
﷽
خلاصہ
صبر و استقامت انسانی زندگی کی وہ بنیادی اور ہمہ گیر صفات ہیں جو انسان کو فکری پختگی، روحانی بلندی اور عملی کامیابی تک پہنچاتی ہیں۔ قرآن مجید اور نہج البلاغہ دونوں میں صبر کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی روح، عقل کی محافظ اور کامیابی کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ صبر کا حقیقی مفہوم مشکلات پر خاموش رہنا نہیں بلکہ شعور، حکمت اور تدبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہنا ہے۔
قرآن مجید میں صبر کو اہلِ ایمان کی نمایاں پہچان بتایا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت، رحمت اور اجرِ عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔ اسی قرآنی فکر کو نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپؑ صبر کو ایمان کے لیے سر کے مانند قرار دیتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صبر کے بغیر ایمان کی بقا اور تکمیل ممکن نہیں۔
نہج البلاغہ کی روشنی میں صبر کے مختلف مقامات سامنے آتے ہیں، جن میں اطاعت پر صبر، معصیت سے اجتناب پر صبر اور مصیبت و آزمائش کے وقت صبر شامل ہیں۔ اطاعت پر صبر بندگی میں استقامت پیدا کرتا ہے، معصیت پر صبر انسان کو نفس کے غلبے سے بچا کر اخلاقی پاکیزگی عطا کرتا ہے، جبکہ مصیبت پر صبر انسان کے باطن کو مضبوط، دل کو مطمئن اور توکل علی اللہ کو مستحکم کرتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ صبر، حکمت اور تدبر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ صبر انسان کو جلد بازی، غصے اور جذباتی فیصلوں سے بچاتا ہے اور اسے صحیح وقت پر درست قدم اٹھانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ صبر کے ذریعے وقتی تکالیف اور نقصانات برداشت کر کے دائمی کامیابی حاصل ہوتی ہے، جبکہ بے صبری انسان کو فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور دنیا و آخرت کی ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ نہج البلاغہ میں صبر و استقامت کو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کی ضمانت، ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ اور عقل و حکمت کی عملی صورت قرار دیا گیا ہے۔ صبر کے فوائد میں روحانی ارتقاء، اخلاقی بلندی اور دائمی کامیابی شامل ہیں، جبکہ بے صبری کے نقصانات فرد اور معاشرے دونوں کو زوال کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی لیے نہج البلاغہ صبر کو ایک جامع، فعال اور نتیجہ خیز اصولِ حیات کے طور پر پیش کرتا ہے۔
کلیدی الفاظ: صبر، استقامت، اطاعت، معصیت، مصیبت، حکمت عملی، تدبر
مقدمہ
خداوندِ متعال نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس کی ہدایت کا اہتمام کیا تاکہ وہ اپنی دنیوی زندگی کے اس مرحلے کو طے کرتے ہوئے کمالِ انسانی اور اعلیٰ اقدار تک رسائی حاصل کر سکے۔ انسان کی زندگی آزمائشوں، مشکلات اور آفات سے خالی نہیں، بلکہ یہی دشواریاں اس کی تربیت اور روحانی ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان حالات میں صبر و استقامت وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کو مشکلات کے مقابل ثابت قدم رکھتی ہے اور اسے کامیابی اور سربلندی کی راہ دکھاتی ہے۔
زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے صبر کی ضرورت پیش آتی ہے، کیونکہ جب بھی کوئی کمزوری، رکاوٹ یا ناگہانی مصیبت اس کی راہ میں حائل ہوتی ہے تو صرف استقامت ہی کے ذریعے وہ ان رکاوٹوں پر قابو پا سکتا ہے۔ صبر کو محض حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ شعوری مزاحمت، مسلسل کوشش اور تھکن سے بے نیاز ثابت قدمی کا نام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ مسائل کا سامنا کرے، تدبیر اختیار کرے اور ناامیدی کے بجائے صبر کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔
نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے صبر کو ایمان کا ستون، کامیابی کی کنجی اور الٰہی مدد کے نزول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپؑ کی تعلیمات کے مطابق صبر انسان کو نہ صرف انفرادی طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ اسے اجتماعی اور سماجی زندگی میں بھی توازن، برداشت اور حسنِ اخلاق عطا کرتا ہے۔ چونکہ انسان ایک سماجی وجود ہے، اس لیے معاشرتی تعلقات، میاں بیوی کے باہمی اختلافات، والدین و اولاد کے مسائل اور سماجی تنازعات میں صبر و تحمل بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
قرآنِ مجید اور نہج البلاغہ دونوں اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ انبیاء، اولیاء اور ائمہ علیہم السلام کی زندگیوں میں شدید آزمائشیں آئیں، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ یہی صبر انہیں قربِ الٰہی تک لے گیا۔ امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک صبر خدا کی مدد کا نقطۂ آغاز ہے اور صابر انسان ہمیشہ رحمتِ الٰہی کے سایہ میں رہتا ہے۔ اسی بنا پر زیرِ نظر مقالہ میں نہج البلاغہ کی روشنی میں صبر و استقامت کے مفہوم، اقسام اور عملی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں اس عظیم اخلاقی صفت سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
صبر کی لغوی و اصطلاحی تعریف
لفظ صبر عربی زبان کے مادہ “ص ب ر” سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: روک لینا، باندھ لینا، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا، برداشت کرنا اور ثابت قدم رہنا۔
اصطلاح میں صبر سے مراد یہ ہے کہ انسان ناگوار حالات، مشکلات، مصائب اور خواہشاتِ نفس کے مقابلے میں خود کو قابو میں رکھے، شریعت کے دائرے میں ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منحرف نہ ہو۔ صبر میں اطاعت پر ثابت قدمی، معصیت سے اجتناب اور مصیبت پر تحمل شامل ہے۔
استقامت کی لغوی و اصطلاحی تعریف
لفظ استقامت عربی مادہ “ق و م” سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: سیدھا کھڑا ہونا، اعتدال پر قائم رہنا، مضبوطی سے جمے رہنا اور ثابت قدمی اختیار کرنا۔
اصطلاح میں استقامت سے مراد یہ ہے کہ انسان حق کے راستے پر ثابت قدم رہے، مشکلات، آزمائشوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے اور دینِ الٰہی کے تقاضوں پر مسلسل عمل کرتا رہے۔
صبر اور استقامت کا باہمی تعلق
صبر اور استقامت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ صبر انسان کو نفس اور حالات پر قابو رکھنا سکھاتا ہے، جبکہ استقامت اس صبر کو عمل اور تسلسل عطا کرتی ہے۔ نہج البلاغہ کی تعلیمات کے مطابق صبر بنیاد ہے اور استقامت اس بنیاد پر قائم مضبوط عمارت کی مانند ہے۔
صبر و استقامت قرآن کی نگاہ میں
خداوندِ متعال قرآنِ مجید میں صبر و استقامت کی بہت زیادہ تاکید فرماتا ہے۔ صبر کرنا مومن اور متقی لوگوں کی نمایاں صفت ہے، اور یہ انسان کو زندگی کے امتحانات میں ثابت قدم رہنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں قرآنِ مجید کی متعدد آیات صبر کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ (1)
ترجمہ: اور صبر اور نماز کا سہارا لو، اور یہ (نماز) بارگراں ہے، مگر خشوع رکھنے والوں پر نہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشکلات اور مصائب کے مقابلے میں صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔ جو انسان خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، اس کے اندر صبر و تحمل کی قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ زندگی کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ نماز ادا فرماتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام نے فرمایا کہ صبر سے مراد روزہ بھی ہے، کیونکہ روزہ روحانی صبر پیدا کرتا ہے۔
قرآنِ مجید صبر پر تاکید ہی نہیں کرتا بلکہ صابرین کی حوصلہ افزائی بھی فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ (2)
ترجمہ: یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
جب انسان اللہ کے لیے صبر و استقامت اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا مددگار بن جاتا ہے اور اسے مشکلات سے نجات عطا فرماتا ہے۔
اسی طرح قرآن بعض مواقع (3) پر صبر اور درگزر اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے:
وَ لَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡر (3)
صبر صرف مصیبت کے وقت ہی نہیں بلکہ گناہوں سے بچنے، غصے پر قابو پانے، نماز قائم کرنے، انفاق کرنے اور مظلوم ہونے کے بعد درگزر کرنے کا نام بھی ہے۔
قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
ولَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ (4)
ترجمہ: اور ہم تمہیں کچھ خوف، بھوک اور جان و مال اور ثمرات (کے نقصانات) سے ضرور آزمائیں گے اور آپ ان صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دیجئے۔
ان آیت کی تفسیر میں واضح ہوتا ہے کہ صبر و رضا کا بلند ترین اظہار یہ ہے کہ انسان مصیبت کے وقت کہے: انَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ یہ عقیدہ انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ کسی ظالم قوت کا شکار نہیں بلکہ ایک عادل اور مہربان رب کا بندہ ہے، جو انسان کو اس کی تربیت کے لیے آزمائش میں ڈالتا ہے۔
حضرت موسیٰؑ و حضرت خضرؑ کے واقعہ میں صبر کی اہمیت:
امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام امام خضر علیہ السلام سے ملاقات میں تھوڑا صبر اور استقامت سے کام لیتے تو یقیناً بہت سی چیزیں سیکھ لیتے۔ لیکن بدقسمتی سے اس پروفیسر کی کلاس میں ان کی موجودگی تین سیشنوں سے زیادہ نہ رہی، اور حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی بے صبری کی وجہ سے انہیں قبول نہ کیا،
اور فرمایا:
قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا (5)
ترجمہ: اس نے جواب دیا، آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔
یعنی جب انجام کا علم نہ ہو تو صبر نہیں آتا۔ لہٰذا صبر کا علم سے گہرا ربط ہے، جس طرح اگر شفا کے حصول کا علم نہ ہو تو معالجے کی تلخی قابلِ تحمل نہیں ہوتی۔ اس لیے صبر و استقامت کے لیے اس کے فوائد و ثمرات کا علم ہونا ضروری ہے۔
حدیث میں آیا ہے:
و مَنْ عَرَفَ قَدْرَ الصَّبْرِ لَا یَصْبِرُ عَمَّا مِنْہُ الصَّبْرُ (6)
یعنی اگر صبر کی قدر و قیمت کا علم ہو جائے تو جس سے صبر کرنا ہوتا ہے، اس پر صبر نہ کرنے پر صبر نہ آتا۔
صبر کی اقسام امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں
انسانی اخلاقی خوبیوں میں صبر و تحمل کو ایک ممتاز اور بلند مقام حاصل ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز، مسائل اور مشکلات میں اگر انسان صبر و بردباری کا دامن تھام لے تو وہ نہ صرف حالات کا مقابلہ کر لیتا ہے بلکہ باطنی طور پر مضبوط اور باوقار بھی ہو جاتا ہے۔ صبر و تحمل کے طریقوں سے آشنائی انسان کو مصیبتوں اور پریشانیوں کے مقابلے میں گویا ایک مضبوط حصار عطا کر دیتی ہے، جس کے باعث وہ کسی آزمائش میں ٹوٹتا یا کمزور نہیں ہوتا۔
صبر کا مفہوم صرف مشکلات اور مصائب تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل اور بلند ترین مقام انسانی تکامل ہے۔ صبر وہ راستہ ہے جو انسان کو خدا کا حقیقی بندہ بننے اور انسانیت کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے، اور اسی منزل کے حصول کے لیے صفتِ صبر سے آراستہ ہونا ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید اور نہج البلاغہ کی تعلیمات میں صبر و تحمل کو انسان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے، اور اس وصف سے متصف افراد کی بارہا تعریف و توصیف کی گئی ہے۔
امام علی علیہ السلام سے صبر و تحمل کے موضوع پر بے شمار احادیث منقول ہیں۔ خود ان کی ذات صبر و استقامت کا روشن اور عملی نمونہ تھی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے المناک موقع پر بھی آپؑ نے صبر و ضبط کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ مزید جب کہ خلافت مسلمانوں پر آپؑ کا مسلم حق تھی، اس کے باوجود آپؑ نے پچیس برس تک صبر و خاموشی اختیار کی۔ اسی طرح اپنے دورِ خلافت میں پیش آنے والی جنگوں میں بھی آپؑ نے کسی اقدام سے پہلے تحمل سے کام لیا اور فریقِ مخالف کو بارہا واپسی اور اصلاح کا موقع فراہم کیا، یہاں تک کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔
امام علی علیہ السلام صبر کی حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
”صبر تین قسم کا ہے: ایک مصیبت کے وقت صبر کرنا، دوسرا اطاعتِ خدا کے وقت صبر کرنا، اور تیسرا معصیت و نافرمانیِ خدا کے مقابلے میں صبر کرنا“۔ (7)
ان تینوں صورتوں میں صبر کا میدان انسان کے سامنے آتا ہے؛ خواہ وہ زندگی کی مشکلات سے دوچار ہو، یا کسی ممنوع اور برے عمل کی طرف مائل کرنے والے مواقع درپیش ہوں، یا فرائضِ الٰہی کی ادائیگی میں دشواریاں حائل ہوں۔ ایسے تمام مواقع پر صبر جیسی عظیم صفت انسان کے کردار کا امتحان لیتی ہے۔ ان شاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ امام علی علیہ السلام کے حکیمانہ کلام کی روشنی میں صبر کے ان تینوں مراحل کی مختصر مگر جامع وضاحت پیش کی جائے۔
1- مصیبت میں صبر کرنا
انسان ہمہ وقت ناخوشگوار واقعات و حوادث کی زد میں رہتا ہے اور ان سے مکمل طور پر فرار حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ آلام و مصائب انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ جیسا کہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یہ دنیا بلاؤں (مصیبتوں اور آزمائشوں) میں گھرا ہوا گھر ہے“۔ (8)
بالکل اسی طرح مشکلات، بیماریاں، پریشانیاں، نقصانات اور عزیز و اقارب کی اموات ایسی حقیقتیں ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں۔ ایسے حالات میں انسان کا ردِعمل دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ جو مصیبت کے وقت شکستہ دل ہو کر بیٹھ جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
جو شخص مصیبت کے وقت صبر اختیار کرتا ہے، اس کی روحانی طاقت مزید مضبوط ہو جاتی ہے، اس کے ارادے اور اختیار میں پختگی آتی ہے اور اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مصائب و حوادث پر صبر کے بارے میں ابی بصیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا: ”آزاد انسان ہر حال میں آزاد رہتا ہے۔ اگر اس پر کوئی مصیبت آئے تو وہ صبر کرتا ہے۔ اگر اس پر ہر طرف سے آزمائشیں نازل ہوں اور شدید ضربیں لگیں تب بھی وہ اسے توڑ نہیں سکتیں۔ خواہ اسے قید کر لیا جائے اور زمانے کی سختیاں اس پر ٹوٹ پڑیں، اور اس کی آسائشیں بے آرامی میں بدل جائیں، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔ قید، غلامی اور مغلوبیت بھی ان کی آزادی کو ختم نہ کر سکی“۔ (9)
اسی طرح امام علی علیہ السلام اپنے حکمت آمیز کلمات میں فرماتے ہیں: ”صبر کرنے والا ظفر و کامیابی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے“۔ (10)
اور جو شخص صبر کا مظاہرہ نہیں کرتا، اس کے بارے میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مصیبت کے اندازے کے مطابق (اللہ کی طرف سے) صبر کی ہمت عطا کی جاتی ہے، اور جو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے، اس کا عمل ضائع ہو جاتا ہے“۔ (11)
امام علی علیہ السلام کے اس حکیمانہ فرمان میں دو اہم نکات کی طرف اشارہ ہے:
اوّل، صبر اور مصیبت کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔
دوم، بے صبری اور اضطراب کی وجہ سے اجر کا ضائع ہو جانا۔
یعنی صبر مصیبت کے مطابق نازل ہوتا ہے، اور جو شخص مصیبت کے وقت بے صبری اور ناشکری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی میں مشکلات ہمیشہ رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی، کیونکہ یہی دنیا کی فطرت ہے۔ لیکن جس خدا نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا ہے، اسی نے اسے مشکلات سے نمٹنے کے لیے صبر و تحمل جیسی قوت بھی عطا کی ہے۔
بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ماں اپنے کم سن بچے کو کھو دیتی ہے۔ ابتدائی لمحوں میں وہ شدید بے قراری کا شکار ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، رفتہ رفتہ اس کے دل میں سکون اترنے لگتا ہے، گویا اس کے اندر سے کوئی قوت ابھرتی ہے جو اسے اس عظیم مصیبت کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ مصیبت جتنی شدید ہوتی ہے، صبر کی یہ قوت بھی اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ تاہم بعض افراد اس عمومی اصول کے برخلاف صبر کھو بیٹھتے ہیں، حتیٰ کہ خودکشی یا ناگہانی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
امام علی علیہ السلام کا یہ فرمان تمام مصیبت زدہ افراد کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ وہ بے صبری نہ کریں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ضروری صبر عطا فرماتا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس جملے کی تشریح مختلف انداز میں کی ہے، لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت صبر اور شکر اختیار کرتا ہے، اللہ اسے اجر عطا فرماتا ہے، اور جو ناشکری و بے صبری اختیار کرے، وہ اس اجر سے محروم رہتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو مصیبت میں صبر کی تلقین فرمائی۔ اشعث بن قیس کو اس کے بیٹے کے انتقال پر تعزیت دیتے ہوئے فرمایا: ”اے اشعث! اگر تم اپنے بیٹے پر رنج کرتے ہو تو یہ خون کا رشتہ ہے، اور اگر صبر کرو تو اللہ کے نزدیک ہر مصیبت کا بدلہ ہے۔ اگر تم نے صبر کیا تو تقدیر الٰہی نافذ ہو گی اور تم اجر کے مستحق ہو گے، اور اگر چیخ و پکار کرو گے تب بھی قضا جاری ہو کر رہے گی، مگر اس حال میں تم پر گناہ کا بوجھ ہو گا۔ تمہارے لیے بیٹا خوشی کا سبب تھا حالانکہ وہ ایک آزمائش تھا، اور اب وہ رنج کا سبب بنا حالانکہ وہ تمہارے لیے اجر و رحمت کا باعث ہے“۔ (12)
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے کسی عزیز کی وفات پر پہلا سوال یہ ذہن میں آتا ہے: ”میں ہی کیوں؟“
حالانکہ یہ جان لینا چاہیے کہ موت زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اللہ کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے جانشین سب سے محبوب تھے، لیکن انہوں نے بھی موت کا ذائقہ چکھا اور اپنے عزیزوں کا غم بغیر کسی گناہ کے دیکھا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا مصیبت پر صبر
امام جعفر صادق علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ صبر و استقامت کا روشن نمونہ ہے۔ آپ ہمیشہ بردباری اور حلم سے کام لیتے تھے۔ بعض لوگ آپ سے سخت اور گستاخانہ لہجے میں بات کرتے، بعض دین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے، لیکن آپ ہمیشہ وقار اور شائستگی کے ساتھ جواب دیتے اور ناگوار باتوں پر صبر فرماتے۔
جب امام جعفر صادق علیہ السلام پر ذاتی مصیبتیں آئیں، جیسے اولاد کی وفات، تو اس وقت بھی آپ کے صبر کی مثال بے نظیر ہے۔ علاء بن کامل روایت کرتے ہیں کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ گھر سے درد بھری آواز بلند ہوئی۔ امام اٹھے، پھر بیٹھ گئے، ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ پڑھا اور اپنی گفتگو مکمل کی۔ بعد ازاں فرمایا: ”ہم اپنی جانوں، اولاد اور مال کی حفاظت پسند کرتے ہیں، لیکن جب قضائے الٰہی واقع ہو جائے تو ہماری پسند بھی وہی ہوتی ہے جو اللہ ہمارے لیے پسند فرماتا ہے“۔
یہ اس وقت فرمایا گیا جب آپ کے بڑے فرزند حضرت اسماعیل بن جعفر علیہ السلام کا انتقال ہوا۔ (13)
یہ صدمہ یقیناً نہایت گہرا تھا، مگر امام جعفر صادق علیہ السلام نے مصیبت پر صبر کو غالب رکھا، اللہ کی رضا پر راضی رہے اور مومنین کے لیے صبر کی ایک عظیم مثال قائم کی۔
2- اطاعت خداوندی پر صبر کرنا
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اطاعت میں صبر کے ساتھ خدا کی نعمتوں کو اپنے اوپر تمام کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو“۔ (14)
یہ فرمان اطاعت کی راہ میں صبر کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور اس کے روحانی فوائد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اطاعت میں صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان دین کے واجبات کی انجام دہی میں مشکلات، تکالیف، وسوسے اور خطرات کے باوجود ثابت قدم رہے، اللہ کی رضا کو مقدم رکھے اور نافرمانی سے بچے۔ آج کے دور میں اللہ کی اطاعت اور بندگی میں صبر کرنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، اور یہ بات بچپن سے ہی واضح ہو جاتی ہے۔ والدین بچوں کو بعض کام کرنے کی نصیحت کرتے ہیں جنہیں وہ خود کرنا پسند نہیں کرتے اور بعض کاموں سے روک دیتے ہیں جن میں بچے دل سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح دین کے واجبات کی انجام دہی بھی آسان نہیں۔ نماز کے لیے کھڑے ہونے پر کئی وسوسے انسان کے دل میں آتے ہیں، روزہ رکھتے ہوئے بھوک اور پیاس کا صبر درکار ہوتا ہے، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دوران انسان کو اپنی جان تک کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا ان سب رکاوٹوں کو دیکھ کر انسان واجبات کی ادائیگی سے رک جائے؟ بالکل نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اطاعت میں صبر کی اصل اہمیت نمایاں ہوتی ہے اور انسان کو اپنے نفس اور دنیا کی راحتوں کے خلاف استقامت اختیار کرنی پڑتی ہے۔
اطاعت میں صبر کی روشن مثالیں اہل بیت علیہم السلام کی زندگی میں ملتی ہیں۔ جب نماز کے دوران امام علی علیہ السلام کو ضربت لگی، مگر آپ علیہ السلام نے اپنے زخم کی پرواہ کیے بغیر نماز مکمل کی۔ یہ اطاعت میں صبر اور استقامت کی اعلیٰ مثال ہے، کیونکہ امام علی علیہ السلام نے واجبات کی ادائیگی کو اپنی تکلیف سے مقدم رکھا۔ اسی طرح کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام نے دشمن کے ہر طرف سے محاصرہ ہونے کے باوجود وقت نماز کے دوران جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ دشمن کی طرف سے تیر برسائے جا رہے تھے، لیکن امام حسین علیہ السلام نے اطاعت میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ یہی صبر انسان کی حقیقی ترقی، ایمان کی مضبوطی اور اللہ کی برکتوں کا ذریعہ بنتا ہے۔
اطاعت میں صبر انسان کی روح کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مشکلات اور تکالیف کے بعد سکون، راحت اور اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میدان جنگ میں اپنے باپ، بیٹوں، بھائیوں اور چچاؤں کے قتل کے بعد بھی ایمان میں اضافہ محسوس کرتے تھے۔ اطاعت اور راہِ حق کی پیروی میں اضافہ ہوتا اور کرب و الم کی سوزشوں پر صبر میں بھی اضافہ ہوتا“۔ (15)
اسی طرح امام علی علیہ السلام نے صبر کی اہمیت اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”صبر کرنے والا ظفر و کامیابی سے محروم نہیں ہوتا چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے“۔ (16)
ان دونوں فرامین سے واضح ہوتا ہیں کہ اطاعت میں صبر صرف تکالیف کو برداشت کرنا نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ایمان کی مضبوطی، روحانی ترقی، اللہ کی رضا اور حتمی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے بغیر انسان واجبات میں ڈٹ کر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی حقیقی مومن کی پہچان پا سکتا ہے۔
اطاعت میں صبر کا عملی مطلب یہ ہے کہ انسان نماز کے دوران وسوسوں کے خلاف ثابت قدم رہے، روزے میں بھوک و پیاس کا صبر کرے، دین کے امور میں خطرات اور مشکلات کے باوجود ہمت اور استقامت اختیار کرے، اور واجبات کی ادائیگی میں مشکلات کے باوجود ڈٹا رہے۔ یہی اطاعت میں صبر ہے جو انسان کو حقیقی سکون، اللہ کی رضا اور زندگی میں برکت عطا کرتا ہے۔
3- معصیت پر صبر کرنا
اصبغ بن نباتہ حضرت علی علیہ السلام کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں اور صبر کے بارے میں امام علی علیہ السلام کی روایت کو اس طرح بیان کرتے ہیں: ”صبر دو قسم کا ہے۔ ایک مصائب پر صبر کرنا، جو بہت احسن ہے۔ لیکن اس سے احسن تر صبر خدا کے حرام کردہ اور ممنوع کاموں پر صبر کرنا ہے“۔ (17)
صبر کو عموماً ہم مصیبت، دکھ اور ناکامی کے تناظر میں سمجھتے ہیں، مگر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے صبر کے مفہوم کو ایک بلند اخلاقی سطح پر پہنچایا ہے۔ ان کے نزدیک معصیت، یعنی گناہ سے بچنے پر صبر، مصیبت پر صبر سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ یہ بات بظاہر سادہ لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسانی کردار کی سب سے کڑی آزمائش کی نشاندہی کرتی ہے۔ مصیبت انسان پر مسلط ہوتی ہے، مگر معصیت انسان کو دعوت دیتی ہے، اور اسی دعوت کو رد کرنا اصل صبر ہے۔
معصیت پر صبر دراصل نفس کے خلاف جہاد ہے۔ جب انسان کے سامنے فائدہ ہو، لذت ہو، وقتی آسائش ہو اور کوئی ظاہری رکاوٹ بھی نہ ہو، تب خود کو روک لینا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں رہتا بلکہ عملی فیصلہ بن جاتا ہے۔ حرام سے رک جانا اس بات کا اعلان ہے کہ انسان نے اللہ کے حکم کو اپنی خواہش پر ترجیح دے دی ہے۔
یہ صبر صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے پر اثر ڈالتا ہے۔ اگر تاجر ناجائز منافع سے رک جائے، حاکم ظلم سے باز رہے، طاقتور کمزور کا حق نہ کھائے اور نوجوان خواہشات کے طوفان میں بھی حدودِ الٰہی کو نہ توڑے تو معاشرہ خود بخود پاکیزگی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ معصیت پر صبر دراصل معاشرتی انصاف اور اخلاقی توازن کی بنیاد ہے۔
حضرت یوسفؑ کا درخشاں نمونہ
انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض قصہ نہیں رہتے بلکہ کردار سازی کی زندہ مثال بن جاتے ہیں۔ معصیت پر صبر کے باب میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسا ہی روشن مینار ہے، جو ہر دور کے انسان کو خواہشات کے طوفان میں راستہ دکھاتا ہے۔
حضرت یوسفؑ کا شمار انبیائے کرام میں ہوتا ہے، مگر ان کی آزمائش عام انسانی کمزوریوں سے جڑی ہوئی تھی۔ جوانی، حسن و جمال، اقتدار کے قریب ہونا اور تنہائی یہ سب وہ عوامل تھے جو کسی بھی انسان کو لغزش کی طرف لے جا سکتے تھے۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے جب واضح طور پر گناہ کی دعوت دی تو حالات پوری طرح معصیت کے حق میں تھے۔ نہ کوئی دیکھنے والا، نہ کوئی روکنے والا۔ مگر ایسے نازک لمحے میں حضرت یوسفؑ کے دل سے جو صدا بلند ہوئی وہ تھی:
﴿مَعَاذَ اللّٰہِ﴾ (18)
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
یہ ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مضبوط ایمان کا اعلان تھا۔ حضرت یوسفؑ نے صرف اللہ کے خوف کا اظہار نہیں کیا بلکہ اپنے محسن کی امانت کا بھی لحاظ رکھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقی صبر محض گناہ سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ اخلاقی ذمہ داری کو نبھانے کا نام بھی ہے۔
جب گناہ کا دباؤ مزید بڑھا اور بدنامی کا خطرہ سامنے آیا تو حضرت یوسفؑ نے ایک ایسی دعا مانگی جو صبر کی معراج ہے:
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ (19)
”اے میرے رب! قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ مجھے بلا رہے ہیں“۔
یہاں ایک عظیم سبق پوشیدہ ہے۔ حضرت یوسفؑ نے گناہ پر صبر کو وقتی آزادی پر ترجیح دی۔ وہ جانتے تھے کہ قید جسم کو باندھ سکتی ہے مگر گناہ روح کو قید کر دیتا ہے۔چنانچہ وہ قید خانے میں ڈال دیے گئے، مگر یہی قید بعد میں ان کی عزت، اقتدار اور اللہ کی خاص نصرت کا ذریعہ بنی۔
قید کے دوران بھی حضرت یوسفؑ نے صبر، اخلاق اور دعوتِ توحید کا دامن نہیں چھوڑا اور آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کا ایسا بدلہ دیا کہ وہی یوسفؑ جو کل قیدی تھے، آج مصر کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے۔ (20)
حضرت یوسفؑ کی یہ مثال ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ معصیت پر صبر وقتی محرومی ضرور ہے، مگر دائمی کامیابی کا راستہ بھی یہی ہے۔ جو شخص ایک لمحے کے گناہ سے رک جاتا ہے، اللہ اس کے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
آج کے دور میں، جب فتنوں کی یلغار ہر سمت سے ہے، حضرت یوسفؑ کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی خواہشات کو ماننے میں نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر رک جانے میں ہے۔ یہی صبر انسان کو دنیا کی ذلت اور آخرت کے خسارے سے بچاتا ہے۔
معصیت پر صبر نہ کرنے کا انجام
اگر انسان معصیت پر صبر نہ کرے تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے انسان کا ایمان کمزور پڑنے لگتا ہے۔ گناہ وقتی لذت تو دیتا ہے مگر دل سے نورِ ایمان چھین لیتا ہے، جس کے نتیجے میں عبادت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے اور اللہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ انسان گناہ کا عادی بن جاتا ہے۔ ایک معصیت دوسری معصیت کو جنم دیتی ہے، یہاں تک کہ برائی معمول بن جاتی ہے اور نیکی اجنبی لگنے لگتی ہے۔
تیسرا اثر روحانی بے سکونی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ضمیر کی خلش، دل کی گھبراہٹ اور زندگی میں بے برکتی آجاتی ہے۔ انسان کے فیصلے غلط ہونے لگتے ہیں اور اسے صحیح و غلط میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
چوتھا نقصان معاشرتی بگاڑ ہے۔ جب فرد اپنی خواہشات کے سامنے ہار مان لے تو اس کا اثر گھر، خاندان اور معاشرے پر پڑتا ہے۔ اعتماد ٹوٹتا ہے، رشتے کمزور ہوتے ہیں اور اخلاقی اقدار زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اور سب سے بڑا نقصان آخرت کا خسارہ ہے۔ چند لمحوں کی بے صبری ہمیشہ کی ندامت بن سکتی ہے۔ اگر انسان معصیت پر صبر کرتا تو وہ اللہ کی رضا، مغفرت اور جنت کا مستحق بن سکتا تھا۔
اسی لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ گناہ کے مقابلے میں صبر کرنا اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہی صبر انسان کو دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب سے بچاتا ہے۔
صبر اور حکمت عملی
زندگی میں بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کو فوری فیصلہ کرنے یا فوری کارروائی کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ انسانی فطرت چاہتی ہے کہ مشکلات کا فوری حل نکالا جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جلد بازی اور بے صبری اکثر نقصان اور مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ بہتر حکمت عملی اور مناسب منصوبہ بندی کے لیے صبر و تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج کے دور میں لوگ اکثر جلد غصے میں آ جاتے ہیں، فوری فیصلے کر لیتے ہیں اور نتائج کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں نکالتے۔ اس کی وجہ صبر و تحمل کا فقدان ہے، جو نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ سماجی اور سیاسی میدان میں بھی ناکامی کا سبب بنتا ہے۔ انسانی زندگی اکثر مشکلات اور چیلنجز سے بھری ہوتی ہے، لیکن صبر انسان کو حالات کو سنبھالنے، بہتر تجزیہ کرنے اور مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی قوت دیتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا:
”صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے“۔ (21)
اسی طرح دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں:
”صبر مصائب و حوادث کا مقابلہ کرتا ہے“۔ (22)
یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ صبر صرف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ مضبوط حکمت عملی اور درست فیصلہ سازی کی بنیاد ہے۔
صبر اور تدبر
حضرت علی نے نہج البلاغہ کے خطبہ یوم شققیہ میں فرمایا:
”میں نے اپنے آپ سے سوچا کہ ایک ہاتھ سے حملہ کروں یا اس اندھیرے کی برائی پر صبر کروں۔ میں نے دیکھا کہ یہاں صبر زیادہ عقلمند ہے، تو میں نے انتظار کیا“۔ (23)
یہ واقعہ نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی ذاتی حکمت اور تدبر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ صبر انسان کو فوری ردعمل کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ اس واقعے میں امام علی علیہ السلام نے خلافت سے انکار اور ممکنہ خطرات کے باوجود صبر اختیار کیا، جس کی وجہ سے نہ صرف جنگ جمل کے دوران حالات کو قابو میں رکھا بلکہ اسلام کی روح اور معاشرتی امن کو بھی محفوظ رکھا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حالات کی پیچیدگی اور خطرات کے باوجود صبر اور تدبر کے ساتھ صحیح فیصلہ کرنے کا عمل ہمیں کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
صبر کے عملی فوائد
امام علی علیہ السلام کا صبر اور نہج البلاغہ کے اقوال ہمیں صبر کے چند عملی فوائد بھی واضح کرتے ہیں:
1۔ جلد فیصلہ کرنے سے بچاؤ: صبر انسان کو فوری فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔ دوسروں کے رویے یا حالات کے بارے میں جلد فیصلہ کرنے کی بجائے صبر انسان کو سوچنے اور حالات کا جائزہ لینے کی قوت دیتا ہے۔
2۔ موجودہ حالات کا تجزیہ اور بہتر حکمت عملی: صبر کے ذریعے انسان حالات کو تفصیل سے سمجھتا ہے اور مناسب اقدامات کرتا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے جنگ جمل کے دوران اپنے صبر و تدبر کے ذریعے متعدد بار حالات کو سنبھالا اور صحیح وقت پر فیصلہ کیا۔
3۔ غلط فیصلوں سے بچاؤ: جلد بازی اور صبر کی کمی اکثر نقصان دہ فیصلوں کا سبب بنتی ہے۔ صبر انسان کو حالات کا صحیح اندازہ لگانے اور دانشمندی سے کام لینے کی صلاحیت دیتا ہے۔
4۔ ذاتی اور سماجی سکون: صبر انسان کو ذہنی سکون اور برداشت عطا کرتا ہے، جو نہ صرف ذاتی بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی ہم آہنگی اور تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
صبر اور کامیابی
امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں بارہا صبر کو کامیابی، حکمت اور فتح کی کنجی قرار دیا ہے۔ صبر صرف مشکلات کو برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علم، تدبر اور دانشمندی کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
آج کے دور میں، جہاں جلد بازی اور فوری فیصلوں کی روش عام ہے، نہج البلاغہ کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ: صبر و تحمل کے بغیر حکمت عملی اور درست فیصلے ممکن نہیں۔
مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ صبر اور تدبر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
صبر انسان کو نہ صرف ذاتی بلکہ سماجی اور سیاسی میدان میں بھی کامیابی دلاتا ہے۔
نتیجہ
مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ صبر و استقامت انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور مومن کی نمایاں صفت ہے۔ نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے صبر کو محض وقتی برداشت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اخلاقی، فکری اور عملی قوت کے طور پر پیش کیا ہے جو انسان کو مشکلات، مصائب اور آزمائشوں کے مقابل ثابت قدم رکھتی ہے۔ آپؑ کے فرامین کے مطابق صبر ایمان کا ستون، عقل کی رہنمائی اور کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے۔
نہج البلاغہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان کی زندگی آزمائشوں سے عبارت ہے اور ان آزمائشوں میں کامیابی صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ خواہ وہ اطاعتِ الٰہی میں ثابت قدمی ہو، گناہوں سے اجتناب ہو یا مصیبتوں پر تحمل، ہر مقام پر صبر انسان کو قربِ خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک صبر انسان کو ناامیدی، کمزوری اور شکست سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نصرت و رحمت کا مستحق بناتا ہے۔
مزید برآں، صبر و استقامت فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور معاشرے میں امن، برداشت اور عدل کو فروغ دیتی ہے۔ ایک صابر انسان نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں توازن پیدا کرتا ہے بلکہ سماجی تعلقات میں بھی تحمل، برداشت اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے صبر کو کامیاب قیادت، مضبوط معاشرہ اور عادلانہ نظام کی بنیاد قرار دیا ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر فرد اور معاشرہ نہج البلاغہ کی تعلیمات کے مطابق صبر و استقامت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف انفرادی مشکلات میں کمی آ سکتی ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک صالح، پُرامن اور متوازن معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ صبر ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو آزمائشوں سے نکال کر فلاحِ دنیا و آخرت تک پہنچاتا ہے۔
حوالہ جات
[1] سورۂ بقرہ: 45[2] سورۂ بقرہ: 153
[3] سورۂ شوریٰ: 43
[4] سورہ بقرہ 155
[5] سورۂ کہف، 67
[6] مستدرک الوسائل، ج 2، ص 427
[7] الکافی، جلد 3، ص 387، حدیث 15
8] نہج البلاغہ، خطبہ 223
[9] اصولِ کافی، ج 2، ص 89
[10] نہج البلاغہ، حکمت 153
[11] نہج البلاغہ، حکمت 144
[12] نہج البلاغہ، حکمت 291
[13] امام جعفر صادقؑ: ولادت سے شہادت تک، آیت اللہ سید محمد کاظم قزوینی، ص 242
[14] نہج البلاغہ ، خطبہ 188
[15] نہج البلاغہ، خطبہ 56
[16] نہج البلاغہ، حکمت 153
[17] اصول کافی، ج 2، ص 90
[18] سورۂ یوسف، آیت 23
[19] سورۂ یوسف، آیت 33
[20] سورۂ یوسف، آیت 55
[21] نہج البلاغہ حکمت 153
[22] نہج البلاغہ حکمت 211
[23] نہج البلاغہ خطبہ 3
منابع
[1] موبائیل ایپ بلاغ القرآن ترجمہ و حواشی – مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ[2] نہج البلاغہ، تالیف آیت اللہ سید رضی، مترجم، مفتی جعفر حسین، پیشکش مولانا محمد ایوب بشوی، ناشر ثاقب پبلی کیشنز لاہور پاکستان
[3] صبر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ترجمہ سید سعید حیدر زیدی، ناشر دار الثقلین
[4] شافی، ترجمہ اصول کافی، مترجم سید منیر حسین رضوی، ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ
[5] امام جعفر صادقؑ: ولادت سے شہادت تک، آیت اللہ سید محمد کاظم قزوینی
مقالہ نگار: بشری مشتاق
بیچلر آف کامرس
شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی خیرپور



