مقالات

ثقافتی یلغار کے مقابلے میں دفاعی اور اقدامی حکمت عملی

مقالہ نگار: محمد صادق جعفری

خلاصہ

یہ تحقیق ثقافتی یلغاریا نرم جنگ کے عصری چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے امیرالمومنین علی علیہ السلام کے فکری نظام سے ایک جامع حکمتِ عملی کے استخراج پر مبنی ہے۔ مقالے کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ نہج البلاغہ محض ایک اخلاقی و تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک منشور ہے جو جدید دور کے پیچیدہ شناختی اور فکری حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک مکمل نقشہ راہ فراہم کرتا ہے۔ اس تحقیق میں پہلے ثقافت، تہذیب، ثقافتی یلغار اور نرم جنگ جیسے بنیادی تصورات کی تشریح کی گئی ہے، اور پھر نرم جنگ کی چار کلیدی خصوصیات—(۱) غیر مرئی ماہیت، (۲) تدریجی عمل، (۳) شناخت پر حملہ، اور (۴) پرکشش آلات کا استعمال—کا تجزیہ کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امام علی (ع) نے اپنے خطبات میں ان تمام پہلوؤں کی نشاندہی چودہ صدیاں قبل کر دی تھی۔ تحقیق کا مرکزی حصہ ان علوی حکمتِ عملیوں پر مشتمل ہے جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: دفاعی حکمتِ عملی (بصیرت، تقویٰ، سادہ زیستی اور وحدت کے ذریعے داخلی محاذ کی مضبوطی) اور اقدامی حکمتِ عملی (جہادِ تبیین، باطل کا چہرہ بے نقاب کرنا، اور ایک برتر ثقافتی نمونہ پیش کرکے دشمن کے فکری محاذ پر حملہ)۔ حاصل بحث یہ ہے کہ علوی حکمت عملی ہمیں ثقافتی انفعالیت سے نکال کر ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے، جو اسلامی معاشروں کی ثقافتی استحکام کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

پیش گفتار

عصرِ حاضر، ثقافتوں کے بڑھتے ہوئے باہمی ارتباط اور اسی کے ساتھ، نرم اور پیچیدہ تصادم کا دور ہے۔ اس دوران، ایک ایسا مظہر جسے ثقافتی یلغاریا نرم جنگ جیسے عنوانات سے یاد کیا جاتا ہے، معاشروں، بالخصوص مستقل دینی اور قومی شناخت رکھنے والے معاشروں کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن چکا ہے۔ یہ یلغار، سخت جنگ کے برعکس، جو عسکری طاقت پر مبنی ہوتی ہے، کسی معاشرے کے عقائد، اقدار اور طرزِ حیات میں تبدیلی لانے پر مرکوز ہوتی ہے اور اس کے لیے نت نئے مختلف پلیٹ فارم اور پرکشش آلات کا سہارا لیتی ہے۔

اگرچہ یہ مظہر اپنی جدید شکل میں عالمی مواصلات کے دور کی پیداوار ہے، لیکن اس کی جڑیں انسانی تاریخ میں ثقافت حق اور ثقافتِ باطل کے دائمی تقابل میں پیوست ہیں۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو اپنی مختصر لیکن پُرآشوب حکومت کے دوران تاریخِ اسلام کی شدید ترین نفسیاتی و ثقافتی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف آپ کا سامنا معاویہ کی پروپیگنڈا مشینری سے تھا جو زر و تزویر اور جعلِ حدیث کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہی تھی، اور دوسری طرف، آپ خوارج کے متحجر اور کج فکر گروہ سے نبرد آزما تھے جو دین کی جاہلانہ تفسیر کے ذریعے معاشرے کے فکری نظام کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔امام علی (ع) نے ان ثقافتی اور اعتقادی فتنوں کی جڑوں کی تشخیص کرتے ہوئے فرمایا:

إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ، وَ أَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ، یُخَالَفُ فِیهَا كِتَابُ اللَّهِ، وَ یَتَوَلَّى عَلَیْهَا رِجَالٌ رِجَالًا عَلَى غَیْرِ دِینِ اللَّه (1)
لاشبہ فتنوں کا آغاز ان نفسانی خواہشات کی پیروی اور ان بدعتی احکام سے ہوتا ہے جو دین میں نئے گھڑ لیے جاتے ہیں۔ ان میں کتابِ خدا کی مخالفت کی جاتی ہے اور کچھ لوگ، دوسروں پر غیرِ دینِ خدا کی بنیاد پر حکمرانی کرنے لگتے ہیں۔

یہ تحقیق اسی بنیادی سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں ثقافتی یلغار کی نئی اور پیچیدہ شکلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امیرالمؤمنین (ع) کے کلام اور سیرت سے ایک جامع نقشہ راہ کے طور پر کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

تحقیق کی اہمیت و ضرورت

موجودہ دور میں ثقافتی عالمگیریت، استکباری طاقتوں کی بالادستی کا ایک آلہ بن چکی ہے۔ ثقافتی یلغار، نرم جنگ کے پیراڈائم میں، کوئی وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور سلسلہ وار عمل ہے جس کا مقصد قوموں کی باطنی استحالہ اور ادراکی فکر و ذوق کی تبدیلی ہے۔ ایسی مہم میں، صرف دفاعی یا ردِ عمل پر مبنی اقدامات پر اکتفا کرنے کا نتیجہ ثقافتی پسپائی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

اس تحقیق کی ضرورت اس لیے ہے کہ ثقافتی انفعالیت سے نکل کر فعال کردار ادا کرنے کے لیے، ہمیں ایک مضبوط فکری نظام کی ضرورت ہے۔ نہج البلاغہ، علوی عقلانیت کا مظہر ہونے کے ناطے، محض ایک اخلاقی کتاب نہیں، بلکہ سماجی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک اسٹریٹجک منشور ہے۔ امام علی (ع) نے اپنے دور کے فتنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ثقافتی انتظام کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جس میں بصیرت افروزی (اندرونی حفاظت) اور باطل کی حقیقت کو بے نقاب کرنا (دشمن کی بنیادوں پر حملہ) بیک وقت جاری تھے۔ ان حکمتِ عملیوں کا استخراج اور ماڈل سازی، اسلامی معاشرے کی ثقافتی عمل کے لیے ایک مستحکم نظریاتی پشت پناہی فراہم کر سکتی ہے۔

مفہوم شناسی

اس فکری جنگ کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی اصطلاحات اور ان کے باہمی تعلق کو واضح کرنا ضروری ہے۔

سماجی علوم کی ادبیات میں ثقافت اور تہذیب دو کلیدی تصورات ہیں۔ ان کے مابین فرق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔

ثقافت، انسانی زندگی کے باطنی، روحانی اور اقدار پر مبنی پہلوؤں کا نام ہے۔ یہ عقائد، اقدار اور طرزِ فکر کا وہ مجموعہ ہے جو کسی معاشرے کو شناخت بخشتا ہے۔ علامہ محمد تقی جعفری کے مطابق، "ثقافت معقول زندگی کے لیے درکار وہ شائستہ کیفیت ہے جو کائنات کے بارے میں ایک خاص نقطہ نظر سے جنم لیتی ہے۔” (2) لہٰذا، ثقافت ایک معاشرے کے سافٹ ویئر کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس کے برعکس، تہذیب انسانی زندگی کے معروضی، مادی اور ساختی پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ثقافت کا سماجی، سیاسی اور اقتصادی نظام کی شکل میں بیرونی ظہور ہے۔ وِل ڈیورانٹ کے مطابق، تہذیب "ایک ایسا سماجی نظم ہے جس کی روشنی میں ثقافتی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔” (3) یہ معاشرے کا ہارڈ ویئر ہے۔ ان دو تصورات کا تعلق وہی ہے جو روح اور جسم کا ہوتا ہے۔ اس گہرے تعلق کو قرآن مجید کی شجرہ طیبہ کی تمثیل میں بہترین طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے:

أَلَمْ تَرَ کَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَيِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (4)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان کی ہے کہ پاکیزہ کلام (کلمہ طیبہ) ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوطی سے قائم ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔

اس تمثیل میں کلمہ طیبہ (توحیدی ثقافت) درخت کی جڑ ہے جو نظر نہیں آتی مگر زندگی کا سرچشمہ ہے۔ جبکہ تنا، شاخیں اور پھل (تہذیب) اسی جڑ سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ وہ تہذیب جو صرف شاخ و برگ (ٹیکنالوجی) پر توجہ دے اور جڑ (روحانیت) سے غافل ہو، گلدان میں رکھے ہوئے پھول کی مانند ہے جو بالآخر مرجھانے پر مجبور ہے۔

ثقافتی تبادلہ بمقابلہ ثقافتی یلغار

ہر زندہ معاشرے کو اپنی بقاء اور ارتقاء کے لیے دیگر تہذیبوں اور ثقافتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ تعامل دو صورتیں اختیار کر سکتا ہے: ایک صحت مند اور تعمیری، اور دوسرا بیمار اور تخریبی۔ ان دونوں کے فرق کو سمجھنا کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

ثقافتی تبادلہ، یہ ایک فطری اور تعمیری عمل ہے، جس میں ایک زندہ ثقافت اپنی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے، دوسری اقوام کی مفید کامیابیوں کو اپنے نظام میں جذب کر لیتی ہے۔ شہید مطہریؒ اسے ایک جاندار مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں جو بیرونی خوراک کو ہضم کرکے اسے اپنے جسم کا حصہ بناتی ہے، نہ کہ خود اس خوراک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ (5)

جبکہ ثقافتی یلغار ایک مصنوعی اور تخریبی عمل ہے جس کا مقصد کسی قوم کی شناخت کو ختم کرنے کے لیے ایک متبادل نظامِ اقدار کو مسلط کرنا ہے۔ علامہ مصباح یزدی کے مطابق، یہ جدید استعمار کا وہ منصوبہ ہے جو اعتقادی بنیادوں کو کمزور کرکے سیاسی اور اقتصادی تسلط کی راہ ہموار کرتا ہے۔ (6)

اس پس منظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا معیار یا کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر ایک معاشرہ یہ فیصلہ کرے کہ کون سی روایت قابلِ تحفظ ہے، کون سی قابلِ اصلاح، اور کون سی نئی فکر قابلِ قبول ہے۔ اس پیچیدہ چیلنج کا سب سے جامع اور حکیمانہ جواب ہمیں امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کے اس فرمان میں ملتا ہے:

وَلاَ تَنْقُضْ سُنَّةً صَالِحَةً عَمِلَ بِهَا صُدُورُ هَذِهِ الاْمَّةِ، وَاجْتَمَعَتْ بِهَا الاْلْفَةُ، وَصَلَحَتْ عَلَيْهَا الرَّعِيَّةُ. وَلاَ تُحْدِثَنَّ سُنَّةً تَضُرُّ بِشَيْء مِنْ مَاضِي تِلْکَ السُّنَنِ، فَيَکُونَ الاْجْرُ لِمَنْ سَنَّهَا… (نامہ ۵۳)
(اور کسی ایسی نیک روایت کو مت توڑنا جس پر اس امت کے اسلاف نے عمل کیا ہو، جس کے ذریعے لوگوں میں محبت و الفت قائم ہوئی ہو اور جس پر رعایا کی بھلائی موقوف ہو۔ اور کوئی ایسی نئی روایت قائم نہ کرنا جو گزشتہ نیک روایات میں سے کسی کو نقصان پہنچائے، ورنہ اس کا اجر اس کے بانی کو ملے گا…)

در حقیقت یہ فرمان روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنے کا ایک مکمل منشور ہے۔ امام عالی مقامؑ، عبارت ”وَلاَ تَنْقُضْ سُنَّةً صَالِحَةً“ کے ذریعے ہر قسم کی اندھی تقلید اور ہر پرانی چیز کے متعصبانہ دفاع سے منع فرماتے ہیں۔ آپ نے صَالِحَةً (نیک) کی قید لگا کر روایت کو پرکھنے کے لیے تین بنیادی اصول مقرر فرما دیے ہیں:

1. تاریخی و نخبگانی توثیق (عَمِلَ بِهَا صُدُورُ هَذِهِ الاْمَّةِ): وہ روایت محض ایک قدیم رسم نہ ہو، بلکہ ایک آزمودہ طریقہ ہو جس پر امت کے اکابرین اور صالح پیشوا عمل پیرا رہے ہوں۔ یعنی وہ ایک کامیاب تاریخی تجربہ رکھتی ہو اور وقت کی کسوٹی پر اپنی افادیت ثابت کر چکی ہو۔

2. سماجی وحدت کا وظیفہ (وَاجْتَمَعَتْ بِهَا الاْلْفَةُ): وہ روایت معاشرے میں ہم آہنگی، محبت اور الفت کا سبب بنے، نہ کہ تفرقہ، کینہ یا طبقاتی امتیاز کو ہوا دے۔ جو روایت سماجی سرمائے کو نقصان پہنچائے، وہ ”صالحہ“ نہیں ہے۔

3. مفادِ عامہ (وَصَلَحَتْ عَلَيْهَا الرَّعِيَّةُ): اس روایت کا حتمی نتیجہ عوام کے امور کی اصلاح اور عمومی فلاح و بہبود ہو۔ جو روایت عوام کے لیے ظلم، غربت یا جہالت کا باعث بنے، وہ باقی رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

یہی تین اصول دراصل افراطی رسوم پرستی پر گہری تنقید بھی ہیں۔ مذکورہ بالا تین معیارات کی روشنی میں، امامؑ کی نظر میں ہر وہ روایت جو اب معاشرے کے خردمند اور صالح افراد کے زیرِ عمل نہ ہو، تفرقہ اور جدائی کا سبب بن چکی ہو، یا عوام کے امور کی اصلاح کے بجائے ان کے فساد اور تباہی کا موجب ہو، وہ ایک مردہ یا مضر روایت ہے، جسے نہ صرف یہ کہ باقی نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اس کی اصلاح یا متبادل کے لیے کوشش کرنی چاہیے

امیر المومنین (ع) اپنے اس گھر بار اور حکمت آمیز فرمان کے دوسرے حصے میں فرماتے ہیں: ”وَلاَ تُحْدِثَنَّ سُنَّةً تَضُرُّ بِشَيْء مِنْ مَاضِي تِلْکَ السُّنَنِ“، اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ امامؑ جدت (نو ایجادات) اور تبدیلی کے مخالف نہیں، لیکن اس کے لیے ایک بنیادی شرط عائد کرتے ہیں: جدت طرازی کی قیمت ماضی کی مثبت کامیابیوں کی تخریب پر ختم نہیں ہونی چاہیے۔ نئی اصلاحات ماضی کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہونی چاہئیں، نہ کہ ان بنیادوں کو ہی اکھاڑ پھینکیں۔ کوئی بھی نیا قانون یا ثقافتی طریقہ اپنانے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا یہ جدت، گزشتہ روایات کے مثبت اثرات (وحدت اور عوامی فلاح) کو خطرے میں تو نہیں ڈالے گی۔

لہذا امیرالمؤمنینؑ کا یہ فرمان، ثقافتی تبادلے کے لیے ایک بے مثال رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کو چاہیے کہ:
اپنی ان نیک روایات کی حفاظت کرے جو اس کی وحدت اور ترقی کا سبب ہیں۔ اپنی ان مضر روایات اور بے فائدہ رسوم کی اصلاح کرے جو معاشرے کے لیے بوجھ بن چکی ہیں۔اور دوسری ثقافتوں سے صرف ان عناصر کو قبول کرے جو اس کی صالح روایات کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی تکمیل کریں اور معاشرے کے اجتماعی مقاصد (وحدت و فلاح) کی سمت میں ہوں۔ در حقیقت، امامؑ معاشرے کو ایک ایسے باغبان سے تشبیہ دیتے ہیں جس کے بیک وقت تین فرائض ہیں: پھل دار اور صحت مند درختوں کا تحفظ (سنتِ صالحہ)، خشک اور آفت زدہ شاخوں کی تراش خراش (رسوم پرستی)، اور نئے پودے ایسی جگہ لگانا جہاں پرانے درختوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے (تعمیری جدت طرازی)۔

ثقافتی یلغارکی خصوصیات اور نہج البلاغہ کی روشنی میں اس کا تجزیہ

ثقافتی یلغار یا نرم جنگ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی حکمت عملی ہے جو براہ راست انسانی فکر، جذبات اور شناخت کو ہدف بناتی ہے۔ اس جنگ کے طریقہ کار کو درست طور پر سمجھنے کے لیے، اس کی بنیادی خصوصیات کا عصرِ حاضر کی مثالوں اور کلامِ امیرالمؤمنین (ع) کی روشنی میں تجزیہ کرنا ناگزیر ہے۔

1۔ غیر مرئی اور غیر محسوس ماہیت
نرم جنگ کی سب سے خطرناک خصوصیت اس کی پوشیدہ اور بالواسطہ نوعیت ہے۔ یہ جنگ میدانِ کارزار میں نہیں، بلکہ ہمارے گھروں، نجی محفلوں میں، میڈیا پر، اور سینما ہالز میں لڑی جاتی ہے۔ اس کے ہتھیار ثقافتی مصنوعات، فلمیں، ڈرامے، موسیقی اور سوشل میڈیا ہیں جو بظاہر صرف تفریح کے لیے تیار کی گئی ہیں، لیکن اپنی گہرائی میں مخصوص نظریاتی پیغامات اور طرزِ زندگی کی تبلیغ کرتی ہیں۔

ایک قابل محسوس مثال، مثلا ایک عالمی سطح پر مقبول ٹی وی سیریز کا تصور کریں جس میں انتہا پسندانہ انفرادیت، لذت پرستی اور خاندانی نظام کے تقدس کو پامال کرنے جیسے تصورات کو ایک معمولی، فطری اور یہاں تک کہ ترقی پسند امر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناظر، جب کرداروں کی کہانی کے ساتھ جذباتی طور پر جڑتا ہے، تو لاشعوری طور پر ان پیغامات کو قبول کر لیتا ہے۔ یہ عمل اطالوی مفکر انتونیو گرامچی کے نظریہ ثقافتی بالادستی کی بہترین مثال ہے؛ یعنی ہدف معاشرہ، غالب ثقافت کی اقدار کو جبری طور پر نہیں، بلکہ معمول سازی کے ذریعے رضاکارانہ طور پر قبول کر لیتا ہے اور یہ اقدار عوامی عقلِ سلیم کا حصہ بن جاتی ہیں۔(7) ناظر کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی حملے کی زد میں ہے، اور یہی چیز اس کی ذہنی مزاحمت کو ختم کر دیتی ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام چودہ صدیاں قبل اسی فکری فریب کاری کی نشاندہی کرتے ہوئے حق و باطل کے امتزاج کو تمام فتنوں کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اگر باطل خالص ہو تو ہر کوئی اسے پہچان لے گا، لیکن جب باطل کو حق کے دلکش لباس (فلم، فن، آزادی کے نعرے) میں پیش کیا جاتا ہے تو اس کی شناخت ناممکن ہو جاتی ہے۔ وَ لَكِنْ يُؤْخَذُ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ وَ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ فَيُمْزَجَانِ! فَهُنَالِكَ يَسْتَوْلِي الشَّيْطَانُ عَلَى أَوْلِيَائِهِ. (8) :…لیکن (فتنہ گر) تھوڑا سا حق اور تھوڑا سا باطل لے کر انہیں آپس میں ملا دیتا ہے! یہیں سے شیطان اپنے دوستوں پر غلبہ پا لیتا ہے۔

2۔ تدریجی اور سست رفتار عمل
نرم جنگ کوئی برق رفتار کارروائی نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی اور بتدریج سرایت کرنے والا عمل ہے۔ ثقافتی اور اقداری تبدیلیاں معاشرے میں قطرہ قطرہ داخل کی جاتی ہیں تاکہ سماجی مدافعتی نظام بیدار نہ ہو۔ یہ حکمت عملی "ابلتے مینڈک کے اصول” (Boiling Frog Principle) کی مانند ہے۔ اگر آپ مینڈک کو اچانک ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں تو وہ فوراً باہر چھلانگ لگا دے گا، لیکن اگر آپ اسے ٹھنڈے پانی میں رکھ کر آہستہ آہستہ درجہ حرارت بڑھائیں، تو وہ خطرے کو محسوس نہیں کرے گا اور اسی میں ہلاک ہو جائے گا۔

گزشتہ چند دہائیوں میں میڈیا میں اختلاط، حیا اور لباس کے تصورات کے ارتقاء پر نظر ڈالیں یہی طریقہ واردات نظر آئے گا۔ جو چیز پہلی دہائی میں ایک اصول شکنی اور چونکا دینے والا عمل سمجھی جاتی تھی، دوسری دہائی میں ایک قابلِ بحث استثناء، تیسری دہائی میں ایک مخصوص طبقے میں رائج معمول اور بالآخر ایک طرزِ زندگی کا انتخاب کے طور پر قبول کر لی گئی۔ یہ تدریجی معمول سازی کا عمل ہر نسل کے لیے سماجی اصولوں کا ایک مختلف نقطہ آغاز فراہم کرتا ہے اور طویل مدت میں اقدار میں ایک مکمل تبدیلی واقع ہو جاتی ہے، بغیر اس کے کہ معاشرے کو کسی اچانک صدمے یا حملے کا احساس ہو۔

نہج البلاغہ میں امیر المومنین (ع) اس عمل کو "خطوات الشیطان” (شیطان کے قدم) اور فتنے کے تدریجی نشوونما سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام (ع) خبردار کرتے ہیں کہ گمراہی اچانک حملہ آور نہیں ہوتی، بلکہ پہلے وہ غیر محسوس اور تنگ راستوں پر چلتی ہے یہاں تک کہ معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے۔ ”إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِهَا مَدَارِجُ خَفِيَّةٌ، تَؤُولُ إِلَى فَظَاعَةٍ جَلِيَّةٍ.“ (9) بے شک فتنوں کا آغاز پوشیدہ اور غیر محسوس راستوں سے ہوتا ہے، جو بالآخر ایک بھیانک اور واضح برائی پر منتج ہوتا ہے۔

یہ ثقافتی یلغار ان لوگوں پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے جن میں معاملہ فہمی اور تنقیدی سوچ کا فقدان ہوتا ہے اور وہ محض مروجہ ماحول کی پیروی کرتے ہیں۔ امیرالمؤمنین (ع) ایسے افراد کو هَمَجٌ رَعَاع (بے مقصد، ہوا میں بھٹکنے والے مچھر) قرار دیتے ہیں جو ہر آواز (میڈیا / پروپیگنڈا) کے پیچھے چل پڑتے ہیں کیونکہ ان کے پاس علم و بصیرت کی روشنی نہیں ہوتی۔… ”وَ هَمَجٌ رَعَاعٌ، أَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ، يَمِيلُونَ مَعَ كُلِّ رِيحٍ؛ لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِنُورِ الْعِلْمِ، وَ لَمْ يَلْجَئُوا إِلَى رُكْنٍ وَثِيقٍ.“ (10): …اور (تیسرے) وہ بے شعور عوام ہیں جو ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور ہر ہوا کے ساتھ جھک جاتے ہیں؛ انہوں نے نہ علم کی روشنی سے نور حاصل کیا اور نہ ہی کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔

امیر المومنین علیہ السلام فتنے کی ماہیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «تَبْدَأُ فِي مَدَارِجَ خَفِيَّةٍ وَ تَئُولُ إِلَى فَظَاعَةٍ جَلِيَّةٍ، شِبَابُهَا كَشِبَابِ الْغُلَامِ وَ آثَارُهَا كَآثَارِ السِّلَامِ» (11) فتنے دبے پاؤں پوشیدہ راستوں سے ابھرتے ہیں اور پھر کھلی ہوئی ہولناکیوں میں بدل جاتے ہیں۔ ان کا ابھرنا (جوان ہونا) ایک لڑکے کی تیزی سے بڑھتی جوانی کی طرح (پرکشش) ہے، اور ان کے اثرات سخت پتھر کی ضرب جیسے (تباہ کن) ہیں۔

اس حکیمانہ کلام میں دو بنیادی اور سبق آموز نکات پنہاں ہیں:

فتنہ کبھی اپنے اصل، بھیانک چہرے کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ دلفریب نعروں کی آڑ میں، خاموشی سے معاشرے میں داخل ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ طاقت اور تسلط حاصل کر لیتا ہے، تو اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور معاشرتی اقدار کو کچل ڈالتا ہے۔ جیسا کہ بنی عباس کا فتنہ اور جمل و صفین کے فتنہ ہے۔

امام علیہ السلام نے فتنے کے عروج اور اس کے نتائج کو دو زبردست استعاروں میں قید کیا ہے:
تیز رفتاری اور کشش (شِبَابُهَا كَشِبَابِ الْغُلَامِ): فتنے کا آغاز ایک نوجوان کی طرح ہوتا ہے۔ جس طرح لڑکپن سے جوانی کا سفر انتہائی تیز اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے، اسی طرح فتنہ بھی بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے ابتدائی نعرے لوگوں کو جوش دلاتے ہیں اور وہ اس کی ظاہری کشش کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پتھر کی سی تباہی (آثَارُهَا كَآثَارِ السِّلَامِ): عربی میں ‘السِّلَام سخت پتھر کو کہتے ہیں۔ جب فتنہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے، تو اس کے اثرات معاشرے پر ایسے پڑتے ہیں جیسے ایک بھاری پتھر انسانی جسم پر گرے، جو ہڈیوں کو توڑ کر رکھ دے۔ فتنہ امت کے اتحاد اور نظامِ زندگی کو اسی طرح کچل کر تباہ کر دیتا ہے۔ (12)

3۔ شناخت اور ھویت پر حملہ

نرم جنگ کا مقصد کسی جزوی رویے کو تبدیل کرنا نہیں، بلکہ اس کا ہدف معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی شناخت کا مرکز ہوتا ہے۔ جنگ کا اصل میدان ذہنوں اور دلوں کا جغرافیہ ہے۔ اس کا مقصد گہری جڑوں والی شناختی وابستگیوں (مذہبی، قومی، خاندانی) کو کمزور کرنا اور اس کی جگہ ایک نئی، عالمگیر اور صارفیت پر مبنی شناخت کو قائم کرنا ہے۔ فرد کی اپنی شناخت چھین لی جاتی ہے تاکہ وہ دشمن کی آنکھ سے دیکھے اور اس کی زبان سے بولے۔ امیرالمؤمنین (ع) شیطان کے پیروکاروں کی حالت بیان کرتے ہوئے بالکل اسی شناختی مسخ شدگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں فرد خودی سے بیگانہ ہو کر دشمن کے ہاتھ کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ "اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لِأَمْرِهِمْ مِلَاكاً… فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ، وَ نَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِم”(13): انہوں نے شیطان کو اپنے کام کا معیار بنا لیا… پس (بات یہاں تک پہنچی کہ شیطان) ان کی آنکھوں سے دیکھنے لگا اور ان کی زبانوں سے بولنے لگا۔ اس کا مطلب مکمل علمی اور ادراکی قبضہ ہے؛ فرد دشمن کا ترجمان بن جاتا ہے جبکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔

4۔ پرکشش آلات و ذرائع کا استعمال

نرم جنگ کا اصل ہتھیار جبر یا منطقی استدلال نہیں، بلکہ دلکشی اور ورغلانا ہے۔ حملہ آور، اپنی ثقافتی مصنوعات کو انتہائی خوبصورت، تفریحی اور ہیجان انگیز شکل میں پیش کرتا ہے تاکہ مخاطب معاشرہ شوق سے ان کا استقبال کرے۔
آج کی دنیا میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان اس کی بہترین مثال ہے۔ مغربی طرز زندکی یقینا مغربی اقدار کو صرف ایک نظریے کی صورت میں پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ انہیں ایک پرتعیش، خوشگوار اور بے عیب زندگی کی صورت میں دکھاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کے پیغامات کو بغیر کسی تنقید کے قبول کر لیتے ہیں۔ امام علی (ع) بارہا دنیا اور اس کے فریب دینے والے مظاہر کو خوبصورت نقش و نگار والے سانپ یا میٹھے سبزہ زار سے تشبیہ دیتے ہیں، جس کا ظاہر نرم اور پرکشش ہے لیکن باطن میں مہلک زہر چھپا ہے۔ یہ بالکل ان دلکش ثقافتی مصنوعات کی مثال ہے جن کا مواد زہریلا ہوتا ہے۔ "مَثَلُهَا كَمَثَلِ الْأَفْعَى: لَيِّنٌ مَسُّهَا، وَ السَّمُّ النَّاقِعُ فِي جَوْفِهَا.” (41): دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہرِ ہلاہل بھرا ہوتا ہے۔

بالآخر، یہ چاروں خصوصیات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے ایک ایسا جامع ثقافتی ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہیں جس میں حملہ آور ثقافت کی اقدار کو ایک اجنبی عنصر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عالمی” اور ترقی یافتہ معیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ثقافتی یلغار کے محاذ

امیرالمؤمنین (ع) کے کلام میں غور و خوض کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ (ع) نے ثقافتی حملے کے مختلف محاذوں کی بڑی باریکی سے نشاندہی کی ہے۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ کسی معاشرے کا زوال فکر کی گمراہی سے شروع ہوتا ہے، اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، اور سیاسی اور سماجی اختلافات کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

الف) عقائد کے میدان میں حملہ (علمی و فکری جنگ)

حملے کی سب سے بنیادی اور خطرناک لہر، معاشرے کے فکری اور اعتقادی ڈھانچے پر ہوتی ہے۔ امام (ع) تمام فتنوں کی جڑ تلوار کو نہیں، بلکہ فکری گمراہی کو قرار دیتے ہیں۔ خطبہ ۵۰ میں، آپ (ع) نرم جنگ کی ماہیت کا ایک دقیق تجزیاتی نقطہ فراہم کرتے ہیں: "إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ، وَ أَحْکَامٌ تُبْتَدَعُ” (15): فتنوں کا آغاز صرف ان خواہشات کی پیروی سے ہوتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے، اور ان نئے (بدعتی) احکام سے ہوتا ہے (جو گھڑ لیے جاتے ہیں)۔ امام (ع) دو بنیادی عناصر متعارف کراتے ہیں:

"أَهْواءٌ تُتَّبَعُ” (وہ نفسانی خواہشات جن کی پیروی کی جاتی ہے): یہ وہی لذت پرستی اور ثقافتی لبرل ازم کا فروغ ہے جو طرزِ زندگی کو بدلنے اور مادی خواہشات کو اہمیت دینے پر مبنی ہے، جو اقدار کا معیار وحی سے ہٹا کر فرد کی خواہشات پر رکھ دیتا ہے۔

"أَحْکَامٌ تُبْتَدَعُ” (نئے اور بدعتی قوانین): یعنی ثقافتی انجینئرنگ اور غیر الٰہی اقدار پر مبنی قانون سازی ہے جو آہستہ آہستہ سماجی اصولوں کو بدل دیتی ہے۔ اس فکری حملے کا بنیادی ہتھیار شبہہ پیدا کرنا ہے۔ خطبہ ۳۸ میں امام (ع) شبہے کی ماہیت کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں: "وَ إِنَّمَا سُمِّیَتِ الشُّبْهَةُ شُبْهَةً لِأَنَّهَا تُشْبِهُ الْحَقَّ.” (16): شبہہ کو شبہہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حق سے مشابہت رکھتا ہے۔

اس ثقافتی یلغار میں، دشمن کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں باطل ہوں۔ بلکہ وہ باطل کو حق سے مشابہ لباس پہناتا ہے تاکہ اس کی پہچان مشکل ہو جائے۔

ب) اخلاق اور طرزِ زندگی کے میدان میں حملہ

فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کے بعد، اگلا قدم معاشرے کے رویوں اور طرزِ زندگی کو تبدیل کرنا ہے۔آپ (ع) نے عثمان بن حنیف کے نام خط جو لکھا ، وہ صرف ایک ذاتی اور انفرادی خط نہیں، بلکہ اشرافیت پسندی اور طرزِ زندگی کے میدان میں ثقافتی حملے کا مقابلہ کرنے کا ایک منشور ہے۔ "… أَلَا وَ إِنَّ إِمَامَکُمْ قَدِ اکْتَفَى مِنْ دُنْیَاهُ بِطِمْرَیْهِ وَ مِنْ طُعْمِهِ بِقُرْصَیْهِ.” (17): … اور جان لو کہ تمہارے امام نے اپنی دنیا سے دو پرانے کپڑوں اور اپنے کھانے سے دو روٹیوں پر اکتفا کیا ہے۔

امام (ع) واضح طور پر حکمرانوں (امام) کے طرزِ زندگی کو معاشرے (ماموم) کے لیے نمونہ عمل قرار دیتے ہیں۔ اگر حکمران عیش و عشرت اور اسراف و تبذیر کی طرف بڑھیں گے، تو یہ نمونہ تیزی سے معاشرے میں پھیل جائے گا۔ یہ خط ایک اجنبی طرزِ زندگی کو معمول بنانے کے خلاف ایک انتباہ ہے جو اسلامی معاشرے کی شناخت (جو زہد اور سادگی پر مبنی ہے) کو نشانہ بناتا ہے۔

ج) سیاست اور سماج کے میدان میں حملہ

ثقافتی حملے کا حتمی مقصد سماجی ہم آہنگی کو ختم کرنا اور ایک قوم کے سیاسی عزم کو کمزور کرنا ہے۔ خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ)، قوموں کے عروج و زوال کی وجوہات پر ایک بے مثال سماجی و تاریخی تجزیہ فر ماتے ہیں۔ امام (ع) گزشتہ قوموں کی کامیابی اور عزت کا راز "وَحْدَة الكَلِمَة” (اتحاد اور یکجہتی) اور ان کی شکست کا راز "الفُرْقَة” (تفرقہ) اور عزتِ نفس کے کھو جانے کو قرار دیتے ہیں۔ "فَانْظُرُوا إِلَى مَا صَارُوا إِلَیْهِ فِی آخِرِ أُمُورِهِمْ، حِینَ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ، وَ تَشَتَّتَتِ الْأُلْفَةُ… (18)” پس دیکھو کہ وہ کیسے تھے جب ان کی جماعتیں متحد تھیں اور خواہشات ہم آہنگ… اور پھر دیکھو کہ اپنے آخری ایام میں وہ کس حال کو پہنچے، جب تفرقہ واقع ہوا اور محبت بکھر گئی۔

یہ خطبہ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی حکمت عملی کو بڑی دقت سے بیان کرتا ہے۔ دشمن، قومی، مذہبی اور طبقاتی اختلافات کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو ختم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف، ایک قوم کی تاریخ کی تحقیر اور اجنبی ثقافت کی برتری کو فروغ دے کر، ثقافتی عزتِ نفس کو تباہ کر دیا جاتا ہے اور معاشرہ خود باختگی کا شکار ہو کر غلبہ قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہی عمل ہے جو پہلے ثقافتی اور پھر سیاسی استعمار کی راہ ہموار کرتا ہے۔

ثقافتی یلغار کے مقابلے میں دفاعی حکمت عملی

امام علی علیہ السلام نے اپنے دور کے معاشرے کے لوگوں کو ان کے باطنی کردار اور رجحانات کی بنیاد پر چار گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے: (خطبہ 32)

1۔ مجبوری کی وجہ سے فساد نہ کرنے والے: یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ فساد نہیں کرتے، لیکن اس کی وجہ ان کی نیکی نہیں بلکہ ان کی اپنی ذلت، کمزوری (کَلَالَةُ حَدِّهِ) اور مالی بے بسی (نَضِيضُ وَفْرِهِ) ہے۔ اگر انہیں موقع ملے تو وہ بھی فساد پھیلانے سے گریز نہ کریں۔

2۔ اعلانیہ شر پھیلانے والے (دین فروش): یہ وہ گروہ ہے جو تلواریں بے نیام کر کے کھلم کھلا شر اور فساد کا اعلان کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے دین کو معمولی دنیاوی فائدے، جیسے کسی چھوٹے لشکر کی قیادت، حکومتی عہدے یا منبر پر بیٹھنے کے لیے تباہ کر دیتے ہیں۔ امامؑ نے اس تجارت کو بدترین سودا قرار دیا: "وَ لَبِئْسَ الْمَتْجَرُ أَنْ تَرَى الدُّنْيَا لِنَفْسِكَ ثَمَناً وَ مِمَّا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عِوَضاً” (یہ کتنی بری تجارت ہے کہ تم دنیا کو اپنی جان کی قیمت سمجھو اور اس کے بدلے میں وہ لو جو اللہ کے ہاں تمہارے لیے ہے)۔

3۔ دکھاوے کے متقی (ریاکار): یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کے اعمال (نماز، روزہ، زہد) کے ذریعے دنیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر آخرت کا عمل نہیں کرتے بلکہ دنیا طلبی کے لیے دین کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔ خود کو متقی اور امانت دار ظاہر کرتے ہیں اور اللہ کے پردے (سِتْرَ اللَّهِ) کو گناہوں تک پہنچنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔

4۔ جھوٹے زاہد (محروم اور مجبور): یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی کم ہمتی اور وسائل کی عدم دستیابی نے دنیاوی عہدوں اور اقتدار سے دور رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی اس مجبوری اور محرومی کو قناعت کا خوبصورت نام دے دیا ہے اور زاہدوں جیسا لباس پہن کر خود کو دنیا سے بے رغبت ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ زاہد نہیں ہیں۔

ثقافتی حملے کی نوعیت اور اس کی گہرائیوں کا عمیق فہم اور اس داخلی زوال کی تشخیص کے بعد، امام علیؑ نے ایک مضبوط مدافعتی نظام اور فعال ثقافتی کردار ادا کرنے کے لیے جامع دفاعی حکمت عملی پیش فرماتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بالکل اسی طرح کام کرتی ہے جیسے کسی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کیا جائے، تاکہ معاشرہ اندرونی طور پر اس قدر توانا اور مستحکم ہو جائے کہ کوئی بھی ثقافتی وائرس اس کی جڑوں میں سرایت نہ کر سکے۔

الف) اعتقادی بنیادوں اور توحیدی جہان بینی کی تقویت

کسی بھی تہذیب کی روح اور اس کی شناخت کی اساس، اس کی جہان بینی (Worldview) ہوتی ہے۔ جو معاشرہ آغازِ کائنات (مبدأ) اور انجامِ کائنات (معاد) کے بارے میں گہری عقلی معرفت رکھتا ہو، وہ مادیت پرستی، لادینیت (Nihilism) اور لذت پرستی پر مبنی نظریات کے سامنے ایک فولادی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ امام علیؑ کی نظر میں توحید محض ایک رسمی عقیدہ نہیں، بلکہ ایک مربوط اور جامع فکری نظام کی بنیاد ہے۔

نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ، معرفت اور خدا شناسی کا ایک بے مثال دستور ہے۔ آپؑ کا فرمان: ”أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ، وَ کَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِیقُ بِهِ، وَ کَمَالُ التَّصْدِیقِ بِهِ تَوْحِیدُهُ“ (19) (دین کا آغاز اس کی معرفت ہے، معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے اور تصدیق کا کمال اس کی توحید ہے)، معاشرے کو تقلید کی سطح سے نکال کر تحقیق اور معرفت کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ایمان ہے جو شکوک و شبہات کے طوفانوں میں متزلزل نہیں ہوتا اور جدید دور کی فکری گمراہیوں کا بہترین اور مضبوط ترین قلعه ہے۔

جیسا کہ امام عالی مقام نے خبردار فرمایا: «فَتَزِيغُ قُلُوبٌ بَعْدَ اسْتِقَامَةٍ» (پس دل، استقامت کے بعد، کجی اور انحراف کا شکار ہو جاتے ہیں) (خطبہ ۱۵۱)۔ ایک پختہ عقیدہ اور غیر متزلزل ایمان ہی صراطِ مستقیم کے دفاع کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ثقافتی یلغار کا پہلا ہدف ہمیشہ عقیدہ ہی ہوتا ہے، کیونکہ جب یہ مورچہ کمزور پڑ جائے تو باقی مورچوں پر قبضہ کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔

ب) بصیرت اور عقلانیت پر زور

نرم جنگ کا سب سے کارگر ہتھیار شبہہ ہے، جو حق و باطل کے درمیان ایسی دھند پیدا کرتا ہے کہ راستے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس فکری دھند کو چھانٹنے اور حق کو باطل سے جدا کرنے کا واحد ذریعہ عقلِ سلیم اور بصیرتِ عمیق ہے۔ امام علیؑ معاشرے کو آنکھیں بند کر کے ہر بات مان لینے کے بجائے، غور و فکر اور تجزیے کی دعوت دیتے ہیں۔

حکمت ۱۳۱ میں آپؑ عقل کو سب سے بڑی دولت قرار دیتے ہیں: «لَا غِنَى کَالْعَقْلِ» (عقل جیسی کوئی ثروت نہیں)۔ یہی عقل فکری حملوں کے مقابلے میں اصل سرمایہ ہے۔ اسی طرح خطبہ ۱۵۴ میں صاحبِ بصیرت کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں: «إِنَّمَا الْبَصِيرُ مَنْ سَمِعَ فَتَفَكَّرَ، وَ نَظَرَ فَأَبْصَرَ» (یقیناً صاحبِ بصیرت وہ ہے جو سنے تو غور و فکر کرے، اور دیکھے تو گہرائی سے سمجھے)۔ سننے اور دیکھنے کے بعد غور و فکر کا یہی عمل درحقیقت وہ تنقیدی سوچ اور میڈیا خواندگی ہے، جسے آج کے دور میں پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔

ج) دینی و تاریخی اصولوں کا احیاء

ثقافتی یلغار کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہدف معاشرہ ’خود باختگی اور احساسِ کمتری کے زہر کا شکار ہو جائے؛ وہ اپنی شناخت کو حقیر اور حملہ آور کی تہذیب کو برتر سمجھنے لگے۔ اس نفسیاتی مرض کا علاج اپنی شاندار تاریخ سے جڑنے اور عظیم اسلاف کے نمونوں کو مشعلِ راہ بنانے میں پوشیدہ ہے، تاکہ معاشرے میں ثقافتی عزتِ نفس کی روح بیدار ہو۔

امام علیؑ بار بار امت کو رسول اکرم (ص) کی سیرت کو کامل ترین نمونے کے طور پر اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ خطبہ قاصعہ (۱۹۲) میں آپ صدرِ اسلام میں مسلمانوں کی عزت و سربلندی کو اتحاد اور پیغمبرِ اکرمؐ کی پیروی کا ثمر قرار دیتے ہیں اور اس کا موازنہ اپنے دور کے تفرقے اور پستی سے کر کے معاشرے کو ایک بیدار تاریخی شعور عطا کرتے ہیں۔ اپنی جڑوں کی طرف یہ واپسی، معاشرے کو احساسِ کمتری کے مہلک مرض سے محفوظ کر دیتی ہے۔

اقدامی حکمت عملی

نہج البلاغہ محض دفاع اور گوشہ نشینی کی تعلیم نہیں دیتا۔ ایک زندہ تہذیب کو لازماً تخلیقی اور اپنی اقدار کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والا ہونا چاہیے۔ امام علیؑ ایسی حکمت عملیاں وضع کرتے ہیں جو اسلامی معاشرے کو ایک دفاعی وجود سے ایک مؤثر نرم طاقت اور عالمی تہذیب کے میدان میں ایک فعال کردار میں تبدیل کر دیں۔

الف) برتر نمونے کا تعارف اور فروغ

ایک حملہ آور ثقافتی ماڈل کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ صرف اس کی نفی کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا متبادل نظامِ حیات پیش کرنا ہے جو اس سے کہیں زیادہ پرکشش، کامل اور انسانیت کی فطرت سے ہم آہنگ ہو۔ امام علیؑ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی نظام تک ایک ایسا جامع ماڈل پیش کرتے ہیں جو اگر نافذ ہو جائے تو خودبخود دنیا کے لیے ایک متاثر کن نمونہ بن جائے۔

مالک اشتر کے نام تحریر کردہ نامہ ۵۳، ایک عادل، انسانیت نواز، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کا ایک بے مثال منشور ہے۔ یہ مکتوب محض ایک دفاعی ہدایت نامہ نہیں، بلکہ دنیا کے تمام استکباری اور غیر منصفانہ نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں ایک بہترین عقل پسند اور متبادل تہذیبی منصوبہ ہے۔ یہ خط درحقیقت میدانِ حکمرانی میں اسلام کی نرم طاقت کا نقطہ عروج ہے۔

ب) علم کے فروغ کے لیے مسجد کوفہ کو ایک کھلی دانش گاہ بنانا

جو معاشرہ علم و دانش کی پیداوار میں آگے ہو، وہ فطری طور پر دنیا کی فکری قیادت سنبھال لیتا ہے اور اپنی ثقافت کو علم کے وسیلے سے برآمد کرتا ہے۔ اس کے برعکس، علم کی تخلیق سے دستبردار ہو کر دوسروں کے علم کا محض استعمال کنندہ بن جانا، ان کے ثقافتی تسلط کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔

امام علیؑ کا یہ مشہور فرمان "سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی” (20) (مجھ سے پوچھ لو، قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو)، صرف ایک علمی برتری کا دعویٰ نہیں، بلکہ معاشرے میں ایک علمی تحریک اور علم کی پیداوار کی نہضت برپا کرنے کی پکار ہے۔ یہ جملہ ثقافتی آزادی اور طاقت کی بنیاد کے طور پر علم کی تخلیق و ترویج کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ آپ کا مسجد میں ہر خاص و عام کے فکری، فقہی اور اعتقادی سوالات کا جواب دینا، علم کے حصول اور سوال کرنے کے کلچر کو عام کرنے کی ایک عملی دعوت تھی۔

ج) امر بالمعروف و نہی عن المنکر (اندرونی اصلاح کا متحرک نظام)

یہ اصول اسلامی معاشرے کا خود اصلاحی اور متحرک نظام ہے۔ جو معاشرہ اپنی داخلی خرابیوں پر نظر رکھے اور مسلسل اپنی اصلاح کرتا رہے، وہ اندر سے کھوکھلا نہیں ہوتا اور نتیجتاً بیرونی حملوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر بن جاتا ہے۔ یہ اصول معاشرے کو جمود اور موت سے نکال کر دائمی حرکت اور زندگی عطا کرتا ہے۔

حکمت ۳۷۴ میں امام علیؑ اس اصول کو تمام نیک اعمال، حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بھی برتر قرار دیتے ہیں: «وَ مَا أَعْمَالُ الْبِرِّ کُلُّهَا وَ الْجِهَادُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ عِنْدَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّهْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ إِلَّا کَنَفْثَةٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ» (تمام نیک اعمال اور راہِ خدا میں جہاد بھی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک گہرے سمندر میں ایک پھونک سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے)۔ یہ حیرت انگیز تشبیہ معاشرے کی صحت اور بقا کے لیے اس اصول کی کلیدی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

د) جہادِ تبیین (نفسیاتی جنگ کا توڑ اور فعال روشنگری)

دشمن کی فکری جنگ اور پروپیگنڈے کے مقابلے میں، جو جھوٹ اور افواہوں کے ذریعے حقائق کو مسخ کرتا ہے، واحد راستہ ایک فعال اور مسلسل ’جہادِ تبیین‘ (حقائق کو واضح کرنے کی جدوجہد) ہے۔ اس جہاد کا مقصد دشمن کے مذموم مقاصد کو بے نقاب کرنا، شکوک و شبہات کا مدلل جواب دینا اور واقعات کی درست منظر کشی پیش کرنا ہے۔

امام علیؑ کے خطبات اور خطوط کا ایک بڑا حصہ جہادِ تبیین کی بہترین مثال ہے۔ مثال کے طور پر، معاویہ کے جھوٹے پروپیگنڈے کے جواب میں لکھا گیا نامہ ۲۸، میڈیا وار اور حقائق کو بے نقاب کرنے کا ایک شاہکار ہے۔ ان تحریروں میں امامؑ محض دفاعی پوزیشن اختیار نہیں کرتے، بلکہ ایک مضبوط اور مدلل بیانیے کے ساتھ نفسیاتی جنگ میں پہل دشمن کے ہاتھ سے چھین لیتے ہیں۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جس کی آج بیانیوں کی جنگ کے میدان میں اشد ضرورت ہے۔

نتیجہِ تحقیق (حاصلِ کلام)

اس تحقیق کا حتمی ماحصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ، غیر محسوس اور ثقافتی یلغار (نرم جنگ) کے تسلط سے نکلنے کے لیے، مسلم معاشروں کو محض سطحی، دفاعی یا جذباتی ردِعمل سے بالاتر ہو کر ایک مستحکم اسٹریٹجک اور نظریاتی بنیاد کی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ یہ بنیاد کلامِ امیرالمومنینؑ (نہج البلاغہ) کی صورت میں ہمارے پاس ایک کامل منشور کے طور پر موجود ہے، جو تاریخ کے اوراق میں قید کوئی اخلاقی دستاویز نہیں، بلکہ دورِ حاضر کے چیلنجز کے لئے سب سے مؤثر اور نقشہِ راہ ہے۔

علوی مکتبِ فکر میں ثقافتی بقاء کا تصور محض اپنے دروازے بند کرنے، اجنبی تہذیب سے خوفزدہ ہونے یا اندھی رسوم پرستی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا پہلا قدم دفاعی حکمتِ عملی ہے، جو عقلانیت، بصیرتِ عمیق، تاریخی شعور اور توحیدی جہان بینی کے ذریعے معاشرے کے داخلی مدافعتی نظام ک و اس قدر توانا کر دیتی ہے تاکہ ثقافتی بالادستی اور معمول سازی کے زہر معاشرے کی رگوں میں سرایت ہی نہ کر سکیں۔

تاہم، اس تحقیق کی سب سے بڑی دریافت علوی مکتبِ فکر کی اقدامی حکمت عملی ہے۔ امام علیؑ ہمیں یہ عظیم سبق دیتے ہیں کہ تہذیبی تصادم میں بہترین دفاع، دراصل ایک مؤثر اور عالمانہ پیش قدمی ہے۔ جب تک ہم جہادِ تبیین کے ذریعے باطل کے دلفریب اور فریب خوردہ چہروں کو بے نقاب نہیں کرتے، علم کی پیداوار کو اپنا شعار نہیں بناتے، تب تک ثقافتی محاذ پر حقیقی کامیابی ناممکن ہے۔

مختصر یہ کہ، ثقافتی یلغار کے اس کٹھن دور میں، نہج البلاغہ کا عمیق مطالعہ ہمیں تہذیبی مرعوبیت اور انفعالیت کی تاریکی سے نکال کر ایک فعال، متحرک اور خودارادی پر مبنی تمدن کی جانب گامزن کرتا ہے۔ امیرالمومنینؑ کی یہ حکمتِ عملیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ اسلامی معاشرہ نہ صرف اپنی شناخت اور روحانی اقدار کو استکباری یلغار سے محفوظ رکھ سکتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک متبادل، پرکشش اور انسان ساز، نرم طاقت کے طور پر ابھر کر فکری و ثقافتی قیادت کا فریضہ بھی سرانجام دے سکتا ہے۔

حوالہ جات

[1] سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغه، تحقیق: صبحی صالح، خطبه ۵۰۔
[2] جعفری، محمد تقی، (۱۳۷۹ھ.ش)، فرهنگ پیرو و فرهنگ پیشرو، ص ۵۶۔
[3] ڈیورانٹ، وِل، تاریخ تمدن، ج ۱، ص ۳۔
[4] قرآن کریم، سورہ ابراہیم، آیت ۲۴
[5] مطہری، مرتضیٰ، خدمات متقابل اسلام و ایران، ص ۱۶۵۔
[6] مصباح یزدی، محمد تقی، تهاجم فرهنگی، ص ۳۵۔
[7] گرامشی، آنتونیو ، ص ۱۲، ۳۲۳
[8] سید رضی، محمد بن حسین. نہج البلاغه، خطبه ۵۰.
[9] ایضاً، خطبه ۱۵۱.
[10] ایضاً، حکمت ۱۴۷.
[11] نهچ البلاغه ، نسخه صبحی صالح ، خطبه 151
[12] شرح نهج البلاغه، ابن میثم، ج3، ص223.
[13] ایضاً، خطبه ۷.
[14] ایضاً، حکمت ۱۱۹.
[15] ایضاً، خطبه ۵۰.
[16] ایضاً، خطبه ۳۸.
[17] ایضاً، مکتوب ۴۵.
[18] ایضاً، خطبه ۱۹۲.
[19] ایضا خطبه اول
[20] نهج البلاغه، خطبه 189

کتابیات

[] قرآن کریم
[1] سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغه، تحقیق: صبحی صالح، خطبه ۵۰۔
[2] ایضاً، خطبه ۷۔
[3] ایضاً، خطبه ۳۸۔
[4] ایضاً، خطبه ۱۵۱۔
[5] ایضاً، خطبه ۱۹۲۔
[6] ایضاً، مکتوب ۴۵۔
[7] ایضاً، حکمت ۱۱۹۔
[8] ایضاً، حکمت ۱۴۷۔
[9] جعفری، محمد تقی، (۱۳۷۹ھ. ش)، فرهنگ پیرو و فرهنگ پیشرو،
[10] دورانت، ویل. (۱۳۷۸ھ.ش). تاریخ تمدن (مشرق زمین، گاهواره تمدن). ترجمه: احمد آرام، ع. پاشایی، امیرحسین آریان‌پور. تهران: شرکت انتشارات علمی و فرهنگی.
[11] مطہری، مرتضیٰ، (۱۳۸۸ھ.ش)، خدمات متقابل اسلام و ایران،
[12] مصباح یزدی، محمد تقی، (۱۳۷۶ھ.ش)، تهاجم فرهنگی،
[13] گرامشی، آنتونیو. (۱۳۸۶ھ.ش). دفترهای زندان. ترجمه: حسن مرتضوی و محمود متحد. تهران: نشر آگه.

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button