نہج البلاغہ میں حکومت و سیاست کے اصول
ڈاکٹر نجم الحسن خان، پی ایچ ڈی (اردو)، ڈاکٹر قصور عباس خان، اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ بہاؤالدین زکریا، ملتان

﷽
ملخص:
زیرِ نظر مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں حکومت و سیاست کے بنیادی اصولوں کا جامع مطالعہ پیش کرتا ہے۔ نہج البلاغہ، حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کے خطبات، مکاتیب اور حکیمانہ اقوال کا وہ عظیم مجموعہ ہے جو انسانی زندگی کے اخلاقی، سماجی، سیاسی اور روحانی پہلوؤں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات فراہم کرتا ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی سیاسی فکر میں حکومت محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ عدل، امانت، خدمتِ خلق اور اخلاقی ذمہ داری کا مظہر ہے۔
مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ صالح حکمرانی کی بنیاد حکمران کے ذاتی اوصاف پر قائم ہوتی ہے، جن میں واضح مقصد، حسنِ سیاست، خود احتسابی، انصاف پسندی، دنیا سے بے رغبتی، سادگی اور عملی کردار شامل ہیں۔ حضرت علیؑ کے ارشادات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ حکمران کی اصل کامیابی اقتدار کے دوام میں نہیں بلکہ حق کے قیام اور باطل کے ازالے میں ہے۔ ایک منصف مزاج حکمران ہی معاشرے میں اعتماد، استحکام اور مساوات قائم کر سکتا ہے۔
تحقیق میں عوام کے ساتھ حکومتی روابط، محروم طبقات کے حقوق، بیت المال کی حفاظت، منصفانہ عدالتی نظام، بازار کی نگرانی اور معاشرتی ہم آہنگی کو ریاستی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخالفین سے اخلاقی رویہ، مذہبی رواداری، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور معاہدوں کی پابندی کو علوی سیاسی فکر کے نمایاں اصولوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔مزید برآں، مقالہ یہ واضح کرتا ہے کہ نہج البلاغہ میں جنگ و امن کے اصول بھی اعلیٰ انسانی اقدار پر مبنی ہیں، جہاں ظلم، انتقام، بے گناہوں کو نقصان اور بددیانتی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ حکمرانوں اور وزراء کے انتخاب میں دیانت، صلاحیت، حق گوئی اور خوشامد سے اجتناب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بالآخر یہ تحقیق اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ نہج البلاغہ میں پیش کردہ سیاسی اصول نہ صرف اسلامی معاشروں بلکہ عصرِ حاضر کی جدید ریاستوں کے لیے بھی قابلِ عمل اور عالمگیر رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جو ایک عادل، فلاحی اور اخلاقی ریاست کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
نہج البلاغہ امیر المومنین علیہ الصلاۃ والسلام کےخطبات، مکتوبات اور کلمات قصار کا مجموعہ ہے۔بظاہر یہ حضرت امیرؑ کے ارشادات ہیں لیکن حقیقت میں یہ لائحہ عمل اور دستورِ حیات ہیں۔ جس پر عمل پیرا ہو کر ہر انسان یکساں مستفیض ہو کر انسانِ کامل کے رتبے کو درک کر سکتا ہے۔کسی بھی ملک کے صاحبان اقتدار،اور ان کے ماتحت محکمہ جات اور عوام و خواص کےلیے راہ نما اصول اس کا حصہ ہیں۔نہج البلاغہ میں انسانی حیات کا دستور اور مثالی سیاست کے آفاقی اصول، ابتدا سے لے کے آج تک کہ حکمرانوں کے لیے حلال مشکلات ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی اور کلام میں ہر طرح کے لوگوں کے لیے یکساں رہنمائی تو موجود ہی ہے ساتھ میں حکومت و سیاست کے بنیادی اصول جو آپ کے مکاتیب اور عہد ناموں کی صورت میں موجود ہیں ،اہم سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہمارے پیش نظر چونکہ نہج البلاغہ میں حکومت و سیاست کے اصول ہیں ۔اس لیے مقالے میں انہی اصولوں کی پیش کش کو ممکن بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
بہترین سیاسی رویہ ایک ایسا عنصر ہے جو معاشرے کو کمال کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان اورحیوانی رویے بھی ہیں جو معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہ مثالی سیاسی رویہ علوی اسوہ کی طرف رجوع کرنے سے ملتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں وہی شخص اس سیاست کی اہلیت رکھتا ہے جس کے پاس "حسن سیاست "،اچھی سیاستہے۔ اچھی سیاست ایسی رہنمائی کی بنیاد ہے جس کے سایہ میں حق زندہ ہو اور باطل مٹ جائے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
مَنْ حَسُنَتْ سِیَاسَتُهُ وَجَبَتْ طَاعَتُهُ (1)
جس کی سیاست اچھی ہو، اس کی اطاعت واجب ہے اور فرمایا:
مَنْ حَسُنَتْ سِیَاسَتُهُ دَامَتْ رِیَاسَتُهُ (2)
جس کی سیاست اچھی ہو، اس کی رہنمائی باقی رہتی ہے۔
دوسری جگہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ الہی سیاست میں داخل ہونے کا پہلا قدم "اپنی سیاست اور تربیت” ہے:
مَنْ سَاسَ نَفْسَهُ أَدْرَكَ السِّیَاسَةَ (3)
جس نے اپنی سیاست و تربیت کی، اس نے سیاست کو پا لیا۔
1۔ اہلِ اقتدار و سیاست کے خصائص
صاحبانِ حکومت و سیاست کے اصولوں کو نہج البلاغہ میں مفصل بیان کیا گیا ہےجن کی عمومی درجہ بندی کچھ یوں کی جا سکتی ہے
1۔ رئیسِ حکومت کے ذاتی خصائص
2۔ دیگرسیاسی،مذہبی اور حکومتی مخالفین سے رویہ
3۔ عوام سے حکومتی و سیاسی روابط
4۔ بنیادی حکومتی شعبوں کا قیام اور ان کے اصولوں کی ترتیب
5۔ چند دیگر اصول حکومت و سیاست
1۔ رئیسِ حکومت کے ذاتی خصائص
اصول سیاست و حکومت کا پہلا مرحلہ اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ کسی حکمران کو کن صفات و خصائص کا حامل ہونا چاہیے اور حکمران کے پیش نظر حکومت کے اہداف اور اغراض و مقاصد کیا ہونے چاہیے۔اس مہم اور بنیادی نکتہ کے تناظر میں سیاسی اور حکومتی اصولوں کا تعین کیا جا سکتا ہے کیونکہ اگر حاکم یا صاحب حکومت خود ہی اہلیت نہیں رکھتا تو اس کو حق حکومت نہیں پہنچتا اور نا ہی وہ دوسروں کی صلاحیت کے بل بوتے پر فلاحی و مثالی ریاست کےقیام میں کامیاب ہو سکتا ہے۔نہج البلاغہ میں ہمیں صالح حکمران کے اوصاف کے واضح نشانی ملتی ہیں۔
I. واضح ہدف
حضرت علی علیہ السلام کے پیش نظر حکومت کے اہداف نہج البلاغہ میں یوں پیش ہوئے ہیں:
"میں مقامِ ذی قار میں حضرتؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپؑ اپنا جوتا ٹانک رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ: اے ابنِ عباس! اس جوتے کی کیا قیمت ہو گی؟ میں نے کہا کہ: اب تو اس کی کچھ بھی قیمت نہ ہو گی، تو آپؑ نے فرمایا کہ:
وَ اللهِ! لَهِیَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اِمْرَتِکُمْ، اِلَّاۤ اَنْ اُقِيْمَ حَقًّا، اَوْ اَدْفَعَ بَاطِلًا
اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے۔” (4)
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کہ اس فرمان عالی شان اور امام حسین علیہ السلام کی کربلا کی طرف روانگی کے وقت فرمان میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے دونوں شخصیات کے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کی نابودی تھی۔کسی بھی حق پرست حاکم کے پیش نظر اس سے بڑا ہدف نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر حکمرانوں کے پیش نظر بلند اہداف ہوں تو ایک اخلاقی ،سیاسی حکومت کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنے گا۔
II. باعمل و با کردار حاکم
کسی بھی صاحبِ حکومت کے لیے رعایا سے اس وقت عملدرآمد کرانا مشکل ہوجاتا ہے جب وہ خود بے عمل و بدکردار ہوتا ہے کیوں کہ یہ قرآنی حکم ہےکہ اس بات کا کہنے کا حق کسی کو نہیں ہوتا جسے وہ انجام دینے سے قاصر ہو (5) مزید برآں صاحبان اقتدار کو خود مروجہ اصولوں کا پابند اور اصولوں سے آگاہ ہونا چاہیے کیونکہ اس چیز پر کبھی بھی عمل نہیں ہوتا جس پر حکمران خود عمل نہ کرتے ہوں۔ اس بارے میں حضرت نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ نَّصَبَ نَفْسَهٗ لِلنَّاسِ اِمَامًا، فَلْیَبْدَاْ بِتَعْلِیْمِ نَفْسِهٖ قَبْلَ تَعْلِیْمِ غَیْرِهٖ، وَ لْیَكُنْ تَاْدِیْبُهٗ بِسِیْرَتِهٖ قَبْلَ تَاْدِیْبِهٖ بِلِسَانِهٖ، وَ مُعَلِّمُ نَفْسِهٖ وَ مُؤَدِّبُهَاۤ اَحَقُّ بِالْاِجْلَالِ مِنْ مُّعَلِّمِ النَّاسِ وَ مُؤَدِّبِهِمْ
(جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے، اور زبان سے درس اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے، اور جو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کر لے وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے) (6)
III. منصف مزاجی
کسی بھی حاکم،والی ریاست کے دیگر خصائص کی طرح انصاف پسندی اور منصف مزاجی ایک اہم خصوصیت ہے چونکہ حضرتؑ کا خود فرمان ہے کہ حکومتیں کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم پر نہیں یعنی کسی بھی ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے حکمران منصف مزاج اور انصاف پسند ہوں۔بعض اوقات کچھ حکمران انصاف پسند تو ہوتے ہیں لیکن انصاف کرنے کی ان کے اندر صلاحیت موجود نہیں ہوتی اسی لیے حضرت ؑنے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ انصاف پسندی کے ساتھ ساتھ انصاف کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ملاحظہ کیجیے:
"وَ الْعَدْلُ مِنْهَا عَلٰۤى اَرْبَعِ شُعَبٍ: عَلٰى غَآئِصِ الْفَهْمِ، وَ غَوْرِ الْعِلْمِ، وَ زُهْرَةِ الْحُكْمِ، وَ رَسَاخَةِ الْحِلْمِ. فَمَنْ فَهِمَ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ، وَ مَنْ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ صَدَرَ عَنْ شَرَآئِعِ الْحُكْمِ، وَ مَنْ حَلُمَ لَمْ یُفَرِّطْ فِیْۤ اَمْرِهٖ وَ عَاشَ فِی النَّاسِ حَمِیْدًا.
اور ’’عدل‘‘ کی بھی چار شاخیں ہیں: تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا، اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا، اور جس نےحلم و بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی۔” (7)
اسی طرح کائنات کے عظیم حکمران، الہی نمائندے،ہادی برحق،رہبراعظم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ کی ذات با برکت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی شخصیت میں انصاف اس طرح ہے جیسے اس عالم کی رونق باغات جہاں سے ہے:
وَ رِیَاضُ الْعَدْلِ وَ غُدْرَانُهٗ
(اس میں عدل کے چمن اور انصاف کے حوض ہیں) 553
اور حضرت امیر ؑ نے عاملین کو ہمیشہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیا کہ وَ الْاِنْصَافِ لِلْخَلْقِ (اور خلق خدا کے لیے انصاف برتو) 553 حضرت امیر المومنین علیہ الصلوۃ والسلام نے عاملین کو اپنی ذات ،اقرباء اور رعایا میں سے دل پسند افراد کے معاملے میں بھی انصاف برتنے کا سختی سے حکم دیا اور نا انصافی اور ظلم کو ایسی حرکت قرار دیا جوکسی کو بھی خدا کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے اور جب کوئی اللہ تعالی کا مخالف ہو جائے تو اس کا بچاؤ اور اس کی حکومت کا قیام ناممکن ہو جاتا ہے۔عدل و انصاف سے ہی مثالی اور الہی حکومت وجود میں آتی ہے:
"اَنْصِفِ اللّٰهَ وَ اَنْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِكَ، وَ مِنْ خَاصَّةِ اَهْلِكَ، وَ مَنْ لَّكَ فِیْهِ هَوًى مِّنْ رَّعِیَّتِكَ، فَاِنَّكَ اِلَّا تَفْعَلْ تَظْلِمْ، وَ مَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللّٰهِ كَانَ اللّٰهُ خَصْمَهٗ دُوْنَ عِبَادِهٖ، وَ مَنْ خَاصَمَهُ اللّٰهُ اَدْحَضَ حُجَّتَهٗ وَ كَانَ لِلّٰهِ حَرْبًا، حَتّٰى یَنْزِعَ وَ یَتُوْبَ
اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے، اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کی بجائے اللہ اس کا حریف و دشمن بن جاتا ہے، اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا، اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا، یہاں تک کے باز آئے اور توبہ کر لے”۔ (8)
خدا نے حکمرانوں پر لازم کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کمزور لوگوں کے برابر رکھیں تاکہ امیر شخص غریب کی محرومی سے بے خبر نہ رہے اور اسے ہلاکت میں نہ ڈال دے (خطبہ)۔
حضرت امیر المومنینؑ نے جب عاملین کو سختی سے انصاف برتنے کا حکم دیا تو انہیں یہ بھی واضح کیا کہ یہ کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے بلکہ یہ الہی نمائندے کے فرائض ہیں اور یہ الہی حکم نامہ ہے جس پر ہم سب کو عمل پیرا ہونا ہے۔عدل و انصاف کی یقینی فراہمی محض آپ لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اگر میرے حسنین شریفینؑ بھی خدانخواستہ ظلم انجام دیتے تو ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا رویہ اپنایا جائے گا جس طرح ایک عام شہری کے ساتھ
"وَ اللّٰهِ! لَوْ اَنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَیْنَ فَعَلَا مِثْلَ الَّذِیْ فَعَلْتَ، مَا كَانَتْ لَهُمَا عِنْدِیْ هَوَادَةٌ، وَ لَا ظَفِرَا مِنِّیْ بِاِرَادَةٍ ،حَتّٰۤى اٰخُذَ الْحَقَّ مِنْهُمَا، وَ اُزِیْحَ الْبَاطِلَ مِنْ مَّظْلَمَتِهِمَا.
خدا کی قسم! اگر حسنؑ و حسینؑ بھی وہ کرتے جو تم نے کیا ہے تو میں ان سے بھی کوئی رعایت نہ کرتا اور نہ وہ مجھ سے اپنی کوئی خواہش منوا سکتے، یہاں تک کہ میں ان سے حق کو پلٹا لیتا اور ان کے ظلم سے پیدا ہونے والے غلط نتائج کو مٹا دیتا”۔ (9)
IV. دنیا سے بے پروائی
صاحبان اقدار کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پیش نظر دنیا داری کی بجائے ہدف و مقصد خالصتاً ریاستی فلاح اور عوامی بہبود کا ہو۔اگر حکمران دنیا دار ہوں گے تو ان کے پیش نظر اپنا لالچ زیادہ اور ملکی و عوامی فلاح ثانوی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ حضرت امام علی علیہ السلام کی ذاتی زندگی اور حکومتی دور اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ نے دنیا سے ہمیشہ جدائی اختیار کیے رکھی اور اس کی بے وفائی کا تذکرہ اس کے چاہنے والے اور نہ چاہنے والے دونوں سے کیا۔حاکم شام سے بارہا مکاتیب کے تبادلے کے دوران دنیا کے عارضی ہونے اور اس کی فریب کاری کو نمایاں کیا۔حضرتؑ کا حکومت کا حصول محض حق کی سر بلندی اور باطل کی نابودی کے لیے تھا۔جس کا اظہار نہج البلاغہ کے اوّلین خطبوں میں ہوتا ہے:
"اَمَا وَ الَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَاَ النَّسَمَةَ! لَوْ لَا حُضُوْرُ الْحَاضِرِ وَ قِیَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُوْدِ النَّاصِرِ وَ مَاۤ اَخَذَ اللهُ عَلَى الْعُلَمَآءِ اَنْ لَّا یُقَارُّوْا عَلٰى كِظَّةِ ظَالِمٍ وَّ لَا سَغَبِ مَظْلُوْمٍ، لَاَلْقَیْتُ حَبْلَهَا عَلٰى غَارِبِهَا۔۔۔وَ لَاَلْفَیْتُمْ دُنْیَاكُمْ هٰذِهِ اَزْهَدَ عِنْدِیْ مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ.
دیکھو! اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں! اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا۔۔۔ورنہ تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتنا پاتے۔” (10)
ایک اور مقام پر دنیا نفرت کا اظہار کچھ یوں فرمایا ہے:
"اِلَیْكِ عَنِّیْ یَا دُنْیَا! فَحَبْلُكِ عَلٰى غَارِبِكِ، قَدِ انْسَلَلْتُ مِنْ مَّخَالِبِكِ، وَ اَفْلَتُّ مِنْ حَبَآئِلِكِ، وَ اجْتَنَبْتُ الذَّهَابَ فِیْ مَدَاحِضِكِ، اَیْنَ الْقُرُوْنُ الَّذِیْنَ غَرَرْتِهِمْ بِمَدَاعِبِكِ؟ اَیْنَ الْاُمَمُ الَّذِیْنَ فَتَنْتِهِمْ بِزَخَارِفِكِ، هٰهُمْ رَهَآئِنُ الْقُبُوْرِ، وَ مَضَامِیْنُ اللُّحُوْدِ.
اے دنیا! میرا پیچھا چھوڑ دے، تیری باگ ڈور تیرے کاندھے پر ہے۔میں تیرے پنجوں سے نکل چکا ہوں، تیرے پھندوں سے باہر ہو چکا ہوں اور تیری پھسلنے کی جگہوں میں بڑھنے سے قدم روک رکھے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں تو نے کھیل تفریح کی باتوں سے چکمے دیئے؟ کدھر ہیں وہ جماعتیں جنہیں تو نے اپنی آرائشوں سے ورغلائے رکھا؟ وہ تو قبروں میں جکڑے ہوئے اور خاکِ لحد میں دُبکے پڑے ہیں۔
وَ اللّٰهِ! لَوْ كُنْتِ شَخْصًا مَرْئِیًّا وَّ قَالَبًا حِسِّیًّا، لَاَقَمْتُ عَلَیْكِ حُدُوْدَ اللّٰهِ فِیْ عِبَادٍ غَرَرْتِهِمْ بِالْاَمَانِیِّ،
اگر تو دکھائی دینے والا مجسمہ اور سامنے آنے والا ڈھانچہ ہوتی تو بخدا! میں تجھ پر اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں جاری کرتا کہ تو نے بندوں کو امیدیں دلا دلا کر بہکایا”۔ (11)
حضرت علی علیہ السلام کے سیاسی رویہ میں زہد اور دنیا سے بے تعلقی نے یہاں تک کیا کہ ان کے دشمن بھی ان کی تعریف کرتے تھے۔
V. سادہ زندگی
حکمران کی سادگی درحقیقت عوام کے لیے بہترین تحفہ ہے۔ جب حکمران سادہ زندگی گزارتا ہے، تو اس کی توجہ اور وسائل رعایا کی فلاح و بہبود پر مرکوز رہتے ہیں۔ یہ سادگی اسے عوام کے دکھوں کو قریب سے محسوس کرنے اور ان کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ حکمران جنہوں نے شاہانہ طرز زندگی اور عیش و عشرت کو ترجیح دی، ان کی رعایا غربت، جبر اور عدم مساوات کا شکار رہی۔ ان کے اور عوام کے درمیان اونچی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔سادگی صرف ایک طرز زندگی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی عہد ہے۔ یہ حکمران کو عوام کے ساتھ ایک مضبوط روحانی رشتہ قائم کرنے، ان کا اعتماد جیتنے اور حقیقی معنوں میں ان کی خدمت کرنے کا موقع دیتی ہے۔حضرت علیؑ کی زندگی تو سادگی سے تعبیر ہے۔ انبیاء کی حکومتوں اور ان کی سادگی کےتحت حضرت رسول خدا ﷺ،حضرت موسیٰؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی سادہ زندگیوں موضوع بنا کر سادگی کی اہمیت اجاگر کیا ہے۔یعنی اگر انبیائے خدا سادہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں تو ایک عام بادشاہ اس روش پر کیوں نہیں چل سکتا۔ (12) سادگی محض اس وجہ سے نہ تھی کہ حیثیت نہ رکھتے تھے بلکہ سربراہ حکومت و ریاست ہونے کے باوجود سادگی اختیار کی۔ ایک عامل کے نام خط ملاحظہ ہو:
"اَلَا وَ اِنَّ اِمَامَكُمْ قَدِ اكْتَفٰى مِنْ دُنْیَاهُ بِطِمْرَیْهِ، وَ مِنْ طُعْمِهٖ بِقُرْصَیْهِ، اَلَا وَ اِنَّكُمْ لَا تَقْدِرُوْنَ عَلٰى ذٰلِكَ، وَ لٰكِنْ اَعِیْنُوْنِیْ بِوَرَعٍ وَّ اجْتِهَادٍ ، وَ عِفَّةٍ وَّ سَدَادٍ. فَوَاللّٰهِ! مَا كَنَزْتُ مِنْ دُنْیَاكُمْ تِبْرًا، وَ لَا ادَّخَرْتُ مِنْ غَنَآئِمِهَا وَفْرًا، وَ لَاۤ اَعْدَدْتُّ لِبَالِیْ ثَوْبَیَّ طِمْرًا۔۔۔ وَ لَوْ شِئْتُ لَاهْتَدَیْتُ الطَّرِیْقَ اِلٰى مُصَفّٰى هٰذَا الْعَسَلِ، وَ لُبَابِ هٰذَا الْقَمْحِ، وَ نَسَاۗئِجِ هٰذَا الْقَزِّ
دیکھو! تمہارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے ساز و سامان میں سے دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ تمہارے بس کی یہ بات نہیں، لیکن اتنا تو کرو کہ پرہیز گاری، سعی و کوشش، پاکدامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو۔ خدا کی قسم! میں نے تمہاری دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھا، اور نہ اس کے مال و متاع میں سے انبار جمع کر رکھے ہیں، اور نہ ان پرانے کپڑوں کے بدلہ میں (جو پہنے ہوئے ہوں) اور کوئی پرانا کپڑا میں نے مہیا کیاہے۔۔۔اگر میں چاہتا تو صاف ستھرے شہد، عمدہ گیہوں اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کیلئے ذرائع مہیا کر سکتا تھا۔” (13)
ان اقتباسات اور نہج البلاغہ میں آپ علیہ السلام کی سادہ زندگی کے تاریخی اور روایتی نمونے مندرجہ ذیل ہیں جن پر عمل ہو کر سیاست دان فلاحی ریاست کےقیام میں کردار ادا کر سکتے ہیں:
1۔ سادہ غذا کو ترجیح دینا چاہیے۔
2۔ مرغن اور لذیذ کھانوں سے پرہیز
3۔ عالی شان گھروں میں رہنے سے پرہیز
4۔ گھریلو سامان میں سادہ اور سستی چیزوں کا استعمال
5۔ حیثیت کے باوجود سادہ زندگی
6۔ آرائش و زینت سے پرہیز (14)
VI. معاشرتی معاملات کی کا رگر تدابیر اور مسائل کی ترجیح بندی
حضرت علی علیہ السلام کی عملی اور کارگر تدابیر کو مذکورہ بالا خطبہ کے تناظرمیں کچھ یوں دیکھا جا سکتا ہے ۔
1۔ طاقت کی خواہش نہ کرنا اور طاقت سے بے پروائی: حکومت قبول کرنا رہنمائی کی خواہش اور مسلط ہونے کے معنی میں نہیں تھا۔ بلکہ حکومت حضرت علیہ السلام کی نظر میں اس قدر حقیر اور کم تر تھی کہ وہ اسے ایک بکری کی چھینک سے بھی کم تر قرار دیتے تھے ۔حکومت کی قدر حق کے حصول میں ہے۔
2۔ امام علی علیہ السلام دنیا میں اسلام کے پھیلاؤ اور اسلامی ملک میں اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے بارے میں سوچتے تھے اور لوگوں کو الہی معارف سے روشناس کروا کر اسلام کا دفاع کرتے تھے اور اس سلسلے میں معاشرے میں اختلاف اور کشیدگی پیدا ہونے سے روکتے تھے۔
3۔ امام علی علیہ السلام اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ محصولات میں کمی اور زرعی زمینیں آباد کر کے انہیں لوگوں کے حوالے کر کے ان کی زندگی کو خوشحال بناتے تھے۔
4۔ لوگوں کی بنیادی زندگی کی سہولیات فراہم کرنا
5- قیمتوں پر نظر رکھنا اور بازار کو منظم کرنا (ایضاً، خط 52-105)
6- معاشرے کے محروم افراد کے مالی معاملات پر خاص توجہ (ایضاً، خط 53)
7- بہترین قاضیوں کی تقرری اور فیصلوں پر براہ راست نظر رکھنا (ایضاً، خط 53)
8- لوگوں کے عیوب کو چھپانا اور نظر انداز کرنا (ایضاً، خط 53)
9- زمام داروں کے ساتھ تعاون اور مدد (ایضاً، خط 34)
10- معاشرے میں ہم آہنگی اور اتحاد قائم کرنا (ایضاً، خط 146
11۔ بیت المال کے اموال کے بارے میں درد مندی
2۔ دیگرسیاسی،مذہبی اور حکومتی مخالفین سے رویہ
I. مخالف حکومتوں سے سیاسی رویہ
حضرت علی علیہ السلام نے سابقہ دور کی حکومتوں سے اختلاف کے باوجود مزاحمت کا کوئی اقدام نہیں کیا اور ہمیشہ انہیں امور کی اصلاح میں مدد دی۔ انسانی معاشروں میں طاقت کے حصول کی سیاست کے مطابق، حضرت علی علیہ السلام کو طاقت حاصل کرنے کے لیے ضروری ماحول بنانا چاہیے تھا، یہاں تک کہ ان کی مخالفت کے ذریعے بھی؛ لیکن آپ صرف اللہ کی رضا کو مدنظر رکھتے تھے اور کسی بھی قسم کی منافقت کو، یہاں تک کہ بہترین مقاصد کے لیے بھی، جائز نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ آپ علیہ السلام نے ہمیشہ سابقہ حکومتوں میں اپنے حق پر زور دیا اور ان کی حکومت کو ناجائز قرار دیا (خطبہ: 28)۔ آپ علیہ السلام حکومت کو اپنا حق سمجھتے تھے لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ناجائز طریقے کا استعمال نہیں کیا اور یہاں تک کہ آپؑ وعدہ دینے سے بھی گریز کرتے تھے جسے وہ پورا نہ کر سکتے ہوں۔ امام علیہ السلام ان کے ہاتھوں اپنے حق کے ضائع ہونے سے ناراض تھے، لیکن اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے انہوں نے کبھی ان کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے علاوہ، اسلام کی حمایت اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے آپ نے خلفاء کے دور میں کوئی کوشش اٹھا نہیں رکھی۔ اس میں یہود و نصاریٰ سے مناظرے، خلفاء کو حکمرانی، فیصلہ سازی اور مشکل مقدمات میں رہنمائی اور دین کے احکام بیان کرنا شامل تھا ۔لہٰذا، حضرت علی علیہ السلام نے نہ صرف حکمرانوں کو اپنے وجود کے فیض سے محروم نہیں کیا بلکہ خلفاء کے ساتھ مشورہ، تعاون اور تعامل سے بھی دریغ نہیں کیا۔ جب کچھ لوگوں نے آپ سے خلفاء کے بارے میں آپ کا موقف پوچھا تو آپ نے "اسلام کی حفاظت” کو خلافت کے کچھ (15) فائدوں سے زیادہ اہم قرار دیا۔ لہٰذا، حضرت علی علیہ السلام کا خلفاءسے غیر اخلاقی رویہ نہیں تھا۔
II. اسلامی مکاتب فکر اور دیگر ادیان کے ماننے والوں کے ساتھ رویہ
حضرت علی علیہ السلام کی سیرت کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ہمیشہ غیر شیعہ مسلمانوں اور دیگر ادیان کے ماننے والوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات اور مناسب ہم نشینی پر زور دیتے تھے۔جب حکمران کی نظر میں تمام انسانیت ایک ہی مقام پر ہوتی ہے، تو پھر تفریق اور امتیاز کا کوئی معنی نہیں رہتا لہٰذا، نہج البلاغہ کے متعدد مقامات پر، خاص طور پر مالک اشتر کے نام خط میں، حکمران کو نسل، مذہب اور مقام کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق سے روکا گیا ہے۔ (16) امام علیہ السلام گفتار سے آگے، عمل اور رویہ میں بھی تفریق سے پرہیز کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں؛ کیونکہ آپ کا ماننا ہے کہ سب سے پہلےحاکم کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ رعیت بھی اس کی پیروی کرے۔ لہٰذا، حاکموں کی حکمرانی کا انداز اور طرز زندگی ان کے ماتحت لوگوں کے رویے اور طرز زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
"أَلنَّاسُ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، وَإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ
لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا پھر تخلیق میں تمہارے ہم مثل ہیں۔” (17)
امام علیہ السلام اپنی حکومت میں اپنے مذہبی اور سیاسی مخالفین کے لیے ایک اور حق کو بھی فرض کرتے تھے اور اپنے کارگزاروں کو اس کی ہدایت کرتے تھے: اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے جائز حقوق کا احترام۔ اور اپنی پانچ سالہ حکومت میں، آپ نے ان کے مذہبی سرگرمیوں کی آزادی پر زور دیا البتہ، امام علیہ السلام کے بیانات کے دیگر اقتباسات کے مطابق، اہل ذمہ کی مذہبی سرگرمیاں مسلمانوں کے درمیان ان کے مذہب کی تبلیغ کرنے کے لیے نہیں
"وَ قَدْ اَوْصَیْتُهُمْ بِمَا یَجِبُ لِلّٰهِ عَلَیْهِمْ، مِنْ كَفِّ الْاَذٰى وَ صَرْفِ الشَّذٰی ،
میں نے انہیں ہدایت کر دی ہے اس کی جو اللہ کی طرف سے ان پر لازم ہے کہ وہ کسی کو ستائیں نہیں اور کسی کو تکلیف نہ دیں”۔ (18)
مزید برآں ایفائے عہد کو لازمی قرار دیاچاہیے کسی بھی فکر کے لوگوں سے ہو:
فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ شَيْءٌ النَّاسُ أَشَدُّ عَلَيْهِ اجْتِمَاعًا، مَعَ تَفَرُّقِ أَهْوَائِهِمْ، وَ تَشَتُتِ أَرَائِهِمْ ، مِنْ تَعْظِيمِ الْوَفَاءِ بِالْعُهُودِ، وَ است قَدْ لَزِمَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ فِيْمَا بَيْنَهُمْ دُونَ الْمُسْلِمِينَ، لِمَا اسْتَوْبَلُوا مِنْ عَوَاقِبِ الْغَدْرِ
کیونکہ اللہ کے فرائض میں سے ایفائے عہد کی ایسی کوئی چیز نہیں کہ جس کی اہمیت پر دنیا اپنے الگ الگ نظریوں اور مختلف رایوں کے باوجود یکجہتی سے متفق ہو، اور مسلمانوں کے علاوہ مشرکوں تک نے اپنے درمیان معاہدوں کی پابندی کی ہے۔ اس لئے کہ عہد شکنی کے نتیجہ میں انہوں نے تباہیوں کا اندازہ کیا تھا”۔ (19)
اس سے یہ تصور ملتا ہے کہ تمام لوگوں سے محبت اور مہربانی کرنا اسلامی حکمران کا فرض ہے۔ آپ کےخطبات، وصیتوں اور اپنے کارگزاروں کو احکامات میں لفظ "عوام”، "رعیت”، "عامہ” اور "یا ابن آدم” کا بار بار استعمال اس نقطہ نظر کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے سیاسی رویہ میں وحی کے قانون سے باہر نہیں جاتے تھے اور یہ رویہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔
III. حکومت مخالف وموافق جنگجوؤں سے اخلاقی رویہ
حکومت کے مخالفین دو قسم کے ہیں:
1۔ نقاد: جو نظام کے قبول شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے تنقید کرتے ہیں اور ہتھیاروں کا سہارا نہیں لیتے، اور سیاسی طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔
2۔ معارضین: یعنی وہ جو اسلامی نظام کے خلاف مسلح بغاوت کرتے ہیں، جنہیں فقہی اصطلاح میں "باغی” کہا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ان دو گروہوں کے ساتھ رویہ مختلف ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا پہلے گروہ سے نمٹنے کا طریقہ یہ تھا کہ مخالفین کو اظہارِ خیال کی اجازت دیتے تھے اور پھر ان کی ذہنیت کو جھنجھوڑتےتھے۔ امام علی علیہ السلام کی سیرت میں بھی، جب تک مخالفین نے ہتھیار نہیں اٹھائے، آپ نے انتہائی رحم دلی کے ساتھ ان سے نمٹا اور نہ صرف ان کے حقوق منقطع نہیں کیے، بلکہ انہیں اظہارِ خیال اور اجتماعات کرنے کی بھی اجازت دی۔ امام علی علیہ السلام کی سیرت پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے منحرفین کے سرداروں اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ دو طرح سے نمٹا:
1۔ سربراہان انحراف اور گمراہی: وہ لوگ جو علم و آگاہی کے ساتھ کسی گروہ کو گمراہی کی طرف لے گئے۔
2۔ پیروکار: عام طور پر وہ لوگ جو ناواقف اور غیر ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
حضرت علیہ السلام کا پہلے گروہ سے نمٹنے کا طریقہ: پہلے نصیحت و رہنمائی، اور پھر فیصلہ کن انقلابی اقدام تھا۔ لیکن دوسرے گروہ سے نمٹنا بنیادی طور پر پہلے گروہ سے مختلف تھا۔ حضرت علیہ السلام کی تین جنگوں میں تمام کوشش یہ تھی کہ مخالفین کے مرکزی دھڑے کو ان کے سربراہوں سے الگ کیا جائے۔ اس بنیاد پرانہیں سازش کی گہرائی سے آگاہ کرنے کے لیے غیر معمولی کوشش کی گئی، جس کی گواہی
1۔ حضرت علیہ السلام کے وہ خطبات ہیں جو آپ نے جنگ جمل، صفین اور نہروان سے پہلے دیے اور اپنے ساتھیوں کو بھی آگاہی بخش خطبات دینے کا حکم دیا۔
2۔ ان کی نصیحت اور رہنمائی پر بھی زور دیا گیا۔
3۔ اس راستے میں، کبھی کبھار جنگ کو مؤخر کر دیا جاتا تھا تاکہ مخالفین میں سوچ بچار کا ماحول پیدا ہو اور وہ گمراہی سے سیدھی ہدایت کی طرف آ جائیں۔
4۔ اس بنیاد پر، امام علی علیہ السلام نے اپنے مخالفین کے ساتھ سیاسی رویہ میں تین بنیادی حکمت عملیاں اختیار کیں گفت و شنید، ،نرم روی اور فیصلہ کن اقدامات (20)
لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں امام علی علیہ السلام کی مثالی سیاسی سیرت جہاد و دفاع میں مندرجہ ذیل اصولوں پر مبنی تھی:
1۔ جنگ کے بھڑکتے شعلوں میں خود یا رشتہ داروں کو دوسروں کی سپر قرار دینا ۔ص 668، مکتوب 9
2۔ جنگ شروع کرنے سے پرہیز ۔ص678،ہدایت 14
3۔ اخلاقی اصولوں کا احترام اور بے ایمانی سے پرہیز ۔ ہدایت 12
4۔ غیر جنگجوؤں پر حملہ کرنے کی ممانعت۔ ہدایت14
5۔ عورتوں پر حملے سے گریز۔ ہدایت 14
6۔ دشمنوں کے لیے نجات اور ہدایت کی دعوت اور خیرخواہی ۔مکتوب 34،733
7۔ مقتولین کے ہاتھ پیر کاٹنے سے پرہیز۔766
8۔ دشمن کو گالی دینے سے پرہیز ۔خطبہ204
9۔ دشمن کے سامنے بہادری اور دشمن کی دھمکیوں سے پرہیز
10۔ اجتماعی قتل عام کی ممانعت ۔خطبہ 32
11۔ فراریوں کا پیچھا کرنے اور زخمیوں کو مارنے کی ممانعت ۔ ہدایت12
12۔ درختوں اور جانوروں (ماحولیات) کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ۔ص693، وصیت 24
13۔ آبادیوں اور عمارتوں کی حفاظت ۔خطبہ 190
IV. مخالفین کے ساتھ ائتلاف سازی
امام علی علیہ السلام نے ایک خطبہ میں فرمایا: خدا کی قسم! میں ہر روز جنگ کو مؤخر کرتا ہوں اس امید پر کہ ان میں سے کچھ لوگ ہم سے مل جائیں اور ہدایت پا جائیں اور تاریک راتوں میں ولایت کا نور دیکھیں اور اس کی طرف دوڑیں۔ (21) حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے دوران پیش آنے والی تین جنگوں میں، آپ کا مخالفین کے ساتھ رویہ اس بات کا باعث بنا کہ اکثر لوگ حضرت علی علیہ السلام کے منطق کو سمجھ گئے۔
نہروان کے واقعے میں، جب خوارج آئے، وہ دس ہزار تھے، حضرت علی علیہ السلام کے مثالی رویہ کے باعث ان میں سے اکثر اسلام کے پرچم تلے آ گئے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی سیاسی طاقت روحانیت پر مبنی تھی اور ان کی روحانی طاقت سے جدا نہیں تھی۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سیاسی رویہ تا حد ممکن مخالفین اور دشمنوں کے ساتھ نرمی پر مبنی تھے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی سیاسی مہارت کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں اور مخالفین سے دلیل کے ساتھ بات کرتے تھے اور استدلال کرتے تھے۔ البتہ، حضرتؑ کا حکومتی رویہ "انصاف”، "عدل”، اور "تمام لوگوں کو برابر سمجھنے” پر مبنی تھا۔
3۔ عوام سے سیاسی و حکومتی روابط
اِنْطَلِقْ عَلٰی تَقْوَی اللهِ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ، وَ لَا تُرَوِّعَنَّ مُسْلِمًا، وَ لَا تَجْتَازَنَّ عَلَیْهِ كَارِهًا، وَ لَا تَاْخُذَنَّ مِنْهُ اَكثَرَ مِنْ حَقِّ اللهِ فِیْ مَالِهٖ. فَاِذَا قَدِمْتَ عَلَی الْحَیِّ فَانْزِلْ بِمَآئِهِمْ مِنْ غَیْرِ اَنْ تُخَالِطَ اَبْیَاتَهُمْ، ثُمَّ امْضِ اِلَیْهِمْ بِالسَّكِیْنَةِ وَ الْوَقَارِ، حَتّٰی تَقُوْمَ بَیْنَهُمْ فَتُسَلِّمَ عَلَیْهِمْ، وَ لَا تُخْدِجْ بِالتَّحِیَّةِ لَهُمْ،
اللہ وحدہٗ لا شریک کا خوف دل میں لئے ہوئے چل کھڑے ہو، اور دیکھو! کسی مسلمان کو خوفزدہ نہ کرنااور اس(کے املاک) پر اس طرح سے نہ گزرنا کہ اسے ناگوار گزرے اور جتنا اس کے مال میں اللہ کا حق نکلتا ہو اس سے زائد نہ لینا۔ جب کسی قبیلے کی طرف جانا تو لوگوں کے گھروں میں گھسنے کی بجائے پہلے ان کے کنوؤں پر جا کر اترنا، پھر سکون و وقار کے ساتھ ان کی طرف بڑھنا، یہاں تک کہ جب ان میں جا کر کھڑے ہو جاؤ تو ان پر سلام کرنا اور آداب و تسلیم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا۔ (22)
اخْفِضْ لِلرَّعِیَّةِ جَنَاحَكَ، وَ ابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ، وَ اَلِنْ لَّهُمْ جَانِبَكَ، وَ اٰسِ بَیْنَهُمْ فِی اللَّحْظَةِ وَ النَّظْرَةِ، وَ الْاِشَارَةِ وَ التَّحِیَّةِ، حَتّٰى لَا یَطْمَعَ الْعُظَمَآءُ فِیْ حَیْفِكَ، وَ لَا یَیْاَسَ الضُّعَفَآءُ مِنْ عَدْلِكَ
(رعیت کے بارے میں) سختی کے ساتھ کچھ نرمی کی آمیزش کئے رہو۔ جہاں تک نرمی مناسب ہو نرمی برتو اور جب سختی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو سختی کرو۔ رعیت سے خوش خلقی اور کشادہ روئی سے پیش آؤ۔ ان سے اپنا رویہ نرم رکھو اور کنکھیوں اور نظر بھر کر دیکھنے اور اشارہ اور سلام کرنے میں برابری کرو، تاکہ بڑے لوگ تم سے بے راہ روی کی توقع نہ رکھیں اور کمزور تمہارے انصاف سے مایوس نہ ہوں۔ (23)
محرومین کے حقوق کا خیال
عوامی ضروریات کو پیش نظر رکھنا حکومتوں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ امن کا قیام اور حقوق کی شفافیت و منصفانہ تقسیم سے ہی ریاست کی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔عوامی خدمات میں صرف مخصوص طبقات کو پیش نظر رکھنا بھی ایک طرح کی ناانصافی ہے بلکہ معاشرے کے تمام افراد، محرومین،ضرورت مندوں اور مخصوص افراد (سپیشل پرسن) کے حقوق کی ادائیگی بھی حکومت کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ علوی حکومت میں تمام عاملین کو یہ حکم سختی سے دیا گیا تھا کہ تمام محرومین کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
1۔ پسماندہ و افتادہ طبقہ کے بارے میں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا ، وہ مسکینوں، محتاجوں، فقیروں اور معذوروں کا طبقہ ہے۔ ان میں سے کچھ تو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے ہوتے ہے اور کچھ کی صورت سوال ہوتی ہے . اللہ کی خاطر بے کسوں کے بارے میں اس کے اس حق کی حفاظت کرنا جس کا اس نے تمہیں ذمہ دار بنایا ہے۔ ۔۔لہذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا اور نہ تکبر کے ساتھ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیرنا۔ ص780
2۔ اور خصوصیت کے ساتھ خبر رکھا ہے افراد کی جوتم تک پہنچ نہیں سکتے جنہیں آنکھیں دیکھنے سے کراہت کرتی ہوں گی اور لوگ انہیں حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے، تم ان کیلئے اپنے کی بھروسے کے آدمی کو جو خوف خدا رکھنے والا اور متواضع ہو،مقرر کر دینا کہ وہ ان کے حالات تم تک پہنچاتا رہے۔
3۔ پھر ان کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا جس سے کہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حجت پیش کر سکو، کیونکہ رعیت میں دوسروں سے زیادہ یہ انصاف کے محتاج ہیں، اور یوں تو سب ہی ایسے ہیں کہ تمہیں ان کے حقوق سے عہدہ برآ ہو کر اللہ کے سامنے سرخرو ہوتا ہے۔ ص 780
4۔ دیکھو یتیموں اور سال خوردہ بوڑھوں کا خیال رکھنا کہ جو نہ کوئی سہارا رکھتے ہیں اور نہ سوال کیلئے اٹھتے ہیں، اور یہی وہ کام ہے جو حکام پر گراں گزرا کرتا ہے ( اور حق تو بہر حال گراں ہی ہوا کرتا ہے)۔
5۔ تم اپنے اوقات کا ایک حصہ حاجتمندوں کیلئے معین کر دینا جس میں سب کام چھوڑ کر انہی کیلئے مخصوص ہو جانا،
6۔ کسی سے اس کی ضروریات کو قطع نہ کر و، اور اس کے مقصد میں روڑے نہ اٹکاؤ۔ 763
7۔ اور لوگوں سے خراج وصول کرنے کیلئے ان کے جاڑے یا گرمی کے کپڑوں اور مویشیوں کو جن سے وہ کام لیتے ہوں اور ان کے غلاموں کو فروخت نہ کرو، اور کسی کو پیسہ کی خاطر کوڑے نہ لگاؤ۔ 763
4۔ بنیادی حکومتی شعبوں کا قیام اور ان کے اصولوں کی ترتیب
وزرا کا انتخاب اور ان کا دستورالعمل
سابقہ حکومت کی بجائے جدید وزرا کا انتخاب کرنا
وَ اَنْتَ وَاجِدٌ مِّنْهُمْ خَیْرَ الْخَلَفِ مِمَّنْ لَّهٗ مِثْلُ اٰرَآئِهِمْ وَ نَفَاذِهِمْ، وَ لَیْسَ عَلَیْهِ مِثْلُ اٰصَارِهِمْ وَ اَوْزَارِهِمْ، مِمَّنْ لَّمْ یُعَاوِنْ ظَالِمًا عَلٰى ظُلْمِهٖ وَ لَا اٰثِمًا عَلٰۤى اِثْمِهٖ، اُولٰٓئِكَ اَخَفُّ عَلَیْكَ مَؤٗنَةً، وَ اَحْسَنُ لَكَ مَعُوْنَةً، وَ اَحْنٰى عَلَیْكَ عَطْفًا، وَ اَقَلُّ لِغَیْرِكَ اِلْفًا، فَاتَّخِذْ اُولٰٓئِكَ خَاصَّةً لِّخَلَوَاتِكَ وَ حَفَلَاتِكَ.
ان کی جگہ تمہیں ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو تدبیر و رائے اور کارکردگی کے اعتبار سے ان کے مثل ہوں گے، مگر ان کی طرح گناہوں کی گرانباریوں میں دبے ہوئے نہ ہوں، جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گنہگار کا اس کے گناہ میں ہاتھ بٹایا ہو۔ ان کا بوجھ تم پر ہلکا ہو گا، اور یہ تمہارے بہترین معاون ثابت ہوں گے، اور تمہاری طرف محبت سے جھکنے والے ہوں گے، اور تمہارے علاوہ دوسروں سے ربط ضبط نہ رکھیں گے، انہی کو تم خلوت و جلوت میں اپنا مصاحب خاص ٹھہرانا۔ (24)
وزرا کی صلاحیت کے مطابق عہدے دار ہونا
کسی وزیر یا عہدے دار کا ہٹایا جانا محض اس کی نا اہلی کی وجہ سے نہیں ہو سکتا بعض اوقات اس کی معاونت یا اس کو کسی دوسرے اہم کام کے لیے متعین کرنا مقصود ہوتا تھا ہوتا ہے لہذا اس سے عہدے داران اور وزراء کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔ (25)
بدتر وزیر
اِنَّ شَرَّ وُزَرَآئِكَ مَنْ كَانَ لِلْاَشْرَارِ قَبْلَكَ وَزِیْرًا، وَ مَنْ شَرِكَهُمْ فِی الْاٰثَامِ، فَلَا یَكُوْنَنَّ لَكَ بِطَانَةً، فَاِنَّهُمْ اَعْوَانُ الْاَثَمَةِ وَ اِخْوَانُ الظَّلَمَةِ،
تمہارے لئے سب سے بد تر وزیر وہ ہو گا جو تم سے پہلے بدکرداروں کا وزیر اور گناہوں میں ان کا شریک رہ چکا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو تمہارے مخصوصین میں سے نہ ہونا چاہیے، کیونکہ وہ گنہگاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ (26)
حق گو وزیر
ثُمَّ لْیَكُنْ اٰثَرُهُمْ عِنْدَكَ اَقْوَلَهُمْ بِمُرِّ الْحَقِّ لَكَ، وَ اَقَلَّهُمْ مُسَاعَدَةً فِیْمَا یَكُوْنُ مِنْكَ مِمَّا كَرِهَ اللّٰهُ لِاَوْلِیَآئِهٖ، وَاقِعًا ذٰلِكَ مِنْ هَوَاكَ حَیْثُ وَقَعَ.
پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہیے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کر کہنے والے ہوں، اور ان چیزوں میں کہ جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کیلئے نا پسند کرتا ہے تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں، چاہے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔ (27)
خوشامدیوں سے دور رہنا
وَ الْصَقْ بِاَهْلِ الْوَرَعِ وَ الصِّدْقِ، ثُمَّ رُضْهُمْ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُطْرُوْكَ، وَ لَا یُبَجِّحُوْكَ بِبَاطِلٍ لَمْ تَفْعَلْهُ، فَاِنَّ كَثْرَةَ الْاِطْرَآءِ تُحْدِثُ الزَّهْوَ، وَ تُدْنِیْ مِنَ الْعِزَّةِ.
پرہیز گاروں اور راست بازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا۔ پھر انہیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامہ کے بغیر تمہاری تعریف کر کے تمہیں خوش نہ کریں۔ کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کر دیتی ہے۔ (28)
سمجھدار مشیر
وَ اَكْثِرْ مُدَارَسَةَ الْعُلَمَآءِ وَ مُنَافَثَةَ الْحُكَمَآءِ، فِیْ تَثْبِیْتِ مَا صَلَحَ عَلَیْهِ اَمْرُ بِلَادِكَ، وَاِقَامَةِ مَا اسْتَقَامَ بِهِ النَّاسُ قَبْلَكَ.
اور اپنے شہروں کے اصلاحی امور کو مستحکم کرنے اور ان چیزوں کے قائم کرنے میں کہ جن سے اگلے لوگوں کے حالات مضبوط رہے تھے علماء و حکماء کے ساتھ باہمی مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا۔ (29)
سب سے خائن اور فریبی وزیر
وَ اِنَّ اَعْظَمَ الْخِیَانَةِ خِیَانَةُ الْاُمَّةِ، وَ اَفْظَعَ الْغِشِّ غِشُّ الْاَئِمَّةِ، وَ السَّلَامُ.
سب سے بڑی خیانت اُمت کی خیانت ہے اور سب سے بڑی فریب کاری پیشوائے دین کو دغا دینا ہے۔ (30)
عیش پرستی کی ممانعت
اَیُّهَا الْمَعْدُوْدُ! كَانَ عِنْدَنَا مِنْ ذَوِی الْاَلْبَابِ كَیْفَ تُسِیْغُ شَرَابًا وَّ طَعَامًا، وَ اَنْتَ تَعْلَمُ اَنَّكَ تَاْكُلُ حَرَامًا وَّ تَشْرَبُ حَرَامًا، وَ تَبْتَاعُ الْاِمَآءَ وَ تَنْكِحُ النِّسَآءَ، مِنْ مَالِ الْیَتَامٰى وَ الْمَسَاكِیْنِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُجَاهِدِیْنَ، الَّذِیْنَ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ هٰذِهِ الْاَمْوَالَ، وَ اَحْرَزَ بِهِمْ هٰذِهِ الْبِلَادَ.
اے وہ شخص جسے ہم ہوشمندوں میں شمار کرتے تھے، کیونکر وہ کھانا اور پینا تمہیں خوشگوار معلوم ہوتا ہے جس کے متعلق جانتے ہو کہ حرام کھا رہے ہو اور حرام پی رہے ہو۔ تم ان یتیموں، مسکینوں، مومنوں اور مجاہدوں کے مال سے جسے اللہ نے ان کا حق قراردیا تھا اور ان کے ذریعہ سے ان شہروں کی حفاظت کی تھی، کنیزیں خریدتے ہو اور عورتوں سے بیاہ رچاتے ہو۔ (31)
عوام پچھلی حکومتوں سے تقابل کرتی ہے
ثُمَّ اعْلَمْ یَا مَالِكُ! اَنِّیْ قَدْ وَجَّهْتُكَ اِلٰى بِلَادٍ قَدْ جَرَتْ عَلَیْهَا دُوَلٌ قَبْلَكَ مِنْ عَدْلٍ وَّ جَوْرٍ، وَ اَنَّ النَّاسَ یَنْظُرُوْنَ مِنْ اُمُوْرِكَ فِیْ مِثْلِ مَا كُنْتَ تَنْظُرُ فِیْهِ مِنْ اُمُوْرِ الْوُلَاةِ قَبْلَكَ، وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْكَ مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِیْهِمْ.
اے مالک! اس بات کو جانے رہو کہ تمہیں ان علاقوں کی طرف بھیج رہا ہوں کہ جہاں تم سے پہلے عادل اور ظالم کئی حکومتیں گزر چکی ہیں اور لوگ تمہارے طرز عمل کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم اپنے اگلے حکمرانوں کے طور طریقے کو دیکھتے رہے ہو، اور تمہارے بارے میں بھی وہی کہیں گے جو تم ان حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہو۔ (32)
وزیر قابل فہم اور متحمل مزاج
فَارْبَعْ اَبَا الْعَبَّاسِ، رَحِمَكَ اللهُ! فِیْمَا جَرٰی عَلٰی لِسَانِكَ وَ یَدِكَ مِنْ خَیْرٍ وَّ شَرٍّ! فَاِنَّا شَرِیْكَانِ فِیْ ذٰلِكَ، وَ كُنْ عِنْدَ صَالِحِ ظَنِّیْ بِكَ، وَ لَا یَفِیْلَنَّ رَاْیِیْ فِیْكَ، وَ السَّلَامُ.
دیکھو ابن عباس! خدا تم پر رحم کرے! (رعیت کے بارے میں) تمہارے ہاتھ اور زبان سے جو اچھائی اور برائی ہونے والی ہو، اس میں جلدبازی نہ کیا کرو، کیونکہ ہم دونوں اس (ذمہ داری) میں برابر کے شریک ہیں۔ (33)
وزراء کے تکبر، طمع اور عیش پرستی کی ممانعت
اَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّعْطِیَكَ اللهُ اَجْرَ الْمُتَوَاضِعِیْنَ وَ اَنْتَ عِنْدَهٗ مِنَ الْمُتَكَبِّرِیْنَ؟ وَ تَطْمَعُ ـ وَ اَنْتَ مُتَمَرِّغٌ فِی النَّعِیْمِ تَمْنَعُهُ الضَّعِیْفَ وَ الْاَرْمَلَةَ ـ اَنْ یُّوْجِبَ لَكَ ثَوَابَ الْمتَصَدِّقِیْنَ؟ وَ اِنَّمَا الْمَرْءُ مَجْزِیٌّۢ بِمَاۤ اَسْلَفَ، وَ قَادِمٌ عَلٰی مَا قَدَّمَ،
کیا تم یہ آس لگائے بیٹھے ہو کہ اللہ تمہیں عجز و انکساری کرنے والوں کا اجر دے گا، ?حالانکہ تم اس کے نزدیک متکبروں میں سے ہو؟ اور یہ طمع رکھتے ہو کہ وہ خیرات کرنے والوں کا ثواب تمہارے لئے قرار دے گا، حالانکہ تم عشرت سامانیوں میں لوٹ رہے ہو اور بیکسوں اور بیواؤں کو محروم کر رکھا ہے؟ انسان اپنے ہی کئے کی جزا پاتا ہے اور جو آگے بھیج چکا ہے وہی آگے بڑھ کر پائے گا۔ (34)
فضول خرچیوں کی ممانعت
فَدَعِ الْاِسْرَافَ مُقْتَصِدًا، وَ اذْكُرْ فِی الْیَوْمِ غَدًا، وَ اَمْسِكْ مِنَ الْمَالِ بِقَدْرِ ضَرُوْرَتِكَ، وَ قَدِّمِ الْفَضْلَ لِیَوْمِ حَاجَتِكَ.
میانہ روی اختیار کرتے ہوئے فضول خرچی سے باز آؤ۔ آج کے دن کل کو بھول نہ جاؤ۔ صرف ضرورت بھر کیلئے مال روک کر باقی محتاجی کے دن کیلئے آگے بڑھاؤ۔ (35)
عوام کا اعتماد برقرار رکھنا
وَ اعْلَمْ اَنَّهٗ لَیْسَ شَیْءٌ بِاَدْعٰۤى اِلٰى حُسْنِ ظَنِّ رَاعٍۭ بِرَعِیَّتِهٖ، مِنْ اِحْسَانِهٖۤ اِلَیْهِمْ، وَ تَخْفِیْفِهِ الْمَؤٗنَاتِ عَلَیْهِمْ، وَ تَرْكِ اسْتِكْرَاهِهٖۤ اِیَّاهُمْ عَلٰى مَا لَیْسَ لَہٗ قِبَلَهُمْ، فَلْیَكُنْ مِّنْكَ فِیْ ذٰلِكَ اَمْرٌ یَّجْتَمِعُ لَكَ بِهٖ حُسْنُ الظَّنِّ بِرَعِیَّتِكَ، فَاِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ یَقْطَعُ عَنْكَ نَصَبًا طَوِیْلًا، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ حَسُنَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ حَسُنَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ سَآءَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ سَآءَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ.
اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہیے جب کہ وہ ان سے حسن سلوک کرتا ہو، اور ان پر بوجھ نہ لادے، اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے جو اِن کے بس میں نہ ہوں۔ تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ اس حسنِ سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہو سکے، کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی الجھنوں کو ختم کر دے گا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو، اور سب سے زیادہ بے اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔ (36)
سابق صالح حکمرانوں کی پیروی
وَ لَا تَنْقُضْ سُنَّةً صَالِحَةً عَمِلَ بِهَا صُدُوْرُ هٰذِهِ الْاُمَّةِ، وَ اجْتَمَعَتْ بِهَا الْاُلْفَةُ، وَ صَلَحَتْ عَلَیْهَا الرَّعِیَّةُ، وَ لَا تُحْدِثَنَّ سُنَّةً تَضُرُّ بِشَیْءٍ مِّنْ مَّاضِیْ تِلْكَ السُّنَنِ، فَیَكُوْنَ الْاَجْرُ لِمَنْ سَنَّهَا، وَ الْوِزْرُ عَلَیْكَ بِمَا نَقَضْتَ مِنْهَا.
اور دیکھو! اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کر نا کہ جس پر اس اُمت کے بزرگ چلتے رہے ہیں، اور جس سے اتحاد و یکجہتی پیدا اور رعیت کی اصلاح ہوئی ہے، اور ایسے نئے طریقے ایجاد نہ کرنا کہ جو پہلے طریقوں کو کچھ ضرر پہنچائیں۔ اگر ایسا کیا تو نیک روش کے قائم کر جانے والوں کو ثواب تو ملتا رہے گا مگر انہیں ختم کردینے کا گناہ تمہاری گردن پر ہو گا۔ (37)
افواج کے شعبے کا قیام اور اس کے اصول
آرمی چیف کا انتخاب
"فَوَلِّ مِنْ جُنُوْدِكَ اَنْصَحَهُمْ فِیْ نَفْسِكَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِاِمَامِكَ، وَ اَنْقَاهُمْ جَیْبًا، وَ اَفْضَلَهُمْ حِلْمًا مِمَّنْ یُّبْطِئُ عَنِ الْغَضَبِ، وَ یَسْتَرِیْحُ اِلَى الْعُذْرِ، وَ یَرْاَفُ بِالضُّعَفَآءِ، وَ یَنْۢبُوْ عَلَى الْاَقْوِیَآءِ، وَ مِمَّنْ لَّا یُثِیْرُهُ الْعُنْفُ، وَ لَا یَقْعُدُ بِهِ الضَّعْفُ.
فوج کا سردار اس کو بنانا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول ﷺ کا اور تمہارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو، سب سے زیادہ پاک دامن ہو، اور بردباری میں نمایاں ہو، جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو، عذر معذرت پر مطمئن ہو جاتا ہو، کمزوروں پر رحم کھاتا ہو، اور طاقتوروں کے سامنے اکڑ جاتا ہو، نہ بدخوئی اسے جوش میں لے آتی ہو، اور نہ پست ہمتی اسے بٹھا دیتی ہو۔” (38)
فوج کے سربراہ کا انتخاب حکومت وقت کرے اور ان کے ماتحت افسران اور سپاہی تعمیل حکم کے پابند ہوں۔حضرت امیرؑ نے مالک اشترؒ کا بطور فوجی سربراہ انتخاب کرتے ہوئے فرمایا:
"وَقَدْ اَمَّرْتُ عَلَیْكُمَا وَ عَلٰی مَنْ فِیْ حَیِّزِكُمَا مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ الْاَشْتَرَ فَاسْمَعَا لَهٗ وَ اَطِیْعَا، وَ اجْعَلَاهُ دِرْعًا وَّ مِجَنًّا، فَاِنَّهٗ مِمَّنْ لَّا یُخَافُ وَهْنُهٗ، وَ لَا سَقْطَتُهٗ، وَ لَا بُطْؤُهٗ عَمَّا الْاِسْرَاعُ اِلَیْهِ اَحْزَمُ، وَ لَاۤ اِسْرَاعُهٗ اِلٰی مَا الْبُطْءُ عَنْهُ اَمْثَلُ.
میں نے مالک ابن حارث اشتر کو تم پر اور تمہارے ماتحت لشکر پر امیر مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ان کے فرمان کی پیروی کرو اور انہیں اپنے لئے زرہ اور ڈھال سمجھو۔ کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے کمزوری و لغزش کا، اور جہاں جلدی کرنا تقاضائے ہوشمندی ہو وہاں سستی کا، اور جہاں ڈھیل کرنا مناسب ہو وہاں جلد بازی کا اندیشہ نہیں ہے” (39)
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے اس مکتوب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فوجی سربراہ کی اطاعت تمام ماتحت سپاہیوں اور افسران پرواجب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک فوجی سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے یعنی وہ خود کو ملک و قوم کی ڈھال بنائے غلطیاں بہت کم کرتا ،ہو عقل و فہم سے کام لیتا ہو، جلد بازی نہ کرے اور سستی کا شکار نہ ہو۔یہ ایک مختصر مکتوب ایک فوجی سربراہ کی بنیادی خصوصیات کا حامل ہے۔ایک اور مکتوب میں فوجی سربراہ کے خصائص اور اس کی فرماں برداری کو بیان کیا ہے:
"فَاسْمَعُوْا لَهٗ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرَهٗ فِیْمَا طَابَقَ الْحَقَّ، فَاِنَّهُ سَیْفٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللّٰهِ، لَا كَلِیْلُ الظُّبَةِ وَ لَا نَابِی الضَّرِیْبَةِ، فَاِنْ اَمَرَكُمْ اَنْ تَنْفِرُوْا فَانْفِرُوْا، وَ اِنْ اَمَرَكُمْ اَنْ تُقِیْمُوْا فَاَقِیْمُوْا، فَاِنَّهٗ لَا یُقْدِمُ وَ لَا یُحْجِمُ، وَ لَا یُؤَخِّرُ وَ لَا یُقَدِّمُ اِلَّا عَنْ اَمْرِیْ، وَ قَدْ اٰثَرْتُكُمْ بِهٖ عَلٰى نَفْسِیْ لِنَصِیْحَتِهٖ لَكُمْ، وَ شِدَّةِ شَكِیْمَتِهٖ عَلٰى عَدُوِّكُمْ.
ان کی بات کو سنو اور ان کے ہر اس حکم کو جو حق کے مطابق ہو مانو، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں کہ جس کی نہ دھار کند ہوتی ہے اور نہ اس کا وار خالی جاتا ہے۔ اگر وہ تمہیں دشمنوں کی طرف بڑھنے کیلئے کہیں تو بڑھو اور ٹھہرنے کیلئے کہیں تو ٹھہرے رہو، کیونکہ وہ میرے حکم کے بغیر نہ آگے بڑھیں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ کسی کو پیچھے ہٹاتے ہیں اور نہ آگے بڑھاتے ہیں۔ میں نے ان کے بارے میں تمہیں خود اپنے اوپر ترجیح دی ہے۔ اس خیال سے کہ تمہارے خیرخواہ اور دشمنوں کیلئے سخت گیر ثابت ہوں گے۔” (40)
فوجی ادارے کی اہمیت و ضرورت
فَالْجُنُوْدُ بِاِذْنِ اللّٰهِ حُصُوْنُ الرَّعِیَّةِ، وَ زَیْنُ الْوُلَاةِ، وَ عِزُّ الدِّیْنِ، وَ سُبُلُ الْاَمْنِ، وَ لَیْسَ تَقُوْمُ الرَّعِیَّةُ اِلَّا بِهِمْ.
(پہلا طبقہ) فوجی دستے، یہ بحکم خدا رعیت کی حفاظت کا قلعہ، فرمانرواؤں کی زینت، دین و مذہب کی قوت اور امن کی راہ ہیں۔ رعیت کا نظم و نسق انہی سے قائم رہ سکتا ہے۔ (41)
فوج کی ضروریات کی تکمیل، خراج سے
ثُمَّ لَا قِوَامَ لِلْجُنُوْدِ اِلَّا بِمَا یُخْرِجُ اللّٰهُ لَهُمْ مِنَ الْخَرَاجِ الَّذِیْ یَقْوَوْنَ بِهٖ فِیْ جِهَادِ عَدُوِّهِمْ، وَ یَعْتَمِدُوْنَ عَلَیْهِ فِیْمَا یُصْلِحُهُمْ، وَ یَكُوْنُ مِنْ وَّرَآءِ حَاجَتِهِمْ.
اور فوج کی زندگی کا سہارا وہ خراج ہے جو اللہ نے اس کیلئے معین کیا ہے کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے اور اپنی حالت کو درست بناتے اور ضروریات کو بہم پہنچاتے ہیں۔ (42)
قابلِ احترام فوجی سربراہ
وَ لْیَكُنْ اٰثَرُ رُءُوْسِ جُنْدِكَ عِنْدَكَ مَنْ وَّاسَاهُمْ فِیْ مَعُوْنَتِهٖ، وَ اَفْضَلَ عَلَیْهِمْ مِنْ جِدَتِهٖ، بِمَا یَسَعُهُمْ وَ یَسَعُ مَنْ وَّرَآءَهُمْ مِنْ خُلُوْفِ اَهْلِیْهِمْ، حَتّٰى یَكُوْنَ هَمُّهُمْ هَمًّا وَّاحِدًا فِیْ جِهَادِ الْعَدُوِّ، فَاِنَّ عَطْفَكَ عَلَیْهِمْ یَعْطِفُ قُلُوْبَهُمْ عَلَیْكَ.
اور فوجی سرداروں میں تمہارے یہاں وہ بلند منزلت سمجھا جائے جو فوجیوں کی اعانت میں برابر کا حصہ لیتا ہو، اور اپنے روپے پیسے سے اتنا سلوک کرتا ہو کہ جس سے ان کا اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بال بچوں کا بخوبی گزارا ہو سکتا ہو، تاکہ وہ ساری فکروں سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ دشمن سے جہاد کریں۔ اس لئے کہ فوجی سرداروں کے ساتھ تمہارا مہربانی سے پیش آنا، ان کے دلوں کو تمہاری طرف موڑ دے گا۔ (43)
حکومت کو فوج سے اچھے سلوک کا مشورہ
وَ لَا تَدَّخِرُوْۤا اَنْفُسَكُمْ نَصِیْحَةً، وَ لَا الْجُنْدَ حُسْنَ سِیْرَةٍ، وَ لَا الرَّعِیَّةَ مَعُوْنَةً
اور اپنوں کی خیر خواہی، فوج سے نیک برتاؤ، رعیت کی امداد اور دین خدا کو مضبوط کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھو۔ (44)
چند امور کے علاوہ فوج کو شریک مشاورت رکھنا
اَلَا وَ اِنَّ لَكُمْ عِنْدِیْۤ اَنْ لَّاۤ اَحْتَجِزَ دُوْنَكُمْ سِرًّا اِلَّا فِیْ حَرْبٍ، وَ لَاۤ اَطْوِیَ دُوْنَكُمْ اَمْرًا اِلَّا فِیْ حُكْمٍ، وَ لَاۤ اُؤَخِّرَ لَكُمْ حَقًّا عَنْ مَّحَلِّهٖ، وَ لَاۤ اَقِفَ بِهٖ دُوْنَ مَقْطَعِهٖ، وَ اَنْ تَكُوْنُوْا عِنْدِیْ فِی الْحَقِّ سَوَآءً.
ہاں! مجھ پر تمہارا یہ بھی حق ہے کہ جنگ کی حالت کے علاوہ کوئی راز تم سے پردہ میں نہ رکھوں، اور حکم شرعی کے سوا دوسرے امور میں تمہاری رائے مشورہ سے پہلو تہی نہ کروں، اور تمہارے کسی حق کو پورا کرنے میں کوتاہی نہ کروں، اور اسے انجام تک پہنچائے بغیر دم نہ لوں، اور یہ کہ حق میں تم میرے نزدیک سب برابر سمجھے جاؤ۔ (45)
فوج حکومت کی پشت پناہ
اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّكَ مِمَّنْ اَسْتَظْهِرُ بِهٖ عَلٰى اِقَامَةِ الدِّیْنِ، وَ اَقْمَعُ بِهٖ نَخْوَةَ الْاَثِیْمِ، وَ اَسُدُّ بِهٖ لَهَاةَ الثَّغْرِ الْمَخُوْفِ،
تم ان لوگوں میں سے ہو جن سے دین کے قیام میں مدد لیتا ہوں، اور گنہگاروں کی نخوت توڑتا ہوں، اور خطرناک سرحدوں کی حفاظت کرتا ہو۔ (46)
افواج کی ذمہ داریاں
جِبَایَةَ خَرَاجِهَا، وَ جِهَادَ عَدُوِّهَا، وَ اسْتِصْلَاحَ اَهْلِهَا، وَ عِمَارَةَ بِلَادِهَا
وہ خراج جمع کریں، دشمنوں سے لڑیں، رعایا کی فلاح و بہبود اور شہروں کی آبادی کا انتظام کریں۔ (47)
عدل و انصاف کے شعبے کا قیام اور ان کا دستور العمل
جج / قاضی کا انتخاب
ثُمَّ اخْتَرْ لِلْحُكْمِ بَیْنَ النَّاسِ اَفْضَلَ رَعِیَّتِكَ فِیْ نَفْسِكَ، مِمَّنْ لَّا تَضِیْقُ بِهِ الْاُمُوْرُ، وَ لَا تَمْحَكُهُ الْخُصُوْمُ، وَ لَا یَتَمَادٰى فِی الزَّلَّةِ، وَ لَا یَحْصَرُ مِنَ الْفَیْءِ اِلَى الْحَقِّ اِذَا عَرَفَهٗ، وَ لَا تُشْرِفُ نَفْسُهٗ عَلٰى طَمَعٍ، وَ لَا یَكْتَفِیْ بِاَدْنٰى فَهْمٍ دُوْنَ اَقْصَاهُ، وَ اَوْقَفَهُمْ فِی الشُّبُهَاتِ، وَ اٰخَذَهُمْ بِالْحُجَجِ، وَ اَقَلَّهُمْ تَبَرُّمًۢا بِمُرَاجَعَةِ الْخَصْمِ، وَ اَصْبَرَهُمْ عَلٰى تَكَشُّفِ الْاُمُوْرِ، وَ اَصْرَمَهُمْ عِنْدَ اتِّضَاحِ الْحُكْمِ، مِمَّنْ لَّا یَزْدَهِیْهِ اِطْرَآءٌ، وَ لَا یَسْتَمِیْلُهٗۤ اِغْرَآءٌ، وَ اُوْلٰٓئِكَ قَلِیْلٌ.
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کیلئے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق میں نہ پڑ جاتا ہو، اور نہ جھگڑنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو، نہ اپنے کسی غلط نقطۂ نظر پر اَڑتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو اور نہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو، شک و شبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو، اور دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین کی بحثا بحثی سے اکتا نہ جاتا ہو، معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو، اور جب حقیقت آئینہ ہو جاتی ہو تو بے دھڑک فیصلہ کر دیتا ہو۔ وہ ایسا ہو جسے سراہنا مغرور نہ بنائے اور تاننا جنبہ داری پر آمادہ نہ کر دے۔ اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں۔ (48)
عدالتوں پر نظر رکھنا صاحبان حکومت و سیاست کا بنیادی فریضہ
ثُمَّ اَكْثِرْ تَعَاهُدَ قَضَآئِهٖ
(پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا)، (49)
ججز کی تنخواہیں اور مقام و مرتبہ
وَ افْسَحْ لَهٗ فِی الْبَذْلِ مَا یُزِیْلُ عِلَّتَهٗ، وَ تَقِلُّ مَعَهٗ حَاجَتُهٗ اِلَى النَّاسِ، وَ اَعْطِهٖ مِنَ الْمَنْزِلَةِ لَدَیْكَ مَا لَا یَطْمَعُ فِیْهِ غَیْرُهٗ مِنْ خَاصَّتِكَ، لِیَاْمَنَ بِذٰلِكَ اغْتِیَالَ الرِّجَالِ لَهٗ عِنْدَكَ، فَانْظُرْ فِیْ ذٰلِكَ نَظَرًۢا بَلِیْغًا، فَاِنَّ هٰذَا الدِّیْنَ قَدْ كَانَ اَسِیْرًا فِیْۤ اَیْدِی الْاَشْرَارِ، یُعْمَلُ فِیْهِ بِالْهَوٰى وَ تُطْلَبُ بِهِ الدُّنْیَا.
دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جوان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے۔ اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔ اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا۔ کیونکہ (اس سے پہلے) یہ دین بدکرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے، جس میں نفسانی خواہشوں کی کار فرمائی تھی اور اسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا تھا۔ (50)
3۔ سرکاری کارمندوں کے شعبے کا قیام
عہدے داروں کے انتخاب کا طریقہ
ثُمَّ انْظُرْ فِیْ اُمُوْرِ عُمَّالِكَ، فَاسْتَعْمِلْهُمُ اخْتِبَارًا، وَ لَا تُوَلِّهِمْ مُحَابَاةً وَّ اَثَرَةً، فَاِنَّهُمَا جِمَاعٌ مِّنْ شُعَبِ الْجَوْرِ وَ الْخِیَانَةِ.
پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا، ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا، کبھی صرف رعایت اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا۔ اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں۔ (51)
عہدے داروں کا معیار اہلیت
وَ تَوَخَّ مِنْهُمْ اَهْلَ التَّجْرِبَةِ وَ الْحَیَآءِ، مِنْ اَهْلِ الْبُیُوْتَاتِ الصَّالِحَةِ وَ الْقَدَمِ فِی الْاِسْلَامِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فَاِنَّهُمْ اَكْرَمُ اَخْلَاقًا، وَ اَصَحُّ اَعْرَاضًا، وَ اَقَلُّ فِی الْمَطَامِعِ اِشْرَافًا، وَ اَبْلَغُ فِیْ عَوَاقِبِ الْاُمُوْرِ نَظَرًا.
اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ و غیرت مند ہوں، ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں، حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔ (52)
اچھی تنخواہیں، بدعنوانی (کرپشن) کا علاج
ثُمَّ اَسْبِـغْ عَلَیْهِمُ الْاَرْزَاقَ، فَاِنَّ ذٰلِكَ قُوَّةٌ لَّهُمْ عَلَى اسْتِصْلَاحِ اَنْفُسِهِمْ، وَ غِنًى لَّهُمْ عَنْ تَنَاوُلِ مَا تَحْتَ اَیْدِیْهِمْ، وَ حُجَّةٌ عَلَیْهِمْ اِنْ خَالَفُوْۤا اَمْرَكَ، اَوْ ثَلَمُوْۤا اَمَانَتَكَ.
پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا، کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی، اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان ہاتھوں میں بطور امانت ہو گا۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں تو تمہاری حجت ان پرقائم ہو گی۔ (53)
بہترین عہدے دار
ثُمَّ انْظُرْ فِیْ حَالِ كُتَّابِكَ، فَوَلِّ عَلٰۤى اُمُوْرِكَ خَیْرَهُمْ، وَ اخْصُصْ رَسَآئِلَكَ الَّتِیْ تُدْخِلُ فِیْهَا مَكَآئِدَكَ وَ اَسْرَارَكَ بِاَجْمَعِهِمْ لِوُجُوْهِ صَالِحِ الْاَخْلَاقِ مِمَّنْ لَّا تُبْطِرُهُ الْكَرَامَةُ، فَیَجْتَرِئَ بِهَا عَلَیْكَ فِیْ خِلَافٍ لَّكَ بِحَضْرَةِ مَلَاٍ، وَ لَا تُقَصِّرُ بِهِ الْغَفْلَةُ عَنْ اِیْرَادِ مُكَاتَبَاتِ عُمَّالِكَ عَلَیْكَ، وَ اِصْدَارِ جَوَابَاتِهَا عَلَى الصَّوَابِ عَنْكَ، وَ فِیْمَا یَاْخُذُ لَكَ وَ یُعْطِیْ مِنْكَ، وَ لَا یُضْعِفُ عَقْدًا اعْتَقَدَهٗ لَكَ، وَ لَا یَعْجِزُ عَنْ اِطْلَاقِ مَا عُقِدَ عَلَیْكَ، وَ لَا یَجْهَلُ مَبْلَغَ قَدْرِ نَفْسِهٖ فِی الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ الْجَاهِلَ بِقَدْرِ نَفْسِهٖ یَكُوْنُ بِقَدْرِ غَیْرِهٖ اَجْهَلَ.
پھر یہ کہ اپنے منشیانِ دفاتر کی اہمیت پر نظر رکھنا، اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو اِن میں بہتر ہوں، اور اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر اور (مملکت کے) رموز و اسرار درج ہوتے ہیں، خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں، جنہیں اعزاز کا حاصل ہو نا سرکش نہ بنائے کہ وہ بھری محفلوں میں تمہارے خلاف کچھ کہنے کی جرأت کرنے لگیں، اور ایسے بے پروا نہ ہوں کہ لین دین کے معاملات کے بارے میں جو تم سے متعلق ہوں تمہارے کارندوں کے خطوط تمہارے سامنے پیش کرنے اور ان کے مناسب جوابات روانہ کرنے میں کوتاہی کرتے ہوں، اور وہ تمہارے حق میں جو معاہدہ کریں اس میں کوئی خامی نہ رہنے دیں، اور نہ تمہارے خلاف کسی ساز باز کا توڑ کرنے میں کمزوری دکھائیں، اور وہ معاملات میں اپنے صحیح مرتبہ اور مقام سے ناآشنا نہ ہوں، کیونکہ جو اپنا صحیح مقام نہیں پہچانتا وہ دوسروں کے قدر و مقام سے اور بھی زیادہ ناواقف ہو گا۔ (54)
ہر حکومتی عہدے دار جواب دہ
وَاجْعَلْ لِكُلِّ اِنْسَانٍ مِّنْ خَدَمِكَ عَمَلًا تَاْخُذُهٗ بِهٖ، فَاِنَّهٗ اَحْرٰى اَنْ لَّا یَتَوَاكَلُوْا
اپنے خدمت گزاروں میں ہر شخص کیلئے ایک کام معیّن کر دو جس کی جواب دہی اس سے کر سکو، اس طریق کار سے وہ تمہارے کاموں کو ایک دوسرے پر نہیں ٹالیں گے۔ (55)
5۔ نہج البلاغہ میں چند دیگر اصول حکومت و سیاست
امنیت
امن، انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی فراہمی حکومتوں کا اہم فریضہ ہے۔ اس بیان کی تصدیق میں غور و فکر اور بحث کی ضرورت نہیں ہے اور سیاسی اور سماجی ادب اور معیاری ذرائع میں، یہ بدیہی اصولوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ البتہ کسی تصور کا بدیہی ہونا اس سے متعلقہ تمام پہلوؤں پر اتفاق رائے کا تقاضا نہیں کرتا اور اس تصور کی اہمیت اس کی متفقہ تعریف سے وابستہ نہیں ہے۔ امن، زندگی اور معاشرے کی بنیاد کا پتھرہے اور ہر قسم کی ترقی و نمو اور مادی و روحانی بلندی و ارتقا کی پیش شرط سمجھا جاتاہے جس میں سے اس اہم کام کی بڑی ذمہ داری حکومت کے سپرد کی گئی ہے۔
امام علی علیہ السلام کےحکومت کے بارے میں بیان سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نےخوارج کے اس شبہ کے جواب میں جو کہتے تھے کہ "فیصلہ صرف اللہ کے لیے ہے”، فرمایا: "کیا حکومت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ حق نافذ ہو اور باطل مٹ جائے، نیک بندے امان میں رہیں اور بدکار خوفزدہ رہیں، حدود قائم ہوں اور راستے محفوظ ہوں، کمزور کا حق قوی سے لیا جائے اور مظلوم کا ظالم سےحق دلایا جائے۔” (56)
اس متن سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں حکومت مقصد نہیں بلکہ احکام و قوانین کی عملداری اور اس کے بلند مقاصد کی فراہمی کا ذریعہ ہے، جو یہ اہم کام سیاسی تنظیم کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کا بنیادی مقصد اور ہدف ترقی، آبادانی اور رشد و پیشرفت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی صحت سازی، مختلف مفاسد کا سدباب،سماجی انصاف کا قیام اور فروغ اور عوامی خوشحالی ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جس کا حصول اور نتیجہ معاشرے کے افراد کا اطمینانِ خاطر اور سکون اور آخر کار ان کی سلامتی کی فراہمی ہے۔
ثقافتی سماجی امن معاشی امن، سیاسی، عسکری و سرحدی امن (57)
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ
اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ دَهَاقِیْنَ اَهْلِ بَلَدِكَ شَكَوْا مِنْكَ غِلْظَةً وَّ قَسْوَةً، وَ احْتِقَارًا وَّ جَفْوَةً، وَ نَظَرْتُ فَلَمْ اَرَهُمْ اَهْلًا لِّاَنْ یُّدْنَوْا لِشِرْكِهِمْ، وَ لَاۤ اَنْ یُّقْصَوْا وَ یُجْفَوْا لِعَهْدِهِمْ، فَالْبَسْ لَهُمْ جِلْبَابًا مِّنَ اللِّیْنِ تَشُوْبُهٗ بِطَرَفٍ مِّنَ الشِّدَّةِ، وَ دَاوِلْ لَّهُمْ بَیْنَ الْقَسْوَةِ وَ الرَّاْفَةِ، وَ امْزُجْ لَهُمْ بَیْنَ التَّقْرِیْبِ وَ الْاِدْنَآءِ، وَ الْاِبْعَادِ وَ الْاِقْصَآءِ، اِنْ شَآءَ اللهُ.
تمہارے شہر کے زمینداروں نے تمہاری سختی، سنگدلی، تحقیر آمیز برتاؤ اور تشدد کے رویہ کی شکایت کی ہے ۔میں نے غور کیا تو وہ شرک کی وجہ سے اس قابل تو نظر نہیں آتے کہ انہیں نزدیک کر لیا جائے، اور معاہدہ کی بنا پر انہیں دور پھینکا اور دھتکارا بھی نہیں جاسکتا، لہٰذا ان کیلئے نرمی کا ایسا شعار اختیار کرو جس میں کہیں کہیں سختی کی بھی جھلک ہو اور کبھی سختی کر لو اور کبھی نرمی برتو، اور قرب و بعد اور نزدیکی و دوری کو سمو کر بین بین راستہ اختیار کرو۔ ان شاء اللہ۔ (58)
جانوروں کے ضروریات کا خیال رکھنا
فَاِذَاۤ اَخذَهَاۤ اَمِیْنُكَ فَاَوْعِزْ اِلَیْهِ اَنْ لَّا یَحُوْلَ بَیْنَ نَاقَةٍ وَّ بَیْنَ فَصِیْلِهَا، وَ لَا یَمْصُرَ لَبَنَهَا فَیَضُرَّ ذٰلِكَ بِوَلَدِهَا، وَ لَا یَجْهَدَنَّهَا رُكُوْبًا، وَ لْیَعْدِلْ بَیْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِیْ ذٰلِكَ وَ بَیْنَهَا، وَ لْیُرَفِّهْ عَلَی الَّلاغِبِ، وَ لْیَسْتَاْنِ بِالنَّقِبِ وَ الظَّالِعِ، وَ لْیُوْرِدْهَا مَا تَمُرُّ بِهٖ مِنَ الْغُدُرِ، وَ لَا یَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَّبْتِ الْاَرْضِ اِلٰی جَوَادِّ الطَّرِیْقِ، وَ لْیُرَوِّحْهَا فِی السَّاعَاتِ، وَلْیُمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ وَ الْاَعْشَابِ، حَتّٰی تَاْتِیَنَا بِاِذْنِ اللهِ بُدُنًا مُّنْقِیَاتٍ، غَیْرَ مُتْعَبَاتٍ وَّ لَا مَجْهُوْدَاتٍ، لِنَقْسِمَهَا عَلٰی كِتَابِ اللهِ وَ سُنَّةِ نَبِیِّهٖ ﷺ فَاِنَّ ذٰلِكَ اَعْظَمُ لِاَجْرِكَ، وَ اَقْرَبُ لِرُشْدِكَ، اِنْ شَآءَ اللهُ.
جب تمہارا امین اس مال کو اپنی تحویل میں لے لے تو اسے فہمائش کرنا کہ وہ اونٹنی اور اس کے دودھ پیتے بچے کو الگ الگ نہ رکھے اور نہ اس کا سارے کا سارا دودھ دوہ لیا کرے کہ بچے کیلئے ضرر رسانی کا باعث بن جائے اور اس پر سواری کر کے اسے ہلکان نہ کر ڈالے۔ اس میں اور اس کے ساتھ کی دوسری اونٹنیوں میں (سواری کرنے اور دوہنے میں) انصاف و مساوات سے کام لے، تھکے ماندے اونٹ کو سستانے کا موقع دے اور جس کے کھر گھس گئے ہوں یا پیر لنگ کرنے لگے ہوں اسے آہستگی اور نرمی سے لے چلے اور ان کی گزر گاہوں میں جو تالاب پڑیں وہاں انہیں پانی پینے کیلئے اتارے، اور زمین کی ہریالی سے ان کا رخ موڑ کر (بے آب و گیاہ) راستوں پر نہ لے چلے، اور وقتاً فوقتاً انہیں راحت پہنچاتا رہے، اور جہاں تھوڑا بہت پانی یا گھاس سبزہ ہو انہیں کچھ دیر کیلئے مہلت دے تاکہ جب وہ ہمارے پاس پہنچیں تو وہ بحکم خدا موٹے تازے ہوں اور ان کی ہڈیوں کا گودا بڑھ چکا ہو، وہ تھکے ماندے اور خستہ حال نہ ہوں، تاکہ ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق انہیں تقسیم کریں۔ بیشک یہ تمہارے لئے بڑے ثواب کا باعث اور منزل ہدایت تک پہنچنے کا ذریعہ ہو گا۔ ان شاء اللہ (59)
عوام سے انصاف کا حکم
فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ، وَاَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ، وَابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ، وَ اٰسِ بَیْنَهُمْ فِی اللَّحْظَةِ وَ النَّظْرَةِ، حَتَّی لَا یَطْمَعَ الْعُظَمَآءُ فِیْ حَیْفِكَ لَهُمْ، وَ لَا یَیْاَسَ الضُّعَفَآءُ مِنْ عَدْلِكَ عَلَیْهِمْ
لوگوں سے تواضع کے ساتھ ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ روئی سے پیش آنا اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا، تاکہ بڑے لوگ تم سے اپنی ناحق طرف داری کی امید نہ رکھیں اور چھوٹے لوگ تمہارے عدل و انصاف سے ان (بڑوں) کے مقابلہ میں ناامید نہ ہو جائیں۔ (60)
خدا کو ناراض نہ کرنا
وَ لَا تُسْخِطِ اللهَ بِرِضٰی اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِهِ، فَاِنَّ فِی اللهِ خَلَفًا مِّنْ غَیْرِهٖ، وَ لَیْسَ مِنَ اللهِ خَلَفٌ فِیْ غَیْرِهٖ.
اور مخلوقات میں سے کسی کو خوش کرنے کیلئے اللہ کو ناراض نہ کرنا، کیونکہ اوروں کا عوض تو اللہ میں مل سکتا ہے مگر اللہ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ (60)
مجرم اور بے گناہ برابر نہیں
وَ لِذِی النَّصِیْحَةِ حَقَّهٗ، غَیْرَ مُتَجَاوِزٍ مُّتَّهَمًا اِلٰی بَرِیٍّ، وَ لَا نَاكِثًا اِلٰی وَفِیٍّ۔۔۔۔
اور میرے یہاں یہ نہیں ہو سکتا کہ مجرموں کے ساتھ بے گناہ اور عہد شکنوں کے ساتھ وفادار بھی لپیٹ میں آ جائیں۔ (61)
بیت المال کی منصفانہ تقسیم
اَلَا وَ اِنَّ حَقَّ مَنْ قِبَلَكَ وَ قِبَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ قِسْمَةِ هٰذَا الْفَیْءِ سَوَآءٌ، یَرِدُوْنَ عِنْدِیْ عَلَیْهِ، وَ یَصْدُرُوْنَ عَنْهُ.
دیکھو! وہ مسلمان جو میرے اور تمہارے پاس ہیں، اس مال کی تقسیم کے برابر کے حصہ دار ہیں۔ اسی اصول پر وہ اس مال کو میرے پاس لینے کیلئے آتے ہیں اور لے کر چلے جاتے ہیں۔ (62)
اَنَّكَ تَقْسِمُ فَیْءَ الْمُسْلِمِیْنَ الَّذِیْ حَازَتْهُ رِمَاحُهُمْ وَ خُیُوْلُهُمْ، وَ اُرِیْقَتْ عَلَیْهِ دِمَآؤُهُمْ، فِیْمَنِ اعْتَامَكَ مِنْ اَعْرَابِ قَوْمِكَ.
مسلمانوں کے اس مال غنیمت کو کہ جسے ان کے نیزوں (کی انیوں) اور گھوڑوں (کی ٹاپوں) نے جمع کیا تھا اور جس پر ان کے خون بہائے گئے تھے، تم اپنی قوم کے ان بدؤں میں بانٹ رہے ہو جو تمہارے ہوا خواہ ہیں۔ (63)
تعلیم، عوامی حق
وَ عَلِّمِ الْجَاهِلَ
جاہل کو تعلیم دو۔ (64)
اتحاد، بہترین نیکی
نَظْمِ اَمْرِكُمْ، وَ صَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِكُمْ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّكُمَا ﷺ یَقُوْلُ: «صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلٰوةِ وَ الصِّیَامِ».
اپنے معاملات درست اور آپس کے تعلقات سلجھائے رکھنا،کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: «آپس کی کشیدگیوں کو مٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔ (65)
نیک و بد ایک جیسے نہیں
وَ لَا یَكُوْنَنَّ الْمُحْسِنُ وَ الْمُسِیْٓءُ عِنْدَكَ بِمَنْزِلَةٍ سَوَآءٍ، فَاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ تَزْهِیْدًا لِّاَهْلِ الْاِحْسَانِ فِی الْاِحْسَانِ، وَ تَدْرِیْبًا لِّاَهْلِ الْاِسَآءَةِ عَلَى الْاِسَآءَةِ، وَ اَلْزِمْ كُلًّا مِّنْهُمْ مَاۤ اَلْزَمَ نَفْسَهٗ.
اور تمہارے نزدیک نیکو کار اور بدکردار دونوں برابر نہ ہوں۔ اس لئے کہ ایسا کرنے سے نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کو بدی پر آمادہ کرنا ہے۔ ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو جس کا وہ مستحق ہے۔ (66)
بنیادی عوامی حقوق اور حکومتی فرائض
وَ فِی اللّٰهِ لِكُلٍّ سَعَةٌ، وَ لِكُلٍّ عَلَى الْوَالِیْ حَقٌّۢ بِقَدْرِ مَا یُصْلِحُهٗ، وَ لَیْسَ یَخْرُجُ الْوَالِیْ مِنْ حَقِیْقَةِ مَاۤ اَلْزَمَهُ اللّٰهُ مِنْ ذٰلِكَ اِلَّا بِالِاهْتِمَامِ وَ الِاسْتِعَانَةِ بِاللّٰهِ، وَ تَوْطِیْنِ نَفْسِهٖ عَلٰى لُزُوْمِ الْحَقِّ، وَ الصَّبْرِ عَلَیْهِ فِیْمَا خَفَّ عَلَیْهِ اَوْ ثَقُلَ.
اللہ نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کر رکھی ہیں اور ہر طبقے کا حاکم پر حق قائم ہے کہ وہ ان کیلئے اتنا مہیا کرے جو ان کی حالت درست کر سکے اور حاکم خدا کے ان تمام ضروری حقوق سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا مگر اسی صورت میں کہ پوری طرح کوشش کرے، اور اللہ سے مدد مانگے اور اپنے کو حق پر ثابت و بر قرار رکھے، اور چاہے اس کی طبیعت پر آسان ہو یا دشوار، بہرحال اس کو برداشت کرے۔ (67)
بلند، نیک،مہذب، شجاع اور سخی قبائل سے تعقات بڑھانا
ثُمَّ اَلْصِقْ بِذَوِی الْاَحْسَابِ وَ اَهْلِ الْبُیُوْتَاتِ الصَّالِحَةِ، وَ السَّوَابِقِ الْحَسَنَةِ، ثُمَّ اَهْلِ النَّجْدَةِ وَ الشَّجَاعَةِ وَ السَّخَآءِ وَ السَّمَاحَةِ، فَاِنَّهُمْ جِمَاعٌ مِّنَ الْكَرَمِ، وَ شُعَبٌ مِّنَ الْعُرْفِ.
پھر ایسا ہو نا چاہیے کہ تم بلند خاندان، نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جود و سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط ضبط بڑھاؤ، کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔ (68)
حق دار تک حق کی رسائی
ثُمَّ اعْرِفْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَاۤ اَبْلٰى وَ لَا تُضِیْفَنَّ بَلَآءَ امْرِئٍ اِلٰى غَیْرِهٖ، وَ لَا تُقَصِّرَنَّ بِهٖ دُوْنَ غَایَةِ بَلَآئِهٖ، وَ لَا یَدْعُوَنَّكَ شَرَفُ امْرِئٍ اِلٰۤى اَنْ تُعْظِمَ مِنْۢ بَلَآئِهٖ مَا كَانَ صَغِیْرًا، وَ لَا ضَعَةُ امْرِئٍ اِلٰۤى اَنْ تَسْتَصْغِرَ مِنْۢ بَلَآئِهٖ مَا كَانَ عَظِیْمًا.
جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا، اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کر دینا، اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا، اور کبھی ایسا نہ کرنا کہ کسی شخص کی بلندی و رفعت کی وجہ سے اس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو، اور کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کی وجہ سے معمولی قرار دے لو۔ 774
صنعت کاروں اہمیت
لَا قِوَامَ لَهُمْ جَمِیْعًا اِلَّا بِالتُّجَّارِ وَ ذَوِی الصِّنَاعَاتِ، فِیْمَا یَجْتَمِعُوْنَ عَلَیْهِ مِنْ مَّرَافِقِهِمْ، وَ یُقِیْمُوْنَهٗ مِنْ اَسْوَاقِهِمْ، وَ یَكْفُوْنَهُمْ مِنَ التَّرَفُّقِ بِاَیْدِیْهِمْ مَا لَا یَبْلُغُهٗ رِفْقُ غَیْرِهِمْ.
اور سب کا دار و مدار سوداگروں اور صنّاعوں پر ہے کہ وہ ان کی ضروریات کو فراہم کرتے ہیں، بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے ان کی ضروریات کو مہیا کر کے انہیں خود مہیا کرنے سے آسودہ کر دیتے ہیں۔ (69)
تاجروں اور محنت کشوں کی ملکی اہمیت
ثُمَّ اسْتَوْصِ بِالتُّجَّارِ وَ ذَوِی الصِّنَاعَاتِ، وَ اَوْصِ بِهِمْ خَیْرًا، الْمُقِیْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُضْطَرِبِ بِمَالِهٖ، وَ الْمُتَرَفِّقِ بِبَدَنِهٖ، فَاِنَّهُمْ مَوَادُّ الْمَنَافِعِ، وَ اَسْبَابُ الْمَرَافِقِ، وَ جُلَّابُهَا مِنَ الْمَبَاعِدِ وَ الْمَطَارِحِ، فِیْ بَرِّكَ وَ بَحْرِكَ، وَ سَهْلِكَ وَ جَبَلِكَ، وَ حَیْثُ لَا یَلْتَئِمُ النَّاسُ لِمَوَاضِعِهَا، وَ لَا یَجْتَرِءُوْنَ عَلَیْهَا، فَاِنَّهُمْ سِلْمٌ لَّا تُخَافُ بَآئِقَتُهٗ، وَ صُلْحٌ لَّا تُخْشٰى غَآئِلَتُهٗ، وَ تَفَقَّدْ اُمُوْرَهُمْ بِحَضْرَتِكَ وَ فِیْ حَوَاشِیْ بِلَادِكَ.
پھر تمہیں تاجروں اور صنّاعوں کے خیال اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ہدایت کی جاتی ہے، اور تمہیں دوسروں کو ان کے متعلق ہدایت کرنا ہے، خواہ وہ ایک جگہ رہ کر بیوپار کرنے والے ہوں یا پھیری لگا کر بیچنے والے ہوں، یا جسمانی مشقت (مزدوری یا دستکاری) سے کمانے والے ہوں، کیونکہ یہی لوگ منافع کا سرچشمہ اور ضروریات کے مہیا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان ضروریات کو خشکیوں، تریوں، میدانی علاقوں اور پہاڑوں ایسے دور افتادہ مقامات سے درآمد کرتے ہیں، اور ایسی جگہوں سے کہ جہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے اور نہ وہاں جانے کی ہمت کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ امن پسند اور صلح جُو ہوتے ہیں۔ ان سے کسی فساد اور شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تمہارے سامنے ہوں یا جہاں جہاں دوسرے شہروں میں پھیلے ہوئے ہوں، تم ان کی خبر گیری کرتے رہنا۔ (70)
اس مقالے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نہج البلاغہ محض ایک مذہبی یا اخلاقی متن نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی و سماجی دستور ہے جو مثالی ریاست کے قیام کے لیے ہمہ گیر اصول فراہم کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی فکر میں حکومت اقتدار کی علامت نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری کا منصب ہے، جس کا مقصد عدل کا قیام، مظلوم کی داد رسی اور معاشرتی توازن کا استحکام ہے۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک کامیاب اور صالح حکومت کی بنیاد حکمران کے کردار پر ہوتی ہے۔ اگر حکمران خود انصاف پسند، دیانت دار، باعمل، سادہ مزاج اور دنیا پرست نہ ہو تو وہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ نہیں دے سکتا۔ نہج البلاغہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکمران پہلے خود اپنی اصلاح کرے، پھر رعایا کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔ یہی اصول قیادت کو عوامی اعتماد عطا کرتا ہے۔
مزید یہ کہ علوی سیاسی فکر میں عوام کے حقوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ محروم، کمزور اور نظر انداز طبقوں کی کفالت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بیت المال کی حفاظت، منصفانہ ٹیکس نظام، بازار کی نگرانی، عدالتی شفافیت اور انتظامی احتساب وہ عوامل ہیں جو ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کو ممکن بناتے ہیں۔ حضرت علیؑ کی ہدایات اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ اگر ریاست کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتی تو وہ اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔
مخالفین کے ساتھ رویے کے حوالے سے بھی نہج البلاغہ ایک اعلیٰ اخلاقی معیار پیش کرتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، مکالمہ، برداشت، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام اسلامی سیاسی فکر کا بنیادی حصہ ہے۔ حتیٰ کہ جنگ کے مواقع پر بھی انسانی اقدار، ماحولیات کا تحفظ اور غیر جنگجو افراد کی سلامتی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اسی طرح وزراء اور مشیروں کے انتخاب میں اہلیت، دیانت اور حق گوئی کو بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے، جبکہ خوشامد، عیش پرستی، بدعنوانی اور تکبر کو ریاستی زوال کا سبب بتایا گیا ہے۔ یہ اصول عصرِ حاضر کے سیاسی نظاموں کے لیے بھی نہایت اہم اور قابلِ استفادہ ہیں۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ میں پیش کردہ اصول حکومت و سیاست آج کے دور میں بھی ایک مثالی، منصفانہ اور انسانی اقدار پر مبنی ریاست کے قیام کے لیے مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان اصولوں کو عملی سطح پر اپنایا جائے تو معاشرتی انصاف، سیاسی استحکام اور اخلاقی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
[1] غرر الحکم و دررالکلم ،جلد5،ص21۔[2] ایضاً،ص294۔
[3] بحوالہ،رشید رکابیان،رفتارِ مطلوب سیاسی در سیرہ علوی،مشمولہ فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ،شمارہ65،سرما 2020ء،ص105۔
[4] علامہ مفتی جعفر حسین(مترجم)،نہج البلاغہ،برطانیہ:ورلڈ فیڈریشن،خطبہ33، 2022ء، ص،199۔
[5] لم تقولون مالا تفعلون،صف، آیت2۔
[6] نہج البلاغہ،حکمت 73 خطبہ مکتوب، ص844۔
[7] نہج البلاغہ،حکمت 30 ص۔833
[8] نہج البلاغہ ،عہدنامہ 53،ص767۔
[9] نہج البلاغہ،مکتوب 41،ص741۔
[10] نہج البلاغہ،خطبہ3، ص 112۔
[11] نہج البلاغہ،مکتوب ص749
[12] نہج البلاغہ ، خطبہ157 ص447،
[13] نہج البلاغہ،مکتوب45 ص،746۔747
[14] نہج البلاغہ،دستاویز۔3، بنام قاضی شریح۔ص660
[15] تاریخ یعقوبی،ابراہیم آیتی(مترجم)،تہران:انتشارات علمی و فرہنگی،ص25۔
[16] نہج البلاغہ، عہدنامہ53،ص764۔
[17] نہج البلاغہ، عہدنامہ53، ص766۔
[18] نہج البلاغہ،م عہدنامہ53، ص798
[19] نہج البلاغہ،عہدنامہ53، ص785
[20] رشید رکابیان،رفتارِ مطلوب سیاسی در سیرہ علوی،ص116۔
[21] نہج البلاغہ، خطبہ55،ص225
[22] نہج البلاغہ، مکتوب،25, ص695۔
[23] نہج البلاغہ مکتوب46, ص758۔
[24] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص769۔
[25] نہج البلاغہ مکتوب34,؛ص733۔
[26] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص 768۔
[27] نہج البلاغہ،عہدنامہ53 ص769۔
[28] نہج البلاغہ،عہدنامہ53 ص،768۔
[29] نہج البلاغہ،عہدنامہ53 ص،773۔
[30] نہج البلاغہ،مکتوب26, ص698۔
[31] نہج البلاغہ ،مکتوب 41, ص741۔
[32] نہج البلاغہ،عہدنامہ53 ,ص765۔
[33] نہج البلاغہ،مکتوب 18، ص687۔
[34] نہج البلاغہ،مکتوب21,ص 690۔
[35] نہج البلاغہ،مکتوب21,ص 690۔
[36] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص 770۔
[37] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص 770۔
[38] نہج البلاغہ،مکتوب 38،ص 738۔
[39] نہج البلاغہ،مکتوب 13،ص 677۔
[40] نہج البلاغہ، مکتوب 38،ص738۔
[41] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص771۔
[42] ہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص771۔
[43] نہج البلاغہ،عہدنامہ53، ص773۔
[44] نہج البلاغہ، مکتوب،۔51، ص763۔
[45] نہج البلاغہ، مکتوب 50۔ص761۔
[46] نہج البلاغہ، مکتوب46،ص758۔
[47] نہج البلاغہ،عہدنامہ 53،ص764۔
[48] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص774۔
[49] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص775۔
[50] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53، 775۔
[51] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص775۔
[52] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص776۔
[53] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص775۔
[54] نہج البلاغہ ، عہدنامہ53،ص 778۔
[55] نہج البلاغہ ، مکتوب 31،ص729۔
[56] نہج البلاغہ ، خطبہ 40،ص212۔
[57] رشید رکابیان،رفتارِ مطلوب سیاسی در سیرہ علوی،مشمولہ فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ،ص119۔
[58] نہج البلاغہ،مکتوب 19،ص689۔
[59] نہج البلاغہ،مکتوب26،ص 697۔
[60] نہج البلاغہ، عہدنامہ 27,ص 698۔
[61] نہج البلاغہ،عہدنامہ 27،ص701۔
[62] نہج البلاغہ،مکتوب 29،ص711۔
[63] نہج البلاغہ،مکتوب 43،ص742۔ 743۔
[64] نہج البلاغہ،مکتوب 67،ص ,810۔
[65] نہج البلاغہ،مکتوب 47،ص759۔
[66] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص769۔
[67] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص772۔
[68] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص772۔
[69] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص771۔
[70] نہج البلاغہ،عہدنامہ53،ص779۔
کتابیات
ابراہیم آیتی (مترجم)،تاریخ یعقوبی، تہران:انتشارات علمی و فرہنگی،2020ء۔
ذیشان حیدر جوادی، علامہ، انوارالقرآن، قم:انصاریان پبلشرز، 2000ء۔
ذیشان حیدر جوادی، علامہ، نقوشِ عصت، کراچی: رحمت اللہ بک ایجنسی،1996ء۔
رشید رکابیان، رفتارِ مطلوب سیاسی در سیرہ علوی، مشمولہ فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ، شمارہ65، سرما 2020ء۔
مفتی جعفر حسین، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ، برطانیہ:ورلڈ فیڈریشن،، 2022ء۔
مفتی جعفر حسین، علامہ، سیرت امیرالمومنینؑ، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 1992ء۔



