
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
تمہید
اسلام میں کسی جماعت سے وابستگی کا معیار صرف نام، نسب یا نعرہ نہیں ہوتا۔ قرآن کریم نے بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ نجات کا مدار ایمان اور عمل پر ہے:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا
بے شک جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے فردوس کے باغات مہمانی ہوں گے۔ (1)
رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں سب سے زیادہ جس ہستی کے ساتھ محبت اور اتباع کا دعویٰ کیا گیا وہ امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالبؑ ہیں۔ مگر حضرت علیؑ نے خود یہ واضح فرما دیا کہ ان کی شیعیت کا دعویٰ کرنے والا ہر شخص حقیقت میں ان کا پیروکار نہیں۔
نہج البلاغہ میں جگہ جگہ آپؑ نے "حقیقی شیعہ” کی صفات بیان کی ہیں اور یہ بتایا ہے کہ محض زبانی اقرار کافی نہیں، بلکہ کردار، اخلاق، عدل، تقویٰ اور اللہ سے تعلق ہی وہ کسوٹی ہے جس پر شیعہ کو پرکھا جاتا ہے۔
یہ مضمون نہج البلاغہ کے خطبات، خطوط اور حکمت آمیز کلمات کی روشنی میں حقیقی شیعہ کی پہچان کو آٹھ بنیادی محور میں بیان کرے گا:
۱۔ شیعہ کا مفہوم
۲۔ اخلاقی معیار
۳۔ سماجی و سیاسی کردار
۴۔ روحانی حالت
۵۔ عبادت اور اخلاص
۶۔ غلط فہمیوں کا رد
۷۔ عملی راستہ
۸۔ معاصر دور میں اطلاق
۱۔ نہج البلاغہ کی روشنی میں ”شیعہ“ کا مفہوم
لفظ ”شیعہ“ لغوی طور پر پیروکار، حامی اور جماعت کے معنی میں آتا ہے۔ اصطلاحاً اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت علیؑ اور اہل بیتؑ کی محبت، عقیدت اور اتباع میں ان کے ساتھ وابستہ ہیں۔
لیکن حضرت علیؑ نے شیعہ کی تعریف کو محبت کے جذباتی اظہار تک محدود نہیں رکھا۔ خطبہ ۳ میں خلافت کے بارے میں فرمایا:
أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَهَا فُلَانٌ وَإِنَّهُ لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى… فَمَا رَاعَنِي إِلَّا وَالنَّاسُ كَعُرْفِ الضَّبُعِ إِلَيَّ يَنْثَالُونَ عَلَيَّ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ
"خدا کی قسم! فلاں نے خلافت کا کرتا پہن لیا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس میں میرا مقام چکی کے محور کی مانند ہے… مجھے سب سے زیادہ تعجب اس وقت ہوا جب لوگ بھیڑیوں کے غول کی طرح ہر طرف سے میری طرف ٹوٹ پڑے۔(2)
یہاں آپؑ نے واضح کیا کہ حقیقی شیعہ وہ ہے جو منصب، دنیا اور طاقت کے پیچھے نہ بھاگے، بلکہ حق اور عدل کے ساتھ کھڑا ہو، چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو جائے۔
اسی طرح خط ۴۵ میں، جب آپؑ کو اطلاع ملی کہ آپ کے گورنر عثمان بن حنیف نے ایک دعوت میں شرکت کی جس میں غریبوں کو نظر انداز کیا گیا، تو آپؑ نے فرمایا:
أَلَا وَإِنَّ إِمَامَكُمْ قَدِ اكْتَفَى مِنْ دُنْيَاهُ بِطِمْرَيْهِ، وَمِنْ طُعْمِهِ بِقُرْصَيْهِ
"خبردار! تمہارا امام دنیا سے دو پرانے کپڑوں اور دو لقمہ روٹی پر قناعت کیے ہوئے ہے۔”(3)
یہ سادگی، بے رغبتی اور قناعت رہبر کی زندگی کا نمونہ ہے۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو اس نمونہ کو اپنائے۔ صرف زبانی محبت کا دعویٰ، عمل کے بغیر، آپؑ کے نزدیک بے معنی ہے۔
خطبہ ۲۷ میں آپؑ فرماتے ہیں:
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالْأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِهِ
"لوگوں میں انبیاء کے سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان کی لائی ہوئی تعلیم کو سب سے بہتر جانتا ہو۔” (4)
یعنی اتباع علم اور عمل دونوں کا نام ہے۔
۲۔ اخلاقی معیار: حقیقی شیعہ کی سب سے بڑی نشانی
نہج البلاغہ میں سب سے جامع اور تفصیلی بیان خطبہ ۱۹۳ "خطبہ المتقین” میں ملتا ہے۔ ہمام نامی ایک صحابی نے آپؑ سے متقین کی صفات بیان کرنے کی درخواست کی۔ آپؑ نے سو سے زائد صفات بیان کیں اور آخر میں فرمایا کہ یہی میرے شیعہ ہیں۔
الف۔ سچائی، امانت اور زبان پر کنٹرول
متقی کا پہلا وصف یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھتا ہے اور اپنی ہمت کو اطاعت پر لگاتا ہے:
فَالْمُتَّقِي هُوَ الَّذِي حَجَزَ نَفْسَهُ عَنِ الشَّهَوَاتِ، وَقَصَرَ هِمَّتَهُ عَلَى الطَّاعَاتِ
"پرہیزگار وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روک رکھا اور اپنی ہمت کو اطاعت پر لگا دیا۔” (5)
حقیقی شیعہ جھوٹ نہیں بولتا، غیبت نہیں کرتا، طعن و تشنیع نہیں کرتا۔ خطبہ ۱۹۱ میں صفین کے موقع پر جب اصحاب نے شامیوں کو گالیاں دیں تو آپؑ نے روکا:
إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ، وَلَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وَأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ
"مجھے ناپسند ہے کہ تم گالی دینے والے بنو، بلکہ اگر تم ان کے اعمال بیان کرو اور ان کی حالت کا ذکر کرو تو یہ قول میں
زیادہ درست اور عذر میں زیادہ بلیغ ہوگا۔”(6)
ب۔ غصے اور خوشی میں عدل
حکمت ۲۰۱ میں آپؑ نے حقیقی شیعہ کی تعریف ان الفاظ میں کی:
الشِّيعَةُ هُمُ الَّذِينَ إِذَا غَضِبُوا لَمْ يَظْلِمُوا، وَإِذَا رَضُوا لَمْ يُسْرِفُوا
"میرے شیعہ وہ ہیں کہ جب غصہ آئے تو ظلم نہ کریں، اور جب خوش ہوں تو حد سے نہ گزریں۔” (7)
یہی فرق ہے حقیقی اور نام نہاد شیعہ میں۔ محبتِ علیؑ کا تقاضا یہ نہیں کہ دوسروں پر ظلم کیا جائے۔ عدل ہر حال میں باقی رہنا چاہیے۔
ج۔ تکبر سے اجتناب اور انکساری
خطبہ ۲۳۴ میں آپؑ نے تکبر کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا:
إِيَّاكَ وَالْكِبْرَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ الذُّنُوبِ وَأَلْأَمُ الْعُيُوبِ
"تکبر سے بچو، کیونکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔” (8)
حقیقی شیعہ خود کو اللہ کا بندہ سمجھتا ہے، اس لیے وہ کسی پر فخر نہیں کرتا۔ وہ دوسروں کے ساتھ عاجزی سے پیش آتا ہے۔
خطبہ ۲۳ میں فرمایا:
مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ
"جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے، اللہ اسے بلند کرتا ہے۔”(9)
د۔ دنیا سے بے رغبتی اور قناعت
خطبہ ۱۷۶ میں دنیا کو "دار ممر” قرار دے کر آپؑ فرماتے ہیں:
الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ
"دنیا گزرنے کی جگہ ہے، رہنے کی جگہ نہیں۔” (10)
حقیقی شیعہ دنیا کو مقصد نہیں بناتا، بلکہ اسے آخرت کا زادِ راہ سمجھتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دل کو دنیا سے خالی رکھتا ہے۔
خطبہ ۸۳ میں فرمایا:
الزُّهْدُ كُلُّهُ بَيْنَ كَلِمَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ… فَمَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا فَقَدْ زَالَ عَنْهُ أَعْظَمُ الْبَلَاءِ
"زہد دو کلمات کے درمیان ہے… جو دنیا سے بے رغبت ہو گیا، وہ سب سے بڑی بلا سے بچ گیا۔”(11)
۳۔ سماجی و سیاسی کردار: فعال شہریت اور عدل کا علمبردار
حضرت علیؑ نے شیعہ کو غیر فعال تماشائی نہیں بنایا، بلکہ معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کا حکم دیا۔
الف۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا
خط ۵۳، جو مالک اشتر کو گورنری کے آداب کے بارے میں ہے، اس میں آپؑ نے حکومت کا بنیادی اصول بیان کیا:
كُنْ لِلظَّالِمِ خَصْماً وَلِلْمَظْلُومِ عَوْناً
"ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنو۔” (12)
یہ اصول حکمرانوں اور عوام دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔ حقیقی شیعہ ظلم دیکھ کر خاموش نہیں رہتا، چاہے ظالم اپنا ہو یا غیر۔ وہ کمزوروں کی آواز بنتا ہے۔
خطبہ ۲۷ میں فرمایا:
فَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ
"ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو واضح دلائل آنے کے بعد تفرقہ اور اختلاف میں پڑ گئے۔”(13)
ب۔ سماجی ذمہ داری اور خدمت خلق
خطبہ ۲۱۶ میں آپؑ نے گذشتہ اقوام کی ہلاکت کی وجہ بیان کی:
فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِطُولِ آمَالِهِمْ وَتَضْيِيعِهِمْ أَعْمَالَهُمْ
"تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی آرزوئیں لمبی تھیں اور وہ اپنے عمل ضائع کرتے رہے۔” (14)
حقیقی شیعہ نیکی میں تاخیر نہیں کرتا، خدمت کرتا ہے، معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔ وہ صرف عبادت گاہوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بازار، عدالت اور گلی کوچے میں بھی دین کا نمونہ پیش کرتا ہے۔
ج۔ معاشی عدل اور امانت داری
کوئی بھی گورنر مقرر کرتے وقت آپؑ تاکید کرتے:
وَلْيَكُنْ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَكَ سَوَاءً
"لوگوں کے معاملات تمہاری نظر میں برابر ہونے چاہئیں۔” (15)
خط ۲۶ میں مصر کے عامل مالک اشتر کو لکھا:
فَإِنَّ النَّاسَ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، وَإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ
"لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا خلقت میں تمہارے ہم جنس۔” (16)
حقیقی شیعہ رشوت، دھوکہ اور استحصال سے دور رہتا ہے۔ وہ بیت المال کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں سمجھتا۔
۴۔ روحانی حالت: شیعہ کا باطن اور اللہ سے تعلق
ظاہری عمل کے ساتھ باطن کی صفائی بھی ضروری ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ نے دل کی حالت پر بہت زور دیا ہے۔
الف۔ خوف و امید کا توازن
خطبہ ۱۹۳ میں متقین کے بارے میں فرمایا:
قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ وَشُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ
"ان کے دل غمگین ہوتے ہیں، لیکن لوگ ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔”(17)
حقیقی شیعہ اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ یہ توازن اسے نہ مایوس ہونے دیتا ہے نہ غافل۔
ب۔ ذکرِ الٰہی، مناجات اور شب بیداری
حکمت ۲۲۰ میں آپؑ فرماتے ہیں:
ذِكْرُ اللَّهِ مُطْرِدَةُ الشَّيْطَانِ
"اللہ کا ذکر شیطان کو بھگا دیتا ہے۔” (18)
شیعہ کا دل خالی نہیں ہوتا، وہ ذکر، فکر اور دعا سے آباد ہوتا ہے۔ مناجات شعبانیہ، دعائے کمیل، دعائے صباح جیسی دعائیں اس کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ خطبہ ۱۹۳ میں فرمایا:
يُحْيُونَ اللَّيْلَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ
"وہ رات کو قرآن کی تلاوت سے زندہ رکھتے ہیں۔”(19)
ج۔ محاسبہ نفس اور توبہ
خطبہ ۹۰ میں آپؑ نے ایک اہم اصول بیان کیا:
حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا
"اپنا حساب خود کر لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔” (20)
حقیقی شیعہ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ سونے سے پہلے سوچتا ہے کہ آج اس نے کیا کمایا اور کیا کھویا۔
خطبہ ۱۵۹ میں فرمایا:
التَّوْبَةُ تَغْسِلُ الْحَوْبَةَ
"توبہ گناہ کو دھو دیتی ہے۔”(21)
۵۔ عبادت اور اخلاص: ریاکاری سے پاک عمل
حقیقی شیعہ کی عبادت ریاکاری سے پاک ہوتی ہے۔ خطبہ ۲۰۸ میں آپؑ نے ان لوگوں کی مذمت کی جو قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کے خلاف عمل کرتے ہیں:
رُبَّ قَارِئٍ لِلْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ يَلْعَنُهُ
"بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا ہے۔”(22)
عبادت کا مقصد اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ لوگوں میں نام بنانا۔ خطبہ ۱۹۳ میں فرمایا:
عَمَلُهُمْ خَالِصٌ، وَأَمَلُهُمْ قَصِيرٌ
"ان کا عمل خالص ہوتا ہے، اور ان کی امید مختصر ہوتی ہے۔”(23)
حقیقی شیعہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کو محض رسم نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے ذریعے نفس کی تربیت کرتا ہے۔
خطبہ ۱۹۹ میں فرمایا:
الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ
"نماز ہر پرہیزگار کی قربانی ہے۔”(24)
۶۔ شیعہ ہونے کے بارے میں عام غلط فہمیاں اور ان کا رد
حضرت علیؑ جانتے تھے کہ لوگ دعویٰ کریں گے لیکن عمل نہیں کریں گے۔ اس لیے انہوں نے تین بڑی غلط فہمیوں کا رد کیا:
الف۔ نسب اور خاندان کا دھوکہ
خطبہ ۱۹۲ میں آپؑ فرماتے ہیں:
لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ مُؤْمِناً حَتَّى يَكُونَ لِنَفْسِهِ أَشَدَّ مُحَاسَبَةً مِنَ الشَّرِيكِ لِشَرِيكِهِ
"مومن مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے نفس کا محاسبہ اپنے شریک سے بھی زیادہ سخت نہ کرے۔”(25)
نسب کوئی کام نہیں آئے گا۔ ابولہب نبیؐ کے چچا تھے، مگر قرآن میں ملعون قرار پائے۔ شیعہ ہونا خاندانی وراثت نہیں، بلکہ عملی انتخاب ہے۔
ب۔ نعروں اور علامات کا دھوکہ
حکمت ۳۴۵ میں آپؑ نے ایک تلخ حقیقت بیان کی:
كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ
"حق کا کلمہ، جس سے باطل مراد لیا جائے۔” (26)
"یا علی” کہہ کر علیؑ کے طریقے کے خلاف چلنا، مظلوموں پر ظلم کرنا، جھوٹ بولنا، یہ سب اسی قبیل سے ہے۔ نعرہ حق ہے، مگر نیت اور عمل باطل ہے۔
ج۔ رسوم و عبادات کا دھوکہ
خطبہ ۲۰۸ میں آپؑ نے ان لوگوں کی مذمت کی جو قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کے خلاف عمل کرتے ہیں:
رُبَّ قَارِئٍ لِلْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ يَلْعَنُهُ
"بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا ہے۔” (27)
عبادت بغیر اخلاق کے بے فائدہ ہے۔ نماز، روزہ، زیارت اگر انسان کو متکبر، بخیل اور ظالم بنا دے تو وہ عبادت نہیں، ریاکاری ہے۔
۷۔ حقیقی شیعہ بننے کے عملی اقدامات نہج البلاغہ کی روشنی میں
حضرت علیؑ نے صرف تنقید نہیں کی، بلکہ ایک عملی راستہ بھی دکھایا۔
1۔ علم حاصل کرو اور سمجھو
خطبہ 110 میں آپؑ فرماتے ہیں:
تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ فَإِنَّ تَعَلُّمَهُ حَسَنَةٌ
"علم حاصل کرو، کیونکہ اس کا سیکھنا نیکی ہے۔” (28)
نہج البلاغہ کو صرف برکت کے لیے رکھ دینا کافی نہیں۔ اسے پڑھو، سمجھو، اس پر غور کرو۔ علم کے بغیر اتباع اندھی تقلید بن جاتی ہے۔
2۔ علم پر عمل کرو
حکمت 36 میں آپؑ فرماتے ہیں:
الْعِلْمُ مَقْرُونٌ بِالْعَمَلِ
"علم عمل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔” (29)
پڑھ کر عمل نہ کرنا علم کو قیامت کے دن وبال بنا دیتا ہے۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو سمجھے، اس پر عمل کرے۔
3۔ نیک صحبت اختیار کرو
خط 69 میں آپؑ نے امام حسنؑ کو وصیت کی:
صَاحِبِ الْمُؤْمِنِ تُؤْمِنُ
"مومن کی صحبت اختیار کرو، تم محفوظ رہو گے۔” (30)
ماحول انسان کو بناتا اور بگاڑتا ہے۔ اگر تمہارے دوست جھوٹے، غیبت کرنے والے اور دنیا پرست ہیں تو تم بھی انہی جیسے بن جاؤ گے۔
4۔ توبہ اور تجدید کرو
خطبہ 159 میں آپؑ فرماتے ہیں:
التَّوْبَةُ تَغْسِلُ الْحَوْبَةَ
"توبہ گناہ کو دھو دیتی ہے۔”(31)
کوئی معصوم نہیں۔ فرق یہ ہے کہ حقیقی شیعہ جلدی اللہ کی طرف لوٹتا ہے۔ وہ گناہ پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ فوراً توبہ کرتا ہے۔
5۔ موت اور آخرت کی یاد
خطبہ 9 میں آپؑ نے موت کی تیاری پر زور دیا:
تَجَهَّزُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ فَقَدْ نُودِيَ فِيكُمْ بِالرَّحِيلِ
"تیاری کرو، خدا تم پر رحم کرے، تمہیں کوچ کا حکم ہو چکا ہے۔”(32)
موت کی یاد انسان کو سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ وہ فضول کاموں، لغو باتوں اور دنیا کی دوڑ سے نکل کر اصل مقصد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
٨۔ معاصر دور میں اطلاق
آج کا دور فتنوں، میڈیا، فرقہ واریت اور مادیت کا دور ہے۔ ایسے میں نہج البلاغہ کی تعلیمات پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
1۔ سوشل میڈیا پر: حقیقی شیعہ گالی نہیں دیتا، بہتان نہیں لگاتا، فرقہ واریت نہیں پھیلاتا۔ خطبہ 191 اس کا اصول ہے۔
2۔ سیاست میں: وہ عدل کا ساتھ دیتا ہے، چاہے وہ اس کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ خط 53 اس کا منشور ہے۔
3۔ معیشت میں: وہ حرام سے بچتا ہے، امانت داری کرتا ہے، محتاجوں کا خیال رکھتا ہے۔ خط 26 اور 27 میں عاملوں کو دی گئی ہدایات اس کی رہنمائی ہیں۔
4۔ اخلاق میں: وہ نرم خو، حلیم، بردبار اور عفو کرنے والا ہوتا ہے۔ حکمت 201 اس کا آئینہ ہے۔
5۔ عبادت میں: وہ ریا سے بچتا ہے، اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے۔ خطبہ 208 اس کی تنبیہ ہے۔
6۔ تعلیم و تربیت میں: وہ خود بھی سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔ خطبہ 110 اس کی ترغیب ہے۔
نتیجہ: دعویٰ نہیں، کردار بولتا ہے
نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ حضرت علیؑ نے شیعہ ہونے کو ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی مقام بنا دیا ہے۔ یہ مقام کسی کو مفت میں نہیں ملتا۔ اس کے لیے نفس سے جہاد، دنیا سے بے رغبتی، عدل پر استقامت اور اللہ سے تعلق ضروری ہے۔
خطبہ 193 کے آخر میں آپؑ کا یہ جملہ ہر دعویدار کے لیے ایک چیلنج ہے:
لَوْ لَمْ تَكُونُوا كَذَلِكَ لَكُنْتُمْ عِنْدِي كَذِباً
"اگر تم ایسے نہ ہوئے تو میرے نزدیک جھوٹے ہو۔”(33)
لہٰذا حقیقی شیعہ وہ ہے جو علیؑ کی سیرت کا جیتا جاگتا نمونہ بنے۔ اس کی زبان، ہاتھ، دل، کاروبار، سیاست اور گھر سب علیؑ کے رنگ میں رنگے ہوں۔ اس سے کم ہر دعویٰ بے گواہ ہے، اور ہر محبت بے ثمر ہے۔
ام علیؑ نے ہمیں شناخت کا معیار دیا ہے۔ اب فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم نعرے کے شیعہ بنیں یا عمل کے۔
حوالہ جات
[1] نہج البلاغہ، مطبوعہ افکارِ اسلامی، 193: خطبہ المتقین[2] نہج البلاغہ، مطبوعہ افکارِ اسلامی، خطبہ 3: خلافت اور حق کی پہچان ۔ ص 26
[3] نہج البلاغہ، مطبوعہ افکارِ اسلامی، خطبہ 45:
[4] نہج البلاغہ، مطبوعہ افکارِ اسلامی، خطبہ27: انبیاء کے تعلیم۔ ص62
[5] نہج البلاغہ، مطبوعہ افکارِ اسلامی، خطبہ 193: پرہیز گار کے بفارے میں۔ ص305-316
[6] خطبہ 191: گالی گلوچ سے ممانعت ۔ص301
[7] حکمت 201 غصے اور خوشی میں عدل۔ ص551
[8] خطبہ 234: تکبر سے بچو۔ ص 371
[9] عاجزی سے پیش آنا ۔ ص59
[10] خطبہ 176: دنیا کی حقیقت دار ممر۔ ص280
[11] خطبہ 83: دنیا سے بے رغبتی۔ ص137
[12] خط 53: مالک اشتر کو ہدایت نامہ، حکومت اور عدل کے اصول۔ جلد1، ص427-447
[13] خطبہ 27: گورنروں کو ہدایت۔ ص62
[14] خطبہ 216: گزشتہ اقوام کی ہلاکت کی وجہ۔ ص345
[15] معاشی عدل ص 394
[16] خطبہ 26 گورنروں کو ہدایات۔ص394
[17] خطبہ 193: متقین کے بارے میں۔ص395-316
[18] حکمت 220: ذکر الہی۔ص55
[19] خطبہ 193: ذکر الہی اور مناجات ۔ص305-316
[20] خطبہ 90: محاسبہ نفس ۔ ص154
[21] خطبہ 159: توبہ ۔ ص258
[22] خطبہ 208: قران کو پڑھنا اور اس کے خلاف عمل کرنا۔ ص335
[23] خطبہ 193: عبادت کا مقصد اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ ص305-316
[24] خطبہ 199: نماز۔ ص326
[25] خطبہ 192: نسب اور خاندان۔ ص303
[26] حکمت 345: حق کا کلمہ۔ ص575
[27] خطبہ 208: اخلاق کے بغیر عبادت۔ ص 335
[28] خطبہ 110: علم کی فضیلت۔ ص189
[29] حکمت 36: علم اور عمل کا تعلق ۔ص 506
[30] خطبہ 69: نیک صحبت اختیار کرو۔ ص467
[31] خطبہ 159: توبہ۔ ص258
[32] خطبہ 9: موت اور اخرت کی تیاری۔ ص45
[33] خطبہ 193: ص 305-316




