
امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے کلام نہج البلاغہ کو عام کرنے کے لیے بر صغیر کے عظیم سپوت راجہ صاحب محمود آباد نے اس کا اردو ترجمہ کروایا۔ مولانا سید ظفر مہدی نقوی نے یکم اگست 1940ء کو 22 خطبات کا ترجمہ مکمل کیا اور پھر دو حصے خطبہ 196 تک مولانا سید محمد صادق کے ترجمے کے ساتھ شائع ہوئے۔ مرکز افکار اسلامی نے ان بکھرے ہوئے موتیوں کو بڑی مشکل سے تلاش کیا اور 46 سال بعد یکجا کرکے آپ کی خدمت میں یہ نادر تحفہ پیش کر رہا ہے۔
اسم کتاب: سلسبیل فصاحت ترجمہ و شرح نہج البلاغہ
مترجم: مولانا سید ظفر مہدی نقوی الجائسی، مولانا سید محمد صادق آلِ نجم العلما
زبان: اردو
صفحات: 581
ناشر: مرکز افکار اسلامی
موضوع: کلام امیرالمومنین امام علی علیہ السلام، نہج البلاغہ
ڈاؤن لوڈ کریں
|
آن لائن پڑھیں |
ڈاؤن لوڈ کریں |
پیش لفظ
امام علی علیہ السلام اور علماء کی حسرت
﷽
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْاَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ. اَمَّا بَعْدُ
اللہ سبحانہ نے انسان کو خلق فرمایا، اُس کے خُلق و روش زندگی کو سنوارنے کے لیے انبیاء و رسل بھیجے اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں۔ ہدایت ورہنمائی کا رحمت بھرا یہ سلسلہ پیغمبر اکرمﷺ تک پہنچا۔ آپؐ کو ﴿بَلِّغْ مَا اُنزِلَ اِلَيْکَ﴾ فرما کر آخری پیغام پہنچانے کا حکم ہوا۔ آپؐ نے صحرا میں صحابہ کو روک کر ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“ کا پیغام سنایا تو آپ کو ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ کی سند مل گئی۔
یہ اعلان دین الٰہی اور پیغام نبوی کی قیامت تک کی حفاظت کی ضمانت تھا۔ اس اعلان میں دین اسلام کو زمانے کے گردابوں سے بچانے کی ذمہ داری علی و اولادِ علیؑ کے سپرد کی گئی۔ امیر المومنینؑ نے پوری زندگی اپنے قول و عمل سے اس فریضہ کو نبھایا۔ امامؑ خود فرماتے ہیں:
وَ لَقَدْ وَاسَیْتُهٗ بِنَفْسِیْ فِی الْمَوَاطِنِ الَّتِیْ تَنْكُصُ فِیْهَا الْاَبْطَالُ وَ تَتَاَخَّرُ فِیْهَا الْاَقْدَامُ، نَجْدَةً اَكْرَمَنِی اللهُ بِهَا.
اور میں نے اس جواں مردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبرﷺ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ (1)
نہج البلاغہ کی صورت میں سید رضیؒ نے امیر المومنینؑ کے کلام کا منتخب حصہ جمع کیا،جس سے معرفت امام حاصل ہوتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ امامؑ نے کیا کیا اور کیا کہا۔
نہج البلاغہ میں امامؑ نے اہل بیتؑ کے بارے میں فرمایا: عَیْبَةُعِلْمِهٖ، وَ مَوْئِلُ حِكَمِهٖ۔ وہ علم الہیٰ کا خزانہ اور اس کی حکمتوں کا مرجع ہیں۔ (2) پھر امامؑ دعوت دیتے ہیں کہ سوال کے ذریعہ اس خزانے سے علم کے موتی حاصل کرلو۔ ”سَلُوْنیْ“ (3) ایک مقام پر امامؑ اس علمی خزانے کا وضاحت سے تعارف کراتے ہیں اور پھر حسرت بھرے الفاظ میں فرماتے ہیں: ”کاش کوئی لینے والا مل جاتا“۔ امامؑ نے اپنے سینۂ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
هَا! اِنَّ هٰهُنَا لَعِلْمًا جَمًّا لَوْ اَصَبْتُ لَهٗ حَمَلَةً!
دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، کاش! اس کو اٹھانے (لینے) والے مجھے مل جاتے۔ (4)
علم حاصل کرنے والوں کی تلاش امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی حسرت رہی اور ہے۔ علماء بھی ہر دور میں اس حسرت کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ سید رضی ؒکی طرح متعدد علما نے آپ سے پہلے اور اب تک ان علمی خزانوں کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں۔ برصغیر کے علمانے بھی اس کاوش میں بھرپور حصہ لیا۔ بر صغیر میں کلام امام پر ہونے والے کام کو بڑی محنت سے جناب ڈاکٹر مولانا سید شہوار حسین نقوی امروہوی نے اپنی کتاب ”شارحین نہج البلاغہ“ میں جمع کیا ہے۔ مرکز افکار اسلامی فروری 2026ء میں یہ کتاب شائع کر چکا ہے۔
سلسبیل فصاحت:
بر صغیر میں نہج البلاغہ پر ہونے والا ایک یادگار کام نہج البلاغہ کا ترجمہ وحاشیہ ہے۔ ”سلسبیل فصاحت“ کے نام سے منسوب اس کتاب کی اپنی ایک مفصل کہانی ہے۔
1۔ برصغیر کے صاحبِ ثروت حضرات جیسے جناب راجہ صاحب محمود آباد، علوم محمد و آل محمد کی نشر و اشاعت کے لیے تالیف و تصنیف کا ادارہ قائم کرتے ہیں اور نظامی پریس لکھنؤ کے مالک مرزا محمد جواد نہج البلاغہ و صحیفہ سجادیہ کی اشاعت کو باعثِ فخر سمجھتے ہوئے علماء سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کتابوں پر کام کریں اور انہیں عام کریں۔
2۔ علماء اسے اپنے لیے سعادت اور نجاتِ اخروی کا ذریعہ سمجھ کر اپنے آرام و سکون کو قربان کرکے اور دن رات ایک کرکے ان کتابوں کے ترجمے اور شرحیں لکھتے ہیں۔ ان کی حسرت و تمنا ہوتی ہے کہ وہ اس خدمت میں اپنا حصہ شامل کر سکیں۔ اس کا ایک نمونہ ”سلسبیل فصاحت“ کےمؤلف ہیں۔
جناب مولانا سید ظفر مہدی نقوی جائسی:
مترجم و شارح نہج البلاغہ نے ”سلسبیل فصاحت“ کے مقدمہ کو ”تقدیمِ معذرت“ کا نام دیا اور شرح و ترجمہ کے مراحل کو بیان فرمایا۔ مولف ترجمے کےبائیسویں خطبے پر رک جانے پر افسوس کرتے ہوئے آئندہ کی اپنی خواہش و حسرت کو ان الفاظ میں درج کرتے ہیں: ان حالات میں بجز اس کے کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ جتنا ترجمہ ہو چکا ہے وہ جلدِ اول کی حیثیت سے نشر کر دیا جائے اور آئندہ باقساط حسبِ نشیب و فرازِمرض شائع ہوتا رہے، جس قدر بھی لیٹے لیٹے لکھوا سکوں اور جس وقت بھی طبیعت کام کر سکے۔ یہ علماء کا عشق اور ان کی حسرت ہے۔
جائسی صاحب نے یہ ترجمہ 1934ء اور 1935ء میں انجام دیا اور 1936ء میں راجہ صاحب محمود آباد کے توسط سے نظامی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا اور 1941ء میں آپ بائیسویں خطبے سے آگے بڑھے بغیر صاحبِ نہج البلاغہ کے ہاں چلے گئے۔ یقینا مولائے کائنات کے پہلے دیدار پر وہاں بھی ”تقدیمِ معذرت“ کی ہوگی۔
زبدۃُ العلماء مولانا سید محمد صادق آل سرکار نجم العلماء قدّس سرہ:
مولانا ظفر مہدی کے چھوڑے ہوئے سرمائے کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے لکھنؤ کے ایک اور عالمِ دین نے اس میدان میں قدم رکھا۔ خاندانِ نجم العلماء کے چشم وچراغ اور نہج لبلاغہ کے مدرس و عاشق مولانا سید محمد صادق نے تئیسویں (23) خطبے سے ترجمے کو آگے بڑھایا۔ مولانا ظفر مہدی کی رکھی ہوئی بنیادوں کے احترام میں کتاب کو ”سلسبیل فصاحت جلد دوم“ کا نام دیا۔ آپ نے دوسری جلد کا مفصل مقدمہ بھی تحریر فرمایا۔ اس جلد میں تیئسویں خطبہ سے ایک سو پچیسو یں خطبہ تک کا ترجمہ ہوا۔ یہ جلد بھی نظامی پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی۔
مولانا محمد صادق نے ”سلسبیل فصاحت، جلد سوم“ کے عنوان سے ترجمے کا سلسلہ جاری رکھا۔ تیسری جلد خطبہ 126 سے 196 تک کا ترجمہ کیا گیا۔ اس جلد کے لیے جناب آغا محمد سلطان مرزا نے بہترین مقدمہ تحریر فرمایا۔ ”سلسبیل فصاحت“ کی تیسری جلد بھی نظامی پریس لکھنؤ میں طبع ہوئی۔ مولانا سید محمد صادق بھی نہج البلاغہ کے ترجمہ کو مکمل نہ کر سکے اور 1984ء میں رحلت کی۔
3۔ ”سلسبیل فصاحت“ اور دیگر علمی کتابوں کی کہانی کا تیسرا حصہ انتہائی دکھ بھرا ہے۔ نہج البلاغہ کا ایک اور نامکمل ترجمہ جس کے لیے فخر الحکماء مولانا سید علی اظہر نقوی کھجوی اور ان کے فرزند مولانا سید علی حیدر نقوی کھجوی نے کیا کیا پاپڑ بیلے لیکن 107 خطبوں سے آگے ترجمہ نہ بڑھ سکا۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ ”سلسبیلِ فصاحت“ کی اشاعت کے بعد اُس ترجمے کی اشاعت کے وقت بیان کریں گے۔ یہ ترجمہ بھی اشاعت کے لیے آمادہ ہے۔
اسی طرح نہج البلاغہ کے خطبۂ شقشقیہ کی 312 صفحات پر مشتمل بہترین شرح ”التوضیحات التحقیقیہ فی شرح الخطبۃ الشقشقیہ“ مؤلف ”عالم جلیل السید علی اکبر ابن سلطان العلماء السید محمد طاب ثراہ“ کا تذکرہ بھی اس شرح کی اشاعت کے موقع پر ہوگا۔ یہ شرح بھی ”مرکز افکار اسلامی“ ان شاءاللہ بہت جلد منظرِ شہود پر لائے گا۔
”سلسبیل فصاحت“ کی ان تین جلدوں کو اکٹھا کرنے میں ہمیں چار سال لگے۔ اسے کہاں کہاں ڈھونڈا،کس کس کی منت و سماجت کی، اس وقت تفصیل بیان کرنے کا حوصلہ نہیں۔ سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوا جب کراچی سے جناب مولانا علی محمد رحمانی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ اس کتاب کی پہلی دو جلدیں ردی کے بھاؤ بکنے والے کاغذات سے انہیں ملیں اور خریدیں۔ اکتوبر 2025ء میں کراچی میں انہوں نے یہ دو جلدیں ہمیں تحفہ دیں تو محسوس ہوا کہ واقعا ہمیں کوئی بہت بڑا خزانہ ملا ہے۔ انہیں سینے سے لگایا، ساتھ ہی آنکھوں میں آنسو آگئے اور دل کو دھچکا لگا کہ یا علیؑ! آپ کے سینے کے خزینے کی ہم نے یہ قیمت لگائی کہ وہ ردی کے کاغذوں میں بک رہا ہے!۔
کتابوں کی اس آپ بیتی کو یہیں ختم کرتے ہیں۔ کتابوں کے مزید مرثیے سننے کے لیے ان خزانوں کو جمع کر کے محفوظ کرنے کی سعی میں اپنی صحت، وقت اور مال کو قربان کرنے والےعلماءکرام بالخصوص ہمارے زمانے کے قابل قدر جناب مولانا طاہر عباس اعوان، قم اور جناب مولانا آفتاب حسین جوادی، اسلام آباد کو کسی وقت زحمت دیں گے۔
مولانا سید ظفر مہدی جائسی نے”سلسبیل فصاحت“ کے مقدمہ میں ایک اور حسرت کا یوں اظہار کیا ہے:
”مقدمہ خاص: اس کتابِ مبارک کا خاص مقدمہ جو تحقیقی کاوشوں اور تدقیقی محنتوں کا خاص نتیجہ ہوگا اور جس کا تعلق صرف دیکھنے سے ہوگا۔ وہ ان شاءاللہ تعالی بعد فراغت ِترجمہ وشرح لکھا جائے گا کیونکہ وہ خود ایک بسیط اور مستقل کتاب کی صورت میں ہوگا۔“مگر افسوس نہ ترجمہ مکمل ہوسکا نہ مقدمہ لکھا جاسکا۔
مولانا سید ظفر مہدی کے بڑے بھائی جناب مولانا سید سبط حسن نقوی جائسی(خطیبِ اعظم )متوفی 1935ءنے بھی نہج البلاغہ کے خطبہ 225 ”لِلّٰهِ بِلَآءُ فُلَانٍ“ کی 78 صفحات پر مشتمل عربی میں شرح لکھی ہے۔ ”تقویم الاود و مداواۃ العمد“ کے نام سے یہ کتاب نور المطابع، لکھنو سے شائع ہوئی۔ اشاعت کی کوئی تاریخ درج نہیں۔
مرکز افکار اسلامی:
مرکز افکار اسلامی کے اہداف میں سے ہے کہ نہج البلاغہ پر ہونے والی محنتوں کو خاص کر گزشتگان کی کاوشوں کو قوم تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے مرکز افکار اسلامی اب تک 40 سے زیادہ کتابیں شائع کرا چکا ہے۔
- کلام امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کو عام کرنے کے لیے سال بھر مختلف ممالک میں کانفرنسیں منعقد کرائی جاتی ہیں۔
- مختلف شہروں میں دروس نہج البلاغہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
- جوانوں کو نہج البلاغہ کی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف قسم کے انعامی مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلاً نہج البلاغہ سے سوالات کے جوابات کا مقابلہ، فرامین کے حفظ کا مقابلہ۔
- مقالہ نویسی کے متعدد مقابلے کرائے گئے ہیں جن کے ذریعہ افکار اسلامی کو درجنوں موضوعات پر سینکڑوں مقالات موصول ہو چکے ہیں۔
- ان مقالوں میں سے منتخب مقالے کتاب کی صورت میں شائع کرائے جاتے اور ویب سائٹ پر شائع کیے جاتے ہیں۔
- موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق میڈیا کے ذریعہ بھرپور انداز سے نہج البلاغہ کی تعلیمات کو عام کیا جارہا ہے، جن میں سے نہج البلاغہ یوٹیوب چینل (nahjulbalagha) ویب سائٹ، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم استعمال کیے جاتے ہیں۔
افکار اسلامی کی فعالیات سے آگاہی کے لیے آپ افکار کی ویب سائٹ (www.afkareislami.com) بھی وزٹ کر سکتے ہیں۔
سلسبیلِ فصاحت کی اشاعت بھی اسی ہدف کی طرف ایک قدم ہے۔ اس اشاعت کے لیے درج ذیل امور انجام دیے گئے:
- تینوں جلدوں کو یکجا کیا گیا اور ہر جلد کا مقدمہ اپنے مقام پر رکھا گیا۔
- عربی عبارات افکار اسلامی کے نہج البلاغہ ترجمہ مفتی جعفر حسینؒ والی لائی گئیں۔
- اصل کتاب میں ترجمہ بین السطور تھا، اسے دو کالموں میں لایا گیا۔
- حواشی کی ترتیب کو بڑی محنت سے منظم کیا گیا۔
- ترجمہ میں کوئی تصحیح یا تبدیلی نہیں کی گئی۔
- حواشی کی عربی عبارتوں کی اعراب گزاری کی گئی۔
- ترجمہ میں جو الفاظ واضح نہیں تھے، ان کو عربی الفاظ یا بعض دوسرے ترجموں سے استفادہ کرتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی گئی۔
- کتاب کی تینوں جلدوں کے اصل ٹائٹل اور نمونے کے طور پر چند عکس شامل کیے گئے۔
- خطبات کے نمبروں کو اصل کتاب کے مطابق رکھا گیا۔ مولانا مفتی جعفر حسین کا ترجمہ عام رائج ہے، اس لیے اردو کالم کے اوپر اصل کتاب کے نمبر کے ساتھ مفتی صاحب والے خطبہ نمبر کو بھی بریکٹ میں لکھ دیا گیا۔
- مرکز افکار اسلامی کا یہ کاروان امیرالمومنینؑ کے فرامین کو گھر گھر پہنچاناچاہتا ہے اس کے لیے آپ بھی اس کا حصہ بنیں۔
- نہج البلاغہ خریدیں اور دقت سے اس کو پڑھیں۔
- اپنے اپنے علاقے میں درسِ نہج البلاغہ منعقد کریں۔
- نہج البلاغہ اور اس سے متعلق کتابیں خریدیں اور مختلف افراد اور لائبریریوں اور اداروں کو ہدیہ کریں۔
- اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے نہج البلاغہ سے متعلق کوئی کتاب شائع کرائیں۔
پروردگار عالم اس سعی میں شامل ابتدا سے آج تک تمام افراد کو اجر عظیم عطا فرمائے، مؤلفین و مترجمین کے درجات بلند فرمائے، قوم کے علم دوست افراد کو تعلیمات محمد و ال محمدؑ کو عام کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔
نہج البلاغہ سے مربوط کسی بھی کتاب یا کسی مفید کام سے آگاہ ہوں تو مرکز افکار اسلامی کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کی نشر و اشاعت کی کوشش کی جائے۔
والسلام
مقبول حسین علوی
مرکز افکار اسلامی
یکم اگست 2026ء (17 صفر 1448ھ)
[1] نہج البلاغہ: خطبہ 195
[2] نہج البلاغہ: خطبہ 2
[3] نہج البلاغہ: خطبہ91 و 187
[4] نہج البلاغہ: حکمت 147




