مرکزی سلائیڈرمطبوعات

نہج البلاغہ اردو ترجمہ و شرح مولانا سید علی اظہر رحمت اللہ علیہ

مرکز افکار اسلامی کی ایک نئی اور فخریہ پیشکش

﷽

آج سے تقریباً 125 سال پہلے پٹنہ ہندوستان میں فخر الحکماء مولانا سید علی اظہر رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اہل حدیث عالم سے گفتگو ہوئی۔ آئندہ کی خبریں اور آئمہ کی سچائی پر مبنی اس موضوع کا جواب نہج البلاغہ سے دیا گیا۔ سید علی اظہر نے اسی وقت نہج البلاغہ کا ترجمہ شروع کیا۔ بڑی کوشش کے باوجود 107 خطبات سے آگے ترجمہ نہ ہو سکا۔ وہ 107 خطبات بھی الگ شائع نہ ہو سکے۔ آپ کی خدمت میں افکار اسلامی ان 107 خطبات کے ترجمہ کو پہلی بار پیش کر رہا ہے۔

مقبول حسین علوی
مرکز افکارِ اسلامی پاکستان

نہج البلاغہ اردو ترجمہ و شرح مولانا سید علی اظہر

نام کتاب نہج البلاغہ
ترجمہ و حواشی: فخر الحکماء مولانا سید علی اظہرؒ (مولانا سید علی حیدرؒ)
تاریخ اشاعت: اکتوبر 2026ء، جمادی الاوّل 1448ھ
طبع: اوّل
ناشر: مرکز افکار اسلامی، پاکستان
صفحات: 516
ملک: پاکستان
زبان: اردو
کتاب ملنے کا پتہ جامعہ جعفریہ، جنڈ، ضلع اٹک
فون: 0302-5230406

آن لائن پڑھیں

ڈاؤن لوڈ کریں

پیش گفتار

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتَاحًا لِذِكْرِهٖ، وَسَبَبًا لِّلْمَزِيْدِ مِنْ فَضْلِهِ، وَدَلِيْلًا عَلٰى اٰلَائِهٖ وَعَظَمَتِهٖ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِهٖ وَرَسُولِهٖ وَسَيّدِ عِبَادِهٖ، وَعَلٰى اٰلِهِ الَّذِيْنَ هُمْ خُزَّانُ كِتَابِهٖ وَجِبَالُ دِينِهٖ، أَمَّا بَعْدُ

قرآن کریم علم الہی کا وہ منبع ہے جس کے بارے میں امیر المومنینؑ فرماتے ہیں: ”وَ يَنَابِيْعُ الْعِلْمِ وَ بُحُوْرُہٗ“ (1) اس سے علم کے چشمے پھوٹتے اور دریا بہتے ہیں۔ جس قلب مبارک پر یہ قرآن اترا ہے اُس کی نعت گوئی میں علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خَازِنُ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ“ (2) ”وہ تیرے علم مخفی کے خزینہ دار تھے“ اس منبع و ماخذ سے علم حاصل کرکے امیرالمومنین علیہ السلام اس لامتناہی خزانے کے وارث قرار پائے کہ اپنے دست مبارک سے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هَا اِنَّ هَاهُنَا لَعِلْمًا جَمَّا“ (3) ”دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے“۔

علم کے اس ختم نہ ہونے والے ذخیرے سے قلم یا کلام کے ذریعہ جو علمی چشمہ رواں ہوا اس سے کچھ موتی و جواہر سمیٹ کر سید رضیؒ نے یکجا کیے اور اُس انتخاب کا نام ”نہج البلاغہ“ رکھا اور ان دو خوبصورت جملوں میں تعارف کرایا:

عَلَيْهِ مَسْحَةٌ مِنَ الْعِلْمِ الْإِلٰهِي وَفِيْهِ عَبْقَةٌ مِنَ الْكَلَامِ النَّبَوِيِّ (4)
اس میں علم الٰہی کی چمک اور کلام نبویؐ کی خوشبو ہے۔

اس صاحب علم و کمال نے ہمیشہ دعوت دی ہے کہ ”سَلُونِي قَبْلَ أَن تَفْقِدُونی“ (5) ”مجھے کھو دینے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو“۔ جب پوچھنے اور سیکھنے والا کوئی نہ ملا تو حسرت سے فرمایا: ”لَوْ آصَبْتُ لَهُ حَمَلۃً“ (6) ”کاش! اس کے لینے اور اٹھانے والا کوئی مل جاتا“۔

اس علمی سرمائے کو سمیٹنے کے لیے اور امیر المومنین علیہ السلام کی حسرت کو پورا کرنے کے لیے حارث ہمدانی اور صعصہ بن صوحان جیسے علم کے پیاسے اس کی گھاٹ پر اُتر کر سیراب ہوتے اور دوسروں کو سیراب کرتے رہے۔ زمانہ گزرتا رہا اور علم علیؑ کا چشمہ جاری رہا اور امامؑ کا فرمان پورا ہوتا رہا۔ ”يَنْحَدِرُ عَنِي السَّيْل“ (7) ”علم و معرفت کے سیلاب میری ذات کے کوہ بلند سے گزر کر نیچے جاتے ہیں“۔ لوگ وسعت بھر اس دریائے رواں سے ظرف دل بھر تے رہے۔

سید رضیؒ نے اس کلام کو کچھ ایسی محبت اور خلوص سے جمع کیا کہ خود 406 ہجری میں دنیا کو چھوڑ گئے مگر اس کلام کے طفیل گھر گھر اُن کا نام ہے اور یہ امامؑ کے اس فرمان کا واضح ثبوت ہے۔ ”اَلْعُلَمَاءُ بَاقُونَ مَا بَقِيَ الدَّهْرُ“ (8) ”علماء رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں“۔

علم کی یہ شمع یونہی روشن سے روشن تر ہوتی رہی اور امام کا فرمان پورا ہوتا رہا۔ ”اَیُّهَا النَّاسُ! اسْتَصْبِحُوا مِنْ شُعْلَةِ مِصْبَاحِ وَاعِظٍ مُّتَعِظٍ، وَ امْتَاحُوا مِنْ صَفْوٍ عَيْنٍ قَدْ رُوِّقَتْ مِنَ الْكَدَر“ (9) ”اے لوگو! واعظ باعمل کے چراغ (ہدایت) کی لو سے اپنے چراغ روشن کر لو اور اس صاف و شفاف چشمہ سے پانی بھر لو جو (شبہات کی) آمیزشوں اور کدورتوں سے نتھر چکا ہے“۔

اس شمع کی چمک سید جمال الدین افغانیؒ کے ذریعہ مصر کے شہر علم قاہرہ تک پہنچی۔ مصر کے مفتی اعظم شیخ محمد عبدہ نے اس چراغ علم پر 1302ھ میں حاشیہ لکھ کر اس چراغ سے ایک نیا چراغ روشن کیا۔ کچھ لوگوں کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہوں نے نہج البلاغہ کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ مگر اسی چراغ نے کچھ لوگوں کے لیے علم کی راہیں روشن کی تو انہوں نے نہج البلاغہ پر مزید حاشیے لکھنے شروع کیے جن میں سے ایک مشہور حاشیہ شیخ محمد عبدہ کے شاگرد محی الدین عبدالحمید نے مصر سے ہی شائع کرایا۔

برصغیر میں بھی اس شہرت کا اثر پڑا اور نہج البلاغہ کے حق اور مخالفت میں لکھا جانے لگا۔ مخالفت میں اٹھنے والی ایک آواز خطبہ شقشقیہ کے متعلق تھی جس کے جواب میں متعدد شیعہ علماء نے اس خطبہ کی شرحیں لکھیں جن میں سے ایک قدیمی دستیاب شرح جناب سید علی اکبر بن سلطان العلما السيد محمد بن سید دلدار علی غفران مآب کی ہے۔ ”التوضيحات التحقيقية في شرح الخطبة الشقشقیہ“ کے نام سے 312 صفحات پر مشتمل یہ شرح 1307 ہجری میں مکمل ہوئی۔ اس شرح پر کافی کام انجام پاچکا ہے اور مرکز افکار اسلامی کی طرف سے ان شاء اللہ جلد شائع ہوگی۔

برصغیر میں نہج البلاغہ پر انجام پانے والا ایک عظیم کام اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کام ہندوستان کے شہر کھجوہ ضلع سارن میں 1277ھ/ 1863ء میں ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے سید علی اظہرؒ کا ہے۔ ظہیر العلما فخر الحکما مولانا سید علی اظہر جنہیں مولانا سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے مطلع انوار میں ”مجاہد بالقلم“ (10) لکھا ہے۔ آپ نے ”نہج البلاغہ“ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بہت جہاد کیا۔ آپ کا نہج البلاغہ کالے 77 صفحات کا مبسوط مقدمہ ہے۔ اس مقدمہ کے صفحہ نمبر 11 پر ایک عنوان قائم کیا۔ اصل سبب تالیف میں آپ نے ہندو سے مسلمان ہو کر اہل سنت کے عالم بننے والے ایک فرد سے ”علیؑ کی سچی پیشین گوئیاں“ پر گفتگو کا ذکر کیا۔ اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں: ”یہ ارادہ میرے دل میں موجزن ہوا کہ کسی طرح اس کنزِ مخفی (نہج البلاغہ) کو عالم شہود میں لاؤں اور اپنی قوم کو اس دولت لازوال سے فائدہ پہنچاؤں“۔

اس مقصد کی تکمیل کے لیے نہج البلاغہ کا اردو میں ترجمہ و شرح لکھنا شروع کیا اور اس کے لیے کن مشکل راہوں کو طے کرنا پڑا اور آپ اور آپ کے فرزند سید علی حیدر کس عشق سے اس کے لیے کوشاں رہے، یہ ایک طویل داستان ہے۔

ہندوستان کے شہر پٹنہ میں جہاں اس اہل سنت عالم سے علیؑ کی پیشین گوئیوں پر بات ہوئی اور نہج البلاغہ کے ترجمہ و شرح کا ارادہ کیا وہیں سے جنوری 1898ء بمطابق شعبان 1315ھ کو ایک رسالہ بنام ”اصلاح“ کا اجرا کیا۔ کچھ وقت کے بعد پٹنہ کو چھوڑ کر اپنے آبائی وطن ”کھجوہ“ آنا پڑا، بہر حال ماہنامہ اصلاح بھی جاری رہا۔ ماہنامہ ”اصلاح“ کی پانچویں جلد کے پہلے چار شماروں میں نہج البلاغہ کا ترجمہ اور شرح شائع کرنا شروع کی۔ یہ تقریباً 1901ء یا 1902ء کا زمانہ ہوگا۔ چار شماروں کے بعد اصلاح میں نہج البلاغہ کے ترجمہ و شرح کی اشاعت روک دی گئی جس کا تذکرہ اصلاح کے بعد والے ایک شمارے میں آپ کے فرزند سید علی حیدر نے اس اشتہار میں کیا ”شرائط خریدانِ کتاب مستطاب نہج البلاغہ“۔ یہ اشتہار اصلاح کے کس شمارے میں شائع ہوا، معلوم نہ ہو سکا۔ یہاں مکمل اشتہار اس کتاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

جس مقدمہ کا اشتہار میں ذکر کیا گیا ہے وہ مقدمہ 29 محرم 1323ھ کو مکمل ہوا۔ 77 صفحات پر مشتمل یہ مبسوط مقدمہ الگ شائع ہوا جو اس کتاب کے شروع میں درج ہے اور اس کے ٹائٹل کا عکس اس کتاب کے میں شامل اشاعت کیا گیا۔ اس مقدمے کے دو صفحات 70 اور 71 بڑی کوشش کے باوجود نہ مل سکے۔

اصلاح کے بعد کے شماروں میں نہج البلاغہ کی اشاعت کا تذکرہ تو ہوا مگر معذرت بھی کی جاتی رہی کہ نہج البلاغہ شائع نہ ہو سکی۔ اصلاح جلد 6، نمبر محرم 1321ھ میں نہج البلاغہ کی اشاعت کا تذکرہ ہے۔ جلد 6 نمبر 2 میں کچھ خطوط شامل کیے گئے جن میں اصلاح کے مضامین کی تعریف کی گئی اور لکھا گیا ”ترجمہ نہج البلاغہ اپنے طرز پر بہت ہی لاجواب تحریریں ہیں“۔ صفحہ نمبر 2 پر معذرت کے عنوان سے لکھا ”نہ نہج البلاغہ کی کوئی کاپی تیار ہو سکی حالانکہ مسودہ صاف ہو چکا ہے، تصحیح باقی ہے“۔ یہ اصلاح کے ابتدائی سالوں کے یعنی تقریباً 1901ء یا 1902ء کی تحریریں ہیں۔ اصلاح کی 293 پرانی کاپیاں ریختہ ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ افسوس کہ ریختہ پر بھی جلد پانچ کا کوئی شمارہ موجود نہیں ہے جس سے نہج البلاغہ کے ابتدائی حصہ کو دیکھا جاسکتا۔

سید علی اظہر طاب ثراہ نے ”اصلاح“ کے ساتھ ایک اور رسالہ الشمس بھی جاری کیا تھا جس کے ایڈیٹر آپ کے فرزند سید محمد حید ر تھے۔

اس مجاہد عالم، مصنف و مؤلف نے 1352ھ / 1923ء میں کھجوہ میں رحلت فرمائی۔ آپ نے درج ذیل کتب علمی میراث کے طور پر چھوڑیں: مناظرہ امجدیہ عربی، حاشیہ شرح تہذیب عربی، حاشیه قطبی عربی، حاشیہ شرح ملا مبین عربی، حاشیہ ملا حسن عربی، حاشیہ حمد الله عربی، حاشیہ ملا جلال، رشحتہ الافضال علی طالبی ملا جلال، نخبۃ البیان علم معانی و بیان کی شرح، المرافحات رد رسالہ شاه عبدالعزیز دہلوی، نافع الغراء فارسی ، ذوالفقار حیدر، کنز مکتوم فی حل فی عقد ام کلثوم تشفی اہل السنۃ والخوارج، تبصرة المسائل، دفع الوثوق عن نکاح الفاروق، آلال و الاصحاب، تنقید بخاری 5 جلد، رو ملاحده دو جلد، کشف الظلمات بجواب آیات بینات 4 جلد، رسالہ وضو، تاریخ الاذان تصحیح تاریخ، رسالہ الجمره،رسالہ تہذیب و عقل اہل سنت (11)۔

سید علی حیدر طاب ثراه

فخر الحکما سید علی اظہر کے ہاں 1303ھ / 1885ء میں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ علی حیدر نام رکھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ 1325ھ / 1907ء کو آپ کے والد تعلیم کے لیے آپ کو لکھنو لائے۔ تین سال کے بعد 1328ھ کو لاہور میں اورنٹیل کالج میں داخلہ لیا اور 1330ھ / 1912ء کو مولوی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ اس کامیابی نے علمی حلقوں میں آپ کی دھاک بٹھا دی۔ واپس لکھنؤ آ کر مدرسہ سلطان المدارس میں جناب باقر العلوم سید باقر صاحب کی سرپرستی میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1336 میں صدر الفاضل کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور فارغ ہو کر وطن کجھوہ آکر والد کی تصنیفات و تألیفات اور دور سالوں ”اصلاح“ اور ”الشمس“ کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔

مختصر مدت کے بعد جناب باقر العلوم نے لکھنؤ طلب فرمایا اور سلطان المدارس میں مدرس نامزد ہوئے۔ 1340ھ میں آپ لکھنؤ کے اس قیام کے دوران نہج البلاغہ کے ترجمہ و شرح کی قسط وار اشاعت کے لیے ایک خصوصی رسالے ”الکلام“ کا اجرا کیا۔ 1344ھ/ 1928ء تک آپ مدرسہ میں مدرس رہے اور ساتھ ہی ”الکلام“، جس میں ترجمہ نہج البلاغہ، ترجمہ احقائق الحق اور ترجمہ عروۃ الوثقی سلسلہ وار شائع ہوتا رہا۔

1344ھ میں اپنے بھائی محمد حیدر کی علالت اور والد گرامی کی پریشانیوں کی وجہ سے لکھنؤ سے کھجوہ واپس آگئے۔ آپ نے لکھنؤ چھوڑا تو الکلام کی اشاعت کا سلسلہ بھی رک گیا اور الکلام کی اشاعت ختم ہوئی تو نہج البلاغہ کی اشاعت بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ کھجود میں آپ نے اصلاح کو ادارہ بنا دیا۔ متعدد کتب تصنیف و تالیف فرمائیں اور ایک طویل مدت دین کی خدمت کے بعد 16 رمضان 1380ھ / 1961ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔

ریختہ کی ویب سائٹ پر ”الکلام“ کے کچھ شمارے دستیاب ہیں۔ اُن کا ایک ایک صفحہ دیکھا۔ دستیاب شماروں میں نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 35 سے ترجمہ و حاشیہ شروع ہوتا ہے۔ اور آخری دستیاب شمارے میں خطبہ 107 کے کچھ حصہ کا ترجمہ و حاشیہ موجود ہے۔ خطبہ 107 بھی مکمل نہیں ہے۔ ”الکلام کے دستیاب شماروں میں بھی کبھی نہج البلاغہ شائع ہو سکا کبھی نہیں کبھی مالی مشکلات کا سامنا رہا اور کبھی کاتب کی عدم دستیابی۔ جلد 6 نمبر 7 میں نہج البلاغہ شائع نہ ہوسکی۔ اس نمبر میں ایک ”مہربان“ کے عنوان سے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”نہج البلاغہ کے 360 صفحات شائع ہو چکے ہیں مگر جنوری 1927ء کو کاتب کو مسودہ بھیجا مگر 28 اکتوبر 1927ء تک کاپیاں نہ آئیں۔ افسوس یہ ”الکلام“ کا آخری شمارہ ہے اور نہج البلاغہ کے وہی 360 صفحات شائع ہو سکے۔ سید علی حیدر 1928ء میں وطن واپس آگئے اور نہج البلاغہ کے ترجمہ کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا اور یہ حسرت مکمل نہ ہوسکی۔

”الکلام“ کا پہلا شمارہ کب شائع ہوا۔ وہ شمارے دستیاب نہ ہو سکے البتہ الکلام جلد 4 نمبر 1 رجب 1338 ہجری کے شمارے میں خطبہ 35 صفحہ 129 سے 144 ملا اور صفحہ 360 پر خطبہ 107 ختم ہوا۔ ان شماروں میں سے درمیان کے تین صفحات صفحہ نمبر 250، 251 اور صفحہ 345 نہ مل سکے۔ یہ خالی صفحات مفتی جعفر حسین مرحوم کے ترجمہ کے ذریعہ مکمل کیے گئے اور وہاں وضاحت کر دی گئی ہے۔

نہج البلاغہ کے ابتدائی 128 صفحات ”الکلام“ سے تو نہ مل سکے مگر خوش قسمتی سے لکھنؤ کے ایک مشہور ادارے احباب پبلشرز کے مالک محترم سید انصار حسین رضوی (ماہلی) نے 11 اپریل 1970ء کو نہج البلاغہ کے اس ترجمہ کے پہلے ستر خطبات شائع کیے اور باقی انہیں دستیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے باقی خطبات مفتی جعفر حسین صاحب کے ترجمہ سے، خطوط کا حصہ جناب عبدالرزاق ملیح آبادی کے ترجمہ سے اور کلمات قصار کا حصہ جناب مولانا سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی کے ترجمہ سے مکمل کیا۔ یوں ”الکلام“ سے نہ ملنے والے پہلے چونتیس خطبات کے لیے ماہلی صاحب کی کاوش سے استفادہ کیا گیا۔

ماہلی صاحب نے ان 70 خطبات کی اشاعت میں کہیں ”الکلام“ رسالے کا ذکر تو نہیں کیا مگر خطبہ 35 سے الکلام سے ملنے والے خطبات کو جب ہم نے ماہلی صاحب کے نسخے سے مطابقت کی تو یہ سو فیصد وہی الکلام والے نسخے کے مطابق ہیں، گو یا ماہلی صاحب نے بھی ابتدائی خطبات الکلام سے ہی حاصل کیے۔

مرکز افکار اسلامی کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ طویل مدت کی تلاش کے بعد یہ 107 خطبات الگ شائع کر رہا ہے۔ البتہ درمیان میں سے جو تین صفحات میسر نہ آئے اُن کی تلاش کے لیے ماہلی صاحب مرحوم کے فرزند محترم سید محمد جعفر رضوی ماہلی صاحب سے بھی بات ہوئی ہے اور اصلاح کے مرکز سے بھی رابطہ کیا اور ہندوستان و پاکستان میں جہاں سے توقع تھی تلاش کی مگر ابھی تک وہ تین صفحات میسر نہ ہو سکے۔ کہیں کسی کو مل جائیں تو مرکز افکار اسلامی کو ای میل پر ضرور مطلع فرمائیں۔

اس ترجمہ کے مفصل حواشی میں سے اکثر کے آخر میں یہ درج ہے کہ ”مزید ضمیمہ میں پیش کیا جائے گا“ مگر ترجمہ ہی مکمل نہ ہو سکا تو ضمیمہ کی نوبت ہی نہ آئی البتہ خطبہ شقشقیہ کے 32 صفحات کا مفصل ضمیمہ اور تقریباً 50 صفحات کا دیباچہ جس میں سید رضیؒ کے دیباچے پر حاشیہ لکھا گیا ان کا ”الکلام“ کے اکثر شماروں میں تذکرہ کیا گیا اور یہ دونوں اب اس اشاعت میں شامل ہیں۔

ترجمے کے بارے میں خصوصی نوٹ

سید علی اظہر طاب ثراہ کے ستر صفحات کے مقدمے، ”اصلاح“ رسالے کے شماروں اور الکلام کے مفصل بیان سے ہم نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ وہی ہے جو ”الذریعہ الی تصانیف الشیعہ“ میں علامہ شیخ بزرگ طہرانی نے درج فرمایا:

تَرْجَمَةُ نَھْجِ الْبَلَاغَةِ إِلَى الْاُرْدُوِيَّةِ لِلسَّيْدِ عَلَىْ اَظْهَرُ كَهْجَوِيٍ الْهِنْدِيِّ الْمُتَوَفّٰى 1352ھ۔ وَلَهُ تَرْجَمَةُ اِحْقَاقِ الْحَقِّ وَإِرْسَالِ الْيَدَيْنِ وَغَيْرِهِمَا ، كَتَبَ التَّرْجَمَةَ بَيْنَ السُّطُورِ، وَكَتَبَ تَحْقِيقَاتٍ فِي الْهَامِشِ وَهُوَ مَطْبُوعٌ.(12)

نہج البلاغہ کا اردو زبان میں ترجمہ سید علی اظہر کھجوی ہندوستانی کا ہے۔ جن کا انتقال 1352ھ میں ہوا۔ انہوں نے احقاق الحق، ارسال الیدین اور دیگر کتب کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ ترجمہ اصل متن کی سطروں کے درمیان تحریر کیا ہے اور حاشیے میں تحقیقی مطالب بھی درج کیے ہیں۔ یہ ترجمہ مطبوعہ شکل میں موجود ہے۔

خلاصہ یہ کہ نہج البلاغہ کا اردو کا یہ ترجمہ سید علی اظہر کا ہے۔

مقدمہ کے آخری حصہ کو دیکھا جائے اور ”اصلاح“ کے اشتہار کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سید علی اظہر ترجمہ و حاشیہ مکمل کر چکے تھے اور مقدمہ ترجمہ کے مکمل ہونے کے بعد لکھا گیا۔ آپ کے فرزند سید علی حیدر مترجم نہج البلاغہ نہیں ہیں بلکہ والد کے ترجمہ کی اشاعت کے لیے کوشاں رہے۔ نہج البلاغہ سے متعلق انجام پائی جانے والی خدمات اور کتب و رسائل کو تفصیل سے اکٹھا کرکے کتاب تألیف فرمانے والے محقق ڈاکٹر مولانا سید شہوار حسین نقوی صاحب امروہوی کے ساتھ مسلسل گفتگو ہوئی اُن کا بھی یہی نظریہ ہے اور انہوں نے اپنی کتاب ”شارحین نہج البلاغہ برصغیر میں بھی یہی لکھا ہے کہ یہ ترجمہ سید علی اظہر کا ہے سید علی حیدر کا نہیں“۔

ہم اپنی ایک اور دلیل پر اکتفا کرتے ہیں۔
سید علی اظہر مقدمہ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:
ہم مختصر طور پر کچھ اس ترجمہ کے عنوان کو بیان کرتے ہیں۔ ہم نے اس ترجمہ میں ایسی راہ اختیار کی جو دونوں طریقوں کے وسط میں واقع ہے۔ لفظی ترجمہ کے ساتھ ادائے مطلب سہولت افہام و تفہیم کو بھی پورے طور پر ملحوظ رکھا تا کہ فصاحت و بلاغت و جزالت بیان کے ساتھ نفس مطلب بھی بخوبی ذہن نشین ہو۔ ہم کو اس ترجمہ میں نہایت دقت اُٹھانی پڑی اور اس میں وہ جان کھپی ہوئی کہ کسی بڑی بڑی تصنیف و تالیف میں بھی اس کا مقابلہ نہ کرنا پڑا۔ اس ترجمہ کے ساتھ ہی ایک شرح بھی لکھنی پڑی جو بطور حاشیہ ہے۔ کیونکہ شرح میں متن کی کل عبارتوں کی تشریح کی جاتی ہے اور یہاں صرف اُن مطالب سے بحث کو تعلق ہے جو کسی اہم مسئلہ حکمت سے متعلق ہے۔ اب ہمارا ارادہ ہے کہ حضرت کے کلاموں کا ایک دوسرا مجموعہ مرتب کریں جس میں حضرت کے وہ خطبات ہوں گے جو اس کتاب میں نہیں ہیں“۔

سید علی حیدر جلد 6 نمبر 7 میں لکھتے ہیں کہ : 360 صفحات شائع ہو چکے ہیں اور اگر آئندہ ہر شمارے میں 40 صفحات شائع ہوئے تو رجب 1346ھ تک نہج البلاغہ شائع ہو جائے گا۔

الکلام کی یہ تحریر واضح کرتی ہے کہ ترجمہ مکمل ہو چکا تھا، اشاعت جاری تھی۔ سید علی اظہر و سید علی حیدر کی ان سب تحریروں سے جہاں یہ واضح ہوا کہ ترجمہ سید علی اظہر کا ہے سید علی حیدر کا نہیں، وہیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ 107 خطبات شائع ہوئے مگر باقی ترجمہ بھی کہیں ہوگا۔

دوسری جانب متعدد افراد نے اسے سید علی اظہر کے بجائے سید علی حیدر کا ترجمہ قرار دیا ہے۔ اُن میں سے مولانا سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے مطلع انوار میں، سید انصار حسین رضوی ماہلی نے اپنے مرتّبہ ترجمہ میں اور سید علی حیدر کے فرزند مولانا سید محمد باقر نے ”اصلاح“ میں اس ترجمہ کو والد کی تصنیفات میں درج کیا ہے البتہ دادا کے تذکرے میں اُن کے نہج البلاغہ کے مقدمہ کا بھی تذکرہ نہیں کیا جبکہ وہ الگ شائع بھی ہو چکا ہے۔ اسی طرح ”مطلع انوار“ میں بھی اس مقدمہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

سید علی حیدر کے فرزند مولانا سید رضی جعفر نقوی آف کراچی سے ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی اسے اپنے والد کا ترجمہ قرار دیا۔ مولانا سید سعید اختر رضوی کی بھی تحریر کہیں پڑھنے کا موقع ملا، وہ واضح فرماتے ہیں کہ ”اس ترجمہ کی نسبت سید علی اظہر سے دینا غلط ہے، یہ اُن کے فرزند سید علی حیدر کا ترجمہ ہے“۔

ان تمام بزرگان نے کہیں سید علی حیدر کی کوئی ایسی تحریر پیش نہیں کی کہ یہ ترجمہ ان کا ہے جبکہ ہم چند شواہد ہیش کر چکے ہیں۔

اس اشاعت کی خصوصیات

1۔ مرکز افکار اسلامی اس اشاعت میں پہلی بار مکمل 107 خطبات شائع کر رہا ہے۔
2۔ عربی عبارتیں مرکز افکار اسلامی کے نہج البلاغہ ترجمہ مفتی جعفر حسین سے لی گئی جن کی تصحیح بہت دقت سے ہو چکی ہے۔
3۔ اس ترجمہ کے دو نمبروں کے علاوہ سب نمبر مفتی صاحب کے نمبر کے مطابق ہیں۔ اس لیے جو نمبر الگ ہیں وہاں مفتی صاحب والے نمبر بریکٹ میں درج کر دیے گئے ہیں۔
4۔ خطبات کے حواشی کو متن کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔
5۔ حواشی ہر صفحہ کے اعتبار سے لکھے گئے ہیں، خطبہ کے حساب سے نہیں لائے گئے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ظہیر العلما و فخر الحکما سید علی اظہر و سید علی حیدر کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور جوار امیر المومنین علیہ السلام میں مقام عطا فرمائے۔ پروردگار بزرگان کی محنت سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کی خدمتوں کی قدر جاننے کی سعادت عطا فرمائے۔ مرکز افکار اسلامی کی کوشش یہی ہے کہ نہج البلاغہ پر ہونے والی گزشتہ محنتوں کو قوم تک پہنچایا جائے۔ کوئی ایسا کام آپ کے مد نظر ہو تو ہمیں ضرور مطلع فرمائیں۔

والسلام
مقبول حسین علوی
مرکز افکار اسلامی
14 اگست 2026ء

حوالہ جات

[1] نہج البلاغہ خطبہ 196
[2] نہج البلاغہ خطبہ 70
[3] نہج البلاغہ خطبہ 70
[4] دیباچہ نہج البلاغہ ص 81
[5] نہج البلاغہ، خطبہ 187
[6] نہج البلاغہ، حکمت 147
[7] نہج البلاغہ خطبہ 3
[8] نہج البلاغہ، حکمت 147
[9] نہج البلاغہ، خطبہ 103
[10] مطلع انوار صفحہ 354
[11] بے بہا : 259، رسالہ الحافظ لاہور
[12] الذریعہ ج 4 ص 144

مزید مطبوعات

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button