَقَظَةٌ؟ اَمَا تَرْحَمُ مِنْ نَّفْسِكَ مَا تَرْحَمُ مِنْ غَیْرِكَ؟ فَلَرُبَّمَا تَرَی الضَّاحِیَ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ فَتُظِلُّهٗ، اَوْ تَرَی الْمُبْتَلٰی بِاَلَمٍ یُّمِضُّ جَسَدَهٗ فَتَبْكِیْ رَحْمَةً لَّهُ!، فَمَا صَبَّرَك عَلٰی دَآئِكَ، وَ جَلَّدَكَ عَلٰی مُصَابِكَ، وَ عَزَّاكَ عَنِ الْبُكَآءِ عَلٰی نَفْسِكَ وَ هِیَ اَعَزُّ الْاَنْفُسِ عَلَیْكَ! وَ كَیْفَ لَا یُوْقِظُكَ خَوْفُ بَیَاتِ نِقْمَةٍ، وَ قَدْ تَوَرَّطْتَ بِمَعَاصِیْهِ مَدَارِجَ سَطَوَاتِهٖ!. (5)
اے انسان! تجھے کس چیز نے گناہ پر دلیر کر دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکا دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنی تباہی پر مطمئن بنا دیا ہے؟ کیا تیرے مرض کیلئے شفا اور تیرے خواب (غفلت) کیلئے بیداری نہیں ہے؟کیا تجھے اپنے پر اتنا بھی رحم نہیں آتا جتنا دوسروں پر ترس کھاتا ہے؟ بسا اوقات تو جلتی دھوپ میں کسی کو دیکھتا ہے تو اس پر سایہ کر دیتا ہے یا کسی کو درد و کرب میں مبتلا پاتا ہے تو اس پر شفقت کی بنا پر تیرے آنسو نکل پڑتے ہیں، مگر خود اپنے روگ پر کس نے تجھے صبر دلایا ہے؟ اور کس نے تجھے اپنی مصیبتوں پر توانا کر دیا ہے اور خود اپنے اوپر رونے سے تسلی دے دی ہے؟ حالانکہ سب جانوں سے تجھے اپنی جان عزیز ہے اور کیونکر عذاب الٰہی کے رات ہی کو ڈیرے ڈال دینے کا خطرہ تجھے بیدار نہیں رکھتا؟ حالانکہ تو اپنے گناہوں کی بدولت اس کے قہر و تسلط کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔

حلم کے متعلق فرمایا: اَوَّلُ عِوَضِ الْحَلِیْمِ مِنْ حِلْمِهٖ اَنَّ النَّاسَ اَنْصَارُهٗ عَلَى الْجَاهِلِ. (6)
بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہو جاتے ہیں۔
حلم و بردباری جیسی قدر کو معاشرہ میں عام کرنے کے لئے آپ نے نہایت مفید ہدایت فرمائی :
اِنْ لَّمْ تَكُنْ حَلِیْمًا فَتَحَلَّمْ، فَاِنَّهٗ قَلَّ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ اِلَّاۤ اَوْشَكَ اَنْ یَّكُوْنَ مِنْهُمْ. (7) اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر بردبار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و بردبار نہ ہو تو اسے بردبار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی اُفتادِ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے۔ اگرچہ اسے طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہو گی، مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صورت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی، کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعتِ ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔
یہاں تک یہ بات روشن ہوئی کہ انسان ذاتی طور پر پہلے اقدار کو کردار بنالے جب فرد تہذیبی اقدار سے آراستہ ہوجائے گا تو معاشرہ ان اقدار کا خوگر ہوہی جائے گا اور فرد کے عملی اقدام سے اقدار کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

باب چہارم: خاندان کے دائرے میں معاشرتی اقدار

خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ والدین کا احترام، صلہ رحمی، تربیتِ اولاد اور باہمی تعاون خاندان کو مضبوط بناتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں خاندان کے حقوق، اولاد کی صحیح تربیت اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک پر خصوصی زور دیا گیا ہے، کیونکہ خاندان کی اصلاح کے بغیر معاشرتی استحکام ممکن نہیں۔

امیرکائنات خاندان سے وابستہ رہنے کی طرف متوجہ فرماتے ہیں:
اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّهٗ لَا یَسْتَغْنِی الرَّجُلُ وَ اِنْ كَانَ ذَا مَالٍ عَنْ عَشِیْرَتِهٖ، وَ دِفَاعِهِمْ عَنْهُ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَلْسِنَتِهِمْ، وَ هُمْ اَعْظَمُ النَّاسِ حِیْطَةً مِّنْ وَّرَآئِهٖ وَ اَلَمُّهُمْ لِشَعَثِهٖ، وَ اَعْطَفُهُمْ عَلَیْهِ عِنْدَ نَازِلَةٍ اِذَا نَزَلَتْ بِهٖ. (8)
اے لوگو! کوئی شخص بھی اگرچہ وہ مالدار ہو اپنے قبیلہ والوں اور اس امر سے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اس کی حمایت کریں بے نیاز نہیں ہو سکتا اور وہی لوگ سب سے زیادہ اس کے پشت پناہ اور اس کی پریشانیوں کو دور کرنے والے اور مصیبت پڑنے کی صورت میں اس پر شفیق و مہربان ہوتے ہیں۔

لَا لَا یَعْدِلَنَّ اَحَدُكُمْ عَنِ الْقَرَابَةِ یَرٰى بِهَا الْخَصَاصَةَ اَنْ یَّسُدَّهَا بِالَّذِیْ لَا یَزِیْدُهٗ اِنْ اَمْسَكَهٗ وَ لَا یَنْقُصُهٗ اِنْ اَهْلَكَهٗ، وَ مَنْ یَّقْبِضْ یَدَهٗ عَنْ عَشِیْرَتِهٖ، فَاِنَّمَا تُقْبَضُ مِنْهُ عَنْهُمْ یَدٌ وَّاحِدَةٌ، وَ تُقْبَضُ مِنْهُمْ عَنْهُ اَیْدٍ كَثِیْرَةٌ، وَ مَنْ تَلِنْ حَاشِیَتُهٗ یَسْتَدِمْ مِنْ قَوْمِهِ الْمَوَدَّةَ. (9)
دیکھو تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائے تو ان کی احتیاج کو اس امداد سے دور کرنے میں پہلو تہی نہ کرے جس کے روکنے سے یہ کچھ بڑھ نہ جائے گا اور صرف کرنے سے اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ جو شخص اپنے قبیلے کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے تو اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت پڑنے پر بہت سے ہاتھ اس کی مدد سے رُک جاتے ہیں۔ جو شخص نرم خو ہو وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔

امام علی علیہ السلام خاندان کی معاشرتی اقدار کےتحفظ میں عملی کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ حضرتؑ کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دی اور غیر معتبر قدر کی پیروی کرتے ہوئے خاندان کے جدید رکن کا تعارف کراتا ہے تو امام نے اس کی اصلاح کی اور درست قدر کا تعارف کرایا:

وَ هَنَّاَ بِحَضْرَتِه عَلَیْهِ السَّلَامُ رَجُلٌ رَجُلًۢا بِغُلَامٍ وُّلِدَ لَهٗ، فَقَالَ لَهٗ: لِیُهْنِئْكَ الْفَارِسُ. فَقَالَ عَلَیْهِ السّلَامُ: لَا تَقُلْ ذٰلِكَ، وَ لٰكِنْ قُلْ: شَكَرْتَ الْوَاهِبَ، وَ بُوْرِكَ لَكَ فِی الْمَوْهُوْبِ، وَ بَلَغَ اَشُدَّهٗ، وَ رُزِقْتَ بِرَّهٗ. (10)
حضرتؑ کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ: ’’شہسوار مبارک ہو‘‘! جس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ:یہ نہ کہو! بلکہ یہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے، یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو! یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو!۔

وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ لِبَعْضِ اَصْحَابِه: لَا تَجْعَلَنَّ اَكْثَرَ شُغُلِكَ بِاَهْلِكَ وَ وَلَدِكَ: فَاِنْ یَّكُنْ اَهْلُكَ وَ وَلَدُكَ اَوْلِیَآءَ اللهِ، فَاِنَّ اللهَ لَا یُضِیْعُ اَوْلِیَآءَه، وَ اِنْ یَكُوْنُوْاۤ اَعْدَآءَ اللهِ، فَمَا هَمُّكَ وَ شُغُلُكَ بِاَعْدَآءِ اللهِ؟!. 

امام علی علیہ السلام نےاپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا:
زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لئے کہ اگر وہ دوستانِ خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا، اور اگر دشمنانِ خدا ہیں تو تمہیں دشمنانِ خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔
اولاد کے حق میں قدورں کی حفاظت کے لئے فرمایا:

فَحَقُّ الْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ أَنْ يُطِيعَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ؛ وَ حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُحَسِّنَ اسْمَهُ وَ يُحَسِّنَ أَدَبَهُ وَ يُعَلِّمَهُ الْقُرْآنَ. (11)
باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر بات میں اس کی اطاعت کرے۔ اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے، اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے۔

یعنی خاندان کی توسیع اولاد کے وجود سے ہے اور اولاد کو اقدار سکھانا باپ کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اولاد کو باپ سے ملنےوالی شریعت پسند اقدار پر عمل کرنا اقدار کی تحفظ کی ضمانت ہے۔

باب پنجم: سماجی تعلقات اور باہمی رویّے

پڑوسیوں، دوستوں، ساتھیوں اور عام انسانوں سے حسنِ سلوک معاشرتی امن کی بنیاد ہے۔ نہج البلاغہ میں ہمسائیگی، ہمدردی، تعاون، رواداری اور اختلافِ رائے کے اخلاق کو اعلیٰ معاشرتی اقدار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

امام فرماتے ہیں:
وَ لَقَدْ اَحْسَنْتُ جِوَارَكُمْ، وَ اَحَطْتُ بِجُهْدِی مِنْ وَّرَآئِكُمْ، وَ اَعْتَقْتُكُمْ مِنْ رِّبَقِ الذُّلِّ، وَ حَلَقِ الضَّیْمِ، شُكْرًا مِّنِّیْ لِلْبِرِّ الْقَلِیْلِ، وَ اِطْرَاقًا عَمَّاۤ اَدْرَكَهُ الْبَصَرُ، وَ شَهِدَهُ الْبَدَنُ، مِنَ الْمُنْكَرِ الْكَثِیْرِ. (12)
میں تمہارا اچھا ہمسایہ بن کر رہا اور اپنی طاقت بھر تمہاری نگہداشت و حفاظت کرتا رہا اور تمہیں ذلت کے پھندوں اور ظلم کے بندھنوں سے آزاد کیا۔ (یہ صرف) تمہاری تھوڑی سی بھلائی کا شکریہ ادا کرنے اور تمہاری بہت سی ایسی برائیوں سے چشم پوشی برتنے کیلئے کہ جو میری آنکھوں کے سامنے اور میری موجودگی میں ہوتی تھیں۔

ہمسائیگی کی قدر کا تحفظ یوں تو آپ نے اپنے عمل سے دکھایا ہے مگر یہ ہمارے لئے روشن رہنمائی ہے۔
اس سلسلہ میں دوسری جگہ مزید فرماتے ہیں: فَمَنْ اٰتَاهُ اللهُ مَالًا فَلْیَصِلْ بِهِ الْقَرَابَةَ، وَ لْیُحْسِنْ مِنْهُ الضِّیَافَةَ، وَ لْیَفُكَّ بِهِ الْاَسِیْرَ وَ الْعَانِیَ، وَ لْیُعْطِ مِنْهُ الْفَقِیْرَ وَ الْغَارِمَ، وَ لْیَصْبِرْ نَفْسَهٗ عَلَی الْحُقُوْقِ وَ النَّوَآئِبِ ابْتِغَآءَ الثَّوَابِ، فَاِنَّ فَوْزًۢا بِهٰذِهِ الْخِصَالِ شَرَفُ مَكَارِمِ الدُّنْیَا، وَ دَرْكُ فَضَآئِلِ الْاٰخِرَةِ، اِنْ شَآءَ اللهُ. (13)
چاہیے تو یہ کہ اللہ نے جسے مال دیا ہے وہ اس سے عزیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، خوش اسلوبی سے مہمان نوازی کرے، قیدیوں اور خستہ حال اسیروں کو آزاد کرائے، محتاجوں اور قرضداروں کو دے اور ثواب کی خواہش میں حقوق کی ادائیگی اور مختلف زحمتوں کو اپنے نفس پر برداشت کرے۔ اس لئے کہ ان خصائل و عادات سے آراستہ ہونا دنیا کی بزرگیوں سے شرفیاب ہونا اور آخرت کی فضیلتوں کو پا لینا ہے۔ ان شاء اللہ!

امیرالمومنین علیہ السلام بصرہ میں اپنے ایک صحابی علاء ابن زیاد حارثی کے ہاں عیادت کیلئے تشریف لے گئے تو اس کے گھر کی وسعت کو دیکھ کر فرمایا:
مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِسَعَةِ هٰذِهِ الدَّارِ فِی الدُّنْیَا، اَمَا اَنْتَ اِلَیْهَا فِی الْاٰخِرَةِ كُنْتَ اَحْوَجَ؟ وَ بَلٰۤی اِنْ شِئْتَ بَلَغْتَ بِهَا الْاٰخِرَةَ: تَقْرِیْ فِیْهَا الضَّیْفَ، وَ تَصِلُ فِیْهَا الرَّحِمَ، وَ تُطْلِعُ مِنْهَا الْحُقُوْقَ مَطَالِعَهَا، فَاِذَاۤ اَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ بِهَا الْاٰخِرَةَ. (14)
تم دنیا میں اس گھر کی وسعت کو کیا کرو گے؟ درآنحالیکہ آخرت میں تم گھر کی وسعت کے زیادہ محتاج ہو (کہ جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے)۔ ہاں! اگر اس کے ساتھ تم آخرت میں بھی وسیع گھر چاہتے ہو تو اس میں مہمانوں کی مہمان نوازی، قریبیوں سے اچھا برتاؤ اور موقع و محل کے مطابق حقوق کی ادائیگی کرو۔ اگر ایسا کیا تو اس کے ذریعے آخرت کی کامرانیوں کو پالو گے۔

تعاون اور ہمدردی سےمتعلق نہج البلاغہ میں کتنی عظیم تعلیم دی گئی ہے آپ فرماتے ہیں:
لَا یُزَهِّدَنَّكَ فِی الْمَعْرُوْفِ مَنْ لَّا یَشْكُرُهٗ لَكَ، فَقَدْ یَشْكُرُكَ عَلَیْهِ مَنْ لَّا یَسْتَمْتِـعُ بِشَیْءٍ مِّنْهُ، وَ قَدْ تُدْرِكُ مِنْ شُكْرِ الشَّاكِرِ اَكْثَرَ مِمَّاۤ اَضَاعَ الْكَافِرُ، (15)
کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزار نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بد دل نہ بنا دے۔ اس لئے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہارا حق ضائع کیا ہے اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی حاصل کر لو گے،

ایک اچھا شہری بنے رہنے کی طرف آپ یوں ہدایت کرتے ہیں:
لَیْسَ بَلَدٌۢ بِاَحَقَّ بِكَ مِنْۢ بَلَدٍ، خَیْرُ الْبِلَادِ مَا حَمَلَكَ. (16) تمہارے لئے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں، (بلکہ) بہترین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔
اس سطح پر دیگر اقداربھی اہم ہیں جیسے:برداشت اور رواداری،عدل و انصاف،خیر خواہی،اختلافِ رائے کا اخلاق ،یہ اقدار معاشرتی امن کو برقرار رکھتی ہیں۔ مگر مقالہ کے طویل ہونے کے خوف سے ان سے گریز کیا جارہا ہے ۔ ان میں کا ہر ایک موضوع مستقل مقالہ کا متقاضی ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے نہج البلاغہ میں معاشرتی اقدار کی حفاظت پر مکمل روشنی ملتی ہے۔

باب ششم: معاشی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اقدار

معاشی انصاف، دیانت دار تجارت، حلال کمائی، مزدوروں کے حقوق اور استحصال سے اجتناب نہج البلاغہ کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام کے فرامین معاشی معاملات میں عدل و احسان کو معاشرتی اقدار کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
دیانت دار تجارت کے بارے میں فرمایا: مَنِ اتَّجَرَ بِغَیْرِ فِقْهٍ فَقَدِ ارْتَطَمَ فِی الرِّبَا.
جو شخص احکام فقہ کے جانے بغیر تجارت کرے گا وہ رِبا میں مبتلا ہو جائے گا۔
بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: هُمُ الَّذِیْنَ اِذَا اجْتَمَعُوْا غَلَبُوْا، وَ اِذَا تَفَرَّقُوْا لَمْ یُعْرَفُوْا.
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں اور جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔
وَ قِیْلَ: بَلْ قَالَ ؑ:
ایک قول یہ ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ:
هُمُ الَّذِیْنَ اِذَا اجْتَمَعُوْا ضَرُّوْا، وَ اِذَا تَفَرَّقُوْا نَفَعُوْا.
جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
فَقِیْلَ: قَدْ عَرَفْنَا مَضَرَّةَ اجْتِمَاعِهِمْ، فَمَا مَنْفَعَةُ افْتِرَاقِهِمْ؟ فَقَالَ:
لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپؑ نے فرمایا کہ:
یَرْجِعُ اَصْحَابُ الْمِهَنِ اِلٰى مِهَنِهِمْ، فَیَنْتَفِـعُ النَّاسُ بِهِمْ، كَرُجُوْعِ الْبَنَّآءِ اِلٰى بِنَآئِهٖ، وَ النَّسَّاجِ اِلٰى مَنْسَجِهٖ، وَ الْخَبَّازِ اِلٰى مَخْبَزِهٖ. (17)
پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر) عمارت کی طرف، جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔

ساجھے کے کاروبار سے متعلق فرمایا:شَارِكُوا الَّذِیْ قَدْ اَقْبَلَ عَلَیْهِ الرِّزْقُ، فَاِنَّهٗۤ اَخْلَقُ لِلْغِنٰى، وَ اَجْدَرُ بِاِقْبَالِ الْحَظِّ عَلَیْهِ. جس کی طرف فراخ روزی رخ کئے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرکت کرو، کیونکہ اس میں دولت حاصل کرنے کا زیادہ امکان اور خوش نصیبی کا زیادہ قرینہ ہے۔

لین دین خدائی ہو تو یوں سمجھو: مَنْ یُعْطِ بِالْیَدِ الْقَصِیْرَةِ یُعْطَ بِالْیَدِ الطَّوِیْلَةِ. (18) جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔

معاشی انصاف کو یوں سمجھو: اَلْعَدْلُ الْاِنْصَافُ، وَ الْاِحْسَانُ التَّفَضُّلُ. (19) ’’عدل‘‘ انصاف ہے اور ’’احسان‘‘ لطف و کرم۔
معاشی انصاف کے بغیر معاشرتی اقدار ادھوری رہتی ہیں۔

باب ہفتم: تعلیمی ادارے، میڈیا اور فکری تربیت

تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرتی اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ علم کے ساتھ اخلاق، تحقیق، ذمہ داری اور سچائی کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ نہج البلاغہ میں علم، ادب اور فکر کو انسانی ارتقاء کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

معلم اقدار علم و ادب جیسی اقدار کا تعارف یوں فرماتے ہیں: وَ الْعِلْمُ وِرَاثَۃٌ كَرِیْمَةٌ، وَ الْاٰدَابُ حُلَلٌ مُّجَدَّدَةٌ، وَ الْفِكْرُ مِرْاٰةٌ صَافِیَةٌ. (20)
اور علم شریف ترین میراث ہے، اور علمی و عملی اوصاف نو بنو خلعت ہیں، اور فکر صاف و شفاف آئینہ ہے۔

امام فرماتے ہیں: كُلُّ وِعَآءٍ یَّضِیْقُ بِمَا جُعِلَ فِیْهِ اِلَّا وِعَآءَ الْعِلْمِ، فَاِنَّهٗ یَتَّسِعُ. (21) ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔

آپ پڑھے لکھے لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلنَّاسُ اَعْدَآءُ مَا جَهِلُوْا. (22)
لوگ جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں علم کے ساتھ اخلاق، نظم و ضبط، احترامِ استاد، تحقیق کا شعور اور سماجی ذمہ داری پیدا کی جاتی ہے۔
استاد کے احترام سے متعلق فرمایا:
لَا تَجْعَلَنَّ ذَرَبَ لِسَانِكَ عَلٰى مَنْ اَنْطَقَكَ، وَ بَلَاغَةَ قَوْلِكَ عَلٰى مَنْ سَدَّدَكَ. (23)
جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو، اور جس نے تمہیں راہ پر لگایا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت ِگفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔

میڈیا جدید معاشرے میں اقدار سازی کا طاقتور ذریعہ ہے۔ سچائی، ذمہ داری، شائستگی اور اخلاقی حدود کا خیال رکھنا اس دائرے میں شامل ہے۔ غلط، نفرت انگیز یا فحش مواد معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔

حَقٌّ وَّ بَاطِلٌ، وَ لِكُلٍّ اَهْلٌ، فَلَئِنْ اَمِرَ الْبَاطِلُ لَقَدِیْمًا فَعَلَ، وَ لَئِنْ قَلَّ الْحَقُّ فَلَرُبَّمَا وَ لَعَلَّ، وَ لَقَلَّمَاۤ اَدْبَرَ شَیْءٌ فَاَقْبَلَ. (24)
ایک حق ہوتا ہے اور ایک باطل اور کچھ حق والے ہوتے ہیں، کچھ باطل والے۔ اب اگر باطل زیادہ ہو گیا تو یہ پہلے بھی بہت ہوتا رہا ہے اور اگر حق کم ہو گیا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد باطل پر چھا جائے۔ اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی چیز پیچھے ہٹ کر آگے بڑھے۔

هَلَكَ مَنِ ادَّعٰى، وَ خَابَ مَنِ افْتَرٰى، مَنْ اَبْدٰى صَفْحَتَهٗ لِلْحَقِّ هَلَكَ،
جس نے (غلط) ادّعا کیا وہ تباہ و برباد ہوا اور جس نے افترا باندھا وہ ناکام و نامراد رہا ۔ جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے تباہ ہو جاتا ہے

باب ہشتم: ریاست، قانون اور عالمی انسانی دائرہ

ریاست عدل، مساوات، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی محافظ ہوتی ہے۔ نہج البلاغہ میں عادل حکمرانی کو معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر احترامِ انسانیت، امن اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اعلیٰ انسانی اقدار ہیں۔

ریاست میں عدل و سخاوت اہم عنصر شمار کئے جاتے ہیں آپؑ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا کہ:
اَلْعَدْلُ یَضَعُ الْاُمُوْرَ مَوَاضِعَهَا، وَ الْجُوْدُ یُخْرِجُهَا مِنْ جِهَتِهَا، وَ الْعَدْلُ سَآئِسٌ عَامٌّ، وَ الْجُوْدُ عَارِضٌ خَاصٌّ، فَالْعَدْلُ اَشْرَفُهُمَا وَ اَفْضَلُهُمَا.

عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے۔ عدل سب کی نگہداشت کرنے والا ہے اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔
آپ ریاست کے تقدس کو یوں بیان فرماتے ہیں: اَلْوِلَایَاتُ مَضَامِیْرُ الرِّجَالِ. (25) حکومت لوگوں کیلئے آزمائش کا میدان ہے۔
حکومت اور ریاست اگر حق کی ہو تو مخالفین کی بھیڑ سے خوف نہیں کھانا چاہئے:

خاتمہ

نہج البلاغہ معاشرتی اقدار کی حفاظت کا ایک ہمہ گیر اور دائمی نظام پیش کرتی ہے۔ فرد کی اصلاح سے لے کر عالمی انسانی سطح تک، یہ کتاب ہر دور کے انسان کو اخلاقی، سماجی اور فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ عصرِ حاضر کے مسائل کا حل بھی نہج البلاغہ کی تعلیمات میں واضح طور پر موجود ہے، بشرطیکہ ان پر خلوصِ نیت سے عمل کیا جائے۔

حوالہ جات

[1] نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۴۔
[2] نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۴۔
[3] نہج البلاغہ، حکمت ۱۲۶۔
[4] نہج البلاغہ، حکمت ۳۸۷۔
[5] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۲۰۔
[6] نہج البلاغہ، حکمت ۲۰۶۔
[7] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۷۔
[8] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳،پیراگراف ۴۔
[9] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳،پیراگراف ۵۔
[10] نہج البلاغہ، حکمت ۳۵۴۔
[11] نهج البلاغه، حکمت ۳۹۹
[12] نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۷۔
[13] نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۱۔
[14] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۷۔
[15] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۴۔
[16] نہج البلاغہ، حکمت ۴۴۲۔
[17] نہج البلاغہ، حکمت ۴۴۷۔
[18] نہج البلاغہ، حکمت ۲۳۲۔
[19] نہج البلاغہ، حکمت ۲۳۱۔
[20] نہج البلاغہ، حکمت ۴۔
[21] نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۵۔
[22] نہج البلاغہ، حکمت ۴۳۸۔
[23] نہج البلاغہ، حکمت ۴۱۱۔
[24] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۶۔
[25] نہج البلاغہ، حکمت ۴۴۱۔

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button