
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
چکیدہ (Abstract):
نہج البلاغہ میں امام علیہ السلام نے تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کو انسان کی فکری بیداری اور انسانی اصلاح کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
امام علیہ السلام نے تاریخ کو محض واقعات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک زندہ درسگاہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد انسان کو غفلت سے بیدار کرنا، خود احتسابی کی طرف متوجہ کرنا اور اسے صحیح راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنا ہے تاکہ وہ ماضی کی غلطیوں سے بچ سکے اور اپنی دنیا و آخرت سنوار کر سکے اسی طرح امام علیہ السلام نے ماضی کے واقعات کو صرف قصے کہانیوں کے لیے نہیں بیان کیا، بلکہ انہیں ایک نمونہ عبرت بنایا ہے تاکہ انسان حال کو سمجھے، اور مستقبل کے لیے راہ کا انتخاب کر سکے۔
کلیدی ( keywords): نہج البلاغہ، تاریخ، عبرت
مقدمہ( introduction):
انسانی زندگی کا ایک بنیادی اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ انسان بار بار تاریخ کی انہی غلطیوں کو دہراتا ہے جن کے نتائج پہلے لوگ بھگت چکے ہوتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں انسان کو اسی غفلت سے نکالنے کے لیے ماضی کے حالات اور اقوام کے انجام پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انسان ہدایت کی طرف گامزن ہو جاے نجات کا راستہ اپنائے ۔ اس مقالے میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گے کہ امام علیؑ کے نزدیک ماضی کے واقعات پر غور و فکر کرنے سے انسان کس طرح غفلت سے بیدار ہو سکتا ہے اور اسے صحیح راستے کے انتخاب میں مدد دیتا رہے تاکہ وہ سابقہ اقوام کے انجام سے سبق لے کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار کر سکے۔
اصلی متن (Body):
عبرت کیا ہے:
عبرت لفظ “عَبَر” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی تفسیر کرنا، موازنہ کرنا، عبور کرنا، حیران ہونا وغیرہ۔ ان تمام معنوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا۔ اسی لیے راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں کہ عبرت کی اصل حقیقت ایک حال سے دوسرے حال کی طرف گزرنا ہے۔ اگرچہ ہر معنی میں یہ بات مکمل طور پر نہ بھی ہو، مگر اکثر میں کسی نہ کسی طرح تبدیلی اور انتقال کی طرف اشارہ ضرور پایا جاتا ہے۔ عبرت اور اعتبار کا مطلب بھی نصیحت حاصل کرنا ہے۔ جب انسان کسی واقعے یا بات کو سن کر اس کے ظاہر سے آگے بڑھ کر اس کے اندر چھپے ہوئے معنی کو سمجھتا ہے اور اس سے سبق لیتا ہے تو اس کے دل میں حق کے سامنے عاجزی اور نرمی پیدا ہوتی ہے راغب اصفہانی کے مطابق:
"عبرت وہ حالت ہے جس میں انسان کسی دیکھی ہوئی چیز سے ایسی بات کو سمجھ لیتا ہے جو نظر نہیں آتی” (1)
یعنی ظاہری اور محسوس چیز انسان کو باطنی اور غیر محسوس حقیقت تک پہنچا دیتی ہے۔ لیکن ہر ظاہری بات سے باطنی بات تک پہنچ جانا عبرت نہیں کہلاتا بلکہ اس کے لیے چند شرطیں ضروری ہیں . پہلی بات ظاہر اور باطن کے درمیان صرف رسمی یا طے شدہ تعلق نہ ہو۔ مثلاً اگر دروازے کی گھنٹی سن کر ہم سمجھ جائیں کہ کوئی باہر کھڑا ہے، یا کسی علامت کو دیکھ کر پہلے سے طے شدہ پیغام سمجھ جائیں، تو یہ عبرت نہیں۔ کیونکہ یہ صرف عادت یا معاہدے کی بنیاد پر سمجھنا ہے نصیحت نہیں۔ دوسری بات جس باطنی حقیقت تک انسان پہنچے وہ اخلاقی اور عملی اہمیت رکھتی ہو۔ انسان اپنے آپ کو اس واقعے سے جوڑے یہ سمجھے کہ ایسا انجام میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور اس سے اپنی زندگی کو درست کرنے کی کوشش کرے، صرف خشک معلومات یا علمی باتیں عبرت نہیں بلکہ وہ بات ہونی چاہیے جو انسان کے کردار پر اثر ڈالے۔
اگر انسان صرف سن کر یا دیکھ کر آگے بڑھ جائے تو عبرت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ سوچے اپنے زمانے میں اسی طرح کے حالات کو پہچانے موازنہ کرے اور عقل سے ان کے تعلق کو سمجھے تو وہ ایک درست نتیجے تک پہنچ سکتا ہے یہی نتیجہ عبرت ہے. امام علیہ السلام کی فرامین سے بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ عبرت وہ سبق ہے جو انسان دوسروں کی زندگی ، انجام اور واقعات کو دیکھ کر ایسی سمجھ حاصل کرےجو انسان کو صحیح راستہ دکھائے اور غلطی سے بچائے۔
بصیرت کی چابی:
تاریخ سے عبرت وہ ذریعہ ہے جو انسان کوظاہری امور سے تجاوز کر کے ان کے باطن تک رسائی پا سکتا ہے، حسی مشاہدات سے آگے بڑھ کر عقلی حقائق تک پہنچ سکتا ہے، اور زندگی کے ہر پہلو میں جانچ، تجزیہ، مسائل کے حل، انتخاب اور فیصلہ سازی کی ہمہ گیر صلاحیت سے بہرہ مند ہو سکتا ہے اور شاید تاریخ سے عبرت کا سب سے اہم تربیتی اثر یہی ہے۔
جس کی طرف امام علیہ السلام بھی اشارہ فرماتا ہے کہ:
مَنِ اعْتَبَرَ اَبْصَرَ وَ مَنْ اَبْصَرَ فَهِمَ وَ مَن فَهِمَ عَلِمَ.( 2)
“جس نے عبرت حاصل کی، اس نے بصیرت پائی، اور جس نے بصیرت پائی، وہ سمجھ گیا، اور جس نے سمجھ لیا، اس نے علم حاصل کر لیا۔”
امام علیہ السلام ایک دوسرے جگہ پھر ارشاد فرمایا ہے:
رَحِمَ اللّهُ اُمْرَئً تَفَكَّر فَاعْتَبَرَ وَ اعْتَبَر فَأبْصَرَ.. ( 3)
“اللہ اس شخص پر رحم کرے جس نے غور کیا اور پھر پند و نصیحت حاصل کی، اور نصیحت حاصل کی اور پھر بصیرت پائی۔
پس واضح ہے کہ تاریخ وہ درسگاہ ہےجو انسان کو وہ بصیرت عطا کرتا ہے کہ جہاں سے انسان غور فکر کے ذریعہ سے دل و دماغ روشن ہو جاتی ہے عقل کو بیداری ملتی ہے کہ کون سا راستہ روشنی کی طرف جاتا ہے اور کون سا اندھیرے کی طرف اسی طرح حق و باطل کی پہچان عدل و ظلم کی معیار سکھاتا ہےکہ جو قومیں عدل پر قائم ہوئیں، باقی رہیں؛ اور جو ظلم پر ڈٹے رہیں، مٹ گئیں۔پس انسان دوسروں کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھ کر انسان اپنے حال کو بہتر بنا سکتا ہے اور مستقبل کی غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔ یہی وہ طاقت اور بصیرت ہے جو انسان تاریخ سے حاصل کرتا ہے.
تجربات کا حصول:
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ایک اور فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور وہ ہے تجربات کا حصول۔ انسان عموماً ایک غلطی کو کئی بار نہیں دہراتا۔ اور دانشمند افراد کوشش بھی کرتے ہیں کہ وہ غلطی بھی نہ کریں جو دوسروں نے پہلے ہی کر لی ہو، اور درحقیقت وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ عقل مند سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ اگر انسان دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے سبق نہیں لیتا اور دوسروں کے تجربہ شدہ غلطیوں کو دہراتا ہے۔تو پھر انسان عقل مند نہیں رہتا بلکہ جاہلیت میں چلا جاتا ہے اس وجہ سے انسان کو چاہیے کہ وہ گزرے ہوئے لوگوں کے چھوڑے ہوئے آثار پر غور کریں تاکہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کر کے ان کے تجربات کو اپنی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنا سکیں۔ جو شخص اپنے تجربات میں دوسروں کے تجربات کو شامل کرتا ہے، اس کی عمر اتنی ہی لمبی ہو جاتی ہے امام علیہ السلام اپنے بیٹے امام مجتبیٰ (ع) کو وصیت کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے:
"اَیْ بُنَیَّ، اِنِّی وَ اِنْ لَمْ اَكُنْ عُمِّرْتُ عُمُرَ مَنْ كَانَ قَبْلِی، فَقَدْ نَظَرْتُ فِی اَعْمَالِهِمْ، وَفَكَّرْتُ فِی اَخْبَارِهِمْ، وَسِرْتُ فِی آثَارِهِمْ، حَتّی عُدْتُ كَاَحَدِهِمْ، بَلْ كَاَنِّی بِمَا انْتَهی اِلیَّ مِنْ اُمُورِهِمْ قَدْ عُمِّرتُ مَعَ اَوَلِّهِمْ اِلَی آخِرِهِمْ. فَعَرَفْتُ صَفْوَ ذَلِكَ مِنْ كَدَرِهِ وَ نَفْعَهُ مِنْ ضَرَرِهِ فَاسْتَخْلَصْتُ لَكَ مِنْ كُلِّ اَمرٍ نَخِیلَهُ وَ تَوَخَّیْتُ لَكَ جَمِیلَهُ وَ صَرَفْتُ عَنْكَ مَجْهُولَهُ”(4)…
“اے میرے بیٹے اگرچہ میں نے اتنی عمر نہیں پائی جتنی اگلے لوگوں کی ہوا کرتی تھی پھر بھی میں نے ان کی کارگزاریوں کو دیکھا ان کے حالات ا واقعات میں غور کیا اور ان کے چھوڑے ہوئے نشانات میں سیر و سیاحت کی یہاں تک کہ گویا میں بھی انہی میں کا ایک ہو چکا ہوں بلکہ ان سب کے حالات و معلومات جو مجھ تک پہنچ گئے ہیں ان کی وجہ سے ایسا ہے کہ گویا میں نے ان کی اول سے لے کر کر آخر تک کے ساتھ زندگی گزاری ہے”۔
اس فرمان کی ذیل میں علامہ افتخار حسین فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی بھی یہی روش ہے کہ ماضی میں کامیاب ونا کام افراد کی تفصیل سے ذکر کیا ہے جیسے فرعون و نمرود، موسئ علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام (5)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "بتحقیق ان (رسولوں ) کے قصوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے”۔
امام علیہ السلام واضح کرتا ہے کہ اگلی نسل کو حکمت اور بصیرت منتقل کرنے کے لیے، پچھلی تاریخ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا کتنا ضروری ہے اور امام علیہ السلام انسان کو متوجہ کرتے ہیں کہ تاریخ سے تجربات کا سیکھنا کتنا ضروری ہے بلکہ امام علیہ السلام یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ گذشتگان سے عبرت انسانیت کی ترقی کی شرط ہے۔کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے سیکھتی ہے وہ ارتقاء کرتی ہے، اور جو غفلت میں مبتلا ہو جاتی ہے وہ زوال کی راہ پر چل پڑتی ہے۔دوسروں کے حالات سے تجربہ حاصل کرنا گویا انسان کی عمر ان سب کی عمروں کے برابر ہو جاتی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ اس نے ان کی غلطیاں نہیں کیں وقت ضائع نہیں ہوا مال و دولتِ خرچ نہیں ہوئی۔انسانی زندگی تجربات کا ایک سمندر ہے، جہاں ہر لہر، ہر طوفان اور ہر سکون ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے۔ تاریخ، خواہ وہ کسی فرد کی ہو، کسی قوم کی، یا پوری انسانیت کی، ان تجربات کا ایک ضخیم ذخیرہ ہے۔ ان تجربات میں وہ غلطیاں، وہ ناکامیاں، وہ کامیابیاں، اور وہ وہ بصیرتیں پوشیدہ ہیں جو ہمیں حال میں درست فیصلے کرنے اور مستقبل کو سنوارنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ “عبرت” دراصل یہی وہ شعور اور سمجھ ہے جو ہمیں ان تجربات کے گہرے معنی اور اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یہ چراغِ راہ ہے جو تاریک مستقبل میں روشنی پھیلاتا ہے، ہمیں بھٹکنے سے بچاتا ہے، اور صحیح منزل کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔
چراغ مستقبل:
ماضی سے سبق حاصل کرنا مستقبل کے لیے ایک چراغ ہے، اور ایک بہتر اور روشن کل کا انحصار ماضی سے سبق حاصل کرنے پر ہے۔
امام علیہ السلام اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
"وَلَوِ اعْتَبَرْتَ بِمَا مَضَی حَفِظْتَ مَابَقِیَ ” ( 6 )
”اگر تم ماضی سے سبق سیکھو گے، تو جو باقی ہے اسے محفوظ کر لو گے۔“
کئی دفعہ ہماری زندگی میں تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ واقعات کی تفصیلات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی وجوہات اور بڑے اصول اکثر ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہوشیار انسان ان واقعات کا موازنہ کر کے ان کے نتائج کا اندازہ لگا سکتا ہے اور صحیح فیصلہ کر سکتا ہے۔ اور اپنا مستقبل سنوار سکتا ہے.
امام علیہ السلام نے فرمایا:
"واعْتَبِرْ بِمَا مَضَی مِنَ الدُّنْیَا لِمَا بَقِی مِنْهَا، فَاِنَّ بَعْضَهَا یَشْبَهُ بَعْضا وَ آخِرُهَا لاحِقٌ بِاَوّلِهَا وَ كُلُّها حَائِلٌ مُفَارِقٌ” (7)
“گزری ہوئی دنیا کے حالات سے سبق سیکھو تاکہ تمہارے لیے باقی رہنے والی دنیا بہتر ہو، کیونکہ دنیا کے اکثر حالات ایک جیسے ہوتے ہیں، اور اس کا آخری حصہ اس کے ابتدائی حصے سے ملتا جلتا ہے، اور سب کچھ فانی اور عارضی ہے۔”
تاریخ سے سبق سیکھنا، اس کے اصولوں کو سمجھنا، اور ان سے اخذ کردہ بصیرت کو اپنی زندگی اور معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرنا، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک روشن، محفوظ اور خوش حال مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ چراغِ عبرت ہی ہے جو ہمیں راہِ عمل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ہمیں گمراہی سے بچاتا ہے۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہم ماضی کے تجربات کو فراموش نہ کریں، بلکہ انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
پس ماضی محض ایک علمی یا تاریخی مطالعہ نہیں، بلکہ یہ ہماری بقا، ترقی اور خوش حالی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ کسی معاشرے کا ماضی اس کی روح کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے عروج و زوال کے اسباب، اس کی ثقافتی اور فکری میراث، اس کے رہنما و پیشوا اور ان کے کارنامے، اور اس کی غلطیاں، سب مل کر اس قوم کی شناخت بناتے ہیں۔ کہ کن اصولوں پر چل کر اس قوم نے ترقی کی تھی، اور اس طرح کن وجوہات کی بنا پر تنزلی کا شکار ہوئی تھی۔اس طرح ہمیں اس سے اپنے حال کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں، اور مستقبل کے لیے ہمیں کن راستوں کا انتخاب کرنا ہے۔
ماضی کی سیر:
اگر ہم گزشتہ قوموں کا مطالعہ کریں تو ہمیں بہترین سبق و عبرت دیکھنے کو ملتا ہے مثلا بنی اسرائیل جب تک وہ اللہ کے نبیوں کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے اور آپس میں متحد تھے، تو وہ ایک مضبوط اور باعزت قوم تھی ۔ لیکن جیسے ہی ان میں گروہ بندی ہوئی، وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے، اور حق سے روگردانی کی، تو ان کی طاقت ختم ہوگئی۔ وہ بیرونی طاقتوں کے غلام بن گئے۔ ان کی خوشحال زمینیں چھین لی گئیں، انہیں سخت اور بے آباد جگہوں پر دھکیل دیا گیا۔ ان کی زندگی مشکل ہوگئی، کھانے پینے اور پہننے کے لیے ان کے پاس بہت کم چیزیں رہ گئیں۔ وہ دوسروں کے سامنے ذلیل و خوار ہونے لگے اور ان میں کوئی طاقت یا اثر و رسوخ باقی نہ رہا۔ امام علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں "اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اسحاق علیہ السلام کی فرزندان آور یعقوب کے بیٹوں کے حالات میں عبرت و نصیحت حاصل کرو” (8)
فرعون کی کہانی تاریخ انسانی کا ایک المناک باب ہے جو تکبر، ظلم اور خدائی کے دعوے کے خوفناک انجام کو بیان کرتا ہے؛ جب اس نے خود کو خدا کہہ کر بنی اسرائیل پر بے پناہ مظالم ڈھائے اور حضرت موسیٰؑ کی خدائی دعوت کو ٹھکرا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے لشکر کو بحرِ قلزم میں غرق کر کے اس کی سرکشی کا خاتمہ کر دیا، حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے صبر اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ انہیں شدید مخالفت اور ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے مشن پر قائم رہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی کی دعوت دیتے ہوئے صبر، استقامت اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔فرعون کی ظاہری طاقت اور شان و شوکت عارضی تھی۔ اس کی بادشاہت اور عیش و عشرت نے اسے آخرت سے غافل کر دیا تھا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی دھوکے اور فریب سے بھری ہوئی ہے، اور ہمیں اپنی اصل منزل یعنی آخرت کو نہیں بھولنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے جب بنی اسرائیل کو بہت سی نعمتوں سے نوازا انہیں بادشاہت دی، ان کے لیے آسمان سے کھانے (من و سلویٰ) نازل کیے، اور انہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کیا، اللہ نے انہیں بادشاہت بخشی، اپنے دین کی سمجھ عطا کی، اور انہیں اپنے دشمنوں، یعنی فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دلائی۔ سمندر کو ان کے لیے راستہ بنا دیا اور دشمن کو اس میں غرق کر دیا۔
اتنی نعمتوں کے باوجود، انہوں نے آپس میں اختلاف پیدا کئے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور تفرقہ کو اپنایا، تو اللہ نے ان پر ایسے دشمن مسلط کر دیے جو نے ان کے گھروں میں گھس کر ان کی عورتوں کی عزتیں پامال کیں، ان کے گھروں کو لوٹا، اور ان کے درمیان فساد برپا کیا۔ حتیٰ کہ ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا ان پر اللہ کا عذاب اس حد تک نازل ہوا کہ انہیں اپنے وطن سے نکال دیا گیا۔ وہ بے یار و مددگار ہو کر در در بھٹکنے لگے۔ انہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی قلیل اور معمولی چیزوں پر گزارا کرنا پڑتا تھا۔ لہذا ہمیں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بنی اسرائیل کے پاس وہ سب کچھ تھی جو ایک قوم کے لیے باعثِ فخر ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے ناشکری کی اور اس کے نتائج آشکار ہے اور امام علیہ السلام نے ان کے واقعات کو صرف قصے کہانیوں کے لیے نہیں بیان کیا، بلکہ انہیں ایک نمونہ عبرت بنایا ہے تاکہ ہم ان کی غلطیوں کو دہرانے سے بچ سکے۔
نتیجہ گیری (Conclusion):
امام علیہ السلام نے تاریخ کو ”زندہ درسگاہ گاہ“ قرار دیا ہے ۔ جس سے انسان غفلت سے بیدار ، خود کی پہچان ، ظاہری باتوں سے آگے بڑھ کر گہری سمجھ پیدا کرنا، پوشیدہ معنی تلاش کرنا اور اندرونی تبدیلی لانا ہے۔
اسی طرح تاریخ سے سبق حاصل کرنا بصیرت کی کنجی ہے۔ یہ ہمیں گہری اور عمیق چیزوں کی سمجھ ، حق و باطل میں تمیز ، عدل و ظلم کو پہچاننے کے قابل بنانا ، اور دل و دماغ کو منور کر کے درست راہ چننے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اسی طرح ہمیں اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار ہونا چاہیے اور ان کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ واقعات محض کہانیاں نہیں بلکہ عبرت کے نمونے ہیں تاکہ ہم ان کی غلطیوں کو دہرانے سے بچ سکیں۔ لہذا، ہمیں اپنی زندگیوں میں اتحاد، اطاعت، اور شکر گزاری کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم زوال اور ذلت سے بچ سکیں۔
حوالہ جات
[1] راغب اصفہانی، کتاب المفردات، ص نمبر 320[2] نہج البلاغہ، حکمت نمبر 208
[3] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 103
[4] نہج البلاغہ، خط نمبر 31
[5] نہج البلاغہ، شرخ وصیت نامہ 31، سید افتخار حسین نقوی، نشر افکار اسلامی
[6] نہج البلاغہ، خط نمبر 49
[7] نہج البلاغہ، خط نمبر 69
[8] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 90، ترجمہ و حواشی علامہ مفتی جعفر حسین، نشر المعراج کمپنی پاکستان
[9] شرخ پیام امام المومنین، مکارم شیرازی
[10] شرخ جعفر یشرخ ابنِ میٹم بحرانی، فارسی ترجمہ محمدی مقدم




