نہج البلاغہ کی تعلیمات کی روشنی میں الحاد جدید کا محاکمہ
مقالہ نگار: محمد علی عزیزی

﷽
تمہید
وجودِ خدا کا سوال انسانی فکر کی تاریخ میں بنیادی ترین مابعد الطبیعی سوالات میں شمار ہوتا ہے۔ انسان نے جب کائنات، اپنے وجود، شعور، اخلاق اور موت کے بارے میں غور کیا تو یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ آیا یہ عالم محض بے مقصد طبیعی واقعات کا مجموعہ ہے یا اس کے پسِ پشت کوئی علیم، حکیم، رحیم، قدیر اور مدبر حقیقت موجود ہے۔
مذہبی روایت نے خدا کے وجود کو وحی، فطرت اور عقل کی بنیاد پر تسلیم کیا، جبکہ فلسفیانہ روایت نے اسے مختلف عقلی دلائل کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس کے مقابل جدید الحاد نے خدا کے وجود کو چیلنج کرتے ہوئے طبیعیات، حیاتیات، نفسیات اور فلسفے سے استدلال کیا۔ جدید ملحد مفکرین کے ہاں عام طور پر یہ تصور ملتا ہے کہ کائنات کی طبیعی توضیحات خدا کے مفروضے کو غیر ضروری بنا دیتی ہیں، مذہب انسانی نفسیات کی پیداوار ہے، اور دنیا میں موجود شر و تکلیف ایک قادر و رحیم خدا کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتی۔
نہج البلاغہ ان سوالات کا براہِ راست جدید فلسفیانہ زبان میں جواب نہیں دیتی، کیونکہ اس کا تاریخی پس منظر جدید سائنسی الحاد سے مختلف ہے۔ تاہم اس میں خدا کے وجود، اس کی صفات، کائنات کے حدوث، مخلوقات کی احتیاج، نظمِ عالم، انسانی عقل اور دنیا و آخرت کے بارے میں ایسے اصول موجود ہیں جو جدید الحاد کے بنیادی مقدمات کے تجزیے کے لیے ایک مضبوط اسلامی فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اس مقالے کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ نہج البلاغہ میں جدید الحاد کے ہر سوال کا لفظ بہ لفظ جواب موجود ہے، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ امام علیؑ کی توحیدی تعلیمات جدید الحادی استدلال کے بنیادی مفروضات کو کس طرح چیلنج کرتی ہیں۔
1۔ جدید ملحدین کا پہلا اعتراض: مذہبی ایمان محض تقلید، روایت یا جذبات پر قائم ہوتا ہے۔
جدید ملحدانہ تنقید میں یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ مذہبی ایمان اکثر خاندانی اور معاشرتی ماحول کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا ہے؛ چنانچہ انسان بہت مرتبہ کسی مذہب کو اس لیے قبول کرتا ہے کہ وہ اسی مذہبی ماحول میں پیدا ہوا اور اس کے والدین اور معاشرے نے اسے وہی عقیدہ سکھایا۔ اس بنا پر محض موروثی مذہبی شناخت کو کسی عقیدے کی صداقت کا کافی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
1. Richard Dawkins, The God Delusion, Boston: Houghton Mifflin, 2006, especially ch. 9, “Childhood, Abuse and the Escape from Religion.”
2. Bertrand Russell, Why I Am Not a Christian and Other Essays on Religion and Related Subjects, ed. Paul Edwards, New York: Simon and Schuster, 1957 , particularly the Preface.
1۔ معرفتِ خدا: تقلید نہیں، شعوری ادراک
امیر المومنین امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ، وَكَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ، وَكَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ، وَكَمَالُ تَوْحِيدِهِ الْإِخْلَاصُ لَهُ، وَكَمَالُ الْإِخْلَاصِ لَهُ نَفْيُ الصِّفَاتِ عَنْهُ، لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ الْمَوْصُوفِ، وَشَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ الصِّفَةِ. (نہج البلاغہ۔خطبہ 1)۔
ترجمہ: ’’دین کی ابتدا اللہ کی معرفت سے ہے، اور اس کی معرفت کی تکمیل یہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے؛ اور اس کی تصدیق کی تکمیل یہ ہے کہ اسے یکتا مانا جائے؛ اور اس کی توحید کی تکمیل یہ ہے کہ اسی کے لیے اخلاص اختیار کیا جائے؛ اور اخلاص کی تکمیل یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ موصوف سے الگ ہے، اور ہر موصوف اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت سے مختلف ہے۔‘‘
یہاں نَفْيُ الصِّفَاتِ عَنْهُ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ علم، قدرت، حیات وغیرہ کی صفات سے خالی ہے، بلکہ کلامی و فلسفیانہ اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی صفات مخلوقات کی صفات کی طرح ذات سے الگ اور زائد وجود رکھنے والی نہیں ہیں؛ یعنی اللہ کی ذات اور اس کی حقیقی صفات میں تعدد یا ترکیب نہیں۔
یہ عبارت جدید الحاد کے مقابل ایک بنیادی علمی اصول پیش کرتی ہے: ’’دین و ایمان کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔‘‘ گویا امام علیؑ کا یہ فرمان مذہبی ایمان کی بنیاد ہی ’’معرفت‘‘کو قرار دیتا ہے۔
یہاں’’معرفت‘‘ محض معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ حقیقت کو پہچاننے کا عمل ہے۔ اس میں عقل، غور و فکر اور وجودی شعور شامل ہیں۔
اس قول کی فلسفیانہ اہمیت یہ ہے کہ یہ الحاد اور ایمان کے درمیان بحث کو ایک زیادہ بنیادی سطح پر لے جاتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ "کون کیا مانتا ہے؟” بلکہ سوال یہ بنتا ہے کہ کائنات کی بہترین عقلی توضیح کیا ہے؟
نہج البلاغہ میں اندھی تقلید، شخصیت پرستی اور بغیر تحقیق کے کسی موقف کو قبول کرنے کے خلاف کئی نہایت اہم ارشادات ملتے ہیں ۔ یہاں امام علی ؑ کے فرامین سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں:
1۔ دین کی بنیاد عقل اور معرفت ہونی چاہیے
وَلَا غِنَى كَالْعَقْلِ، وَلَا فَقْرَ كَالْجَهْلِ۔ (نہج البلاغہ۔حکمت 54)
”عقل جیسی کوئی دولت نہیں اور جہالت جیسی کوئی محتاجی نہیں۔“
اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے عقل سب سے بڑی معنوی دولت ہے۔ لہٰذا دینی عقائد کو سمجھنے اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں عقل و شعور کو معطل کرکے محض روایت یا ماحول کی پیروی درست طرزِ عمل نہیں۔
2۔ حق کو افراد اور آبائی روایت سے نہیں، حق کی بنیاد پر پہچانا جائے
اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ، وَاعْرِفِ الْبَاطِلَ تَعْرِفْ أَهْلَهُ. (نہج البلاغہ، حکمت262)
”حق کو پہچانو، اہلِ حق کو پہچان لو گے؛ اور باطل کو پہچانو، اہلِ باطل کو پہچان لو گے۔“
یہ اصول اندھی تقلید کی نفی کرتا ہے۔ انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون سی بات ہمارے خاندان، قبیلے یا معاشرے میں رائج ہے؛ بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ بات حق ہے یا باطل۔ اس طرح حق معیار بنتا ہے، آبائی روایت معیار نہیں بنتی۔
3۔ اکثریت اور معاشرتی رواج حق کی دلیل نہیں
أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ. (نہج البلاغہ، خطبہ 201)
”اے لوگو! راہِ ہدایت میں اہلِ ہدایت کی کمی کی وجہ سے وحشت زدہ نہ ہونا۔“
اس ارشاد سے یہ اصول نکلتا ہے کہ کسی عقیدے یا نظریے کی صداقت اس کے پیروکاروں کی کثرت سے ثابت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مذہبی تصور صرف اس لیے درست سمجھا جائے کہ ”سب لوگ ایسا ہی مانتے ہیں“ یا ”ہمارے معاشرے میں یہی روایت ہے“، تو یہ عقلی دلیل نہیں۔
4۔ انسانی خواہشات اور بنائے ہوئے دینی احکام کی اندھی پیروی خطرناک ہے
وَإِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ، وَأَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ، يُخَالَفُ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ، وَيَتَوَلَّى عَلَيْهَا رِجَالٌ رِجَالًا، عَلَى غَيْرِ دِينِ اللَّهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 50)
”فتنوں کے آغاز کی صورت یہ ہے کہ خواہشات کی پیروی کی جائے اور ایسے احکام گھڑے جائیں جن میں کتابِ خدا کی مخالفت ہو، پھر لوگ اللہ کے دین کے بجائے ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگیں۔“
یہ اقتباس خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ امامؑ شخصیت پرستی اور انسانی پیروی کو دینی حق کا معیار قرار نہیں دیتے۔ اگر کوئی رسم، نظریہ یا حکم صرف اس لیے رائج ہو کہ بزرگوں یا بااثر لوگوں نے اسے اختیار کیا ہے، تو اسے کتابِ خدا اور حق کے معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔
5۔ ایمان کے لیے ’’بیّنہ‘‘ ضروری ہے
وَإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: مُؤْمِنٌ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ، وَجَاهِلٌ مُنْهَمِكٌ فِي غَيِّهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 153)
”لوگ دو قسم کے ہیں: ایک وہ مومن جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہے، اور دوسرا وہ جاہل جو اپنی گمراہی میں ڈوبا ہوا ہے۔“
یہاں عَلَى بَيِّنَةٍ نہایت اہم ہے۔ امام علیؑ مومن کی شناخت واضح دلیل اور بصیرت سے کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی ایمان صرف موروثی شناخت نہیں، بلکہ معرفت اور دلیل سے وابستہ ایمان ہے۔
6۔ کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے
الظَّفَرُ بِالْحَزْمِ، وَالْحَزْمُ بِإِجَالَةِ الرَّأْيِ، وَالرَّأْيُ بِتَحْصِينِ الْأَسْرَارِ۔ (نہج البلاغہ ۔ حکمت 48)
’’ کامیابی دوراندیشی سے ہے، دوراندیشی غور و فکر سے، اور غوروفکر رازوں کی حفاظت سے۔‘‘
اس قول میں امام علی نے کامیابی کیلئے تین پیشگی شرائط بیان فرمائی ہے، جوکہ دور اندیشی، غور وفکر اور رازوں کی حفاظت ہیں ۔ یہاں دور اندیشی اور غور وفکر نہایت اہم نکات ہیں، اس لئے دین اسلام میں دین کے انتخاب اور اس پر عمل درآمد دونوں میں دور اندیشی اور غور وفکر اہم ہیں ۔
7۔ ان اقوال کا مجموعی فلسفیانہ پیغام
ان تمام ارشادات کو یکجا کیا جائے تو امام علیؑ کے ہاں دینی معرفت کے لیے سات اصول سامنے آتے ہیں: عقل؛ علم؛ حق کی معرفت؛ دور اندیشی؛ غور و فکر؛ دلیل و بیّنہ؛ پھر پیروی۔
اس کے مقابلے میں منفی طریقہ یہ ہے: آبائی روایت؛ معاشرتی دباؤ؛ شخصیت پرستی؛ بلا تحقیق و غور وفکر پیروی
لہٰذا ان اقوال کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اسلام میں آباؤ اجداد یا معاشرتی روایت سے ملنے والی مذہبی شناخت بذاتِ خود عقیدے کی صداقت کی دلیل نہیں۔ انسان کو عقل و بصیرت سے حق کی معرفت حاصل کرنی چاہیے، دینی دعووں کو کتابِ خدا اور دلیل کے معیار پر پرکھنا چاہیے، اور پھر شعوری طور پر حق کی پیروی کرنی چاہیے۔
پس شیعہ فلسفۂ دین کی رو سے یہ دعویٰ کہ مذہبی ایمان محض تقلید، روایت یا جذبات پر قائم ہوتا ہے ایک عمومی اور غیر ثابت شدہ دعویٰ ہے۔ شیعہ علمی روایت میں اصولِ دین میں تقلید کو کافی نہیں سمجھا جاتا؛ توحید، نبوت، امامت اور معاد جیسے بنیادی عقائد کو انسان اپنی عقل و فطرت اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں سمجھنے کا ذمہ دار ہے۔ قرآن بھی بار بار انسان کو تعقل، تدبر اور برہان کی دعوت دیتا ہے، مثلاً:
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ (البقرہ: 111)۔
’’کہہ دیجیے: اپنی دلیل پیش کرو۔ ‘‘۔
اسی لیے شیعہ کلام اور فلسفے میں خدا کے وجود کے لیے برہانِ امکان و وجوب، برہانِ صدیقین، نظم و غایت اور فطرت جیسے عقلی استدلالات پیش کیے گئے ہیں۔ البتہ روایت بھی شیعہ معرفت کا اہم ماخذ ہے، لیکن روایت کی حجیت بھی محض جذباتی قبولیت پر نہیں بلکہ اس کی سند، دلالت، عقل اور قرآن کے ساتھ تطبیق جیسے اصولوں کے ذریعے پرکھی جاتی ہے۔ اسی طرح جذبات ایمان کو تقویت دے سکتے ہیں، مگر ایمان کی حقیقت صرف جذبات نہیں؛ بلکہ معرفت، تصدیق، اختیار اور التزام کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا شیعہ نقطۂ نظر میں ایمان کو محض موروثی تقلید یا جذباتی کیفیت قرار دینا مذہبی معرفت کے عقلی اور استدلالی پہلو کو نظر انداز کرنا ہے
2۔ ملحدین کا دوسرا اعتراض: خدا کو کس نے پیدا کیا؟‘‘
وجود خدا پر ایک نسبتا سادہ دلیل ’’برہان علت ومعلول‘‘ ہے۔ اس برہان پر جدید الحاد کا معروف اعتراض یہ ہے کہ ’’اگر ہر چیز کے وجود کے لیے علت ضروری ہے تو خدا کے وجود کی علت کیا ہے؟ اگر خدا خود بغیر علت کے موجود ہوسکتا ہے تو کائنات بھی بغیر علت کے کیوں نہیں ہوسکتی؟‘‘
1. Bertrand Russell، Why I Am Not a Christian and Other Essays on Religion and Related Subjects: Edited by Paul Edwards، New York: Simon and Schuster، 1957.
2. Richard Dawkins, The God Delusion, Boston: Houghton Mifflin, 2006، chap. 4، specially “The Ultimate Boeing 747”)
نہج البلاغہ میں امام علیؑ نے خدا کے ازلیت، عدمِ مسبوقیت، عدمِ احتیاج، علت و معلول، اور خالق و مخلوق کے فرق کو نہایت گہری فلسفیانہ زبان میں بیان کیا ہے۔ زیرِ بحث سوال’’اگر کائنات کی علت ہے تو خدا کی علت کیا ہے؟‘‘ اس تناظر میں درج ذیل اقوال خاص طور پر اہم ہیں۔
1۔ خدا کا وجود کسی علتِ حادث سے نہیں
امام علیؑ فرماتے ہیں:
كَائِنٌ لَا عَنْ حَدَثٍ، مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ، مَعَ كُلِّ شَيْءٍ لَا بِمُقَارَنَةٍ، وَغَيْرُ كُلِّ شَيْءٍ لَا بِمُزَايَلَةٍ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 1)
ترجمہ: ’’وہ موجود ہے مگر کسی حدوث کے نتیجے میں نہیں، موجود ہے مگر کسی عدم کے بعد وجود میں نہیں آیا؛ ہر چیز کے ساتھ ہے مگر کسی مادی ملاپ کے ساتھ نہیں، اور ہر چیز سے جدا ہے مگر کسی مکانی جدائی کے ساتھ نہیں۔‘‘
اس فرمان میں امامؑ خدا کے وجود کو کسی سابقہ عدم یا کسی حادث کرنے والی علت کا نتیجہ قرار نہیں دیتے۔
2۔ ہر قائم بالذاتِ غیر، معلول ہے
ایک اور خطبہ میں امامؑ فرماتے ہیں:
كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ، وَكُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’جو چیز اپنے آپ سے معروف/قائم ہو کر مانی جائے (یعنی مخلوقات میں جو خود سے قائم سمجھی جائے) وہ بھی بنائی ہوئی ہے، اور جو کسی غیر کے ذریعے قائم ہے وہ معلول ہے۔‘‘
اسی خطبے میں آگے فرماتے ہیں:
غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ، لَا تَصْحَبُهُ الْأَوْقَاتُ وَلَا تَرْفِدُهُ الْأَدَوَاتُ، سَبَقَ الْأَوْقَاتَ كَوْنُهُ، وَالْعَدَمَ وُجُودُهُ، وَالِابْتِدَاءَ أَزَلُهُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’وہ بے نیاز ہے، کسی سے فائدہ حاصل کرنے کے معنی میں نہیں؛ زمانے اس کے ساتھ نہیں، نہ آلات اس کی مدد کرتے ہیں۔ اس کا وجود زمانوں سے مقدم ہے، اس کا وجود عدم سے مقدم ہے، اور اس کی ازلیت ہر ابتداء سے مقدم ہے۔ ‘‘
یہاں وَالْعَدَهُمَ وُجُودُ ’’اس کا وجود عدم سے مقدم ہے‘‘ نہایت اہم ہے: یعنی اللہ کا وجود کسی سابقہ عدم کے بعد پیدا نہیں ہوا۔
3۔ خدا خود علتِ مؤثرات ہے، اس پر مخلوقات کے علل و اسباب جاری نہیں
خطبہ 186 میں امامؑ مزید فرماتے ہیں:
فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ، مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ، غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’وہ فاعل ہے مگر کسی آلے کی حرکت کے ذریعے نہیں؛ اندازہ مقرر کرنے والا ہے مگر سوچ بچار کی گردش کے ذریعے نہیں؛ بے نیاز ہے، کسی سے کچھ حاصل کرنے کے معنی میں نہیں۔‘‘
یہ تصور اس سوال کے جواب کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ خدا کو کسی خارجی علت کی ضرورت کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ مخلوق کی طرح محتاجِ وجود نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات کا وجود ممکن اور محتاج ہے؛ وہ خود اپنے وجود کی علت نہیں، اس لیے انہیں کسی علت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن خدا واجب الوجود ہے، یعنی اس کا وجود کسی دوسرے پر منحصر نہیں اور اس کی ذات میں عدم کی گنجائش نہیں۔ لہٰذا خدا کے وجود کے لیے کسی خارجی علت کی ضرورت نہیں؛ اگر وہ بھی کسی علت کا محتاج ہو تو وہ واجب الوجود نہیں رہے گا۔
4۔ اگر خدا بھی حادث ہوتا تو وہ خالق اور مخلوق کے برابر ہوجاتا
اسی خطبے میں ایک اور نہایت اہم استدلال ہے:
لَمْ يُقَلْ كَانَ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ، فَتَجْرِيَ عَلَيْهِ صِفَاتُ الْمُحْدَثَاتِ، فَيَكُونَ عِنْدَ تَمَامِهَا مُحْتَاجًا إِلَى تَمَامِهَا، وَإِذَا تَمَّتْ صِفَاتُهُ كَانَ مُحْدَثًا، وَإِذَا كَانَ مُحْدَثًا كَانَ لَهُ مُحْدِثٌ، فَيَسْتَوِيَ الصَّانِعُ وَالْمَصْنُوعُ، وَيَتَكَافَأَ الْمُبْتَدَعُ وَالْبَدِيعُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس وقت وجود میں آیا جب پہلے موجود نہ تھا، ورنہ اس پر حادث ہونے والی مخلوقات کی صفات جاری ہوں گی۔ پھر جب اس کی یہ صفات مکمل ہوں گی تو وہ ان کے مکمل ہونے کا محتاج ہوگا، اور اگر اس کی صفات مکمل ہونے کے بعد اسے حادث قرار دیا جائے تو لازماً اس کا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہوگا۔ اس صورت میں خالق اور مخلوق برابر ہوجائیں گے، اور پیدا کیا ہوا اور پیدا کرنے والا یکساں قرار پائیں گے۔‘‘
یہ عبارت ’’خدا کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ کے جواب میں بہت اہم ہے: اگر خدا کسی دوسری ہستی کے ذریعے وجود میں آیا ہو تو وہ آخری علت نہیں رہے گا، بلکہ خود مخلوق/معلول بن جائے گا۔
5۔ خدا زمان و مکان سے پہلے ہے
امامؑ اسی خطبہ میں فرماتے ہیں:
سَبَقَ الْأَوْقَاتَ كَوْنُهُ، وَالْعَدَمَ وُجُودُهُ، وَالِابْتِدَاءَ أَزَلُهُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’اس کا وجود زمانوں سے پہلے ہے، اس کا وجود عدم سے پہلے ہے، اور اس کی ازلیت ہر ابتداء سے پہلے ہے۔‘‘
یہاں “پہلے” سے مراد زمانی ترتیب نہیں، بلکہ وجودی تقدم ہے۔ یعنی زمان خود مخلوقات کے نظام سے متعلق ہے، اس لیے خدا کو زمانی سلسلے میں کسی سابق مرحلے کا محتاج سمجھنا درست نہیں۔
6۔ خدا خود کسی چیز کا محتاج نہیں
نہج البلاغہ کی ایک اور نہایت اہم عبارت ہے:
وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى ذِي مَالٍ فَيَرْزُقَهُ، وَلَا إِلَى خَلْقٍ فَيَسْتَعِينَ بِهِ، وَلَا كُفْءٌ لَهُ فَيُكَافِئَهُ، وَلَا نَظِيرٌ لَهُ فَيُسَاوِيَهُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’اور وہ کسی مال دار کا محتاج نہیں کہ وہ اسے رزق دے، نہ کسی مخلوق کا محتاج ہے کہ اس سے مدد حاصل کرے؛ نہ اس کا کوئی ہمسر ہے کہ وہ اس کا مقابل بن سکے، اور نہ اس کا کوئی نظیر ہے کہ وہ اس کے برابر ہو سکے۔‘‘
نہج البلاغہ کی روشنی میں علت و معلول کا مسئلہ
جدید الحاد کی طرف سے خدا کے وجود پر ایک معروف اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کائنات کے وجود کے لیے کسی علت یا سبب کی ضرورت ہے تو پھر خدا کے وجود کی علت کیا ہے؟ اگر خدا کو بغیر علت کے موجود تسلیم کیا جاسکتا ہے تو پھر کائنات کو بھی بغیر علت کے کیوں نہ مان لیا جائے؟ اس اعتراض کی بنیاد بظاہر ایک سادہ اصول پر ہے کہ ہر موجود کے لیے کوئی علت ضروری ہے۔ لیکن اسلامی فلسفہ اور بالخصوص نہج البلاغہ کی تعلیمات میں بنیادی مقدمہ یہ نہیں کہ ہر موجود لازماً کسی علت کا محتاج ہے، بلکہ یہ ہے کہ جو وجود اپنی ذات میں محتاج اور غیر مستقل ہو، وہ علت کا محتاج ہے؛ جبکہ خداوندِ متعال بذاتِ خود غیر محتاج اور ازلی ہے۔
نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے خدا کے وجود کو مخلوقات کے وجود سے بالکل مختلف قرار دیتے ہوئے اس فرق کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے:
كَائِنٌ لَا عَنْ حَدَثٍ، مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ”وہ موجود ہے، کسی حدوث کے نتیجے میں نہیں؛ موجود ہے، کسی عدم کے بعد وجود میں نہیں آیا۔“
یہ مختصر مگر گہری عبارت خدا کے وجود کے بارے میں ایک بنیادی فلسفیانہ حقیقت واضح کرتی ہے: خدا کسی وقت عدم سے وجود میں نہیں آیا، نہ اس کا وجود کسی دوسری ہستی کے وجود کا نتیجہ ہے۔ اگر خدا بھی کسی وقت پیدا ہوا ہوتا تو وہ حادث ہوتا اور پھر لازماً کسی علت کا محتاج ہوتا۔ ایسی صورت میں وہ علتِ اولیٰ اور خالقِ حقیقی نہیں رہتا بلکہ خود ایک معلول بن جاتا۔
مخلوق: وجود میں آنے والی اور محتاج
مخلوقات کے بارے میں بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ان کا وجود ذاتی طور سے ضروری نہیں۔ کائنات میں موجود ہر چیز ایسی حالت میں بھی ہوسکتی تھی کہ وہ موجود نہ ہوتی۔ انسان، درخت، ستارے، سیارے اور خود مادی کائنات کی موجودہ صورتیں اپنے وجود کے لیے کسی نہ کسی سبب اور شرائط کی محتاج ہیں۔
اسی حقیقت کو نہج البلاغہ میں امام علیؑ مختلف مقامات پر بیان کرتے ہیں۔ آپؑ خدا کو خالق اور مخلوقات کو مخلوق قرار دیتے ہیں۔ خالق اور مخلوق کو ایک ہی وجودی درجے میں رکھنا درست نہیں، کیونکہ مخلوق کا وجود عطا کیا ہوا ہے، جبکہ خدا کا وجود ذاتی اور غیر محتاج ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ، مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ، غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’وہ فاعل ہے مگر کسی آلے کی حرکت کے ذریعے نہیں، تقدیر کرنے والا ہے مگر فکر کی گردش کے ذریعے نہیں، اور بے نیاز ہے مگر کسی سے فائدہ حاصل کرنے کے معنی میں نہیں۔‘‘
یہاں غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ خدا کی بے نیازی اس معنی میں نہیں کہ اسے کسی چیز سے فائدہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کی ذات ہی ایسی ہے جو کسی خارجی وجود کی محتاج نہیں۔ اس کے برعکس مخلوقات کا وجود عطا شدہ اور محتاج ہے۔
خدا: موجود لا عن عدم
امام علیؑ کا ارشاد: مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدا کا وجود کسی سابق عدم سے منتقل ہو کر حاصل نہیں ہوا۔ مخلوق کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک وقت وہ موجود نہیں تھی، پھر وجود میں آئی؛ لیکن خدا کے بارے میں ایسا تصور درست نہیں۔ خدا کا وجود زمانی آغاز نہیں رکھتا۔
اسی خطبے میں امامؑ فرماتے ہیں:
سَبَقَ الْأَوْقَاتَ كَوْنُهُ، وَالْعَدَمَ وُجُودُهُ، وَالِابْتِدَاءَ أَزَلُهُ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 186)
ترجمہ: ’’اس کا وجود اوقات سے مقدم ہے، اس کا وجود عدم سے مقدم ہے، اور اس کی ازلیت ہر ابتداء سے مقدم ہے۔‘‘
یہاں “مقدم” سے مراد محض زمانی تقدم نہیں، کیونکہ زمان بھی مخلوق کے نظام سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا وجود زمانی سلسلے کا ایک حصہ نہیں کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا زمانی مرحلہ ہو اور پھر خدا وجود میں آیا ہو۔ وہ زمان و مکان اور تمام مادی موجودات کے وجود کا خالق ہے۔
خدا کو علت کی ضرورت کیوں نہیں؟
یہاں جدید الحاد کا بنیادی سوال دوبارہ سامنے آتا ہے: اگر کائنات کو علت کی ضرورت ہے تو خدا کو کیوں نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ خدا اور کائنات کو ایک ہی نوع کا موجود فرض کرنا ہی بنیادی غلطی ہے۔ کائنات اور اس کے اجزاء وجود کے لیے محتاج ہیں، جبکہ خدا اپنی ذات میں غیر محتاج ہے۔
اگر ہر موجود کے بارے میں یہ اصول قائم کیا جائے کہ وہ لازماً کسی خارجی علت کا محتاج ہے، تو پھر خدا بھی اس اصول کے تحت آجائے گا۔ لیکن خدا کے بارے میں اسلامی تصور یہ نہیں کہ وہ صرف ’’ایک اور موجود‘‘ ہے جسے باقی موجودات کی طرح کسی علت کی ضرورت ہو۔ بلکہ وہ واجب الوجود ہے؛ یعنی اس کا وجود کسی خارجی سبب پر منحصر نہیں۔اسی لیے خدا کے لیے کسی علت کا سوال اسی وقت درست ہوگا جب خدا کو ایک ممکن اور محتاج وجود فرض کیا جائے۔ لیکن اگر وہ واجب الوجود ہے تو اس کی علت پوچھنا اس کی تعریف ہی سے متناقض ہو جاتا ہے۔
اگر خدا بھی معلول ہو تو مسئلہ حل نہیں ہوتا
نہج البلاغہ میں امام علیؑ ایک نہایت اہم نکتہ بیان فرماتے ہیں:
لَمْ يُقَلْ كَانَ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ، فَتَجْرِيَ عَلَيْهِ صِفَاتُ الْمُحْدَثَاتِ، فَيَكُونَ عِنْدَ تَمَامِهَا مُحْتَاجًا إِلَى تَمَامِهَا، وَإِذَا تَمَّتْ صِفَاتُهُ كَانَ مُحْدَثًا، وَإِذَا كَانَ مُحْدَثًا كَانَ لَهُ مُحْدِثٌ، فَيَسْتَوِيَ الصَّانِعُ وَالْمَصْنُوعُ، وَيَتَكَافَأَ الْمُبْتَدَعُ وَالْبَدِيعُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)
ترجمہ: ’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس وقت وجود میں آیا جب وہ پہلے موجود نہ تھا، کہ اس پر مخلوقات کی صفات جاری ہوں۔ پھر وہ اپنی صفات کے مکمل ہونے کا محتاج ہوگا، اور جب اس کی صفات مکمل ہوں گی تو وہ حادث قرار پائے گا۔ اور جب وہ حادث ہوگا تو لازماً اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہوگا۔ اس صورت میں صانع اور مصنوع برابر ہو جائیں گے، اور پیدا کیا ہوا اور پیدا کرنے والا یکساں قرار پائیں گے۔‘‘
یہ استدلال انتہائی بنیادی ہے۔ اگر خدا بھی کسی علت کے ذریعے وجود میں آیا ہے تو پھر وہ آخری علت نہیں رہا۔ اس علت کے بارے میں بھی سوال پیدا ہوگا کہ وہ کہاں سے آئی؟ اگر اسے بھی کسی دوسری علت کا محتاج قرار دیا جائے تو علتوں کا سلسلہ آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ لہٰذا کسی ایسے وجود کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو خود کسی خارجی علت کا محتاج نہ ہو۔
یہی فلسفیانہ تصور بعد میں واجب الوجود کی اصطلاح میں منظم صورت اختیار کرتا ہے۔
علتِ اولیٰ اور خود معلول نہ ہونا
اس بحث کا خلاصہ یہ نہیں کہ “ہر چیز کی علت ہے، سو خدا کی علت نہیں”۔ یہ تعبیر منطقی طور پر کمزور ہے، کیونکہ اس سے بظاہر استثنا کا اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ: ’’ہر محتاج اور ممکن الوجود موجود علت کا محتاج ہے؛ واجب الوجود اپنی ذات میں غیر محتاج ہے۔‘‘
چنانچہ استدلال کی ترتیب یوں بنتی ہے:
1۔ ہر مخلوق حادث ہے
2۔ ہر حادث موجود ممکن الوجود ہے، یعنی وہ ہوبھی سکتا ہے اور نہیں بھی
3۔ ہرممکن الوجود معلول ہے، اس لئے کسی علت کا محتاج ہے
جبکہ:
1۔ خدا غیرحادث اور ازلی ہے
2۔ ازلی موجود غیر حادث ہے اور اپنی ذات میں واجب الوجود ہے
3۔ واجب الوجود غیر محتاج ہے
4۔ غیر محتاج موجود کیلئے کسی علت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لئے وہ کسی علت کی معلول نہیں ہوتی
اس ترتیب میں خدا کو محض اس لیے علت سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا کہ مذہبی عقیدہ ایسا چاہتا ہے، بلکہ خدا کے وجود کی نوعیت ہی مخلوقات سے مختلف قرار دی گئی ہے۔
کائنات کو بھی بے علت کیوں نہ مان لیا جائے؟
اب اصل اعتراض کی طرف واپس آتے ہیں: ’’ اگر خدا کو بے علت مانا جاسکتا ہے تو کائنات کو کیوں نہیں؟‘‘
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کائنات کے بارے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ وہ بھی واجب الوجود ہے، یعنی اس کا عدم محال اور اس کا وجود کسی خارجی حقیقت کا محتاج نہیں۔ لیکن کائنات کے اجزاء اور ان کی حالتیں واضح طور پر تغیر، ترکیب، امکان اور وابستگی کی خصوصیات رکھتی ہیں۔
ایک چیز جو مختلف حالتوں میں ہوسکتی ہے، جو وجود میں آتی اور ختم ہوتی ہے، جس کے اجزاء باہم مربوط ہیں اور جو اپنی موجودہ صورت کے لیے مختلف شرائط پر منحصر ہے، اسے بذاتِ خود واجب الوجود قرار دینے کے لیے الگ دلیل درکار ہوگی۔
لہٰذا صرف یہ کہنا کہ ’’خدا کو علت کے بغیر مانتے ہیں، اس لیے کائنات کو بھی علت کے بغیر مان لیں‘‘منطقی طور پر کافی نہیں۔ دونوں کے وجودی مقام کو پہلے واضح کرنا ضروری ہے۔ اسلامی فلسفے میں یہی فرق واجب اور ممکن کے درمیان قائم کیا جاتا ہے۔
نہج البلاغہ کا فلسفیانہ پیغام
نہج البلاغہ کی مذکورہ تعبیرات سے خدا کے وجود کے بارے میں ایک واضح تصور سامنے آتا ہے۔ خدا کوئی ایسا موجود نہیں جو کائنات کے اندر کسی مقام پر موجود ہو اور پھر یہ سوال کیا جائے کہ اسے کس نے پیدا کیا۔ بلکہ وہ تمام مخلوقات کے وجود کی بنیاد اور ان کا خالق ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ، وَلَا يَنَالُهُ غَوْصُ الْفِطَنِ، الَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ، وَلَا نَعْتٌ مَوْجُودٌ، وَلَا وَقْتٌ مَعْدُودٌ، وَلَا أَجَلٌ مَمْدُودٌ.۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 1)
ترجمہ: ’’ وہ ذات جس تک بلند سے بلند ہمتوں کی پرواز بھی نہیں پہنچ سکتی، اور جس کی حقیقت تک گہری سے گہری فکری بصیرت بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔ وہ ایسی ذات ہے کہ اس کی صفت کے لیے کوئی محدود حد نہیں، نہ کوئی متعین وصف ہے، نہ کوئی شمار کیا ہوا وقت، اور نہ کوئی مقررہ مدت۔‘‘
یعنی خدا کی حقیقت انسانی فکر کی محدود رسائی سے ماورا ہے، اور اس کی ذات مخلوقات کی طرح محدود و متعین نہیں۔
اس طرح نہج البلاغہ خدا کو مخلوق کی جنس میں شامل نہیں کرتا بلکہ اسے خالق، ازلی، غیر حادث اور غیر محتاج قرار دیتا ہے۔ یہی فرق ’’خدا کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ جیسے اعتراض کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اس طرح امام علیؑ کا تصورِ خدا جدید الحاد کے اس اعتراض کا جواب فراہم کرتا ہے کہ خدا کو کائنات کے اندر ایک مزید حادث وجود سمجھنا ہی بنیادی غلطی ہے۔
3۔ ملحدین کا تیسرا اعتراض : کائنات ازل سے اسی طرح موجود ہے
جدید ملحدین کہتے ہیں کہ ’’ یہ کائنات ازل سے اسی طرح موجود ہے، اس لئے اسے کسی خالق یعنی خدا کی ضرورت نہیں ہے ‘‘۔ چنانچہ برٹرینڈ رسل نے واضح طور پر یہ موقف پیش کیا کہ کائنات کے لیے کسی خارجی خالق کو فرض کرنا ضروری نہیں، کیونکہ ممکن ہے کائنات کی کوئی ابتدا ہی نہ ہو اور وہ ہمیشہ سے موجود ہو۔
(Bertrand Russell, Why I Am Not a Christian and Other Essays on Religion and Related Subjects, Simon & Schuster, 1957، مضمون: “Why I Am Not a Christian”، section: “The First-cause Argument”.)
نہج البلاغہ کا جواب
امام علیؑ فرماتے ہیں:
الَّذِي ابْتَدَعَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ امْتَثَلَهُ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 1)
ترجمہ: ’’وہی ہے جس نے مخلوقات کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا۔‘‘
مزید فرمایا:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلاً عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 91)
ترجمہ: ’’پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے وجود کی حجت اور اس کی طرف رہنمائی بن گئی‘‘۔
تنقیدی تحلیل
جیسا کہ بیان ہوا کہ بعض جدید ملحد مفکرین جیسے برٹرینڈ رسل، یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ کائنات کے وجود کے لیے کسی خالق کو ماننا ضروری نہیں، کیونکہ ممکن ہے کائنات ہمیشہ سے موجود ہو اور اس کی کوئی ابتدا نہ ہو۔ برٹرینڈ رسل نے اسی نوعیت کے استدلال کے تحت کہا کہ یہ فرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی کوئی ابتدا ضرور تھی۔ اس تصور میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کائنات ازلی اور خود قائم ہے تو پھر اس کے وجود کی کسی خارجی علت یا خالق کو تسلیم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟
نہج البلاغہ میں امام علیؑ کی بعض عبارات اس مسئلے کو ایک بنیادی فلسفیانہ زاویے سے دیکھنے کی رہنمائی کرتی ہیں۔
آپؑ فرماتے ہیں:
الَّذِي ابْتَدَعَ الْخَلْقَ عَلَىٰ غَيْرِ مِثَالٍ امْتَثَلَهُ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ’’وہی ہے جس نے مخلوقات کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا۔‘‘
اس عبارت میں امامؑ کائنات اور خدا کے درمیان ایک بنیادی فرق واضح کرتے ہیں: خدا خالق ہے اور کائنات مخلوق۔
بَدْع اور خَلْق میں بنیادی فرق
عربی میں بَدْع اور خَلْق دونوں تخلیق کے مفہوم سے متعلق ہیں، لیکن ان میں ایک اہم فرق ہے:
1: خَلْق: کسی چیز کو ایک انداز، تناسب اور ترتیب کے ساتھ وجود دینا۔ اس میں پہلے سے موجود مادّے یا کسی سابق نمونے کا تصور ہو سکتا ہے۔
2: بَدْع: کسی چیز کو بغیر سابقہ نمونے، مثال یا پیشگی نظیر کے پہلی مرتبہ وجود میں لانا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کو بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کہا گیا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے وجود بخشنے والا۔
’’اِبتِدَاعْ‘‘ کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ خدا نے کسی پہلے سے موجود نمونے کی نقل کرتے ہوئے چیزیں بنائیں، بلکہ یہ کہ اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے وجود بخشا، جبکہ خود کسی سابقہ مخلوق یا نمونے کا محتاج نہیں۔ دوسرے الفاظ میں بدع چیزوں کو عدم سے وجود میں لانا ہے۔
اس سے الحادی دعوے پر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کائنات کو ازلی مانا جائے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کائنات اپنے وجود میں بھی خود کفیل اور غیر محتاج ہے؟ محض یہ کہنا کہ ’’کائنات ہمیشہ سے موجود ہے‘‘ اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ وہ کیوں موجود ہے اور اس کی موجودہ حقیقت کس بنیاد پر قائم ہے؟
یہاں ازلیت اور خدا سے بے نیازی کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ فرض کریں کہ کوئی شخص زمانی اعتبار سے کائنات کو ازلی مان بھی لے، تب بھی یہ لازماً ثابت نہیں ہوتا کہ کائنات واجب الوجود ہے۔ فلسفیانہ سوال صرف یہ نہیں کہ کائنات کب وجود میں آئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا وجود اپنی ذات سے ہے یا کسی علت و بنیاد کا محتاج ہے۔
امام علیؑ کا دوسرا ارشاد اسی نکتے کو مزید واضح کرتا ہے:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 91)
ترجمہ: ’’پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے لیے حجت اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل بن گئی۔‘‘
یہاں امامؑ مخلوقات کو خدا کے وجود کی علامت اور دلیل قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات محض ایک بے توضیح حقیقت نہیں بلکہ اس کی ساخت، نظم، وابستگی اور وجود اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو اس کا خالق و مدبر ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص کہے کہ ’’کائنات ازل سے موجود ہے، اس لیے خدا کی ضرورت نہیں‘‘ تو امام علیؑ کے کلام کی روشنی میں جواب یہ ہوگا کہ: ’’ازلیتِ زمانی کو ثابت کر بھی دیا جائے تو خدا سے بے نیازی خود بخود ثابت نہیں ہوتی۔ کسی چیز کا ہمیشہ سے موجود ہونا اور اس کا اپنے وجود میں کسی علت کا محتاج نہ ہونا دو الگ دعوے ہیں۔‘‘
مثلاً فلسفیانہ طور پر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر کائنات کی ہر چیز متغیر، مرکب، محدود اور وابستہ ہے تو مجموعۂ کائنات کی بنیادی حقیقت کیا ہے؟ اگر اس کا وجود ذاتی اور ضروری نہیں تو اس کے وجود کی توضیح کسی ایسی حقیقت میں تلاش کرنا ہوگی جو خود کسی خارجی علت کی محتاج نہ ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں’’ واجب الوجود‘‘ اور ’’ممکن الوجود‘‘ کا فلسفیانہ فرق اہم ہو جاتا ہے۔ ممکن الوجود وہ ہے جس کا وجود اپنی ذات سے ضروری نہیں؛ وہ موجود بھی ہوسکتا ہے اور موجود نہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے وجود کی توضیح کے لیے علت کا محتاج ہے۔ اس کے برعکس واجب الوجود وہ ہے جس کا وجود اس کی ذات سے ضروری ہے اور جو کسی خارجی علت کا محتاج نہیں۔
چنانچہ ’’کائنات ازلی ہے‘‘ کا دعویٰ زیادہ سے زیادہ زمانی ابتدا کے سوال کو چیلنج کرتا ہے؛ یہ لازماً وجودی علت کے سوال کو ختم نہیں کرتا۔ اگر کائنات زمانی طور پر قدیم بھی فرض کی جائے، تب بھی یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے واجب ہے یا کسی بنیادی علت پر قائم ہے۔
امام علیؑ کا کلام اسی دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ،
یعنی مخلوقات اپنے وجود اور خصوصیات کے ذریعے اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں جس نے انہیں وجود بخشا ہے۔
اس طرح نہج البلاغہ کی روشنی میں ملحد کے دعوے کا جواب صرف یہ نہیں کہ ’’کائنات کا آغاز ہوا ہے‘‘، بلکہ اس سے زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کائنات کا وجود اپنی ذات سے ہے یا اسے کسی بنیادی حقیقت کی ضرورت ہے؟ اگر کائنات خود واجب الوجود نہیں تو اس کا محض ازلی ہونا اسے خدا سے بے نیاز نہیں کرتا۔
لہٰذا امام علیؑ کے ارشادات ہمیں یہ فلسفیانہ نکتہ سمجھاتے ہیں کہ خالق کی ضرورت کا سوال صرف ’’کائنات کب شروع ہوئی؟‘‘ کا سوال نہیں؛ اصل سوال ’’کائنات کا وجود کس بنیاد پر قائم ہے؟‘‘ ہے۔ نہج البلاغہ مخلوق کے وجود کو خالق کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل قرار دیتا ہے، اور یہی نقطہ ازلیتِ کائنات کے الحادی استدلال کی بنیادی کمزوری کو واضح کرتا ہے۔
4۔ ملحدین کا چوتھا اعتراض: خدا کے وجود پر کوئی مضبوط اور قانع کرنے والی دلیل موجود نہیں
ملحدین یہ کہتے ہیں کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کیلئے کوئی سائنسی دلیل موجود نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں جو عقلی دلائل پیش کی جاتی ہیں وہ مضبوط نہیں ہیں۔ اس لئے ہم خدا کو تسلیم نہیں کرتے۔
نہج البلاغہ کا جواب
شیعہ فلاسفہ اور علماء نے وجود خدا پر نہایت متین دلائل پیش کی ہیں ۔ لیکن ان میں سے ا کثر دلیلیں قیاسی اور استنباطی، یعنی خالص عقلی ہیں۔ ملحدین چونکہ بنیادی طور سے مادہ پرست ہوتے ہیں، اس لئے خالص عقلی دلائل سے وہ کم ہی قانع ہوتے ہیں ۔ البتہ ان میں سے ایک دلیل ایسی ہے جو استقرائی اور حسی بھی ہے اور عقلی بھی۔ اس دلیل کو ’’برہان نظم‘‘ کہتے ہیں ۔
نظمِ عالم اور علتِ غائی
’’برہان نظم وغایت‘‘ وجود خدا کی ایک اہم دلیل ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کائنات اور انسان کی اپنی ذات میں غور و فکر سے ہر شخص اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ ان میں غیر معمولی نظم وترتیب اور غرض و غایت و مقصدیت ہے ۔ نظم و ترتیب اور غرض و غایت ایک باشعور ہستی کی طرف دلالت کرتی ہیں۔ یوں یہ ملحدین کے اس بیان کو رد کرتی ہے کہ کائنات اندھے بہرے اور بے شعور مادے کے اتفا قی فعل و انفعال سے وجود میں آئی ہے۔
امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں برہان نظم کے موضوع پر متعدد مقامات پر گفتگو فرمائی ہے۔ یہاں بطور مثال دو فرامین پیش کئے جاتے ہیں:
1۔ وَكَذَلِكَ السَّمَاءُ وَالْهَوَاءُ، وَالرِّيَاحُ وَالْمَاءُ، فَانْظُرْ إِلَى الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَالنَّبَاتِ وَالشَّجَرِ، وَالْمَاءِ وَالْحَجَرِ، وَاخْتِلَافِ هَذَا اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَتَفَجُّرِ هَذِهِ الْبِحَارِ، وَكَثْرَةِ هَذِهِ الْجِبَالِ، وَطُولِ هَذِهِ الْقِلَالِ، وَتَفَرُّقِ هَذِهِ اللُّغَاتِ، وَالْأَلْسُنِ الْمُخْتَلِفَاتِ. (نہج البلاغہ۔خطبہ 185)
ترجمہ: ’’اسی طرح آسمان، فضا، ہوائیں اور پانی کو دیکھو۔ پھر سورج اور چاند، نباتات اور درخت، پانی اور پتھر، رات اور دن کے باہم مختلف ہونے، ان سمندروں کے پھوٹ پڑنے، ان پہاڑوں کی کثرت، ان بلند پہاڑوں کی چوٹیوں کی بلندی، اور زبانوں کے باہمی اختلاف اور مختلف بولیوں پر غور کرو۔‘‘
2۔ فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ خَلْقًا صَامِتًا، فَحُجَّتُهُ بِالتَّدْبِيرِ نَاطِقَةٌ، وَدَلَالَتُهُ عَلَى الْمُبْدِعِ قَائِمَةٌ۔ (نہج البلاغہ۔ خطبہ 91)
ترجمہ: ’’پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے لیے حجت اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل بن گئی۔ اگرچہ وہ مخلوق بظاہر خاموش ہے، لیکن اس کی تدبیر خدا کی حجت کو گویا بنا دیتی ہے اور اس کا وجود اس کے پیدا کرنے والے پر واضح دلیل قائم کرتا ہے۔‘‘
تنقیدی تحلیل
امام علیؑ کے ان ارشادات میں کائنات کے نظم و تدبیر کو خدا کے وجود اور اس کی صفاتِ علم، حکمت اور قدرت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔ امامؑ محض کائنات کے وجود کی طرف توجہ نہیں دلاتے بلکہ اس کے منظم نظام، باہمی ارتباط، تنوع اور مقصدیت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
1۔ کائنات کا نظم، اتفاق سے مختلف ہے
امامؑ سورج، چاند، نباتات، درخت، پانی، پتھر، رات اور دن، سمندر، پہاڑ اور انسانی زبانوں کے اختلاف کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ تمام مظاہر اپنی جگہ مختلف ہیں، لیکن ان میں ایک مربوط نظام پایا جاتا ہے۔ مثلاً رات اور دن کا مسلسل تعاقب، نباتات کا مخصوص نظامِ نمو، پانی کا زندگی کے لیے بنیادی کردار اور مختلف مخلوقات کا باہمی انحصار اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات محض بے ربط اجزا کا مجموعہ نہیں۔
2۔ نظم، علم و شعور کی طرف رہنمائی کرتا ہے
امامؑ فرماتے ہیں:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ۔
یعنی’’ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز خود اس کے وجود کی حجت اور دلیل بن گئی۔‘‘
یہاں استدلال یہ ہے کہ جس نظام میں مخصوص ترتیب، تناسب، باہمی ارتباط اور قوانین کی پابندی پائی جائے، وہ ایک ایسے مدبّر کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس نظام کو علم اور شعور کے ساتھ قائم کرتا ہے۔ جس طرح کسی منظم تحریر سے مصنف کے علم کا سراغ ملتا ہے، اسی طرح کائنات کا منظم نظام ایک عالم و مدبّر خالق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
3۔ خاموش مخلوقات بھی ’’بولتی‘‘ ہیں
امامؑ کا نہایت بلیغ جملہ ہے:
وَإِنْ كَانَ خَلْقًا صَامِتًا، فَحُجَّتُهُ بِالتَّدْبِيرِ نَاطِقَةٌ۔
’’اگرچہ مخلوقات بظاہر خاموش ہیں، لیکن ان کی تدبیر خود ایک گویا دلیل ہے۔‘‘
یعنی کائنات خدا کے وجود کے بارے میں زبان سے کوئی دعویٰ نہیں کرتی، مگر اس کا نظم، تناسب اور تدبیر ایک عقلی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے جدید فلسفیانہ اصطلاح میں دلیلِ نظم (Argument from Design / Order) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
4۔ نظم سے حکمت اور قدرت کا اثبات
اس استدلال کا دائرہ صرف ’’خالق کے وجود‘‘ تک محدود نہیں رہتا۔ کائنات کا پیچیدہ اور مربوط نظام خالق کی متعدد صفات کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے:
1۔ علم: کیونکہ منظم نظام کے لیے مناسب علم درکار ہے۔
2۔ قدرت: کیونکہ اس وسیع نظام کو وجود دینا اور برقرار رکھنا قدرت کا تقاضا ہے۔
3۔ حکمت: کیونکہ مختلف اجزا کا باہمی تناسب اور مناسب ترتیب حکمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
4۔ تدبیر: کیونکہ کائنات کے اجزا ایک دوسرے سے مربوط اور ایک منظم نظام میں کارفرما ہیں۔
اسی لیے امامؑ فرماتے ہیں:
وَدَلَالَتُهُ عَلَى الْمُبْدِعِ قَائِمَةٌ۔ ’’یعنی ہر مخلوق کی اپنے مُبدِع کی طرف رہنمائی قائم ہے۔‘‘
فلسفیانہ خلاصہ
امام علیؑ کا استدلال یوں مختصر کیا جا سکتا ہے: ’’کائنات میں پایا جانے والا نظم و تناسب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم تدبیر کارفرما ہے، اور تدبیر اپنے اندر علم و قدرت کی ضرورت رکھتی ہے؛ لہٰذا کائنات کا مربوط اور حکیمانہ نظام ایک ایسے عالم، قادر اور حکیم مُبدِع کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس پورے نظام کا خالق اور مدبّر ہے۔‘‘
اس طرح امامؑ انسان کو صرف یہ نہیں کہتے کہ ’’کائنات کو دیکھو‘‘ بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ کائنات کے اندر موجود نظم کو عقلی طور پر پڑھو؛ کیونکہ مخلوقات خاموش ہیں، مگر ان کا نظم اپنے خالق کے بارے میں ایک ’’گویا دلیل‘‘ ہے۔
5۔ ملحدین کا پانچواں اعتراض: حسیت پرستی پر اصرار
حسیت پرستی سے مراد ’’ایسا فکری رویہ ہے جس میں انسان صرف حواس سے حاصل ہونے والے مشاہدے اور تجربے کو معتبر علم کا بنیادی یا واحد ذریعہ سمجھتا ہے، اور ان حقائق کو تسلیم کرنے میں تردد کرتا ہے جو براہِ راست حواس سے محسوس نہیں کیے جاسکتے۔‘‘ فلسفے میں اسے عموماً حسیت (Empiricism) یا تجربیت پسندی کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حسیت پرست کا بنیادی رجحان یہ ہوتا ہے: ’’جو چیز دیکھی، سنی، چھوئی، چکھی یا تجربے کے ذریعے ثابت کی جاسکے، وہی قابلِ اعتماد علم ہے۔‘‘
مثلاً:
1۔ خدا کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا، لہٰذا حسیت پسند اس کے وجود کے ثبوت کا مطالبہ حسی تجربے کی بنیاد پر کرسکتا ہے۔
2۔ روح کو براہِ راست حواس سے نہیں دیکھا جاسکتا، اس لیے اس کے وجود کو بھی سوال کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
3۔ آخرت، فرشتے اور وحی بھی حسی مشاہدے سے باہر ہیں، اس لیے محض حسیت کی بنیاد پر ان کے بارے میں علم کا انکار کیا جاسکتا ہے۔
البتہ حسیت اور سائنسی تجربہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سائنس بھی مشاہدے اور تجربے کو بنیادی اہمیت دیتی ہے، لیکن سائنس میں بہت سے حقائق ایسے ہیں جو براہِ راست حواس سے محسوس نہیں ہوتے بلکہ ان کے آثار، نتائج، ریاضیاتی ماڈلز اور بالواسطہ شواہد سے معلوم ہوتے ہیں۔
مثلاً ایٹم، الیکٹران، کششِ ثقل یا بلیک ہول کو عام انسانی حواس براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ان کے اثرات اور تجرباتی شواہد کی بنیاد پر ان کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے۔
اسی لیے خدا کے وجود کے فلسفیانہ مسئلے میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ’’: کیا ہر وہ حقیقت جسے حواس براہِ راست نہیں پا سکتے، لازماً غیر موجود ہوتی ہے؟‘‘
فلسفۂ اسلامی کا جواب نفی میں ہے۔ اسلامی معرفت میں حس، عقل اور وحی علم کے مختلف ذرائع ہیں۔ حواس مادی عالم کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، جبکہ عقل ایسے حقائق پر بھی استدلال کرسکتی ہے جو حسی تجربے سے براہِ راست ماورا ہوں۔
حسیت پرستی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ علم کے دائرے کو حسی تجربے تک محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے، حالانکہ خود یہ دعویٰ کہ ’’صرف حسی طور پر قابلِ مشاہدہ چیز ہی قابلِ علم ہے‘‘ ایک ایسا فلسفیانہ دعویٰ ہے جسے محض حسی تجربے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ملحدین مادہ پرست ہوتے ہیں، اس لئے وہ زیادہ تر حسیت پرست ہوتے ہیں ۔ اسی لئے ان کا ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ ’’اگر کوئی خدا موجود ہے، جو اس پوری کائنات کا خالق، مالک اور ناظم ہے تو وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا ؟ اگر وہ نظر آجائے تو ہم اس پر ایمان لا ئیں گے، ورنہ ہم کسی ان دیکھے خدا کے وجود کو نہیں مانتے ‘‘۔
نہج البلاغہ کا جواب
محدود نگاہ
نہج البلاغہ میں امیرا لومنینؑ مادہ پرستی کی بنیادی وجہ بیان فرماتے ہیں، اور وہ ہے محدود نگاہ اور بصیرت کا فقدان۔
چنانچہ آپؑ خطبہ متقین میں متقین کی صفات میں ارشاد فرماتے ہیں:
عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ، فَصَغُرَ مَا دُونَهُ فِي أَعْيُنِهِمْ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 193، خطبۂ متقین)
’’خالق ان کے نفسوں میں عظیم ہو گیا، تو اس کے سوا ہر چیز ان کی نگاہوں میں چھوٹی ہو گئی۔‘‘
اس عبارت میں ایک نہایت گہرا معرفتِ الٰہی کا اصول بیان ہوا ہے۔ امامؑ انسان کی نگاہ کے دو مختلف رخ سامنے رکھتے ہیں: ایک وہ نگاہ جو خالق تک پہنچتی ہے اور دوسری وہ جو صرف مخلوق کی حدود میں محصور رہ جاتی ہے۔
مادہ پرستانہ تصورِ کائنات میں بنیادی طور پر مادہ اور اس کے قوانین ہی حقیقتِ نهایی سمجھے جاتے ہیں۔ انسان کائنات کے مظاہر، مادّی اجزا، طبیعی قوانین، حرکت، توانائی اور اسباب کا مشاہدہ کرتا ہے اور انہی کو حقیقت کی آخری سطح سمجھ لیتا ہے۔ چنانچہ اس کی نگاہ موجودات سے آگے وجود کے سرچشمے کی طرف نہیں اٹھتی۔ وہ یہ سوال تو کرتا ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، لیکن اس سے آگے یہ بنیادی سوال اس کے سامنے نہیں رہتا کہ یہ کائنات اصلاً موجود کیوں ہے اور اس کے وجود کی آخری بنیاد کیا ہے؟
یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جس کی طرف مذکورہ عبارت کے دوسرے حصے: فَصَغُرَ مَا دُونَهُ فِي أَعْيُنِهِمْ میں اشارہ ملتا ہے۔ مومن کی نگاہ میں مخلوقات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر وہ مطلق اور آخری حقیقت نہیں ہیں۔ جب خالق کی عظمت کا شعور پیدا ہوتا ہے تو مخلوق اپنی محدود حیثیت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس جب خالق کا تصور ہی ذہن سے خارج ہو جائے تو مخلوق اور مادی کائنات ہی انسان کی فکری دنیا کی آخری حد بن سکتی ہے۔
اس اعتبار سے حضرت علیؑ کا کلام ایک اہم فکری نکتہ پیش کرتا ہے: کائنات کا مشاہدہ اگر انسان کو صرف مخلوق تک محدود رکھ دے تو اس کی نگاہ ظواہر پر رک جاتی ہے؛ لیکن اگر یہی مشاہدہ اسے خالق کی طرف متوجہ کرے تو مخلوق آیت بن جاتی ہے۔ یعنی فرق صرف اس بات میں نہیں کہ انسان کیا دیکھتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ جو کچھ دیکھتا ہے، اسے کس فلسفیانہ افق میں سمجھتا ہے۔
خالق کی لا محدودیت اور حواس کی محدودیت
نہج البلاغہ میں امام علیؑ نے اللہ تعالیٰ کے حواس سے ماورا ہونے، آنکھوں کے ادراک سے بلند ہونے، عقل کی محدودیت، اور مخلوقات کے ذریعے اس کی معرفت کی طرف رہنمائی کے بارے میں متعدد نہایت اہم ارشادات فرمائے ہیں۔ یہاں چند عبارات پیش کرتے ہیں:
1۔ حواس اور مشاہدات اللہ کا احاطہ نہیں کر سکتے
لَا تُدْرِكُهُ الشَّوَاهِدُ، وَلَا تُحِيطُ بِهِ الْمَشَاهِدُ، وَلَا تَرَاهُ النَّوَاظِرُ، وَلَا تَحْجُبُهُ السَّوَاتِرُ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 179)
ترجمہ: ’’حواس اس کا ادراک نہیں کرسکتے، مشاہدات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، نگاہیں اسے دیکھ نہیں سکتیں اور پردے اسے چھپا نہیں سکتے۔‘‘
2۔ آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں لیکن دلاسے ایمانی حقائق سے درک کرتے ہیں
لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ، وَلَكِنْ تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَانِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ119)
ترجمہ: ’’آنکھیں اسے براہِ راست دیکھ کر ادراک نہیں کرسکتیں، لیکن دل ایمان کی حقیقتوں کے ذریعے اس کا ادراک کرتے ہیں۔‘‘
یہ عبارت خاص طور پر حسیت پرستی کے جواب میں اہم ہے، کیونکہ امامؑ واضح فرماتے ہیں کہ حقیقت کا ادراک صرف ظاہری حواس تک محدود نہیں۔
3۔ عقلیں اس کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتیں
لَا يَتَوَهَّمُهُ الْقَلْبُ بِالتَّحْدِيدِ، وَلَا يَنْزِعُهُ الْعَقْلُ بِالتَّقْدِيرِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 91)
ترجمہ: ’’دل وہم و تصور کے ذریعے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کرسکتا، اور عقل بھی اسے کسی مقدار یا محدود شکل میں متعین نہیں کرسکتی۔‘‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عقل خدا کے بارے میں کوئی معرفت حاصل نہیں کرسکتی، بلکہ یہ کہ عقل خدا کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
4۔ عقل و فکر اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں
الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ، وَلَا يَنَالُهُ غَوْصُ الْفِطَنِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ’’وہ ذات جس تک بلند ترین ہمتوں کی پرواز بھی نہیں پہنچ سکتی اور گہری سے گہری فکری بصیرت بھی اس کی حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔‘‘
یہاں امامؑ خدا کی ماورائیت بیان فرماتے ہیں: انسانی فکر خدا کے وجود اور صفات کے بارے میں استدلال کرسکتی ہے، لیکن اس کی ذات کی حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتی۔
5۔ خدا حواس سے محسوس نہیں ہوتا، مگر عقل کے لیے اس کی نشانیاں موجود ہیں
جَلَّ عَنِ اتِّخَاذِ الْأَبْنَاءِ، وَطَهُرَ عَنْ مُلَامَسَةِ النِّسَاءِ، لَا تَنَالُهُ الْأَوْهَامُ فَتُقَدِّرَهُ، وَلَا تَتَوَهَّمُهُ الْفِطَنُ فَتُصَوِّرَهُ، وَلَا تُدْرِكُهُ الْحَوَاسُّ فَتُحِسَّهُ، وَلَا تَلْمِسُهُ الْأَيْدِي فَتَمَسَّهُ، وَلَا تَحْوِيهِ الْأَشْيَاءُ فَتُقِلَّهُ أَوْ تُهْوِيَهُ، أَوْ أَنْ شَيْئًا يَحْمِلُهُ فَيُمِيلَهُ أَوْ يُعَدِّلَهُ. لَيْسَ فِي الْأَشْيَاءِ بِوَالِجٍ، وَلَا عَنْهَا بِخَارِجٍ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 186)…
ترجمہ: ’’وہ بیٹوں کے اختیار کرنے سے منزہ ہے اور عورتوں سے جسمانی تعلق سے پاک ہے۔ خیالات اسے پا نہیں سکتے کہ اس کی کوئی صورت متعین کریں، نہ ذہانتیں اسے اپنے تصور میں لا سکتی ہیں کہ اس کی کوئی شکل بنا سکیں۔ حواس اسے ادراک نہیں کر سکتے کہ اسے محسوس کر سکیں، اور ہاتھ اسے چھو نہیں سکتے کہ اسے مس کر سکیں۔ نہ چیزیں اسے اپنے اندر سمیٹ سکتی ہیں کہ اسے اٹھائے پھریں یا گرا دیں، اور نہ کوئی چیز اسے اٹھائے ہوئے ہے کہ اسے کسی طرف جھکا دے یا سیدھا کر دے۔ وہ اشیاء میں اس طرح داخل نہیں کہ ان کا جزو بن جائے، اور نہ ان سے اس طرح خارج ہے کہ ان سے جدا ہو۔‘‘
اس اقتباس میں امام علیؑ اللہ تعالیٰ کی مادی اور جسمانی حدود سے تنزیہ بیان کرتے ہیں۔ امامؑ کی دلیل یہ ہے کہ جو چیز حواس کے ذریعے محسوس ہو، ہاتھ سے چھوئی جا سکے، کسی جگہ میں محدود ہو یا کسی مقام میں سما سکے، وہ لازماً محدود، متعین اور مادی خصوصیات رکھنے والی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان اوصاف سے منزہ ہے، کیونکہ وہ مخلوق کی طرح کسی مکان، جہت، جسم یا مادّی حدود کا محتاج نہیں۔
خاص طور پر یہ جملہ نہایت اہم ہے: وَلَا تَحْوِيهِ الْأَشْيَاءُ فَتُقِلَّهُ۔ یعنی’’ کوئی چیز اسے اپنے اندر سمیٹ کر اٹھائے ہوئے نہیں ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کسی مکان کا محتاج نہیں، بلکہ مکان اور تمام مخلوقات خود اس کی محتاج ہیں۔ اسی لیے امامؑ آگے فرماتے ہیں کہ وہ اشیاء میں حلول کرنے والا بھی نہیں اور ان سے خارج بھی نہیں۔
6۔ مخلوقات خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہیں
اسی موضوع سے متعلق ایک نہایت جامع ارشاد ہے:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 91)
ترجمہ: ’’پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے لیے حجت اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل بن گئی۔‘‘
یہاں امام علیؑ حسی مشاہدے اور خدا کی معرفت کے درمیان تعلق واضح کرتے ہیں: خدا خود حواس کا موضوع نہیں، لیکن حواس سے مشاہدہ ہونے والی مخلوقات اس کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
فلسفیانہ نتیجہ
ان ارشادات کو یکجا کیا جائے تو نہج البلاغہ کا تصور توحید یہ سامنے آتا ہے کہ:
خدا کو آنکھ سے نہ دیکھ پانا، خدا کے وجود کی نفی نہیں کرتا؛ کیونکہ حسی ادراک اور عقلی ادراک دو مختلف درجے ہیں۔
آنکھ خدا کو موضوعِ مشاہدہ نہیں بنا سکتی، لیکن عقل مخلوقات، نظم، حدوث، امکان اور آثارِ قدرت کے ذریعے اس کے وجود پر استدلال کرسکتی ہے۔ اسی لیے امام علیؑ ایک طرف فرماتے ہیں لَا تَرَاهُ النَّوَاظِرُ: ’’نگاہیں اسے نہیں دیکھ سکتیں‘‘ اور دوسری طرف فرماتے ہیں: فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ۔’’اس کی ہر مخلوق اس کی حجت اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل بن گئی۔‘‘ یہ دونوں ارشادات مل کر حسیت پرستی کے بنیادی دعوے کا جواب فراہم کرتے ہیں: ’’جو چیز حواس سے براہِ راست محسوس نہ ہو، ضروری نہیں کہ وہ ناقابلِ معرفت یا غیر موجود ہو۔‘‘
امام علیؑ کے یہ ارشادات جدید حسیت پرستی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر علم کا معیار صرف وہی چیز ہو جسے آنکھ سے دیکھا سکے یا تجربہ گاہ میں ناپا جاسکے، تو بہت سے غیر مادی حقائق علم کے دائرے سے باہر ہوجائیں گے۔ مثلاً منطق کے اصول، ریاضیاتی صداقتیں اور خود شعور کو کسی مادی شے کی طرح آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ہم انہیں ان کے آثار اور عقلی ضرورت کے ذریعے تسلیم کرتے ہیں۔
اسی اصول کو امام علیؑ خدا کے بارے میں استعمال کرتے ہیں۔ ’’خدا حسی مشاہدے کا موضوع نہیں، کیونکہ وہ مادی اور محدود وجود نہیں۔‘‘
لیکن یہاں ایک اہم تنقیدی فرق ہے: یہ کہنا کہ خدا کو حواس سے نہیں دیکھا جاسکتا، بذاتِ خود خدا کے وجود کا ثبوت نہیں۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’’حسی مشاہدہ نہ ہونا‘‘ خدا کے عدمِ وجود کی کافی دلیل نہیں۔ چنانچہ نہج البلاغہ کا استدلال حسیت پرستی کو چیلنج کرتا ہے، لیکن خدا کے وجود کے اثبات کے لیے دیگر عقلی مقدمات بھی ضروری رہتے ہیں۔
6۔ ملحدین کا چھٹا اعتراض:
چونکہ خدا کا وجود حسی تجربے سے قابل تصدیق نہیں، اس لئے یہ معرفتی معنی سے خالی ہے۔
منطقی اثباتیت (Logical Positivism) کے بعض مفکرین، خصوصاً اے۔ جے۔ ایئر (A. J. Ayer)، کے نزدیک کسی دعوے کے معرفتی معنی رکھنے کے لیے اس کا تجرباتی طور پر قابلِ تصدیق ہونا ضروری ہے۔ چونکہ خدا کا وجود براہِ راست حسی تجربے سے قابلِ تصدیق نہیں، اس لیے ایئر نے مذہبی اور مابعد الطبیعی قضیوں کو معرفتی معنی سے خالی قرار دیا۔
(A. J. Ayer, Language, Truth and Logic, 1936, “The Elimination of Metaphysics)
نہج البلاغہ کا جواب
امام علیؑ اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
لَمْ يُطْلِعِ الْعُقُولَ عَلَى تَحْدِيدِ صِفَتِهِ، وَلَمْ يَحْجُبْهَا عَنْ وَاجِبِ مَعْرِفَتِهِ۔ ( نہج البلاغہ، خطبہ 49)
ترجمہ: ’’اس نے عقلوں کو اپنی صفات کی تحدید تک رسائی نہیں دی، لیکن انہیں اپنی واجب معرفت سے بھی محروم نہیں کیا۔‘‘
تنقیدی تحلیل
یہ عبارت نہج البلاغہ کے معرفتی فلسفے کا نہایت اہم اصول پیش کرتی ہے: ’’عقل محدود ہے، لیکن بے کار نہیں۔‘‘
جیسا کہ بیان ہوا کہ جدید الحاد کے بعض رجحانات میں یہ تصور ملتا ہے کہ چونکہ خدا تجرباتی طور پر ثابت نہیں، اس لیے خدا کے بارے میں گفتگو بے معنی ہے۔ امام علیؑ کا موقف اس کے مقابل زیادہ متوازن ہے۔ آپ ؑ کے نزدیک عقل خدا کی ذات کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتی، لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا کے بارے میں کوئی معرفت ممکن نہیں۔
اس اصول کی جدید فلسفیانہ اہمیت یہ ہے کہ یہ دو انتہاؤں سے بچاتا ہے:
• ایک طرف یہ دعویٰ کہ انسان خدا کی ذات کو مکمل طور پر سمجھ سکتا ہے۔
• دوسری طرف یہ دعویٰ کہ خدا کے بارے میں کچھ بھی جاننا ممکن نہیں۔
نہج البلاغہ دونوں کے درمیان راستہ اختیار کرتی ہے: ’’خدا کی ذات کا احاطہ ناممکن، مگر خدا کی معرفت ممکن ہے‘‘۔
نہج البلاغہ میں خدا کے بارے میں ایک نہایت متوازن تصور سامنے آتا ہے: ’’انسان خدا کی ذات کی حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتا، لیکن اس کے وجود اور صفات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے‘‘۔ یعنی نہ تو خدا کو حسی تجربے کا محتاج بنایا گیا ہے، اور نہ یہ کہا گیا ہے کہ خدا چونکہ حواس سے ماورا ہے، اس لیے اس کے بارے میں کوئی معرفت ممکن نہیں۔
1۔ ذاتِ خدا کا احاطہ ممکن نہیں
امام علیؑ فرماتے ہیں:
الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ، وَلَا يَنَالُهُ غَوْصُ الْفِطَنِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ’’وہ ذات جس تک بلند ترین ہمتوں کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور گہری سے گہری فکری بصیرت بھی اس کی حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی عقل محدود ہے، جبکہ خدا کی ذات غیر محدود ہے۔ عقل خدا کے وجود کو سمجھ سکتی ہے، اس کی صفات کے بارے میں استدلال کرسکتی ہے، مگر خدا کی ذات کی کُنه اور حقیقت کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
ذِعلب یمانی نے امام علیؑ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ امامؑ نے جواب دیا: أَفَأَعْبُدُ مَا لَا أَرَى؟۔ ’’کیا میں اس ہستی کی عبادت کروں جسے میں دیکھتا نہیں؟‘‘
پھر فرمایا:
لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ، وَلَكِنْ تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَانِ۔ (نہج البلاغہ ۔ خطبہ 179)
’’آنکھیں اسے ظاہری مشاہدے کے ذریعے ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن دل اسے ایمان کی حقیقتوں کے ذریعے ادراک کرتے ہیں۔‘‘
یہاں تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ سے مراد یہ نہیں کہ قلب خدا کی ذات کو کسی حسی یا جسمانی صورت میں دیکھتا ہے، بلکہ دل/عقل، ایمان کے یقینی حقائق اور عقلی معرفت کے ذریعے خدا کے وجود اور صفات کا ادراک کرتا ہے۔
اسی خطبے میں امامؑ آگے فرماتے ہیں:
قَرِيبٌ مِنَ الْأَشْيَاءِ غَيْرُ مُلَامِسٍ، بَعِيدٌ مِنْهَا غَيْرُ مُبَايِنٍ۔
ترجمہ: ’’وہ تمام چیزوں کے قریب ہے، مگر انہیں چھوتا نہیں؛ اور ان سے دور ہے، مگر ان سے جدا نہیں۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ اپنی علم، قدرت اور احاطۂ وجودی کے اعتبار سے تمام مخلوقات کے قریب ہے، لیکن جسمانی قرب اور اتصال سے پاک ہے؛ اور مخلوقات سے اس طرح ’’دور‘‘ نہیں کہ ان سے کوئی حقیقی تعلق یا احاطہ نہ ہو۔
یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے: ’’خدا کا حسی ادراک ممکن نہیں، لیکن خدا کی معرفت ممکن ہے‘‘۔
2۔ خدا کی معرفت ممکن ہے
نہج البلاغہ کا آغاز ہی معرفتِ خدا سے ہوتا ہے:
أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ۔
ترجمہ: ’’ دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے۔‘‘
اگر خدا کی معرفت سرے سے ممکن ہی نہ ہوتی تو امام علیؑ ’’معرفت‘‘ کو دین کی ابتدا قرار نہ دیتے۔ لہٰذا نہج البلاغہ کے نزدیک خدا ناقابلِ احاطہ ضرور ہے، لیکن ناقابلِ معرفت نہیں۔
مزید فرمایا:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلًا عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 91)
ترجمہ: ’’پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے لیے حجت اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل بن گئی۔‘‘
یہ عبارت بتاتی ہے کہ انسان مخلوقات کے مشاہدے اور ان میں غور و فکر کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔
3۔ حسیت پرستی اور تشکیک دونوں سے مختلف موقف
اس تصور کو دو انتہاؤں سے ممتاز کیا جاسکتا ہے:
پہلی انتہا: ’’جو چیز حواس سے تجرباتی طور پر ثابت نہ ہو، وہ قابلِ معرفت نہیں۔‘‘
نہج البلاغہ اس کو قبول نہیں کرتی، کیونکہ خدا حسی موضوع نہیں، لیکن عقل و قلب کے ذریعے اس کی معرفت ممکن ہے۔
دوسری انتہا: ’’خدا چونکہ ماورائے حواس ہے، اس لیے انسانی عقل اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جان سکتی۔‘‘
یہ موقف بھی نہج البلاغہ کے مطابق درست نہیں، کیونکہ امام علیؑ فرماتے ہیں: أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ۔یعنی خدا کی معرفت ممکن اور دینی زندگی کی بنیاد ہے۔
4۔ معرفت اور احاطہ میں فرق
یہاں معرفت اور احاطہ کا فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مثلاً انسان یہ جان سکتا ہے کہ سورج موجود ہے، اس کی روشنی اور حرارت کے آثار کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ سورج کی پوری حقیقت کا احاطہ بھی کرچکا ہے۔
اسی طرح انسان خدا کے وجود، قدرت، حکمت، علم اور وحدانیت کے دلائل کو سمجھ سکتا ہے، لیکن خدا کی ذات کی کُنہ حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتا۔
چنانچہ نہج البلاغہ کا موقف یہ ہے: ’’خدا کو جانا جاسکتا ہے، لیکن خدا کی ذات کو گھیر کر نہیں جانا جاسکتا۔‘‘
یا فلسفیانہ زبان میں’’: معرفتِ خدا ممکن ہے، احاطۂ ذاتِ خدا ممکن نہیں۔‘‘
یہی نکتہ جدید حسیت پرستی کے اس دعوے کا بھی جواب فراہم کرتا ہے کہ ’’جو تجرباتی طور پر ثابت نہ ہو، اس کے بارے میں گفتگو بے معنی ہے‘‘۔نہج البلاغہ کے مطابق معرفت صرف حسی مشاہدے کا نام نہیں؛ عقل، فطرت، آثارِ کائنات اور ایمان کے حقائق بھی معرفت کے ذرائع ہیں۔
7۔ ملحدین کا ساتواں اعتراض : ’’اگر خدا رحیم ہے تو شر کیوں موجود ہے؟‘‘
یہ اعتراض فلسفۂ مذہب میں عموماً ’’مسئلۂ شر‘‘ (Problem of Evil) کہلاتا ہے۔ جدید الحادی فلسفے میں اسے خدا کے وجود کے خلاف اہم دلائل میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ سوال خدا کی قدرت، علم اور خیرِ مطلق کو دنیا میں موجود شر، ظلم اور تکلیف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے متعلق ہے۔
مسئلۂ شر کی بنیادی صورت
استدلال کو سادہ الفاظ میں یوں پیش کیا جاتا ہے:
1۔ اگر خدا ہر چیز پر قادر ہے، تو وہ شر اور تکلیف کو روک سکتا ہے۔
2۔ اگر خدا عالمِ مطلق ہے، تو وہ شر اور تکلیف کو جانتا ہے۔
3۔ اگر خدا خیرِ مطلق ہے، تو وہ بلاجواز شر اور تکلیف کو پسند نہیں کرے گا۔
4۔ لیکن دنیا میں شدید اور بظاہر بے مقصد شر موجود ہے۔
5۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا خدا دنیا میں شر کو کیوں باقی رکھتا ہے؟
اسی بنا پر بعض ملحد مفکرین یہ استدلال کرتے ہیں کہ دنیا میں موجود شر، خدا کے وجود کے ساتھ مشکل پیدا کرتا ہے۔
شر کی دو بنیادی قسمیں
فلسفۂ مذہب میں عموماً شر کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1۔ اخلاقی شر (Moral Evil):
وہ شر جو انسان کے اعمال سے پیدا ہوتا ہے، مثلاً قتل، جنگ، ظلم، دھوکا، استحصال اور ناانصافی۔
2۔ طبیعی شر (Natural Evil):
وہ تکالیف جو براہِ راست انسانی ارادے کا نتیجہ نہیں ہوتیں، مثلاً زلزلے، سیلاب، وبائیں، پیدائشی بیماریاں اور بعض قدرتی آفات۔
یہ تقسیم اس لیے اہم ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی جواب کافی نہیں ہوتا۔ اخلاقی شر کے سلسلے میں انسانی اختیار اور ذمہ داری کا سوال پیدا ہوتا ہے، جبکہ طبیعی شر کے سلسلے میں کائناتی نظام، قوانینِ فطرت اور انسانی محدودیت کا سوال سامنے آتا ہے۔
جدید الحاد کا زیادہ مشکل سوال: ’’بے مقصد شر‘‘
مسئلے کی سب سے پیچیدہ صورت صرف یہ نہیں کہ دنیا میں تکلیف موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ بعض تکالیف بظاہر بے مقصد اور غیر ضروری دکھائی دیتی ہیں۔مثلاً ایک معصوم بچے کی شدید تکلیف یا کسی قدرتی آفت میں بے شمار انسانوں کی ہلاکت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے:
’’اگر خدا قادرِ مطلق اور رحیم ہے تو ایسی تکلیف کی اجازت کیوں دی گئی جس کا کوئی واضح اخلاقی یا تربیتی مقصد نظر نہیں آتا؟‘‘
اسی کو فلسفۂ مذہب میں gratuitous evil یعنی ’’بے جواز یا غیر ضروری شر‘‘ کے مسئلے کے طور پر زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم منطقی فرق موجود ہے ۔ یہاں یہ فرق کرنا ضروری ہے کہ:
’’دنیا میں شر کا وجود خدا کے وجود کے ساتھ ایک مشکل پیدا کرتا ہے‘‘
اور
’’دنیا میں شر کا وجود خدا کے وجود کو منطقی طور پر ناممکن ثابت کرتا ہے‘‘
یہ دونوں ایک ہی دعویٰ نہیں ہیں۔
مذہبی فلسفے میں اس اعتراض کے جواب میں مختلف توضیحات پیش کی گئی ہیں، مثلاً:
1۔ انسانی اختیار و ارادہ کے بغیر اخلاقی ذمہ داری اور اخلاقی خیر کا تصور مشکل ہوجاتا ہے۔
2۔ بعض تکالیف انسانی شخصیت میں صبر، شجاعت، ہمدردی اور اخلاقی نشوونما کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
3۔ ایک محدود انسانی نقطۂ نظر سے کسی واقعے کا مقصد معلوم نہ ہونا اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ اس کا کوئی مقصد نہیں۔
4۔ اسلامی تصور میں دنیا امتحان اور تکلیف کی جگہ ہے، نہ کہ مکمل جزا و سزا کی آخری منزل؛ آخرت کا تصور مسئلۂ شر کے جواب کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
نہج البلاغہ کی روشنی میں مسئلہ شر کا جواب
امام علیؑ دنیا کو دارِ ابتلاء قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
أَلَا وَإِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارُ، وَغَدًا السِّبَاقُ، وَالسَّبَقَةُ الْجَنَّةُ، وَالْغَايَةُ النَّارُ۔ ( نہج البلاغہ، خطبہ 28)
ترجمہ: ’’آگاہ رہو! آج عمل کی تیاری اور میدان ہے، اور کل مقابلے کا دن ہے؛ کامیابی کا انعام جنت ہے اور انجام دوزخ۔‘‘
اس تصور میں دنیا کی مشکلات کو آخری اور مکمل حقیقت نہیں سمجھا جاتا۔ دنیا ایک امتحانی مرحلہ ہے، جبکہ انسانی اعمال کا مکمل نتیجہ آخرت میں ظاہر ہوگا۔
اسی طرح امام علیؑ فرماتے ہیں:
الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ۔
ترجمہ: ’’دنیا گزرنے کی جگہ ہے، ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔‘‘
لہٰذا اسلامی نقطۂ نظر سے مسئلۂ شر کا جواب صرف یہ نہیں کہ ’’شر کیوں ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی نوعیت کیا ہے، انسان کو اختیار کیوں دیا گیا ہے، آزمائش کا مقصد کیا ہے، اور آخرت کے بغیر شر و عدل کے مسئلے کی تکمیل کیسے ہوگی؟
امام علیؑ دنیا کے بارے میں فرماتے ہیں:
غُرُورٌ حَائِلٌ، وَضَوْءٌ آفِلٌ، وَظِلٌّ زَائِلٌ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 83)
ترجمہ: ’’دنیا ایک بدل جانے والا فریب، ڈوب جانے والی روشنی اور زائل ہوجانے والا سایہ ہے۔‘‘
اسلامی تصورِ عدل میں دنیا آخری منزل نہیں
نہج البلاغہ کے مطابق دنیا ایک کامل اور آخری نظام نہیں بلکہ عارضی زندگی اور امتحان کی جگہ ہے۔ اس تصور سے مسئلۂ شر کو ایک وسیع تر تناظر ملتا ہے۔
مسئلۂ شر کی شدت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب دنیا ہی کو انسانی زندگی کا مکمل اور آخری مرحلہ سمجھ لیا جائے۔ اگر کسی مظلوم کو دنیا میں انصاف نہ ملے اور ظالم سزا سے بچ جائے تو بظاہر یہ ایک ناقابلِ حل مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔
اسلامی تصور میں لیکن آخرت انسانی زندگی کی تکمیل ہے۔ دنیا میں ہونے والی ہر ناانصافی کا آخری فیصلہ دنیا میں ہونا ضروری نہیں۔ آخرت میں اعمال کا حساب، جزا اور سزا اس تصور کو مکمل کرتے ہیں۔ اس زاویے سے کسی مظلوم کی دنیاوی تکلیف کو ’’خدا کی طرف سے ظلم‘‘ قرار دینا اسلامی تصورِ آخرت کو نظرانداز کرنا ہوگا۔
اگر دنیا ہی مکمل اور آخری حقیقت ہو تو ہر تکلیف، ہر ناانصافی اور ہر موت کو حتمی معنویت کے ساتھ دیکھنا پڑے گا۔ لیکن اگر دنیا ایک عارضی مرحلہ ہے اور آخرت میں اعمال کا حساب ہونا ہے تو دنیا میں موجود تکلیف کو آخری حقیقت نہیں سمجھا جائے گا۔
مسئلۂ شر اور امام علیؑ کا ارشاد: ’’العدل أن لا تتهمه‘‘
امام علیؑ سے توحید اور عدل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؑ نے نہایت مختصر مگر گہرا جواب دیا:
التَّوْحِيدُ أَنْ لَا تَتَوَهَّمَهُ، وَالْعَدْلُ أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ۔ (نہج البلاغہ، حکمت 470)
ترجمہ: ’’توحید یہ ہے کہ اسے وہم و تصور میں محدود نہ کرو، اور عدل یہ ہے کہ اسے متہم نہ کرو۔‘‘
مسئلۂ شر کے تناظر میں اس قول کا دوسرا حصہ، وَالْعَدْلُ أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ، خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا میں موجود ظلم، درد اور تکلیف کے بارے میں سوال نہ کرے، یا ہر تکلیف کی حکمت کو جانے بغیر اسے درست قرار دے دے۔ بلکہ امامؑ ایک زیادہ بنیادی اصول کی طرف متوجہ کرتے ہیں: انسان اپنے محدود علم کی بنیاد پر خدا کے فعل کو ظلم قرار دینے میں جلدی نہ کرے۔
1۔ انسانی علم محدود ہے
مسئلۂ شر کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ انسان کسی واقعے کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ شر ’’بے مقصد‘‘ یا ’’بے جواز‘‘ ہے۔ لیکن کسی واقعے کے ظاہری طور پر بے مقصد دکھائی دینے اور حقیقتاً بے مقصد ہونے میں فرق ہے۔
انسان کسی واقعے کے صرف ایک محدود حصے کو دیکھتا ہے؛ وہ اس کے تمام اسباب، نتائج اور دور رس اثرات سے واقف نہیں ہوتا۔ اس لیے: ’’مجھے اس تکلیف کی کوئی حکمت نظر نہیں آتی‘‘ یہ دعویٰ: ’’اس تکلیف کی کوئی حکمت نہیں‘‘ کے برابر نہیں۔ امام علیؑ کا أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ اسی علمی احتیاط کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
2۔ شر کا وجود اور خدا کا ظلم کرنا ایک ہی دعویٰ نہیں
دنیا میں شر اور تکلیف کا موجود ہونا ایک مشاہداتی حقیقت ہے؛ لیکن اس سے براہِ راست یہ نتیجہ نکالنا کہ خدا ظالم ہے ایک اضافی فلسفیانہ مقدمہ ہے۔
مثلاً ایک ڈاکٹر کسی مریض کا آپریشن کرتا ہے۔ مریض کو درد ہوتا ہے، لیکن درد کا ہونا بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ڈاکٹر ظالم ہے۔ اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ درد کیوں پیدا کیا گیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔یہ مثال خدا کے تمام افعال کی مکمل توضیح نہیں، بلکہ صرف یہ واضح کرتی ہے کہ کسی تکلیف کا وجود بذاتِ خود ظلم کے مترادف نہیں۔
3۔ ’’العدل أن لا تتهمه‘‘ اندھی تقلید نہیں
امام علیؑ کا یہ قول انسان کو سوال کرنے سے نہیں روکتا۔ نہج البلاغہ خود انسان کو کائنات، انسان اور زندگی کے بارے میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا اس قول کا مفہوم یہ نہیں کہ: ’’دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اسے بغیر سوچے خدا کی حکمت قرار دے دو۔‘‘
بلکہ مفہوم یہ ہے کہ: ’’خدا کے عدل کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت انسانی علم کی محدودیت کو ملحوظ رکھو۔‘‘
یعنی عقل سوال کرے، اسباب تلاش کرے اور شر کے مسئلے پر غور کرے، لیکن محدود مشاہدے کو خدا کے خلاف قطعی فیصلہ نہ بنائے۔
4۔ انسانی اختیار اور اخلاقی شر
دنیا میں قتل، جنگ، ظلم، استحصال اور دھوکا جیسے بہت سے شر براہِ راست انسانی اعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر انسان کو حقیقی اختیار حاصل ہے تو اس اختیار کا غلط استعمال بھی ممکن ہوگا۔ لہٰذا ہر شر کو براہِ راست خدا کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ اخلاقی شر کے وجود میں انسانی ارادہ اور ذمہ داری کا بنیادی کردار ہے۔
یہاں مسئلۂ شر کا ایک اہم سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا ایسی دنیا، جس میں انسان کو حقیقی اخلاقی اختیار حاصل ہو، اس دنیا سے بہتر یا مختلف ہوگی جس میں انسان ہر برائی سے جبراً روک دیا جائے؟ یہ فلسفیانہ بحث الگ دلائل کا تقاضا کرتی ہے، لیکن اس سے واضح ہوتا ہے کہ شر کا مسئلہ محض ’’خدا قادر ہے، پھر شر کیوں ہے؟‘‘ تک محدود نہیں۔
5۔ امامؑ کا قول ایک معرفتی اصول بھی فراہم کرتا ہے
الْعَدْلُ أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ کو صرف اخلاقی جملہ سمجھنا اس کی گہرائی کو محدود کردے گا۔ یہ انسانی معرفت کے بارے میں بھی ایک اصول پیش کرتا ہے:
انسان کا علم محدود ہے، خدا کا علم غیر محدود۔ لہٰذا کسی واقعے کی حکمت کا ادراک نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس واقعے میں حکمت موجود نہیں۔
اس فرق کو فلسفیانہ زبان میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے: ’’عدمِ علم، عدمِ حکمت کی دلیل نہیں۔‘‘
یعنی ہمیں کسی شر کی حکمت معلوم نہ ہونا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ اس کی کوئی حکمت نہیں۔
نتیجہ بحث
مسئلۂ شر کے جواب میں امام علیؑ کا وَالْعَدْلُ أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ ایک بنیادی فکری اصول فراہم کرتا ہے۔ دنیا میں شر، ظلم اور تکلیف کا وجود ایک حقیقی سوال ہے جس پر سنجیدہ عقلی بحث ضروری ہے، لیکن انسانی محدود علم کی بنیاد پر خدا کو ظالم قرار دینا منطقی طور پر لازم نہیں۔
امام علیؑ کا پیغام یہ ہے کہ خدا کے افعال کو انسانی محدود مشاہدے کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے یہ فرض نہ کرلیا جائے کہ جو حکمت ہمیں دکھائی نہیں دیتی وہ حقیقت میں موجود بھی نہیں۔ عقل کو سوال، تحقیق اور استدلال کا حق حاصل ہے، لیکن اسے اپنی حدود کا شعور بھی ہونا چاہیے۔
اس طرح الْعَدْلُ أَنْ لَا تَتَّهِمَهُ مسئلۂ شر کا مکمل فلسفیانہ جواب نہیں، بلکہ اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے ایک بنیادی اصول فراہم کرتا ہے: شر کے وجود کی توضیح تلاش کرو، مگر خدا کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے پہلے انسانی علم کی محدودیت کو پیشِ نظر رکھو۔
مسئلۂ شر اور خدا کا وجود: اصول فلسفہ و روش رئالیسم کی روشنی میں
جیسا کہ پہلے بیان ہوا، خدا کے وجود پر اعتراضات میں مسئلۂ شر کو ایک اہم اور بنیادی اعتراض کی حیثیت حاصل ہے۔ مادہ پرست اور ملحد مفکرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر خدا موجود ہے، اور وہ قادرِ مطلق، عالمِ مطلق اور خیرِ محض ہے، تو دنیا میں بیماری، موت، فقر، ظلم، جنگ، زلزلے، سیلاب، نابینائی، معذوری اور دوسری تکالیف کیوں پائی جاتی ہیں؟ اگر خدا ہر چیز پر قادر ہے تو وہ شرور کو ختم کیوں نہیں کرتا؟ اور اگر وہ شرور کو ختم نہیں کر سکتا تو پھر اس کی قدرتِ مطلقہ پر سوال پیدا ہوتا ہے۔
علامہ طباطبائیؒ اور شہید مطہریؒ نے اصول فلسفہ و روش رئالیسم کی جلد 5، باب 14، صفحات 61 تا 66 میں اس مسئلے کا نہایت عمدہ جواب دیا ہے ۔ یہاں اس باب کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے :
علامہ طباطبائیؒ اور شہید مطہریؒ نے مسئلہ شر کا فلسفیانہ تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس مسئلۂ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ شر کی حقیقت کیا ہے۔ کیا شر ایک مستقل وجودی حقیقت ہے، یا وہ
کسی وجودی کمال کے فقدان اور نقص کے اعتبار سے شر کہلاتا ہے؟
شر کی حقیقت: وجودی یا عدمی؟
فلسفۂ اسلامی میں شر کی بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شر کوئی مستقل اور قائم بالذات وجود نہیں رکھتا۔ شر عموماً کسی خیر اور کمال کے فقدان سے عبارت ہے۔
مثلاً بیماری اس وقت شر ہے جب اسے صحت کے مقابلے میں دیکھا جائے۔ نابینائی اس لیے شر ہے کہ بینائی ایک کمال ہے اور اس کا فقدان نقصان ہے۔ جہالت اس لیے شر ہے کہ علم کمال ہے اور جہالت اس کمال سے محرومی ہے۔ فقر اس لیے شر ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں، جبکہ ظلم اس لیے شر ہے کہ عدل اور حق کا تحقق نہیں ہوتا۔
اس اعتبار سے شر کو ایک مستقل وجودی حقیقت سمجھنا درست نہیں۔ جس چیز کا وجود ہے، وہ اپنے وجود کے اعتبار سے خیر ہے، البتہ اس وجود کے اندر کوئی نقص، حد، فقدان یا محرومی پائی جائے تو اسی اعتبار سے اسے شر کہا جاتا ہے۔
چنانچہ خدا نے انسان کو پیدا کیا، جسم عطا کیا، حواس عطا کیے اور زندگی عطا کی؛ لیکن اگر کسی انسان میں بینائی نہ ہو تو "نابینائی” کو ایک مستقل وجود سمجھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ خدا نے نابینائی کو بھی اسی طرح پیدا کیا جیسے اس نے انسان کو پیدا کیا۔ نابینائی دراصل بینائی کے فقدان کا نام ہے۔
خیر وجودی اور شر عدمی
یہاں ایک اہم فلسفیانہ اصول سامنے آتا ہے کہ خیر کا تعلق وجود سے اور شر کا تعلق عدم و نقص سے ہے۔
وجود بذاتِ خود خیر ہے، کیونکہ وجود کمال کا حامل ہے۔ اس کے برعکس شر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی موجود میں اس کمال کا فقدان ہو جو اس کی نوعیت اور استعداد کے اعتبار سے اس کے لیے مناسب ہے۔
مثلاً آنکھ کا وجود خیر ہے، لیکن اس کی بینائی کا ختم ہوجانا شر ہے۔ انسانی زندگی خیر ہے، لیکن کسی بیماری کے نتیجے میں صحت کا زائل ہونا شر ہے۔ علم خیر ہے، لیکن جہالت علم کے فقدان کی وجہ سے شر ہے۔
لہٰذا خدا کی طرف سے وجود عطا کیے جانے اور شر کے پیدا ہونے کو ایک ہی درجے میں رکھنا درست نہیں۔ خدا وجود عطا کرتا ہے، جبکہ شر اکثر اسی وجود کی کسی خاص سطح پر موجود نقص یا فقدان سے متعلق ہوتا ہے۔
شر نسبی اور اضافی بھی ہے
شر کے مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بہت سی چیزیں بذاتِ خود شر نہیں ہوتیں بلکہ کسی نسبت اور تقابل کی وجہ سے شر شمار ہوتی ہیں۔
مثلاً آگ میں حرارت موجود ہے، اور حرارت انسان کے لیے بہت سے مواقع پر مفید ہے، لیکن یہی حرارت کسی خاص صورت میں انسان کے جسم کو جلا دے تو وہ نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح بارش زندگی کے لیے ضروری ہے، لیکن غیر معمولی مقدار میں یہی بارش سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی طبیعی واقعہ مختلف نسبتوں سے مختلف نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ لہٰذا دنیا کے بعض شرور کو مطلق اور مستقل حقیقت سمجھنے کے بجائے انہیں نظامِ طبیعت، اشیاء کے باہمی تعلق اور انسانی ضروریات کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
اگر شر عدمی ہے تو خدا نے ایسی دنیا کیوں بنائی؟
یہاں مسئلۂ شر کی ایک زیادہ گہری صورت سامنے آتی ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ شر بذاتِ خود مستقل وجود نہیں رکھتا تو سوال پھر بھی باقی رہتا ہے:
خدا نے ایسی دنیا کیوں پیدا کی جس میں شر کے پیدا ہونے کا امکان موجود ہے؟
اس سوال کا جواب عالمِ مادہ کی خصوصیات کو سمجھنے سے ملتا ہے۔ مادی دنیا تغیر، حرکت، ترکیب، تحلیل، تضاد، محدودیت اور فنا کا عالم ہے۔ یہاں موجودات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک نظام کے اندر کام کرتے ہیں۔
مثلاً انسان اگر جسم رکھتا ہے تو جسمانی بیماری کا امکان بھی موجود ہوگا۔ اگر زندگی ہے تو موت کا امکان بھی ہوگا۔ اگر انسان کو اختیار دیا گیا ہے تو غلط انتخاب کا امکان بھی موجود ہوگا۔ اگر دنیا میں طبیعی قوانین ایک منظم طریقے سے کام کرتے ہیں تو انہی قوانین کے نتیجے میں بعض مواقع پر ایسے واقعات بھی رونما ہوں گے جو کسی خاص فرد یا مخلوق کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا ایسی دنیا کا تصور جس میں مادی زندگی بھی ہو لیکن اس کے تمام لوازم ختم کردیئے جائیں، ایک فلسفیانہ مشکل پیدا کرتا ہے۔ اگر عالمِ مادہ میں نہ تغیر ہو، نہ فنا، نہ محدودیت، نہ تضاد اور نہ کسی چیز کے متاثر ہونے کا امکان، تو وہ عالمِ مادہ اپنی موجودہ نوعیت کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔
شرور نظامِ عالم کے لوازم میں
اس تناظر میں بعض شرور کو نظامِ عالم کے لوازم کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں زندگی ہے وہاں موت کا امکان ہے، جہاں جسم ہے وہاں بیماری کا امکان ہے، جہاں اختیار ہے وہاں غلط انتخاب کا امکان ہے، اور جہاں مادی نظام ہے وہاں مختلف طبیعی عوامل کے باہمی تصادم سے نقصان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شر اخلاقی اعتبار سے اچھا ہے یا انسان کو شر کے سامنے خاموش رہنا چاہیے۔ ظلم، بیماری اور مصیبت اپنی جگہ انسانی سطح پر قابلِ مذمت یا قابلِ تدارک ہوسکتے ہیں۔ فلسفیانہ بحث صرف یہ واضح کرتی ہے کہ کسی چیز کا انسان کے لیے نقصان دہ ہونا اور اس کا خدا کے وجود کے ساتھ منطقی تناقض پیدا کرنا دو الگ مسائل ہیں۔
انسانی اختیار اور اخلاقی شر
شر کی تمام اقسام کو ایک ہی درجے میں رکھنا بھی درست نہیں۔ ایک طرف طبیعی شرور ہیں، مثلاً بیماری، زلزلہ، سیلاب اور موت؛ دوسری طرف اخلاقی شرور ہیں، مثلاً ظلم، قتل، خیانت اور ناانصافی۔
اخلاقی شر کے سلسلے میں انسانی اختیار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر انسان کو حقیقی اختیار دیا گیا ہے تو اس کے نتیجے میں اچھے اور برے دونوں انتخاب کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو ایسا مجبور مخلوق بنا دینا کہ وہ کبھی ظلم یا گناہ کا انتخاب ہی نہ کرسکے، اس کے اختیار، اخلاقی ذمہ داری اور فضیلت کے مفہوم کو بھی ختم کردے گا۔
لہٰذا بعض اخلاقی شرور کو خدا کی طرف منسوب کرنے کے بجائے انسان کے غلط اختیار اور غلط استعمالِ آزادی سے متعلق سمجھنا چاہیے۔
شر کے مقابلے میں خیر کا وسیع نظام
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی ایک محدود واقعے کو پورے نظامِ عالم سے الگ کرکے دیکھنا درست نہیں۔ انسان کسی واقعے کے ایک جزوی پہلو کو دیکھ کر اسے شر سمجھ سکتا ہے، جبکہ اس واقعے کے وسیع تر نتائج اس کی نگاہ سے پوشیدہ ہوسکتے ہیں۔
مثلاً بیماری بذاتِ خود تکلیف دہ ہے، لیکن بیماری کا وجود انسان کو اپنی کمزوری، جسمانی حدود اور صحت کی قدر کا احساس بھی دلاتا ہے۔ اسی طرح مشکلات انسان کے اندر صبر، حوصلہ، عزم اور اخلاقی قوت پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مصیبت لازماً کسی ایک مخصوص خیر کے لیے ہی آئی ہے، بلکہ فلسفیانہ نکتہ یہ ہے کہ جزوی شر کو پورے نظام سے الگ کرکے دیکھنے سے مسئلے کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔
مسئلۂ شر اور ملحدانہ اعتراض
ملحدانہ استدلال میں کبھی یہ مقدمہ قائم کیا جاتا ہے:
1۔ کامل خدا شر کو ختم کرسکتا ہے
2۔ دنیا میں شر موجود ہے
3 ۔ لہٰذا کامل خدا موجود نہیں
لیکن اس استدلال کی صحت اس بات پر منحصر ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ کامل خدا کی طرف سے ایسی دنیا پیدا کرنا منطقی طور پر ناممکن ہے جس میں محدود شرور موجود ہوں۔
اسلامی فلسفہ اس مقدمے کو قبول نہیں کرتا۔ اس کے مطابق:
خدا خیرِ محض ہے، شر مستقل وجود نہیں رکھتا، عالمِ مادہ محدود اور متغیر ہے، اور بعض شرور اسی مادی نظام کی خصوصیات اور انسانی اختیار کے لازمی نتائج ہیں۔
لہٰذا محض دنیا میں شر کے وجود سے خدا کے وجود کی نفی منطقی طور پر لازم نہیں آتی۔
نتیجہ
اصول فلسفہ و روش رئالیسم کی بحث کا بنیادی خلاصہ یہ ہے کہ مسئلۂ شر کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے شر کی ماہیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ شر کوئی ایسا مستقل وجودی جوہر نہیں جسے خیر کی طرح الگ سے تخلیق کیا گیا ہو۔ بہت سے شرور کسی خیر کے فقدان، نقص، محدودیت یا نامناسب نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔
دنیا چونکہ مادی، محدود، متغیر اور علت و معلول کے نظام پر قائم ہے، اس لیے اس میں بعض نقصانات اور تکالیف کا پایا جانا اس نظام کی خصوصیات سے مربوط ہے۔ اسی طرح انسان کو اختیار دیے جانے کی وجہ سے اخلاقی شرور کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔
چنانچہ مسئلۂ شر کو خدا کے وجود کے خلاف ایک سادہ اور قطعی دلیل سمجھنا درست نہیں۔ اس مسئلے کا فلسفیانہ تجزیہ یہ دکھاتا ہے کہ شر کے وجود اور خدا کے وجود کے درمیان وہ منطقی تضاد ضروری نہیں جو بظاہر پہلی نظر میں محسوس ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر مسئلۂ شر کا اگلا اور زیادہ گہرا مرحلہ یہ سوال بنتا ہے کہ اگر خدا خیرِ محض ہے تو اس نے ایسے عالم کو کیوں منتخب کیا جس میں شرور کے امکانات موجود ہیں، اور اس انتخاب کا تعلق نظامِ احسن، اختیار، تکامل اور آخرت سے کیا ہے؟ یہ سوال مسئلۂ شر کو محض ”خدا ہے یا نہیں“ کی بحث سے نکال کر حکمتِ الٰہی اور نظامِ احسن کی بحث میں داخل کردیتا ہے۔
اس پوری بحث کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ’’مسئلہ شر کی بنیاد پر خدا کی ذات پر کوئی تہمت نہیں لگا یا جا سکتا ۔ کائنات کی بنیاد نظام احسن پر قائم ہے۔ اگر اس میں ’’شرور‘‘ نہ ہوتے تو یہ کامل اور احسن نہ ہوتا‘‘۔ البتہ ’’نظام احسن‘‘ کے اثبات کیلئے الگ بحث درکار ہے ۔
8۔ملحدین کا آٹھواں اعتراض : اگر خدا واقعی موجود ہے تو اتنے سارے مختلف مذاہب کیوں ہیں؟
جدید الحاد میں خدا کے وجود کے خلاف پیش کیے جانے والے اعتراضات میں ایک اہم اعتراض کثرتِ ادیان اور اختلافِ عقائد کا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر خدا واقعی ایک خارجی اور حقیقی وجود ہے، اور اگر اس نے انسان کو اپنی معرفت اور ہدایت کا راستہ بھی عطا کیا ہے، تو دنیا میں خدا کے بارے میں اتنے مختلف اور بعض اوقات باہم متضاد تصورات کیوں پائے جاتے ہیں؟ کوئی شخص ایک خدا کا قائل ہے، کوئی متعدد خداؤں کو مانتا ہے، کوئی خدا کو مادی یا انسانی صفات کا حامل سمجھتا ہے، کوئی خدا کو کائنات سے الگ تصور کرتا ہے اور کوئی سرے سے خدا ہی کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ اسی طرح مختلف مذاہب اپنے اپنے عقائد کو حق قرار دیتے ہیں۔
اس سے بعض ملحدین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کا ادراک نہیں بلکہ انسانی ذہن، ثقافت، خوف، معاشرتی ضرورت یا تاریخی حالات کی پیداوار ہے۔ اگر خدا ایک واضح اور حقیقی حقیقت ہوتا تو انسان اس کے بارے میں اس قدر مختلف آراء کا شکار نہ ہوتے۔
یہ اعتراض بظاہر قابلِ توجہ ہے، لیکن فلسفیانہ اعتبار سے اس میں ایک بنیادی منطقی مسئلہ ہے: ’’کسی حقیقت کے بارے میں انسانوں کا اختلاف، بذاتِ خود اس حقیقت کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں ہوتا‘‘۔ اس اعتراض کا صحیح تجزیہ کرنے کے لیے پہلے حقیقت، علم اور انسانی ادراک کے باہمی تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔
نہج البلاغہ کا جواب
اسی مقام پر نہج البلاغہ کا خطبہ 210 ایک نہایت گہری معرفتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔
خطبہ 210: اختلافِ علم کی بنیادی ساخت
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ مختلف فقہی آراء کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَدْ سَأَلَهُ سَائِلٌ عَنْ أَحَادِيثِ الْبِدَعِ، وَعَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ مِنَ اخْتِلَافِ الْخَبَرِ، فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ:
إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقًّا وَبَاطِلًا، وَصِدْقًا وَكَذِبًا، وَنَاسِخًا وَمَنْسُوخًا، وَعَامًّا وَخَاصًّا، وَمُحْكَمًا وَمُتَشَابِهًا، وَحِفْظًا وَوَهْمًا، وَلَقَدْ كُذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى عَهْدِهِ، حَتَّى قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 210)
"ایک شخص نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے بدعتی احادیث اور ان روایات کے باہمی اختلاف کے بارے میں سوال کیا جو لوگوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: ’’لوگوں کے درمیان موجود روایات میں حق بھی ہے اور باطل بھی، سچ بھی ہے اور جھوٹ بھی، ناسخ بھی ہے اور منسوخ بھی، عام بھی ہے اور خاص بھی، محکم بھی ہے اور متشابہ بھی، اور صحیح طور پر محفوظ کیا ہوا بھی ہے اور وہم و خطا پر مبنی بھی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں آپؐ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کی جانے لگیں، یہاں تک کہ آپؐ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘
اس اقتباس میں إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقًّا وَبَاطِلًا، وَصِدْقًا وَكَذِبًا، وَنَاسِخًا وَمَنْسُوخًا، وَعَامًّا وَخَاصًّا، وَمُحْكَمًا وَمُتَشَابِهًا، وَحِفْظًا وَوَهْمًا کی یہ مختصر عبارت انسانی معرفت کے بارے میں ایک بنیادی اصول پیش کرتی ہے۔’’انسان کے پاس موجود تمام معلومات یکساں درجے کی نہیں ہوتیں۔ کسی شخص کے پاس سچی معلومات بھی ہوسکتی ہیں اور غلط بھی؛ صحیح محفوظ شدہ بات بھی ہوسکتی ہے اور فہم یا حافظے کی غلطی بھی۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسئلے میں اختلاف دیکھ کر فوراً یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس مسئلے کی کوئی حقیقت موجود ہی نہیں۔ پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اختلاف حقیقت میں ہے یا حقیقت کے بارے میں انسانی ادراک میں؟
اختلافِ نظر اور عدمِ حقیقت میں فرق
یہاں ایک بنیادی منطقی فرق سامنے آتا ہے۔ اگر دس افراد کسی تاریخی واقعے کے بارے میں مختلف بیانات پیش کریں تو ان کے بیانات کا مختلف ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔ ممکن ہے کچھ لوگ غلط یاد کر رہے ہوں، کسی نے واقعے کا صرف ایک حصہ دیکھا ہو، کسی نے سیاق کو نہ سمجھا ہو، کسی نے غلط اطلاع حاصل کی ہو اور ممکن ہے کسی نے دانستہ جھوٹ بولا ہو۔
لہٰذا’’: اختلافِ اقوال = عدمِ حقیقت‘‘ کا استدلال منطقی طور پر درست نہیں۔ اختلاف زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کرتا ہے کہ: ’’انسانی اقوال میں سے بعض غلط ہوسکتے ہیں اور ان کی صحت کی تحقیق ضروری ہے‘‘۔
یہی اصول مذہبی اختلاف پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مختلف مذاہب کا وجود یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ ان میں سے کون سا
مذہب حق ہے، لیکن یہ خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ خدا موجود نہیں۔
خطبہ 210 اور انسانی خطاپذیری
امام علیؑ کی عبارت میں حِفْظًا وَوَهْمًا خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ’’حفظ‘‘ صحیح طور پر محفوظ کیے گئے علم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ ’’وھم‘‘ انسانی فہم یا حافظے میں پیدا ہونے والی غلطی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی معرفتی اصول سامنے آتا ہے: ’’انسان کسی بات کو اخلاص کے ساتھ سچ سمجھتے ہوئے بھی غلط ہوسکتا ہے۔‘‘
یہ نکتہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اختلاف کو ہمیشہ دانستہ جھوٹ یا بدنیتی کا نتیجہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ ایک شخص سچا اور مخلص ہوسکتا ہے، لیکن اس کی معلومات ناقص ہوں یا اس کی تعبیر غلط ہو۔
اسی لیے امام علیؑ اسی خطبے میں حدیث نقل کرنے والے مختلف افراد کی اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھ سکتا ہے؛ دوسرا شخص جھوٹ نہیں بولتا لیکن بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھتا؛ کوئی شخص ایک حکم سنتا ہے مگر بعد کے ناسخ حکم سے واقف نہیں ہوتا؛ جبکہ ایک شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو بات کو صحیح طور پر سنتا اور اسی طرح آگے منتقل کرتا ہے۔یہ تجزیہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ غلطی اور جھوٹ مترادف نہیں ہیں۔دوسرے الفاظ میں : ’’صدقِ نیت، صحتِ علم کی ضمانت نہیں‘‘۔
یہاں امام علیؑ کے کلام سے ایک نہایت اہم فلسفیانہ اصول اخذ ہوتا ہے: ’’صدقِ نیت، صحتِ علم کی لازمی ضمانت نہیں۔‘‘ایک انسان دیانت دار ہونے کے باوجود غلط ہوسکتا ہے۔ وہ کسی واقعے کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے غلط بیان کرسکتا ہے، کسی ناقص روایت پر اعتماد کرسکتا ہے یا کسی عام حکم کو خاص موقع کے لیے سمجھ سکتا ہے۔
اسی طرح مذہبی اختلاف میں بھی یہ ضروری نہیں کہ ہر اختلاف کسی سازش، جعل سازی یا دانستہ تحریف کا نتیجہ ہو۔ انسانی فہم، نقل، حافظہ، زبان، تاریخی حالات اور تعبیر کے مختلف مراحل میں خطا کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
چنانچہ مذہبی اختلاف کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ’’چونکہ لوگ مختلف مذاہب رکھتے ہیں، اس لیے خدا کا تصور انسانی ایجاد ہے‘‘ ایک غیر ضروری منطقی چھلانگ ہے۔
حقیقت ایک، تصورات متعدد
یہاں ’’حقیقت اور حقیقت کے بارے میں انسانی تصورات ‘‘میں فرق کرنا ضروری ہے۔
حقیقت ایک ہوسکتی ہے، لیکن اس کے بارے میں انسانی تصورات متعدد ہوسکتے ہیں۔ کسی شے کے بارے میں دس مختلف تصورات میں سے نو غلط ہوسکتے ہیں اور ایک درست۔ اسی طرح ممکن ہے کہ دسوں تصورات میں جزوی درست اور جزوی غلط عناصر موجود ہوں۔
اس لیے: ’’مذاہب کی کثرت، مذاہب کی عدم صداقت کی مساوات نہیں ہے۔‘‘
لیکن اسی طرح: ’’مذاہب کی کثرت، خدا کے عدمِ وجود کی دلیل بھی نہیں ہے۔‘‘
صحیح سوال یہ ہے: ’’مختلف مذہبی دعووں میں سے کون سا دعویٰ حقیقت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے اور اس کے حق میں معتبر دلائل کیا ہیں؟‘‘
یہ سوال الحادی اعتراض کو ایک زیادہ گہری علمی سطح پر منتقل کردیتا ہے۔
مذہبی اختلاف سے خدا کے عدمِ وجود تک منطقی چھلانگ
جدید الحادی اعتراض کو اگر منطقی شکل میں پیش کیا جائے تو وہ تقریباً یوں بنتا ہے:
1۔ اگر خدا موجود اور قابلِ معرفت ہوتا تو انسان خدا کے بارے میں ایک ہی عقیدہ رکھتے۔
2۔ انسان خدا کے بارے میں ایک ہی عقیدہ نہیں رکھتے۔
3۔ لہٰذا خدا موجود نہیں۔
لیکن اس قضئے میں پہلی بنیاد ہی ثابت نہیں ہے۔
خدا کا حقیقی وجود اور انسانوں کا لازماً ایک ہی نتیجے تک پہنچنا دو مختلف دعوے ہیں۔ کسی حقیقت کا وجود یہ ضمانت نہیں دیتا کہ ہر انسان اسے صحیح طور پر سمجھے گا۔
انسانی معرفت میں خطا کا امکان ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگر انسان طبیعی دنیا کی اشیاء، تاریخ، فلسفہ اور اخلاق کے بارے میں بھی اختلاف کرسکتا ہے تو صرف مذہب میں اختلاف کو خدا کے عدمِ وجود کی قطعی دلیل قرار دینے کے لیے ایک اضافی مقدمہ درکار ہوگا، اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں اختلاف کی کوئی وجہ انسانی خطا، ناقص معلومات، غلط فہمی یا تاریخی عوامل نہیں ہوسکتی۔ یہ مقدمہ خود ثابت نہیں کیا گیا ہے۔
کیا اختلافِ ادیان پھر غیر اہم ہے؟
ہرگز نہیں۔ مذہبی اختلاف ایک حقیقی اور سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ لیکن اس کی اہمیت کا درست مقام متعین کرنا ضروری ہے۔ یہ اختلاف خدا کے وجود کو براہِ راست رد نہیں کرتا، بلکہ ایک دوسرے سوال کو جنم دیتا ہے: ’’انسان حق مذہب کو کیسے پہچانے؟‘‘
یہاں سے فلسفۂ مذہب کے کئی بنیادی مسائل سامنے آتے ہیں: خدا کے وجود کے دلائل کیا ہیں؟ کیا وحی عقلاً ممکن ہے؟ نبوت کی ضرورت کیوں ہے؟ پیغمبر کی صداقت کیسے ثابت ہوگی؟ الہامی کتاب کی صداقت کا معیار کیا ہوگا؟ تاریخی روایت کو کیسے جانچا جائے؟ مختلف مذہبی تفسیروں میں صحیح تعبیر کیسے متعین کی جائے؟
چنانچہ کثرتِ ادیان کا مسئلہ خدا کے وجود کی نفی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ معرفتِ حق کے سوال تک پہنچتا ہے۔
خطبہ 210 کا وسیع تر فلسفیانہ پیغام
خطبہ 210 کو صرف فقہی اختلاف کے ایک تاریخی بیان کے طور پر پڑھنا اس کے فلسفیانہ دائرے کو محدود کردینا ہے۔ امام علیؑ دراصل انسانی علم کی ساخت کے بارے میں ایک بنیادی اصول بیان کر رہے ہیں۔ انسانی علم میں: ’’حق بھی ہوسکتا ہے اور باطل بھی؛ صدق بھی ہوسکتا ہے اور کذب بھی؛ واضح بھی ہوسکتا ہے اور مبہم بھی؛ صحیح محفوظ شدہ علم بھی ہوسکتا ہے اور وہم بھی‘‘۔
اس لیے کسی بھی علمی دعوے کو صرف اس بنیاد پر قبول نہیں کیا جاسکتا کہ وہ انسانوں میں رائج ہے، اور صرف اس بنیاد پر رد بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بلکہ ضرورت نقد، تحقیق، دلیل اور معیارِ صدق کی ہے۔
یہی وہ معرفتی منہج ہے جو جدید الحاد کے اعتراض کو اس کی اصل جگہ پر لے آتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسانوں میں اختلاف کیوں ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود حقیقت تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس کون سے قابلِ اعتماد ذرائع موجود ہیں؟
وحی اور انسانی معرفت
اسلامی تصور میں خدا نے انسان کو محض عقل کے حوالے نہیں کیا بلکہ عقل، فطرت اور وحی کے ذریعے ہدایت کا نظام فراہم کیا۔ تاہم وحی کے نزول اور انسانی فہم کے درمیان بھی ایک انسانی مرحلہ موجود ہے۔ خدا کی طرف سے پیغام آنا ایک مرحلہ ہے؛ اس کا انسان تک پہنچنا دوسرا؛ اسے سمجھنا تیسرا؛ محفوظ رکھنا چوتھا؛ اور اس کی تعبیر و تطبیق پانچواں مرحلہ ہے۔ ان مراحل میں خطا کا امکان مختلف درجوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔
اس لیے الٰہی پیغام کی موجودگی اور تاریخی طور پر موجود تمام مذہبی تصورات کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ اصل تحقیق یہ ہوگی کہ الٰہی اصل کیا تھی، اس کی صحیح نقل کہاں محفوظ ہے، اور موجودہ مذہبی دعوے اس اصل کے ساتھ کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔
ایک اہم علمی احتیاط
یہاں ایک اور فرق ضروری ہے۔ خطبہ 210کی روشنی میں یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ: ’’مختلف مذاہب کا وجود خدا کے عدمِ وجود کو ثابت نہیں کرتا۔‘‘
لیکن اس سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا کہ: ’’اسلام ہی لازماً درست مذہب ہے‘‘۔ دوسرا دعویٰ اپنی جگہ مستقل دلائل کا محتاج ہے۔ اس کے لیے خدا کے وجود، وحی، نبوت، قرآن اور پھر اسلام کے مخصوص دعووں کے الگ الگ دلائل پیش کرنا ہوں گے۔یہ علمی فرق بہت اہم ہے، کیونکہ کسی اعتراض کو رد کردینا اور اپنے دعوے کو ثابت کردینا ایک ہی چیز نہیں۔
نتیجہ بحث
نہج البلاغہ کا خطبہ 210 جدید الحاد کے اعتراضِ کثرتِ ادیان کے جواب میں ایک نہایت بنیادی معرفتی اصول فراہم کرتا ہے۔ امام علیؑ انسانی علمی ذخیرے میں حق و باطل، صدق و کذب، محکم و متشابہ اور حفظ و وہم کی موجودگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی اختلاف کو حقیقت کے عدمِ وجود کے ساتھ مساوی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مذہبی اختلاف یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان خدا، وحی اور مذہب کے بارے میں مختلف تصورات رکھتے ہیں؛ لیکن یہ اختلاف بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ان تمام تصورات کے پیچھے کوئی حقیقی خارجی حقیقت موجود نہیں۔
لہٰذا صحیح منطقی صورت یہ نہیں کہ: "مذاہب مختلف ہیں، لہٰذا خدا نہیں ہے۔”
بلکہ صحیح سوال یہ ہے: "مذاہب مختلف ہیں؛ تو ان مختلف دعووں میں حق کو پہچاننے کا معیار کیا ہے؟”
یہاں سے بحث الحاد کے ایک سادہ اعتراض سے نکل کر فلسفۂ معرفت، فلسفۂ مذہب، وحی، نبوت اور حق و باطل کی شناخت کے مسئلے میں داخل ہوجاتی ہے۔
امام علیؑ کے الفاظ میں: إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقًّا وَبَاطِلًا، وَصِدْقًا وَكَذِبًا… وَحِفْظًا وَوَهْمًا۔ یعنی انسانوں کے پاس موجود ہر مذہبی یا علمی دعویٰ محض اس لیے حقیقت نہیں بن جاتا کہ وہ نقل ہوا ہے، اور محض اس لیے باطل بھی نہیں ہوجاتا کہ اس کے مقابل میں دوسرے دعوے موجود ہیں۔ حق کی شناخت کے لیے دلیل، تحقیق اور صحیح معیارِ معرفت ضروری ہے۔
یہی خطبہ 210 کا وہ گہرا فلسفیانہ پہلو ہے جو جدید الحاد کے "کثرتِ ادیان = عدمِ وجودِ خدا” والے استدلال کو بنیادی سطح پر چیلنج کرتا ہے۔
9۔ملحدین کا نواں اعتراض : خدا انسانی نفسیات کی پیداوار ہے
جدید مغربی الحادی فکر میں مذہب اور خدا کے تصور کے خلاف ایک اہم اعتراض یہ پیش کیا گیا ہے کہ: ’’ انسان نے خدا کو دریافت نہیں کیا بلکہ خود پیدا کیا ہے‘‘۔ اس نظریے کے مطابق انسان جب فطرت کی قوتوں، بیماری، موت، تنہائی، مستقبل کی بے یقینی اور زندگی کے مسائل کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے تو وہ ایک ایسی ہستی کا تصور قائم کرتا ہے جو اسے تحفظ، امید اور معنویت فراہم کرے۔ بعض مفکرین نے مذہب کو انسانی نفسیات، سماجی ضرورت یا معاشی و تہذیبی حالات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
لودوِگ فویرباخ کے نزدیک خدا کا تصور انسانی صفات اور آرزوؤں کا ایک ماورائی projection ہے؛ انسان اپنی بہترین صفات کو ایک کامل ہستی کی طرف منسوب کرکے اسے ’’خدا‘‘ کا نام دیتا ہے۔
سگمنڈ فروئیڈ نے مذہبی عقیدے کو انسانی خواہش، خوف اور تحفظ کی نفسیاتی ضرورت سے مربوط کیا۔
کارل مارکس نے مذہب کو سماجی و معاشی حالات کے تناظر میں دیکھا۔
جبکہ جدید مفکرین مثلاً ڈینیئل ڈینیٹ مذہب کو انسانی ذہن اور ارتقائی و سماجی عمل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: ’’کسی عقیدے کے پیدا ہونے کی نفسیاتی یا سماجی وضاحت، اس عقیدے کے درست یا غلط ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی۔‘‘ مثلاً اگر کوئی شخص ریاضی میں کسی مسئلے کو حل کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے تو اس خواہش سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ریاضی کا مسئلہ اس کے ذہن کی ایجاد ہے۔ اسی طرح اگر انسان خوف، موت یا تنہائی کے وقت خدا کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا کا وجود بھی اسی خوف کی پیداوار ہے۔
نہج البلاغہ سے جواب
نہج البلاغہ اسی مقام پر ایک نہایت اہم متبادل تصور پیش کرتا ہے: ’’خدا کی معرفت انسانی کمزوری سے پیدا ہونے والی ایجاد نہیں بلکہ عقل، فطرت اور کائنات میں غور و فکر سے وابستہ حقیقت ہے‘‘۔
1۔ خدا کی شناخت خوف سے نہیں، معرفت سے شروع ہوتی ہے
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں:
اَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ، وَكَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ، وَكَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ، وَكَمَالُ تَوْحِيدِهِ الإِخْلَاصُ لَهُ. (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ’’دین کی ابتدا اللہ کی معرفت ہے، اس کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے، اس کی تصدیق کا کمال اس کی توحید ہے، اور اس کی توحید کا کمال اس کے لیے اخلاص ہے۔‘‘
یہ نہج البلاغہ کے توحیدی فلسفے کا بنیادی نقطۂ آغاز ہے۔ امام علیؑ نے دین کی ابتدا خوف، موت، تنہائی یا سماجی ضرورت سے نہیں بلکہ معرفتِ خدا سے کی ہے۔
یہاں ’’معرفت‘‘ محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک ایسے شعوری ادراک کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے بعد انسان ’’تصدیق‘‘ اور پھر ’’توحید‘‘ تک پہنچتا ہے۔ اس لیے نہج البلاغہ کے مطابق سوال یہ نہیں کہ: ’’انسان خدا سے خوف کیوں کرتا ہے؟‘‘ بلکہ بنیادی سوال یہ ہے: ’’کائنات، انسان اور وجود کی حقیقت ایسی کیا ہے کہ عقل انسان کو ایک واجب و مستقل وجود کی طرف متوجہ کرتی ہے؟‘‘
2۔ انبیاء کا کام خدا ایجاد کرنا نہیں، عقل کو بیدار کرنا ہے
نہج البلاغہ کا ایک دوسرا انتہائی اہم اقتباس اس اعتراض کے جواب میں براہِ راست بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَهُ، وَوَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَيُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَيَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ، وَيُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ. (نہج البلاغہ، خطبہ 1)
ترجمہ: ’’پھر اللہ نے ان میں اپنے رسول بھیجے اور مسلسل انبیاء مبعوث فرمائے، تاکہ وہ لوگوں سے فطرت کے عہد کو پورا کروائیں، انہیں اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، تبلیغ کے ذریعے ان پر حجت قائم کریں اور ان کی عقلوں کے دفینوں کو ابھار دیں۔‘‘
یہ عبارت جدید الحادی اعتراض کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ امام علیؑ کے مطابق انبیاء انسان کو ایک مصنوعی تصور دینے نہیں آتے بلکہ: وَيُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ۔ یعنی انسان کے اندر موجود عقل کے دفینوں کو ابھارتے ہیں۔یہ تصور اس نظریے سے بنیادی طور پر مختلف ہے کہ مذہب انسان کو خوفزدہ کرکے خدا کا تصور ذہن میں داخل کرتا ہے۔ نہج البلاغہ کے مطابق وحی اور نبوت کا تعلق انسانی عقل کی تحقیر سے نہیں بلکہ عقل کی بیداری سے ہے۔
3۔ فطرت: خدا کا تصور بیرونی ایجاد نہیں
اسی اقتباس میں امامؑ نے ایک اور بنیادی اصطلاح استعمال فرمائی: مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ۔ یعنی ’’فطرت کا عہد‘‘۔
یہ تعبیر اس تصور کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ خدا کی معرفت انسانی شعور کے لیے بالکل اجنبی یا مصنوعی چیز نہیں۔ انبیاء انسان کو ایک ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس کے ساتھ اس کی فطرت کا تعلق ہے۔ قرآن مجید میں اس حقیقت کی طرف متعدد آیات میں اشارے موجود ہیں،
بطور مثال یہ آیہ مجیدہ:
وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ۔ (الاعراف۔172)
ترجمہ: ’’ اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ان پر خود انہیں گواہ بنا کر (پوچھا تھا: ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا: ہاں! (تو ہمارا رب ہے) ہم اس کی گواہی دیتے ہیں، (یہ اس لیے ہوا تھا کہ) قیامت کے دن تم یہ نہ کہ سکو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے‘‘۔
شیخ محسن علی نجفیؒ بلاغ القرآن میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’آیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تخلیق انسان کے موقع پر اللہ نے اولاد آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لیا تھا۔ ہمارے نزدیک اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ خالق نے تخلیق انسان کے موقع پر ان کی فطرت اور سرشت میں معرفت رب ودیعت فرمائی جیسا کہ انسان کی تخلیق میں کام آنے والے اربوں خلیوں کی پیدائش ایک خلیے سے ہوئی اور جو سبق ابتدائی خلیے میں موجود جین (gene) کو پڑھایا گیا ہے وہ آنے والے تمام خلیات میں بطور وراثت منتقل ہو جاتا ہے۔ انسان نے اب تک جس حد تک عالم خلیات کے اندر جھانک کر دیکھا ہے اور تخلیق و تعمیر پر مامور اس محیر العقول لشکر کی حیرت انگیز کرشمہ سازیوں کا مشاہدہ کیا ہے، اس سے یہ بات بعید از قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا تھا تو نسل انسانی کی جبلت کے ابتدائی خلیے کو اپنی ربوبیت کا درس پڑھایا ہو اور پھر اس سے اس کا اقرار لیا ہو۔
چنانچہ انبیاء کی بعثت کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: لِیَسْتَادُوھُم مِیثَاقَ فِطْرَتِہِ انہیں اس لیے بھیجا تاکہ لوگوں کو اللہ کی فطرت کا عہد و میثاق یاد دلائیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس بارے میں منقول ہے:
ثبتت المعرفۃ فی قلوبہم ونسوا الموقف۔ (المحاسن ۔ ج1 : ص241)
یعنی لوگ واقعہ بھول گئے مگر معرفت دلوں میں نقش ہو گئی۔ ہم اپنے الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں: کلاس بھول گئے مگر سبق یاد ہے۔ (بلاغ القرآن ۔ ذیل آیہ مجیدہ)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان پیدائش ہی سے خدا کے وجود کا مکمل فلسفیانہ استدلال جانتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کے وجود میں ایسی بنیادی استعداد موجود ہے جو اسے حقیقت، علت، نظم، خیر، کمال اور مطلق وجود کے سوالات تک پہنچاتی ہے۔ لہٰذا نہج البلاغہ کا تصور خدا کی ایجاد کے بجائے خدا کی معرفت کی بیداری کا تصور ہے۔
4۔ خوف اور خدا پر ایمان: علت اور نتیجے میں فرق
یہاں جدید الحادی اعتراض کا منطقی جائزہ ضروری ہے۔ فرض کریں ایک انسان طوفان کے دوران خدا کو یاد کرتا ہے۔ کیا اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ خدا کا وجود طوفان کے خوف نے پیدا کیا؟ ہرگز نہیں۔ یہاں دو الگ سوال ہیں:
1۔ انسان خدا کو کیوں یاد کرتا ہے؟
2۔خدا حقیقتاً موجود ہے یا نہیں؟
پہلا سوال نفسیاتی ہے، جبکہ دوسرا مابعد الطبیعی اور فلسفیانہ سوال ہے۔
اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ بعض انسان خوف کی وجہ سے مذہب کی طرف آتے ہیں، تب بھی اس سے خدا کے عدمِ وجود کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکلتا۔
اس مغالطے کو فلسفے میں genetic fallacy یعنی کسی عقیدے کے ماخذ کو اس کی صداقت یا کذب کا معیار بنا لینا کہا جا سکتا ہے۔
نہج البلاغہ اس کے برعکس خدا کی معرفت کے لیے عقلی اور کونیاتی شواہد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
5۔ کائنات کا نظم اور خالق کی معرفت
نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ کے خطبہ 185 کا بڑا حصہ کائنات کی تخلیق، آسمان، زمین، انسان اور مخلوقات کے نظام میں غور و فکر پر مشتمل ہے۔
امامؑ فرماتے ہیں:
وَلَوْ فَكَّرُوا فِي عَظِيمِ الْقُدْرَةِ، وَجَسِيمِ النِّعْمَةِ، لَرَجَعُوا إِلَى الطَّرِيقِ، وَخَافُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ. (نہج البلاغہ۔خطبہ 185)
ترجمہ: ’’اگر وہ اللہ کی عظیم قدرت اور اس کی بڑی نعمتوں میں غور کرتے تو راہِ راست کی طرف لوٹ آتے اور جہنم کے عذاب سے ڈرتے۔‘‘
نہج البلاغہ، خطبہ 185 میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور بعض حیوانات، خصوصاً چیونٹی کی خلقت میں قدرتِ الٰہی کی نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔
اس کے فوراً بعد امامؑ فرماتے ہیں:
أَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى صَغِيرِ مَا خَلَقَ، كَيْفَ أَحْكَمَ خَلْقَهُ، وَأَتْقَنَ تَرْكِيبَهُ، وَفَلَقَ لَهُ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ، وَسَوَّى لَهُ الْعَظْمَ وَالْبَشَرَ۔ (نہج البلاغہ۔ خطبہ 185)
ترجمہ: ’’ کیا وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات کو نہیں دیکھتے کہ اس نے کس طرح ان کی تخلیق کو مضبوط و محکم بنایا، ان کی ساخت کو نہایت پختہ و متقن بنایا، ان کے لیے کان اور آنکھ پیدا کیے، اور ان کی ہڈیوں اور جلد کو مناسب طور پر درست اور متوازن بنایا۔‘‘
یہاں امامؑ چیونٹی کی خلقت کو مثال بنا کر اس کے جسم، رزق کے حصول، ذخیرہ کرنے اور زندگی کے انتظام میں موجود حکمت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اسی سلسلے میں آخرکار فرماتے ہیں کہ ’’غور و فکر انسان کو اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ چیونٹی کا خالق وہی ہے جو کھجور کے درخت کا خالق ہے؛ یعنی چھوٹی اور بڑی مخلوق کی تخلیق میں قدرتِ الٰہی یکساں ہے۔ ‘‘
یہاں ایک نہایت اہم ترتیب سامنے آتی ہے: غور و فکرکا نتیجہ خدا کی معرفت، معرفت کا نتیجہ اس کی طرف رجوع اور اس پر ایمان، اور ایمان کا نتیجہ یہ خوف کہ کہیں ہم خدا کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں، جس کے نتیجے میں دنیا و آخرت میں سعادت و کامیابی سے محروم ہوجائیں اور سز ا کا مستحق بن جائیں ۔ یعنی امام علیؑ کے ہاں خوف بنیادی علت نہیں بلکہ معرفت کے بعد پیدا ہونے والا اخلاقی نتیجہ ہے۔
اس ترتیب کو جدید الحادی نظریے کے مقابلے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
الحادی اعتراض: انسان خوفزدہ ہوا، اس لیے خدا بنا لیا۔
نہج البلاغہ: انسان نے کائنات اور قدرتِ الٰہی میں غور کیا، معرفت حاصل کی، پھر اس معرفت نے اس کے اندر جواب دہی اور خوفِ خدا پیدا کیا۔
یہ دونوں تصورات بنیادی طور پر مختلف ہیں۔
6۔ موت کا شعور خدا کے انکار کی دلیل نہیں
یہ اعتراض بھی پیش کیا جاتا ہے کہ انسان موت سے خوفزدہ تھا، اس لیے اس نے آخرت اور خدا کا تصور ایجاد کرلیا تاکہ موت کے خوف کو کم کرسکے۔نہج البلاغہ موت کے خوف کو نظرانداز نہیں کرتا بلکہ اسے انسانی حقیقت کا حصہ قرار دیتا ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
وَإِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِيَ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ، أَوْ تَعْتَدِلَ عَلَى عُقُولِ أَهْلِ الدُّنْيَا۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 221)
ترجمہ: ’’موت کی ایسی سختیاں ہیں جو اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہیں کہ انہیں پوری طرح کسی وصف میں بیان کیا جاسکے یا دنیا والوں کی عقلیں ان کا مکمل احاطہ کرسکیں۔‘‘
لیکن امام علیؑ موت کے خوف سے خدا کو ’’ایجاد‘‘ نہیں کرتے۔ بلکہ موت کو ایک وجودی حقیقت کے طور پر لیتے ہیں اور انسان کو اس حقیقت کے بعد کی منزل کے لیے تیار کرتے ہیں۔یہاں بھی فرق واضح ہے:
موت کا خوف خدا کی ایجاد۔ ایک نفسیاتی مفروضہ ہے۔
جبکہ: موت انسانی وجود کی حقیقت آخرت کے امکان و ضرورت پر غور احساس ذمہ داری کا خوف ۔ ایک فلسفیانہ بحث ہے۔
7۔ خدا انسان کی نفسیاتی ضرورت کا محتاج نہیں
نہج البلاغہ میں اللہ تعالیٰ کو اس ذات کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو مخلوقات سے بے نیاز اور مخلوقات اس کی محتاج ہیں۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ خَلَقَ الْخَلْقَ حِينَ خَلَقَهُمْ غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ، آمِنًا مِنْ مَعْصِيَتِهِمْ، لِأَنَّهُ لَا تَضُرُّهُ مَعْصِيَةُ مَنْ عَصَاهُ، وَلَا تَنْفَعُهُ طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَهُ۔ (نہج البلاغہ ۔ خطبہ۔193)
ترجمہ: ’’بے شک اللہ سبحانہٗ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو اس وقت بھی وہ ان کی اطاعت سے بے نیاز تھا اور ان کی نافرمانی سے بے خوف تھا؛ کیونکہ جو شخص اس کی نافرمانی کرے، اس کی نافرمانی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتی، اور جو اس کی اطاعت کرے، اس کی اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔‘‘
اور ایک خطبے میں ارشاد فرماتے ہیں:
بَانَ مِنَ الْأَشْيَاءِ بِالْقَهْرِ لَهَا وَالْقُدْرَةِ عَلَيْهَا، وَبَانَتِ الْأَشْيَاءُ مِنْهُ بِالْخُضُوعِ لَهُ وَالرُّجُوعِ إِلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 152)
ترجمہ: ’’وہ مخلوقات سے اس طرح ممتاز ہے کہ ان پر اقتدار اور ان پر قدرت رکھتا ہے، اور مخلوقات اس سے اس طرح ممتاز ہیں کہ وہ اس کے سامنے خضوع کرتی اور اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں۔‘‘
ایک اور خطبے میں ارشاد ہوتا ہے:
فَلَمْ يَسْتَنْصِرْكُمْ مِنْ ذُلٍّ، وَلَمْ يَسْتَقْرِضْكُمْ مِنْ قُلٍّ، اسْتَنْصَرَكُمْ وَلَهُ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، وَاسْتَقْرَضَكُمْ وَلَهُ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ…. وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا۔ (نہج البلاغہ ۔ خطبہ 181)
ترجمہ: ’’ پس اللہ نے تم سے مدد اس لیے نہیں مانگی کہ وہ کمزور یا ذلیل تھا، اور نہ تم سے قرض اس لیے طلب کیا کہ وہ محتاج تھا۔ اس نے تم سے مدد طلب کی، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے لشکر اسی کے اختیار میں ہیں اور وہ غالب، حکمت والا ہے۔ اور اس نے تم سے قرض طلب کیا، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے پاس ہیں اور وہ بے نیاز، قابلِ حمد ہے… اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔‘‘
یہاں لَمْ يَسْتَنْصِرْكُمْ مِنْ ذُلٍّ اور لَمْ يَسْتَقْرِضْكُمْ مِنْ قُلٍّ بہت اہم ہیں۔ امامؑ واضح کرتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے مدد یا قرض کا مطالبہ احتیاج کی علامت نہیں؛ اللہ کی ذات اپنی ذات میں غنی ہے، جبکہ بندوں کا انفاق اور جدوجہد دراصل انسان کی آزمائش اور اس کی اخلاقی تکمیل کے لیے ہے۔
ان اقوال کو باہم ملا کر ایک نہایت اہم فلسفیانہ نتیجہ سامنے آتا ہے:
اولاً: اللہ کسی کا محتاج نہیں
وہ مخلوقات کی اطاعت کا محتاج نہیں: غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ
وہ ان کے مال کا محتاج نہیں: وَلَهُ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وہ ان کی مدد کا محتاج نہیں: لَمْ يَسْتَنْصِرْكُمْ مِنْ ذُلٍّ
لہٰذا اللہ کا غنا محض یہ نہیں کہ اس کے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں؛ بلکہ اس کا غنا ذاتی اور وجودی ہے۔
دوم۔ اس کے مقابلے میں مخلوق کا فقر ذاتی ہے
اگر اللہ غنی بالذات ہے تو مخلوق فقیر بالذات ہے۔ مخلوق کو وجود اللہ سے ملتا ہے، وجود کی بقا اللہ سے ملتی ہے، قدرت اللہ کی عطا ہے، رزق اللہ کی عطا ہے، عقل و شعور اللہ کی عطا ہیں، اور انسان کا ہر کمال کسی نہ کسی درجے میں عطائے الٰہی ہے۔ اس لیے انسان اللہ کا صرف محتاجِ رزق نہیں بلکہ محتاجِ وجود ہے۔
یہاں “فقر” سے مراد صرف غربت یا مالی محتاجی نہیں۔ فلسفیانہ اصطلاح میں اس کا مطلب ہے: مخلوق اپنی ذات میں مستقل اور خودکفیل وجود نہیں رکھتی؛ اس کا وجود اور بقا علتِ اولیٰ پر قائم ہے۔
یہی تصور قرآن کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔ (فاطر۔15)
’’اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بے نیاز، قابلِ حمد ہے۔‘‘
اس تصور کا اہم فلسفیانہ نتیجہ یہ ہے کہ : ’’عبادت اللہ کی ضرورت نہیں، انسان کی ضرورت ہے‘‘َ
یہاں امام علیؑ کی تعلیم کا ایک انتہائی اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اگر اللہ غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے عبادت کا حکم کیوں دیا؟
جواب خود امامؑ کے تیسرے اقتباس میں موجود ہے: وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا۔ یعنی مقصد اللہ کی ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ انسان کو آزمانا اور اس کی شخصیت و کردار کو تشکیل دینا ہے۔
اس بنا پر عبادت کا فلسفہ یوں سمجھا جاسکتا ہے:
1۔ اللہ کو عبادت کی ضرورت نہیں
2۔ انسان کو اللہ کی ضرورت ہے۔
3 عبادت انسان کو اللہ سے وابستہ کرتی ہے
4۔ یہ وابستگی انسان کی اخلاقی و روحانی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہے۔
پس نہج البلاغہ کے توحیدی تصور میں خدا کوئی ایسی نفسیاتی ’’ضرورت‘‘ نہیں جسے انسان اپنی تسکین کے لیے ایجاد کرتا ہے۔ بلکہ خدا وجود کی بنیاد ہے اور انسان خود اس کا محتاج ہے۔
یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر انسان خدا کو اپنی نفسیاتی ضرورت پوری کرنے کے لیے بناتا ہے تو پھر خدا کا تصور بعض اوقات انسان کے لیے انتہائی سخت اخلاقی مطالبات کیوں پیدا کرتا ہے؟ انسان اگر صرف تسلی چاہتا تو ایسا مذہب زیادہ آسانی سے قبول کرتا جو اسے اس کی خواہشات کے مطابق آزادی دیتا۔ لیکن توحیدی دین انسان سے تقویٰ، عدل، صدق، امانت، ایثار، نفس کی مخالفت اور ظلم سے اجتناب کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس لیے مذہب کو صرف ’’نفسیاتی تسلی‘‘ قرار دینا مذہبی تجربے کی پوری حقیقت کی وضاحت نہیں کرتا۔
10۔ ملحدین کا دسواں اعتراض : خدا اور مذہب کے بارے میں تنہائی اور سماجی ضرورت کا نظریہ
ملحدین کا ایک اور نظریہ یہ ہے کہ مذہب آسمانی وحی اور انبیاء کے ذریعے وجود میں نہیں آیا ہے بلکہ انسان نے اپنے آپ کو تنہائی سے بچانے اور معاشرے میں نظم پیدا کرنے کے لیے بنالیا ہے ۔
اس نظریے کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کو خدا کی طرف سے نازل شدہ حقیقت کے بجائے انسانی معاشرتی ضرورت کا نتیجہ سمجھا جائے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے، لیکن اسے تنہائی، موت، خوف، بے یقینی اور زندگی کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مذہب اسے ایک بالادست ہستی پر ایمان، عبادات، دعاؤں اور روحانی وابستگی کے ذریعے تنہائی اور بے معنویت کے احساس سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف مذہب معاشرے میں اخلاقی اصول، حلال و حرام، حقوق و فرائض، باہمی ذمہ داری اور اجتماعی رسومات متعین کرتا ہے، جس سے افراد کے رویوں کو منظم کرنے اور معاشرتی اتحاد پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس نظریے کے مطابق مذہب کے بنیادی کاموں میں دو پہلو نمایاں ہیں:
(1) فرد کو نفسیاتی و روحانی سہارا دینا،
(2) معاشرے میں نظم و ضبط اور اجتماعی یکجہتی پیدا کرنا۔
تاہم یہاں ایک اہم فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے: کسی چیز کا انسانی نفسیاتی یا معاشرتی فائدہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ چیز انسانی ایجاد ہے۔ مثلاً غذا انسان کی جسمانی ضرورت پوری کرتی ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ غذا کا وجود صرف انسانی ضرورت کی وجہ سے ہوا۔ اسی طرح مذہب کے نفسیاتی اور معاشرتی فوائد کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، لیکن ان فوائد سے خودبخود یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ خدا، وحی یا مذہبی حقیقت کا کوئی خارجی وجود نہیں۔
نہج البلاغہ کا جواب
یہ درست ہے کہ مذہب انسان کو اجتماعی اخلاق، اخوت، عدل اور سماجی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا کا وجود محض سماجی ضرورت کی ایجاد ہے۔
نہج البلاغہ میں عدل اور اجتماعی زندگی کی اہمیت ضرور بیان ہوئی ہے، مگر اس کی بنیاد خدا کے وجود اور اخلاقی جواب دہی پر قائم ہے۔ نہج البلاغہ میں عدل محض ایک سماجی معاہدہ یا انسانی مفاد کا اصول نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حق، آخرت کی جواب دہی اور تقویٰ کے تصور پر قائم ہے۔ نہج البلاغہ سے درج ذیل اقتباسات اس مضمون کی وضاحت کرتے ہیں:
1۔ عدل کی بنیاد اللہ کے مقرر کردہ حقوق پر
امام علیؑ فرماتے ہیں:
ثُمَّ جَعَلَ سُبْحَانَهُ مِنْ حُقُوقِهِ حُقُوقًا افْتَرَضَهَا لِبَعْضِ النَّاسِ عَلَى بَعْضٍ، فَجَعَلَهَا تَتَكَافَأُ فِي وُجُوهِهَا، وَيُوجِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَلَا يُسْتَوْجَبُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ، وَأَعْظَمُ مَا افْتَرَضَ سُبْحَانَهُ مِنْ تِلْكَ الْحُقُوقِ حَقُّ الْوَالِي عَلَى الرَّعِيَّةِ، وَحَقُّ الرَّعِيَّةِ عَلَى الْوَالِي… (نہج البلاغہ، عہدنامۂ مالک اشتر، مکتوب 53)
ترجمہ: ’’پھر اللہ سبحانہٗ نے اپنے حقوق میں سے کچھ حقوق ایسے مقرر کیے جو اس نے بعض لوگوں پر بعض کے لیے فرض کیے ہیں۔ ان حقوق کو باہم متوازن قرار دیا اور ان میں سے بعض کو بعض کا موجب بنایا، اور بعض حقوق دوسرے حقوق کی ادائیگی کے بغیر لازم نہیں ہوتے۔ ان حقوق میں سب سے بڑا وہ حق ہے جو حاکم کا رعیت پر اور رعیت کا حاکم پر ہے۔
یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حقوق کی بنیاد محض انسانی رضامندی نہیں بلکہ ’’جَعَلَ سُبْحَانَهُ‘‘ ہے؛ یعنی حقوق کو ایک بالاتر اخلاقی و الٰہی بنیاد حاصل ہے۔
2۔ حاکم کی عدل پسندی اللہ کے سامنے جواب دہی سے وابستہ ہے
اسی خط میں امامؑ مالک اشتر کو فرماتے ہیں:
وَأَنْصِفِ اللَّهَ وَأَنْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِكَ، وَمِنْ خَاصَّةِ أَهْلِكَ، وَمَنْ لَكَ فِيهِ هَوًى مِنْ رَعِيَّتِكَ، فَإِنَّكَ إِلَّا تَفْعَلْ تَظْلِمْ، وَمَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللَّهِ كَانَ اللَّهُ خَصْمَهُ دُونَ عِبَادِهِ، وَمَنْ خَاصَمَهُ اللَّهُ أَدْحَضَ حُجَّتَهُ، وَكَانَ لِلَّهِ حَرْبًا حَتَّى يَنْزِعَ وَيَتُوبَ۔
ترجمہ: ’’اپنی ذات کے معاملے میں اللہ کے حق کا بھی انصاف کرو اور لوگوں کے حقوق کے معاملے میں بھی انصاف کرو، اور اپنے خاص لوگوں اور اپنی رعیت میں ان لوگوں کے بارے میں بھی انصاف کرو جن کی طرف تمہارا میلان ہو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو ظلم کرو گے۔ اور جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے گا، اللہ ان بندوں کے بجائے خود اس کا مدعی ہوگا؛ اور جس کے خلاف اللہ خود خصم بن جائے، اللہ اس کی دلیل کو باطل کردے گا۔‘‘
اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں اجتماعی عدل براہِ راست اللہ کی عدالت اور انسانی جواب دہی سے مربوط ہے۔
3۔ ظلم کا انجام صرف دنیاوی نہیں، الٰہی جواب دہی بھی ہے
اسی خط میں امامؑ مزید فرماتے ہیں:
وَلَيْسَ شَيْءٌ أَدْعَى إِلَى تَغْيِيرِ نِعْمَةِ اللَّهِ وَتَعْجِيلِ نِقْمَتِهِ مِنْ إِقَامَةٍ عَلَى ظُلْمٍ، فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِينَ، وَهُوَ لِلظَّالِمِينَ بِالْمِرْصَادِ.
ترجمہ: ’’اللہ کی نعمت کے بدل جانے اور اس کی گرفت کے جلد آنے کا سبب ظلم پر اصرار سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں؛ کیونکہ اللہ مظلوموں کی فریاد سننے والا ہے اور ظالموں کے لیے گھات میں ہے۔‘‘
یہاں سماجی ظلم کو محض سماجی مسئلہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے اللہ کی سنت، اس کی نگرانی اور اس کی گرفت سے جوڑا گیا ہے۔
4۔ اجتماعی نظام میں ہر طبقہ دوسرے کا محتاج ہے
مالک اشتر کے عہد میں امام علیؑ معاشرے کے مختلف طبقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ الرَّعِيَّةَ طَبَقَاتٌ لَا يَصْلُحُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ، وَلَا غِنًى بِبَعْضِهَا عَنْ بَعْضٍ…
ترجمہ: ’’جان لو کہ رعیت مختلف طبقات پر مشتمل ہے؛ جن میں سے بعض کی اصلاح بعض کے بغیر ممکن نہیں، اور ان میں سے کوئی طبقہ دوسرے سے بے نیاز نہیں۔‘‘
اس کے بعد امامؑ سپاہیوں، کاتبوں، قاضیوں، انتظامی اہلکاروں، تاجروں، صنعت کاروں اور محتاجوں کا ذکر کرتے ہیں اور ہر طبقے کے حقوق و ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہیں۔
یہ نہج البلاغہ کے سماجی فلسفے کا نہایت اہم اصول ہے: ’’معاشرہ باہمی حقوق، ذمہ داریوں اور تعاون کا مربوط نظام ہے، نہ کہ خود غرض افراد کا مجموعہ۔‘‘
5۔ دولت مندوں کے مال میں محتاجوں کا حق
امام علیؑ کا ایک مختصر مگر نہایت واضح فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ فَرَضَ فِي أَمْوَالِ الْأَغْنِيَاءِ أَقْوَاتَ الْفُقَرَاءِ، فَمَا جَاعَ فَقِيرٌ إِلَّا بِمَا مُتِّعَ بِهِ غَنِيٌّ، وَاللَّهُ تَعَالَى سَائِلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ۔ ( نہج البلاغہ، حکمت 320)
ترجمہ: “بے شک اللہ سبحانہٗ نے مال داروں کے مال میں فقیروں کی خوراک مقرر کی ہے۔ پس کوئی فقیر اس وجہ سے بھوکا نہیں رہتا کہ کسی مال دار کو اس سے فائدہ نہ پہنچا ہو، اور اللہ تعالیٰ ان سے اس بارے میں بازپرس کرے گا۔”
یہاں معاشی عدل + الٰہی فرض + آخرت کی جواب دہی تینوں ایک ہی جملے میں جمع ہوگئے ہیں۔
6۔ نہج البلاغہ میں عدل کا بنیادی فلسفہ
ان اقتباسات کو یکجا کرنے سے ایک واضح فکری ترتیب سامنے آتی ہے:
اللہ تعالی حقوق مقرر کرتا ہے ۔ انسان ان حقوق کا پابند ہے۔ معاشرہ باہمی حقوق و ذمہ داریوں سے منظم ہوتا ہے۔ حاکم عدل کا ذمہ دار ہے۔
مظلوم اللہ کی سماعت میں ہےاور ظالم اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔
لہٰذا نہج البلاغہ میں اجتماعی عدل کا منبع صرف انسانی مفاد نہیں بلکہ ایک ماورائی اخلاقی حقیقت ہے۔ انسان اس لیے عدل نہیں کرتا کہ صرف ریاست یا معاشرہ اسے مجبور کرتا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اللہ نے حقوق مقرر کیے ہیں اور انسان اپنے اعمال کے لیے اس کے سامنے جواب دہ ہے۔ یعنی سماجی اخلاق کا مقصد محض معاشرتی نظم نہیں بلکہ حق، عدل اور آخرت کی جواب دہی سے وابستہ ہے۔
11۔ملحدین کا گیارہوں اعتراض : فیورباخ کا Projection Theory
انیسویں صدی کے جرمن فلسفی لُڈوِگ فیورباخ (Ludwig Feuerbach) نے مذہب اور تصورِ خدا کی ایک معروف انسان شناسانہ توضیح پیش کی۔ اس کے نزدیک مذہب کو سمجھنے کے لیے آسمانی یا مابعد الطبیعیاتی حقیقت سے آغاز کرنے کے بجائے انسان کی ذات، اس کی خواہشات، اس کے جذبات اور اس کی محدودیتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس کی معروف کتاب The Essence of Christianity میں بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ مذہب میں انسان اپنی نوعی حقیقت (human species-essence) کو ایک خارجی اور مستقل ہستی کی صورت میں دیکھتا ہے اور پھر اسی تصور کو ’’خدا‘‘ کا نام دیتا ہے۔ Stanford Encyclopedia of Philosophy کے مطابق فیورباخ کے ہاں مذہبی اوصاف دراصل انسانی نوع کی ذات سے متعلق اوصاف کی ایک خیالی یا خارجی نمائندگی ہیں؛ اسی لیے اس کے نظریے کا مشہور خلاصہ ’’theology is anthropology‘‘ یعنی ’’علمِ الٰہیات دراصل انسان شناسی ہے‘‘ کے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔
فیورباخ کے نزدیک انسان میں علم، عقل، محبت، ارادہ، خیر، عدل، قدرت اور کمال کی طلب جیسی صفات موجود ہیں، لیکن فردِ انسانی ان صفات کو ہمیشہ محدود اور ناقص حالت میں پاتا ہے۔ انسان محدود علم رکھتا ہے، محدود قدرت رکھتا ہے، اس کی زندگی مختصر ہے اور وہ موت، کمزوری اور دیگر انسانی حدود سے دوچار ہے۔ چنانچہ وہ اپنی نوعِ انسانی میں موجود ان صفات کو تصور میں لامحدود اور کامل بنا دیتا ہے۔ محدود علم سے علمِ مطلق، محدود قدرت سے قدرتِ مطلق، محدود محبت سے کامل محبت، محدود عدل سے مطلق عدل اور محدود زندگی سے ابدی زندگی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ پھر انسان ان کامل صفات کو اپنی ذات سے باہر ایک مستقل ہستی کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ اس طرح جس کمال کو وہ اپنی ذات میں مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتا، اسے ایک ماورائی ’’خدا‘‘ میں کامل صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔
اس نظریے میں مذہب بنیادی طور پر انسانی خود شناسی کی ایک خارجی اور اجنبی صورت بن جاتا ہے۔ انسان اپنی ہی نوعی حقیقت کو اپنے سامنے ایک الگ موضوع بنا کر پیش کرتا ہے، پھر اس خارجی موضوع کے سامنے عبادت، اطاعت اور عقیدت کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یوں بظاہر انسان خدا کی عبادت کرتا ہے، لیکن فیورباخ کے مطابق حقیقت میں وہ اپنی ہی نوعی حقیقت کے مثالی تصور کی پرستش کر رہا ہوتا ہے۔ بعد کے فیورباخی مباحث میں مذہب کی توضیح انسانی وجود کی محدودیت، فطرت پر انحصار، امید، خوف اور انسانی بقا کی خواہش کے حوالے سے بھی کی گئی۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے اندر خدا کا تصور انسانی صفات کی projection کا نتیجہ ہے، یا انسان اپنی عقل و فطرت اور عالمِ وجود کے ذریعے ایک حقیقی ماورائی حقیقت کو پہچانتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں نہج البلاغہ کا تصورِ توحید فیورباخ کے نظریے سے ایک بنیادی اختلاف پیش کرتا ہے۔
نہج البلاغہ کا جواب
نہج البلاغہ میں معرفتِ خدا: ایجاد نہیں، معرفت
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ، وَكَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ، وَكَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ، وَكَمَالُ تَوْحِيدِهِ الْإِخْلَاصُ لَهُ۔ ( نہج البلاغہ، خطبہ 1)
’’دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے، اس کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے، تصدیق کا کمال اس کی توحید ہے اور توحید کا کمال اس کے لیے اخلاص ہے۔‘‘
اس مختصر مگر گہری عبارت میں ’’معرفت‘‘ کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ فیورباخ کے نظریے میں انسان گویا خدا کے تصور کو بناتا ہے، جبکہ نہج البلاغہ میں انسان خدا کو پہچانتا ہے۔ یہ دونوں تصورات بنیادی طور پر مختلف ہیں۔
’’بنانا‘‘ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خدا کا تصور انسانی ذہن کی تخلیق ہے؛ جب کہ ’’پہچاننا‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقت انسان کے ذہن سے پہلے موجود ہے اور انسان اپنی عقل و شعور کے ذریعے اس حقیقت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
یہاں ایک اہم منطقی اصول سامنے آتا ہے: ’’کسی تصور کا انسانی ذہن میں موجود ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس تصور کا خارجی مصداق موجود نہیں‘‘۔ مثلاً انسان کسی طبیعی حقیقت کا تصور اپنے ذہن میں بناتا ہے، مگر اس سے وہ حقیقت ذہنی یا خیالی نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح خدا کے تصور کے انسانی ذہن میں پیدا ہونے کی نفسیاتی توضیح، بذاتِ خود خدا کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں۔
دوسرے الفاظ میں: ’’انسان خدا کے بارے میں کیسے سوچتا ہے؟‘‘ اور ’’کیا خدا حقیقتاً موجود ہے؟‘‘ دو الگ فلسفیانہ سوالات ہیں۔ فیورباخ پہلے سوال کے جواب سے دوسرے سوال کا نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ جبکہ نہج البلاغہ بحث کو وجود، علت، معرفت، فطرت اور کائنات کی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔
خدا انسانی صفات کا لامحدود مجموعہ نہیں
فیورباخ کے نظریے میں خدا کے اوصاف بڑی حد تک انسانی صفات کی مثالی تکمیل معلوم ہوتے ہیں۔ انسان محدود علم رکھتا ہے، لہٰذا خدا کو علمِ مطلق کا حامل تصور کرتا ہے؛ انسان محدود قدرت رکھتا ہے، لہٰذا خدا کو قدرتِ مطلقہ کا مالک تصور کرتا ہے۔
لیکن نہج البلاغہ خدا کی معرفت کے سلسلے میں اس قسم کی تشبیہ سے خود خبردار کرتا ہے۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
مَا وَحَّدَهُ مَنْ كَيَّفَهُ، وَلَا حَقِيقَتَهُ أَصَابَ مَنْ مَثَّلَهُ، وَلَا إِيَّاهُ عَنَى مَنْ شَبَّهَهُ، وَلَا صَمَدَهُ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ وَتَوَهَّمَهُ. (نہج البلاغہ۔ خطبہ 186)۔
’’جس نے اس کی کیفیت بیان کی اس نے اسے حقیقتاً واحد نہیں مانا؛ جس نے اس کی کوئی مثال قائم کی وہ اس کی حقیقت تک نہیں پہنچا؛ جس نے اسے مخلوق کے مانند قرار دیا اس نے اسے صحیح طور پر نہیں پہچانا؛ اور جس نے اپنے وہم کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا، اس نے حقیقتاً اس کا قصد نہیں کیا۔‘‘
یہ اقتباس فیورباخ کے نظریے کے مقابلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر خدا محض انسانی صفات کا ’’کامل نمونہ‘‘ ہوتا تو خدا دراصل انسانی صفات ہی کی ایک بڑی اور لامحدود تصویر بن جاتا۔ لیکن امام علیؑ کے مطابق خدا کو کسی مخلوق کے نمونے، مثال یا ذہنی کیفیت میں محدود کرنا اس کی حقیقی معرفت نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا علم، انسانی علم کی محض مقدار میں غیر محدود شکل نہیں؛ خدا کی قدرت، انسانی قدرت کی محض انتہائی توسیع نہیں؛ اور خدا کی حیات، انسانی حیات کی محض ابدی شکل نہیں۔ یہاں فرق صرف مقداری (quantitative) نہیں بلکہ وجودی (ontological) ہے۔
انسان کا علم حاصل کیا ہوا علم ہے، جبکہ خدا کسی دوسرے ذریعے سے علم حاصل نہیں کرتا۔ انسان کی قدرت محدود اور وابستہ ہے، جبکہ خدا کی قدرت کسی خارجی سہارے کی محتاج نہیں۔ انسان کا وجود محتاج ہے، جبکہ خدا واجب اور بے نیاز حقیقت ہے۔
خدا کی بے نیازی: Projection Theory کے مقابلے میں
امام علیؑ اسی خطبہ میں فرماتے ہیں:
كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ، وَكُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ، فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ، مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ، غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ. (نہج البلاغہ، خطبہ 186)
’’ترجمہ: جو اپنے نفس کے ذریعے معروف و ظاہر ہو وہ مصنوع ہے، اور جو اپنے غیر کے ذریعے قائم ہو وہ معلول ہے۔ وہ فاعل ہے مگر کسی آلے کی حرکت کے ذریعے نہیں، تقدیر کرنے والا ہے مگر فکر کی گردش کے ذریعے نہیں، اور غنی ہے مگر کسی چیز سے حاصل کرکے غنی نہیں ہوا۔‘‘
خاص طور پر الفاظ غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ نہایت اہم ہیں۔ انسان اپنی صفات اور کمالات خود پیدا نہیں کرتا۔ وہ علم حاصل کرتا ہے، تجربہ حاصل کرتا ہے، تربیت سے اخلاق پیدا کرتا ہے اور دوسروں سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اس کے کمالات تدریجی اور محدود ہوتے ہیں۔
لیکن نہج البلاغہ کا خدا کسی خارجی حقیقت سے کمال حاصل کرکے کامل نہیں ہوا۔ وہ غنی ہے، مگر اس لیے نہیں کہ اس نے کسی اور سے غنا حاصل کیا۔ اس کا کمال ذاتی اور غیر محتاج ہے۔
یہ تصور فیورباخ کی projection theory کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرتا ہے، کیونکہ اگر خدا محض انسانی کمالات کی projection ہے تو خدا کا تصور انسان کے محدود وجود پر منحصر ہوگا؛ جبکہ نہج البلاغہ میں خدا خود مخلوقات کے وجود اور کمال کے لیے بنیادی حقیقت ہے۔
انسان محتاج ہے، خدا محتاج نہیں
نہج البلاغہ کا ایک اور اہم اصول یہ ہے: كُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ۔ ’’جو اپنے غیر کے ذریعے قائم ہے وہ معلول ہے۔‘‘
اس جملے میں ایک گہرا مابعد الطبیعیاتی اصول موجود ہے۔ انسان اپنے وجود میں خود کفیل نہیں۔ وہ جسم، زمان، مکان، اسباب، ماحول اور بے شمار خارجی عوامل پر منحصر ہے۔ وہ اپنے وجود کا علتِ تامہ نہیں۔ فیورباخ کی بحث بنیادی طور پر انسانی شعور، احساسات، خواہشات اور نوعی حقیقت سے خدا کے تصور کی توضیح کرتی ہے۔ نہج البلاغہ اس کے مقابلے میں سوال کو ایک اور گہرائی میں لے جاتا ہے: ’’خود وہ انسان کہاں سے آیا جو خدا کا تصور بناتا ہے؟‘‘
اگر انسان محدود، محتاج اور معلول وجود ہے تو اس کی طرف سے ایک غیر محدود اور مطلق وجود کے تصور کی نفسیاتی توضیح ممکن ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس تصور کا خارجی مصداق بھی محض انسانی تخلیق ہے۔ یہاں ’’تصور کا منبع‘‘ اور ’’مصداق کا منبع‘‘ الگ ہوجاتے ہیں۔
عالمِ وجود: خدا کے تصور کا خارجی پہلو
نہج البلاغہ خدا کی معرفت کو صرف انسانی باطن تک محدود نہیں کرتا بلکہ انسان کو خارجی عالم میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
خطبہ 185 میں امام علیؑ فرماتے ہیں:
أَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى صَغِيرِ مَا خَلَقَ كَيْفَ أَحْكَمَ خَلْقَهُ وَأَتْقَنَ تَرْكِيبَهُ….
’’کیا وہ اللہ کی پیدا کردہ چھوٹی چیزوں کو نہیں دیکھتے کہ اس نے ان کی تخلیق کو کس طرح مضبوط اور ان کی ترکیب کو کس طرح محکم بنایا؟‘‘
اور پھر چیونٹی اور کھجور کے درخت کے حوالے سے فرماتے ہیں:
وَلَوْ ضَرَبْتَ فِي مَذَاهِبِ فِكْرِكَ لِتَبْلُغَ غَايَاتِهِ، مَا دَلَّتْكَ الدَّلَالَةُ إِلَّا عَلَى أَنَّ فَاطِرَ النَّمْلَةِ هُوَ فَاطِرُ النَّخْلَةِ. (نہج البلاغہ ۔ خطبہ 185)۔
’’اگر تم اپنی فکر کی راہوں میں سفر کرو اور اس کی انتہاؤں تک پہنچنے کی کوشش کرو تو تمہاری دلیل تمہیں اسی نتیجے تک پہنچائے گی کہ چیونٹی کا پیدا کرنے والا وہی ہے جو کھجور کے درخت کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘
یہاں دلیل کی سمت قابلِ توجہ ہے۔ فیورباخ میں حرکت انسان سے خدا کی طرف ہے: انسانی صفات ان کی تکمیل خدا کا
تصور
جبکہ نہج البلاغہ میں عقل کو عالمِ وجود نظم و ترکیب خالق کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔
اس طرح نہج البلاغہ خدا کے تصور کو صرف انسانی نفسیات کا مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک مابعد الطبیعیاتی اور وجودی سوال بناتا ہے۔
وحی اور عقل: خدا کا تصور گھڑنا نہیں بلکہ عقل کو بیدار کرنا
نہج البلاغہ کے خطبہ 1 میں انبیاء کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے امام علیؑ فرماتے ہیں:
لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَيُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَيُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَةِ…
ترجمہ: ’’تاکہ وہ ان سے فطرت کے عہد کو پورا کروائیں، ان کے لیے عقلوں کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔‘‘
اس عبارت میں وحی اور عقل کا تعلق نہایت خوبصورتی سے واضح ہوتا ہے۔ انبیاء انسان کے اندر ایک ایسا خدا پیدا نہیں کرتے جو پہلے بالکل غیر موجود تھا، بلکہ فطرت کے عہد کو یاد دلاتے اور عقل کے پوشیدہ خزانوں کو بیدار کرتے ہیں۔
یہ فیورباخ کے نظریے کے مقابلے میں ایک متبادل epistemological model پیش کرتا ہے:
انسانی تخیل خدا کی تخلیق
کے بجائے:
فطرت + عقل + کائناتی آیات + وحی خدا کی معرفت
یہاں مذہب کو انسانی projection کے بجائے انسانی معرفت کی تکمیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
فیورباخ کے اعتراض میں قابلِ غور پہلو
علمی انصاف کا تقاضا ہے کہ فیورباخ کے اعتراض کو محض ایک سطحی یا غیر اہم اعتراض سمجھ کر رد نہ کیا جائے۔ اس کا یہ مشاہدہ قابلِ غور ہے کہ انسان کبھی کبھی خدا کے تصور کو اپنے محدود انسانی تصورات کے مطابق تشکیل دے سکتا ہے۔ انسان خدا کو جسم، مکان، انسانی جذبات یا مخلوقی خصوصیات کے ذریعے تصور کرے تو یہ تصور تشبیہ اور تجسیم کی طرف جاسکتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نہج البلاغہ خود اس خطرے سے بہت پہلے آگاہ کرتا ہے۔ امام علیؑ کا یہ فرمان: وَلَا حَقِيقَتَهُ أَصَابَ مَنْ مَثَّلَهُ۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدا کو انسانی یا مخلوقی مثال میں محدود کرنا خدا کی حقیقی معرفت نہیں۔
لہٰذا نہج البلاغہ فیورباخ کے اس نفسیاتی مشاہدے کو ایک حد تک قبول کرنے کی گنجائش رکھتا ہے کہ انسان خدا کے بارے میں اپنے ذہنی تصورات میں انسانی اوصاف کی آمیزش کرسکتا ہے؛ لیکن اس سے فیورباخ کا حتمی نتیجہ لازم نہیں آتا کہ خدا خود انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔
اصل فلسفیانہ اختلاف: دین کی ابتداء (Origin of Belief) بمقابلہ دین کی حقانیت و حقیقت (Truth of Belief)
یہاں فیورباخ کے نظریے کا سب سے اہم منطقی مسئلہ سامنے آتا ہے۔
فرض کریں فیورباخ یہ ثابت کردے کہ انسان خدا پر اس لیے ایمان لاتا ہے کہ اسے کمال، محبت، عدل، تحفظ اور ابدیت کی خواہش ہوتی ہے۔ تب بھی صرف یہ معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا ایک نفسیاتی سبب کیا ہے۔
لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ: ’’جس خدا پر وہ ایمان رکھتا ہے وہ موجود نہیں۔‘‘
یہ فرق فلسفے میں نہایت اہم ہے: یعنی: کسی عقیدے کی پیدائش کی وجہ ≠ اس عقیدے کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ
مثلاً اگر کوئی شخص کسی ریاضیاتی حقیقت کو اس لیے مانتا ہے کہ اس کے استاد نے اسے بچپن میں سکھایا تھا، تو اس عقیدے کی نفسیاتی تاریخ یہ ثابت نہیں کرتی کہ ریاضیاتی حقیقت غلط ہے۔ اسی طرح اگر مذہبی ایمان میں انسانی امید، خوف، محبت یا کمال کی خواہش کا کردار ہو بھی، تو اس سے خدا کے وجود کا عدم ثابت نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ فیورباخ کی projection theory کو خدا کے عدمِ وجود کی قطعی مابعد الطبیعیاتی دلیل کے بجائے مذہبی عقیدے کی ایک نفسیاتی و انسان شناسانہ توضیح سمجھنا زیادہ درست ہے۔
11۔ ملحدین کا گیارہواں اعتراض : نظریہ ارتقاء نے خدا کی ضرورت ختم کردی
دور جدید کے ملحدین نظریہ ارتقاء کو بڑے زور و شور سے خدا کے وجود کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
نظریہ ارتقا کو خدا کے وجود کے خلاف پیش کرنے کا بنیادی طریقہ یہ ہے کہ جانداروں کی پیچیدگی اور تنوع کے لیے ایک طبیعی مکانزم دریافت ہوچکا ہے، لہٰذا اب کسی خالق کو فرض کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس اعتراض میں ایک اہم سائنسی حقیقت موجود ہے: جدید ارتقائی حیاتیات واقعی یہ واضح کرتی ہے کہ وراثتی تغیر، قدرتی انتخاب اور دیگر ارتقائی عوامل کے ذریعے جانداروں کی خصوصیات نسل در نسل تبدیل ہوسکتی ہیں۔ لیکن اس سائنسی توضیح سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ’’لہٰذا خدا موجود نہیں‘‘ ایک اضافی فلسفیانہ مقدمہ ہے۔
نہج البلاغہ کا جواب
نہج البلاغہ اس مسئلے کو اس سے کہیں زیادہ بنیادی سطح پر دیکھتا ہے۔ امام علیؑ کا سوال صرف یہ نہیں کہ مخلوق کس مکانزم کے ذریعے وجود میں آتی ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ مخلوق کی وجودی حیثیت کیا ہے، وہ کس پر قائم ہے، اس کے وجود کی علت کیا ہے، اور وہ پورا نظامِ اسباب و علل آخر کس حقیقت پر قائم ہے؟
اسی لیے ارتقاء اور نہج البلاغہ کے درمیان صحیح تقابل ’’ارتقاء یا خدا‘‘ نہیں بلکہ ’’طبیعی مکانزم اور اس کی مابعد الطبیعی بنیاد‘‘ کے درمیان ہے۔
1۔ نہج البلاغہ کا پہلا اصول: مخلوق کا وجود خود کفیل نہیں
امام علیؑ فرماتے ہیں:
كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ، وَكُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ۔ (نہج البلاغہ۔خطبہ 185)
ترجمہ: ’’جو چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خود معلوم و متعین ہو، وہ مصنوع ہے؛ اور جو چیز اپنے غیر کے ذریعے قائم ہو، وہ معلول ہے۔‘‘
یہاں دونوں جملے دراصل احتیاج، امکان اور علت و معلول کے اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس کی توضیح حسب ذیل ہے:
1۔ كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ
لفظ مَعْرُوفٌ بِنَفْسِهِ کو محض ”جو خود معلوم ہو“ کہنا کافی نہیں۔ شارحین نے اس کی مختلف توضیحات کی ہیں۔ ایک اہم توضیح یہ ہے کہ اس سے ایسی حقیقت مراد ہے جس کی ماہیت اور حقیقت بذاتِ خود قابلِ تحدید و شناخت ہو؛ یعنی جسے اس کی حدود، اجزاء اور ساخت کے ذریعے سمجھا جا سکے۔ ایسی چیز مرکب اور محدود ہوتی ہے، اور مرکب و محدود حقیقت اپنی تشکیل کے اعتبار سے کسی علت یا صانع کی محتاج ہوتی ہے۔
مثلاً ہم ایک مکان کو جان سکتے ہیں کہ اس کے کتنے حصے ہیں، اس کی ساخت کیا ہے، اس کی حدود کہاں ہیں اور اسے کن اجزاء سے بنایا گیا ہے۔ اس طرح کی شناخت ایک محدود اور متعین حقیقت کی شناخت ہے۔
لہٰذا امامؑ کا استدلال یہ ہے کہ: ’’جو حقیقت اپنی ماہیت میں محدود، متعین اور قابلِ تحدید ہے، وہ واجب الوجود نہیں ہوسکتی؛ کیونکہ وہ اپنے وجود اور ساخت میں احتیاج رکھتی ہے۔‘‘
خدا کے بارے میں امامؑ کا تصور اس کے برعکس ہے: خدا کسی محدود ماہیت یا مرکب ساخت کا نام نہیں کہ ہم اس کی ذات کو اجزاء اور حدود کے ذریعے مکمل طور پر محیط ہو کر جان سکیں۔ اسی لیے اسی خطبے میں امامؑ فرماتے ہیں: مَا وَحَّدَهُ مَنْ كَيَّفَهُ، وَلَا حَقِيقَتَهُ أَصَابَ مَنْ مَثَّلَهُ۔ ’’یعنی جو خدا کے لیے کیفیت اور مخصوص ہیئت متعین کرتا ہے، وہ حقیقی توحید تک نہیں پہنچا۔ ‘‘
2۔ نہج البلاغہ کا دوسرا اصول: وَكُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ
یہ جملہ اس سے بھی زیادہ واضح فلسفیانہ اصول پیش کرتا ہے۔ قَائِمٌ فِي سِوَاهُ کا مطلب ہے: ’’جو چیز اپنے وجود، بقا یا تحقق کے لیے اپنے علاوہ کسی دوسری چیز کی محتاج ہو۔‘‘
ایسی چیز معلول ہے، کیونکہ جس کا وجود کسی دوسرے پر منحصر ہو، وہ خود اپنی آخری علت نہیں ہوسکتی۔
مثلاً: روشنی سورج یا کسی منبعِ نور پر منحصر ہے۔ رنگ کسی محل اور موضوع کے بغیر مستقل وجود نہیں رکھتا۔ انسانی زندگی غذا، ہوا، پانی اور بے شمار شرائط پر منحصر ہے۔ حیاتیاتی ارتقاء بھی جینیاتی نظام، طبیعی قوانین، مادہ، توانائی اور مخصوص ماحولیاتی شرائط کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے۔
لہٰذا امامؑ کا اصول یہ ہے: ’’جو خود قائم نہیں بلکہ کسی دوسرے کے ذریعے قائم ہے، وہ معلول ہے‘‘۔
3۔ دونوں جملوں کا اصل فلسفیانہ ربط
دونوں جملوں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ساتھ پڑھنا زیادہ اہم ہے:
كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ ۔ ’’ہر محدود و متعین حقیقت مصنوع ہے۔‘‘ اور: كُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ: ’’ہر محتاج و غیر پر قائم حقیقت معلول ہے۔‘‘
اس سے ایک بنیادی فلسفیانہ تقسیم سامنے آتی ہے: مخلوق کی علامت ہے احتیاج جبکہ خالق کی علامت ہے عدمِ احتیاج۔
اسی لیے امامؑ اس کے بعد فوراً فرماتے ہیں:
فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ، مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ، غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ.
’’یعنی اللہ بغیر کسی آلے کے فاعل ہے، بغیر غور و فکر کی محتاجی کے تقدیر کرنے والا ہے، اور کسی چیز سے فائدہ حاصل کرکے غنی نہیں ہوا۔‘‘
یہاں غَنِيٌّ انتہائی اہم لفظ ہے: خدا کا وجود کسی خارجی سہارے، مادے، مکان، زمان یا علت کا محتاج نہیں۔
یہ مختصر جملہ ارتقاء کے اعتراض کے جواب میں بنیادی فلسفیانہ اہمیت رکھتا ہے۔ ارتقائی نظریہ جن چیزوں کی توضیح کرتا ہے وہ پہلے سے موجود طبیعی نظام کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ mutation، heredity، selection، reproduction، ماحول اور بقا کی جدوجہد، یہ سب ایک موجود نظام کے اجزاء ہیں۔
لیکن امام علیؑ کا سوال اس نظام سے پہلے کا ہے: ’’جو چیز اپنے غیر پر قائم ہے، اس کی آخری بنیاد کیا ہے؟‘‘
اگر ایک جاندار دوسری نسل سے پیدا ہوتا ہے، دوسری نسل پہلی نسل سے، اور حیاتیاتی تبدیلی ایک طویل ارتقائی سلسلے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے، تب بھی اس پورے سلسلے میں موجود ہر حلقہ اپنی وجودی سطح پر محتاج ہے۔ ارتقاء اس سلسلے کے اندر تبدیلی کی توضیح کرتا ہے؛ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سلسلہ اپنی ذات میں واجب اور بے نیاز ہے۔
یہاں ’’ارتقاء‘‘ اور ’’خالق‘‘ کو ایک ہی سطح پر رکھنا بنیادی غلطی ہوگی۔ ارتقاء مخلوقات کے باہمی طبیعی تعلقات کی توضیح کرسکتا ہے، جبکہ خدا مخلوقات کے وجودی قیام کی بنیاد کے طور پر زیرِ بحث آتا ہے۔
2۔ حدوثِ مخلوقات اور وجودِ خدا
خطبہ 185 میں امام علیؑ ایک نہایت گہرا اصول بیان فرماتے ہیں:
الدَّالِّ عَلَى قِدَمِهِ بِحُدُوثِ خَلْقِهِ، وَبِحُدُوثِ خَلْقِهِ عَلَى وُجُودِهِ…
’’یعنی اللہ اپنی مخلوق کے حدوث کے ذریعے اپنی ازلیت پر اور مخلوق کے حدوث کے ذریعے اپنے وجود پر دلیل قائم کرتا ہے۔‘‘
یہاں ’’حدوث‘‘ کو صرف اس معنی میں لینا ضروری نہیں کہ ہر مخلوق کسی ایک مخصوص زمانی لمحے میں وجود میں آئی۔ فلسفیانہ اعتبار سے زیادہ گہری بات یہ ہے کہ مخلوق اپنے وجود میں خود مختار نہیں۔ چنانچہ اگر ارتقاء ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک جاندار دوسری حیاتیاتی حالت سے تدریجاً وجود میں آیا، تو وہ اس مخلوق کی تاریخی تشکیل بیان کرتا ہے؛ لیکن امام علیؑ کا استدلال مخلوق کی وجودی محتاجی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
مثلاً: حیاتیاتی سوال: انسانی انواع کیسے وجود میں آئیں؟
ارتقائی جواب: مشترک نسب، تغیر، وراثت اور انتخاب جیسے عوامل کے ذریعے۔
مابعد الطبیعیاتی سوال: وہ مادی وجود، قوانین، علت و معلول اور حیاتیاتی نظام جس کے اندر یہ عمل ہوا، خود کس بنیاد پر قائم ہے؟
یہ دونوں سوال ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔
3۔’’فطری انتخاب‘‘ علتِ اولیٰ نہیں
ارتقاء پر الحادی استدلال میں ایک پوشیدہ مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی مظہر کے لیے فطری مکانزم معلوم ہوجائے تو اس کی کوئی مزید علت درکار نہیں رہتی۔لیکن یہ منطقی طور پر لازم نہیں۔
مثلاً اگر ہم یہ جان لیں کہ بیج سے درخت کس حیاتیاتی اور طبیعی عمل کے ذریعے پیدا ہوتا ہے تو اس سے ’’درخت کے وجود کی آخری علت‘‘ کا سوال ختم نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح اگر قدرتی انتخاب یہ بتاتا ہے کہ بعض خصوصیات کس طرح نسل در نسل برقرار رہیں، تو قدرتی انتخاب خود کسی واجب الوجود حقیقت میں تبدیل نہیں ہو جاتا۔
نہج البلاغہ کا اصول ہے:
كُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ فطری انتخاب خود کس پر قائم ہے؟
فطری انتخاب خود کوئی مستقل وجود نہیں؛ یہ حیاتیاتی آبادیوں، وراثت، تغیر، ماحول اور بقا کے قوانین کے اندر کام کرنے والا ایک تعلق یا طریقہ کار ہے۔ اگر یہ سب موجود نہ ہوں تو ’’قدرتی انتخاب‘‘ بھی موجود نہیں رہتا۔
لہٰذا قدرتی انتخاب (natural selection) کو خدا کا فلسفیانہ متبادل قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی طبیعی قانون کو وجود کی آخری علت سمجھ لیا جائے۔
4۔ نہج البلاغہ: علتِ ثانوی اور علتِ اولیٰ کے درمیان فرق
نہج البلاغہ میں امام علیؑ فرماتے ہیں:
فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ، مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ، غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ۔’’
وہ فاعل ہے مگر کسی آلے کی حرکت کے ذریعے نہیں، تقدیر کرنے والا ہے مگر فکر کی گردش کے ذریعے نہیں، اور غنی ہے مگر کسی سے حاصل کرکے غنی نہیں ہوا۔‘‘
یہاں خدا کو مخلوق کے اندر کام کرنے والے ایک طبیعی عامل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ وہ کسی حیاتیاتی مکانزم کا ایک اضافی حصہ نہیں۔اس لیے اگر ارتقاء یہ ثابت کرے کہ:
جانداروں کی تبدیلی قدرتی انتخاب کے ذریعے ہوتی ہےتو توحیدی فلسفہ اس کے جواب میں یہ نہیں کہتا: ’’نہیں، قدرتی انتخاب نہیں بلکہ خدا جانداروں کو تبدیل کرتا ہے۔‘‘
بلکہ زیادہ گہرا سوال یہ ہے: قدرتی انتخاب، اس کے قوانین، اس کا مادی زیرین سطح (Substratum) اور اس کا پورا نظام علت و معلول آخر کس وجودی بنیاد پر قائم ہے؟
یہاں خدا اور ارتقاء ایک دوسرے کے حریف (competitor) نہیں رہتے۔
5۔ خطبہ 185 اور ’’نظم‘‘ کا گہرا مفہوم
امام علیؑ چیونٹی کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
انْظُرُوا إِلَى النَّمْلَةِ فِي صِغَرِ جُثَّتِهَا، وَلَطَافَةِ هَيْئَتِهَا…
’’اس چیونٹی کو دیکھو، اس کے جسم کی چھوٹی جسامت اور اس کی لطیف و نازک ساخت میں غور کرو۔‘‘
اور پھر اس کی جسمانی ساخت، خوراک جمع کرنے، حرکت اور بقا کے نظام پر غور کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
وَلَوْ ضَرَبْتَ فِي مَذَاهِبِ فِكْرِكَ لِتَبْلُغَ غَايَاتِهِ، مَا دَلَّتْكَ الدَّلَالَةُ إِلَّا عَلَى أَنَّ فَاطِرَ النَّمْلَةِ هُوَ فَاطِرُ النَّخْلَةِ….
’’اگر تم اپنی فکر کی راہوں میں سفر کرو اور اس کی انتہاؤں تک پہنچنے کی کوشش کرو تو تمہاری دلیل تمہیں اسی نتیجے تک پہنچائے گی کہ چیونٹی کا پیدا کرنے والا وہی ہے جو کھجور کے درخت کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘
یہ اقتباس جدید ارتقائی اعتراض کے لیے نہایت اہم ہے، لیکن اسے درست فلسفیانہ معنی میں سمجھنا چاہیے۔
امام علیؑ یہ نہیں فرما رہے کہ ہر پیچیدہ حیاتیاتی ساخت (structure) براہِ راست اسی صورت میں پیدا کیا گیا جس صورت میں آج موجود ہے۔ بلکہ وہ مخلوقات کی ساخت، نسبت، کثرت اور اختلاف کے پیچھے ایک فاطر اور مدبر کی طرف عقل کو متوجہ کرتے ہیں۔
اس لیے ارتقاء اگر حیاتیاتی مکانزم فراہم کرتا ہے تو بھی یہ سوال باقی رہ سکتا ہے کہ:
مکانزم کا قابل ادراک ہونا، قوانین کی باقاعدگی اور مخلوقات کا وجودی نظام آخر کس بنیاد پر قائم ہے؟
یہ ’’God of the gaps‘‘ کا استدلال نہیں، کیونکہ خدا کو کسی نامعلوم biological gap میں نہیں رکھا جا رہا۔ یہاں سوال خود پورے نظام کے وجود کا ہے۔
6۔ ’’فاطر‘‘ کا تصور اور ارتقاء
امام علیؑ بار بار فاطر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ فاطر کا مفہوم صرف ’’کسی چیز کو بنانے والا‘‘ نہیں بلکہ ایسی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو کسی وجودی نظام کو اس کے اصل آغاز اور بنیاد سے قائم کرتی ہے۔
اس لحاظ سے ارتقاء اگر یہ بتاتا ہے کہ موجودہ جانداروں کی مختلف شکلیں کس تاریخی پروسس کے ذریعے سامنے آئیں، تو اس سے فاطر کا تصور ختم نہیں ہوتا۔بلکہ دو سطحیں قائم ہوتی ہیں:
1۔ ارتقاء: موجودہ حیاتیاتی صورتوں کی تشکیل کا مکانزم۔
2۔ فطرت/ایجاد: خود اس نظامِ وجود اور قوانین کی بنیاد۔
یہی وجہ ہے کہ ارتقاء کو خدا کے خلاف قطعی دلیل بنانے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قدرتی مکانزم نہ صرف حیاتیاتی تبدیلی (biological change) کی توضیح کرتا ہے بلکہ وجود کی مکمل اور آخری توضیح بھی فراہم کرتا ہے۔ ارتقاء خود ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔
7۔ نہج البلاغہ میں ’’نظم‘‘ صرف ظاہری پیچیدگی نہیں
یہاں ایک اور اہم نکتہ ہے۔ اگر خدا کے وجود کی دلیل صرف یہ ہو کہ: ’’یہ چیز بہت پیچیدہ ہے، لہٰذا کسی نے اسے بنایا ہوگا‘‘
تو ارتقاء واقعی اس دلیل کو چیلنج کرسکتا ہے، کیونکہ ارتقاء دکھاتا ہے کہ بعض پیچیدہ حیاتیاتی ساختیں (structures) تدریجی عمل سے وجود میں آسکتے ہیں۔
لیکن نہج البلاغہ کا استدلال صرف پیچیدگی پر قائم نہیں۔ امام علیؑ مخلوقات کی: ترکیب، تناسب، اختلاف، باہمی مناسبت، وجودی محتاجی، محدودیت، فنا پذیری اور ان سب کو ایک جامع نظام میں دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔
خطبہ 185 میں فرماتے ہیں:
وَبِمَا وَسَمَهَا بِهِ مِنَ الْعَجْزِ عَلَى قُدْرَتِهِ، وَبِمَا اضْطَرَّهَا إِلَيْهِ مِنَ الْفَنَاءِ عَلَى دَوَامِهِ…’’
یعنی مخلوقات کی عاجزی خدا کی قدرت اور ان کی فنا پذیری اس کی دوام و بقا کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔‘‘
یہ استدلال ’’پیچیدہ چیز اور ڈیزائنر‘‘ سے زیادہ گہرا ہے: اس استدلا ل کے مطابق مخلوق کی محدودیت، اس کی عدمِ استقلال اور اس کی محتاجی ایک غیر محتاج حقیقت کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے ۔ یہاں ارتقاء کا جواب بہت محدود ہوجاتا ہے، کیونکہ ارتقاء مخلوق کی تاریخی تشکیل کی وضاحت کرسکتا ہے، مگر اس سے مخلوق کی وجودی محتاجی ختم نہیں ہوتی۔
8۔ ’’دفائن العقول‘‘ اور ارتقاء
خطبہ 1 میں امام علیؑ انبیاء کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَيُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَيُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَةِ۔’’تاکہ وہ ان کے لیے عقلوں کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔‘‘
یہاں نہج البلاغہ کا علمیاتی (epistemological) تصور سامنے آتا ہے۔ انسان کو صرف مذہبی روایت پر ایمان لانے کے لیے نہیں کہا جارہا بلکہ اسے غور، فکر اور کائناتی آیات کے مشاہدے کی دعوت دی جارہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جدید سائنس ہمیں ارتقاء، جینیات اور حیاتیاتی تاریخ کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے تو یہ معلومات خود بخود توحید کے خلاف نہیں جاتیں۔ بلکہ وہ انسان کو مخلوقات کے نظام پر مزید غور کا موقع دیتی ہیں۔ اصل سوال یہ رہتا ہے کہ انسان ان سائنسی حقائق کی مابعد الطبیعیاتی تعبیر کیا کرتا ہے۔
9۔ ارتقاء سے الحاد تک چھلانگ کہاں لگتی ہے؟
اس پوری بحث کو منطقی صورت میں یوں لکھا جاسکتا ہے:
مقدمہ 1: جانداروں میں بہت سی خصوصیات قدرتی انتخات (natural selection) اور دیگر ارتقائی عوامل کے ذریعے پیدا ہوسکتی ہیں۔
مقدمہ 2: لہٰذا ان خصوصیات کی توضیح کے لیے ہر مرحلے پر براہِ راست کسی مافوق الفطرت مداخلت کار فرض کرنا ضروری نہیں۔
یہ دونوں مقدمات قابلِ فہم اور سائنسی دائرے میں آتے ہیں۔
لیکن پھر ایک تیسرا مقدمہ شامل کیا جاتا ہے:
مقدمہ 3: جس چیز کی قدرتی توضیح (natural explanation) موجود ہو، اس کی کوئی مابعد الطبیعیاتی علت نہیں ہوسکتی۔
اور پھر نتیجہ: لہٰذا خدا موجود نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ مقدمہ 3 خود ارتقاء کا سائنسی نتیجہ نہیں۔ یہ فلسفیانہ طبیعیّت پرستی (naturalism) کا دعویٰ ہے۔
نہج البلاغہ اسی مقام پر بنیادی سوال اٹھاتا ہے: كُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ
اگر طبیعی نظام خود کسی غیر پر قائم ہے تو محض یہ دکھا دینا کہ اس نظام کے اندر تغیر و تبادل کے واقعات کس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اس کی آخری وجودی بنیاد کی وضاحت نہیں کرتا۔
10۔ نہج البلاغہ کا زیادہ بنیادی جواب
لہٰذا نہج البلاغہ کی روشنی میں ارتقاء کے خلاف جواب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: ’’ارتقاء غلط ہے، کیونکہ خدا نے ہر جاندار کو براہِ راست پیدا کیا ہے۔‘‘
یہ جواب نہج البلاغہ کے فلسفیانہ عمق کو کم کردے گا۔زیادہ مضبوط جواب یہ ہے: ’’ ارتقاء اگر جانداروں کی تاریخی اور حیاتیاتی تشکیل کا ایک صحیح مکانزم ہے، تب بھی وہ مخلوق کے وجود کی آخری علت نہیں بن جاتا۔‘‘
امام علیؑ کے ہاں خدا: قدرتی انتخاب کا مد مقابل نہیں؛
• ردو بدل (mutation) کا متبادل نہیں؛
• حیاتیاتی ارتقا (biological evolution) کی خلا کو پُر کرنے والی ہستی نہیں؛
• بلکہ تمام ممکن اور محتاج موجودات کے وجود کی بنیادی علت ہے۔
اسی لیے ارتقاء اور خدا کو باہم متناقض قرار دینا اسی وقت ممکن ہوگا جب یہ ثابت کیا جائے کہ طبیعی مکانزم ہی آخری حقیقت ہے۔
لیکن یہ دعویٰ سائنس سے نہیں بلکہ ایک مخصوص فلسفے، یعنی مابعد الطبیعیاتی طبعیّت پرستی (metaphysical naturalism) سے آتا ہے۔
نتیجہ بحث
نہج البلاغہ کی روشنی میں ارتقاء کے اعتراض کا سب سے گہرا جواب ’’پیچیدگی‘‘ سے نہیں بلکہ وجودی محتاجی سے سامنے آتا ہے۔
ارتقاء یہ بتا سکتا ہے کہ: ایک حیاتیاتی صورت دوسری حیاتیاتی صورت سے کس طرح تدریجاً پیدا ہوئی۔
لیکن نہج البلاغہ اس سے پہلے سوال کرتا ہے: یہ پوری مادی اور حیاتیاتی حقیقت کس پر قائم ہے؟
اور اس کے بعد: جو وجود خود محتاج، محدود، متغیر اور فانی ہے، کیا وہ اپنی ذات میں آخری توضیح ہو سکتا ہے؟
امام علیؑ کا اصول ہے:
كُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ اور غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ۔
یعنی مخلوق کی حقیقت محتاجی ہے، جبکہ خدا کی حقیقت بے نیازی۔ اسی بنیاد پر ارتقاء خدا کے وجود کا منطقی ابطال نہیں کرتا۔
بلکہ زیادہ دقیق فلسفیانہ نتیجہ یہ ہے: ارتقاء ’’حیاتیاتی تشکیل‘‘ کی توضیح ہے؛ خدا ’’وجود‘‘ کی آخری بنیاد کا سوال ہے۔
اور اگر کوئی ارتقاء سے الحاد کا نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہے تو اسے ارتقاء کے سائنسی نظریے سے آگے بڑھ کر یہ مستقل فلسفیانہ مقدمہ ثابت کرنا ہوگا کہ طبیعی نظام اپنے وجود میں خود کفیل ہے اور اس کے لیے کسی غیر محتاج علت کی ضرورت نہیں۔
نہج البلاغہ کا چیلنج بالکل یہی ہے: طبیعی مکانزم کی دریافت کو وجود کی آخری توضیح نہ سمجھا جائے۔ مخلوق کے اندر ’’کیسے‘‘ کی توضیح مل جانے سے ’’کیوں وجود رکھتی ہے‘‘ کا سوال ختم نہیں ہوجاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ارتقائی حیاتیات سے مابعد الطبیعیات کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔
12۔ملحدین کا بارہواں اعتراض : خدا اگر موجود ہے تو اسے نظر آنا چاہئے
جدید ملحدین چونکہ مابعد الطعبعیات کو نہیں مانتے، صرف حسی اور مادی دنیا کو حقیقت سمجھتے ہیں، اس لئے وہ خدا کی ماہیت کو صحیح طور سے سمجھ نہین سکتے، اور اسے کائنات میں موجود دیگر مخلوقات کی طرح کوئی مخلوق تصور کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے وہ خدا کے بارے میں ایسے اعتراضات کرتے ہیں جو اصل خدا کی ہستی پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔
نہج البلا غہ کا جواب
امام علیؑ فرماتے ہیں:
لاِفْتِرَاقِ الصَّانِعِ وَالْمَصْنُوعِ، وَالْحَادِّ وَالْمَحْدُودِ، وَالرَّبِّ وَالْمَرْبُوبِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 152)
ترجمہ: ”کیونکہ خالق اور مخلوق، محدود کرنے والے اور محدود، رب اور مربوب میں بنیادی فرق ہے۔“
تنقیدی تحلیل
یہ عبارت خدا کے تصور کے حوالے سے نہایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید الحاد پر گفتگو کرتے وقت بعض اوقات خدا کو ایسے تصور کیا جاتا ہے جیسے وہ کائنات کے اندر کوئی بہت طاقتور مخلوق ہو۔ لیکن اسلامی توحید میں خدا کائنات کا ایک جز نہیں۔ وہ خالق ہے اور کائنات مخلوق۔
اگر خدا کائنات کا ایک جز ہوتا تو اس کے وجود کی وضاحت بھی کائنات کے دوسرے اجزاء کی طرح درکار ہوتی۔ نہج البلاغہ خدا اور مخلوق کے درمیان وجودی فرق قائم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "خدا کہاں ہے؟”، "خدا کو کس نے بنایا؟” یا ’’ خدا نظر کیوں نہیں آتا ‘‘ جیسے سوال بعض اوقات خدا کے غلط تصور سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر خدا کو مکانی، زمانی اور مادی وجود سمجھا جائے تو یہ سوالات درست معلوم ہوں گے، لیکن اگر خدا کو واجب الوجود اور خالق سمجھا جائے تو مسئلہ بنیادی طور پر مختلف ہو جاتا ہے۔
مجموعی تنقیدی جائزہ
نہج البلاغہ کی روشنی میں جدید الحاد کے مطالعے سے چند اہم نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔ الحاد اور سائنس کو مترادف قرار دینا درست نہیں۔ سائنس طبیعی مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ خدا کے وجود کا سوال مابعد الطبیعی اور فلسفیانہ سطح بھی رکھتا ہے۔
2۔ خدا کے وجود کے بارے میں سب سے اہم بحث یہ نہیں کہ ”خدا کو کس نے بنایا؟“ بلکہ یہ ہے کہ کیا تمام موجودات محتاج ہیں یا کوئی غیر محتاج حقیقت بھی ضروری ہے؟
3۔ نہج البلاغہ خدا کو کائنات کے اندر ایک مادی وجود نہیں سمجھتی۔ یہی وجہ ہے کہ حسی مشاہدے کا اعتراض براہِ راست اس تصورِ خدا کو رد نہیں کرتا۔
4۔ دنیا میں شر کا مسئلہ ایک حقیقی فلسفیانہ چیلنج ہے۔ نہج البلاغہ دنیا کی عارضیت، انسانی اختیار، اخلاقی ذمہ داری اور آخرت کے تصور کے ذریعے اس کا ایک جامع جواب فراہم کرتی ہے، لیکن اس مسئلے کو محض ایک جملے میں حل کرنا مناسب نہیں۔
5۔ مذہب کے نفسیاتی یا سماجی اسباب معلوم ہو جانے سے خدا کے وجود کا سوال حل نہیں ہو جاتا۔ کسی عقیدے کی نسلی تسلسل (genealogy) اور اس کی سچائی کی قدر (truth value) الگ الگ موضوعات ہیں۔
6۔ نہج البلاغہ کا خدا محض ”کائنات بنانے والا“ نہیں بلکہ وجود کی بنیادی حقیقت، خالق، مدبر، حکیم اور بے نیاز ذات ہے۔ اس لیے جدید الحاد کے بعض اعتراضات دراصل خدا کے ایک محدود تصور پر وارد ہوتے ہیں، نہ کہ اسلامی تصورِ خدا پر۔
خاتمہ
نہج البلاغہ کی تعلیمات کی روشنی میں جدید الحاد کے وجودِ خدا سے متعلق اعتراضات کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور الحاد کی بحث کو صرف مذہبی جذبات یا سائنسی دعووں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بنیادی طور پر وجود، علت، معرفت، عقل، اخلاق اور مقصدِ حیات کی بحث ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:
فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَدَلِيلاً عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 91)
ترجمہ: ”پس اس کی پیدا کردہ ہر چیز اس کے وجود کی حجت اور اس کی طرف رہنمائی بن گئی۔“
اس قول کا بنیادی فلسفیانہ پیغام یہ ہے کہ کائنات کو صرف اشیاء کے مجموعے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں؛ اس کے وجود، نظم، وابستگی اور ساخت کے پیچھے موجود بنیادی سوالات پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح امام علیؑ فرماتے ہیں:
لَمْ يُطْلِعِ الْعُقُولَ عَلَى تَحْدِيدِ صِفَتِهِ، وَلَمْ يَحْجُبْهَا عَنْ وَاجِبِ مَعْرِفَتِهِ۔ ( نہج البلاغہ، خطبہ 49)
ترجمہ: ’’اس نے عقلوں کو اپنی صفات کی تحدید تک رسائی نہیں دی، لیکن انہیں اپنی واجب معرفت سے بھی محروم نہیں کیا۔‘‘
یہ عبارت نہج البلاغہ کے پورے معرفتی منہج کو سمیٹ دیتی ہے: انسان خدا کو مکمل طور پر محیط نہیں ہوسکتا، مگر خدا کی معرفت سے محروم بھی نہیں ہے۔
چنانچہ جدید الحاد کے مقابل نہج البلاغہ کا موقف محض یہ نہیں کہ "خدا کو مان لو”، بلکہ یہ ہے کہ انسان کائنات، عقل، فطرت اور اپنے وجود پر غور کرے اور وجود کی آخری بنیاد کو تلاش کرے۔
اس اعتبار سے نہج البلاغہ جدید الحاد کے لیے ایک سنجیدہ فکری چیلنج پیش کرتی ہے۔ یہ چیلنج سائنسی تحقیق کو مسترد کرنے کی صورت میں نہیں، بلکہ اس سوال کے ذریعے سامنے آتا ہے کہ طبیعی توضیح کے پیچھے وجودی توضیح کیا ہے؟
آخرکار، نہج البلاغہ کے مطابق کائنات اپنی ذات میں آخری حقیقت نہیں۔ اس کے پیچھے وہ حقیقت ہے جو خود کسی کی محتاج نہیں، جس نے مخلوقات کو وجود عطا کیا، جس کی نشانیاں عالم میں پھیلی ہوئی ہیں اور جس کی معرفت انسانی عقل کے لیے ممکن ہے، اگرچہ اس کی ذات کا مکمل احاطہ انسانی عقل کے بس میں نہیں۔اسی نقطۂ نظر سے نہج البلاغہ کا توحیدی تصور جدید الحاد کے مقابل ایک عقلی، وجودی، اخلاقی اور معرفتی متبادل نظریہ حیات پیش کرتا ہے۔
بنیادی مراجع
[1] شیخ محسن علی نجفیؒ، بلاغ القرآن— اردو ترجمہ قرآن مجید و تفسیری حاشیہ[2] شریف رضیؒ، نہج البلاغہ، خطبہ 1 — معرفتِ خدا، توحید، تخلیق، حدوث و ازلیت
[3] نہج البلاغہ، خطبہ 28— دنیا کی بے ثباتی، موت کی تیاری اور موعظہ
[3] نہج البلاغہ، خطبہ 49 — معرفتِ خدا، عقل، حواس اور صفاتِ الٰہی
[4] نہج البلاغہ، خطبہ 83 — دنیا کی حقیقت، دنیا کی عارضیت اور آخرت
[5] نہج البلاغہ، خطبہ 91 — تخلیق، مخلوقات کی احتیاج اور خدا کی طرف رہنمائی
[6] نہج البلاغہ، خطبہ 152 — وجودِ خدا، خالق و مخلوق کا فرق
[7] نہج البلاغہ، خطبہ 181— توحید، قرآن میں غور و فکر، موعظہ
[8] نہج البلاغہ، خطبہ 185 — کائنات میں غوروفکر، حواس کی حدود، مخلوقات اور صفاتِ الٰہی
[9] نہج البلاغہ، خطبہ 186 — موعظہ، احوال موت کا بیان
[10] نہج البلاغہ، خطبہ 193 — صفات متقین
[11] نہج البلاغہ، خطبہ 210— احادیث میں اختلاف کی وجوہات
[12] نہج البلاغہ، کتاب 53— مالک اشتر کے نام عہد نامہ
[13] نہج البلاغہ، حکمت 48—کامیابی کی شرائط
[14] نہج البلاغہ، حکمت 470—توحید اور عدل الہی
[15] علامہ طباطبائیؒ و شہید مطہریؒ، اصول فلسفہ و روش رئالیسم ۔ بنیاد علمی و فرہنگی استاد شہید مرتضی مطہریؒ۔ جلد 5، باب 14، صفحات 61 تا 66
[16] Bertrand Russell، Why I Am Not a Christian and Other Essays on Religion and Related Subjects: Edited by Paul Edwards، New York: Simon and Schuster، 1957.
[17] Richard Dawkins, The God Delusion, Boston: Houghton Mifflin, 2006، chap. 4، specially “The Ultimate Boeing 747”)
[18] Ludwig Feuerbach, The Essence of Christianity (1841), Introduction, §1–2؛ Part I: “The True or Anthropological Essence of Religion.”
[19] A. J. Ayer, Language, Truth and Logic, 1936, “The Elimination of Metaphysics




