نہج البلاغہ سے 100 فرامین
امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے اقوال و فرامین

﷽
فرمان 1
كَفٰى بِالْمَرْءِ جَهْلًاۤ اَلَّا یَعْرِفَ قَدْرَهٗ،
انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ وہ اپنی قدر و منزلت کو نہ پہچانے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 16)
فرمان 2
تَخَفَّفُوْا تَلْحَقُوْا،
ہلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھنے والوں کو پا سکو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 21)
فرمان 3
فِرُّوْا اِلَى اللهِ مِنَ اللهِ
اللہ کے غضب سے بھاگ کر اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 24)
فرمان 4
اِنَّ اَخْوَفَ مَاۤ اَخَافُ عَلَیْكُمُ: اتِّبَاعُ الْهَوٰى وَ طُوْلُ الْاَمَلِ،
مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ دو ہی چیزوں کا خطرہ ہے: ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاؤ۔
(نہج البلاغہ خطبہ 28)
فرمان 5
اِعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ بِعَیْنِ اللهِ
یقین رکھو کہ تم اللہ کے رُو بُرو ہو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 64)
فرمان 6
لَا تَنْسَوْا عِنْدَ النِّعَمِ شُكْرَكُمْ
نعمتوں کے وقت شکر کو بھول نہ جاؤ۔
(نہج البلاغہ خطبہ 79 )
فرمان 7
اَلسَّعِیْدُ مَنْ وُّعِظَ بِغَیْرِهٖ،
نیک بخت وہ ہے جس نے دوسروں سے پند و نصیحت کو حاصل کر لیا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 84)
فرمان 8
اَلشَّقِیُّ مَنِ انْخَدَعَ لِهَوَاهُ
بدبخت وہ ہے جو ہوا و ہوس کے چکر میں پڑ گیا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 84)
فرمان 9
زِنُوْۤا اَنْفُسَكُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُوْزَنُوْا
اپنے نفسوں کو تولے جانے سے پہلے تول لو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 88)
فرمان 10
اَلْعَالِمُ مَنْ عَرَفَ قَدْرَهٗ،
عالم وہ ہے جو اپنا مرتبہ شناس ہو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 101)
فرمان 11
تَعَلَّمُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّهٗ اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ
قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 108)
فرمان 12
لَا تَعْجَلْ فِیْ عَیْبِ اَحَدٍۭ بِذَنْۢبِهٖ فَلَعَلَّهٗ مَغْفُوْرٌ لَّهٗ
جھٹ سے کسی پر گناہ کا عیب نہ لگا، شاید اللہ نے وہ بخش دیا ہو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 138)
فرمان 13
كَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ، وَكَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ
جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے، جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 151)
فرمان 14
طُوْبٰی لِمَنْ شَغَلَهٗ عَیْبُهٗ عَنْ عُیُوْبِ النَّاسِ،
لائق مبارکباد وہ شخص ہے جسے اپنے عیوب دوسروں کی عیب گیری سے باز رکھیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 174)
فرمان 15
فِی الزَّلَازِلِ وَقُوْرٌ، وَ فِی الْمَكَارِهِ صَبُوْرٌ، وَ فِی الرَّخَآءِ شَكُوْرٌ
یہ (متقی) مصیبت کے جھٹکوں میں کوہ ِحلم و وقار، سختیوں پر صابر اور خوشحالی میں شاکر رہتا ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 191)
فرمان 16
دَعِ الْقَوْلَ فِیْمَا لَا تَعْرِفُ، وَ الْخِطَابَ فِیْمَا لَمْ تُكَلَّفْ،
جو چیز جانتے نہیں ہو اس کے متعلق بات نہ کرو اور جس چیز کا تم سے تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ۔
(نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 17
اَمْسِكْ عَنْ طَرِیْقٍ اِذَا خِفْتَ ضَلَالَتَهٗ
جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس راہ میں قدم نہ اٹھاؤ۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 18
فَاَحْبِبْ لِغَیْرِكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَ اكْرَهْ لَهٗ مَا تَكْرَهُ لَهَا
جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو اور جو اپنے لیے نہیں چاہتے اُسے دوسروں کے لیے بھی نہ چاہو۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 19
لَا تَظْلِمْ كَمَا لَا تُحِبُّ اَنْ تُظْلَمَ
جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تم پر زیادتی نہ ہو یونہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ کرو۔و
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 20
لَا تَكُنْ عَبْدَ غَیْرِكَ وَ قَدْ جَعَلَكَ اللهُ حُرًّا،
دوسروں کے غلام نہ بن جاؤ جب کہ اللہ نے تمہیں آزاد بنایا ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 21
مَرَارَةُ الْیَاْسِ خَیْرٌ مِّنَ الطَّلَبِ اِلَى النَّاسِ،
یاس کی تلخی سہ لینا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 22
مَنْ اَكْثَرَ اَهْجَرَ
جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 23
اَلْمَرْءُ اَحْفَظُ لِسِرِّهٖ
انسان خود ہی اپنے راز کو خوب چھپا سکتا ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 24
قَارِنْ اَهْلَ الْخَیْرِ تَكُنْ مِّنْهُمْ، وَبَایِنْ اَهْلَ الشَّرِّ تَبِنْ عَنْهُمْ
نیکوں سے میل جول رکھو گے تو تم بھی نیک ہو جاؤ گے، بُروں سے بچے رہو گے تو ان (کے اثرات) سے محفوظ رہو گے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 25
اَلْعَقْلُ حِفْظُ التَّجَارِبِ،
تجربوں کو محفوظ رکھنا عقلمندی ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 26
بَادِرِ الْفُرْصَةَ قَبْلَ اَنْ تَكُوْنَ غُصَّةً
فرصت کا موقع غنیمت جانو قبل اس کے کہ وہ رنج و اندوہ کا سبب بن جائے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 27
لَا خَیْرَ فِیْ مُعِیْنٍ مَّهِیْنٍ، وَ لَا فِیْ صَدِیْقٍ ظَنِیْنٍ
پست طینت مددگار میں کوئی بھلائی نہیں اور نہ بدگمان دوست میں۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 28
اَلْغَرِیْبُ مَنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ حَبِیْبٌ
پردیسی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 29
فَاِنَّ الْمَرْاَةَ رَیْحَانَةٌ، وَ لَیْسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ
عورت ایک پھول ہے، وہ کار فرما اور حکمران نہیں ہے۔
( نہج البلاغہ وصیت 31)
فرمان 30
اِيَّاكَ وَ مَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ
کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ تمہیں معذرت کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
(نہج البلاغہ مکتوب 33)
فرمان 31
لَا تَكُنْ عِنْدَ النَّعْمَآءِ بَطِرًا
نعمتوں کی فراوانی کے وقت کبھی اتراؤ نہیں۔
(نہج البلاغہ مکتوب 34)
فرمان 32
لَا تُسْرِعَنَّ اِلٰى بَادِرَةٍ وَّجَدْتَ مِنْهَا مَنْدُوْحَةً.
غصہ میں جلد بازی سے کام نہ لو، جبکہ اس کے ٹال دینے کی گنجائش ہو۔
(نہج البلاغہ مکتوب 53)
فرمان 33
مَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللّٰهِ كَانَ اللّٰهُ خَصْمَهٗ دُوْنَ عِبَادِهٖ،
جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کی بجائے اللہ اس کا حریف و دشمن بن جاتا ہے۔
(نہج البلاغہ مکتوب 53)
فرمان 34
فَاجْتَنِبْ مَا تُنْكِرُ اَمْثَالَهٗ
دوسروں کے جن کاموں کو تم برا سمجھتے ہو ان سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔
(نہج البلاغہ مکتوب 59)
فرمان 35
وَعْتَبِرْ بِمَا مَضٰى مِنَ الدُّنْیَا مَا بَقِیَ مِنْهَا،
گزری ہوئی دنیا سے باقی دنیا کے بارے میں عبرت حاصل کر و۔
(نہج البلاغہ مکتوب 69)
فرمان 36
وَقِّرِ اللّٰهَ، وَ اَحْبِبْ اَحِبَّآءَهُ،
اللہ کی عظمت و توقیر کا خیال رکھو، اور اس کے دوستوں سے دوستی کرو۔
(نہج البلاغہ مکتوب 69)
فرمان 37
احْذَرِ الْغَضَبَ، فَاِنَّهٗ جُنْدٌ عَظِیْمٌ مِنْ جُنُوْدِ اِبْلِیْسَ
غصے سے ڈرو، کیونکہ یہ شیطان کے لشکروں میں سے ایک بڑا لشکر ہے۔
( نہج البلاغہ مکتوب 69)
فرمان 38
اَزْرٰى بِنَفْسِهٖ مَنِ اسْتَشْعَرَ الطَّمَعَ،
جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا اس نے اپنے کو سبک کیا،
(نہج البلاغہ حکمت 2 )
فرمان 39
رَضِیَ بِالذُّلِّ مَنْ كَشَفَ عَنْ ضُرِّهٖ،
جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہو گیا۔
(نہج البلاغہ حکمت 2)
فرمان 40
اَلْمُقِلُّ غَرِیْبٌ فِیْ بَلْدَتِهٖ
مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 3)
فرمان 41
اَلْعِلْمُ وِرَاثَۃٌ كَرِیْمَةٌ،
علم شریف ترین میراث ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 4)
فرمان 42
صَدْرُ الْعَاقِلِ صُنْدُوْقُ سِرِّهٖ،
عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 5)
فرمان 43
اَلْبَشَاشَةُ حِبَالَةُ الْمَوَدَّةِ،
کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے۔
( نہج البلاغہ حکمت 5)
فرمان 44
اَشْرَفُ الْغِنٰى تَرْكُ الْمُنٰى.
بہترین دولتمندی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے۔
(نہج البلاغہ حکمت 34)
فرمان 45
اَوْحَشَ الْوَحْشَةِ الْعُجْبُ،
سب سے بڑی وحشت غرور و خود بینی ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 38)
فرمان 46
وَ اَكْرَمَ الْحَسَبِ حُسْنُ الْخُلُقِ.
سب سے بڑا جوہر ذاتی حسنِ اخلاق ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 38)
فرمان 47
قَدْرُ الرَّجُلِ عَلٰى قَدْرِ هِمَّتِهٖ،
انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے،
( نہج البلاغہ حکمت 47)
فرمان 48
اَلظَّفَرُ بِالْحَزْمِ
کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے،
(نہج البلاغہ حکمت 48)
فرمان 49
قُلُوْبُ الرِّجَالِ وَحْشِیَّةٌ، فَمَنْ تَاَلَّفَهَا اَقْبَلَتْ عَلَیْهِ.
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں، جو ان کو سدھائے گا اس کی طرف جھکیں گے۔
(نہج البلاغہ حکمت 50)
فرمان 50
اَوْلَى النَّاسِ بِالْعَفْوِ اَقْدَرُهُمْ عَلَى الْعُقُوْبَةِ.
معاف کرنا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزا دینے پر قادر ہو۔
(نہج البلاغہ حکمت 52)
فرمان 51
لَا مِیْرَاثَ كَالْاَدَبِ،
ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 54)
فرمان 52
اَلْقَنَاعَةُ مَالٌ لَّا یَنْفَدُ
قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
(نہج البلاغہ حکمت 57)
فرمان 53
اَللِّسَانُ سَبُعٌ، اِنْ خُلِّیَ عَنْهُ عَقَرَ.
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے۔
(نہج البلاغہ حکمت 60)
فرمان 54
فَقْدُ الْاَحِبَّةِ غُرْبَةٌ.
دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 65)
فرمان 55
اِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْكَلاَمُ.
جب عقل بڑھتی ہے تو باتیں کم ہو جاتی ہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 71)
فرمان 56
قِیْمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَّا یُحْسِنُهٗ.
ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 81)
فرمان 57
لَا كَرَمَ كَالتَّقْوٰى۔ لَا قَرِیْنَ كَحُسْنِ الْخُلْقِ۔۔۔ لَا وَرَعَ كَالْوُقُوْفِ عِنْدَ الشُّبْهَةِ۔۔۔لَا زُهْدَ كَالزُّهْدِ فِی الْحَرَامِ
کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں۔خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی نہیں۔۔۔ادب کے مانند کوئی میراث نہیں۔۔۔کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں۔۔۔حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد نہیں
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 58
لَا عِبَادَةَ كَاَدَاۤءِ الْفَرآئِضِ،
ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت نہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 59
لَاۤ اِیْمَانَ كَالْحَیَآءِ وَ الصَّبْرِ
حیاء و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں،
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 60
لَا حَسَبَ كَالتَّوَاضُعِ،
فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 61
لَا شَرَفَ كَالْعِلْمِ،
علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں،
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 62
لَا عِزَّ کَالْحِلْمِ،
حلم کے مانند کوئی عزت نہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 113)
فرمان 63
عِظَمُ الْخَالِقِ عِنْدَكَ یُصَغِّرُ الْـمَخْلُوْقَ فِیْ عَیْنِكَ.
اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کر دے۔
(نہج البلاغہ حکمت 129)
فرمان 64
اِسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَةِ.
صدقہ کے ذریعہ روزی طلب کرو۔
(نہج البلاغہ حکمت 137)
فرمان 65
اَلتَّوَدُّدُ نِصْفُ الْعَقْلِ.
میل محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 142)
فرمان 66
اَلْمَرْءُ مَخْبُوْءٌ تَحْتَ لِسَانِهٖ.
انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 148)
فرمان 67
هَلَكَ امْرُؤٌ لَّمْ یَعْرِفْ قَدْرَهٗ.
جو شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 148)
فرمان 68
لَا تَكُنْ مِّمَّنْ یَّرْجُو الْاٰخِرَةَ بِغَیْرِ الْعَمَلِ
تم کو ان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسنِ انجام کی امید رکھتے ہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 150)
فرمان 69
عَاتِبْ اَخَاكَ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْهِ، وَ ارْدُدْ شَرَّهٗ بِالْاِنْعَامِ عَلَیْهِ.
اپنے بھائی کو شرمندۂ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔
(نہج البلاغہ حکمت 158)
فرمان 70
اَلنَّاسُ اَعْدَآءُ مَا جَهِلُوْا.
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔
(نہج البلاغہ حکمت 172)
فرمان 71
اٰلَةُ الرِّیَاسَةِ سَعَةُ الصَّدْرِ.
سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 176)
فرمان 72
مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهٗ رَبِـحَ، وَ مَنْ غَفَلَ عَنْهَا خَسِرَ،
جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو غفلت کرتا ہے وہ نقصان میں رہتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 208)
فرمان 73
اَلْجُوْدُ حَارِسُ الْاَعْرَاضِ،
سخاوت، عزت و آبرو کی پاسبان ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 211)
فرمان 74
اَلْعَفْوُ زَكٰوةُ الظَّفَرِ،
درگزر کرنا کامیابی کی زکوٰة ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 211)
فرمان 75
اَلسُّلُوُّ عِوَضُكَ مِمَّنْ غَدَرَ
جو غداری کرے اسے بھول جانا اس کا بدل ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 211)
فرمان 76
اَغْضِ عَلَى الْقَذٰى وَ اِلَّا لَم تَرْضَ اَبَدًا.
تکلیف سے چشم پوشی کر و، ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔
(نہج البلاغہ حکمت 213)
فرمان 77
مَنْ لَّانَ عُوْدُهٗ كَثُفَتْ اَغْصَانُهٗ.
جس (درخت) کی لکڑی نرم ہو اس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 214)
فرمان 78
فِیْ تَقَلُّبِ الْاَحْوَالِ عِلْمُ جَوَاهِرِ الرِّجَالِ.
حالات کے پلٹوں ہی میں مَردوں کے جو ہر کھلتے ہیں۔
(نہج البلاغہ حکمت 217)
فرمان 79
بِئْسَ الزَّادُ اِلَى الْمَعَادِ الْعُدْوَانُ عَلَى الْعِبَادِ.
آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔
(نہج البلاغہ حکمت 221)
فرمان 80
بِالنَّصَفَةِ یَكْثُرُ الْمُوَاصِلُوْنَ،
انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 224)
فرمان 81
بِاحْتِمَالِ الْمُؤَنِ یَجِبُ السُّؤْدَدُ
دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 224)
فرمان 82
اَلطَّامِعُ فِیْ وِثَاقِ الذُّلِّ.
طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 226)
فرمان 83
مَنْ یُعْطِ بِالْیَدِ الْقَصِیْرَةِ یُعْطَ بِالْیَدِ الطَّوِیْلَةِ.
جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 232)
فرمان 84
مَنْ ظَنَّ بِكَ خَیْرًا فَصَدِّقْ ظَنَّهٗ.
جو تم سے حسن ظن رکھے اس کے گمان کو سچا ثابت کرو۔
(نہج البلاغہ حکمت 248)
فرمان 85
اَلْحِدَّةُ ضَرْبٌ مِّنَ الْجُنُوْنِ،
غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 255)
فرمان 86
مَنْ تَذَكَّرَ بُعْدَ السَّفَرِ اسْتَعَدَّ.
جو سفر کی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 280)
فرمان 87
اَقَلُّ مَا یَلْزَمُكُمْ لِلّٰهِ اَنْ لَّا تَسْتَعِیْنُوْا بِنِعَمِهٖ عَلٰى مَعَاصِیْهِ.
اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔
(نہج البلاغہ حکمت 330)
فرمان 88
اَلْعَفَافُ زِیْنَةُ الْفَقْرِ، وَ الشُّكْرُ زِیْنَةُ الْغِنٰى.
فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 340)
فرمان 89
اَلْغِنَى الْاَكْبَرُ الْیَاْسُ عَمَّا فِیْۤ اَیْدِى النَّاسِ.
سب سے بڑی دولتمندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔
(نہج البلاغہ حکمت 342)
فرمان 90
مَنْ نَّظَرَ فِیْ عَیْبِ نَفْسِهِ اشْتَغَلَ عَنْ عَیْبِ غَیْرِهٖ
جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔
(نہج البلاغہ حکمت 349)
فرمان 91
مَنْ دَخَلَ مَدَاخِلَ السُّوْٓءِ اتُّهِمَ
جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا وہ بدنام ہو گا۔
(نہج البلاغہ حکمت 249)
فرمان 92
مَنْ كَثُرَ كَلَامُهٗ كَثُرَ خَطَؤُهٗ
جو زیادہ بولے گا وہ زیادہ لغزشیں کرے گا۔
(نہج البلاغہ حکمت 349)
فرمان 93
مَنْ ضَنَّ بِعِرْضِهٖ فَلْیَدَعِ الْمِرَآءَ.
جسے اپنی آبرو عزیز ہو وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 362)
فرمان 94
كَفٰۤى اَدَبًا لِّنَفْسِكَ تَجَنُّبُكَ مَا كَرِهْتَهٗ لِغَیْرِكَ.
نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔
(نہج البلاغہ حکمت 365)
فرمان 95
فَاخْزُنْ لِسَانَكَ كَمَا تَخْزُنُ ذَهَبَكَ
لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی حفاظت کرتے ہو۔
(نہج البلاغہ حکمت 381)
فرمان 96
اَلطُّمَاْنِیْنَةُ اِلٰى كُلِّ اَحَدٍ قَبْلَ الْاِخْتِبَارِ عَجْزٌ.
پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزوری ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 384)
فرمان 97
تَكَلَّمُوْا تُعْرَفُوْا، فَاِنَّ الْمَرْءَ مَخْبُوْٓءٌ تَحْتَ لِسَانِهٖ.
بات کرو! تاکہ پہچانے جاؤ، کیونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 392)
فرمان 98
ضَعْ فَخْرَكَ، وَ احْطُطْ كِبْرَكَ، وَ اذْكُرْ قَبْرَكَ.
فخر و سر بلندی کو چھوڑو، تکبر و غرور کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو۔
(نہج البلاغہ حکمت 398)
فرمان 99
اِفْعَلُوا الْخَیْرَ وَ لَا تَحْقِرُوْا مِنْهُ شَیْئًا
اچھے کام کر و اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔
(نہج البلاغہ حکمت 422)
فرمان 100
اَلْغِیْبَةُجُهْدُ الْعَاجِزِ.
کمزور کا یہی زور چلتا ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے برائی کرے۔
(نہج البلاغہ حکمت 461)




