
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
تمہید
شخصیت سازی ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں فرد اپنی صلاحیتوں، عادات اور رویوں کو بہتر بناتا ہے تاکہ وہ ایک کا میاب زندگی بسر کر سکیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ایک دستور ہے جو انسان کی نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی زندگی کی بھی اصلاح کے لیے جامع اصول و قواعد فراہم کرتا ہے۔دیگر مذاہب کی نسبت اسلام نے ہمیشہ انسان کی تربیت، اخلاقی بلندی اور شخصیت سازی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل کو اسلام بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اسے معاشرے کا مستقبل قرار دیتا ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی اور زوال کا دارومدار اس کی نئی نسل یعنی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان صحیح تربیت کی جائے، ان کی شخصیت سازی کئ جائےتو وہ معاشرے کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں یوں وہ معاشرہ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، لیکن اگر ان کی شخصیت سازی نہ کہ جائے، تربیت صحیح نہ ہو تو معاشرہ اخلاقی و فکری زوال کے ساتھ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاریخ شاھد ہے کہ ہنر مند اور صالح نوجوانوں نے ہی صالح معاشرے کو تشکیل دے دیا ہے ، اسی طرح ایک مفسد معاشرہ مفسد نوجوانوں کے ہاتھوں ہی وجود میں آتا ہے۔ پس اس لیے ضروری ہے کہ ہم نسل نو کی شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دیں، اسی طرح ہم ایک پر امن معاشرے کو بھی تشکیل دے سکتے ہیں، اور دنیا کو بھی پر امن بنا سکتے ہیں۔جو کہ آج کے وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس نسل نو کی شخصیت سازی کیسے کریں؟ کس کی طرف رجوع کریں؟ کیا ایسا کوئی ماخذ و منبع ہے کہ جو نسل نو کی تربیت و شخصیت سازی کے لیے جامع اصول و قواعد فراہم کریں؟
جی ہاں! اسلامی تعلیمات میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے جو عظیم سرچشمہ ہمیں ملتا ہے وہ قرآن مجید ہے، کہ جو نازل ہی انسانوں کی تعلیم و تربیت کی غرض سے ہوئی ہے، قران مجید کے بعد نہج البلاغہ ہے، جو کہ امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب کے خطبات، خطوط اور حکمتوں کا مجموعہ ہے ۔ نہج البلاغہ ایک انسان ساز کتاب ہے، ایک شخصیت ساز کتاب ہے۔ اس کتاب کو اسلامی دنیا میں قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ فصیح و بلیغ کلام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک علمی معجزہ سے کم نہیں ہے، آج تک انسان اس کے برابر کوئی دوسری کتاب پیش کرنے سے عاجز ہے۔کہ جس کتاب میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں یعنی پیدائش سے لے کر موت تک گہری اور جامع رہنمائی موجود ہے اسکے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور ماخذ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کی شخصیت سازی کے لیے نہج البلاغہ میں ایسے اصول و قواعد بیان کیے گئے ہیں جو ایک صالح، متوازن، باکردار اور باصلاحیت انسان تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ایسا انسان کہ جو اس دنیا فانی میں سعادت و سرخروئی کے ساتھ زندگی گزارے اور اس جہاں میں بھی سر بلند رہے۔
آئیں اب ہم دیکھتے ہیں مولا المتقیان امیر المؤمنین اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ہم ا سکے لیےچند ذیلی عناوین کا سہارا لیتے ہیں؛
1۔ قران الکریم سے تمسک
امام فرماتے ہیں کہ: و اللہ اللہ فی القرآن
قران کے بارے میں ڈرتے رہنا ایسا نہ ہو کہ غیر اس قران پر عمل کرنے میں تم سے سبقت لے جائیں۔
حوالہ: مکتوب 47
اللہ تعالی نے انسانوں کو خلق فرمایا، ساتھ ان کی ہدایت کا بھی بہترین انتظام فرمایا، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام بھیجا ان میں سے کچھ کو اولو العزم قرار دیا ان پر صحیفے اور کتابیں بھی نازل فرمایا۔ ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد صبح قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے جو آپ ﷺ پر شب قدر کے دن نازل کی گئی ہے۔ قران مجید ہدایت کی کتاب ہے جو سیدھے راستے کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے، لہذا جو شخص اس سے تمسک اختیار کرے گا اس کے مطابق اپنی زندگی کے دن و رات گزارے گا وہ ایک کامیاب انسان ہے۔ قران مجید انسان کو گمراہی اور تاریکی سے نجات دلاتا ہے۔
پس نسل نو کی شخصیت سازی کے لئے ضروری ہے کہ نسل نو کو سب سے پہلے قرآن مجید جو خالق کون و مکان کی طرف سے ایک خاص عطا ہے، معرفت دی جائے۔ کیونکہ انسان ہر صورت اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہے۔ امیر المومینن بھی یہی ارشاد فرما رہے ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن سے تمسک ضروری ہے، خواہ وہ شخصیت سازی ہو یا معاشرہ سازی یا کوئی اور شعبہ فرق نہیں اس میں ایک انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق جامع پدایات موجود ہیں، جو کہ رب العالمین اللہ تعالی کی طرف سے ہیں کہ جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
قران میں شخصیت سازی کے نہایت آسان اور جامع اصول بیان ہوئے ہیں۔
قران میں ہے کہ
الا بالذکر اللہ تطمئن القلوب
قرآن میں خالق کائنات نے اپنی ذکر کو دلوں کے سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ سکون قلب سے بہتر کائی دولت نہیں ہے ، اور وہ یاد خدا میں ہے۔ یہ روحانی تعلق انسان کے دل کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ کیونکہ یہ انسان اپنی خلقت میں صرف مادی نہیں ہے کہ اسے یہ مادیات یا دنیاوی رنگینیاں اسے سکون بخشیں،بلکہ سکون انسان تب ہی محسوس کرتا ہے جب وہ ذکر خدا سے اپنے دن و رات کو معمور کریں، مزین کریں۔ شخصیت سازی کے لئے سکون قلب نہایت ضروری ہے۔
امام علیہ السلام بھی فرماتے ہیں:نھج البلاغہ میں آیا ہے کہ
العربية: جعل الذِكْر جلاء للْقُلُوبِ
ترجمہ: اللہ کا ذکر دلوں کے لیے نور ہے جلا دینے والا ہے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 222
یہ تعلیم انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ حقیقی سکون اللہ کی یاد میں ہے، نہ کہ دنیا اور اس کہ رنگینیوں میں۔ یہ دنیا دھوکہ ہے قرآن اسے ایک بہترین تعبیر میں یوں پیش کرتا ہے کہ
انما الدنیا لھو و لعب
یہ دنیاوی زندگی کھیل و تماشہ ہے، یہ سکون چھین لیتی ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ انسان ذات باری تعالیٰ سے تعلق برقرار رکھ کر سکون حاصل کرتا رہے۔
قرآن میں آیا ہے کہ
ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
جو بھی اللہ پر بھروسہ کرتا، اس کے لئے اللہ کافی ہے۔ اس عارضی و فانی دنیا میں ایک مرد مومن کا سب سے طاقتور ہتھیار توکل ہے۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
توکل علی اللہ یعنی اس ذات سے وابستگی جو بے پایاں قدرت و کمال کا مالک ہے، اسکے خزانے میں کوئی کمی نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ تعلیم انسان کو اس یقین تک پہنچاتی ہے کہ اس کی مشکلات کا حقیقی حل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نہج البلاغہ میں ذہنی سکون کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ توکل انسان کو خوف اور اضطراب سے نجات دلاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ حالات جیسے بھی ہوں وہ پر سکون رہتا ہے، کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں آیا ہے۔
آئیں دیکھتے ہیں امام علیؑ کیا ارشاد فرماتے ہیں:
العربية: لَا تَيْأَسْ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ
ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 377
دراصل یہ قرآنی آیت ہے امام نے بھی اسے ایسے ہی بیان فرمایا ہے۔بعض مصادر میں مایوسی کو کفر قرار دیا ہے۔ ایک بندہ مومن کبھی بھی اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہوتا ہے وہ ہمیشہ پر امید رہتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز کا مالک اللہ ہے، عہی ہے جس کی ہاتھ میں زندگی اور موت ہے۔ یہ تعلیم انسان کے دل میں امید پیدا کرتی ہے اور اسے مشکلات کے باوجود مثبت رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔مایوسی ذہنی پریشانیوں کو بڑھا دیتی ہے۔ جبکہ قرآن اور نہج البلاغہ انسان کو امید اور حوصلے کی تعلیم دیتی ہے، اسطرح وہ انسان کو مضبوط بناتی ہے۔ کیونکہ ایک مضبوط انسان ہی اپنی شخصیت سازی کے مراحل طے کر سکتا ہے۔ پس شخصیت سازی کے باب میں ان ملکوتی اصولوں کو فراموش نہیں کی جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی ان کے بغیر شخصیت سازی ممکن ہے۔ گویا یہ شخصیت سازی کی بنیادے اصول ہیں۔
2۔ نہج البلاغہ کی تربیتی و علمی اہمیت
نہج البلاغہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ امام علیؑ نے انسان کو ایک باوقار اور باعزت مخلوق قرار دیا اور اس کی شخصیت کو سنوارنے کے لیے مختلف اصول بیان کیے۔ جیسے کہ
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: "قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ”
ترجمہ: ہر انسان کی قدر و قیمت اس چیز سے پہچانی جاتی ہے جس میں وہ مہارت رکھتا ہے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 81
یہ قول نوجوانوں کو گویا شخصیت سازی کا درس دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اپنی شخصیت کو علم، ہنر اور اخلاق کے ذریعے نکھاریں، کیونکہ ہر انسان کی قدر و قیمت اس چیز سے پہچانی جاتی ہے جس میں وہ مہارت رکھتا ہے، جو انسان جس چیز میں مہارت رکھتا ہے اس کی قیمت بھی اتنی ہے۔ انسان جیسا وجود رکھتا ہوگا ایسا ہی اس کی قیمت و ارزش ہوگی ایک عالم کی اہمیت اتنی ہے جتنا وہ علم رکھتا ہے ، یعنی انسان کی قیمت اسکے ہنر میں ہے، اسکے علم میں ہے جو وہ رکھتا ہے۔اسی طرح ایک جاہل کی قیمت اس کے جھل کے حساب سے ہے۔ہم دیکھتے ہین ہمارے معاشرے میں بھی وہی لوگ صاحب عزت ہیں جو علم رکھتے ہیں ہنر رکھتے ہیں۔ اور جو اپنی شخصیت سازی نہ کرے تو علم و ہنر سے عاری انسان کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہے، لوگ تو لوگ اپنے عزیز و اقارب بھی اسے دور بھاگتے ہیں، حتی اسے سلام تک نہیں کیا جاتا ہے۔
پس مولا کے اس قول سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی نظر اور لوگوں کی نظر میں با فضلیت بینا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم خوب علم حاصل کریں، علم سے اپنے اپ کو اس طرح سے آراستہ کریں کہ علم ہی ہماری شخصیت کا جز بن جائیں ہماری پہچان بن جائیں۔
علم کے متعلق مولا امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ، الْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وَأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ
ترجمہ: علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی حفاظت تمہیں خود کرنی پڑتی ہے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 147
شخصیت سازی کا سب سے بہترین ہتھیار علم و دانش ہے،نہج البلاغہ میں علم کو انسان کی سب سے بڑی طاقت اور عظمت قرار دیا گیا ہے۔ امام علیؑ کے نزدیک علم انسان کو عزت، کمال اور بلندی عطا کرتا ہے جبکہ جہالت انسان کو پستی میں لے جاتی ہے۔علم انسان کو پرواز کرنا سکھاتا ہے۔ علم انسان کو دونوں جہانوں میں سعادت مند بناتا ہے۔
اس قول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوان نسل کو اپنی زندگی میں علم کو اولین ترجیح دینی چاہیے، یعنی علم کو ہی اپنی زندگی کا عظیم ترین مقصد قرار دینا چاہئے، کیونکہ علم نہ صرف انسان کی فکری نشوونما کرتا ہے بلکہ اس کی شخصیت کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ یہ علم ہی ہے کہ جس کی بدولت انسان دیگر مخلوقات سے بے نیاز ہوتا ہے، لیکن اگر انسان علم سے اپنے اپ کو آراستہ نہ کریں تو اس انسان اور دیگر مخلوقات میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ اسی لئے اسلام میں حصول علم کو فرض قرار دیا گیا ہے کاور اسکے حصول کے لئے نکلنے والوں کو مجاہد فی سبیل اللہ قرار دیا ہے، اسے عبادت کا درجہ دیا ہے کہ جس کی وجہ سے انسان دونوں جہانوں میں سرخرو ہو سکتا ہے۔
علم کی فضلیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ ایک عالم شخص ہی اسلام کے سنہرے اصولوں و قواعد کو سمجھ کر اس پر کاربند رہ سکتا ہے۔ ایک عالم ہی اخلاقی اقدار کو جان کر ان سے آراستہ ہو سکتا ہے،اخلاق کیا ہے ؟ اسکی ارزش و اہمیت کتنی ہے ایک عالم سے بہتر بھلا کون جانتا ہوگا۔ ہم یہاں اخلاق کی بات اسلیے بھی کر رہے ہیں کہ اخلاق ہی وہ شئ ہے کہ جسے رسول خدا ﷺ نے اپنی رسالت کا مقصد قرار دیا ہے ، اچھے اخلاق کے بغیر شخصیت سازی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اخلاق کیا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں مولائے کائنات کیا ارشاد فرماتے ہیں؛
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: وبحُسْنُ الْخُلُقِ نعیما
ترجمہ: اچھا اخلاق انسان کے لئے نعمت ہے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 38
نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اخلاق کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ نہج البلاغہ میں اخلاقی اقدار کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ امام علیؑ نے سچائی، دیانت، صبر اور عاجزی جیسے اوصاف کو بہترین انسانی صفات قرار دیا ہے۔ اخلاق ایک گراں بہاں طاقت ہے کہ جس کے زریعے ایک انسان تمام عالم انسانیت کو تسخیر کر سکتا ہے۔یہ تعلیم نوجوانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ اپنی شخصیت میں اخلاقی خوبیاں پیدا کریں کیونکہ اخلاق ہی انسان کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ اخلاق ہی وہ ساتھی ہے کہ جو کبھی بھی انسان سے جدا نہیں ہوتی ہے، ہر حال میں اس کے ساتھ ہے ۔ اسکے علاوہ دیگر صفات جیسے علم، حسن اور شجاعت ہر لحظہ انسان کے ساتھ نہیں رہتی ہیں۔
مولا فرما رہے ہیں کہ اچھا اخلاق انسان کے لئے ایک نعمت ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس دنیا میں وہ اس کا ساتھ دے گا ار آخرت میں بھی اسے تنہا نہیں چھوڈے گا۔ پس شخصیت سازی میں اچھے اخلاق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔
3۔ زہد و تقوی کی نصحیت:
نہج البلاغہ میں تقویٰ کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: أُوصِيكُمْ عباد اللہ بِتَقْوَى اللَّهِ
ترجمہ: میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی نصیحت کرتا ہوں۔
حوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ 81
تقوی کیا ہے؟ ہمارے جید علما سادہ لفظوں میں تقوی کی یاں تعریف کرتے ہیں کہ اللہ کے مقرر کردہ واجبات کو بجا لانا اور محرمات سے باز رہنا تقوی کہلاتا ہے۔ اور اسی تقوی کو عبادات کا روح قرار دیا ہے، یعنی عبادات تب مقبول ہوں گے جب تقوی کے اصولوں کے مطابق انجام دئیں جائیں۔
زھد کی تعریف میں آیا ہے کہ دنیا سے بے رغبتی ، دنیا کے فریبوں سے دنیا کے رنگینیوں سے دھوکہ نہ کھانا اور ہر حال میں اپنے حقیقی مالک و خالق کو یاد کرتے رہنا۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: أَلَا وَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ ولت حذآء، وَإِنَّ الْآخِرَةَ قَدْ اقبلت
ترجمہ: خبردار! دنیا رخصت ہو رہی ہے اور آخرت ہماری طرف آ رہی ہے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ 42
شخصیت سازی کے عمل میں دنیا شناسی اور آخرت شناسی کا یہم کردار ہے۔یہ کلام انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھنے اور اپنی زندگی کو متوازن بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ جو شخص دنیا کے اس حقیقت سے آگاہ ہو وہ دنیا سے کبھی بھی دل نہیں لگائے گا، اسی دنیا کے خاطر وہ اپنا ذھنی سکون خراب نہیں کرے گا۔ شخصیت سازی کے لئے ضروری ہے کہ انسان دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہو، اور دنیا کو ایسے گزارے جیسے ایک گزرنے والی اور فانی چیز کو گزارا جاتا ہے۔ ایک مضبوط شخصیت کا مالک انسان نہ دنیا کے چیزوں کے چھن جانے پر غمگین ہوتا ہے اور نہ ان کے ملنے پر خوش ہاتا ہے۔ وہ دونوں حالتوں میں خدا کی یاد میں رہتا ہے اور صبر و شکر گزاری کے ساتھ ایک خوشحال زندگی بسر کرتا ہے۔
صبر کیا ہے؟ کسے کہتے ہیں؟ آئیں دیکحتے ہیں مولا متقیان صبر و استقامت کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: الصَّبْرُ مِنَ الْإِيمَانِ کالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ
ترجمہ: صبر ایمان کے لیے اسی طرح ہے جیسے سر جسم کے لیے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 82
شخصیت اس کی محکم، و مضبوط نظر آتی ہے جو صابر ہوتے ہیں۔زندگی میں کامیابی کے لیے صبر اور استقامت بہت ضروری ہیں۔ نوجوانوں کو اکثر مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان کے لیے صبر کی تربیت انتہائی اہم ہے۔امامؑ فرماتے ہیں کہ صبر ایمان کا لازمہ ہے جز لاینفک ہے، یعنی صبر کے بغیر ایمان کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا، یعنی صبر کرنے والا ہی اصل میں مومن ہے۔ اور جسکے زندگی میں صبر نہیں گایا اس کا کوئی ایمان بھی نہیں ہے۔ معصوم کا قول ہے کہ یہ دنیا مرد مومن کے لئے قید خانہ ہے، یہان مصائب و مشکلات سے دن رات واسطہ رہے گا ، ایسے میں ایک مرد مومن ہی ان مصائب ا آلام میں صبر و استقامت دکھا سکتا ہے۔
پس یہ قول نوجوانوں کو مشکلات میں ثابت قدم رہنے اور ہمت نہ ہارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ میدان میں صبر و استقامت رکھنے والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور چیز کا ذکر کرنا چاہوں گا اور وہ ہے عدل، جی ہاں عدل سے ہی معاشرے قائم رہتے ہیں۔
4۔ معاملات میں عدل
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: استعمل الْعَدْل، و احذر العسف و الحیف
ترجمہ: عدل کی روش پر چلو ، بے راہروی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو۔
حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 476
عدل یعنی ہر چیز کو اسکی اصل جگہ و حقیقی مقام پر رکھنا ۔اسکے مقابلے میں ظلم آتا ہے ۔ ظلم یعنی عدل کا بر عکس عمل ظلم کہلاتا ہے ۔ عدل شخصیت سازی کا ایک اہم رکن ہے۔نہج البلاغہ میں عدل کو انسانی معاشرے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ساتھ لوگوں کو دعوت ہے کہ وہ اپنے معاملات میں عدل سے کام لیں۔ افراط و تفریط دونوں ناسور ہیں ہمیں میانہ روی سے کام لینا چاہئیں۔ یہ تعلیم نوجوانوں کو انصاف پسند اور ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہے کیونکہ ظلم معاشرے کو تباہ و برباد کرتا ہے۔عدل برقرار ہو تو ہی معاشرے اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر جس معاشرے میں عدل نہ ہو یا نہ ہونے کے برابر ہو تو وہ معاشرے زیادہ دیر اپنا اجود قائم نہیں رکھ سکتے، ایسے معاشرے جلدی تنزلی کا شکار ہوتے ہوتے اپنا دجود کھو دیتے ہیں۔
5۔ خود احتسابی اور اصلاحِ نفس:
امام علیؑ فرماتے ہیں:
العربية: حَاسِبُوھا من قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا
ترجمہ: اپنے نفس کا حساب کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے۔
حوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ 88
شخصیت سازی کے لیے انسان کا اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ضروری ہے۔ نہج البلاغہ میں خود احتسابی کو ایک اہم تربیتی اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ اصول ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان اپنے ماضی کے اعمال کا حساب و کتاب کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے ماضی سے عبرت و درس حاصل کرتے ہوئے اپنے آنے والی زندگی کو خوشگوار بناتاہے۔ یہ قول نوجوانوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا جائزہ لیتے رہیں اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ وہ انسان جو اپنا دن رات محاسبہ کرتا ہے، وہ دوبارہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہراتا ہے یوں وہ کامیابی کی جانب گامزن ہوتا ہے۔
نتیجہ
نہج البلاغہ ایک ایسی عظیم کتاب ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس میں نوجوان نسل کی شخصیت سازی کے لیے قرآن مجید سے تمسک، خالق حقیقی سے رابطہ علم، اخلاق، صبر، عدل، خود احتسابی اور ذمہ داری جیسے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ کہ جن کو ہم اپنی زندگی میں اپنا کر اپنی شخصیت سازی کر سکتے ہیں،اپنی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں۔ یہ مذکورہ اصول ایک ایسی شخصیت کے وضع کردہ ہیں کہ علمی مرتبت سب پر عیاں ہے، روز روشن کی طرح منور ہے کہ بعد از نبی ﷺ بغیر اختلاف کے تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مولا علی علیہ السلام کا کوئی نظیر نہیں ہے، اور نہ آج تک ان صفات عالیہ کا حامل کوئی شخصیت زمانے میں آئی ہے، اور نہ یہ آئے گا۔
اگر ہم اپنے نوجوان نسل کی شخصیت سازی ان تعلیمات و فرمودات کے مطابق کریں تو ہماری نسل نو ایک مضبوط، باکردار اور باصلاحیت شخصیت کے مالک بن سکتے ہیں۔ ایسی نسل نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرے گی بلکہ اپنے معاشرے کی بھی اصلاح کرے گی ۔ اور ایسی نسل نو تمام عالم انسانیت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
آخر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور دعاگو ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے مولائے کائناتؑ کے بتائے ہوئے اصولوں کے تحت اپنی شخصیت سازی کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔
آمین۔
حوالہ جات
[1] القرآن مجید[2] نہج البلاغہ، مؤلف: سید رضی، مترجم: مفتی جعفر حسین قدس سرہ




