
﷽
مقدمہ
یہ مقالہ نہج البلاغہ میں وارد ارشاداتِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فکری، اعتقادی اور تہذیبی پہلوؤں کا جامع تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے جو حضرت امام مہدیؑ کے ظہور، غیبت، عالمی قیادت، قیامِ عدلِ کامل، اور فتنوں کے بعد انسانی نجات سے مربوط ہیں۔ امیرالمؤمنینؑ کے خطبات میں مذکور تشبیہات جیسے ستاروں کی مثال، یعسوبِ دین، قزعِ خریف، ناقۂ فتن، چراغِ ہدایت اور احیاءِ کتاب و سنت دراصل مہدوی نظامِ قیادت، عالمی اصلاح اور فکری انقلاب کی نہایت بلیغ تصویر کشی ہیں۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نہج البلاغہ میں مہدویت کا تصور ایک زندہ، متحرک، ہمہ جہت اور عملی نظامِ ہدایت کی حیثیت رکھتا ہے جو فرد اور معاشرہ کی فکری اصلاح، اخلاقی تطہیر، سماجی عدل اور تہذیبی توازن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے فکری انتشار، تہذیبی بحران اور اخلاقی زوال کے پس منظر میں نہج البلاغہ کی مہدوی تعلیمات انسان کو امید، صبر، استقامت اور عملی ذمہ داری کا شعور عطا کرتی ہیں۔ اس مقالے کا مقصد نہج البلاغہ کی روشنی میں نظریۂ مہدویت کو ایک جامع فکری نظام کے طور پر متعارف کرانا اور اس کے عملی تقاضوں کو واضح کرنا ہے۔
کلیدی الفاظ (Keywords): منجی بشریت،نہج البلاغہ، امام زمانہؑ، مہدویت، امامت، غیبت، ظہور، انتظار، عدلِ مہدوی، فتنہ، عالمی اصلاح، احیاءِ کتاب و سنت
تمہید
اسلامی نظامِ ہدایت کی بنیاد الہامی کتاب اور زندہ، معصوم اور عملی رہنما کی قیادت پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید انسانیت کے لیے ضابطۂ حیات ہے، مگر اس ضابطے کی صحیح تعبیر، کامل تشریح اور عملی تطبیق منصبِ امامت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت کے بعد امامت کو دین کی محافظ، شریعت کی پاسبان اور امت کے لیے میزانِ حق قرار دیا گیا۔ اس تناظر میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کا وجود انسانی ہدایت کا مرکز، دین کی روح اور شریعت کا محافظ ہے۔
نہج البلاغہ، جو امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کے خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ اقوال کا عظیم مجموعہ ہے، اسلامی فکر میں ایک ہمہ جہت علمی و فکری سرچشمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں توحید، نبوت، امامت، عدل، اخلاق، سیاست، معاشرت اور تہذیب کے بنیادی اصول نہایت بلیغ اسلوب میں بیان کیے گئے ہیں۔ انہی بنیادی موضوعات میں سے ایک اہم اور عمیق موضوع مہدویت ہے، جس کے مختلف پہلو امیرالمؤمنینؑ کے فرامین میں نہایت لطیف اشاروں اور جامع تمثیلات کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں جب انسان فکری اضطراب، اخلاقی انحطاط، روحانی خلا اور تہذیبی انتشار کا شکار ہے، نظریۂ مہدویت ایک ہمہ گیر نجاتی فکر کے طور پر ابھرتا ہے، جو انسان کو امید، استقامت، ذمہ داری اور اصلاحِ ذات و معاشرہ کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ نہج البلاغہ کی روشنی میں امام زمانہؑ کے تصور کا مطالعہ محض ایک اعتقادی بحث نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری، تہذیبی اور تمدنی ضرورت بن چکا ہے۔
مقدمہ
عقیدۂ امامت اسلامی نظامِ فکر کی اساس اور دینی ہدایت کا بنیادی ستون ہے۔ امامت نہ صرف شریعت کی محافظ اور دین کی مفسر ہے بلکہ انسانی معاشرے میں عدل، توازن اور اخلاقی استحکام کی ضامن بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نبوت کے بعد امامت کو انسانی رہنمائی کا دائمی ذریعہ قرار دیا تاکہ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہ رہے اور انسان ہر دور میں معصوم ہادی سے وابستہ رہے۔
نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیؑ نے اپنے حکیمانہ خطبات کے ذریعے جہاں ایک طرف آنے والے فتنوں، اخلاقی زوال، فکری انحراف اور تہذیبی بحران کی تصویر کشی فرمائی ہے، وہیں دوسری طرف حضرت امام مہدیؑ کے ظہور، قیامِ عدلِ کامل، عالمی اصلاح اور احیاءِ کتاب و سنت کی بشارت بھی عطا کی ہے۔ یہ اشارات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ مہدویت کا تصور محض مستقبل سے وابستہ ایک غیبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری نظام ہے جو انسان کو عملی جدوجہد، اخلاقی تطہیر اور سماجی اصلاح کی راہ دکھاتا ہے۔
یہ مقالہ نہج البلاغہ میں وارد ان منتخب نصوص کا تحقیقی و تحلیلی مطالعہ پیش کرتا ہے جن میں امام زمانہؑ کے ظہور، ان کی عالمی قیادت، ان کے اصلاحی مشن، اور عدلِ مہدوی کے اثرات کو نہایت بلیغ تشبیہات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ نہج البلاغہ کی روشنی میں مہدویت کو ایک ہمہ گیر فکری، اعتقادی اور تہذیبی نظام کے طور پر متعارف کرایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ عصرِ حاضر کے فکری بحران میں یہ عقیدہ انسانی نجات کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔
یہ مطالعہ اس امید کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ نہ صرف علمی دنیا میں مہدویت فہمی کو گہرائی عطا کرے گا بلکہ فکری و عملی سطح پر امت کو بیداری، استقامت اور اصلاحِ احوال کی تحریک بھی فراہم کرے گا۔
اسلام میں ہدایتِ الٰہی کا نظام محض کتاب کے نزول تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک زندہ، متحرک اور مسلسل حقیقت ہے، جس کا کامل ظہور شخصیتِ معصوم کی صورت میں ہوتا ہے۔ قرآن مجید اگر قانونِ الٰہی کا منشور ہے تو امام اس قانون کا مجسم پیکر، عملی نمونہ اور متحرک ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظامِ نبوت کے بعد نظامِ امامت کو دین کی بقا، ہدایت کی تسلسل اور انسانیت کی نجات کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
نہج البلاغہ، جو امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کے خطبات، مکتوبات اور حکمت آموز فرامین کا بے مثال مجموعہ ہے، محض اخلاقی نصائح یا سیاسی افکار کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں اسلامی عقائد، فلسفۂ ہدایت، اصولِ قیادت، اور مستقبل کی فکری و تاریخی سمتوں کی نہایت گہری اور جامع ترسیم ملتی ہے۔ خصوصاً امام زمانہؑ اور مہدویت سے متعلق اشارات نہج البلاغہ کے اُن درخشاں پہلوؤں میں سے ہیں جو نظامِ امامت کے تسلسل، زمین کے حجتِ الٰہی سے کبھی خالی نہ ہونے، فتنوں کے دور میں ہدایت کے تحفظ، اور بالآخر ظہورِ عدلِ مطلق کی بشارت کو واضح کرتے ہیں۔
امیرالمؤمنینؑ کی متعدد نصوص میں آلِ محمدؑ کو آسمانِ ہدایت کے ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے، جہاں ایک ستارے کے غروب کے بعد دوسرے کے طلوع ہونے کا بیان، دراصل تسلسلِ امامت اور دائمی ہدایت کا نہایت لطیف اور بلیغ استعارہ ہے۔ اسی طرح یعسوبِ دین، قزعِ خریف، اور قیامِ قائمؑ جیسے الفاظ و تشبیہات امام زمانہؑ کی عالمی قیادت، امت کے گرد اجتماع، اور فتنوں کے بعد عدلِ کامل کے قیام کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔
یہ مقالہ نہج البلاغہ میں وارد ان نصوص و اشارات کی روشنی میں امام زمانہؑ کے تصور، فلسفۂ انتظار، نظامِ ہدایت کی بقا، اور مہدوی عدل کی عالمی جہت کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش ہے، تاکہ عصرِ حاضر کے فکری بحران، اعتقادی چیلنجز اور تہذیبی اضطراب کے تناظر میں مہدویت کے حیات بخش پیغام کو ایک منظم اور علمی انداز میں سمجھا جا سکے۔
آلِ محمدؑ آسمانِ ہدایت کے درخشاں ستارے
ہدایتِ الٰہی کا نظام محض کتاب کے نزول پر موقوف نہیں بلکہ اس کا عملی، زندہ اور متحرک مظہر شخصیتِ معصوم ہے۔ اگر کتاب قانون ہے تو امام اس قانون کا مجسم پیکر ہے، اور اگر قرآن نور ہے تو اہلِ بیتؑ اس نور کے ترجمان اور محافظ ہیں۔ اسی حقیقت کو رسولِ خدا محمد و آلِ محمدؑ اور ان کے اوصیائے طاہرینؑ نے مختلف اسالیب اور بلیغ تشبیہات کے ذریعے واضح فرمایا ہے، جن میں سے ایک نہایت جامع، لطیف اور فکری لحاظ سے عمیق تشبیہ ستاروں کی مثال ہے۔
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ فرماتے ہیں:
أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَثَلِ نُجُومِ السَّمَاءِ؛ إِذَا خَوَىٰ نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ، فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّهِ فِيكُمُ الصَّنَائِعُ، وَأَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُونَ. (1)
آگاہ ہو جاؤ! بے شک آلِ محمدؑ کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے؛ جب ایک ستارہ غروب ہوتا ہے تو دوسرا طلوع ہو جاتا ہے۔ گویا اللہ نے اپنی نعمتیں تم پر مکمل فرما دی ہیں اور تم وہ کچھ دیکھ رہے ہو جس کی تم مدتوں سے آرزو رکھتے تھے۔
یہ حدیث اہلِ بیتؑ کی مرکزی حیثیت، تسلسلِ امامت اور نظامِ ہدایت کی دائمی بقا کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کرتی ہے۔ اس میں آلِ محمدؑ کا ذکر بالعموم اور حضرت امام مہدیؑ کا ذکر بالخصوص اس لطیف اشارے کے ساتھ کیا گیا ہے کہ ہر دور میں ایک معصوم ہادی موجود رہتا ہے، اور سلسلۂ ہدایت کبھی منقطع نہیں ہوتا۔
ہدایت کا ہمہ گیر استعارہ
ستارے آسمان پر محض خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ راہنمائی، سمت شناسی اور بقاۓ سفر کے لیے ہوتے ہیں۔ صحراؤں اور سمندروں میں سفر کرنے والے ستاروں کے ذریعے راستہ پاتے تھے۔ اندھیری راتوں میں انہی روشن نقطوں کی مدد سے منزل کی سمت متعین کی جاتی تھی۔ بالکل اسی طرح آلِ محمدؑ انسانیت کے لیے فکری تاریکی میں نورِ بصیرت، اعتقادی فتنوں میں چراغِ ہدایت، اخلاقی زوال میں اسوۂ کامل اور اجتماعی بحران میں راہِ نجات ہیں۔ جس طرح ستارے نہ ہوں تو انسان راستہ بھٹک جاتا ہے، اسی طرح اگر اہلِ بیتؑ کی ہدایت نہ ہو تو امت فکری گمراہی، تحریفِ دین اور روحانی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔
تسلسلِ امامت
حدیث کا یہ فقرہ امامت کے بنیادی اصول کی وضاحت کرتا ہے۔ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی۔ ہر نبی کے بعد وصی، اور ہر امام کے بعد امام—یہ تسلسل اس بات کی ضمانت ہے کہ ہدایت کا چراغ کبھی بجھنے نہ پائے، باطل کو کبھی مکمل غلبہ حاصل نہ ہو، اور انسانیت ہر دور میں معصوم رہنما سے محروم نہ ہو۔ یہ عقیدہ نظریۂ امامت کا بنیادی ستون ہے اور اسی پر مہدویت کا عقیدہ استوار ہے۔
امامت کا نظام اور نعمتوں کی تکمیل
حدیث میں فرمایا:
”فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّهِ فِيكُمُ الصَّنَائِعُ“
یعنی اللہ کی نعمتیں تم پر مکمل ہو گئیں۔ یہاں صنائع سے مراد محض مادی نعمتیں نہیں بلکہ نعمتِ نبوت، نعمتِ ولایت، نعمتِ امامت، نعمتِ شریعت اور نعمتِ ہدایتِ کاملہ ہیں۔
یہی مضمون قرآن میں یوں بیان ہوا:
ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي (2)
یعنی آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت پوری کر دی۔ امامت درحقیقت دین کی تکمیل اور نعمتِ خداوندی کی معراج ہے۔
ظہورِ امیدِ انسانی کی معراج
حدیث کا آخری فقرہ:
”وَأَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُونَ“
تم جس کی آس لگائے بیھٹے تھے وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے یہ فقرہ ظہورِ امام مہدیؑ، قیامِ عدلِ کامل، اور الٰہی وعدوں کی تکمیل کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ یہی وہ امید ہے جو مظلوم کو صبر، مجاہد کو استقامت، اور مومن کو حوصلہ عطا کرتی ہے۔ انتظار، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ خود کو امامِ وقتؑ کے قابل بنانے کا نام ہے۔
امام زمانہ (عج) کی عظمت و قیادت
امام زمانہ (عج) دین کا غیر متزلزل ستون، اور امت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا قطبِ اعلیٰ ہیں۔
فَإِذَا كَانَ ذٰلِكَ ضَرَبَ یَعْسُوْبُ الدِّينِ بِذَنَبِهِ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ كَمَا يَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِيفِ (3)
جب وہ وقت آئے گا تو دین کا "یعسوب” اپنی اعلیٰ ترین مقام پر قائم ہوگا، اور لوگ اس کے گرد ایسے اجتماع کریں گے جیسے موسمِ خریف میں بادل کے ٹکڑے (قزع) بے ترتیب مگر مجمع کی صورت میں اکٹھے ہوتے ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے امام عصر (عج) کی قیادت کے متعلق جامع انداز میں بیان کیا
اس جامع فرمان میں لفظ ”یعسوب الدین“ ایک ایسا لقب ہے جو امام زمانہ (عج) کی عظمت، عصمت، قیادت اور امت پر حکمرانی کے جامع مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اور لفظ "قزع” کے ذریعے اجتماع امت کی نوعیت، درجاتِ ایمان، اور پیروکاروں کے متنوع رویے بلیغ اور جامع انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔
سیّد رضیؒ کی تشریح:
قَالَ الرَّضِیُّ: اَلْیَعْسُوْبُ: السَّیِّدُ الْعَظِیْمُ الْمَالِكُ لِاُمُوْرِ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ وَ الْقَزَعُ: قَطْعُ الْغَیْمِ الَّتِیْ لَا مَآءَ فِیْھَا. (4)
سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ: ’’یعسوب ‘‘ سے وہ بلند مرتبہ سردار مراد ہے جو اس دن لوگوں کے معاملات کا مالک و مختار ہو گا اور ’’قزع ‘‘ اَبر کی ان ٹکڑیوں کو کہتے ہیں جن میں پانی نہ ہو۔ ”یعسوب‘‘ شہد کی مکھیوں کے سربراہ کو کہتے ہیں اور ’’یعسوبُ الدّین‘‘ (حاکمِ دین و شریعت) سے مراد حضرت حجتؑ ہیں۔ اس لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح ’’امیر نحل‘‘ کا ظاہر و باطن پاک ہوتا ہے اور وہ نجاست سے احتراز کرتے ہوئے پھولوں اور شگوفوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے، اسی طرح حضرت حجت بھی تمام آلودگیوں سے پاک و صاف اور ہر طرح سے طیب و طاہر ہوں گے۔ اس جملہ کے چند معنی کئے گئے ہیں: پہلے معنی یہ ہیں کہ: جب حضرت حجت فضائے عالم میں سیر و گردش کے بعد اپنے مرکز پر مقیم ہوں گے۔ کیونکہ امیر نحل دن کا بیشتر حصہ پرواز میں گزارتا ہے اور جب اپنے جسم کا آخری حصہ کہیں پر ٹکاتا ہے تو وہ اپنی حرکت و پرواز کو ختم کر دیتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ: جب حضرت اپنے رفقاء و انصار کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں گے۔ اس صورت میں ’’ضرب‘‘ کے معنی چلنے پھرنے کے اور ’’ذنب‘‘ سے مراد انصار و اتباع ہوں گے۔ تیسرے معنی یہ ہیں کہ: جب حضرت شمشیر بکف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس صورت میں ’’ضرب ذنب‘‘ کے معنی شہد کی مکھی کے ڈسنے کے ہوں گے۔ چوتھے معنی یہ ہیں کہ: جب حضرت جوش و خروش کے ساتھ اعلائے کلمة اللہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس صورت میں یہ جملہ غضب و ہیجان کی کیفیت اور حملہ آوری کی ہیئت سے کنایہ ہو گا۔
تشبیہات کی وضاحت
یعسوب: قیادت اور عصمت کی علامت
• لفظ یعسوب اصل میں شہد کی مکھی کے سردار کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو اپنی قائدانہ بصیرت، نظم و ضبط اور پاکیزگی کے لیے ممتاز ہے۔
• امام زمانہ (عج) کو یعسوب الدین کہنا اس کی دلیل ہے کہ وہ امت کے لیے قطبِ عالی، دین کے ستون اور غیر متزلزل رہنما ہیں۔
• جیسے امیر نحل اپنی تمام حرکت و سکنات میں نجاست سے اجتناب کرتا ہے اور اپنی غذا محض پھولوں اور شگوفوں سے حاصل کرتا ہے، اسی طرح امام (عج) ہر خطا، گناہ اور روحانی آلودگی سے پاک رہتے ہیں اور امت کی ہدایت اور اصلاح کا ذریعہ ہیں۔
قزع: امت کے پیروکار اور اجتماع
• قزع وہ بادل کے ٹکڑے ہیں جن میں پانی نہیں ہوتا، اور اس سے امت کے مختلف افراد کی حالت کی علامت ملتی ہے: کچھ فعال، کچھ مشتاق، اور کچھ محض ناظر۔
• جیسے قزع ایک طرف جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کرتے ہیں، ویسے ہی امام کے گرد لوگ جمع ہو کر دین کی رہنمائی اور امت کی اصلاح میں شریک ہوتے ہیں، ہر ایک اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق۔
• یہ تشبیہ امت کے مختلف درجات، ایمان کی شدت اور پیروکاروں کی متنوع حالت کو ادبی اور معنوی انداز میں بیان کرتی ہے۔
پرواز اور قیام: حرکت و مرکز قیادت
• حضرت حجت (عج) کے قیام کو شہد کی مکھی کی پرواز سے تشبیہ دی گئی ہے۔
• امیر نحل دن کا بیشتر حصہ پرواز میں گزارتا ہے، اور جب اپنے جسم کا آخری حصہ کہیں ٹکاتا ہے تو حرکت معطل کر دیتا ہے۔
• اسی طرح امام (عج) کی قیادت میں بھی حرکت، سیر، اور مرکز قیام کا انتظام متوازن، منظم اور مقصدی ہے، جہاں ہر قدم دین کی بنیاد کو مضبوط اور امت کی رہنمائی کو مستحکم کرتا ہے۔
ضرب ذنب: قوت، جرات اور جوش و ولولہ
• لفظ ”ضرب ذنب“ کی تشبیہ شہد کی مکھی کے ڈسنے سے کی گئی ہے، جو دشمن کے مقابل میں قوت، چابکدستی اور فوری ردعمل کی علامت ہے۔
• یہ امام کے قیام کی عملی، فوجی اور روحانی جہت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں دین کے فروغ کے لیے قوت، عزم، جوش و ولولہ اور ارادہ یکجا ہو جاتے ہیں۔
• یہ تشبیہ امام کے قیام کو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی اور اخلاقی سطح پر بھی جامع اور مکمل ظاہر کرتی ہے۔
دنیا کا اہلِ بیت کی طرف رجوع:
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا، ابتدا میں اپنی سرکشی، بے وفائی اور فریب کاری دکھانے کے بعد، آخرکار ہماری طرف مائل ہوگی۔
لتعطفن الدنيا علينا بعد شماسها عطف الضروس على ولدها (5)
یہ دنیا منہ زوری دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔
وَتَلا عَقِيبَ ذَلِكَ:
اس کے بعد حضرت علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:
وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعَفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ. (6)
ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کر دیے گیے ہیں ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہی کو (زمین کا) مالک بنائیں۔
یہ کلام صریحاً حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور ان کی عالمی حکومت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ دنیا ابتدا میں ستیز اور بے وفائی دکھائے گی، لیکن آخرکار خاندانِ پیامبر ﷺ کی طرف رجوع کرے گی، بالکل ایسے جیسے سرکش کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کے لیے دلسوز اور مہربان ہوتی ہے۔
یہ پیش گوئی آخرالزمان میں حق کی فتح اور مستضعفین کی کامیابی کے تناظر میں معنی رکھتی ہے۔
اسلام اور امامؑ کی غربت
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی فرمائی ہے۔ کہ ایک دور آئے گا جب اسلام غربت کی حالت میں ہوگا۔
فَهُوُ مُغْتَرِبٌ اِذَا اغْتَرَبَ الْاِسْلَامُ، وَ ضَرَبَ بِعَسِیْبِ ذَنَۢبِهٖ، وَ اَلْصَقَ الْاَرْضَ بِجِرَانِهٖ، بَقِیَّةٌ مِّنْ بَقَایَا حُجَّتِهٖ، خَلِیْفَةٌ مِّنْ خَلَآئِفِ اَنْۢبِیَآئِهٖ. (7)
وہ اس وقت (نظروں سے اوجھل ہو کر) غریب و مسافر ہو گا کہ جب اسلام عالم غربت میں اور مثل اس اونٹ کے ہو گا جو تھکن سے اپنی دم زمین پر مارتا ہو اور گردن کا اگلا حصہ زمین پر ڈالے ہوئے ہو۔ وہ اللہ کی باقی ماندہ حجتوں کا بقیہ اور انبیاءؑ کے جانشینوں میں سے ایک وارث و جانشین ہے۔
فَهُوُ مُغْتَرِبٌ اِذَا اغْتَرَبَ الْاِسْلَامُ، وَ ضَرَبَ بِعَسِیْبِ ذَنَۢبِهٖ
یہ تشبیہ اسلام کی غربت، مشکلات اور امت کی کمزوری کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ اسلام اس دور میں کمزور، تھکا ہوا اور محرومی میں مبتلا ہوگا، جیسے اونٹ جو اپنی مشقت کے باعث زمین پر دم مار رہا ہو اور گردن جھکائے ہوئے ہو۔ امامؑ اس وقت بھی اسلام کی شریک غربت کے طور پر موجود ہوں گے
امام عصرؑ اور وراثت انبیاء
بَقِیَّةٌ مِّنْ بَقَایَا حُجَّتِهٖ، خَلِیْفَةٌ مِّنْ خَلَآئِفِ اَنْۢبِیَآئِهٖ
وہ اللہ کی باقی ماندہ حجتوں کا بقیہ اور انبیاءؑ کے جانشینوں میں سے ایک وارث و جانشین ہے۔ اس عبارت میں امامؑ کی اہمیت اور مقام کو اجاگر کیا گیا ہے۔ امامؑ اللہ کی باقی ماندہ حجتوں کے بقیہ ہیں، یعنی دین کی حفاظت، امت کی رہنمائی اور شریعت کے نفاذ کے لئے قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح وہ انبیاءؑ کے جانشین بھی ہیں، یعنی انبیاءؑ کے مشن، تعلیمات اور روحانی اثرات کا تسلسل امامؑ میں جاری ہے۔ یہ مقام امامؑ کو امت کے رہنما، دین کے محافظ، اور انسانیت کے لیے رہبری کا مظہر بناتا ہے.
فتنوں کی خبر اور عدلِ مہدوی کی بشارت
امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت حجت علیہ السلام کے ظہور کے سلسلہ میں پیشین گوئی کی ہے۔
یَعْطِفُ الْهَوٰی عَلَی الْهُدٰی اِذَا عَطَفُوا الْهُدٰی عَلٰی الْهَوٰی، وَ یَعْطِفُ الرَّاْیَ عَلَی الْقُرْاٰنِ اِذَا عَطَفُوا الْقُرْاٰنَ عَلَی الرَّاْیِ حَتّٰی تَقُوْمَ الْحَرْبُ بِكُمْ عَلٰی سَاقٍ، بَادِیًا نَّوَاجِذُهَا، مَمْلُوْٓءَةً اَخْلَافُهَا، حُلْوًا رَضَاعُهَا، عَلْقَمًا عَاقِبَتُهَا.اَلَا وَ فِیْ غَدٍ ـ وَ سَیَاْتِیْ غَدٌۢ بِمَا لَا تَعْرِفُوْنَ ـ یَاْخُذُ الْوَالِیْ مِنْ غَیْرِهَا عُمَّالَهَا عَلٰی مَسَاوِیْۤ اَعْمَالِهَا، وَتُخْرِجُ لَهُ الْاَرْضُ اَفَالِیْذَ كَبِدِهَا، وَ تُلْقِیْ اِلَیْهِ سِلْمًا مَّقَالِیْدَهَا، فَیُرِیْكُمْ كَیْفَ عَدْلُ السِّیْرَةِ وَ یُحْیِیْ مَیِّتَ الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ . (8)
وہ خواہشوں کو ہدایت کی طرف موڑے گا جبکہ لوگوں نے ہدایت کو خواہشوں کی طرف موڑ دیا ہو گا اور ان کی رایوں کو قرآن کی طرف پھیرے گا جب کہ انہوں نے قرآن کو (توڑ مروڑ کر) قیاس و رائے کے دھڑے پر لگا لیا ہو گا۔ (اس داعی حق سے پہلے) یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی، دانت نکالے ہوئے اور تھن بھرے ہوئے، جن کا دودھ شیریں و خوش گوار معلوم ہو گا، لیکن اس کا انجام تلخ و ناگوار ہو گا۔ ہاں! کل اور یہ کل بہت نزدیک ہے کہ ایسی چیزوں کو لے کر آ جائے جنہیں ابھی تم نہیں پہچانتے۔ حاکم و والی جو اس جماعت میں سے نہیں ہو گا تمام حکمرانوں سے ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے مواخذہ کرے گا اور زمین اس کے سامنے اپنے خزانے انڈیل دے گی اور اپنی کنجیاں بسہولت اس کے آگے ڈال دے گی، چنانچہ وہ تمہیں دکھائے گا کہ حق و عدالت کی روش کیا ہوتی ہے اور وہ دم توڑ چکنے والی کتاب و سنت کو پھر سے زندہ کر دے گا۔
اس خطبہ میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ نے اختلالِ تہذیب، انہدامِ اقدار، انقلابِ موازین، اور بعثتِ جدیدۂ دینی کے وہ دقیق اشارات ودیعت فرمائے ہیں، جو قرونِ متاخرہ کے فکری انتشار اور تہذیبی اضطراب کی مکمل تصویر کشی کرتے ہیں۔
یہ خطبہ ایک طرف فتنۂ تاویل، تحریفِ دین، اور استعبادِ انسان کی پیش گوئی کرتا ہے، اور دوسری طرف طلوعِ فجرِ مہدوی، قیامِ عدلِ مطلق، اور احیاءِ کتاب و سنت کی بشارت عطا کرتا ہے۔
خواہشات کے غلبے سے ہدایت کی طرف واپسی
يَعْطِفُ الْهَوَى عَلَى الْهُدَى
یہ جملہ انقلابِ موازینِ معرفت کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ امیرالمؤمنینؑ اس جملہ میں فکری انحطاط کے اس عظیم سانحے کی نشاندہی فرما رہے ہیں کہ جب انسان مقیاسِ حق کو میزانِ خواہش بنا لیتا ہے، تو دین منہاجِ ہدایت کے بجائے آلۂ توجیہ بن جاتا ہے۔
یہاں ”عطف“ کا لفظ محض تبدیلی نہیں بلکہ قلبِ نسبت، انقلابِ جہت، اور انقلابی تصحیحِ مسیر کی طرف دلالت کرتا ہے۔ یعنی امام مہدیؑ کا قیام محض سیاسی انقلاب نہیں بلکہ کلی انقلابِ فکری و تہذیبی ہے، جس میں خواہشات، تعصبات، اور مفادات کو قہرِ ہدایت کے تحت سرنگوں کر دیا جائے گا۔
رائے کو قرآن کے مطابق کرنا
وَيَعْطِفُ الرَّأْيَ عَلَى الْقُرْآنِ
یہ فقرہ تاویلِ نفسانی، اجتہادِ مصلحتی، اور قراءتِ استعماری پر کاری ضرب ہے۔ یہاں امامؑ اس حقیقت کو منکشف فرماتے ہیں کہ جب عقلِ منفصل، وحیِ متصل سے منقطع ہو جائے تو قرآن منشورِ ہدایت کے بجائے مطیعِ ذہن بن جاتا ہے۔
امام مہدیؑ کا ظہور عقل و نقل کی تجدیدی ہم آہنگی کا مظہر ہوگا، جہاں قرآن مرجعِ مطلق اور تمام آراء تابعِ نصوص ہوں گی۔ یوں یہ قیام انسدادِ تاویلِ باطل، اور اعادۂ مرجعیتِ وحی کی سب سے عظیم عالمی تحریک ہوگا۔
آنے والی عظیم جنگیں اور عالمی فتنہ
حَتَّى تَقُومَ الْحَرْبُ بِكُمْ عَلَى سَاقٍ
یہ فقرہ تمثیلِ حرب کے ذریعے فلسفۂ تاریخِ فتن کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے۔ جنگ کو ناقۂ فتن سے تشبیہ دینا دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ فتنہ ابتدا میں لذتِ اقتدار، حلاوتِ غنیمت، اور سرابِ امن کا جلوہ دکھاتا ہے، مگر انجام کار علقمِ ہلاکت، اور زقومِ تباہی بن جاتا ہے۔
یہ تمثیل عصرِ جدید کی عالمی جنگوں، تہذیبی تصادم، اور استعماری تصرفات کی دقیق ترین تصویر کشی کرتی ہے، جہاں دنیا ظاہری ترقی کے پردے میں باطنی انہدام کی طرف رواں دواں ہے۔
مستقبل کی بڑی اور حیران کن تبدیلیاں
وَفِي غَدٍ — وَسَيَأْتِي غَدٌ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ
یہ جملہ فلسفۂ وقت، منطقِ تاریخ، اور جدلیاتِ تقدیر کی نہایت گہری تعبیر ہے۔ ”غد“ محض زمانی ظرف نہیں بلکہ مرحلۂ انقلابی، حدِّ فاصلِ تاریخ، اور نقطۂ انفجارِ سننِ الٰہیہ ہے، جہاں نظامِ کہن منہدم اور نظامِ نو ظہور پذیر ہوگا۔
یہاں ”بِمَا لَا تَعْرِفُونَ“ انسانی شعور کی عجزِ ادراک اور مستقبل کی ناقابلِ قیاس جہتوں کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
ظالم حکمرانوں کا احتساب اور عدل کا قیام
يَأْخُذُ الْوَالِي مِنْ غَيْرِهَا عُمَّالَهَا
یہ فقرہ عدلِ مہدوی کے قانونی و سیاسی ڈھانچے کو نمایاں کرتا ہے۔ امام مہدیؑ کا قیام محض تخت نشینی نہیں بلکہ احتسابِ کائناتی، تطہیرِ ساختِ اقتدار، اور تصفیۂ مراکزِ فساد کی ہمہ گیر تحریک ہے۔
یہاں والی وہ ہے جو نسبتِ الٰہیہ کا حامل ہو، ۔ چنانچہ وہ تاریخی مظالم، سیاسی جرائم، اور اقتصادی استحصال کا بے لاگ محاسبہ کرے گا۔
زمین کی برکتیں اور عالمی خوشحالی
وَتُخْرِجُ لَهُ الْأَرْضُ أَفَالِيذَ كَبِدِهَا
یہ فقرہ سننِ تکوینی اور نظامِ رزق کے مابین ربط کو منکشف کرتا ہے۔ جب عدل قانونِ ارض بن جاتا ہے تو زمین قانونِ امساک ترک کر دیتی ہے۔
یہاں زمین کا خزانے اگلنا معاشی انقلاب، زراعتی برکت، اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہے، جو حکومتِ مہدوی کی برکتِ وجودی کا مظہر ہے۔
قرآن و سنت کا احیاء اور عملی نفاذ
وَيُحْيِي مَيِّتَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ
یہ جملہ عقلی، فکری اور تہذیبی نقطۂ کمال ہے، جس میں احیاءِ دین اور شریعت کی عملی بالادستی کا بیان ہے۔ امام مہدیؑ قرآن کو ہمہ گیر ضابطۂ حیات اور سنت کو مؤثر اور رہنما تہذیب کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔
فتنوں کا دور، صبر کی تلقین اور اہلِ حق کی تیاری
اَخَذُوْا یَمِیْنًا وَّ شِمَالًا ظَعْنًا فِیْ مَسَالِكِ الْغَیِّ، وَ تَرْكًا لِّمَذَاهِبِ الرُّشْدِ. فَلَا تَسْتَعْجِلُوْا مَا هُوَ كَـآئِنٌ مُّرْصَدٌ، وَ لَا تَسْتَبْطِئُوْا مَا یَجِیْٓءُ بِهِ الْغَدُ. فَكَمْ مِّنْ مُّسْتَعْجِلٍۭ بِمَاۤ اِنْ اَدْرَكَهٗ وَدَّ اَنَّهٗ لَمْ یُدْرِكْهُ. وَ مَاۤ اَقْرَبَ الْیَوْمَ مِنْ تَبَاشِیْرِ غَدٍ. یَا قَوْمِ! هذَاۤ اِبَّانُ وُرُوْدِ كُلِّ مَوْعُوْدٍ، وَ دُنُوٍّ مِّنْ طَلْعَةِ مَا لَا تَعْرِفُوْنَ.اَلَا وَ اِنَّ مَنْ اَدْرَكَهَا مِنَّا یَسْرِیْ فِیْهَا بِسِرَاجٍ مُّنِیْرٍ، وَ یَحْذُوْ فِیْهَا عَلٰی مِثَالِ الصَّالِحِیْنَ، لِیَحُلَّ فِیْهَا رِبْقًا، وَ یُعْتِقَ رِقًّا، وَ یَصْدَعَ شَعْبًا، وَ یَشْعَبَ صَدْعًا، فِیْ سُتْرَةٍ عَنِ النَّاسِ، لَا یُبْصِرُ الْقَآئِفُ اَثَرَهٗ وَ لَوْ تَابَعَ نَظَرَهٗ. ثُمَّ لَیُشْحَذَنَّ فِیْهَا قَوْمٌ شَحْذَ الْقَیْنِ النَّصْلَ تُجْلٰی بِالتَّنْزِیْلِ اَبْصَارُهُمْ، وَ یُرْمٰی بِالتَّفْسِیْرِ فِیْ مَسَامِعِهِمْ، وَ یُغْبَقُوْنَ كَاْسَ الْحِكْمَةِ بَعْدَ الصَّبُوْحِ. (9)
دیکھو! ہم (اہلبیتؑ) میں سے جو (ان فتنوں کا دور) پائے گا وہ اس میں (ہدایت کا) چراغ لے کر بڑھے گا اور نیک لوگوں کی راہ و روش پر قدم اٹھائے گا، تاکہ بندھی ہوئی گرہوں کو کھولے اور بندوں کو آزاد کرے اور حسب ضرورت جڑے ہوئے کو توڑے اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑے۔ وہ لوگوں کی (نگاہوں سے) پوشیدہ ہو گا۔ کھوج لگانے والے پیہم نظریں جمانے کے باوجود بھی اس کے نقش قدم کو نہ دیکھ سکیں گے- اس وقت ایک قوم کو (حق کی سان پر) اس طرح تیز کیا جائے گا جس طرح لوہار تلوار کی باڑ تیز کرتا ہے۔ قرآن سے ان کی آنکھوں میں جلا پیدا کی جائے گی اور اس کے مطالب ان کے کانوں میں پڑتے رہیں گے اور حکمت کے چھلکتے ہوئے ساغر انہیں صبح و شام پلائے جائیں گے(وہ لوگ) گمراہی کے راستوں پر لگ کر اور ہدایت کی راہوں کو چھوڑ کر (افراط و تفریط کے) دائیں بائیں راستوں پر ہو لئے ہیں۔ جو بات کہ ہو کر رہنے والی اور محل انتظار میں ہو اس کیلئے جلدی نہ مچاؤ اور جسے ’’کل‘‘ اپنے ساتھ لئے آ رہا ہے اس کی دوری محسوس کرتے ہوئے ناگواری ظاہر نہ کرو۔ بہتیرے لوگ ایسے ہیں کہ جو کسی چیز کیلئے جلدی مچاتے ہیں اور جب اسے پا لیتے ہیں تو پھر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ اسے نہ ہی پاتے تو اچھا تھا۔ ’’آج‘‘ آنے والے ’’کل‘‘ کے اجالوں سے کتنا قریب ہے۔اے میری قوم! یہی تو وعدہ کی ہوئی چیزوں کے آنے اور ان فتنوں کے نمایاں ہو کر قریب ہونے کا زمانہ ہے کہ جن سے ابھی تم آگاہ نہیں ہو۔
خطبہ 148 نہج البلاغہ میں مولا علیؑ نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے آنے والے فتنوں، گمراہیوں اور معاشرتی انتشار کی پیشگوئی کی ہے۔
فتنوں کا آغاز اور انسان کی فکری گمراہی
وَ اَخَذُوْا یَمِیْنًا وَّ شِمَالًا ظَعْنًا فِیْ مَسَالِكِ الْغَیِّ، وَ تَرْكًا لِّمَذَاهِبِ الرُّشْدِ
لوگ ہدایت کے راستے چھوڑ کر گمراہی کی پگڈنڈیوں میں دائیں بائیں بھٹکنے لگیں گے۔ یہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور دینی انحراف کا زمانہ ہوگا، جہاں حق و باطل کی تمیز کمزور پڑ جائے گی۔
یقینی امور میں صبر اور حکمت کی تلقین
فَلَا تَسْتَعْجِلُوا مَا هُوَ كَائِنٌ مُرْصَدٌ
امامؑ فرماتے ہیں کہ جو امر یقینی ہے، اس کے لیے جلدی نہ کرو، کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی خواہش تو کی جاتی ہے، مگر جب وہ آ جاتی ہیں تو انسان پچھتانے لگتا ہے۔ اس میں انتظار، صبر اور حکمتِ الٰہی پر اعتماد کی تعلیم ہے۔
مستقبل قریب کی بڑی تبدیلیاں
وَمَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ تَبَاشِيرِ غَدٍ
آج اور کل کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے، یعنی عظیم واقعات اور انقلابات بہت قریب ہیں۔ یہ فقرہ ظہورِ مہدوی اور بڑے فتنوں کی قربت کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
وعدۂ الٰہی کی تکمیل کا وقت
يَا قَوْمِ! هَذَا إِبَّانُ وُرُودِ كُلِّ مَوْعُودٍ
یہ وہ زمانہ ہے جب الٰہی وعدے پورے ہونے لگیں گے اور وہ فتنہ انگیز واقعات ظاہر ہوں گے جنہیں لوگ پہلے نہیں جانتے تھے۔ اس میں آخری زمانے کے عظیم حوادث کی طرف اشارہ ہے۔
اہلِ بیتؑ، ہدایت کا روشن چراغ
أَلَا وَإِنَّ مَنْ أَدْرَكَهَا مِنَّا يَسْرِي فِيهَا بِسِرَاجٍ مُنِيرٍ
اہلِ بیتؑ میں سے جو ان حالات کو پائے گا، وہ ہدایت کا روشن چراغ لے کر آگے بڑھے گا اور صالحین کے راستے پر چلے گا۔ یہ واضح اشارہ حضرت امام مہدیؑ کی طرف ہے
عالمی اصلاح اور نجاتِ انسانی
امام مہدیؑ کا اصلاحی مشن عالمی اصلاح اور نجاتِ انسانی کا جامع منصوبہ ہے، جس میں فکری و سماجی بندھن کھولنا، انسانوں کو غلامی اور ظلم کے نظام سے آزادی ،عدل و ہدایت کو عالمگیر سطح پر قائم کرنا شامل ہے۔ امامؑ کی قیادت قرآن و سنت کے حقیقی نفاذ پر مبنی ہوگی، تاکہ ہر سطح پر ظلم و جبر کے نظام کو توڑا جائے اور حق و انصاف کا راج قائم ہو۔ یہ مشن پورے عالم انسانی کے لیے روشنی، رہنمائی اور اصلاح کا ضامن ہوگا۔
امامؑ کی غیبت اور عوام کی دید سے پردہ
فِي سُتْرَةٍ عَنِ النَّاسِ، لَا يُبْصِرُ الْقَائِفُ أَثَرَهُ وَ لَوْ تَابَعَ نَظَرَهُ
اس فقرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امامؑ عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہیں گے، ۔ غیبت کے اس مرحلے میں امامؑ کا وجود ظاہری طور پر مخفی ہوگا امام کی غیر مرئی موجودگی بھی عوام کے لیے حکمت اور امتحان کا ذریعہ ہے۔۔ یہ واضح طور پر دورِ غیبت کی طرف اشارہ ہے۔
اصحابِ مہدیؑ کی تربیت اور تیاری
ثُمَّ لَيُشْحَذَنَّ فِيهَا قَوْمٌ شَحْذَ الْقَيْنِ النَّصْلَ
ایک گروہ اس طرح تیار کیا جائے گا جیسے لوہار تلوار کو تیز کرتا ہے۔
امامؑ کے مشن میں ایک خاص گروہ تیار کیا جائے گا جسے اسی طرح تربیت دی جائے گی جیسے لوہار اپنی تلوار کو تیز کرتا ہے۔ اس تربیت کا مقصد فکری تربیت، ایمانی بصیرت، قرآنی شعور، اور حکمت و دانائی کو بلند کرنا ہے، تاکہ یہ افراد امام مہدیؑ کے مشن میں فعال کردار ادا کریں اور اصلاح و ہدایت کے عملی عمل میں پیش پیش رہیں۔ یہی وہ گروہ ہے جو اصحابِ امام مہدیؑ کے اعلیٰ خصائص کا حامل ہوگا اور اندھیروں میں روشنی کے ستون کی مانند لوگوں کو راہِ حق دکھائے گا۔
قرآن، تفسیر اور حکمت کے ذریعے فکری انقلاب
تُجْلَى بِالتَّنْزِيلِ أَبْصَارُهُمْ، وَيُرْمَى بِالتَّفْسِيرِ فِي مَسَامِعِهِمْ
ان کی آنکھیں قرآن سے روشن کی جائیں گی،ان کے کان تفسیر سے آشنا ہوں گےاور وہ صبح و شام جامِ حکمت سے سیراب کیے جائیں گے امامؑ کے مشن میں ایک خاص گروہ کی تربیت اس طرح کی جائے گی کہ ان کی آنکھیں قرآن کے نور سے روشن ہوں، ان کے کان تفسیر کے علم سے آشنا ہوں، اور وہ صبح و شام حکمت کے جام سے سیراب کیے جائیں۔ اس تربیت کا مقصد فکری انقلاب، روحانی بصیرت اور علمی بصیرت پیدا کرنا ہے، تاکہ یہ افراد امامؑ کے مشن میں فعال کردار ادا کریں اور دین و دنیا میں حق و ہدایت کی روشنی پھیلانے میں پیش پیش رہیں۔ قرآن، تفسیر اور حکمت ان کے لیے رہنمائی، شعور اور بصیرت کے بنیادی ستون بنیں گے
نتیجہ (Conclusion)
اس تحقیق سے یہ واضح ہوا کہ نہج البلاغہ میں وارد ارشاداتِ امیرالمؤمنینؑ نہ صرف فکری اور اعتقادی رہنمائی فراہم کرتی ہیں بلکہ عملی، اخلاقی اور سماجی اصلاح کے جامع نظام کی بنیاد بھی پیش کرتی ہیں۔ تشبیہات جیسے ستاروں کی مثال، یعسوبِ دین، قزعِ خریف، ناقۂ فتن، چراغِ ہدایت اور احیائے کتاب و سنت، امام مہدیؑ کے ظہور اور قیامِ عدلِ کامل کے تصور کو نہایت بلیغ انداز میں پیش کرتی ہیں۔
نتائج کے اعتبار سے یہ بھی واضح ہوا کہ نہج البلاغہ میں مہدویت کا مفہوم صرف مستقبل کی غیبی امید نہیں بلکہ ہر دور میں انسانی زندگی کے لیے عملی رہنمائی اور فکری، اخلاقی و تہذیبی توازن فراہم کرنے والا نظام ہے۔ امام مہدیؑ کی قیادت انسانیت کو فکری گمراہی، اخلاقی زوال اور سماجی انتشار سے نجات دلاتی ہے اور عدل و انصاف کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے۔
اس مقالے کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ میں مہدویت کا نظریہ ایک ہمہ جہت، عملی اور رہنما کردار ادا کرنے والا نظام ہے، جو فرد و معاشرہ دونوں کی اصلاح، استقامت اور ہدایت کا ضامن ہے۔ عصرِ حاضر کے بحرانِ فکری، اخلاقی و تہذیبی پس منظر میں یہ تعلیمات انسان کو امید، صبر اور عملی ذمہ داری کا شعور عطا کرتی ہیں، اور قیامِ عدلِ مہدوی کے عظیم مشن کی علمی و عملی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
حوالہ جات
[1] نہج البلاغہ، خطبہ 98[2] القرآن، سورہ مائدہ ایۃ 3
[3] نہج البلاغہ، حکمت 260
[4] نہج البلاغہ، حکمت 206
[5] نہج البلاغہ، حکمت 209
[6] القرآن آیہ 5 سوره قصص
[7] نہج البلاغہ، خطبہ 180
[8] نہج البلاغہ ،خطبہ 136
[9] نہج البلاغہ خطبہ 148
Abstract
This paper presents a comprehensive analytical study of the intellectual, doctrinal, and civilizational aspects of the guidance of Amir al-Mu’minin Aliؑ as recorded in Nahj al-Balaghah, which are directly or indirectly related to the appearance, occultation, global leadership, establishment of perfect justice, and the ultimate salvation of humanity after trials and tribulations concerning Imam Mahdiؑ. The metaphors mentioned in Amir al-Mu’minin’sؑ sermons, such as the example of stars, the pillar of religion, autumn harvest, the camel of tribulations, the lamp of guidance, and the revival of the Book and Sunnah, vividly depict the Mahdawi system of leadership, global reform, and intellectual transformation.
This study emphasizes that the concept of Mahdism in Nahj al-Balaghah is not merely a mystical belief or a future-oriented doctrine, but a living, dynamic, comprehensive, and practical system of guidance. It provides a foundation for intellectual reform, moral purification, social justice, and civilizational balance at both individual and societal levels. In the context of contemporary intellectual confusion, civilizational crises, and moral decline, the Mahdawi teachings of Nahj al-Balaghah instill hope, patience, perseverance, and a sense of practical responsibility in humanity. The objective of this paper is to introduce the concept of Mahdism as a comprehensive intellectual system in the light of Nahj al-Balaghah’s texts and to elucidate its practical implications.
Keywords: Nahj al-Balaghah, Mahdism / Mahdawi Thought, Occultation and Appearance, Establishment of Justice, Global Leadership, Trials and Tribulations / Fitnah, Moral and Intellectual Reform, Civilizational Balance
Additional SEO Keywords: نہج البلاغہ اور امام مہدیؑ، مہدویت کا تصور، امام مہدیؑ کا ظہور اور غیبت، مہدوی نظامِ قیادت، نہج البلاغہ کی مہدوی تعلیمات، قیامِ عدلِ کامل، امیرالمؤمنین علیؑ کے ارشادات




