
﷽
ملخص:
زیرِ نظر مقالہ مومن کے فکری، اخلاقی اور روحانی مزاج میں عبرت پذیری کی بنیاد، اس کی قرآنی تعبیر تَوَسُّم اور اس کے عملی مظاہر کا ایک جامع و تنقیدی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو محض واقعات کا مشاہد نہیں کراتا بلکہ اسے باطنی بصیرت عطا کر کے کائنات، تاریخ اور نفسِ انسانی میں پوشیدہ حقائق تک رسائی کا شعور بخشتا ہے۔ ایمان، اپنی فطری تاثیر کے تحت، انسان کو سطحیت سے نکال کر گہرائی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ ظاہری مناظر میں پوشیدہ حکمت اور معنویت کو دریافت کر سکے۔
اس مقالے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عبرت محض ماضی کے المناک یا غیر معمولی واقعات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر تجربے—قدرتی مظاہر، انسانی رویّے، اجتماعی عروج و زوال اور حتیٰ کہ موت—میں اس کے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ نہج البلاغہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے تاریخ کو ایک زندہ درس گاہ کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں انبیاءؑ و اولیاءؑ کی حیات طیبہ، دشمنانِ خدا کا انجام، گذشتہ اقوام کے حالات اور انسان کی اپنی گزری ہوئی زندگی، سب عبرت کے مستقل اور موثر ذرائع ہیں۔
مقالہ اس نکتے کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ عبرت پذیری انسان کو اخلاقی انحراف، تکبر اور غفلت سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کے اندر تقویٰ، خود احتسابی اور ذمہ دارانہ شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ یوں عبرت کو روحانی غذا قرار دے کر یہ مقالہ ثابت کرتا ہے کہ جس طرح جسمانی صحت کے لیے مادی خوراک ناگزیر ہے، اسی طرح روحانی صحت کے لیے عبرت و نصیحت بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
کلیدی الفاظ: عبرت، بصیرت، نہج البلاغہ، تاریخ، مومن کا مزاج، تقویٰ، تکبر، عروج و زوال، انبیاءؑ، دشمنانِ خدا، خود شناسی، اخلاقی تربیت
مومن کا مزاج فطری طور پر عبرت پذیری پر قائم ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کیفیت کو ”تَوَسُّم“ سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی واقعات سے نصیحت حاصل کرنا اور گرد و پیش کے مشاہدات سے سبق لینا۔ ایمان اپنی فطرت کے تقاضے کے تحت انسان کو حساس بنا دیتا ہے، چنانچہ وہ ہر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مزاج ایسا بن جاتا ہے کہ وہ چیزوں کے محض سطحی پہلوؤں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان کی گہرائیوں میں اترنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ جن مناظر سے عام لوگ سرسری طور پر گزر جاتے ہیں، ان میں وہ حکمت کے خزانے دریافت کر لیتا ہے۔ وہ بصارت کی حد سے آگے بڑھ کر بصیرت کی نعمت سے ہمکنار ہوتا ہے۔
یہ ایک عظیم مومنانہ صفت ہے جو انسان کی شخصیت کو وسعت عطا کرتی ہے۔ وہ ہر لمحہ نئی نئی حقیقتوں کی دریافت میں مصروف رہتا ہے۔ پھیلی ہوئی کائنات اس کی روح کے لیے رزق کا ایک عظیم دستر خوان بن جاتی ہے۔ سورج کی روشنی میں اسے معرفت کا نور دکھائی دیتا ہے، ہوا کے جھونکوں میں وہ لمسِ ربانی کا تجربہ کرتا ہے، اور سرسبز درختوں اور رنگ برنگے پھولوں میں اسے عالمِ معنویت کی جھلکیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ وہ ہر بہار میں ایک نئی اور زیادہ وسیع بہار، اور ہر خزاں میں ایک گہری اور بامعنی خزاں کا منظر دیکھتا ہے۔
اسی طرح تمام انسانی اور غیر انسانی واقعات اس کے لیے نصیحت و عبرت کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے علم سے اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے اور دوسروں کی لغزشوں کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ چیونٹی سے لے کر اونٹ تک، دریا سے لے کر پہاڑ تک، ہر شے میں وہ ایسے پہلو تلاش کر لیتا ہے جو اس کی بصیرت کو جلا بخشیں اور اسے نئے تجربات سے آشنا کر کے فکری طور پر مالا مال کر دیں۔ جس طرح مادی خوراک جسم کی صحت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح عبرت اور نصیحت انسان کی روحانی غذا ہیں۔ اگر مادی خوراک جسمانی صحت کی ضامن ہے تو نصیحت پذیری روحانی صحت کی ضمانت ہے۔۔
فرہنگ آصفیہ میں عبرت کے معنی کچھ یوں درج ہیں۔۔۔اندیشہ۔ نصیحت پکڑنا۔ زمانہ کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنا۔ خوف۔ تنبیہ
مذکورہ بالا عبرت کی معنویت سے واضح اور عیاں ہے کہ چیزوں کو عام انسانی آنکھ کی بجائے دل کی آنکھ سے دیکھنا مقصود ہوتا ہے عبرت کی انکھ سے دیکھنے کا ولیم پیدا یہ ہوتا ہے عام چیزیں خاص بن جاتی ہیں اور عام نظر سے دیکھنا خاص چیزوں کو بھی عام بنا دیتا ہے علامہ اقبال نے بھی اسی بارے میں فرمایا تھا کہ
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
حضرت امیر علیہ السلام نے بھی اسی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا ہے کہ عام انسانی آنکھ چشم قلب کی طرح نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی چیزوں کی تہہ درتہہ معنویت کو درک کر سکتی ہے:
وَ مَنْ اَبْصَرَ بِهَا بَصَّرَتْهُ، وَ مَنْ اَبْصَرَ اِلَیْهَاۤ اَعْمَتْهُ.
جو شخص دنیا کو عبرتوں کا آئینہ سمجھ کر دیکھتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو روشن و بینا کر دیتی ہے اور جو صرف دنیا ہی پر نظر رکھتا ہے تو وہ اسے کور و نابینا بنا دیتی ہے۔
غور و فکر کے بغیر انسانی زندگی اپنی معنویت اور مقصدیت کھو دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کئی مقامات پر حضرت امیرؑ نے ایسے کور چشموں کو چلتی پھرتی لاشیں قرار دیا ہے۔انسان شناسی اور خود شناسی میں عبرت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امیر علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بنیادی فرائض میں سے عبرت سے تنبیہ کو بھی اہم فرائض میں سے شمار کیا ہے۔ حضرت فرماتے ہیں:
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ، اَرْسَلَهٗ لِاِنْفَاذِ اَمْرِهٖ، وَ اِنْهَآءِ عُذْرِهٖ وَ تَقْدِیْمِ نُذُرِهٖ.
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد و رسول ہیں، جنہیں احکام کے نفاذ اور حجت کے اتمام اور عبرتناک واقعات پیش کر کے پہلے سے متنبہ کر دینے کیلئے بھیجا۔
عبرت جہاں دل بینا کا باعث ہے وہیں اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔عبرت زندگی کو معنویت بخشتی ہے اور ساتھ میں بے راہ روی سے بھی محفوظ رکھتی ہے:
ذِمَّتِیْ بِمَاۤ اَقُوْلُ رَهِیْنَةٌ، ﴿وَ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ﴾. اِنَّ مَنْ صَرَّحَتْ لَهُ الْعِبَرُ عَمَّا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْہُ التَّقْوٰى عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبُهَاتِ
میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں۔ جس شخص کو اس کے دیدۂ عبرت نے گزشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں، اسے تقویٰ شبہات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔
اسی طرح آپؑ نے فرمایا کہ پند و نصائح خاص واقعات و حوادث کے پابند نہیں ہو ا کرتے بلکہ ماضی کے کسی واقعہ پر غور و فکر کریں گے تو عبرت کے لیے اتنا ہی کافی ہوگا:
بِحَقٍّ اَقَوْلُ لَكُمْ: لَقَدْ جَاهَرَتْكُمُ الْعِبَرُ وَ زُجِرْتُمْ بِمَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌ، وَ مَا یُبَلِّغُ عَنِ اللهِ بَعْدَ رُسُلِ السَّمَآءِ اِلَّا الْبَشَرُ.
میں سچ کہتا ہوں کہ عبرتیں تمہیں بلند آواز سے پکار چکی ہیں اور دھمکانے والی چیزوں سے تمہیں دھمکایا جا چکا ہے۔ آسمانی رسولوں (فرشتوں) کے بعد بشر ہی ہوتے ہیں جو تم تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ (اسی طرح میری زبان سے جو ہدایت ہو رہی ہے، درحقیقت اللہ کا پیغام ہے جو تم تک پہنچ رہا ہے)
نہج البلاغہ میں تاریخ سے عبرت کو عمومی طور پر درج حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ تاریخِ انبیاءؑ و اولیاؑء سے عبرت
2۔ تاریخِ دشمنانِ خدا سے عبرت
3۔ تاریخِ گذشتگان سے عبرت
4۔ موت سے عبرت
تاریخِ انبیاءؑ و اولیاء سے عبرت
تاریخ انبیاؑء سے نہج البلاغہ میں جا بجا عبرت کے واقعات اور درس کشیدگی کی لاجواب مثالیں ہیں۔حضرت آدمؑ کی تخلیق سے لے کر حضرت یوسفؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت موسیؑ کی حیات کے کئی واقعات نہج البلاغہ میں عبرت کے نمونے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔
تخلیقِ انسانی کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہوتا ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو خلق کیا گیا تو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے سجدے کا حکم دیا سوائے ابلیس کی تمام ملائکہ نے سجدہ کیا اور وہ اکڑ گیا۔حضرت نے نہج البلاغہ میں اسی موضوع کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام ملائکہ شیطان سمیت سجدہ ریز ہو جاتے لیکن اس سے ملائکہ کی آزمائش ہلکی ہو جاتی اور شیطان کی نخوت و غرور جیسی قباحت کی عیاں نہ ہوتی۔ تخلیق آدم سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خود مختار پیدا کیا ہے اگر ہم ہدایت کے راستے پر چلتے ہیں تو خود اس کا اجر و ثواب کماتے ہیں اور اگر گمراہی کے راستے پر چلتے ہیں تو یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے نہ کہ یہ ہر اچھائی یا برائی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ لہذا تخلیق حضرت آدم علیہ السلام سے پہلا درس یہی ملتا ہے کہ انسان کو کبھی بھی حالات کی خرابی یا برائی کو یہ نسبت نہیں دینی چاہیے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ کبھی بھی نہ ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستے سمجھا دیے ہیں۔ اب یہ انسان کی مرضی ہے کہ ان میں سے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ حضرتؑ نے فرمایا:
وَ لَوْ اَرَادَ اللهُ اَنْ یَّخْلُقَ اٰدَمَ مِنْ نُّوْرٍ یَّخْطَفُ الْاَبْصَارَ ضِیَآؤُهٗ، وَ یَبْهَرُ الْعُقُوْلَ رُوَاؤُهُ، وَ طِیْبٍ یَّاْخُذُ الْاَنْفَاسَ عَرْفُهٗ، لَفَعَلَ، وَ لَوْ فَعَلَ لَـظَلَّتْ لَهُ الْاَعْنَاقُ خَاضِعَةً، وَ لَخَفَّتِ الْبَلْوٰی فِیْهِ عَلَی الْمَلٰٓئِكَةِ. وَ لٰكِنَّ اللهَ سُبْحَانَهٗ یَبْتَلِیْ خَلْقَهٗ بِبَعْضِ مَا یَجْهَلُوْنَ اَصْلَهُ، تَمْیِیْزًۢا بِالْاِخْتِبَارِ لَهُمْ، وَ نَفْیًا لِّلْاِسْتِكَبَارِ عَنْهُمْ، وَ اِبْعَادًا لِّلْخُیَلَآءِ مِنْهُمْ.
اور اگر اللہ چاہتا تو آدم علیہ السلام کو ایک ایسے نور سے پیدا کرتا کہ جس کی روشنی آنکھوں کو چندھیا دے اور اس کی خوشنمائی عقلوں پر چھا جائے اور ایسی خوشبو سے کہ جس کی مہک سانسوں کو جکڑ لے اور اگر ایسا کرتا تو ان کے آگے گردنیں خم ہو جاتیں اور فرشتوں کی ان کے بارے میں آزمائش ہلکی ہو جاتی، لیکن اللہ سبحانہ اپنی مخلوقات کو ایسی چیزوں سے آزماتا ہے کہ جن کى اصل و حقیقت سے وہ ناواقف ہوتے ہیں تاکہ اس آزمائش کے ذریعے (اچھے اور برے افراد میں) امتیاز کر دے، ان سے نخوت و برتری کو الگ اور غرور و خود پسندی کو دور کر دے۔
تاریخ انسانی اور نہج البلاغہ میں انبیاء کےواقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عہد بہ عہد لوگوں کے حالات ایک طرح نہیں رہتے۔ وقت کے ساتھ حالات بدلتے رہتے ہیں ان حالات کے بدلنے کا ذمہ دار بھی انسان خود ہے اور یہی بات ہر عہد میں سبق آموز ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام نے حضرت ابراہیمؑ کی اولاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اولاد انتشار کا شکار ہوئی اور وہ شاہان عجم اور سلاطین روم کے غلام ٹھہرے یعنی انتشار اور فرقہ بندی کے نتائج غلامی کے علاوہ کچھ نہیں ہوا کرتے۔ انہیں ویرانوں کی طرف دھکیل دیا گیا اور انہوں نے انتہائی کسمپرسی کے حالت میں زندگی گزاری۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ جہالت میں گھرے ہوئے تھے، لڑکیاں زندہ درگور کرتے تھے اور ہر گھر میں بت پوجے جاتے تھے، لوٹ کھسوٹ عام تھی۔ حضرتؑ فرماتے ہیں:
فَاعْتَبِرُوْا بِحَالِ وَلَدِ اِسْمَاعِیْلَ وَ بَنِیْۤ اِسْحَاقَ وَ بَنِیْۤ اِسْرَآئِیْلَ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ، فَمَاۤ اَشَدَّ اعْتِدَالَ الْاَحْوَالِ، وَ اَقْرَبَ اشْتِبَاهَ الْاَمْثَالِ! تَاَمَّلُوْا اَمْرَهُمْ فِیْ حَالِ تَشَتُّتِهِمْ وَ تَفَرُّقِهِمْ، لَیَالِیَ كَانَتِ الْاَكَاسِرَةُ وَ الْقَیَاصِرَةُ اَرْبَابًا لَّهُمْ، یَحْتَازُوْنَهُمْ عَنْ رِیْفِ الْاٰفَاقِ، وَ بَحْرِ الْعِرَاقِ، وَ خُضْرَةِ الدُّنْیَا، اِلٰی مَنَابِتِ الشِّیْحِ، وَ مَهَافِی الرِّیْحِ، وَ نَكَدِ الْمَعَاشِ، فَتَرَكُوْهُمْ عَالَةً مَّسَاكِیْنَ اِخْوَانَ دَبَرٍ وَّ وَبَرٍ، اَذَلَّ الْاُمَمِ دارًا، وَ اَجْدَبَهُمْ قَرَارًا، لَا یَاْوُوْنَ اِلٰی جَنَاحِ دَعْوَةٍ یَّعْتَصِمُوْنَ بِهَا، وَ لَاۤ اِلٰی ظِلِّ اُلْفَةٍ یَّعْتَمِدُوْنَ عَلٰی عِزِّهَا، فَالْاَحْوَالُ مُضْطَرِبَةٌ، وَ الْاَیْدِیْ مُخْتَلِفَةٌ، وَ الْكَثْرَةُ مُتَفَرِّقَةٌ، فِیْ بَلَآءِ اَزْلٍ، و اَطْبَاقِ جَهْلٍ! مِنْۢ بَنَاتٍ مَّوْءُوْدَةٍ، وَ اَصْنَامٍ مَّعْبُوْدَةٍ، وَ اَرْحَامٍ مَّقْطُوْعَةٍ، وَ غَارَاتٍ مَّشْنُوْنَةٍ.
(اب ذرا) اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، اسحاق علیہ السلام کے فرزندوں اور یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔ حالات کتنے ملتے ہوئے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں۔ان کے منتشر و پراگندہ ہو جانے کی صورت میں جو واقعات رونما ہوئے، ان میں فکر و تامل کرو کہ جب شاہانِ عجم اور سلاطین روم ان پر حکمران تھے، وہ انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں، عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوں سے خار دار جھاڑیوں، ہواؤں کی بے روگ گزر گاہوں اور معیشت کی دشواریوں کی طرف دھکیل دیتے تھے اور آخر انہیں فقیر و نادار اور زخمی پیٹھ والے اونٹوں کا چرواہا اور بالوں کی جھونپڑیوں کا باشندہ بنا کر چھوڑتے تھے۔ ان کے گھر بار دنیا جہان سے بڑھ کر خستہ و خراب اور ان کے ٹھکانے خشک سالیوں سے تباہ حال تھے، نہ ان کی کوئی آواز تھی جس کے پرو بال کا سہارا لیں،نہ انس و محبت کی چھاؤں تھی جس کے بل بوتے پر بھروسا کریں، ان کے حالات پراگندہ، ہاتھ الگ الگ تھے، کثرت و جمعیت بٹی ہوئی، جانگداز مصیبتوں اور جہالت کی تہ بہ تہ تہوں میں پڑے ہوئے تھے، یوں کہ لڑکیاں زندہ درگور تھیں، (گھر گھر) مورتی پوجا ہوتی تھی، رشتے ناتے توڑے جا چکے تھے اور لوٹ کھسوٹ کی گرم بازاری تھی۔
انتہائی ناگفتہ بہ اور شدید حالات کے بعد اللہ تعالیٰٰ نے ان لوگوں میں اپنا ایک رسول بھیجا جس کی برکت سے وہ دوبارہ صاحب اقتدار ہو گئے۔ اولاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ عروج و زوال کے واقعات میں ہمارے لیے عبرت کے بے پناہ درس ہیں۔ ظاہر ہے کہ نبی کی ذات ہمیں غلامی سے نجات دلانے والی اور رحمت کرم کا باعث ہوا کرتی ہیں۔ بعض لا دین جو مذہب کو ایک پھند اور قید سمجھتے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ انسانی میں یہ انبیاء کی ہستیاں ہی تھی جن کی بدولت انسان کو آزادی نصیب ہوئی ورنہ ہادیانِ برحق کے بغیر غلامی اور جہالت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے۔حضرت امیرؑ نے فرمایا:
فَانْظُرُوْۤا اِلٰی مَوَاقِعِ نِعَمِ اللهِ عَلَیْهِمْ حِیْنَ بَعَثَ اِلَیْهِمْ رَسُوْلًا، فَعَقَدَ بِمِلَّتِهٖ طَاعَتَهُمْ، وَ جَمَعَ عَلٰی دَعْوَتِهٖۤ اُلْفَتَهُمْ، كَیْفَ نَشَرَتِ النِّعْمَةُ عَلَیْهِمْ جَنَاحَ كَرَامَتِهَا وَ اَسَالَتْ لَهُمْ جَدَاوِلَ نَعِیْمِهَا، وَ الْتَفَّتِ الْمِلَّةُ بِهِمْ فِیْ عَوَآئِدِ بَرَكَتِهَا، فَاَصْبَحُوْا فِیْ نِعْمَتِهَا غَرِقِیْنَ، وَ فِیْ خُضْرَةِ عَیْشِهَا فَكِهِیْنَ
دیکھو! کہ اللہ نے ان پر کتنے احسانات کئے کہ ان میں اپنا رسول بھیجا کہ جس نے اپنی اطاعت کا انہیں پابند بنایا اور انہیں ایک مرکز ِوحدت پر جمع کر دیا اور کیونکر خوشحالی نے اپنے پر و بال ان پر پھیلا دیئے اور ان کیلئے بخشش و فیضان کی نہریں بہا دیں اور شریعت نے انہیں اپنی برکت کے بے بہا فائدوں میں لپیٹ لیا۔
حضرت سلیمان بن داؤد کو موجودہ تورات میں قران کے متضاد پیش کیا گیا ہے لیکن قران میں ان کا تذکرہ ایک عظیم، پاکیزہ، خدا ترس پیغمبر کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قران مجید میں ان کی حکومت کو اقتدار و سلطنت کا اعلی نمونہ قرار دیا گیا۔ ان کی زندگی تمام لوگوں کے لیے عظیم درس ہے قران مجید کے بیان کے مطابق: ”خداوند عالم نے آپ کو بہت سی نعمتیں عطا کی اور ہوا جیسی نہایت سریع السیر سواری سے نوازا جس کے ذریعے آپ بہت ہی مختصر مدت میں اپنے سلطنت کے چپے چپے تک پہنچ جاتے تھے اس کے علاوہ جن و انس کی چست چاک و چوبند فوج اور عظیم علم و دانش یہاں تک پرندوں کی زبان کا علم بھی آپ کو عطا کیا بہت سے لشکر اور کار گزار بھی عطا ہوئے مگر اس کے باوجود آپؑ کی موت بہت عبرت انگیز تھی“۔
بعض روایات میں یہاں تک نقل ہوا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی عظیم حکومت سے نوازا ہے لیکن میرا ایک دن بھی سکون سے نہیں گزرا۔ میں چاہتا ہوں کہ آج اپنے محل کی چھت پر جاؤں اور تنہائی میں اپنی سلطنت کا نظارہ کروں اور اس سے لطف اندوز ہوں اور میرے محل کے اوپر کسی کو آنے کی یا مخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے اعصا پر ٹیک لگا کر سلطنت کا نظارہ کیا تو ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو حضرت سلیمانؑ نے پوچھا آپ کس کی اجازت سے آئے ہیں تو اس نے جواب دیا :میں پروردگار کی اجازت سے آیا ہوں۔ سلیمانؑ نے کہا کیا آپ کا پروردگار مجھ سے زیادہ سزا وار ہے؟ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں ملک الموت ہوں اور آپ کی روح قبض کرنے کے لیے آیا ہوں حضرت سلیمان نے کہا بسم اللہ اپنی ذمہ داری نبھاؤ۔
ابي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَكُونَ لِي سُرُورٌ دُونَ لِقَائِهِ
(یہ میری خوشی کا دن تھا) گویا خدا نے صرف اپنے دیدار کے ذریعے میری خوشی چاہی ہے۔
ملک الموت نے ان کی روح قبض کی اور وہ اپنے اعصا پر ٹیک لگائے کھڑے تھے ملک الموت نے انھیں بیٹھنے تک اجازت نہ دی۔لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں مختلف ارا قائم ہونے لگیں بعض نے انہیں نعوذ باللہ جادوگر کہا بعض نے انہیں حقیقت میں خدا کا عبد اور اس کا پیغمبر قرار دیا اور یہ کہا کہ دیکھا جائے گا خدا کیا فیصلہ فرما تاہے۔ جب یہ اختلاف بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے دیمک ان کے عصا پر مسلط کی اور وہ ٹوٹا اور حضرت سلیمان زمین پر گر پڑے اس تمام واقعے سے اگر اندازہ کریں اندازہ ہوگا کہ ایک عظیم پیغمبر جس نے ہواؤں پر حکومت کی جس کی حکومت کو اللہ تعالیٰ نے اعلی ترین حکومتوں کی مثال قرار دیا موت کے وقت بیٹھنے تک کی اجازت نہ ملی اور اور ان کی سلطنت اور حکومت کا خاتمہ اپنی انتہائی چھوٹی مخلوق دیمک سے کرایا۔ اس میں ہمارے لیے بہت ساری عبرتیں ہیں کہ وہ اپنے پیارے اور برگزیدہ پیغمبروں اور شہنشاہوں کی حکومتوں کا خاتمہ کرنے اور شاہوں کو گدا اور گداؤں کو شاہ بنانےمیں دیر نہیں لگاتا اور کسی کا محتاج ہے۔ لہذا آج کے انسان کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ جتنا بھی ثروت مند، مالدار، خوشحال اور بلند اقبال بن جائے، اللہ تعالیٰٰ کے اس پیغمبر کی حکومت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر دنیا نے ان کا ساتھ نہیں نبھایا تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک عام انسان کو بعد از موت زندگی میں اس کا کوئی فائدہ ہو۔اس عظیم صاحب اقتدار پیامبرؑ کی عبرت ناک موت کو حضرت نے یوں موضوع بنایا ہے:
فَلَوْ اَنَّ اَحَدًا یَّجِدُ اِلَی الْبَقَآءِ سُلَّمًا، اَوْ لِدَفْعِ الْمَوْتِ سَبِیْلًا، لَكَانَ ذٰلِكَ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوٗدَ ؑ، الَّذِیْ سُخِّرَ لَهٗ مُلْكُ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ، مَعَ النُّبُوَّۃِ وَ عَظِیْمِ الزُّلْفَةِ، فَلَمَّا اسْتَوْفٰی طُعْمَتَهٗ، وَ اسْتَكْمَلَ مُدَّتَهٗ، رَمَتْهُ قِسِیُّ الْفَنَآءِ بِنِبَالِ الْمَوْتِ، وَ اَصْبَحَتِ الدِّیَارُ مِنْهُ خَالِیَةً، وَ الْمَسَاكِنُ مُعَطَّلَةً، وَ وَرِثَهَا قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ
اگر کوئی دنیوی بقا (کی بلندیوں پر) چڑھنے کا زینہ یا موت کو دور کرنے کا راستہ پا سکتا ہوتا تو وہ سلیمان ابن داؤد علیہما السلام ہوتے کہ جن کیلئے نبوت و انتہائے تقرب کے ساتھ جن و انس کی سلطنت قبضہ میں دے دی گئی تھی، لیکن جب وہ اپنا آب و دانہ پورا اور اپنی مدت (حیات) ختم کر چکے تو فنا کی کمانوں نے انہیں موت کے تیروں کی زد پر رکھ لیا، گھر ان سے خالی ہو گئے اور بستیاں اجڑ گئیں اور دوسرے لوگ ان کے وارث ہو
کلام امیر المومنین علیہ السلام کلامِ عبرت و معرفت ہے۔ آپؑ نے دیگر انبیاء علیہم السلام کے تذکرے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو بھی بطور عبرت پیش کیا ہے۔ حضرتؑ فرماتے ہیں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ہمراہ فرعون کے دربار میں انتہائی سادگی کے عالم میں پیش ہوئے تو فرعون نے اور اس کے درباریوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا مذاق اڑایا لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برگزدیدگی اور عزت و وقار مال و دولت کا نام نہیں بلکہ خلوص اور اطاعت کا نام ہے۔آج کی دنیا کو بھی اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی سادہ، کم مالدار کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی نظر میں کون صاحب کمال اور کون ذلیل و رسوا ہے۔ بقول امیر مینائی:
زاہد نگاہِ کم سے کسی رند کو نہ دیکھ
کیا جانے اس کریم کو وہ ہے کہ تو پسند
حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ 158 میں انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں کو موضوع بنایا ہے۔ ان کی سادگی سے عبرت کے درس ملتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انبیاء کو اس کائنات کا سب سے زیادہ دولت مند اور صاحب آسائش بناتا لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مال و دولت ارام و آسائش کی خاص اہمیت نہیں ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ انسان کی عظمت کا معیار تقویٰ ہونا چاہیے نہ کہ دولت مندی کو انسان کی عظمت و عزت کا معیار سمجھا جائے۔
انبیاء علیہم السلام کے مالدار نہ ہونے کی وجوہات صاحب کلام امیر المومنین نے نقل کی ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ اگر انبیاء علیہم السلام دنیا کی تمام سہولیات سے استفادہ کرتے تو ممکن ہے مال و دولت کے لالچ میں لوگ ان کی پیروی کرتے جس سے کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ نہ ہو پاتا کیونکہ اصلی اور نقلی کو کی پرکھ کے لیے آزمائش کا کلیہ قران نے بھی پیش کیا ہے۔
حضرت امیر علیہ السلام کے اقوال و افعال سے کئی درس ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ جب حضرت عقیلؑ جو حضرت علی ابن ابی طالب کے بھائی تھے سخت فقر فاقہ کی حالت میں حضرت سے فقط ایک صا ع گیہوں مانگنے آئے جب کہ ان کے بچوں کی حالت حضرتؑ کے بقول فقر بے نوائی سے رنگ تیر گی میل ہو چکے تھے لیکن حضرت امیر علیہ السلام کی نظر میں کوفہ کے دیگر مساکین کا بھی خیال تھا تو حضرتؑ نے ایک سلائی گرم کی اور حضرت عقیلؑ کے قریب کی حضرت چونک گئے۔ اس وقت فرمایا کہ کسی کے مال کو بے جا غصب کرنا اور استحقاق سے زیادہ حصہ لینا آخرت میں تکلیف کا باعث ہوگا۔ اس واقعے پر اگر غور کریں یہی درس ملتا ہے کہ جب کسی کو اختیار یا حکومت ملے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ حکومت کے تمام تر اموال اسی کے ہیں بلکہ اس ریاست اور حکومت میں بسنے والے تمام افراد برابر کے حقدار ہوتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے اگر کوئی شخص حکومت و اقتدار میں آئے تو کبھی کسی کے ساتھ ظلم روا نہ رکھے ورنہ جب حضرت علی علیہ السلام جیسی شخصیت ایک صا ع، اپنے بھائی کی حالت شدید دیکھنے کے باوجود حکومت کے مال میں سے کچھ نہ دے تو ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ حضرتؑ کی سیرت پہ عمل پیرا ہو کردنیا و آخرت کو کامیاب بنائیں۔
تاریخِ دشمنانِ خدا سے عبرت
تاریخ انسانی میں دشمنان خدا اپنے گھمنڈ اور تکبر کی بنیاد پر کیفر کردار کو پہنچتے رہے۔ابلیس جس نے ایک زمانہ عبادت خداوندی میں گزارا لیکن محض اس قیاس نے کہ وہ حضرت آدمؑ سے افضل ہے، اس غرور اور تکبر نے اس کی ساری عبادات کو غارت کر دیا۔ آج ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ شیطان جیسا عبادت گزار اپنے تکبر کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھا تو ایک عام گنہگار انسان کو تکبر کس گڑھے میں جا کر غرق کرے گا؟غور وفکر کرنی چاہیے:
فَاعْتَبِرُوْا بِمَا كَانَ مِنْ فِعْلِ اللهِ بِاِبْلِیْسَ، اِذْ اَحْبَطَ عَمَلَهُ الطَّوِیْلَ، وَ جَهْدَهُ الْجَهِیْدَ، وَ كَانَ قَدْ عَبَدَ اللهَ سِتَّةَ اٰلَافِ سَنَةٍ، لَا یُدْرٰی اَ مِنْ سِنِی الدُّنْیَاۤ اَمْ مِنْ سِنِی الْاٰخِرَةِ، عَنْ كِبْرِ سَاعَةٍ وَّاحِدَةٍ.
تمہیں چاہیے کہ اللہ نے شیطان کے ساتھ جو کیا اس سے عبرت حاصل کرو کہ اس کی طول طویل عبادتوں اور بھر پور کوششوں پر اس کے ایک گھڑی کے گھمنڈ سے پانی پھیر دیا۔ حالانکہ اس نے چھ ہزار برس تک جو پتہ نہیں دنیا کے سال تھے یا آخرت کے اس کی عبادت کی تھی۔
انسان کے لیے تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ درس گاہ ہے، جہاں گذشتہ ادوار کے صاحبانِ اقتدار کے انجام اس کے سامنے آئینہ بن کر آتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اکثر اقوام کی ہلاکت و تباہی کا سبب ان کا ظلم، جبر اور کھلم کھلا فسق و فجور رہا ہے۔ وہ قومیں جنہوں نے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنی قوت کے سکہ جمائے، اور جن کے اقتدار کے پرچم مشرق سے مغرب تک لہرایا کرتے تھے، جب ان کے کردار کی قباحتیں نمایاں ہوئیں تو قانونِ جزا و سزا نے انہیں اس طرح اپنی گرفت میں لیا کہ وہ صفحۂ ہستی سے گویا مٹا دی گئیں۔
عاد و ثمود جیسی طاقت ور سلطنتیں نیست و نابود ہو گئیں، عمالقہ، فرعون و نمرود کی شوکت و شان قصۂ پارینہ بن گئی، طسم و جدیس کی فلک بوس عمارتیں ویران کھنڈرات میں بدل گئیں، اور اصحابُ الرس کی آباد بستیاں اجڑ کر سنسان ہو گئیں۔ جہاں کبھی زندگی کی رونقیں اور خوشیوں کے نغمے تھے، وہاں موت کی خاموشیاں چھا گئیں، اور جن مقامات پر ہجوم اور گہماگہمی تھی، وہاں خوفناک سناٹے بسیرا کرنے لگے۔
اقوام کے عروج و زوال کے یہ مناظر صاحبِ بصیرت کے لیے بے شمار اسباق اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ تاریخ ان واقعات کو اسی لیے دہراتی ہے کہ انسان ان کے حالات و انجام سے عبرت حاصل کرے اور غرور، طاقت اور سرکشی کے نشے میں مبتلا ہو کر اپنے انجام سے غافل نہ ہو جائے۔ اسی مقصدِ نصیحت و عبرت کے تحت امیرالمؤمنینؑ نے عمالقہ، فراعنہ اور اصحابُ الرس کی ہلاکتوں کا تذکرہ فرمایا ہے—وہ اقوام جو عظمت و بلندی کی انتہاؤں سے ذلت و بربادی کے گہرے گڑھوں میں اس طرح جا گریں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔حضرت ؑ کے کلام میں عبرتیں:
وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْقُرُوْنِ السَّالِفَةِ لَعِبْرَةً! اَیْنَ الْعَمَالِقَةُ وَ اَبْنَآءُ الْعَمَالِقَةِ! اَیْنَ الْفَرَاعِنَةُ وَاَبْنَآءُ الْفَرَاعِنَةِ! اَیْنَ اَصْحَابُ مَدَآئِنِ الرَّسِّ الَّذِیْنَ قَتَلُوا النَّبِیِّیْنَ، وَاَطْفَاُوْا سُنَنَ الْمُرْسَلِیْنَ، وَاَحْیَوْا سُنَنَ الْجَبَّارِیْنَ! اَیْنَ الَّذِیْنَ سَارُوْا بِالْجُیُوْشِ، وَ هَزَمُوا الْاُلُوْفَ، وَعَسْكَرُوا الْعَسَاكِرَ، وَمَدَّنُوا الْمَدَآئِنَ!.
تمہارے لئے گزشتہ دوروں (کے ہر دور)میں عبرتیں (ہی عبرتیں) ہیں۔ (ذرا سوچو تو کہ) کہاں ہیں عمالقہ اور ان کے بیٹے؟ اور کہاں ہیں فرعون اور ان کی اولادیں؟ کہاں ہیں اصحاب الرس کے شہروں کے باشندے؟ جنہوں نے نبیوں کو قتل کیا، پیغمبروں کے روشن طریقوں کو مٹایا اور ظالموں کے طور طریقوں کو زندہ کیا۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو لشکروں کو لے کر بڑھے؟ ہزاروں کو شکست دی اور فوجوں کو فراہم کرکے شہروں کو آباد کیا۔
امیرالمؤمنین علیؑ، بلیغ اور لرزا دینے والے کلام میں انسان کو تاریخ کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اپنے سے پہلے گزرنے والی سرکش اور متکبر قوموں کے انجام پر غور کرو۔ ان اقوام پر اللہ کے قہر و غضب کی جو بجلیاں گریں، اس کی ہیبت ناک ضربوں، فیصلہ کن واقعات اور عبرت ناک سزاؤں کو محض داستان سمجھ کر نظرانداز نہ کرو، بلکہ انہیں اپنی فکری اور اخلاقی زندگی کا معیار بناؤ۔ یہ وہ قومیں تھیں جنہوں نے قوت، اقتدار اور تمدن کی بلندیوں کو اپنی دائمی میراث سمجھ لیا تھا، مگر جب ان کے دلوں میں تکبر نے جنم لیا اور انہوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی تو اللہ کی گرفت نے ان کی تمام شان و شوکت کو مٹی میں ملا دیا۔
حضرت علیؑ محض زبانی نصیحت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ انسان کی بصری حس کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان قوموں کے ان مقامات سے عبرت حاصل کرو جہاں وہ ذلت کے عالم میں رخساروں کے بل گرے پڑے ہیں، اور جہاں ان کے جسموں کے پہلو خاک میں لت پت ہو گئے۔ جو چہرے کبھی نخوت اور غرور سے بلند ہوا کرتے تھے، وہ خاک آلود ہو گئے؛ اور جو پہلو کبھی قوت و استحکام کی علامت تھے، وہ زمین پر بے بس پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مناظر اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ جب انسان حدِ عبودیت سے تجاوز کرتا ہے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے۔
اس کے بعد امیرالمؤمنینؑ ایک نہایت گہرا اخلاقی نکتہ واضح فرماتے ہیں کہ انسان کو صرف زمانے کی ناگہانی آفات اور حادثات سے ہی اللہ کی پناہ نہیں مانگنی چاہیے، بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہ ان اسباب سے بھی پناہ مانگے جو انسان کے دل میں تکبر، غرور اور خود پسندی کے بیج بوتے ہیں۔ کیونکہ زمانے کی مصیبتیں تو خارجی ہوتی ہیں اور وقتی طور پر نقصان پہنچاتی ہیں، مگر تکبر ایک باطنی آفت ہے جو انسان کے دل و عقل کو مفلوج کر کے اسے دائمی ہلاکت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
یوں یہ اقتباس انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ تاریخ کا مطالعہ محض علمی مشغلہ نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔ جو شخص گذشتہ اقوام کے انجام سے عبرت نہیں لیتا، وہ دراصل انہی کے راستے پر قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا مومن کی شان یہ ہے کہ وہ تاریخ کے کھنڈرات میں اپنے مستقبل کا نقشہ دیکھے، اور اللہ کے حضور عاجزی اختیار کر کے تکبر و سرکشی کے ہر امکان سے پناہ مانگتا رہے۔حضرت امیرؑ نے فرمایا:
فَاعْتَبِرُوْا بِمَاۤ اَصَابَ الْاُمَمَ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنْۢ بَاْسِ اللهِ وَ صَوْلَاتِهٖ، وَ وَقَآئِعِهٖ وَ مَثُلَاتِهٖ، وَ اتَّعِظُوْا بِمَثَاوِیْ خُدُوْدِهِمْ، وَ مَصَارِعِ جُنُوْبِهِمْ، وَ اسْتَعِیْذُوْا بِاللهِ مِنْ لَّوَاقِحِ الْكِبْرِ، كَمَا تَسْتَعِیْذُوْنَهٗ مِنْ طَوَارِقِ الدَّهْرِ.
تمہیں لازم ہے کہ تم سے قبل سرکش اُمتوں پر جو قہر و عذاب اور عتاب و عقاب نازل ہوا، اس سے عبرت لو اور ان کے رخساروں کے بل لیٹنے اور پہلوؤں کے بل گرنے کے مقامات سے نصیحت حاصل کرو اور جس طرح زمانہ کی مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو اسی طرح مغرور و سرکش بنانے والی چیزوں سے اللہ کے دامن میں پناہ مانگو۔
تاریخ گذشتگان سے عبرت
کلام ِحضرت امیر المومنین علیہ السلام میں گذشتگان کی تاریخ سے عبرت کا موضوع لبریز ہے۔ گذشتگان میں خود انسان کی اپنی گذشتہ زندگی آبا و اجداد اور گزشتہ دنیا کے واقعات میں عبرت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ حضرت نے بڑا واضح انداز میں بتایا کہ عبرت حاصل کرو اپنے برے اعمال سے اور ان برے اعمال سے جن کی وجہ سے تمہارے بھائی تمہارے باپ جکڑے گئے۔ کوئی بھی پیش آنے والا واقعہ انسان کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہیں:
فَاعْتَبِرُوْا عِبَادَ اللهِ، وَ اذْكُرُوْا تِیْكَ الَّتِیْ اٰبَاؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ بِهَا مُرْتَهَنُوْنَ، وَ عَلَیْهَا مُحَاسَبُوْنَ.
خدا کے بندو! عبرت حاصل کرو اور ان (بد اعمالیوں) کو یاد کرو جن ( کے نتائج) میں تمہارے باپ، بھائی جکڑے ہوئے ہیں اور جن پر ان سے حساب ہونے والا ہے۔
مزید حضرت امیرؑ نے فرمایا کہ کیا گزرے ہوئے اجداد میں آپ کے لیے عبرت کا سامان نہیں ہے ؟یعنی عبرتیں تو ہیں لیکن دل بینا کا ہونا ضروری ہے اور اس سے بڑھ کر سامان عبرت ہو ہی نہیں سکتا:
اَوَ لَیْسَ لَكُمْ فِیْۤ اٰثَارِ الْاَوَّلِیْنَ مُزْدَجَرٌ، وَ فِیْۤ اٰبَآئِكُمُ الْمَاضِیْنَ تَبْصِرَةٌ وَّ مُعْتَبَرٌ
کیا پہلے لوگوں کے واقعات میں تمہارے لئے کافی تنبیہ کا سامان نہیں؟ اور تمہارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد (کے حالات) میں تمہارے لئے عبرت اور بصیرت نہیں؟
گذشتگان کی تاریخ میں عبرت کا سامان کثیر ہے لیکن آنکھیں پھیرنے والوں اور اعراض کرنے والوں کو کچھ بھی نظر نہیں آتا حالانکہ گزرے اجداد کے زیر استعمال گھروں، صحنوں، مکانوں سے بآسانی عبرت حاصل کر سکتے ہیں:
اُولٰٓئِكُمْ سَلَفُ غَایَتِكُمْ، وَ فُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ، الَّذِیْنَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ، وَ حَلَبَاتُ الْفَخْرِ، مُلُوْكًا وَّ سُوَقًا، سَلَكُوْا فِیْ بُطُوْنِ الْبَرْزَخِ سَبِیْلًا سُلِّطَتِ الْاَرْضُ عَلَیْهِمْ فِیْهِ، فَاَكَلَتْ مِنْ لُّحُوْمِهِمْ، وَ شَرِبَتْ مِنْ دِمَآئِهِمْ، فَاَصْبَحُوْا فِیْ فَجَوَاتِ قُبُوْرِهِمْ جَمَادًا لَّا یَنْمُوْنَ، وَ ضِمَارًا لَّا یُوْجَدُوْنَ، لَا یُفْزِعُهُمْ وُرُوْدُ الْاَهْوَالِ، وَ لَا یَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الْاَحْوَالِ، وَ لَا یَحْفِلُوْنَ بِالرَّوَاجِفِ، وَ لَا یَاْذَنُوْنَ لِلْقَوَاصِفِ،
انہوں نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور ان سے (عبرت لینے کی بجائے) جہالت کے گہراؤ میں اتر پڑے۔ اگر وہ ان کی سر گزشت کو ٹوٹے ہوئے مکانوں اور خالی گھروں کے صحنوں سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ: وہ گمراہی کی حالت میں زمین کے اندر چلے گئے اور تم بھی بے خبری و جہالت کے عالم میں ان کے عقب میں بڑھے جا رہے ہو، تم ان کی کھوپڑیوں کو روندتے ہو اور ان کے جسموں کی جگہ پر عمارتیں کھڑی کرنا چاہتے ہو، جس چیز کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اس میں چر رہے ہو اور جسے وہ خالی چھوڑ کر چلے گئے ہیں اس میں آ بسے ہو اور یہ دن بھی جو تمہارے اور ان کے درمیان ہیں تم پر رو رہے ہیں اور نوحہ پڑھ رہے ہیں۔
گزرے ہوئے لوگوں سے عبرت حاصل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی کو سمیٹا جا سکتا ہے اگر عبرت حاصل نہ کی جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اس کی ناکام زندگی سے لوگ عبرت حاصل کر رہے ہوں گے:
وَ اتَّعِظُوْا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَبْلَ اَنْ یَّتَّعِظَ بِكُمْ مَنْۢ بَعْدَكُمْ
اپنے قبل کے لوگوں سے تم عبرت حاصل کر لو۔ اس کے قبل کہ تمہارے حالات سے بعد والے عبرت حاصل کریں۔
عبرت کا اوّلین فائدہ:
وَ لَوِ اعْتَبَرْتَ بِمَا مَضٰى حَفِظْتَ مَا بَقِیَ،
اور اگر تم گزشتہ حالات سے عبرت حاصل کرو تو باقی عمر کی حفاظت کر سکو گے۔
صاحبان عبرت کن کامیابیوں سے سرفراز ہوں گے؟ ملاحظہ کیجیے:
فَاتَّقُوا اللهَ تَقِیَّةَ مَنْ سَمِـعَ فَخَشَعَ، وَ اقْتَرَفَ فَاعْتَرَفَ، وَ وَجِلَ فَعَمِلَ، وَ حَاذَرَ فَبَادَرَ، وَ اَیْقَنَ فَاَحْسَنَ، وَ عُبِّرَ فَاعْتَبَرَ، وَ حُذِّرَ فَازْدَجَرَ، وَ اَجَابَ فَاَنَابَ، وَ رَجَعَ فَتَابَ، وَ اقْتَدٰی فَاحْتَذٰی، وَ اُرِیَ فَرَاٰی، فَاَسْرَعَ طَالِبًا، وَ نَجَا هَارِبًا، فَاَفَادَ ذَخِیْرَةً، وَ اَطَابَ سَرِیْرَةً، وَ عَمَّرَ مَعَادًا، وَ اسْتَظْهَرَ زَادًا لِّیَوْمِ رَحِیْلِهٖ وَ وَجْهِ سَبِیْلِهٖ، وَ حَالِ حَاجَتِهٖ، وَ مَوْطِنِ فَاقَتِهٖ، وَ قَدَّمَ اَمَامَهٗ لِدَارِ مُقَامِهٖ.
اللہ سے ڈرو! اس شخص کے مانند جس نے نصیحت کی باتوں کو سنا تو جھک گیا، گناہ کیا تو اس کا اعتراف کیا، ڈرا تو عمل کیا، خوف کیا تو نیکیوں کی طرف بڑھا، قیامت کا یقین کیا تو اچھے اعمال بجا لایا، عبرتیں دلائی گئیں تو اس نے عبرت حاصل کی اور خوف دلایا گیا تو بُرائیوں سے رُک گیا اور (اللہ کی پکار پر) لبیک کہی تو پھر اس کی طرف رخ موڑ لیا اور اس کی طرف توبہ و اِنابت کے ساتھ متوجہ ہوا، (اَگلوں کی) پوری پوری پیروی کی اور حق کے دکھائے جانے پر اسے دیکھ لیا۔ ایسا شخص طلبِ حق کیلئے سرگرمِ عمل رہا اور (دنیا کے بندھنوں سے) چھوٹ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے لئے ذخیرہ فراہم کیا اور باطن کو پاک و صاف رکھا اور آخرت کا گھر آباد کر لیا۔ سفرِ آخرت اور اس کی راه نوردی کیلئے اور احتیاج کے مواقع اور فقر و فاقہ کے مقامات کے پیشِ نظر اس نے زاد اپنے ہمراہ بار کر لیا ہے۔
موت سے عبرت
موت سے عبرت اگرچہ گزرے ہوں سے عبرت ہے اور یہ موضوع نہج البلاغہ میں سب سے کثرت سے پیش کیا جانے والا موضوع ہے۔ موت آنے کے بعد مرنے والے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یقیناً موت سے بڑھ کر کوئی عبرت نہیں ہے چونکہ یہ وہ واقعہ اور حادثہ ہے جو ہر کسی کو پیش آتا ہے اور آئے گا اور یہی وہ مرحلہ ہے جو سب سے زیادہ انسان کو متاثر کرتا ہے اگرچہ عام انسان کی اموات بھی انسان کے لیے سامان عبرت ہے لیکن خواص، صاحبان ِ اقتدار اور عظیم ہستیوں کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا اس دنیا کی بھی مائیگی اور کم ارزش کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت امیرؑ نے فرمایا
وَ اُوْصِیْكُمْ بِذِكْرِ الْمَوْتِ، وَ اِقْلَالِ الْغَفْلَةِ عَنْهُ، وَ كَیْفَ غَفْلَتُكُمْ عَمَّا لَیْسَ یُغْفِلُكُمْ، وَ طَمَعُكُمْ فِیْمَنْ لَّیْسَ یُمْهِلُكُمْ! فَكَفٰی وَاعِظًۢا بِمَوْتٰی عَایَنْتُمُوْهُمْ، حُمِلُوْۤا اِلٰی قُبُوْرِهِمْ غَیْرَ رَاكِبِیْنَ، وَ اُنْزِلُوْا فِیْهَا غَیْرَ نَازِلِیْنَ، فَكَاَنَّهُمْ لَمْ یَكُوْنُوْا لِلدُّنْیَا عُمَّارًا، وَ كَاَنَّ الْاٰخِرَةَ لَمْ تَزَلْ لَهُمْ دَارًا، اَوْحَشُوْا مَا كَانُوْا یُوْطِنُوْنَ، وَ اَوْطَنُوْا مَا كَانُوْا یُوْحِشُوْنَ، وَ اشْتَغَلُوْا بِمَا فَارَقُوْا، وَ اَضَاعُوْا مَاۤ اِلَیْهِ انْتَقَلُوْا. لَا عَنْ قَبِیْحٍ یَسْتَطِیْعُوْنَ انْتِقَالًا، وَ لَا فِیْ حَسَنٍ یَّسْتَطِیْعُوْنَ ازْدِیَادًا، اَنِسُوْا بِالدُّنْیَا فَغَرَّتْهُمْ، وَ وَثِقُوْا بِهَا فَصَرَعَتْهُمْ.
میں تمہیں سمجھاتا ہوں کہ موت کو یاد رکھو اور اس سے اپنی غفلت کو کم کرو اور آخر کیونکر تم اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہو جو تم سے غافل نہیں اور کیونکر اس (فرشتہ موت) سے کوئی آس لگاتے ہو جو تمہیں ذرا مہلت نہ دے گا۔ تمہیں پند و عبرت دینے کیلئے وہی مرنے والے کافی ہیں کہ جنہیں تم دیکھتے رہے ہو، انہیں (کندھوں پر) لاد کر قبروں کی طرف لے جایا گیا، درآنحالیکہ وہ خود سوار نہیں ہو سکتے اور انہیں قبروں میں اتار دیا گیا جبکہ وہ خود اترنے پر قادر نہ تھے۔ (یوں مٹ مٹا گئے کہ) گویا یہ کبھی دنیا میں بسے ہوئے تھے ہی نہیں اور گویا یہی آخرت (کا گھر) ان کا ہمیشہ سے گھر تھا۔ جسے وطن بنایا تھا اسے سنسان چھوڑ گئے اور جس سے وحشت کھایا کرتے تھے وہاں اب جا کر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ ہمیشہ اس کا انتظام کیا جسے چھوڑنا تھا اور وہاں کی کوئی فکر نہیں کی جہاں جانا تھا۔ (اب) نہ تو برائیوں سے (توبہ کرکے) پلٹنا ان کے بس میں ہے اور نہ نیکیوں کو بڑھانا ان کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے دنیا سے دل لگایا تو اس نے انہیں فریب دیا اور اس پر بھروسا کیا تو اس نے انہیں پچھاڑ دیا۔
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ نہج البلاغہ میں موت کو سب سے زیادہ عبرت ناک چیز کے طور پر پیش کیا گیا ہے عبرت کے سب سے بڑے سامان ہونے کے باوجود لوگ موت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور دنیا داری میں گھرے رہتے ہیں
اَوَ لَسْتُمْ اَبْنَآءَ الْقَوْمِ وَ الْاٰبَآءَ، وَ اِخْوَانَهُمْ وَالْاَقْرِبَآءَ؟ تَحْتَذُوْنَ اَمْثِلَتَهُمْ، وَ تَرْكَبُوْنَ قِدَّتَهُمْ، وَ تَطَؤُوْنَ جَادَّتَهُمْ؟! فَالْقُلُوْبُ قَاسِیَةٌ عَنْ حَظِّهَا، لَاهِیَةٌ عَنْ رُشْدِهَا، سَالِكَةٌ فِیْ غَیْرِ مِضْمَارِهَا! كَاَنَّ الْمَعْنِیَّ سِوَاهَا، وَ كَاَنَّ الرُّشْدَ فِیْۤ اِحْرَازِ دُنْیَاهَا.
کیا تم انہی مر چکنے والوں کے بیٹے، باپ، بھائی اور قریبی نہیں ہو؟ آخر تمہیں بھی تو ہو بہو انہی کے سے حالات کا سامنا کرنا اور انہی کی راہ پر چلنا ہے اور انہی کی شاہراہ پر گزرنا ہے۔ مگر دل اب بھی حظ و سعادت سے بے رغبت اور ہدایت سے بے پروا ہیں اور غلط میدان میں جا رہے ہیں۔ گویا ان کے علاوہ کوئی اور مراد و مخاطب ہے اور گویا ان کیلئے دنیا سمیٹ لینا ہی صحیح راستہ ہے۔
اس تحقیقی مطالعے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ عبرت پذیری کوئی ثانوی یا اختیاری وصف نہیں بلکہ مومن کی فکری و روحانی زندگی کی اساس ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات اور نہج البلاغہ کے ارشادات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ انسان کی اصل بینائی ظاہری آنکھ میں نہیں بلکہ چشمِ دل میں پوشیدہ ہے، اور یہی دل جب بصیرت سے منور ہو جاتا ہے تو عام واقعات بھی غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتے ہیں۔
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے تاریخِ انسانی کو محض قصہ گوئی نہیں بنایا بلکہ اسے اخلاقی فیصلوں، سماجی اصلاح اور فردی تربیت کا مضبوط حوالہ قرار دیا ہے۔ انبیاءؑ کی سادہ زندگیاں، دشمنانِ خدا کی عبرت ناک ہلاکتیں، اقوامِ سابقہ کا عروج و زوال، اور موت کی ناگزیر حقیقت—یہ سب انسان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ طاقت، دولت اور ظاہری شوکت کبھی دائمی نہیں ہوتیں۔ اصل عظمت تقویٰ، فروتنی اور حق کی اطاعت میں مضمر ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو فرد یا قوم عبرت کے شعور سے محروم ہو جاتی ہے، وہ تاریخ کی تکرار کا شکار ہو کر انہی غلطیوں کو دہراتی ہے جو پہلے ہلاکت کا سبب بن چکی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، عبرت کو فکری رہنما بنانے والا انسان نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ معاشرے کو بھی اخلاقی انحطاط سے بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ کائنات، تاریخ اور اپنی زندگی—تینوں کو آئینۂ عبرت سمجھ کر دیکھے، تاکہ اس کی دنیا بھی بامقصد ہو اور آخرت بھی کامیابی سے ہمکنار۔
حوالہ جات
[1] الحجر، آیت 75، ان فی ذلک لایتِ للمُتَوسِّمینَ[2] وحید الدین خان، اسلام کیا ہے، نیو دہلی: گڈورڈ بکس،2013ء، ص 40
[3] فرہنگ آصفیہ (اردو لغت)، آن لائن
[4] مفتی جعفر حسین، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ، برطانیہ: ورلڈ فیڈریشن، 2022ء، خطبہ 80، ص 257
[5] نہج البلاغہ خطبہ، 81، ص 260
[6] نہج البلاغہ خطبہ، 16، ص 153
[7] نہج البلاغہ خطبہ، 20، ص 171
[8] نہج البلاغہ خطبہ، 190، ص 542
[9] نہج البلاغہ خطبہ، 190، ص 555
[10] تورات، کتاب اوّل، ملوک و بادشاہان، بحوالہ کلام امیرالمومنین، ص 66
[11] الانبیاء آیت 81
[12] محمد باقر پورامینی، چہرہ ھا و روز ھا، مشہد مقدس: انتشارات قدسِ رضوی، 1392ھ ش، ص 30
[13] نہج البلاغہ خطبہ، 190,ص 547.
[14] آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، جلد 7، کراچی: بْاب العلم، دارالتحقیق، 2016ء ص364
[15] نہج البلاغہ خطبہ، 221، ص 635
[16] نہج البلاغہ خطبہ، 190، ص 542
[17] مسعودی، مروج الذہب، ج 1، ص 222، بحوالہ حواشی نہج البلاغہ، ص 507
[18] نہج البلاغہ خطبہ، 180، ص 502
[19] نہج البلاغہ خطبہ، 190، ص 546
[20] نہج البلاغہ خطبہ، 87، ص 283
[21] نہج البلاغہ خطبہ، 97، ص 321
[22] نہج البلاغہ خطبہ، 218، ص 624
[23] نہج البلاغہ خطبہ، 32، ص 198
[24] نہج البلاغہ خطبہ، 81، ص 262
[25] نہج البلاغہ خطبہ، 186، ص 529
[26] نہج البلاغہ خطبہ 81، صفحہ 265
کتابیات
[1] تورات، کتاب اوّل، ملوک و بادشاہان[2] ذیشان حیدر جوادی، علامہ، انوارالقرآن، قم: انصاریان پبلشرز، 2000ء۔
[3] فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ، آن لائن۔ https://www.nahjmagz.ir/
[4] شیخ محسن علی نجفیؒ، الکوثر فی تفسیرالقرآن، لاہور: مصباح القرآن، 2013ء۔
[5] فرہنگ آصفیہ (اردو لغت)، آن لائن ایڈیشن
[6] محمد باقر پورامینی، چہرہ ھا و روز ھا، مشہد مقدس: انتشارات قدسِ رضوی، 1392ھ ش۔
[7] مسعودی، مروج الذہب، ج 1
[8] مفتی جعفر حسین، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ، برطانیہ: ورلڈ فیڈریشن، 2022ء
[9] مفتی جعفر حسین، علامہ، سیرت امیر المومنینؑ، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 1992ء
[10] ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ، کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، جلد 7، کراچی: باب العلم، دارالتحقیق، 2016ء
[11] وحید الدین خان، اسلام کیا ہے، نیو دہلی: گڈورڈ بکس، 2013ء




