
﷽
ملخص:
یہ مقالہ نہج البلاغہ کی تعلیمات کی روشنی میں ”حقیقی شیعہ“ کے جامع اور ہمہ گیر تصور کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس مطالعے کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حقیقی شیعہ ہونا صرف نسبتی وابستگی، خاندانی شناخت یا زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، روحانی، اخلاقی اور عملی نظامِ حیات کو اپنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالب نے اپنے خطبات، مکتوبات اور حکمت آمیز اقوال میں مومنِ کامل اور اپنے حقیقی پیروکاروں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، وہ انسانی شخصیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔
اس تحقیق میں ان اوصاف کو پانچ بنیادی عناوین کے تحت منظم کیا گیا ہے: عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور انفرادی و اجتماعی خصائص۔ عقائد کے باب میں توحیدِ خالص، رسالت پر کامل ایمان، اور ولایت و امامت سے عملی وابستگی کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ عبادات میں خشوع و خضوع، نماز کی پابندی، قرآن سے گہرا تعلق، ذکرِ الٰہی، اور محاسبۂ نفس کو حقیقی ایمان کی علامت بتایا گیا ہے۔ معاملات میں صداقت، امانت، عدل، میانہ روی، حلال روزی کی طلب اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاقیات کے ضمن میں حلم، صبر، تقویٰ، عفو و درگزر، اور انکساری کو حقیقی شیعہ کی نمایاں خصوصیات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مزید برآں، نہج البلاغہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ آزمائشیں اور مشکلات مومن کی روحانی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو حالات کی سختیوں میں ثابت قدم رہے اور اپنے کردار سے دین کی عملی تصویر پیش کرے۔ اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ امام علیؑ کے نزدیک شیعیت ایک زندہ اور متحرک طرزِ زندگی ہے جس میں باطنی اخلاص اور ظاہری عمل لازم و ملزوم ہیں۔ یوں حقیقی شیعہ کی پہچان اس کے کردار، عدل پسندی اور تقویٰ سے ہوتی ہے، نہ کہ محض دعوائے محبت سے۔
کلیدی الفاظ: نہج البلاغہ، مومن، حقیقی شیعہ، تقویٰ، ولایت، اخلاص، عبادت، زہد، خوف و رجا، اخلاق اسلامی
نہج البلاغہ جو کہ دستور حیات انسانی ہے میں موضوعات کی بو قلمونی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی موضوع پر کام کرتے ہوئے صرف اقتباسات پر گزارا کرانا پڑتا ہے اگر ایک ایک اقتباسات کے متعلق تھوڑا بہت بھی لکھا جائے تو ہر موضوع ایک کتابی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے اس لیے مقالہ تحریر کرتے ہوئے اختصار کے پیش نظر بعض اوقات صرف نہج البلاغہ کے اقتباسات کے ساتھ چند کلمات کے ذریعے اس کو پیش کر کے موضوع کو مختصر اور جامع بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ۔بہرحال کوشش ہے کہ موضوع تشنہ تکمیل بھی نہ ہو اور اس قدر مفصل بھی نہ ہو کے مقالے سے بڑھ کر ایک کتاب کی صورت اختیار کر جائے۔اسلامی فکر میں "مومن” اور "حقیقی شیعہ” کا تصور محض ایک اعتقادی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک عملی و اخلاقی حقیقت ہے۔ امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں مومن کی جو تصویر پیش کی ہے وہ ایمان، تقویٰ، اخلاص اور عدل کا جامع نمونہ ہے۔ ذیل میں انھی اقتباسات کی روشنی میں حقیقی شیعہ کی پہچان کو منظم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہمارے پیش نظر موضوع ”نہج البلاغہ میں حقیقی شیعہ کی پہچان“ ہے۔ حقیقی شیعہ کیوں؟ کیوں کہ ہر شخص اپنے تئیں خود کو مومن اور حتی کہ حقیقی مومن خیال کرتا ہے جبکہ ظاہر ہے ہر شخص کا حقیقی شیعہ ہونا کجا ،شیعہ اور مومن ہونا بھی آسان نہیں ہے کیوں کہ حقیقی شیعہ اور مومن کے لیے بہت سارے تقاضے اور اصول ہیں جن کے بنا اس کا یہ دعویٰ حقیقت کے بر خلاف ہوگا۔ مومن کو بہت سارے امتحانات سے گزرنا ہوتا ہے اور انھی امتحانات سے گزر کر ہی اور خود کو سرخرو کر کے ہی وہ اس دعوے کا مصداق ہو سکتا ہے۔ حضرتؑ نے اپنے مومنین اور شیعوں کے حوالے سے فرمایا:
مُؤْمِنُنَا یَبْغِیْ بِذٰلِكَ الْاَجْرَ
ہمارے مومن ان سختیوں کی وجہ سے ثواب کے امید وار تھے۔
حضرتؑ کے اس قول سے واضح ہے کہ مومن اور آزمائش لازم و ملزوم اور اس کی کامیابی کے ساتھ وہ ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔
جہاں شیعان علیؑ کو آزمائشوں اور امتحانوں سے گزرنا ہوتا ہے وہیں ان کی عظمت اور فضیلت یہ بھی ہے کہ وہ پیروی محمد و ال محمدؑ کے لیے سب سے زیادہ اہل اور قابل قبول ہوتے ہیں:
اِنَّ اَمْرَنَا صَعْبٌ مُّسْتَصْعَبٌ، لَا یَحْمِلُهٗۤ اِلَّا عَبْدٌ مُّؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللهُ قَلْبَهٗ لِلْاِیْمَانِ، وَ لَا یَعِیْ حَدِیْثَنَاۤ اِلَّا صُدُوْرٌ اَمِیْنَةٌ، وَ اَحْلَامٌ رَزِیْنَةٌ.
بلا شبہ ہمارا معاملہ ایک امر مشکل و دشوار ہے جس کا متحمل وہی بندہ مومن ہو گا کہ جس کے دل کو اللہ نے ایمان کیلئے پرکھ لیا ہو اور ہمارے قول و حدیث کو صرف امانتدار سینے اور ٹھوس عقلیں ہی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
اسی طرح ان کی عظمت و مقام اور رتبے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرتؑ نے فرمایا کہ مومن کو خدا کبھی گمراہ نہیں ہونے دیتا اور کمالات مومنین میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں چاہے اس پہ جو بھی مشکلات آئیں ولایت علیؑ اور پیروی محمد و ال محمدؑ سے دستبردار نہیں ہو گا:
اِنِّیْ لَاۤ اَخَافُ عَلٰۤی اُمَّتِیْ مُؤْمِنًا وَّ لَا مُشْرِكًا، اَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَمْنَعُهُ اللهُ بِاِیْمَانِهٖ
مجھے اپنی اُمت کے بارے میں نہ مومن سے کھٹکا ہے اور نہ مشرک سے، کیوں کہ مومن کی اللہ اس کے ایمان کی وجہ سے (گمراہ کرنے سے) حفاظت کرے گا۔
مزید فرمایا:
لَوْ ضَرَبْتُ خَیْشُوْمَ الْمُؤْمِنِ بِسَیْفِیْ هٰذَا عَلٰۤى اَنْ یُّبْغِضَنِیْ مَاۤ اَبْغَضَنِیْ، وَ لَوْ صَبَبْتُ الدُّنْیَا بِجَمَّاتِهَا عَلَى الْمُنَافِقِ عَلٰۤى اَنْ یُّحِبَّنِیْ مَاۤ اَحَبَّنِیْ، وَ ذٰلِكَ اَنَّهٗ قُضِیَ فَانْقَضٰى عَلٰى لِسَانِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ ﷺ اَنَّهٗ قَالَ: «یَا عَلِیُّ! لَا یُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَ لَا یُحِبُّكَ مُنَافِقٌ».
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا، اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا۔ اس لئے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر اُمی ﷺ کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: «اے علی! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا، اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا»۔
اللہ تعالی نے مومنین کو بڑی فضیلتیں اور عظمتیں بخشی ہیں۔ نہج البلاغہ میں بھی اس موضوع کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔جس طرح بعض روایت میں ہے کہ مومن کی عزت کعبہ کی عزت کے برابر ہے ۔اسی طرح حضرت ؑنے بھی ایک مومن کی شان کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ جو حقیقی معنوں میں شیعہ اور مومن ہے اگر کوئی شخص اس سے مشاورت کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے وہ خدا سے مشاورت اور معاونت حاصل کر رہا ہوں۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
مَنْ شَكَا الْحَاجَةَ اِلٰى مُؤْمِنٍ فَكَاَنَّہٗ شَكَاهَا اِلَى اللهِ، وَ مَنْ شَكَاهَا اِلٰى كَافِرٍ فَكَاَنَّمَا شَكَا اللهَ.
جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے، گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی، اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔
مومن صاحب شعور ،تزکیہ نفس کرنے والا ،عیش پرستی اور زیادہ کھا کھانے سے گریز کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی اسے صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے اور دائمی قرارگاہ تک پہنچاتا ہے۔ یہ فضائل شیعۂ علیؑ ہیں جو حضرتؑ نے اپنے کلام میں بیان فرمائے ہیں:
قَدْ اَحْیَا عَقْلَهٗ، وَ اَمَاتَ نَفْسَهٗ، حَتّٰی دَقَّ جَلِیْلُهٗ، وَ لَطُفَ غَلِیْظُهٗ، وَ بَرَقَ لَهٗ لَامِعٌ كَثِیْرُ الْبَرْقِ، فَاَبَانَ لَهُ الطَّرِیْقَ، وَ سَلَكَ بِهِ السَّبِیْلَ، وَ تَدَافَعَتْهُ الْاَبْوَابُ اِلٰی بَابِ السَّلَامَةِ، وَ دَارِ الْاِقَامَةِ، وَ ثَبَتَتْ رِجْلَاهُ بِطُمَاْنِیْنَةِ بَدَنِهٖ فِیْ قَرَارِ الْاَمْنِ وَ الرَّاحَةِ، بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَهٗ، وَ اَرْضٰی رَبَّهٗ.
مومن نے اپنی عقل کو زندہ رکھا اور اپنے نفس کو مار ڈالا، یہاں تک کہ اس کا ڈیل ڈول لاغر اور تن و توش ہلکا ہو گیا، اس کیلئے بھرپور درخشندگیوں والا نورِ ہدایت چمکا کہ جس نے اس کے سامنے راستہ نمایاں کر دیا اور اسے سیدھی راہ پر لے چلا اور مختلف دروازے اسے دھکیلتے ہوئے سلامتی کے دروازہ اور (دائمی) قرار گاہ تک لے گئے اور اس کے پاؤں بدن کے ٹکاؤ کے ساتھ امن و راحت کے مقام پر جم گئے۔ چونکہ اس نے اپنے دل کو عمل میں لگائے رکھا تھا اور اپنے پروردگار کو راضی و خوشنود کیا تھا۔
نہج البلاغہ میں حقیقی شیعہ کی پہچان جیسے موضوع کی درج ذیل موضوعات میں درجہ بندی کر سکتے ہیں:
- عقائد شیعۂ علیؑ
- عبادات شیعۂ علیؑ
- معاملات شیعۂ علیؑ
- خصائص شیعۂ علیؑ
- اخلاقیات شیعۂ علیؑ
عقائدِ شیعۂ علی علیہ السلام
مومن کی عام الفاظ میں تعریف یہ کی جا سکتی ہے کہ ایسا شخص جو امام اور رہبر کے بغیر نہ ہو اور نہ امام کے قول کے مخالف فعل انجام دے۔اگرچہ مومن کے عقائد کے بارے میں نہج البلاغہ میں مفصل اظہار نہیں لیکن حضرت امیر المومنین علیؑ ابن ابی طالبؑ کے اقوال سے آپؑ کے عقائد کے بارے میں واضح روشنی پڑتی ہے اور انھی اقوال کی مدد سے ہم کسی مومن کے عقیدے کی نشاندہی کر سکتے ہیں کیوں کہ حضرت سے بڑھ کر پختہ اور تیقن سے بھرپور عقیدہ کسی کا نہیں ہو سکتا۔ اگر اسی عقیدے کے تناظر میں کسی مومن کے عقیدے کا احاطہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ حضرتؑ کا توحید رسالت اور امامت کے بارے میں کیا نقطہ نظر تھا۔ ملاحظہ ہو:
وَ اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ، شَهَادَةً مُّمْتَحَنًا اِخْلَاصُهَا، مُعْتَقَدًا مُّصَاصُهَا، نَتَمَسَّكُ بِهَاۤ اَبَدًا مَّاۤ اَبْقَانَا، وَ نَدَّخِرُهَا لِاَهَاوِیْلِ مَا یَلْقَانَا، فَاِنَّهَا عَزِیْمَةُ الْاِیْمَانِ، وَ فَاتِحَةُ الْاِحْسَانِ، وَ مَرْضَاةُ الرَّحْمٰنِ، وَ مَدْحَرَةُ الشَّیْطٰنِ.
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو یکتا و لاشریک ہے، ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جا چکا ہے اور جس کا نچوڑ بغیر کسی شائبہ کے دل کا عقیدہ بن چکا ہے، زندگی بھر ہم اسی سے وابستہ رہیں گے اور اسی کو پیش آنے والے خطرات کیلئے ذخیرہ بنا کر رکھیں گے، یہی گواہی ایمان کی مضبوط بنیاد اور حسنِ عمل کا پہلا قدم اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ اور شیطان کی دوری کا سبب ہے۔
اس اقتباس سے واضح ہے کہ عقیدہ معبود برحق اور وحدہ لا شریک انسان کو ایمان کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور شیطان کہ رزائل سے محفوظ دور رکھتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی کچھ یوں دی ہے:
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ،اَرْسَلَهٗ بِالدِّیْنِ الْمَشْهُوْرِ، وَ الْعَلَمِ الْمَاْثُوْرِ، وَ الْكِتَابِ الْمَسْطُوْرِ، وَ النُّوْرِ السَّاطِعِ، وَ الضِّیَآءِ اللَّامِعِ، وَ الْاَمْرِ الصَّادِعِ، اِزَاحَةً لِّلشُّبُهَاتِ، وَ احْتِجَاجًۢا بِالْبَیِّنَاتِ، وَ تَحْذِیْرًۢا بِالْاٰیَاتِ، وَ تَخْوِیْفًۢا بِالْمَثُلَاتِ.
اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں، جنہیں شہرت یافتہ دین، منقول شدہ نشان، لکھی ہوئی کتاب، ضوفشاں نور، چمکتی ہوئی روشنی اور فیصلہ کن امر کے ساتھ بھیجا، تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے اور دلائل (کے زور) سے حجت تمام کی جائے، آیتوں کے ذریعے ڈرایا جائے اور عقوبتوں سے خوف زدہ کیا جائے۔
ایک مومن کا بعد از نبوت آئمہ ھدٰی پر ایمان لانا تکمیل دین کی علامت ہے جو کہ بعد از نبی ایسی شخصیات کی پیروی اور اطاعت حقائق دینی کو پہچاننے کا باعث ہیں اور دنیا و آخرت میں نجات کا وسیلہ ہیں۔ آئمہ اہل بیت ؑپر کسی عام انسان یا شخصیت کو قیاس نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ حجت ِخدا ہیں جن کی وجہ سے زمین و آسماں کا وجود اور کائنات باقی ہے۔ اہل بیتؑ کے بارے میں حضرتؑ فرماتے ہیں:
لَا یُقَاسُ بِاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ اَحَدٌ، وَ لَا یُسَوّٰى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَیْهِ اَبَدًا. هُمْ اَسَاسُ الدِّیْنِ، وَ عِمَادُ الْیَقِیْنِ، اِلَیْهِمْ یَفِیْٓءُ الْغَالِیْ وَ بِهِمْ یَلْحَقُ التَّالِیْ، وَ لَهُمْ خَصَآئِصُ حَقِّ الْوِلَایَةِ، وَ فِیْهِمُ الْوَصِیَّةُ وَ الْوِرَاثَةُ، اَلْاٰنَ اِذْ رَجَعَ الْحَقُّ اِلٰۤى اَهْلِهٖ، وَ نُقِلَ اِلٰى مُنْتَقَلِهٖ۔
اس اُمت میں کسی کو آلِ محمد علیہم السلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔ آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آ کر ملنا ہے۔ حق ولایت کی خصوصیات انھی کیلئے ہیں اور انھی کے بارے میں (پیغمبرؐ کی) وصیت اور انھی کیلئے (نبیؐ کی) وراثت ہے۔ اب یہ وقت وہ ہے کہ حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہو گیا۔
عترت نبیؐ کی پیروی کس قدر مہم اور ضروری ہے اور کس ذوق و شوق سے استفادہ کرنا چاہیے ؟ مزید یہ کہ ہدایت یافتہ اور مومن و شیعہ وہی ہیں جو پیرو آل محمدؑ ہیں ۔حضرتؑ نے فرمایا:
﴿فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ﴾ وَ ﴿اَنّٰی تُؤْفَكُوْنَ﴾! وَ الْاَعْلَامُ قَآئِمَةٌ،وَ الْاٰیَاتُ وَاضِحَةٌ، وَ الْمَنَارُ مَنْصُوْبَةٌ، فَاَیْنَ یُتَاهُ بِكُمْ؟ بَلْ كَیْفَ تَعْمَهُوْنَ وَ بَیْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِیِّكُمْ؟ وَ هُمْ اَزِمَّةُ الْحَقِّ، وَ اَعْلَامُ الدِّیْنِ، وَ اَلْسِنَةُ الصِّدْقِ! فاَنْزِلُوْهُمْ بِاَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْاٰنِ، وَ رِدُوْهُمْ وُرُوْدَ الْهِیْمِ الْعِطَاشِ.
اب تم کہاں جا رہے ہو؟ اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند، نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جا رہا ہے اور کیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو؟ جبکہ تمہارے نبی ﷺ کی عترتؑ تمہارے اندر موجود ہے جو حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں ہیں۔ جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہیں انھیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سر چشمہ ہدایت پر اترو۔
مذکورہ اقتباسات کی روشنی میں یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ مومن کی پہچان صرف دعویٰٔ ایمان سے نہیں بلکہ توحید، رسالت اور امامت پر راسخ و مخلص اعتقاد سے ہوتی ہے۔ حضرت امیرالمومنینؑ کے ارشادات واضح کرتے ہیں کہ کلمۂ توحید ایمان کی اساس، رسالت ہدایت کی تکمیل اور اہلِ بیتؑ کی ولایت دین کی بقا و نجات کا ضامن ہے۔ جو شخص امامِ حق کی پیروی اختیار کرتا اور ان کے اقوال و تعلیمات سے وابستہ رہتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے۔ اسی وابستگی میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور فکری و عملی استقامت مضمر ہے۔
حقیقی شیعہ کے عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ خدا کے حاضر ناظر ہونے پر ایمان رکھنا ہے کیوں کہ یہ وہ عقیدہ ہے جو انسان کو تمام طرز کی برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب انسان کسی اپنے جیسے عام انسان کے سامنے کسی غلط کاری کا مرتکب نہیں ہوتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جب اس کا یہ عقیدہ پختہ ہو اور وہ کسی غلطی کا مرتکب ہو۔ لہذا ایک حقیقی شیعہ اس عقیدے کی بنیاد پر اپنے حقیقی اور خلوص سے بھرپور ایمان کا ضامن بن جاتا ہے۔حضرت امیرؑ نے بھی اس عقیدے کی تاکید فرمائی ہے:
اٰمُرُهٗ بِتَقْوَی اللهِ فِیْ سَرَآئِرِ اَمْرِهٖ وَ خَفِیَّاتِ عَمَلِهٖ، حَیْثُ لَا شَهِیْدَ غَیْرُهٗ، وَ لَا وَكِیْلَ دُوْنَهٗ.
میں انھیں حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے پوشیدہ ارادوں اور مخفی کاموں میں اللہ سے ڈرتے رہیں، جہاں نہ اللہ کے علاوہ کوئی گواہ ہو گا اور نہ اس کے ما سوا کوئی نگران ہے۔
دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں جو بویا جائے گا وہی کاٹا جائے گا۔کسی مومن یا شیعہ کی عظیم کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہو لیکن یہ کامیابی اس سے بھی بڑھ کے ہےکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب قرار پائے اور یہی قرآنی فلسفہ بھی ہے اور صالحین کی دعا بھی۔نہج البلاغہ میں بھی اسی نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ حقیقی معنوں میں کامیاب وہی ہے جو دنیا میں رہ کر اس کی نعمتوں سے استفادہ کر ے اور آخرت کو بھی کامیاب بنائے ۔ محض دنیا کی خاطر آخرت کو برباد نہیں کرتے۔ملاحظہ فرمائیے:
وَ اعْلَمُوْا عِبَادَ اللهِ! اَنَّ الْمُتَّقِیْنَ ذَهَبُوْا بِعَاجِلِ الدُّنْیَا وَ اٰجِلِ الْاٰخِرَةِ، فَشَارَكُوْۤا اَهْلَ الدُّنْیَا فِیْ دُنْیَاهُمْ، وَ لَمْ يُشَارِكْهُمْ اَهْلُ الدُّنْیَا فِیْۤ اٰخِرَتِهِمْ، سَكَنُوا الدُّنْیَا بِاَفْضَلِ مَا سُكِنَتْ، وَ اَكَلُوْهَا بِاَفْضَلِ مَاۤ اُكِلَتْ، فَحَظُوْا مِنَ الدُّنْیَا بِمَا حَظِیَ بِهِ الْمُتْرَفُوْنَ، وَاَخَذُوْا مِنْهَا مَاۤ اَخَذَهُ الْجَبَابِرَةُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ، ثُمَّ انْقَلَبُوْا عَنْهَا بِالزَّادِ الْمُبَلِّغِ، وَالْمَتْجَرِ الرَّابِحِ، اَصَابُوْا لَذَّةَ زُهْدِ الدُّنْیَا فِیْ دُنْیَاهُمْ، وَ تَیَقَّنُوْۤا اَنَّهُمْ جِیْرَانُ اللهِ غَدًا فِیْۤ اٰخِرَتِهِمْ، لَا تُرَدُّ لَهُمْ دَعْوَةٌ، وَ لَا یَنْقُصُ لَهُمْ نَصِیبٌ مِّنْ لَّذَّةٍ.
خدا کے بندو! تمہیں جاننا چاہیے کہ پرہیز گاروں نے جانے والی دنیا اور آنے والی آخرت دونوں کے فائدے اٹھائے۔ وہ دنیا والوں کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک رہے، مگر دنیا دار ان کی آخرت میں حصہ نہ لے سکے۔ وہ دنیا میں بہترین طریقہ پر رہے اور اچھے سے اچھا کھایا اور اس طرح وہ ان تمام چیزوں سے بہرہ یاب ہوئے جو عیش پسند لوگوں کو حاصل تھیں اور وہ سب کچھ حاصل کیا کہ جو سرکش و متکبر لوگوں کو حاصل تھا۔ پھر وہ منزل مقصود پر پہنچانے والے زاد کا سر و سامان اور نفع کا سودا کر کے دنیا سے روانہ ہوئے۔ انہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے ترک دنیا کی لذت چکھی اور یہ یقین رکھا کہ وہ کل اللہ کے پڑوس میں ہوں گے، جہاں نہ ان کی کوئی آواز ٹھکرائی جائے گی، نہ ان کے حظ و نصیب میں کمی ہو گی۔
عباداتِ شیعۂ علی علیہ السلام
مومنین کے لیے بندگیِ خداوند کریم ان کی زندگی کا اہم مقصد اور ہدف ہوا کرتا ہےکیوں کہ اللہ تعالی نے بھی قران مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے خلق کیا ہے۔ مومنین بارگاہ خداوندی میں ایسے لطف حاصل کرتے ہیں جیسے مچھلی پانی میں۔شب روز عبادت میں گزارتے ہیں بلکہ ان کا کوئی بھی فعل معصیت کاری پر مبنی نہیں ہوتا ۔وہ ہر حال میں خوشنودی خدا کے متمنی ہوتے ہیں۔شب زندہ دار ہونے کے باوجود انھیں یہ بدگمانی رہتی ہے کہ وہ حقِ بندگی ادا نہیں کر سکے بقول مرزا غالب:
جاں دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
حضرتؑ نے بھی حقیقی شیعہ کے خصائص میں ایک یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کے باوجود اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ حق ادا نہیں کر سکا:
وَ اعْلَمُوْا ـ عِبَادَ اللهِ! ـ اَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یُمْسِیْ وَ لَا یُصْبِـحُ اِلَّا وَ نَفْسُهٗ ظَنُوْنٌ عِنْدَهُ، فَلَا یَزَالُ زَارِیًا عَلَیْهَا وَ مُسْتَزِیْدًا لَهَا. فَكُوْنُوْا كَالسَّابِقِیْنَ قَبْلَكُمْ، وَ الْمَاضِیْنَ اَمَامَكُمْ. قَوَّضُوْا مِنَ الدُّنْیَا تَقْوِیْضَ الرَّاحِلِ، وَ طَوَوْهَا طَیَّ الْمَنَازِلِ.
اللہ کے بند و! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مومن (زندگی کے) صبح وشام میں اپنے نفس سے بد گمان رہتا ہے اور اس پر (کوتاہیوں کا) الزام لگاتا ہے اور اس سے (عبادتوں میں) اضافہ کا خواہشمند رہتا ہے۔ تم ان لوگوں کی طرح بنو کہ جو تم سے پہلے آگے بڑھ چکے ہیں اور تمہارے قبل اس راہ سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے یوں اپنا رخت ِسفر باندھا جس طرح مسافر اپنا ڈیرا اٹھا لیتا ہے اور دنیا کو اس طرح طے کیا جس طرح (سفر کی ) منزلوں کو۔
حقیقی شیعہ اعمال صالح کے باوجود خائف رہتا ہے اور جب عبادتِ خداوندی میں رات گزار بیٹھتا ہے تو صبح خوشی بھی محسوس کرتا ہے۔ خائف اس لیے کہ حقِ بندگی ادا نہ ہوا اور خوش اس لیے کہ خدا نے اسے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ وہ غفلت کا مرتکب ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہوتا اور اور اس کا خدا سے وہ ناطہ قائم ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس کو توڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔وہ خوشنودی خدا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے:
یَعْمَلُ الْاَعْمَالَ الصَّالِحَةَ وَ هُوَ عَلٰی وَجَلٍ، یُمْسِیْ وَ هَمُّهُ الشُّكْرُ، وَ یُصْبِحُ وَ هَمُّهُ الذِّكْرُ. یَبِیْتُ حَذِرًا، وَ یُصْبِحُ فَرِحًا، حَذِرًا لِمَا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ، وَ فَرِحًۢا بِمَاۤ اَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ وَ الرَّحْمَةِ. اِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَیْهِ نَفْسُهٗ فِیْمَا تَكْرَهُ لَمْ یُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِیْمَا تُحِبُّ. قُرَّةُ عَیْنِهٖ فِیْمَا لَا یَزُوْلُ، وَ زَهَادَتُهٗ فِیْمَا لَا یَبْقٰی، یَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمَ، وَ الْقَوْلَ بِالْعَمَلِ.
وہ نیک اعمال بجا لانے کے باوجود خائف رہتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو اس کے پیش نظر اللہ کا شکر اور صبح ہوتی ہے تو اس کا مقصد یاد خدا ہوتا ہے۔ رات خوف و خطر میں گزارتا ہے اور صبح کو خوش اٹھتا ہے۔ خطرہ اس کا کہ رات غفلت میں نہ گزر جائے اور خوشی اس فضل و رحمت کی دولت پر جو اسے نصیب ہوئی ہے۔ اگر اس کا نفس کسی ناگوار صورت حال کے برداشت کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کی من مانی خواہش کو پورا نہیں کرتا۔ جاودانی نعمتوں میں اس کیلئے آنکھوں کا سرور ہے اور دارِ فانی کی چیزوں سے بے تعلقی و بیزاری ہے۔ اس نے علم میں حلم اور قول میں عمل کو سمو دیا ہے۔
عباداتِ مومن سے یہاں مراد اطاعتِ خداوندی جو مستحبات اور واجبات کی ادائیگی کی صورت میں انجام پاتی ہے ۔واجبات، مومن تو کیا ہر شخص کے لیے ضروری ہیں۔یعنی نماز روزہ حج زکوۃ اور دیگر واجبات دینی وغیرہ۔ان واجبات میں سے ایک واجب کی قران میں بارہا تاکید فرمائی گئی ہے، وہ نماز ہے۔ حضرتؑ نے بھی اپنے عاملین اور شیعوں کو وقت پر نماز کی ادائیگی کا حکم دیا اور ہر عمل نماز کے تابع قرار دیا:
صَلِّ الصَّلٰوةَ لِوَقْتِهَا الْمُوَقَّتِ لَهَا، وَ لَا تُعَجِّلْ وَقْتَهَا لِفَرَاغٍ، وَ لَا تُؤْخِّرْهَا عَنْ وَّقْتِهَا لِاشْتِغَالٍ، وَ اعْلَمْ اَنَّ كُلَّ شَیْءٍ مِّنْ عَمَلِكَ تَبَعٌ لِّصَلٰوتِكَ.
نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا اور فرصت ہونے کی وجہ سے قبل از وقت نہ پڑھ لینا اور نہ مشغولیت کی وجہ سے اسے پیچھے ڈال دینا۔ یاد رکھو کہ تمہارا ہر عمل نماز کے تابع ہے۔
مزید برآں فرمایا:
تَعَاهَدُوْۤا اَمْرَ الصَّلٰوةِ، وَ حَافِظُوْا عَلَیْهَا، وَ اسْتَكْثِرُوْا مِنْهَا، وَ تَقَرَّبُوْا بِهَا، فَاِنَّهَا (كَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا.)
نماز کی پابندی اور اس کی نگہداشت کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ بجا لاؤ اور اس کے ذریعہ سے اللہ کا تقرب چاہو، کیوں کہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ واجب کی گئی ہے۔
شیعان علیؑ ہر وقت بندگی خدا میں صرف کرتے ہیں ۔کبھی رکوع میں، تو کبھی سجود میں ،کبھی زکوۃ ادا کر کے، تو کبھی قران مجید کی تلاوت سے اپنے دلوں کو منور کرتے ہیں۔ اپنی محافل کو قران مجید سے سجاتے ہیں اور قران کو اس انداز میں پڑھتے ہیں جو پڑھنے کا بہترین اور مناسب ڈھنگ ہے۔محض عبادات خداوندی میں کود نہیں پڑھتے بلکہ ان کے مفاہیم اور مطالب کو سمجھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ قران مجید سے اپنی مشکلات غم و اندوہ کا حل بھی ڈھونڈتے ہیں۔مومنین کے قرآن سے دائمی تعلق کو حضرتؑ نے یوں موضوع بنایا ہے:
اَمَّا اللَّیْلَ فَصَافُّوْنَ اَقْدَامَهُمْ، تَالِیْنَ لِاَجْزَآءِ الْقُرْاٰنِ یُرَتِّلُوْنَهٗ تَرْتِیْلًا، یُحَزِّنُوْنَ بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ، وَ یَسْتَثِیْرُوْنَ بِهٖ دَوَآءَ دَآئِهِمْ،
رات ہوتی ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے ہیں، جس سے اپنے دلوں میں غم و اندوہ تازہ کرتے ہیں اور اپنے مرض کا چارہ ڈھونڈتے ہیں۔
معاملاتِ شیعۂ علی علیہ السلام
نہج البلاغہ کی تعلیمات کے مطابق مومن کے معاملات صرف دنیاوی لین دین تک محدود نہیں بلکہ وہ اس کے باطنی ایمان اور تقویٰ کا عملی اظہار ہوتے ہیں۔ مومن خرید و فروخت، وعدہ و پیمان، معاشرتی تعلقات اور حکومتی ذمہ داریوں میں صداقت اور انصاف کو ملحوظ رکھتا ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، حقوق العباد کا خیال رکھتا ہے اور اپنے ذاتی مفاد پر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیتا ہے۔اسی تناظر میں “معاملاتِ مومن” کا مطالعہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ایمان محض قلبی کیفیت نہیں بلکہ عملی زندگی میں عدل، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ایک زندہ اور متحرک نظام ہے، جس کی جامع رہنمائی نہج البلاغہ میں ملتی ہے۔
مومنین کے معاملات اور اوقات کارکو اگر مد نظر رکھا جائے تو وہ اپنے اوقات کار میں انجام دینے والے ہر طرح کے امور میں اطاعت پروردگار کو اولیت دیتے ہیں یہی سبب ہے کہ ان کا ہر امر خوشنودی اور خدا قرب الہیٰ کے لیے ہوتا ہے ۔مومنین اپنے اوقات کار کو کس طرح تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:
لِلْمُؤْمِنِ ثَلَاثُ سَاعَاتٍ: فَسَاعَةٌ یُّنَاجِیْ فِیْهَا رَبَّهٗ، وَ سَاعَةٌ یَّرُمُّ مَعَاشَهٗ، وَ سَاعَةٌ یُّخَلِّیْ بَیْنَ نَفْسِهٖ وَ بَیْنَ لَذَّتِهَا فِیْمَا یَحِلُّ وَ یَجْمُلُ.
مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں: ایک وہ کہ جس میں اپنے پروردگار سے رازو نیاز کی باتیں کرتا ہے۔ اور ایک وہ جس میں اپنے معاش کا سر و سامان کرتا ہے۔ اور ایک وہ کہ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔
صداقت اور ایفائے عہد،معاملات ِ مومنین کا بنیادی اصول ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:
اِنَّ الْوَفَآءَ تَوْاَمُ الصِّدْقِ، وَ لَاۤ اَعْلَمُ جُنَّةً اَوْقٰی مِنْهُ
وفائے عہد اور سچائی دونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے اور میرے علم میں اس سے بڑھ کر حفاظت کی اور کوئی سپر نہیں۔
مومن کے لین دین کی بنیاد سچائی پر ہوتی ہے۔ وہ خرید و فروخت، قرض اور وعدوں میں کسی قسم کی خیانت یا دھوکہ دہی کو روا نہیں رکھتا۔
عہدنامہ مالک اشتر، خط 53میں ناپ تول کی کمی کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں:
”وَلْيَكُنِ الْبَيْعُ بَيْعًا سَمْحًا بِمَوَازِينِ عَدْلٍ“ خرید و فروخت نرمی اور عدل کے ترازو کے ساتھ ہونی چاہیے۔
یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ اسلامی معاشرہ عدل پر قائم ہوتا ہے اور مومن کو ناپ تول میں انصاف کا پابند ہونا چاہیے۔
امانت کی ادائیگی کے بارے میں آپؑ نے فرمایا:
ثُمَّ اَدَآءَ الْاَمَانَةِ، فَقَدْ خَابَ مَنْ لَّیْسَ مِنْ اَهْلِهَا،
پھر امانت کا ادا کرنا ہے۔ جو اپنے کو امانت کا اہل نہ بنا سکے وہ ناکام و نامراد ہے۔
مزید فرمایا:
لَا یُضَیِّـعُ مَا اسْتُحْفِظَ (امانت کو ضائع و برباد نہیں کرتا)۔
یہ حکم عمومی ہے اور مالی معاملات میں خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔
اسراف اور بخل سے اجتناب حقیقی شیعہ کی پہچان ہوا کرتی ہے، فرمایا:
"فَدَعِ الْاِسْرَافَ مُقْتَصِدً (میانہ روی اختیار کرتے ہوئے فضول خرچی سے باز آؤ)۔
یہ قول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومن نہ فضول خرچی کرتا ہے اور نہ بخل؛ بلکہ اعتدال اور ہمدردی اختیار کرتا ہے۔
حلال روزی کی اہمیت کے متعلق آپؑ فرماتے ہیں:
وَ طَلَبًا فِیْ حَلَالٍ (طلب رزق میں حلال پر نظر (رکھتے ہیں))
یہ تعلیم معاشی مساوات اور حلال و پاکیزہ معیشت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
حرام سے شدید اجتناب کے حکم کے ساتھ ساتھ آسانیوں کے راستے بھی واضح کیے گئے کہ حلال کی راہیں حرام سے کہیں زیادہ اور وسیع ہیں لہذا انسان کو چاہیے کہ حرام خوری اور حرام کاری کی بجائے حلال کی راہ پر گامزن رہے:
اِنَّ الَّذِیْۤ اُمِرْتُمْ بِهٖۤ اَوْسَعُ مِنَ الَّذِیْ نُهِیْتُمْ عَنْهُ، وَ مَاۤ اُحِلَّ لَكُمْ اَكْثَرُ مِمَّا حُرِّمَ عَلَیْكُمْ، فَذَرُوْا مَا قَلَّ لِمَا كَثُرَ، وَ مَا ضَاقَ لِمَا اتَّسَعَ.
جن چیزوں کا خدا نے تم کو حکم دیا ہے (اور تمہارے لئے جائز رکھی ہیں) ان کا دامن ان چیزوں سے کہیں وسیع ہے جن سے روکا ہے اور حرام کی ہوئی چیزوں سے حلال چیزیں کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا زیادہ چیزوں کی وجہ سے کم چیزوں کو چھوڑ دو، اور تنگنائے حرام سے نکل کر حلال کی وسعتوں میں آ جاؤ۔
انسانوں میں سے بدترین وہ ہے جو اپنے معاملات کو معتدل اور متوازن نہیں رکھتا بلکہ اس میں افراط و تفریط کا شکار رہتا ہے۔ معاملات میں بدیانتی کا مظاہرہ کرنے والا شخص روز محشر سب سے بد نصیب ہوگا۔ اس کے مد مقابل فریق فقراء، نادار، قرض دار اور مسافر ہوں گے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:
وَبُؤْسًا لِّمَنْ -خَصْمُهٗ عِنْدَ اللهِ – الْفُقَرَآءُ وَ الْمَسَاكِیْنُ وَ السَّآئِلُوْنَ وَ الْمَدْفُوْعُوْنَ وَ الْغَارِمُ وَ ابْنُ السَّبِیْلِ!
وائے بدبختی! اس شخص کی جس کے خلاف اللہ کے حضور فریق بن کر کھڑے ہونے والے فقیر، نادار، سائل، دھتکارے ہوئے لوگ، قرض دار اور (بے خرچ) مسافر ہوں۔
خصائص شیعۂ علی علیہ السلام
خصائص مومنین یا حقیقی شیعہ بنیادی طور پر مذکورہ بالا تمام خصائص کا مجموعہ ہے لیکن موضوع کی نزاکت کے پیش نظر درجہ بندی بنیادی خصائص کا تعین کرنے میں معاون رہے گی۔ عبادات مومن، کمالات مومن، معاملات مومن اور اخلاقیات مومن سبھی خصائص مومنین اور شیعان علی کے خصائص ہیں۔ نہج البلاغہ میں کوئی خطبہ، کوئی کلمہ ایسا نہیں ہے جس میں مومنین کے خصائص کو موضوع نہ بنایا گیا ہو۔
حقیقی شیعہ علیؑ اور مومن کی اولین خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھدار اور باشعور ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر سمجھداری اور عقل مندی کی کوئی بات کسی منافق کے سینے کا حصہ ہو تو وہ مومن کے قلب کو منتقل ہونے کے لیے بے چین رہتی ہے کیوں کہ ہر عمدہ بات کا اصل مقام قلب مومن ہے۔ وہ منافق کے پاس اگر ہو بھی تو وہ اس وقت مضطرب رہتی ہے جب تک کہ وہ مومن کو منتقل نہ ہو جائے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:
خُذِ الْحِكْمَةَ اَنّٰى كَانَتْ، فَاِنَّ الْحِكْمَةَ تَكُوْنُ فِیْ صَدْرِ الْمُنَافِقِ، فَتَلَجْلَجُ فِیْ صَدْرِهٖ حَتّٰى تَخْرُجَ، فَتَسْكُنَ اِلٰى صَوَاحِبِهَا فِیْ صَدْرِ الْمُؤْمِنِ.
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو اسے حاصل کرو، کیوں کہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے، لیکن جب تک اس (کی زبان) سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسری حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی، تڑپتی رہتی ہے۔
مزید فرمایا:
اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَخُذِ الْحِكْمَةَ وَ لَوْ مِنْ اَهْلِ النِّفَاقِ.
حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے، اسے حاصل کرو، اگرچہ منافق سے لینا پڑے۔
مومن غفلت کی زندگی گزارنا پسند نہیں کرتا بلکہ عام سے عام چیز اور دنیا میں ہر وقت چیزوں کو عبرت سے دیکھتا ہے۔ اپنی ضروریات کا ضرورت سے زیادہ خیال نہیں کرتا۔سادہ زندگی اس کے کمالات کا اہم خاصہ ہے۔حضرت ؑنے فرمایا:
وَ اِنَّمَا يَنْظُرُ الْمُؤْمِنُ اِلَى الدُّنْيَا بِعَيْنِ الْاِعْتِبَارِ، وَ يَقْتَاتُ مِنْهَا بِبَطْنِ الْاِضْطِرَارِ
مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے۔
مومنین سے بڑھ کامیابی کسی کا مقدر نہیں بن سکتی۔ قرآن میں بھی مومنین کو کامیاب اور شاد کام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ایک خطبے خوابیدہ مومنین کو نجات پانے والوں میں سے قرار دیا ہے۔ صاحب کلام امیر المومنین (شرح) لکھا ہے کہ خوابیدہ مومنین سے مراد وہ مومنین ہیں جو شہرت طلبی اور ناموری کے لیے تگ و دو نہیں کرتے بلکہ گوشۂ گمنامی میں پیروی محمد و ال محمدؑ میں زندگی بسر کرتے ہیں کیوں کہ ایک دور آئے گا بلکہ ہر دور میں جب مشہور مومنین کو راستے سے ہٹا دیا جائے گا یا انھیں لالچ دے کر خرید لیا جائے گا۔ گمنام اس لیے صاحب نجات ہوگا کیوں کہ اس پر کسی کی نظر نہیں ہوگی اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ حضرت امیرؑ نے ارشاد فرمایا:
وَذٰلِكَ زَمَانٌ لَّا یَنْجُوْ فِیْهِ اِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُّوَمَةٍ، اِنْ شَهِدَ لَمْ یُعْرَفْ، وَ اِنْ غَابَ لَمْ یُفْتَقَدْ، اُولٰٓئِكَ مَصَابِیْحُ الْهُدٰی، وَ اَعْلَامُ السُّرٰی، لَیْسُوْا بِالْمَسَایِیْحِ، وَ لَا الْمَذَایِیْعِ الْبُذُرِ، اُولٰٓئِكَ یَفْتَحُ اللهُ لَهُمْ اَبْوَابَ رَحْمَتِهٖ، وَ یَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّآءَ نِقْمَتِهٖ.
وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ جس میں وہ خوابیدہ مومن ہی بچ کر نکل سکے گا کہ جو سامنے آنے پر جانا پہچانا نہ جائے اور نگاہ سے اوجھل ہونے پر اسے ڈھونڈھا نہ جائے۔ یہی لوگ تو ہدایت کے جگمگاتے چراغ اور شب پیمائیوں میں روشن نشان ہیں۔ نہ وہ اِدھر اُدھر کچھ کا کچھ لگاتے پھرتے ہیں، نہ لوگوں کی برائیاں اچھالتے ہیں اور نہ ان کے راز فاش کرتے ہیں۔ اللہ انھی لوگوں کیلئے رحمت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے اپنے عذاب کی سختیاں دور رکھے گا۔
شیعہ علیؑ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قوم قبیلے سے معاونت کرے، صلہ رحمی کا مظاہرہ کرے۔ صلہ رحمی کے دیگر مفادات کے ساتھ ساتھ چند مفاد حضرتؑ نے بھی بیان کیےہیں:
اَلَا لَا یَعْدِلَنَّ اَحَدُكُمْ عَنِ الْقَرَابَةِ یَرٰى بِهَا الْخَصَاصَةَ اَنْ یَّسُدَّهَا بِالَّذِیْ لَا یَزِیْدُهٗ اِنْ اَمْسَكَهٗ وَ لَا یَنْقُصُهٗ اِنْ اَهْلَكَهٗ، وَ مَنْ یَّقْبِضْ یَدَهٗ عَنْ عَشِیْرَتِهٖ، فَاِنَّمَا تُقْبَضُ مِنْهُ عَنْهُمْ یَدٌ وَّاحِدَةٌ، وَ تُقْبَضُ مِنْهُمْ عَنْهُ اَیْدٍ كَثِیْرَةٌ، وَ مَنْ تَلِنْ حَاشِیَتُهٗ یَسْتَدِمْ مِنْ قَوْمِهِ الْمَوَدَّةَ.
دیکھو تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائے تو ان کی احتیاج کو اس امداد سے دور کرنے میں پہلو تہی نہ کرے جس کے روکنے سے یہ کچھ بڑھ نہ جائے گا اور صرف کرنے سے اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ جو شخص اپنے قبیلے کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے تو اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت پڑنے پر بہت سے ہاتھ اس کی مدد سے رُک جاتے ہیں۔ جو شخص نرم خو ہو وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔
ہر صاحب ایمان یہ یقین رکھتا ہے کہ کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ابدی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے ۔ وہ موت کی یاد کی افادیت سے بھی آگاہ ہے اس لیے کثرت سے موت کو یاد رکھتا ہے:
یَا بُنَیَّ! اَكْثِرْ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ، وَ ذِكْرِ مَا تَهْجُمُ عَلَیْهِ، وَ تُفْضِیْ بَعْدَ الْمَوْتِ اِلَیْهِ، حَتّٰى یَاْتِیَكَ وَ قَدْ اَخَذْتَ مِنْهُ حِذْرَكَ، وَ شَدَدْتَّ لَهٗۤ اَزْرَكَ، وَ لَا یَاْتِیَكَ بَغْتَةً فَیَبْهَرَكَ.
اے فرزند! موت کو اور اس منزل کو جس پر تمہیں اچانک وارد ہونا ہے اور جہاں موت کے بعد پہنچنا ہے ہر وقت یاد رکھنا چاہیے تاکہ جب وہ آئے تو تم اپنا حفاظتی سرو سامان مکمل اور اس کیلئے اپنی قوت مضبوط کر چکے ہو اور وہ اچانک تم پر نہ ٹوٹ پڑے کہ تمہیں بے دست و پا کر دے۔
مومن لالچ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ حقائق کو پیش نظر رکھتا ہے:
اِیَّاكَ اَنْ تَغْتَرَّ بِمَا تَرٰى مِنْ اِخْلَادِ اَهْلِ الدُّنْیَا اِلَیْهَا، وَ تَكَالُبِهِمْ عَلَیْهَا۔
خبردار تمہیں طمع و حرص کی تیز رو سواریاں ہلاکت کے گھاٹ پر نہ لا اتاریں۔
اخلاقیاتِ شیعۂ علی علیہ السلام
اخلاقیات، انسانی کمالات کا سب سے بڑا وصف ہے۔ یہاں تک کہ رسول خدا نے خود کو معلم اخلاق قرار دیا۔اخلاقیات ایک ایسا مضمون ہے جس پر عمل ہے پیرا ہو کے دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے اور دوسروں کے لیےآسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔یہ الٰہی حکم بھی ہے، اسلامی اصول بھی اور سماجی قانون بھی اس کے بغیر انسان اور حیوان کی تفریق بہت مشکل ہو جاتی ہے۔حضرت امیرؑ نے انسانی اخلاقیات کو کچھ یوں پیش کیا ہے:
اَلْمُؤْمِنُ بِشْرُهٗ فِیْ وَجْهِهٖ، وَ حُزْنُهٗ فِیْ قَلْبِهٖ، اَوْسَعُ شَیْءٍ صَدْرًا، وَ اَذَلُّ شَیْءٍ نَفْسًا، یَكْرَهُ الرِّفْعَةَ، وَ یَشْنَاُ السُّمْعَةَ، طَوِیْلٌ غَمُّهٗ، بَعِیْدٌ هَمُّهٗ، كَثِیْرٌ صَمْتُهٗ، مَشْغُوْلٌ وَّقْتُهٗ، شَكُوْرٌ صَبُوْرٌ، مَغْمُوْرٌۢ بِفِكْرَتِهٖ، ضَنِیْنٌۢ بِخَلَّتِهٖ، سَهْلُ الْخَلِیْقَةِ، لَیِّنُ الْعَرِیْكَةِ! نَفْسُهٗۤ اَصْلَبُ مِنَ الصَّلْدِ، وَ هُوَ اَذَلُّ مِنَ الْعَبْدِ.
مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل و خوار سمجھتا ہے۔ سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے۔ اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش، ہمہ وقت مشغول، شاکر، صابر، فکر میں غرق، دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور وہ خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔
یہ اقتباس نہج البلاغہ میں مومن کی اخلاقی شخصیت کا جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ خوش اخلاق اور نرم مزاج ہے مگر اندر سے ذمہ داری کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کا ظرف وسیع اور نفس منکسر ہوتا ہے؛ تکبر اور شہرت سے نفرت کرتا ہے۔ وہ کم گو اور باعمل ہے، وقت کو مفید کاموں میں صرف کرتا ہے۔ شکر اور صبر اس کی نمایاں صفات ہیں، جو اسے حالات میں متوازن رکھتے ہیں۔ وہ اصولوں میں مضبوط مگر برتاؤ میں نرم ہوتا ہے۔ اپنی ذات کو کمتر سمجھتا ہے مگر کردار میں چٹان کی طرح ثابت قدم رہتا ہے۔ یہی اوصاف مومن کی اعلیٰ اخلاقیات کی علامت ہیں۔
ایک اور وصیت نامے میں حضرت امیرؑ نے اخلاقیات کے چند پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے:
وَ تَلَافِیْكَ مَا فَرَطَ مِنْ صَمْتِكَ اَیْسَرُ مِنْ اِدْرَاكِكَ مَا فَاتَ مِنْ مَّنْطِقِكَ، وَ حِفْظُ مَا فِی الْوِعَآءِ بِشَدِّ الْوِكَآءِ، وَ حِفْظُ مَا فِیْ یَدَیْكَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ طَلَبِ مَا فِیْ یَدَیْ غَیْرِكَ، وَ مَرَارَةُ الْیَاْسِ خَیْرٌ مِّنَ الطَّلَبِ اِلَى النَّاسِ، وَ الْحِرْفَةُ مَعَ الْعِفَّةِ خَیْرٌ مِّنَ الْغِنٰى مَعَ الْفُجُوْرِ، وَ الْمَرْءُ اَحْفَظُ لِسِرِّهٖ، وَ رُبَّ سَاعٍ فِیْمَا یَضُرُّهٗ، مَنْ اَكْثَرَ اَهْجَرَ، وَ مَنْ تَفَكَّرَ اَبْصَرَ، قَارِنْ اَهْلَ الْخَیْرِ تَكُنْ مِّنْهُمْ، وَبَایِنْ اَهْلَ الشَّرِّ تَبِنْ عَنْهُمْ، بِئْسَ الطَّعَامُ الْحَرَامُ، وَ ظُلْمُ الضَّعِیْفِ اَفْحَشُ الظُّلْمِ، اِذَا كَانَ الرِّفْقُ خُرْقًاكَانَ الْخُرْقُ رِفْقًا، رُبَّمَا كَانَ الدَّوَآءُ دَآءً وَ الدَّآءُ دَوَآءً، وَ رُبَّمَا نَصَحَ غَیْرُ النَّاصِحِ وَ غَشَّ الْمُسْتَنْصَحُ.
بے محل خاموشی کا تدارک بے موقعہ گفتگو سے آسان ہے، برتن میں جو ہے اس کی حفاظت یونہی ہو گی کہ منہ بند رکھو اور جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو محفوظ رکھنا دوسروں کے آگے دست ِطلب بڑھانے سے مجھے زیادہ پسند ہے، یاس کی تلخی سہ لینا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے، پاک دامانی کے ساتھ محنت مزدوری کر لینا فسق و فجور میں گھری ہوئی دولت مندی سے بہتر ہے، انسان خود ہی اپنے راز کو خوب چھپا سکتا ہے، بہت سے لوگ ایسی چیز کیلئے کوشاں ہوتے ہیں جو ان کیلئے ضرر رساں ثابت ہوتی ہے، جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے، سوچ بچار سے قدم اٹھانے والا (صحیح راستہ) دیکھ لیتا ہے، نیکوں سے میل جول رکھو گے تو تم بھی نیک ہو جاؤ گے، بُروں سے بچے رہو گے تو ان (کے اثرات) سے محفوظ رہو گے، بد ترین کھانا وہ ہے جو حرام ہو اور بد ترین ظلم وہ ہے جو کسی کمزور و ناتواں پر کیا جائے، جہاں نرمی سے کام لینا نامناسب ہو وہاں سخت گیری ہی نرمی ہے، کبھی کبھی دوا بیماری اور بیماری دوا بن جایا کرتی ہے، کبھی بدخواہ بھلائی کی راہ سوجھا دیا کرتا ہے اور دوست فریب دے جاتا ہے۔
مزید فرمایا:
فَالْمُتَّقُوْنَ فِیْهَا هُمْ اَهْلُ الْفَضَآئِلِ: مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ، وَ مَلْبَسُهُمُ الْاِقْتِصَادُ، وَ مَشْیُهُمُ التَّوَاضُعُ. غَضُّوْا اَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِمْ، وَ وَقَفُوْا اَسْمَاعَهُمْ عَلَی الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ. نُزِّلَتْ اَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِی الْبَلَآءِ كَالَّتِیْ نُزِّلَتْ فِی الرَّخَآءِ. وَ لَوْلَا الْاَجَلُ الَّذِیْ كَتَبَ اللهُ لَھُمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ اَرْوَاحُهُمْ فِیْۤ اَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ، شَوْقًا اِلَی الثَّوَابِ، وَ خَوْفًا مِّنَ الْعِقَابِ.
چنانچہ فضیلت ان کیلئے ہے جو پرہیزگار ہیں کیوں کہ ان کی گفتگو جچی تلی ہوئی، پہناوا میانہ روی اور چال ڈھال عجز و فروتنی ہے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور فائدہ مند علم پر کان دھر لئے ہیں۔ ان کے نفس زحمت و تکلیف میں بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و آسائش میں۔ اگر (زندگی کی مقررہ) مدت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کیلئے لکھ دی ہے تو ثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کیلئے بھی نہ ٹھہرتیں۔
شیعانِ علیؑ کی اخلاقیات پر مزید روشنی ڈالی ہے:
اِنْ صَمَتَ لَمْ یَغُمَّهٗ صَمْتُهٗ، وَ اِنْ ضَحِكَ لَمْ یَعْلُ صَوْتُهٗ، وَ اِنْۢ بُغِیَ عَلَیْهِ صَبَرَ حَتّٰی یَكُوْنَ اللهُ هُوَ الَّذِیْ یَنْتَقِمُ لَهٗ. نَفْسُهُ مِنْهُ فِیْ عَنَآءٍ، وَ النَّاسُ مِنْهُ فِیْ رَاحَةٍ. اَتْعَبَ نَفْسَهٗ لِاٰخِرَتِهٖ، وَ اَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَّفْسِهٖ.
اگر چپ سادھ لیتا ہے تو اس خاموشی سے اس کا دل نہیں بجھتا اور اگر ہنستا ہے تو آواز بلند نہیں ہوتی۔ اگر اس پر زیادتی کی جائے تو سہ لیتا ہے، تاکہ اللہ ہی اس کا انتقام لے۔ اس کا نفس اس کے ہاتھوں مشقت میں مبتلا ہے اور دوسرے لوگ اس سے امن و راحت میں ہیں۔ اس نے آخرت کی خاطر اپنے نفس کو زحمت میں اور خلق خدا کو اپنے نفس (کے شر) سے راحت میں رکھا ہے ۔
مومن متکبر نہیں بلکہ عاجز ہوتا ہے:
بُعْدُهٗ عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْهُ زُهْدٌ وَّ نَزَاهَةٌ، وَ دُنُوُّهٗ مِمَّنْ دَنَا مِنَهُ لِیْنٌ وَّ رَحْمَةٌ، لَیْسَ تَبَاعُدُهٗ بِكِبْرٍ وَّ عَظَمَةٍ، وَ لَا دُنُوُّهٗ بِمَكْرٍ وَّ خَدِیْعَةٍ.
جن سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ زہد و پاکیزگی کیلئے ہوتی ہے اور جن سے قریب ہوتا ہے تو یہ خوش خلقی و رحم دلی کی بنا پر ہے۔ نہ اس کی دوری غرور و کبر کی وجہ سے اور نہ اس کا میل جول کسی فریب اور مکر کی بنا پر ہوتا ہے۔
تکبر ایک قبیح فعل ہے۔ اس کا حق اللہ تعالیٰ کی مقدس شخصیات یعنی انبیاؑء و رسل کو بھی نہیں تو عام انسان کو کیسے حق ہے:
فَلَوْ رَخَّصَ اللهُ فِی الْكِبْرِ لِاَحَدٍ مِّنْ عِبَادِهٖ لَرَخَّصَ فِیْهِ لِخَاصَّةِ اَنْۢبِیَآئِهٖ وَ اَوْلِیَآئِهٖ، وَ لٰكِنَّهٗ سُبْحَانَهٗ كَرَّهَ اِلَیْهِمُ التَّكَابُرَ، وَ رَضِیَ لَهُمُ التَّوَاضُعَ
اگر خداوند عالم اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو بھی کبر و رعونت کی اجازت دے سکتا ہوتا تو وہ اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو اس کی اجازت دیتا، لیکن اس نے ان کو کبر و غرور سے بیزار ہی رکھا اور ان کیلئے عجز و مسکنت ہی کو پسند فرمایا۔
مومن کے ظاہر و باطن میں تضاد نہیں ہوتا۔حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس خصوصیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
وَ اٰمُرُهٗ اَنْ لَّا یَعْمَلَ بِشَیْءٍ مِّنْ طَاعَةِ اللهِ فِیْمَا ظَهَرَ فَیُخَالِفَ اِلٰی غَیْرِهٖ فِیْمَاۤ اَسَرَّ، وَمَنْ لَمْ یَخْتَلِفْ سِرُّهٗ وَ عَلَانِیَتُهٗ، وَفِعْلُهٗ وَ مَقَالَتُهٗ، فَقَدْ اَدَّی الْاَمَانَةَ، وَاَخْلَصَ الْعِبَادَةَ.
اور انھیں حکم دیتا ہوں کہ وہ ظاہر میں اللہ کا کوئی ایسا فرمان بجا نہ لائیں کہ ان کے چھپے ہوئے اعمال اس سے مختلف ہوں اور جس شخص کا باطن و ظاہر اور کردار و گفتار مختلف نہ ہو، اس نے امانتداری کا فرض انجام دیا اور اللہ کی عبادت میں خلوص سے کام لیا۔
مومن کے خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ناراض بھائیوں سے صلح کرنے میں پہل کرے اور انھیں کبھی ناراض نہ ہونے دے اگرچہ وہ جو جدائی کے خواہش مند ہوں یا کسی سبب نالاں ہوں تو ان کی شکوہ شکایت دور کرنی چاہیے:
اِحْمِلْ نَفْسَكَ مِنْ اَخِیْكَ عِنْدَ صَرْمِهٖ عَلَى الصِّلَةِ، وَ عِنْدَ صُدُوْدِهٖ عَلَى اللُّطْفِ وَ الْمُقَارَبَةِ، وَ عِنْدَ جُمُوْدِهٖ٥ عَلَى الْبَذْلِ، وَ عِنْدَ تَبَاعُدِهٖ عَلَى الدُّنُوِّ، وَعِنْدَ شِدَّتِهٖ عَلَى اللِّیْنِ، وَ عِنْدَ جُرْمِهٖ عَلَى الْعُذْرِ، حَتّٰى كَاَنَّكَ لَهٗ عَبْدٌ، وَ كَاَنَّهٗ ذُوْ نِعْمَةٍ عَلَیْكَ.
اپنے کو اپنے بھائی کیلئے اس پر آمادہ کرو کہ جب وہ دوستی توڑے تو تم اسے جوڑو، وہ منہ پھیرے تو تم آگے بڑھو اور لطف و مہربانی سے پیش آؤ، وہ تمہارے لئے کنجوسی کرے تم اس پر خرچ کرو، وہ دوری اختیار کرے تو تم اس کے نزدیک ہونے کی کوشش کرو، وہ سختی کرتا رہے اور تم نرمی کرو، وہ خطا کا مرتکب ہو اور تم اس کیلئے عذر تلاش کرو، یہاں تک کہ گویا تم اس کے غلام اور وہ تمہارا آقائے نعمت ہے۔
شیعہ علیؑ ہونے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ فقط علیؑ کی ولایت کا دم بھر لیا جائے اور ان کے احکام و فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے ۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ولایت علی کے بعد کسی عمل کی کوئی ضرورت نہیں اور بےعملی انھیں کامیاب و کامران بنائے گی، حقیقت برعکس ہے۔ حضرتؑ نے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا رویہ متکبرانہ ہو اور آپ عاجزی و انکساری کے اجر کے امیدوار ہوں۔ انفاق کے بغیر کیسے اجر خیرات کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو ان کی ضروریات سے محروم رکھ کے، ان کا حق ادا نہ کر کے، کیسے شیعہ علی ہونے کا دعوٰی کر سکتے ہو:
اَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّعْطِیَكَ اللهُ اَجْرَ الْمُتَوَاضِعِیْنَ وَ اَنْتَ عِنْدَهٗ مِنَ الْمُتَكَبِّرِیْنَ؟ وَ تَطْمَعُ ـ وَ اَنْتَ مُتَمَرِّغٌ فِی النَّعِیْمِ تَمْنَعُهُ الضَّعِیْفَ وَ الْاَرْمَلَةَ ـ اَنْ یُّوْجِبَ لَكَ ثَوَابَ الْمتَصَدِّقِیْنَ؟ وَ اِنَّمَا الْمَرْءُ مَجْزِیٌّۢ بِمَاۤ اَسْلَفَ، وَ قَادِمٌ عَلٰی مَا قَدَّمَ، وَ السَّلَامُ.
کیا تم یہ آس لگائے بیٹھے ہو کہ اللہ تمہیں عجز و انکساری کرنے والوں کا اجر دے گا، ?حالانکہ تم اس کے نزدیک متکبروں میں سے ہو؟ اور یہ طمع رکھتے ہو کہ وہ خیرات کرنے والوں کا ثواب تمہارے لئے قرار دے گا، حالانکہ تم عشرت سامانیوں میں لوٹ رہے ہو اور بیکسوں اور بیواؤں کو محروم کر رکھا ہے؟ انسان اپنے ہی کئے کی جزا پاتا ہے اور جو آگے بھیج چکا ہے وہی آگے بڑھ کر پائے گا۔
مومن اپنے لیے وہی پسند کرتا ہے جو دوسروں کے لیے پسند کرتا ہے:
یَا بُنَیَّ! اجْعَلْ نَفْسَكَ مِیْزَانًا فِیْمَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ غَیْرِكَ، فَاَحْبِبْ لِغَیْرِكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَ اكْرَهْ لَهٗ مَا تَكْرَهُ لَهَا، وَ لَا تَظْلِمْ كَمَا لَا تُحِبُّ اَنْ تُظْلَمَ، وَ اَحْسِنْ كَمَا تُحِبُّ اَنْ یُّحْسَنَ اِلَیْكَ، وَ اسْتَقْبِـحْ مِنْ نَّفْسِكَ مَا تَسْتَقْبِحُ مِنْ غَیْرِكَ، وَ ارْضَ مِنَ النَّاسِ بِمَا تَرْضَاهُ لَهُمْ مِنْ نَّفْسِكَ، وَ لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ وَ اِنْ قَلَّ مَا تَعْلَمُ، وَ لَا تَقُلْ مَا لَا تُحِبُّ اَنْ یُّقَالَ لَكَ.
اے فرزند! اپنے اور دوسرے کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قرار دو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کیلئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے اُسے دوسروں کیلئے بھی نہ چاہو، جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تم پر زیادتی نہ ہو یونہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ کرو اور جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حُسن سلوک ہو یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک سے پیش آؤ، دوسروں کی جس چیز کو بُرا سمجھتے ہو اُسے اپنے میں بھی ہو تو بُرا سمجھو اور لوگوں کے ساتھ جو تمہارا رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو، جو بات نہیں جانتے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ، اگرچہ تمہاری معلومات کم ہوں، دوسروں کیلئے وہ بات نہ کہو جو اپنے لیے سُننا گوارا نہیں کرتے۔
ایک عامل کو حضرت امیرؑ نے درج ذیل اخلاقیات کا درس دیا جو ہر شیعہ علیؑ کے اخلاق کا مظہر ہونا چاہیے:
فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ، وَاَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ، وَابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ
لوگوں سے تواضع کے ساتھ ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ روئی سے پیش آنا ۔
خوف و رجا ایک ایسی سوچ، ایسی فکر اور ایک ایسا عقیدہ ہے جو راہ نجات فراہم کرتا ہے کیوں کہ اگر محض انسان خوف میں مبتلا رہے یا خوش فہمی میں مبتلا رہے توان دونوں صورتوں میں انسان یا بالکل بے عملی یا تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہذا پیروی محمد و ال محمدؑ میں رہتے ہوئے انسان کو خوف و رجا کی حالت میں زندگی گزارنی چاہیے:
وَ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ یَشْتَدَّ خَوْفُكُمْ مِنَ اللهِ، وَ اَنْ یَّحْسُنَ ظَنُّكُمْ بِهٖ، فَاجْمَعُوْا بَیْنَهُمَا، فَاِنَّ الْعَبْدَ اِنَّمَا یَكُوْنُ حُسْنُ ظَنِّهٖ بِرَبِّهٖ عَلٰی قَدْرِ خَوْفِهٖ مِنْ رَّبِّهٖ، وَ اِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ ظَنًّۢا بِاللهِ اَشَدُّهُمْ خَوْفًا لِّـلّٰهِ.
اگر یہ کر سکو کہ تم اللہ کا زیادہ سے زیادہ خوف بھی رکھو اور اس سے اچھی امید بھی وابستہ رکھو، تو ان دونوں باتوں کو اپنے اندر جمع کر لو، کیوں کہ بندے کو اپنے پروردگار سے اتنی ہی امید بھی ہوتی ہے جتنا کہ اس کا ڈر ہوتا ہے۔ اور جو سب سے زیادہ اللہ سے امید رکھتا ہے وہی سب سے زیادہ اس سے خائف ہوتا ہے۔
کسی بھی معاملے میں انسان اگر خود کو عقلِ کل اوراپنی کارکردگی، معاشرت اور تہذیب میں خود کو اعلٰی اور ارفع خیال کرتا ہے تو وہ جہالت کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مومن کبھی بھی خود پسندی اور نرگسیت کا شکار نہیں بنتا:
وَ اعْلَمْ! اَنَّ الْاِعْجَابَ ضِدُّ الصَّوَابِ، وَ اٰفَةُ الْاَلْبَاب، فَاسْعَ فِیْ كَدْحِكَ، وَ لَا تَكُنْ خَازِنًا لِّغَیْرِكَ، وَ اِذَاۤ اَنْتَ هُدِیْتَ لِقَصْدِكَ فَكُنْ اَخْشَعَ مَا تَكُوْنُ لِرَبِّكَ.
یاد رکھو کہ خود پسندی صحیح طریقہ کار کے خلاف اور عقل کی تباہی کا سبب ہے، روزی کمانے میں دوڑ دھوپ کرو اور دوسروں کے خزانچی نہ بنو اور اگر سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق تمہارے شاملِ حال ہو جائے تو انتہائی درجہ تک بس اپنے پروردگار کے سامنے تذلل اختیار کرو۔
مومن اور منافق دو علیٰحدہ علیٰحدہ شناختیں ہیں۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ مومن منافقت کا لبادہ اوڑھے یا منافق مومنیت کا روپ دھار لے:
وَاللهِ! ماۤ اَرٰی عَبْدًا یَّتَّقِیْ تَقْوٰی تَنْفَعُهٗ حَتّٰی یَخْزُنَ لِسَانَهٗ، وَ اِنَّ لِسَانَ الْمُؤْمِنِ مِنْ وَّرَآءِ قَلْبِهٖ، وَ اِنَّ قَلْبَ الْمُنَافِقِ مِنْ وَّرَآءِ لِسَانِهٖ: لِاَنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَاۤ اَرَادَ اَنْ یَّتَكَلَّمَ بَكَلَامٍ تَدَبَّرَهٗ فِیْ نَفْسِهٖ، فَاِنْ كَانَ خَیْرًا اَبْدَاهُ، وَ اِنْ كَانَ شَرًّا وَّارَاهُ، وَ اِنَّ الْمُنَافِقَ یَتَكَلَّمُ بِمَاۤ اَتٰی عَلٰی لِسَانِهٖ لَا یَدْرِی مَاذَا لَهٗ، وَ مَاذَا عَلَیْهِ.
خدا کی قسم! میں نے کسی پرہیزگار کو نہیں دیکھا کہ تقویٰ اس کیلئے مفید ثابت ہوا ہو جب تک کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی ہو۔ بے شک مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور منافق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے، کیوں کہ مومن جب کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو پہلے اسے دل میں سوچ لیتا ہے، اگر وہ اچھی بات ہوتی ہے تو اسے ظاہر کر دیتا ہے…
نہج البلاغہ میں پیش کردہ حقیقی شیعہ کا تصور نہایت عمیق، متوازن اور عملی نوعیت کا حامل ہے۔ امام علی ابن ابی طالب کی تعلیمات اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ ایمان اور عمل میں جدائی ممکن نہیں۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو اپنے عقائد میں راسخ، عبادات میں مخلص، معاملات میں عادل اور اخلاق میں بلند کردار کا حامل ہو۔
امام علیؑ کی نظر میں شیعت محض جذباتی وابستگی یا تاریخی نسبت کا عنوان نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری اور عملی جدوجہد کا نام ہے۔ ایسا شخص دنیاوی مفادات کے مقابلے میں حق اور انصاف کو ترجیح دیتا ہے، آزمائشوں میں صبر و استقامت اختیار کرتا ہے، اور معاشرے میں خیر و اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ وہ اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرتا ہے اور علم و حکمت کو اپنی زندگی کا رہنما بناتا ہے۔
لہٰذا یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ حقیقی شیعہ کی شناخت اس کے کردار، تقویٰ، عدل پسندی اور عملی وفاداری سے ہوتی ہے۔ جو فرد ان اوصاف کو اپنی زندگی میں بروئے کار لاتا ہے، وہی امام علیؑ کی تعلیمات کا حقیقی وارث اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا مستحق قرار پاتا ہے۔
حوالہ جات
[1] مفتی جعفر حسین، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ، مکتوب 9، برطانیہ: ورلڈ فیڈریشن، 2022ء صفحہ 668[2] نہج البلاغہ، خطبہ187 صفحہ 531
[3] نہج البلاغہ مکتوب 27 صفحہ 701
[4] نہج البلاغہ، حکمت 45 صفحہ 838
[5] نہج البلاغہ، حکمت 427 صفحہ 959
[6] نہج البلاغہ، خطبہ 217 صفحہ 623
[7] نہج البلاغہ، خطبہ 2 صفحہ 106
[8] نہج البلاغہ، خطبہ 2 صفحہ 106
[9] نہج البلاغہ، خطبہ 2 صفحہ 108
[10] نہج البلاغہ، خطبہ 85 صفحہ 278
[11] نہج البلاغہ، مکتوب 26 صفحہ 697
[12] نہج البلاغہ، 27 صفحہ نمبر 699
[13] وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون، الذاریات، آیت56
[14] نہج البلاغہ، خطبہ 174 صفحہ 486
[15] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 569
[16] نہج البلاغہ، عہد نامہ 27 صفحہ 701
[17] نہج البلاغہ، خطبہ197 صفحہ 585
[18] نہج البلاغہ، خطبہ191 صفحہ 567
[19] نہج البلاغہ، حکمت 390 صفحہ 949
[20] نہج البلاغہ، خطبہ 41 صفحہ 213
[21] نہج البلاغہ، مکتوب 53 صفحہ 779
[22] نہج البلاغہ، خطبہ 197 صفحہ 586
[23] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 570
[24] نہج البلاغہ، مکتوب 21 صفحہ 690
[25] نہج البلاغہ، خطبہ191 صفحہ 568
[26] نہج البلاغہ، خطبہ112 صفحہ 353
[27] نہج البلاغہ، مکتوب 26 صفحہ 698
[28] نہج البلاغہ، حکمت 79 صفحہ 847
[29] نہج البلاغہ، حکمت 80 صفحہ 848
[30] نہج البلاغہ، حکمت 367 صفحہ 942
[31] قدافلح المومنون، مومنون آیت 1
[32] آیت اللہ، ناصر مکارم شیرازی،کلام امیرالمومنین (شرح نہج البلاغہ) صفحہ 375 جلد 7
[33] نہج البلا غہ، خطبہ 101 صفحہ 327
[34] نہج البلاغہ، خطبہ 23 صفحہ 176
[35] نہج البلاغہ، وصیت 31 صفحہ 723
[36] نہج البلاغہ، وصیّت 31 صفحہ 725
[37] نہج البلاغہ، حکمت 333 صفحہ 933
[38] نہج البلاغہ، وصیت 31 صفحہ 727
[39] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 566
[40] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 570
[41] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 570
[42] نہج البلاغہ، خطبہ 191 صفحہ 546
[43] نہج البلاغہ، مکتوب 26 صفحہ 698
[44] نہج البلاغہ، وصیت 31 صفحہ 726
[45] نہج البلاغہ، مکتوب 21 صفحہ 690
[46] نہج البلاغہ، وصیت 31 صفحہ 720
[47] نہج البلاغہ، مکتوب 27 صفحہ 699
[48] نہج البلاغہ، عہد نامہ 27 صفحہ 700
[49] نہج البلاغہ، وصیت 31 صفحہ 720
[50] نہج البلاغہ، خطبہ 174 صفحہ 486
کتابیات
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی،کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، جلد 1 – 9، کراچی: باب العلم، دارالتحقیق، 2016ء
ذیشان حیدر جوادی، علامہ، انوارالقرآن، قم: انصاریان پبلشرز، 2000ء
ذیشان حیدر جوادی، علامہ، نقوشِ عصت، کراچی: رحمت اللہ بک ایجنسی، 1996ء
فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ، آن لائن۔ https://www.nahjmagz.ir
شیخ محسن علی نجفیؒ، الکوثر فی تفسیرالقرآن، لاہور: مصباح القرآن، 2013ء
مفتی جعفر حسین، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ، برطانیہ: ورلڈ فیڈریشن، 2022ء
مفتی جعفر حسین، علامہ، سیرت امیرالمومنینؑ، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 1992ء




