توحید اور عدل کلام معجز بیان نہج البلاغہ کی روشنی میں
مصنف: جناب مولانا محمد مصطفیٰ صاحب قبلہ جوہر مدظلہ

یہ حقیقت غالباً دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ حلقہ عقلاء میں اپنی ذات کی معرفت کے بعد اپنے خالق کی ہستی کی بحث چھڑتی ہے اور اسی مسئلہ پر اختلافات کے سبب فرقے بنتے ہیں اور بنے ہیں کیونکہ اس مسئلے سے بالاتر اور اس سے مقدم کوئی دوسرا مسئلہ نہیں جو بنیادی حیثیت سے پہلی نگاہ کا مستحق ہو۔
زیر نظر رسالہ اگرچہ تمام تر نہج البلاغہ سے ماخوذ ہے اس میں صرف امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اقوال سے مدد لی گئی ہے، لیکن اس کی غرض اصلی یہ ہے کہ یہ واضح کر دیا جائے کہ اُن جناب کے جو ارشادات توحید و عدل کے متعلق نوع انسانی تک پہنچے ہیں وہ عقل کی اس منزل سے اترے ہیں جس کے مافوق متصور نہیں اور ان کے جان لینے کے بعد کوئی عاقل ان کے مان لینے میں تامل نہیں کر سکتا۔
پھر حصہ عدل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خدا کے عادل ہونے کے متعلق حضرت کا جو ارشاد بھی ہے وہ ان جناب کے عمل کی تصویر ہے اور یہ ناممکن ہے کہ اُن جناب کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی عدل سے جدا نظر ائے۔ ان شاءاللہ یہ مختصر رسالہ میرے اس دعوت کا بہترین ثبوت ہوگا۔ ممکن ہے اس سے کچھ غلط فہمیاں بھی دور ہوں اور کچھ شبہے بھی برطرف ہو جائیں بشرطیکہ غیر جانبدارانہ نگاہ سے بغور پڑھا جائے۔
اسم کتاب: توحید اور عدل
مصنف: جناب مولانا محمد مصطفیٰ صاحب قبلہ جوہر مدظلہ
زبان: اردو
صفحات: 259
ناشر: مجلس المسلمین بین الاقوامی
موضوع: توحید، عدل، کلام امیرالمومنین امام علی علیہ السلام، نہج البلاغہ
سال اشاعت: 1381ھ، 1961ء
ڈاؤن لوڈ کریں
|
آن لائن پڑھیں |
ڈاؤن لوڈ کریں |



