مقالات

کربلا کے مصائب پر غم انگیز مرثیہ

جامع نہج البلاغہ علامہ سید رضی علیہ الرحمہ

بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
کربلا کے مصائب پر جامع نہج البلاغہ علامہ سید رضی علیہ الرحمہ کا غم انگیز مرثیہ اور اس کا اردو ترجمہ

کَربَلا لا زِلتِ كَرباً وَبَلا
ما لَقي عِندَكِ آلُ المُصطَفى

اے کربلا! تو ہمیشہ رنج و بلا کا مسکن رہے گی، کیونکہ تیرے دامن میں آلِ مصطفیٰؐ نے وہ مصیبتیں جھیلیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

كَم عَلى تُربِكِ لَمّا صُرِّعوا
مِن دَمٍ سالَ وَمِن دَمعٍ جَرى

جب وہ تیری زمین میں شہید کر دیے گئے تو تیری خاک پر کتنے خون بہے اور کتنے آنسو جاری ہوئے۔

كَم حَصانِ الذَيلِ يَروي دَمعُها
خَدَّها عِندَ قَتيلٍ بِالظَما

کتنی ہی پاک دامن خواتین تھیں جن کے آنسو پیاسے شہیدوں کے رخساروں کو تر کرتے تھے۔

تَمسَحُ التُربَ عَلى إِعجالِها
عَن طُلى نَحرٍ رَميلٍ بِالدِما

وہ جلدی جلدی خون بہتے ہوئی گردنوں اور سینوں سے خاک صاف کر رہی تھیں۔

وَضُيوفٍ لِفَلاةٍ قَفرَةٍ
نَزَلوا فيها عَلى غَيرِ قِرى

اور ان مہمانوں پر گریہ کرتی تھیں جو ایک ویران صحرا میں اترے مگر ان کی کوئی مہمان نوازی نہ ہوئی۔

لَم يَذوقوا الماءَ حَتّى اِجتَمَعوا
بِحِدى السَيفِ عَلى وِردِ الرَدى

انہیں پانی کا ایک قطرہ بھی چکھنے کو نہ ملا یہاں تک کہ تلواروں کی دھار پرشہادت سے ہم کنار ہوئے۔

تَكسِفُ الشَمسُ شُموساً مِنهُمُ
لا تُدانيها ضِياءً وَعُلى

ان میں ایسے ایسے آفتاب تھے کہ سورج بھی جن کے نور اور جن کی بلندی کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

وَتَنوشُ الوَحشُ مِن أَجسادِهِم
أَرجُلَ السَبقِ وَأَيمانَ النَدى

ان کے پاکیزہ جسم صحرا کے خاک آلود ویرانے میں گمنامی کا شکار تھے صجن کے قدم نیکی میں سبقت لے جاتے تھے اور جن کے ہاتھ سخاوت کے سرچشمے تھے۔

وَوُجوها كَالمَصابيحِ فَمِن
قَمَرٍ غابَ وَنَجمٍ قَد هَوى

وہ چہرے چراغوں کی مانند روشن تھے؛ گویا کوئی چاند غروب ہوگیا اور کوئی ستارہ ٹوٹ کر گر پڑا۔

غَيَّرَتهُنَّ اللَيالي وَغَدا
جايِرَ الحُكمِ عَلَيهِنَّ البِلى

سیاہ راتوں کی آمد ورفت نے ان کی حالت بدل دی اور ظلم و ستم نے ان پر ویرانی مسلط کر دی۔

يا رَسولَ اللَهِ لَو عايَنتَهُم
وَهُمُ ما بَينَ قَتلى وَسِبا

یا رسول اللہؐ! اگر آپ انہیں دیکھتے، جب کچھ شہید پڑے تھے اور کچھ قیدی بنائے جا رہے تھے۔

مِن رَميضٍ يُمنَعُ الذِلَّ وَمِن
عاطِشٍ يُسقى أَنابيبَ القَنا

ان میں سے کچھ تھے جنہیں تپتی ریت پر پڑا رہنا گوارا تھا مگر ذلت برداشت نہیں تھی اور کوئی پیاسا تھا جسے پانی کے بجائے نیزوں کی انیاں پلائی جا رہی تھیں۔

وَمَسوقٍ عاثِرٍ يُسعى بِهِ
خَلفَ مَحمولٍ عَلى غَيرِ وَطا

اور کوئی قیدی لڑکھڑاتا ہوا کھنیچا جا رہا تھا، اس کے آگے ایک شہید کا سر نیزے پر بلند تھا۔

مُتعَبٍ يَشكو أَذى السَيرِ عَلى
نَقِبِ المَنسِمِ مَجزولِ المَطا

کوئی تھکا ماندہ تھا، زخمی اونٹوں پر سفر کی مشقت جھیل رہا تھا اور راستے کی اذیت کی شکایت کر رہا تھا۔

لَرَأَت عَيناكَ مِنهُم مَنظَراً
لِلحَشى شَجواً وَلِلعَينِ قَذى

تو آپ کی آنکھیں ایسا منظر دیکھتیں جو دل کو غم سے بھر دیتا اور آنکھوں کو اشکبار کر دیتا۔

لَيسَ هَذا لِرَسولِ اللَهِ يا
أُمَّةَ الطُغيانِ وَالبَغيِ جَزا

اے سرکش اور ظالم امت! کیا رسولِ خداؐ کی رسالت کا یہی صلہ تھا؟

غارِسٌ لَم يَألُ في الغَرسِ لَهُم
فَأَذاقوا أَهلَهُ مُرُّ الجَنى

انہوں نے ایک ایسے رسول کے اہلِ بیت کے ساتھ یہ سلوک کیا جس نے ان کی ہدایت کے لیے ایک مخلص باغبان کی طرح ان کی دیکھ ریکھ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، مگر امت نے اسی رسول کے گھر والوں کو تلخ ترین پھل چکھائے۔

جَزَروا جَزرَ الأَضاحي نَسلَهُ
ثُمَّ ساقوا أَهلَهُ سَوقَ الإِما

انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کو قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کیا، پھر ان کے اہلِ حرم کو قید کرکے لیجایا گیا

مُعجَلاتٍ لا يُوارينَ ضُحى
سُنَنَ الأَوجُهِ أَو بيضَ الطُلى

وہ خواتین جلدی جلدی چلائی جا رہی تھیں، اس حال میں کہ دن کی روشنی میں نہ اپنے چہروں کو چھپا سکتی تھیں اور نہ اپنی روشن پیشانیوں کو۔

هاتِفاتٍ بِرَسولِ اللَهِ في
بُهَرِ السَعيِ وَعَثراتِ الخُطى

وہ تیز چلنے کی مشقت اور لڑکھڑاتے قدموں کے درمیان رسولِ خدا کو کو پکار رہی تھیں۔

يَومَ لا كِسرَ حِجابٍ مانِعٌ
بِذلَةَ العَينِ وَلا ظِلَّ خِبا

اس دن نہ کوئی پردہ باقی تھا جو نگاہوں سے بچا سکے اور نہ کوئی خیمہ تھا جو سایہ فراہم کرے۔

أَدرَكَ الكُفرُ بِهِم ثاراتِهِ
وَأُزيلَ الغَيظُ مِنهُم فَاِشتَفى

گویا کفر نے ان سے اپنے پرانے انتقام لے لیے اور اپنے دل کی آگ بجھا کر تسکین پالی۔

يا قَتيلاً قَوَّضَ الدَهرُ بِهِ
عُمُدَ الدينِ وَأَعلامَ الهُدى

اے وہ مقتول! جس کی شہادت سے زمانے نے دین کے ستونوں اور ہدایت کے پرچموں کو گرا دینا چاہا۔

قَتَلوهُ بَعدَ عِلمٍ مِنهُمُ
أَنَّهُ خامِسُ أَصحابِ الكِسا

انہوں نے انہیں اس حال میں قتل کیا کہ خوب جانتے تھے کہ وہ اصحابِ کسا کے پانچویں فرد ہیں۔

وَصَريعاً عالَجَ المَوتَ بِلا
شَدَّ لَحيَينِ وَلا مَدَّ رِدا

وہ زمین پر گرے ہوئے شہید تھے، موت کی سختیوں کا سامنا کر رہے تھے، نہ کوئی ان کی ٹھوڑی باندھنے والا تھا اور نہ کفن اوڑھانے والا۔

غَسَلوهُ بِدَمِ الطَعنِ وَما
كَفَّنوهُ غَيرَ بَوغاءِ الثَرى

زخموں سے بہنے والا خون ہی ان کا غسل بن گیا اور خاکِ کربلا کے سوا کوئی کفن انہیں نصیب نہ ہوا۔

مُرهَقاً يَدعو وَلا غَوثَ لَهُ
بِأَبٍ بَرٍّ وَجَدٍّ مُصطَفى

وہ تھکے ماندے مدد کے لیے اپنے نیک باپ اور برگزیدہ نانا کو پکار رہے تھے مگر کوئی مددگار نہ تھا۔

وَبِأُمٍّ رَفَعَ اللَهُ لَها
عَلَماً ما بَينَ نُسوانِ الوَرى

اور اپنی اس ماں کو یاد کر رہے تھے جس کا مرتبہ اللہ نے تمام عالم کی عورتوں میں بلند فرمایا۔

أَيُّ جَدٍّ وَأَبٍ يَدعوهُما
جَدَّ يا جَدَّ أَغِثني يا أَبا

کیا عظیم نانا اور کیا عظیم باپ تھے جنہیں وہ پکار رہے تھے: "نانا جان! میری فریاد کو پہنچئے، بابا جان! میری مدد کیجئے۔”

يا رَسولَ اللَهِ يا فاطِمَةٌ
يا أَميرَ المُؤمِنينَ المُرتَضى

یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! یا فاطمہؑ! یا امیرالمؤمنین علی المرتضیٰؑ!

كَيفَ لَم يَستَعجِلِ اللَهُ لَهُم
بِاِنقِلابِ الأَرضِ أَو رَجمِ السَما

تعجب ہے کہ اللہ نے ان ظالموں پر فوراً زمین کو الٹ کیوں نہ دیا یا آسمان سے پتھروں کی بارش کیوں نہ برسائی؟

لَو بِسِبطَي قَيصَرٍ أَو هِرقِلٍ
فَعَلوا فِعلَ يَزيدٍ ما عَدا

اگر قیصر یا ہرقل کے نواسوں کے ساتھ بھی یزید کی طرف سے کیا جانے والا درندہ سلوک کیا جاتا تو لوگ اسے بھی ناقابلِ برداشت سمجھتے۔

كَم رِقابٍ مِن بَني فاطِمَةٍ
عُرِقَت ما بَينَهُم عَرقَ المِدى

اولادِ فاطمہؑ کی کتنی ہی گردنیں تھیں جو تلواروں سے کاٹ دی گئیں۔

وَاِختَلاها السَيفُ حَتّى خِلتَها
سَلَمَ الأَبرَقِ أَو طَلحَ العُرى

تلواروں نے انہیں اس طرح کاٹا کہ جیسے وہ بیابان کے کانٹے دار درخت ہوں جن کی شاخیں تراشی جارہی ہوں۔

حَمَلوا رَأساً يُصَلّونَ عَلى
جَدِّهِ الأَكرَمِ طَوعاً وَإِبا

وہ ایک ایسے سر کو نیزوں پر اٹھائے پھر رہے تھے جس کے نانا پر وہ خود خوشی کے ساتھ درود بھی پڑھتے تھے۔

يَتَهادى بَينَهُم لَم يَنقُضوا
عَمَمَ الهامِ وَلا حَلّوا الحُبا

وہ سر ان کے درمیان گردش کر رہا تھا، مگر وہ اس کی عظمت اور حرمت کو نہ پہچان سکے۔

مَيِّتٌ تَبكي لَهُ فاطِمَةٌ
وَأَبوها وَعَليٌّ ذو العُلى

وہ ایسا شہید تھا جس پر فاطمہ زہراؑ، ان کے والد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علی مرتضیٰؑ سب گریہ کرتے ہیں۔

لَو رَسولُ اللَهِ يَحيا بَعدَهُ
قَعَدَ اليَومَ عَلَيهِ لِلعَزا

اگر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس واقعے کے بعد دنیا میں موجود ہوتے تو آج خود ان کی عزاء میں سوگواری کے ساتھ بیٹھتے

مَعشَرٌ مِنهُم رَسولُ اللَهِ وَالـ
كاشِفُ الكَربِ إِذا الكَربُ عَرا

یہ وہ عظیم خاندان ہے جس میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور وہ ہستی بھی ہے جو مصیبت کے وقت مشکلات کو دور کرنے والی ہے۔

صِهرُهُ الباذِلُ عَنهُ نَفسَهُ
وَحُسامُ اللَهِ في يَومِ الوَغى

یعنی ان کے داماد، جنہوں نے رسولؐ پر اپنی جان نچھاور کر دی، اور جو میدانِ جنگ میں خدا کی تلوار ہیں۔

أَوَّلُ الناسِ إِلى الداعي الَّذي
لَم يُقَدِّم غَيرَهُ لَمّا دَعا

وہ اللہ اور رسولؐ کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے تھے، جن کے علاوہ رسولؐ نے کسی اور کو کسی موقع پر مقدم نہیں کیا۔

ثُمَّ سِبطاهُ شَهيدانِ فَذا
بَحَسا السُمَّ وَهَذا بِالظُبى

پھر ان کے دو نواسے ہیں جو دونوں شہید ہوئے؛ ایک نے زہر کا جام پیا اور دوسرے کو تلواروں نے شہید کیا۔

وَعَلِيٌّ وَاِبنُهُ الباقِرُ وَالـ
صادِقُ القَولِ وَموسى وَالرِضا

اور پھر علی (امام زین العابدینؑ)، ان کے فرزند امام باقرؑ، صادق القول امام صادقؑ، امام موسیٰ کاظمؑ اور امام رضاؑ ہیں۔

وَعَلِيٌّ وَأَبوهُ وَاِبنُهُ
وَالَّذي يَنتَظِرُ القَومُ غَدا

اور پھر امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ، امام حسن عسکریؑ اور وہ امام جن کے ظہور کے لوگ منتظر ہیں، یعنی امام مہدیؑ۔

يا جِبالَ المَجدِ عِزّاً وَعُلى
وَبُدورَ الأَرضِ نوراً وَسَنا

اے عظمت و بزرگی کے پہاڑو! اے زمین کے چمکتے ہوئے چاند تارو اوراے نور و روشنی کے سرچشمو!

جَعَلَ اللَهُ الَّذي نابَكُمُ
سَبَبَ الوَجدِ طَويلاً وَالبُكا

اللہ نے تم پر ڈھائی جانے والی مصیبتوں کو اہلِ ایمان کے لیے دائمی غم اور مسلسل گریہ کا سبب بنا دیا۔

لا أَرى حُزنَكُمُ يُنسى وَلا
رُزءَكُم يُسلى وَإِن طالَ المَدى

میں نہیں سمجھتا کہ تمہارا غم کبھی بھلایا جا سکے گا یا تمہاری مصیبت پر دل کو تسلی مل سکے گی، چاہے زمانہ کتنا ہی گزر جائے۔

قَد مَضى الدَهرُ وَعَفّى بَعدَكُم
لا الجَوى باخَ وَلا الدَمعُ رَقا

زمانے گزر گئے، آثار مٹ گئے، مگر نہ دل کا درد کم ہوا اور نہ آنسو خشک ہوئے۔

أَنتُمُ الشافونَ مِن داءِ العَمى
وَغَداً ساقونَ مِن حَوضِ الرَوا

تم ہی گمراہی اور روحانی اندھے پن کا علاج ہو، اور قیامت میں تم ہی حوضِ کوثر سے سیراب کرو گے۔

نَزَلَ الدينُ عَلَيكُم بَيتَكُم
وَتَخَطّى الناسَ طُرّاً وَطَوى

دین تمہارے ہی گھر میں نازل ہوا اور تمام لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے ہی آستانے کو اپنا مرکز بنایا۔

أَينَ عَنكُم لِلَّذي يَبغي بِكُم
ظِلَّ عَدنٍ دونَها حَرُّ لَظى

جو شخص تمہارے وسیلے سے جنتِ عدن کا سایہ چاہتا ہے، وہ تم سے بے نیاز کیسے ہو سکتا ہے؟

أَينَ عَنكُم لَمُضِلٍّ طالِبٍ
وَضَحَ السُبلِ وَأَقمارَ الدُجى

گمراہ انسان روشن راستوں اور تاریکیوں کے چاند (یعنی ائمۂ ہدایت) کی تلاش میں آپ سے الگ کیسے رہ سکتا ہے؟

أَينَ عَنكُم لِلَّذي يَرجو بِكُم
مَع رَسولِ اللَهِ فَوزاً وَنَجا

جو شخص تمہارے ذریعے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں کامیابی اور نجات کا امیدوار ہو، وہ تم سے کیسے دور رہ سکتا ہے؟

يَومَ يَغدو وَجهُهُ عَن مَعشَرٍ
مُعرِضاً مُمتَنِعاً عِندَ اللُقى

اس دن جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض لوگوں سے ملاقات کے وقت منہ پھیر لیں گے اور ان سے ناراض ہوں گے۔

شاكِياً مِنهُم إِلى اللَهِ وَهَل
يُفلِحُ الجيلُ الَّذي مِنهُ شَكا

اور اللہ کے حضور ان کی شکایت کریں گے؛ اور جس قوم کی شکایت رسولؐ خود کریں، وہ کیسے کامیاب ہو سکتی ہے؟

رَبَّ ما حاموا وَلا آوَوا وَلا
نَصَروا أَهلي وَلا أَغنَوا غَنا

پروردگار! انہوں نے نہ میرے اہلِ بیت کی حفاظت کی، نہ انہیں پناہ دی، نہ ان کی مدد کی اور نہ ان کے کسی کام آئے۔

بَدَّلوا ديني وَنالوا أُسرَتي
بِالعَظيماتِ وَلَم يَرعَوا أَلى

انہوں نے میرے دین میں تبدیلی کی اور میرے خاندان پر عظیم ظلم ڈھائے، اور میری وصیت و حرمت کا لحاظ نہ رکھا۔

لَو وَلي ما قَد وَلوا مِن عِترَتي
قائِمُ الشَركِ لَأَبقى وَرَعى

انھوں نے جو سلوک میری عترت کے ساتھ کیا، وہ کسی مشرک کے ساتھ بھی کیا جاتا تو وہ بھی اس سے بہتر نہ سمجھا جاتا۔

نَقَضوا عَهدي وَقَد أَبرَمتُهُ
وَعُرى الدينِ فَما أَبقوا عُرى

انہوں نے میرے مضبوط عہد کو توڑ دیا اور دین کی گرہیں کھول ڈالیں، یہاں تک کہ کوئی بندھن باقی نہ چھوڑا۔

حُرَمي مُستَردَفاتٌ وَبَنَو
بِنتِيَ الأَدنَونَ ذِبحٌ لِلعِدى

میرے اہلِ حرم قیدی بنا کر اونٹوں پر سوار کیے گئے اور میری بیٹی کی اولاد دشمنوں کے لیے قربان گاہ بنا دی گئی۔

أَتُرى لَستُ لَدَيهِم كَاِمرِئٍ
خَلَّفوهُ بِجَميلٍ إِذ مَضى

کیا میں ان کے نزدیک ایسا شخص بھی نہ تھا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد میرے اہلِ بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرتے؟

رَبِّ إِنّي اليَومَ خَصمٌ لَهُمُ
جِئتُ مَظلوماً وَذا يَومُ القَضا

پروردگار! آج میں ان کا مدعی ہوں، میں مظلوم ہو کر تیرے حضور آیا ہوں، اور آج فیصلہ کا دن ہے۔

پیشکش
سید حمید الحسن زیدی
سیتاپور

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button