فضائل علیؑ ابن ابی طالبؑ در نہج البلاغہ
کلام امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی روشنی میں

فرمان1
هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهٖ، وَ لَجَاُ اَمْرِهٖ، وَ عَیْبَةُعِلْمِهٖ، وَ مَوْئِلُ حِكَمِهٖ، وَ كُهُوْفُ كُتُبِهٖ، وَ جِبَالُ دِیْنِهٖ،
وہ سرِ خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ ہیں، علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں، کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 2)
فرمان2
لَا یُقَاسُ بِاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ اَحَدٌ، وَ لَا یُسَوّٰى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَیْهِ اَبَدًا.
اس اُمت میں کسی کو آلِ محمد علیہم السلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔
(نہج البلاغہ خطبہ2)
فرمان3
هُمْ اَسَاسُ الدِّیْنِ، وَ عِمَادُ الْیَقِیْنِ،
وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ2)
فرمان4
لَهُمْ خَصَآئِصُ حَقِّ الْوِلَایَةِ، وَ فِیْهِمُ الْوَصِیَّةُ وَ الْوِرَاثَةُ،
حق ولایت کی خصوصیات انہی کے لیے ہیں اور انہی کے بارے میں (پیغمبرؐ کی) وصیت اور انہی کے لیے (نبیؐ کی) وراثت ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ2)
فرمان5
یَنْحَدِرُ عَنِّی السَّیْلُ، وَ لَا یَرْقٰى اِلَیَّ الطَّیْرُ،
میں وہ (کوہ بلند ہوں) جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مار سکتا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 3)
فرمان6
اَنَّ مَحَلِّیْ مِنهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحٰی
میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ3)
فرمان7
بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِی الظَّلْمَآءِ، وَ تَسَنَّمْتُمُ الْعَلْيَآءِ.
ہماری وجہ سے تم نے (گمراہی) کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی اور رفعت و بلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 4)
فرمان8
مَا شَكَكْتُ فِی الْحَقِّ مُذْ اُرِيْتُهٗ
جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے کبھی اس میں شک و شبہ نہیں کیا۔
(نہج البلاغہ خطبہ4)
فرمان9
اَمَّا حَقِّیْ عَلَیْكُمْ ۔۔۔ الْاِجَابَةُ حِیْنَ اَدْعُوْكُمْ، وَ الطَّاعَةُ حِیْنَ اٰمُرُكُمْ.
میرا تم پر حق ہے۔۔۔ جب بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔
( نہج البلاغہ خطبہ 34)
فرمان10
رَضِیْنَا عَنِ اللهِ قَضَآئَهٗ، وَ سَلَّمْنَا لِلّٰهِ اَمْرَهٗ
ہم قضائے الٰہی پر راضی ہو چکے ہیں اور اُسی کو سارے امور سونپ دیے ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ37)
فرمان11
فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ!
میں سب سے پہلے اللہ پر ایمان لانے والا ہوں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 69)
فرمان12
فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَدَّقَهٗ
میں سب سے پہلے ان(نبیؐ) کی تصدیق کرنے والا ہوں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 69)
فرمان13
هُمْ اَزِمَّةُ الْحَقِّ، وَ اَعْلَامُ الدِّیْنِ، وَ اَلْسِنَةُ الصِّدْقِ!
وہ حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 85)
فرمان14
فاَنْزِلُوْهُمْ بِاَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْاٰنِ، وَ رِدُوْهُمْ وُرُوْدَ الْهِیْمِ الْعِطَاشِ.
جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہیں انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سر چشمہ ہدایت پر اترو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 85)
فرمان15
اُنْظُرُوْۤا اَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّكُمْ فَالْزَمُوْا سَمْتَهُمْ، وَ اتَّبِعُوْۤا اَثَرَهُمْ فَلَنْ یُّخْرِجُوْكُمْ مِنْ هُدًی، وَ لَنْ یُّعِیْدُوْكُمْ فِیْ رَدًی، فَاِنْ لَّبَدُوْا فَالْبُدُوْا، وَ اِنْ نَّهَضُوْا فَانْهَضُوْا، وَ لَا تَسْبِقُوْهُمْ فَتَضِلُّوْا، وَ لَا تَتَاَخَّرُوْا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوْا.
اپنے نبی ؐ کے اہل بیت علیہم السلام کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 95)
فرمان16
اُنْظُرُوْۤا اَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّكُمْ فَالْزَمُوْا سَمْتَهُمْ، وَ اتَّبِعُوْۤا اَثَرَهُمْ
اپنے نبی ؐ کے اہل بیت ؑکو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔
(نہج البلاغہ خطبہ95)
فرمان17
فَاِنْ لَّبَدُوْا فَالْبُدُوْا، وَ اِنْ نَّهَضُوْا فَانْهَضُوْا،
اگر اہل بیت ؑ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 95)
فرمان18
لَا تَسْبِقُوْهُمْ فَتَضِلُّوْا، وَ لَا تَتَاَخَّرُوْا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوْا.
ان(اہل بیتؑ) سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے.
(نہج البلاغہ خطبہ 95)
فرمان19
نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ، وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ، وَ مُخْتَلَفُ الْمَلٰٓئِكَةِ، وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ، وَ یَنَابِیْعُ الْحِكَمِ،
ہم نبوت کا شجرہ، رسالت کی منزل، ملائکہ کی فرودگاہ، علم کا معدن اور حکمت کا سر چشمہ ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 107)
فرمان20
اِنَّمَا اَنَا قُطْبُ الرَّحَا، تَدُوْرُ عَلَیَّ وَ اَنَا بِمَكَانِیْ،
میں چکی کے اندر کا وہ قطب ہوں کہ جس پر وہ گھومتی ہے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 117)
فرمان21
عِنْدَنَا ـ اَهْلَ الْبَیْتِ ـ اَبْوَابُ الْحِكَمِ وَ ضِیَآءُ الْاَمْرِ.
ہم اہل بیتؑ کے پاس علم و معرفت کے دروازے اور شریعت کی روشن راہیں ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 118)
فرمان22
اِنَّ الْكِتَابَ لَمَعِیْ، مَا فَارَقْتُهٗ مُذْ صَحِبْتُهٗ .
کتاب خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے میں اس سے الگ نہیں ہوا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 120)
فرمان23
لَاَلْفُ ضَرْبَةٍ بِالسَّیْفِ اَهْوَنُ عَلَیَّ مِنْ مِّیْتَةٍ عَلَی الْفِرَاشِ!.
بستر پر اپنی موت مرنے سے تلوار کے ہزار وار کھانا مجھے آسان ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 121)
فرمان24
اَللّٰهُمَّ اِنّیْۤ اَوَّلُ مَنْ اَنابَ، وَ سَمِعَ وَ اَجَابَ
اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیری طرف رجوع کی اور تیرے حکم کو سن کر لبیک کہی۔
(نہج البلاغہ خطبہ 129)
فرمان25
لَمْ یَسْبِقْنِیْۤ اِلَّا رَسُوْلُ اللهِ ؐ بِالصَّلٰوةِ.
رسول اللہ ؐ کے علاوہ کسی نے بھی نماز پڑھنے میں مجھ پر سبقت نہیں کی۔
(نہج البلاغہ خطبہ 129)
فرمان26
فَاِنَّهُمْ عَیْشُ الْعِلْمِ، وَ مَوْتُ الْجَهْلِ،
وہی(اہلِ بیتؑ) علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 145)
فرمان27
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ عَرَفَهُمْ وَ عَرَفُوْهُ، وَلَا یَدْخُلُ النَّارَ اِلَّا مَنْ اَنْكَرَهُمْ وَ اَنْكَرُوْهُ.
جنت میں وہی جائے گا جسے ان کی معرفت ہو اور وہ بھی اسے پہچانیں اور دوزخ میں وہی ڈالا جائے گا جو نہ انہیں پہچانے اور نہ وہ اسے پہچانیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 150)
فرمان28
وَاِنَّمَا الْاَئِمَّةُ قُوَّامُ اللهِ عَلٰی خَلْقِهٖ، وَعُرَفَآئُهٗ عَلٰی عِبَادِهٖ
بلاشبہ اَئمہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حاکم ہیں اور اس کو بندوں سے پہنچوانے والے ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 150)
فرمان29
فِیْهِمْ كَرَآئِمُ الْقُرْاٰنِ، وَ هُمْ كُنُوْزُ الرَّحْمٰنِ،
(آل محمدؑ) انہی کے بارے میں قرآن کی نفیس آیتیں اتری ہیں اور وہ اللہ کے خزینے ہیں۔
( نہج البلاغہ خطبہ 152)
فرمان30
اِنَّمَا مَثَلِیْ بَیْنَكُمْ مَثَلُ السِّرَاجِ فِی الظُّلْمَةِ، یَسْتَضِیْٓءُ بِهٖ مَنْ وَّلَجَهَا.
تمہارے درمیان میری مثال ایسی ہے، جیسے اندھیرے میں چراغ کہ جو اس میں داخل ہو، وہ اس سے روشنی حاصل کرے۔
( نہج البلاغہ خطبہ 185)
فرمان31
سَلُوْنِیْ قَبْلَ اَنْ تَفْقِدُوْنِیْ
مجھے کھو دینے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 187)
فرمان32
وَضَعْتُ فِی الصِّغَرِ بِكَلَاكِلِ الْعَرَبِ،
میں نے تو بچپن ہی میں عرب کے بہادروں کا سینہ پیوند زمین کر دیا تھا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان33
وَضَعَنِیْ فِیْ حِجْرِهٖ وَاَنَا وَلَدٌ
میں بچہ ہی تھا کہ رسول ؐ نے مجھے گود میں لے لیا تھا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان34
لَقَدْ كُنْتُ اَتَّبِعُهُ اتِّبَاعَ الْفَصِیْلِ اَثَرَ اُمِّهٖ
میں ان (رسول اللہؐ)کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان35
اَرٰی نُوْرَ الْوَحْیِ وَ الرِّسَالَةِ، وَ اَشُمُّ رِیْحَ النُّبُوَّةِ.
میں وحی و رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سو نگھتا تھا۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان36
اِنَّكَ تَسْمَعُ مَاۤ اَسْمَعُ، وَ تَرٰی مَاۤ اَرٰی، اِلَّاۤ اَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِیٍّ، وَ لٰكِنَّكَ وَزِیْرٌ، وَ اِنَّكَ لَعَلٰی خَیْرٍ
(اے علیؑ!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ (میرے) وزیر و جانشین ہو۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان37
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ، فَاِنِّیْۤ اَوَّلُ مْؤْمِنٍۭ بِكَ یَا رَسُوْلَ اللهِ،
لاالہ الا اللہ، اے اللہ کے رسولؐ! میں آپؐ پر سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 190)
فرمان38
لَقَدْ وَاسَیْتُهٗ بِنَفْسِیْ فِی الْمَوَاطِنِ الَّتِیْ تَنْكُصُ فِیْهَا الْاَبْطَالُ وَ تَتَاَخَّرُ فِیْهَا الْاَقْدَامُ،
میں نے اس جواں مردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر ؐ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔
(نہج البلاغہ خطبہ 195)
فرمان39
اِنَّا لَاُمَرَآءُ الْكَلَامِ
ہم (اہلبیتؑ) اقلیم سخن کے فرمانروا ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 230)
فرمان40
هُمْ دَعَآئِمُ الْاِسْلَامِ، وَ وَلَاۗئِجُ الْاِعْتِصَامِ،
وہ (اہلِ بیت)اسلام کے ستون اور بچاؤ کا ٹھکانا ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ 236)
فرمان41
فَاِنَّا صَنَآئِعُ رَبِّنَا، وَ النَّاسُ بَعْدُ صَنَآئِعُ لَـنَا
ہم وہ ہیں جو براہ راست اللہ سے نعمتیں لے کر پروان چڑھے ہیں اور دوسرے ہمارے احسان پروردہ ہیں۔
(نہج البلاغہ مکتوب 28)
فرمان42
كِتَابُ اللهِ یَجْمَعُ لَنَا مَا شَذَّ عَنَّا
اللہ کی کتاب جامع الفاظ میں ہمارے لیے بتا دیتی ہے۔
(نہج البلاغہ مکتوب 28)
فرمان43
اَنَا مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ كَالصِّنْوِ مِنَ الصِّنْوِ، وَ الذِّرَاعِ مِنَ الْعَضُدِ
مجھے رسول ؐ سے وہی نسبت ہے جو ایک ہی جڑ سے پھوٹنے والی دو شاخوں کو ایک دوسرے سے اور کلائی کو بازو سے ہوتی ہے۔
(نہج البلاغہ مکتوب 45)
فرمان44
وَ اللّٰهِ! لَوْ تَظَاهَرَتِ الْعَرَبُ عَلٰى قِتَالِیْ لَمَا وَلَّیْتُ عَنْهَا
خدا کی قسم! اگر تمام عرب جمع ہو کے مجھ سے بھڑنا چاہیں تو میدان چھوڑ کر پیٹھ نہ دکھاؤں گا۔
(نہج البلاغہ مکتوب 45)
فرمان45
اِنَّ اِمَامَكُمْ قَدِ اكْتَفٰى مِنْ دُنْیَاهُ بِطِمْرَیْهِ، وَ مِنْ طُعْمِهٖ بِقُرْصَیْهِ
دیکھو! تمہارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے ساز و سامان میں سے دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے۔
(نہج البلاغہ مکتوب 45)
فرمان46
اللّٰهَ اللّٰهَ فِی الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُكُمْ بِالْعَمَلِ بِهٖ غَیْرُكُمْ.
قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔
(نہج البلاغہ وصیت 47)
فرمان47
لَوْ لَقِیتُهُمْ وَاحِدًا وَ هُمْ طِلَاعُ الْاَرْضِ كُلِّهَا، مَا بَالَیْتُ وَ لَا اسْتَوْحَشْتُ
اگر میں تن تنہا ان سے مقابلہ کے لیے نکلوں اور زمین کی ساری وسعتیں ان سے چھلک رہی ہوں، جب بھی میں پروا نہ کروں اور نہ پریشان ہوں۔
(نہج البلاغہ مکتوب 62)
فرمان48
لَوْ اَحَبَّنِیْ جَبَلٌ لَّتَهَافَتَ.
اگر پہاڑ بھی مجھے دوست رکھے گا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
(نہج البلاغہ حکمت 111)
فرمان49
هَا! اِنَّ هٰهُنَا لَعِلْمًا جَمًّا لَوْ اَصَبْتُ لَهٗ حَمَلَةً!.
یہاں (سینۂ علی علیہ السلام) علم کا ختم نہ ہونے والا خزانہ موجود ہے، کاش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے۔
(نہج البلاغہ حکمت 147)
فرمان50
اَنَا یَعْسُوْبُ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَ الْمَالُ یَعْسُوْبُ الْفُجَّارِ.
میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بدکرداروں کا یعسوب مال ہے۔
(نہج البلاغہ حکمت 316)



