
﷽
The Principles of Child Upbringing in Nahj al-Balāghah
Abstract
A righteous child is the delight of the eyes for parents in this world and an eternal treasure for the Hereafter, whereas unworthy children become a cause of ignominy and tragedy for the family. The noble Imam Ali (a.s.) stated: ‘An unworthy child destroys honor and disgraces the ancestors.’ This aphorism elucidates that a child’s misconduct is not confined to their person alone; rather, it tarnishes the reputation of their forefathers, as a child serves as the representative of the family’s values. The process of molding offspring into virtuous human beings is termed Tarbiya (upbringing). The paramount significance accorded to Tarbiya within Islamic teachings is exquisitely reflected in Nahj al-Balagha. The discourse of Hazrat Ali (a.s.) stands as the most authentic source of human guidance following the Quran and the Sunnah. Nahj al-Balagha delineates such universal principles of child upbringing that satisfy the exigencies of every era and serve as a beacon for parents. In this research paper, along with clarifying the meaning, concept, and significance of upbringing, we examine those pedagogical principles in the light of Nahj al-Balagha that guarantee leading an individual to the pinnacle of humanity and true felicity.”
Keywords: Tarbiyah, Islamic Education, Principles of Upbringing, Righteous Children, Nahj al-Balāghah.
تمہید
صالح اولاد والدین کے لیے دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک اور آخرت کا ابدی ذخیرہ ہے، جبکہ نااہل اولاد خاندان کے لیے ذلت اور المیہ بن جاتی ہے۔ حضرت امام علیؑ کا ارشادِ گرامی ہے: وَلَدُ السَّوءِ يَهْدِمُ الشَّرَفَ وَيَشِينُ السَّلَفَ (1) نااہل اولاد شرافت کو مٹا دیتی ہے اور اسلاف کو رسوا کر دیتی ہے۔اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ اولاد کی بدتہذیبی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ آباؤ اجداد کی نیک نامی کو بھی داغدار کر دیتی ہے کیونکہ بچہ خاندان کی اقدار کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اولاد کو صالح انسان بنانے کے عمل کا نام تربیت ہے۔ اسلامی تعلیمات میں تربیت کو جو مرکزی اہمیت حاصل ہے قرآن مجید کے بعد اس کا بہترین عکس ہمیں نہج البلاغہ میں ملتا ہے۔ اس میں تربیتِ اولاد کے ایسے رہنما اصول بیان ہوئے ہیں جو ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور والدین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اس مقالے میں ہم تربیت کے معنی و مفہوم اور اس کی ضرورت و اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ نہج البلاغہ کی روشنی میں ان تربیتی اصولوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایک انسان کو انسانیت کے کمال اور سعادتِ حقیقی تک پہنچانے کے ضامن ہیں۔
کلیدی الفاظ: اولاد کی تربیت، نہج البلاغہ،تربیت کے اصول، اسلامی تعلیمات
تربیت کے معنی ومفہوم
عربی لغت میں لفظ تربیت مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے جنہیں مجموعی طور پر تین بنیادی معانی کی طرف لوٹایا جا سکتا ہےکہ اگر یہ ربا یربو کی باب سے ہو تو اس کے معنی بڑھنے اور پھولنے کے ہیں۔ اگر یہ ربى يربي بروزن خفی یخفی کی باب سے ہو تو اس کے معنی پرورش پانے اور پروان چڑھنے کے ہیں۔ اگر یہ ربَّ يربُّ کی باب سے ہے تو اس کے معنی کسی چیز کی اصلاح کرنا، اس کا انتظام سنبھالنا، اس کی نگرانی کرنا، اس کو سنوارنا اور اس کی کفالت کرنا کے ہیں۔ (2) تربیت کے لیے لفظ تربیت کے علاوہ اور بھی متعدد الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو اس کے ہم معنی ومترادف ہیں یا اس کے بعض معانی کو بیان کرتی ہیں جیسے اصلاح، تادیب، تہذیب، تطہیر، تزکیہ، تنشئہ۔ اسلامی تعلیمات میں تربیت اور اصلاح کے لیے زیادہ تر لفظ تزکیہ اور اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔
اصطلاحی معنی
اصطلاح میں تربیت اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان کی فکری،اخلاقی، روحانی اور عملی صلاحیتوں کو منظم طور پر پروان چڑھایا جائے۔ راغب اصفہانی کہتے ہیں کہ ربّ کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کسی چیز کو آہستہ آہستہ نشوونما دیتے ہوئے اسے کمال کی حد تک پہنچانے کے عمل کر تربیت کہا جاتا ہے۔(3)
تربیت کی تعریفیں
ماہرین نے تربیت کی مختلف تعریفیں کی ہیں جیسے افلاطون کے نزدیک تربیت کا مفہوم یہ ہے کہ جسم و روح کوسراپا جمال بنالیا جائے اور ان دونوں کو درجہ کمال تک پہنچا دیا جائے۔(4) اسی طرح ارسطو نےعقل کو حصول علم کے لیے تیار کرنا تربیت کی غرض و غایت قراردی ہے جس طرح زمین کھیتی باڑی کے لیے تیار کی جاتی ہے۔(5) عصر حاضر کے علماء میں سے ڈاکٹر طاہر القادی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر موجود ملکوتی صفات کو مضبوط بنانا اورحیوانی صفات کو کمزور کرنا تربیت کہلاتا ہے۔ (6) اسی طرح شہید مرتضیٰ مطہری نے لکھا ہے کہ جانداروں میں موجود بالقوہ صلاحیتوں کو بالفعل میں لانا اور انہیں نشوونما دینا تریبت کہلاتا ہے۔(7) اگر ان تعریفوں کو ملاحظہ کریں تو ایک چیز مشترک نظر آتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اس کے مختلف پہلوؤں کو پروان چڑھاکر حد کمال تک پہنچانا اور انسانیت کی صفات سے متصف کرانے کا نام تربیت ہے۔
تربیت کا مقصد
تربیت کا ہدف اور مقصد انسان کو اُس اعلیٰ اخلاقی و روحانی مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ اپنی ذات اور معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا سبب بنے۔ یہ انسان کی فطری صلاحیتوں کو نکھارنے اور اسے شعورِ ذمہ داری دینے کا عمل ہے۔ معاشرے کی اصلاح، قیادت کی پاکیزگی اور نسلِ نو کی کامیابی سب کا دار و مدار مؤثر تربیت پر ہے۔
حضرت امام علیؑ کے نزدیک تربیت کے اہداف
اگر نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امام علیؑ کے نزدیک تربیت کا مقصد انسان کی ہمہ جہت اصلاح اور اسے کمالِ انسانی تک پہنچانا ہے۔ آپؑ کے تربیتی منہج میں عدل کا قیام بنیادی ہدف ہے تاکہ معاشرہ ظلم و ناانصافی سے پاک ہو۔ اسی طرح تقویٰ الٰہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جو انسان کو گناہ اور انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔امام علیؑ ثقافتی اور اخلاقی ورثے کی منتقلی کو بھی تربیت کا اہم مقصد قرار دیتے ہیں اور فردی و اجتماعی اصلاح پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اور معاشرہ دونوں عدل، علم اور فضیلت کی بنیاد پر ترقی کریں۔ مزید یہ کہ آپؑ انسان کو رضائے الٰہی کے حصول کو زندگی کا مقصد بنانے اور فتنوں، دنیا کی فریب کاری، نفسانی خواہشات اور طولِ امل سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ وہ دنیا میں ذمہ دارانہ زندگی گزار کر آخرت کی کامیابی حاصل کر سکے۔(8)
تربیت کے مختلف پہلو
تربیت دراصل اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے انسان کو ان صفات کا حامل بنایا جاتا ہے جو اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب اور سعادت مند بنا سکتی ہیں۔ یہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک انسان کی شخصیت کی مختلف جہتوں کی اصلاح نہ کی جائے۔ اسی لیے تربیت کے متعدد پہلو بیان کیے گئے ہیں جیسے: دینی تربیت، فکری تربیت، اخلاقی تربیت اور جنسی تربیت وغیرہ۔
نہج البلاغہ کی عظمت
قرآنِ کریم کے بعد اصلاح وتربیت،رہنمائی اور ہدایت، اخلاقی تعمیر اور ضابطہ حیات کا کامل ترین کتاب قرار دیا جا سکتا ہےتو وہ بلاشبہ نہج البلاغہ ہے۔ اس کی عظمت کا اعتراف ہر عہد کے مفکرین اور اربابِ دانش نے کیا ہے۔بعض دانشوروں نے اسے اَخُ القرآن کہا (9)، بعض نے اسے تالی تلوِ قرآن یعنی قرآن کے بعد سب سے عظیم ترین کتاب قرار دیا (10) جبکہ بعض نےاس کو امام علیؑ کا کلامی اور قولی معجزے سے تعبیر کیا۔(11) معروف مسیحی دانشور جارج جرداق نے اس کے چالیس سے زائد بار مطالعے کے بعد یہ اعتراف کیا کہ ہر نیا مطالعہ علم کے نئے دریچے وا کرتا ہے۔(12) اسی طرح ابنِ ابی الحدید جیسے جلیل القدر عالم کا سورہ تکاثر کی تفسیر پر مبنی کلام کو ایک ہزار بار پڑھنا اور ہر بار نئے نکات پانا (13)، اس کلام کی لافانی ہونے کی دلیل ہے۔اس عظیم کتاب میں موجودمعارف ہر زمانے کےلیے رہنما اصول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر کی سماجی و انفرادی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے آج بھی اہل نظر اسی سرچشمے سے رجوع کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی عرب ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2002 (14) اور بیروت ڈیکلریشن 2018 (15) جیسے عالمی دستاویزات میں امام علیؑ کے فرمودات کو بطورِ سند پیش کرنا اس کی عالمی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مختصر یہ کہ نہج البلاغہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ انسانی کردار کی تشکیل کا ایک زندہ جاوید نصاب ہے۔ چنانچہ لبنان سے تعلق رکھنے والے اہل سنت ادیب اور یونیوسٹی کے استاد صبحی صالح لکھتے ہیں کہ: ومن المتوقع – بعد هذا كله، بل قبل هذا كله – أن يدور معظم خطب الإمام حول التعليم والإرشاد… (16) امامؑ کے بیشتر خطبات کا بنیادی مقصد تعلیم، تزکیہ اور ہدایت ہے چونکہ امام علیؑ رسولِ اکرمؐ کے پروردہ اور علمِ نبوت کے وارث تھے لہٰذا ان کی ذمہ داری تھی کہ امت کی رہنمائی کریں۔
نہج البلاغہ میں تربیت کے اصول
اسلامی تعلیمات میں انسان کی شخصیت سازی اور اس کی صحیح تربیت کو بہت اہمیت دی گئی ہے کیونکہ ایک صالح معاشرہ درحقیقت صالح افراد ہی سے تشکیل پاتا ہے۔اسی تناظر میں اسلامی مصادر میں ایسی ہدایات موجود ہیں جو تربیتِ انسان کے اصول اور مبادی کو واضح کرتی ہیں۔ ان اہم مصادر میں سے ایک نمایاں اور معتبر کتاب نہج البلاغہ ہے۔اسی بنا پر ضروری ہے کہ نہج البلاغہ کی روشنی میں تربیت کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس عظیم اسلامی مصدر میں اولاد اور انسان کی صحیح تربیت کے لیے کن اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خود شناسی
تربیت کے بنیادی اصولوں میں سب سے اہم خود شناسی ہے۔ جب تک مربی انسان کی حقیقت اور اس کی ماہیت سے واقف نہ ہو وہ صحیح تربیت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیؑ نے نہج البلاغہ مکتوب 31 کی ابتدا میں ہی انسان کی اصلیت اور حقیقت بیان فرمائی ہے۔کامیاب تربیت کے لیے ضروری ہے کہ مربی پہلے متربی کو خود شناس بنائے۔ جو انسان اپنی قدر و منزلت سے ناآشنا ہو، وہ کبھی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا۔ امیر المومنینؑ کا ارشاد ہے: كَفٰى بِالْمَرْءِ جَهْلًاۤ اَلَّا یَعْرِفَ قَدْرَهٗ (17) انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر و منزلت کو نہ پہچانے۔دوسری جگہ ارشاد فرمایا: أَكْرِمْ نَفْسَكَ عَنْ كُلِّ دَنِيَّةٍ …… (18) ہر ذلت سے اپنے نفس کو بلند تر سمجھو، اگرچہ وہ تمہاری من مانی چیزوں تک تمہیں پہنچا دے۔یعنی تربیت کا صحیح رخ تبھی متعین ہوتا ہے جب انسان اپنی روحانی اور مادی صلاحیتوں کے مقام سے واقف ہو۔ خود شناسی دراصل خدا شناسی کا زینہ ہے جو انسان کو اپنی ذات کا احترام سکھاتی ہے اور اسے پست حرکتوں سے بچا کر حیاتِ کاملہ کی طرف لے جاتی ہے۔
تدریج
تربیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اصل تربیتی عمل کا بتدریج اور مرحلہ وار ہونا ہے۔ قرآنِ مجید اور دیگر آسمانی کتب کا ایک طویل عرصے میں وقفے وقفے سے نازل ہونا اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ انسانی نفوس کی اصلاح کے لیے وقت اور تسلسل درکار ہوتا ہے۔ اگر تربیتی عمل میں جلد بازی کی جائے یا تمام تر بوجھ ایک ہی وقت میں ڈال دیا جائے تو وہ ثمر بخش ہونے کے بجائے الٹا اکتاہٹ اور بیزاری کا باعث بنتا ہے۔امام علیؑ فرماتے ہیں کہ قَلِیْلٌ مَّدُوْمٌ عَلَیْهِ خَیْرٌ مِّنْ كَثِیْرٍ مَّمْلُوْلٍ مِّنْهُ (19) وہ تھوڑا سا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس زیادہ سے بہتر ہے جو دل تنگی کا باعث ہو۔یعنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیابی کی شرط اول استمرار اور مستقل مزاجی ہے اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے ۔تربیتی عمل میں بھی اس بات کی رعایت ضروری ہے۔ نہج البلاغہ مکتوب نمبر 31 میں امامؑ نے تربیتی امور میں سب سے پہلے کتاب خدا،احکام شرع اور حلال و حرام کی تعلیم کو بیان فرمایاہے اسی طرح امام جعفر صادقؑ نے اولاد کی مرحلہ وار تربیت کا جامع رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ ثَلَاثَ سِنِينَ فَيُقَالُ لَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ يُتْرَكُ…..(20) جب بچہ تین سال کا ہو جائے تو اسے سات مرتبہ لا الہ الا الله کہنا سکھایا جائے۔ تین سال سات ماہ اور بیس دن کی عمر میں اسے سات مرتبہ محمد رسول اللہؐ کہنا سکھایا جائے۔ چار سال کی عمر میں اسے محمد و آلِ محمدؑ پر درود پڑھنا سکھایا جائے۔ پانچ سال کی عمر میں اسے دائیں اور بائیں ہاتھ کی پہچان کرائی جائے اور قبلہ رخ کر کے سجدہ کرنا بتایا جائے۔ چھ سال میں اسے نماز اور رکوع و سجود کی تعلیم دی جائے۔ سات سال میں اسے وضو اور نماز کی مشق کرائی جائے اور نو سال کی عمر میں اسے وضو اور نماز کا مکمل پابند بنایا جائے۔ جب بچہ یہ سب سیکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو بخش دیتا ہے۔
نفسیات کا خیال رکھنا
انسان کا دل زبردستی کسی چیز کی طرف مائل نہیں کیا جا سکتا بلکہ دل کی آمادگی ضروری ہے۔ دل کے میلان اور جذبات کو سمجھ کر مرحلہ وار رہنمائی اور رغبت کے مطابق اقدامات تربیت کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ امام فرماتے ہیں کہ إِنَّ لِلْقُلُوبِ إِقْبَالاً وَإِدْبَاراً؛ فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاحْمِلُوهَا عَلَى النَّوَافِلِ…..(21) دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اُچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو اور جب اُچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ تربیتی عمل کی کامیابی کےلیےیہ ضروری ہے کہ مربی کو چاہیے کہ وہ دل کے میلان کا انتظار کرے اور جب اسے ذہنی تھکن محسوس ہو تو اسے دلچسپ حکمتوں کے ذریعے تروتازہ کرے۔امامؑ فرماتے ہیں کہ اِنَّ هٰذِهِ الْقُلُوْبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ الْاَبْدَانُ…..(22) یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کیلئے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو۔ یہی وہ نفسیاتی نکتہ ہے جسے آج کل Child-Centered Education کہا جاتا ہے۔
مشکلات سے نبرد آزمائی
اسلامی نظامِ تربیت کا ایک سنہری اصول یہ ہے کہ اولاد کو حد سے زیادہ ناز و نعم اور آسائشوں کی عادی نہ بنایا جائے بلکہ ان میں زندگی کے تلخ حقائق اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ حضرت علی ؑفرماتے ہیں کہ: وَعَوِّدْ نَفْسَكَ التَّصَبُّرَ عَلَى الْمَكْرُوْهِ (23) سختیوں کو جھیل لے جانے کے خوگر بنو۔ایک اور مقام پر انسانی شخصیت کی مضبوطی کو درختوں کی مثال سے واضح کرتے ہوئے فرمایا: اَلَا وَ اِنَّ الشَّجَرَةَ الْبَرِّیَّةَ اَصْلَبُ عُوْدًا……(24) یاد رکھو کہ جنگل کے درخت کی لکڑی مضبوط ہوتی ہے اور تر و تازہ پیڑوں کی چھال کمزور اور پتلی ہوتی ہے اور صحرائی جھاڑ کا ایندھن زیادہ بھڑکتا ہے اور دیر میں بجھتا ہے۔یہ تربیتی اصول ظاہر کرتا ہے کہ محنت اور مشکلات کے تجربات انسان کو مضبوط، مستقل مزاج اور خودمختار بناتے ہیں جبکہ نرمی اور آسانی اس کی شخصیت کو کمزور کر دیتی ہے۔
ترغیب و ترھیب
تربیتی عمل کی کامیابی اور اسے ثمر آور بنانے کے لیے ایک بنیادی اصول ترغیب و ترہیب کا باہمی امتزاج ہے۔ تربیتی نقطہ نظر سے انسانی شخصیت کی تعمیر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اندر خیر کی انجام دہی کے لیے امید اور شر سے بچنے کے لیے خوف کا موازنہ موجود نہ ہو۔ چنانچہ امامؑ فرماتے ہیں کہ اَلْفَقِیْهُ كُلُّ الْفَقِیْهِ مَنْ لَّمْ یُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ…… (25) پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔
نمونہ عمل پیش کرنا
انسانی شخصیت کی تعمیر اور کردار سازی میں محض گفتار، وعظ اور نصیحت اتنے مؤثر ثابت نہیں ہوتے جتنا کہ ایک جیتا جاگتا عملی نمونہ اور رول ماڈل اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: وَاقْتَدُوْا بِهَدْیِ نَبِیِّكُمْ فَاِنَّهٗ اَفْضَلُ الْهَدْیِ…..(26) نبیؐ کی سیرت کی پیروی کرو کہ وہ بہترین سیرت ہے اور ان کی سنت پر چلو کہ وہ سب طریقوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہے۔نہج البلاغہ حکمت نمبر 289 میں امام علیؑ نے ایسے بندے کی صفات بیان فرمائی ہیں جو ایک رول ماڈل میں ہونی چاہیے اور مربی پر لازم ہے پہلے خود نمونہ عمل بن جائیں جیسے نہج البلاغہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ مَنْ نَّصَبَ نَفْسَهٗ لِلنَّاسِ اِمَامًا…….(27) جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے، اور زبان سے درس اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے….. مربی جب خود ایک کامل نمونہ بن جائے تو اسے چاہیے کہ زیرِ تربیت افراد کو ایسے پاکیزہ رول ماڈلز سے روشناس کرائے جن کی زندگی مشعلِ راہ ہو۔ اس طرح وہ ناہل اور بدکردار لوگوں کے اثر سے محفوظ رہ کر اپنی زندگی کو صحیح سمت میں استوار کر سکیں گے۔
خلاصہ
یہ مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں اولاد کی تربیت کے بنیادی اصولوں کو بیان کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ صالح اولاد والدین کے لیے دنیا میں خوشی اور آخرت میں سرمایۂ نجات ہوتی ہے جبکہ اسلامی تربیت سے عاری اولاد خاندان کی عزت و ناموس کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تربیت کا اصل مقصد انسان کی بالقوہ صلاحیتوں کو نکھار کر اسےکمالِ انسانی اور حیاتِ کاملہ تک پہنچانا ہے۔امام علیؑ کے تربیتی منہج میں چند اہم اصول نمایاں ہیں: خود شناسی، تدریج (مرحلہ وار تربیت)، انسانی نفسیات کا خیال رکھنا، مشکلات کا مقابلہ کرنے کی عادت پیدا کرنا، ترغیب و ترہیب کے ذریعے اصلاح اور عملی نمونہ پیش کرنا۔ ان اصولوں کے ذریعے انسان کی شخصیت متوازن اور مضبوط بنتی ہے اور وہ عدل، تقویٰ اور اخلاقِ حسنہ کی بنیاد پر معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ المختصر نہج البلاغہ تربیتِ انسان کا ایسا جامع اور زندہ نصاب پیش کرتی ہے جو ہر دور میں انسان کو صحیح کردار، فکری پختگی اور حقیقی کامیابی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
حوالہ جات
[1] محقق نوري اطبرسی، مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل، ج15 ( مؤسسة أهل البيت لإحياء التراث،قم، الطبعة الأولى،1407ھ) ، ص215.[2] خالد بن حامد الحازمی،اصول التربیہ الاسلامیہ(دار عالم الکتب للنشر والتوزیع،ریاض،1420ھ)ص 17
[3] راغب اصفہانی،مفردات الفاظ القرآ/ن(دار القلم،دمشق،الطبعۃ الرابعۃ،2009ء)ص 336
[4] محمد عطیہ الابراشی،فلسفہ تعلیم وتربیت،رئیس احمد جعفری(مترجم) (صفا شریعت کالج،یوپی انڈیا،2004ء) ص 19
[5] ایضاً
[6] طاہر القادری،تربیت کا قرآنی منہاج(ادارہ منہاج القرآن،لاہور،1993ء)ص 13
[7] مرتضی مطہری،تعلیم وتربیت در اسلام (صدرا،تہران،1358) ص43
[8] الدکتور سيد زهير المسيليني، الدکتورة فائزة بسندي،المنهج التربوي في فكر الإمام عليؑ ، المبادئ والأهداف،( مجلہ أوراق ثقافية بیروت، لبنان، جون 2019ء،العدد31)ص 335
[9] راجی انور ھیفا،الامام علی فی الفکر المسیحی المعاصر،(العتبۃ العلویۃ المقدسۃ قسم الشؤون الفکریۃ والثقافیۃ،النجف الاشرف،الطبعۃ الرابعۃ،2012ء) ص549
[10] سید علی خامنہ ای،بازگشت به نهج البلاغه (بنیاد نهج البلاغه، تہران، 1372 ش)ص49
[11] حسن زادہ آملی، انسان کامل از دیدگاہ نہج البلاغہ (انتشارات قیام،قم،چاپ اول، 1372ش)ص 10-11
[12] https://www.ibna.ir/news/203535/اگر-روشنفکران-و-نویسندگان-جهان-فقط-با-این-کتاب-آشنا-شوند-کتابی Retrieved On 20 December 2025
[13] عِزّ الدین ابو حامد عبد الحمید بن ہبۃ اللہ المعروف بابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج 11(دار الکتاب العربی،بغداد،الطبعۃ الاولیٰ،1428ھ) ص100
[14] (https://www.undp.org/arab-states/publications/arab-human-development-report-2002 Retrieved on 5 March 2026
[15] https://jliflc.com/wp-content/uploads/2018/03/Faith4Rights-2017.pdf Retrieved on 5 March 2026
[16] الدکتور صبحی الصالح،نہج البلاغہ(دار الکتاب اللبنانی، بیروت،الطبعۃ الرابعۃ،2004ء)ص 13
[17] نہج البلاغہ، خطبہ۱۶
[18] نہج البلاغہ ،مکتوب 31
[19] نہج البلاغہ حکمت 444
[20]محمد بن حسن الحر العاملی، وسائل الشیعہ،ج 21، ص 474، ابواب احکام الاولاد، باب 82، حدیث نمبر: 27620
[21] نہج البلاغہ،حکمت 312
[22] نہج البلاغہ،حکمت 197
[23] نہج البلاغہ،حکمت 197
[24] نہج البلاغہ،مکتوب 32
[25] نہج البلاغہ،حکمت 90
[26] نہج البلاغہ، مکتوب 45
[27] نہج البلاغہ، حکمت 73
کتابیات (Bibliography)
[1] انسان کامل از دیدگاہ نہج البلاغہ، حسن زادہ آملی، انتشارات قیام، قم، 1372ش۔[2] اصول التربیہ الاسلامیہ، خالد بن حامد الحازمی، دار عالم الکتب للنشر والتوزیع، ریاض، 1420ھ۔
[3] الامام علی فی الفکر المسیحی المعاصر، راجی انور ھیفا، العتبۃ العلویۃ المقدسۃ (قسم الشؤون الفکریۃ والثقافیۃ)، النجف الاشرف، 2012ء۔
[4] بازگشت به نهج البلاغه، سید علی خامنہ ای، بنیاد نہج البلاغہ، تہران، 1372ش۔
[5] تربیت کا قرآنی منہاج، طاہر القادری، ادارہ منہاج القرآن، لاہور، 1993ء۔
[6] تعلیم وتربیت در اسلام، مرتضی مطہری، صدرا، تہران، 1358ش۔
[7] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، عِزّ الدین ابن ابی الحدید، دار الکتاب العربی، بغداد، 1428ھ۔
[8] فلسفہ تعلیم وتربیت، محمد عطیہ الابراشی (مترجم: رئیس احمد جعفری)، صفا شریعت کالج، یوپی انڈیا، 2004ء۔
[9] مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل، محقق نوری طبرسی، مؤسسہ اہل البیتؑ لاحیاء التراث، قم، 1407ھ۔
[10] مفردات الفاظ القرآن، راغب اصفہانی، دار القلم، دمشق، 2009ء۔
[11] المنهج التربوي في فكر الإمام عليؑ (مقالہ)، الدکتور سيد زهير المسيليني و الدکتورة فائزة بسندي، مجلہ أوراق ثقافية، بیروت ،جون 2019ء۔
[12] نہج البلاغہ، ترجمہ مفتی جعفر حسین
[13] نہج البلاغہ، الدکتور صبحی الصالح، دار الکتاب اللبنانی، بیروت، 2004ء۔
[14] وسائل الشیعہ، محمد بن حسن الحر العاملی، مؤسسہ آل البیتؑ، قم، 1409ھ۔




