
﷽
مقدمہ
حکومت و سیاست کے اصول ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں ایک معرکۃ الآرا موضوع رہے ہیں۔ مختلف فلاسفہ اور دانشور حضرات نے اس موضوع پر متنوع نظریات پیش کیے ہیں جن میں یونانی فلسفہ، جدید مغربی سیاسی فکر اور اسلامی سیاسی نظام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
زیرِ نظر مقالے میں نہج البلاغہ کی روشنی میں اسلامی سیاسی فکر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انسانی تاریخ میں سیاسی فکر کے ارتقاء پر ایک نظر ڈالی گئی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مختلف تہذیبوں میں اقتدار اور حکمرانی کے تصورات کس طرح وجود میں آئے اور اسلامی نظامِ سیاست ان سے کس حد تک مختلف یا مماثل ہے۔
میں نے بحث کی ترتیب اس طرح سے رکھی ہے کہ پہلے یونانی فکر، پھر جدید مغربی نظریات کو اختصار سے بیان کیا جائے، اس کے بعد بعثت سے پہلے عرب معاشرے کی ساخت اور اسلامی سیاسی نظام کے ظہور کا تاریخی پس منظر پیش کیا جائے اور آخر میں نہج البلاغہ کی روشنی میں حضرت علیؑ کے فرامین سے حکومت، عدل، امانت اور عوامی ذمہ داری کے اصولوں کا تجزیہ کیا جائے۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت و الیہ انیب
یونانی سیاسی فکر اور نظریۂ حکمرانی
قدیم یونانی سیاسی فکر کی ابتدائی جھلک ہومر اور ہیزی اوڈ کی تحریروں میں ملتی ہے۔ یہ دونوں اس دور کے اہم ادبی اور فکری نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ ہومر کے ہاں بادشاہت کا تصور نمایاں ہے اور بادشاہ کو دیوتاؤں کی عطا کردہ اقتدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق حکمران ایک بلند تر مقام رکھتا ہے اور عوام پر حکمرانی کا حق رکھتا ہے۔
اس کے برعکس ہیزی اوڈ کے افکار میں عدل اور اخلاقی ذمہ داری پر زور ملتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکمران شاطر اور خود غرض نہ ہو بلکہ راست باز اور عادل ہو۔ اس طرح اس کے ہاں اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
پانچویں صدی قبل مسیح میں سوفسٹس کے نظریات کو عروج حاصل ہوا۔ یہ لوگ باقاعدہ مکتبہ فکر کی صورت میں منظم نہ تھے لیکن اپنے آپ کو سماجی اور سیاسی علوم کے ماہر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ سوفسٹس سیاست کو اخلاقیات کے بجائے فردی مفاد کے تابع سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک کامیابی اور شخصی فائدہ زیادہ اہم تھا۔ ان میں نمایاں مفکرین گورجیاس، تھراسی میکس اور پروٹے غورس تھے۔
پروٹے غورس کا مشہور قول ہے
”انسان تمام چیزوں کا پیمانہ ہے“۔
اس لحاظ سے پروٹے غورس کے نزدیک صرف ایک فرد کی ذاتی خوشی ، پسند ناپسند اہم تھی اور سماج کے اجتماعی مفاد کو اس نے نظر انداز کیا تھا۔
سوفسٹس کے اس رجحان کے رد عمل میں سقراط کی فکر سامنے آئی۔ سقراط کے نزدیک معاشرتی انتشار کی ایک بڑی وجہ حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت ہے۔ اس کے خیال میں سماجی انصاف ہی معاشرے کو استحکام فراہم کرتا ہے۔
افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں فلسفی حکمران کا نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق حکومت ایسے دانا اور صاحبِ بصیرت افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کو مقدم رکھیں۔ افلاطون کے نزدیک حکمران طبقہ کو چاہیے کہ ذاتی دولت اور جائیداد سے دور رہ کر ریاستی ذمہ داری ادا کرے۔
ارسطو نے افلاطون کے بعض نظریات پر تنقید کرتے ہوئے قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ اس کے نزدیک حکمران خواہ کتنا ہی دانا کیوں نہ ہو، اسے قانون کے تابع ہونا چاہیے اور عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
لیکن ارسطو حکمران کے لیے ذاتی دولت اور پرتعیش زندگی کا حامی ہے اور آئینی بادشاہت کی حمایت کرتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ارسٹوکریسی کے لیے معاشرے میں راہ ہموار ہوتی ہے اور اشرافیہ طبقے کے غلبے کے امکان پیدا ہوجاتے ہیں۔ (1)
یونانی سیاسی فکر کے اس مختصر جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں حکمرانی کے مختلف تصورات پیش کیے گئے جن میں کہیں الٰہی اختیار، کہیں فردی مفاد اور کہیں اجتماعی انصاف پر زور دیا گیا۔
جدید مغربی سیاسی فکر
یونانی فکر کے بعد جدید دور میں سیاسی نظریات نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ خصوصاً میکاولی اور روسو نے ریاست اور اقتدار کے بارے میں ایسے نظریات پیش کیے جنہوں نے جدید سیاسی فکر پر گہرا اثر ڈالا۔
میکاولی کے نزدیک سیاست کو اخلاقی اصولوں سے الگ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے خیال میں حکمران کا بنیادی مقصد ریاست کو مضبوط رکھنا اور اقتدار کو برقرار رکھنا ہے، خواہ اس کے لیے سخت اقدامات ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔
اس کے برعکس ژاں ژاک روسو نے معاہدہ عمرانی کا نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق ریاست کی اصل بنیاد عوام کی اجتماعی رضا ہوتی ہے۔ روسو کے نزدیک اقتدار کا حقیقی سرچشمہ عوام ہیں اور حکومت کو عوامی مفاد کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ (2)
بعثتِ رسول اکرم ﷺ اور عرب معاشرے کا سیاسی پس منظر
بعثت سے پہلے قبائلی تنظیم بدوی معاشرے کا عکاس تھی۔ ایک ایسی جماعت جن کی آپس میں رشتہ داری ہو اور ان
کے آباؤ اجداد مشترک ہوں اور وہ ایک ساتھ رہتے ہوں، ان کو قبیلہ کہا جاتا تھا۔ ایک قبیلے کے تمام اراکین ایک دوسرے کو خونی رشتے دار خیال کرتے، اور صرف ایک سردار کی حاکمیت مانتے تھے۔
سماج اور معاشرہ سے ہٹ کر کسی نئی روش کو اختیار کرنا اور معاشرے سے آزاد ہوکر کوئی بھی کام سر انجام دینا سرزمین عرب میں اس زمانے تک نامعلوم تھا ۔ اس عہد میں ریاست ایک باقاعدہ ادارہ نہیں تھی اور کسی طرح کی حدود متشکل نہ تھیں ۔
وہاں صرف ایک ہی بندھن ، یعنی خون کے رشتہ کا بندھن پایا جاتا تھا جو عوام الناس اور خاندانوں کو باہم جوڑے رکھتا تھا۔ عربوں کا قبائلی نظام کسی بھی بیرونی جابر و قاہر تسلط سے آزاد اور خود مختار تھا۔
جواد علی اس زمانے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
”عرب طاقت اور قدرت کے علاوہ کچھ نہیں جانتے اور اس کے علاوہ کسی چیز کے سامنے سر نہیں جھکاتے، ان کے پاس "حق” کا معیار بھی یہی ہے اور ”عدالت“ کو بھی اسی بنیاد قرار دیتے ہیں“۔ (3)
ایک اعرابی سے پوچھا گیا کہ
”کیا تم اس بات پر تیار ہو کہ کسی ایسے شخص کو معاف کردو جس نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہو اور جنت میں چلے جاؤ“؟
اس نے جواب دیا
”میرے لیے یہ آسان ہے کہ اپنا انتقام لوں اور جہنم میں چلا جاؤں“۔ (4)
اقتدار کا تصور
نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت معاشرے میں مقصد اور تصور حیات کے حوالے سے فکری بے اعتدالی موجود تھی۔
مثلا اس دور کا ایک اہم مذہبی اسکول ”بدھ مت“ تھا۔ جس نے نفس و روح کے تزکیہ پر انسان کو اس طرح سے مرتکز کردیا تھا کہ ان کے نظام میں خالق و مالک کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی تھی اور انسان دور رس مقصد کے بغیر اپنی فطری قوتوں کے استعمال کی کوئی ترغیب اپنی زندگی میں نہیں پاتا تھا۔
دوسری طرف ”عیسائیت“ تھی۔جہاں ”قیصر کا حق قیصر کو اور خدا کا حق خدا کو دینے کے نظریے نے جب جگہ بنائی تو اخلاقیات اور سیاست میں جدائی ہوگئی تھی۔ اگر بادشاہ پہاڑی کے وعظ پر عمل کرتا ہے تو معاشرے کا عام انسان رہبانیت میں نجات سمجھنے لگے گا جیسا کہ رسول اکرم کی بعثت (610ء) کے وقت مشرقی عیسائی دنیا (مصر، شام، اناطولیہ) میں رہبانیت مضبوط ادارہ بن چکی تھی، اور اگر بادشاہ راسخ العقیدگی اختیار نہیں کرتا تو کلیسا کے مفادات پر ضرب لگتی ہے۔
قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ
وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ
”اور رہبانیت (ترک دنیا) کو تو انہوں نے خود ایجاد کیا، ہم نے تو ان پر رہبانیت کو واجب نہیں کیا تھا“۔ (5)
اسلام نے آکر کہا کہ دنیا میں اس طرح سے جدوجہد کرو کہ عقبی نظروں سے اوجھل نہ ہو۔
جب رسول اکرم ﷺ مدینے تشریف لائے تو وہاں کا معاشرہ دو مخالف دھڑوں یعنی اوس و خزرج میں بٹا ہوا تھا۔ قتل و خون ریزی اس وقت کا مروجہ قانون تھا۔ وہاں ضرورت تھی کہ سب سے پہلے امن و امان قائم کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے میثاق مدینہ کے ذریعے یہ کام احسن طور پر انجام دیا۔ یہ آئین سازی کے لیے پہلا قدم تھا اور یہ اقدام اسلامی تمدن کے دور میں جاری رہنا تھا اور اس عظیم تمدن کے لیے سیاسی نظریے کی حیثیت سے اسے ایک عظیم سرمایہ قرار پانا تھا۔(6)
نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں جو کمیونٹی تخلیق کی اس کے سر پر ایک اعلی اتھارٹی یعنی ”خدائی حکمرانی“ کو قائم کیا جس کی اطاعت جماعت پر لازمی قرار دی گئی۔ اس طرح مدینہ ایک متحدہ ”امت“ بن گیا۔
خدا کی حکمرانی دراصل ”عدل و انصاف کی حکمرانی“ کے مترادف تھی۔ اس حکمرانی میں خدا کا نمائندہ رسول کی شکل میں زمین پر موجود تھا۔ جس کی اطاعت خدا کی اطاعت کے مترادف تھی۔
اس مختصر تاریخی پس منظر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی سیاسی نظام نے قبائلی اقتدار کے بجائے خدائی حاکمیت، عدل اور نظریاتی وحدت کو بنیاد بنایا تھا۔ یعنی اب اخوت کا رشتہ ”خون“ کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ "دین“ اور امت واحدہ کی بنیاد پر تھا۔ اس طرح سے مومنین دو طرفہ بندھن میں بندھ گئے، وہ ظالم لوگوں کے خلاف ایک دوسرے کے حامی و ناصر تھے اور دوسری طرف تمام غیر مقامی دشمنوں کے خلاف ایک امت تھے۔
حضرت علی ع نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
فَلَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، وَ اِنَّ الْقَتْلَ لَیَدُوْرُ عَلَی الْاٰبَآءِ وَ الْاَبْنَآءِ وَ الْاِخْوَانِ وَ الْقَرَابَاتِ، فَمَا نَزْدَادُ عَلٰی كُلِّ مُصِیْبَةٍ وَّ شِدَّةٍ اِلَّاۤ اِیْمَانًا، وَ مُضِیًّا عَلَی الْحَقِّ، وَ تَسْلِیْمًا لِّلْاَمْرِ، وَ صَبْرًا عَلٰی مَضَضِ الْجِرَاحِ.
ہم (جنگوں میں ) رسول ﷺ کے ساتھ تھے اور قتل ہونے والے وہی تھے جو ایک دوسرے کے باپ، بیٹے، بھائی اور رشتہ دار ہوتے تھے، لیکن ہر مصیبت اور سختی میں ہمارا ایمان بڑھتا تھا اور حق کی پیروی اور دین کی اطاعت میں زیادتی ہوتی تھی اور زخموں کی ٹیسوں پر صبر میں اضافہ ہوتا تھا۔ (7)
حضرت علی کے نزدیک حکومت اور سیاست کے اصول
حاکم کے اوصاف:
حضرت علی اسلامی ریاست میں حاکم کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے خطبہ 129 میں فرماتے ہیں۔
وَ قَدْ عَلِمْتُمْ اَنَّهٗ لَا یَنْۢبَغِیْۤ اَنْ یَّكُوْنَ الْوَالِیَ عَلَی الْفُرُوْجِ وَ الدِّمَآءِ وَ الْمَغَانِمِ وَ الْاَحْكَامِ وَ اِمَامَةِ الْمُسْلِمِیْنَ الْبَخِیْلُ، فَتَكُوْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ نَهْمَتُهٗ، وَ لَا الْجَاهِلُ فَیُضِلَّهُمْ بِجَهْلِهٖ، وَ لَا الْجَافِیْ فَیَقْطَعَهُمْ بِجَفَآئِهٖ، وَ لَا الْحَآئِفُ لِلدُّوَلِ فَیَتَّخِذَ قَوْمًا دُوْنَ قَوْمٍ، وَ لَا الْمُرْتَشِیْ فِی الْحُكْمِ فَیَذْهَبَ بِالْحُقُوْقِ وَیَقِفَ بِهَا دُوْنَ الْمَقَاطِعِ، وَ لَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَیُهْلِكَ الْاُمَّةَ.
(اے لوگو!) تمہیں یہ معلوم ہے کہ ناموس، خون، مالِ غنیمت، (نفاذ) احکام اور مسلمانوں کی پیشوائی کیلئے کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حاکم ہو، کیونکہ اس کا دانت مسلمانوں کے مال پر لگا رہے گا اور نہ کوئی جاہل کہ وہ انہیں اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہ کرے گا اور نہ کوئی کج خلق کہ وہ اپنی تند مزاجی سے چرکے لگاتا رہے گا اور نہ کوئی مال و دولت میں بے راہ روی کرنے والا کہ وہ کچھ لوگوں کو دے گا اور کچھ کو محروم کر دے گا اور نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا کہ وہ (دوسروں کے) حقوق کو رائیگاں کر دے گا اور انہیں انجام تک نہ پہنچائے گا اور نہ کوئی سنت کو بیکار کر دینے والا کہ وہ اُمت کو تباہ و برباد کر دے گا۔ (8)
فکرِ علوی کی آفاقیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود دورِ حاضر کے سیاسی دانشور بھی انہی اصولوں کو بقائے باہمی کی ضمانت قرار دیتے ہیں
ڈاکٹرمستفیض احمد علوی رقم طراز ہیں:
”قرآن حکیم حکمرانی کے کسی ایک ماڈل کو آئیڈیل یا لازم قرار نہیں دیتا اور یہ اس کے ابدی وآفاقی ہونے کا ایک مظہر بھی ہے ۔کیونکہ ماڈل اور سسٹم ، زمان ومکان کی حدود کے پابند ہیں۔ ان کی شکلیں زمانے کے حالات اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا طرز حکومت جو بھی اپنایا جائے ، پیمانہ یہ ہے کہ
"انسانوں پر حکمرانی ”خدا خوفی ،انصاف اورانسانیت کی بھلائی پر مبنی ہونی چاہیے“۔ (9)
نہج البلاغہ سے یہی بنیادی اصول ہمیں پتا چلتا ہے کہ اسلامی سیاسی فکر میں حکمران کے لیے عدل، علم اور دیانت بنیادی شرائط ہیں۔
معاشی عدل اور امانت داری
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں لوگ دیکھتے تھے کہ خدا کا نمائندہ بھی انہی حالات سے گزرتا ہے جن سے ان کا سامنا ہے۔ اگر وہ پیٹ پر ایک پتھر باندھتے ہیں تو وہ دو پتھر باندھا نظر آتا ہے ۔ اس وجہ سے کوئی ایسی صدا نظر نہیں آتی جو معاشی ناہمواری یا حاکم اعلی کی نا انصافی پر احتجاج پر مبنی ہو، لیکن بعد کے ادوار میں جب پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے اور علاقائی عامل مال عوام پر قبضہ کرتے ہیں ، ان سے جائدادیں بناتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوذرؓ کی شخصیت اس وقت معاشی ناہمواری کے خلاف مؤثر موقف اختیار کرتی نظر آتی ہے۔
حضرت علی ع کو بھی اپنے دور حکومت میں اس طرح کے عاملین اور گورنرز کا سامنا رہا جو عوام کے مال پر اپنا حق سمجھتے تھے۔ حضرت علیؑ کی سیاسی و اخلاقی تربیت براہ راست رسول اکرم ﷺ کے زیر اثر ہوئی تھی ۔ آپ نے ان عاملین کو فوراً برطرف کیا جو عوامی وسائل کے ناجائز استعمال میں ملوث تھے، کیونکہ حضرت علیؑ کے نزدیک امانت داری ، حکمرانی کا بنیادی اصول تھی۔
ایک عامل کو حضرت علی ع مکتوب لکھتے ہیں۔
فَلَمَّاۤ اَمْكَنَتْكَ الشِّدَّةُ فِیْ خِیَانَةِ الْاُمَّةِ، اَسْرَعْتَ الْكَرَّةَ، وَ عَاجَلْتَ الْوَثْبَةَ، وَ اخْتَطَفْتَ مَا قَدَرْتَ عَلَیْهِ، مِنْ اَمْوَالِهِمُ الْمَصُوْنَةِ لِاَرَامِلِهِمْ، وَ اَیْتَامِهِمُ اخْتِطَافَ الذِّئْبِ الْاَزَلِّ، دَامِیَةَ الْمِعْزَى الْكَسِیْرَةِ، فَحَمَلْتَهٗ اِلَى الْحِجَازِ رَحِیْبَ الصَّدْرِ بِحَمْلِهٖ، غَیْرَ مُتَاَثِّمٍ مِّنْ اَخْذِهٖ، كَاَنَّكَ ـ لَاۤ اَبَا لِغَیْرِكَ ـ حَدَرْتَ اِلٰۤى اَهْلِكَ تُرَاثًا مِّنْ اَبِیْكَ وَ اُمِّكَ.
چنانچہ جب اُمت کے مال میں بھرپور خیانت کر نے کا موقع تمہیں ملا تو جھٹ سے دھاوا بول دیا اور جلدی سے کود پڑے اور جتنا بن پڑا اس مال پر جو بیواؤں اور یتیموں کیلئے محفوظ رکھا گیا تھا، یوں جھپٹ پڑے جس طرح پھرتیلا بھیڑیا زخمی اور لاچار بکری کو اُچک لیتا ہے، اور تم نے بڑے خوش خوش اسے حجاز روانہ کر دیا، اور اسے لے جانے میں گناہ کا احساس تمہارے لئے سد راہ نہ ہو ا۔خدا تمہارے دشمنوں کا برا کرے! گویا یہ تمہارے ماں باپ کا ترکہ تھا جسے لے کر تم نے اپنے گھر والوں کی طرف روانہ کر دیا۔
فَسُبْحَانَ اللّٰهِ! اَ مَا تُؤْمِنُ بِالْمَعَادِ، اَ وَ مَا تَخَافُ نِقَاشَ الْحِسَابِ؟.
اللہ اکبر !کیا تمہارا قیامت پر ایمان نہیں؟ کیا حساب کتاب کی چھان بین کا ذرا بھی ڈر نہیں؟ (10)
رعایا کے حقوق
اپنے عامل جناب مالک اشتر کو مکتوب میں لکھتے ہیں
وَلَا تَقُوْلَنَّ اِنِّیْ مُؤَمَّرٌ اٰمُرُ فَاُطَاعُ، فَاِنَّ ذٰلِكَ اِدْغَالٌ فِی الْقَلْبِ، وَ مَنْهَكَةٌ لِّلدِّیْنِ، وَ تَقَرُّبٌ مِّنَ الْغِیَرِ. وَ اِذَا اَحْدَثَ لَكَ مَاۤ اَنْتَ فِیْهِ مِنْ سُلْطَانِكَ اُبَّهَةً اَوْ مَخِیْلَةً، فَانْظُرْ اِلٰى عِظَمِ مُلْكِ اللّٰهِ فَوْقَكَ، وَقُدْرَتِهٖ مِنْكَ عَلٰى مَا لَا تَقْدِرُ عَلَیْهِ مِنْ نَفْسِكَ، فَاِنَّ ذٰلِكَ یُطَامِنُ اِلَیْكَ مِنْ طِمَاحِكَ، وَ یَكُفُّ عَنْكَ مِنْ غَرْبِكَ، وَ یَفِیْٓءُ اِلَیْكَ بِمَا عَزَبَ عَنْكَ مِنْ عَقْلِكَ.
کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں، لہٰذا میرے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہو نا چاہیے۔ کیونکہ یہ دل میں فساد پیدا کرنے، دین کو کمزور بنانے اور بربادیوں کو قریب لانے کا سبب ہے۔ اور کبھی حکومت کی وجہ سے تم میں تمکنت یا غرور پیدا ہو تو اپنے سے بالاتر اللہ کے ملک کی عظمت کو دیکھو، اور خیال کرو کہ وہ تم پر وہ قدرت رکھتا ہے کہ جو خود تم اپنے آپ پر نہیں رکھتے۔ یہ چیز تمہاری رعونت و سرکشی کو دبا دے گی، اور تمہاری طغیانی کو روک دے گی، اور تمہاری کھوئی ہوئی عقل کو پلٹا دے گی۔
وَ لْیَكُنْ اَحَبُّ الْاُمُورِ اِلَیْكَ اَوْسَطَهَا فِی الْحَقِّ، وَ اَعَمَّهَا فِی الْعَدْلِ، وَ اَجْمَعَهَا لِرِضَى الرَّعِیَّةِ، فَاِنَّ سُخْطَ الْعَامَّةِ یُجْحِفُ بِرِضَى الْخَاصَّةِ، وَ اِنَّ سُخْطَ الْخَاصَّةِ یُغْتَفَرُ مَعَ رِضَى الْعَامَّةِ.
تمہیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہیے جو حق کے اعتبار سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو، کیونکہ عوام کی ناراضگی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنا دیتی ہے، اور خواص کی ناراضگی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے نظر انداز کی جا سکتی ہے۔ (11)
اس مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہج البلاغہ میں حکومت کا مقصد عوامی رضامندی، عدل اور اجتماعی فلاح کا حصول ہے۔
حضرت علی نے ہر ایسی حکومت کی سخت تحقیر فرمائی ہے جس کا مقصد جاہ طلبی اور انسانوں پر حکمرانی کی ہوس رہی ہو۔ آپ کی کی نظر میں ان مقاصد کے زیر نظر تشکیل پانے والی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں۔
آپ نے عبداللہ بن عباس سے ایک موقع پر جب آپ اپنا جوتا ٹانک رہے تھے، فرمایا
وَ اللهِ! لَهِیَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اِمْرَتِکُمْ، اِلَّاۤ اَنْ اُقِيْمَ حَقًّا، اَوْ اَدْفَعَ بَاطِلًا.
اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے۔ (12)
جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران ، جس میں اسے پیشگی مال گزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا، یہ فرمایا۔
اِسْتَعْمِلِ الْعَدْلَ، وَ احْذَرِ الْعَسْفَ وَ الْحَیْفَ، فَاِنَّ الْعَسْفَ یَعُوْدُ بِالْجَلَآءِ، وَ الْحَیْفَ یَدْعُوْۤ اِلَى السَّیْفِ.
عدل کی روش پر چلو! بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو! کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (13)
سیاسی اختلاف اور خوارج کے ساتھ حضرت علیؑ کا طرزِ عمل
امیرالمؤمنینؑ نے خوارج کے ساتھ انتہائی درجے کی آزادی اور جمہوری طرزِ عمل اختیار کیا۔ انہیں قید نہیں کیا، ان کو کوڑے نہیں لگائے، حتیٰ کہ بیت المال سے ان کا حصہ بھی بند نہیں کیا۔ وہ ہر جگہ آزادی سے اپنے عقائد کا اظہار کرتے تھے اور حضرت علیؑ اور ان کے اصحاب ان کے نظریات کا آزادانہ جواب دیتے تھے۔ شاید دنیا میں اس قدر آزادی کی مثال کم ملتی ہے کہ کسی حکومت نے اپنے مخالفین کے ساتھ اس حد تک جمہوری رویہ اختیار کیا ہو۔ (14)
قدیم و جدید سیاسی فکر سے علوی سیاست کا بنیادی فرق
نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ کے فرامین سے جو بنیادی بات سامنے آتی ہے جو اسے دیگر سیاسی افکار سے ممتاز کرتی ہے، وہ آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے۔ حضرت علیؑ کی نظر میں حکمرانی محض اقتدار کا استعمال نہیں بلکہ ایک ایسی امانت ہے جس کے بارے میں انسان کو خدا کے حضور جواب دینا ہوگا۔
جب حکمران کے دل میں یہ احساس زندہ ہو کہ اسے اپنے اعمال کا حساب خدا کے سامنے دینا ہے تو وہ رعایا کے ساتھ عدل اور انصاف کا برتاؤ کرتا ہے۔ اسی طرح رعایا بھی ایسے حکمران کو محض ایک حاکم نہیں بلکہ ایک مربی اور راہنما سمجھتی ہے اور اس کے احکام کو اعتماد کے ساتھ قبول کرتی ہے۔ اس کے برعکس قدیم اور جدید سیاسی افکار میں اس پہلو کا فقدان ہے۔ وہاں حکمران زیادہ تر اس بات کی فکر کرتا ہے کہ دنیاوی نظم کو کیسے قائم رکھا جائے یا ریاستی طاقت کو کس طرح مضبوط بنایا جائے، مگر آخرت میں جواب دہی کا تصور نظر نہیں آتا۔
حضرت علیؑ نے ایک موقع پر اس اصول کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا
وَاللهِ! مَا مُعَاوِیَةُ بِاَدْهٰی مِنِّیْ، وَلٰكِنَّهُ یَغْدِرُ وَیَفْجُرُ، وَلَوْلَا كَرَاهِیَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ اَدْهَی النَّاسِ، وَلٰكِنْ كُلُّ غَدْرَةٍ فَجْرَةٌ، وَكُلُّ فَجْرَةٍ كَفْرَةٌ، وَلِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یُعْرَفُ بِهِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ.
ترجمہ: خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیادہ چالاک نہیں ہے، مگر وہ غداری اور بدکرداری سے باز نہیں آتا۔ اگر مجھے غداری سے نفرت نہ ہوتی تو میں لوگوں میں سب سے زیادہ زیرک ہوتا، لیکن ہر غداری گناہ ہے اور ہر گناہ خدا کی نافرمانی ہے۔ قیامت کے دن ہر غدار کے ہاتھ میں ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔ (15)
اختتامی کلمات
نہج البلاغہ معارف الہی کا موجیں مارتا سمندر ہے۔ انسانی معارف کا عظیم اوقیانوس ہے۔
شہید رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای فرماتے ہیں۔
”نہج البلاغہ جس طرح معرفت کی عظیم کتاب ہے، اسی طرح میدان عمل کی بھی نامور کتاب ہے، بالخصوص ہمارے لیے جنہوں نے کوئی بھی ذمہ داری بھی سنبھالی ہوئی ہے اور حکومت بھی چلا رہے ہیں۔ جب ہمارے ہاتھ اس طاقت سے خالی تھے تو اکثر نہج البلاغہ سے ہمارا سروکار رہتا تھا۔ ہمیں نہج البلاغہ کی عملی میدان میں ضرورت ہے اور جتنا زیادہ ہوسکے، ہمیں اس سے مستفید ہونا چاہیے“۔ (16)
حوالہ جات
[1] اسٹیٹس مین، افلاطون، ص 15-37.1[2] تاریخ سیاسی فکر، میکاولی سے گرامچی تک، اشفاق سلیم مرزا.2
[3] المفصل فی تاریخ العرب، ص 296.3
[4] رسول اکرم ص کی فکری و سیاسی زندگی، رسول جعفریان ص 196.4
[5] سورہ حدید آیت 27.5
[6] السیرہ نبویہ ، ابن ہشام جلد 2 ص 501-502، ابن کثیر جلد 2، ص 320.6
[7] نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر 120.7
[8] نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر 129.8
[9] فکر و نظر، اپریل-جون 2008، شمارہ 4، ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی یونیورسٹی ، اسلام آباد .9
[10] نہج البلاغہ ، مکتوب مکبر 41.10
[11] نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر 53.11
[12] نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر 33.12
[13] نہج البلاغہ ، حکمت ، 476.13
[14] شہید مطہری، جاذبہ دافعہ علی، ص 122.14
[15] نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر 198.15
[16] بے زبان دوست، آیت اللہ شہید علی خامنہ ای، ص 43.16




