
﷽
کلیدی کلمات: نہج البلاغہ، قوموں، عروج، زوال، اسباب
کائنات میں جو تبدلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ اسباب کے تحت ہوا کرتی ہیں مثلاً سورج اور چاند کی گردش، سیاروں کی حرکت اور دن رات کا آنا جانا یہ سب تبدلیاں قوانین الٰہی کے ماتحت ہوا کرتی ہیں اسی طرح قوموں کے عروج و زوال ،فتح و شکست ترقی اور تنزلی بھی اسباب و عوامل کے ماتحت ہوتے ہیں قرآن مجید قوموں کو ہی عروج و زوال کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہو تا ہے ”اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے“۔
تفسیرِ قرآن مجید یعنی نہج البلاغہ کا ہم جب مطالعہ کرتے ہیں تو نہج البلاغہ بھی اقوام کو ہی عروج و زوال کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ نہج البلاغہ ان نظریات پر خط بطلان کھینچتی ہے جو اقوام کے عروج و زوال کے بارے میں جبر تاریخ کے قائل ہیں۔ آئینہِ قرآن نہج البلاغہ کی روشنی میں قومیں نہ اتفاقی طورپرعروج پا سکتی ہیں اور نہ زوال اور انحاط کا شکار ہو جاتی ہیں قوموں کی کامیابی اور ناکامی کے اپنے اسباب و عوامل ہیں۔ کلام امیر المومنین نہج البلاغہ ہمارے لئے سرمایہ حیات اورسرمایہ افتحار ہے۔ زیر نظر مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں قوموں کے عروج اور زوال کے بنیادی اسباب بیان کی نشان دہی کرتا ہے۔ اتحاد و اتفاق / اختلاف و انتشار، رہبر و رہنما کی اطاعت / رہبر کی پیروی نہ کرنا، عدل کا قیام / ظلم و ستم کا راج، باہمی تعاون کرنا / باہمی تعاون سے ہاتھ ا ٹھانا اور مانت داری / خیانت کرنا۔
مقدمہ
قوموں کے عروج و زوال اسباب کےتحت ہونے یا نہ ہونے کےبارے میں اٖختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں توقرآن مجید قوموں کے عروج و زوال کے متعدد اسباب بیان کرتا ہے ان اسباب کو سنن الٰہی سے تعبیر کرتا ہے:
”لہٰذا آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے اور نہ آپ اللہ کے دستور میں کوئی انحراف پائیں گے“۔(1)
قرآن مجید قوموں کو ہی عروج و زوال کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
”اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔“(2)
2
قرآن مجید کی روشنی میں قومیں نہ خود بخود عروج پا سکتی ہیں اور نہ خود بخود زوال کا شکار ہو جاتی ہیں قوموں کی کامیابی اور ناکامی اسباب و عوامل کے ماتحت ہوتی ہے قرآن مجید اُس نظریہ کے اوپر خط بطلان کھینچتا ہے جو جبر تاریخ کے قائل ہیں عقیدہ جبر رکھنے والوں کا یہ کہنا ہیں کہ قومیں بے بس اور مجبور ہیں جن قوموں کی تقدیر میں عروج لکھ دیا گیا ہے وہی قومیں ہر حال میں ارتقا حاصل کریں گی اورجن کی تقدیر میں پستی لکھی گئی ہے وہ قومیں تنزلی وپستی کا شکار ہو جاتی ہیں گوکہ لاکھ کوشش کرے اپنے آپ کو تنزلی سےبچا نہیں سکتی ہیں۔ ابن خلدون جیسا مفکر بھی ایسا ہی نظریہ رکھتا ہے وہ کہتا ہے جیسے انسان اپنے بچپنے کو روک نہیں سکتا اپنی جوانی اور بڑھاپے کونہیں روک سکتا ہے آخرکار موت کی اغوش میں جا پہنچاتا ہے اسی طرح قوموں کےعروج و زوال بھی قوموں کے ہاتھ میں نہیں ہوتا قومیں بے بس و مجبور ہیں (3) لیکن قرآن مجید اور آئینہِ قرآن نہج البلاغہ نہ صرف جبر کے نظریہ کو باطل قرار دیتے ہیں بلکہ جن قوموں نے ترقی حاصل کی کتاب خدا اور نہج البلاغہ ان کے اسباب بھی بیان کرتے ہیں اور جو قومیں پستی کا شکار ہوئیں ان کی پستی کی وجوہات سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں اورامت مسلمہ کو ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دے رہی ہیں۔ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے پس جب ان کا مقرر وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی تاخیر ہو سکتے ہیں اور نہ جلدی۔(4) شیخ محسن نجفی اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہر قوم و ملت کے لئے عروج و زوال ہوتا ہے اور ہر عروج و زوال کے پیچھے اس کے علل و اسباب کار فرما ہوتے ہیں۔(5) یہی سنت الٰہی ہے جس کا قرآن مجید اکثر حوالہ دیا کرتا ہے: سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا
جو پہلے گزر چکے ہیں ان کے لئے بھی اللہ کی سنت یہی رہی اور اللہ کا حکم حقیقی انداز سے طے شدہ ہوتا ہے۔(6)
شیخ صاحب فرماتے ہیں: عروج و زوال کے اپنے اسباب موجود ہیں جب اس کے علل ہوں گے تو عروج وزوال آنا لازمی ہوگا لہذا عروج وزوال ان علل و اسباب سے پہلے آ سکتے ہیں اور نہ اسباب کے آنے کے بعد تاخیر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ عروج زوال طبیعی امکانات کے طور پر ہوگا طبیعی مکافات تاخیر پذیر نہیں ہوتے:(7)
قوموں کے عروج وزوال کے اسباب بیان کرنے کے لئے حضرت علیؑ کا یہی فرمان کافی ہے۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
ریاستوں کے زوال پر چار چیزوں کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے۔
اصولوں کا ضائع کرنا اور فروعات سے متمسک ہونا، پست لوگوں کو مقدم کرنا اور فاضل لوگوں کو پس پشت ڈالنا۔(8)
زیر نظر مقالہ قوموں کے عروج و زوال کےکچھ بنیادی اسباب نہج البلاغہ کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔
1۔ اتحاد و اتفاق / اختلاف و انتشار
کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ اگر ایک گھر کے افراد میں اتحاد و اتفاق نہ ہو تو وہ گھر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چونکہ ایک گھر بغیر اتحاد کے ترقی نہیں کر سکتا، اس لیے ایک قوم بھی بغیر اتحاد و اتفاق ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ حضرت علیؑ کے مطابق گزشتہ قوموں میں جو ترقی اور عروج پا چکی ہیں، اس کا سبب ان کے افراد میں یکجہتی تھی۔
حضرت علیؑ گزشتہ قوموں کے عروج کا سبب اتحاد کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اگر تم نے ان کی دونوں (اچھی بری ) حالتوں پر غور کرلیا ہے تو پھر ہراس چیز کی پابندی کرو کہ جس کی وجہ سے عزت و برتری نے ہر حال میں ان کاساتھ دیا اور دشمن ان سے دور دور رہے اور عیش و سکون کے دامن ان پرپھیل گئے اور نعمتیں سرنگوں ہو کر ان کے ساتھ ہو لیں اور عزت و سرفرازی نے اپنے بندھن ان سے جوڑ لئے۔ (وہ کیاچیز یں تھیں) یہ کہ وہ افتراق سے بچے اور اتفاق و یکجہتی پر قائم رہے“۔(9)
اسی خطبہ قاصعہ میں ایک اور جگہ اتحاد او اتفاق کے بارے ارشاد ہو رہا ہے:
”غور کرو !کہ جب ان کی جمیعتیں یک جا ،خیالات یکسو اور دل یکساں تھے او ران کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور تلواریں ایک دوسرے کی معین و مددگار تھیں اور ان کی بصیرتیں تیز اور ارادے متحد تھے ،تو اس وقت ان کا عالم کیا تھا ؟کیا وہ اطراف زمین میں فرمانروا اور دنیا والوں کی گردنوں پر حکمرا ن نہ تھے“۔(10)
جب قوم کے افراد کے درمیان اتحاد اتفاق کی فضا قائم ہو گی دنیا پر ان کو غلبہ حاصل ہوگا وہ دنیا پر حکمرانی کرتے رہیں گے دنیا کی دوسری قومیں ان کے سامنے سر تسلیم خم رہیں گی دشمن خوف زدہ رہے گا۔ اگر قوم کے افرد آپس میں دست و گریبان ہو تو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی ہے بلکہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے دوسری اقوام اس پستی کا شکار قوم پر اپنا تسلط جمائیں گے۔
آپس میں اختلاف اور انتشار کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قوم ہر میدان میں مغلوب نظر آئے گی۔ حضرت علیؑ اپنی قوم کو سابقہ قوموں کے انتشار اور افتراق سے عبرت لینے کا درس دے رہے ہیں جب وہ آپس میں تفرقہ کا شکار ہوئے تو ان کے ساتھ کیا ہوا ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
”یہ رخ بھی دیکھو کہ جب ان میں پھوٹ پڑھ گئی یکجہتی درہم برہم ہوگئی ان کی باتوں اور دلوں میں اختلاف کے شاخسانے پھوٹ نکلے اور وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے اور الگ الک جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے ،تو ان سے عزت و بزرگی کا پیراھن اتار لیا اور نعمتوں کی آسائشیں ان سے چھین لیں اور تمہارے درمیان ان کے واقعات کی حکایتیں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت بن کر رہ گئیں۔(11)
حضرت علیؑ ایک اور موقع پر اپنے لشکر کی شکست کا سبب آپس میں اختلاف اور اپنے مد مقابل کی کامیابی کا سبب اتحاد کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ وہ (مرکز) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز ) حق سے پراگندہ و منتشر“۔(12)
اسی نقطے کی طرف اشارے کرتے ہوئے مورخ عباس عقاد امام علی اور معاویہ کی حکومتوں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”معاویہ جس خطے پر حکومت کرتا تھا وہ اتحاد و اتفاق تھا جب کی جہاں حضرت علی حکومت کر رہے تھے وہ اتحاد و اتفاق کا نام و نشان نہیں تھا ہر طرف فساد ہی فساد تھا“۔(13)
2۔ رہبرو رہنما کی اطاعت اور رہبر کی پیروی نہ کرنا
جن قوموں نے الٰہی رہبر کی اطاعت کی اللہ سبحانہ نے انہیں کامیابی نصیب فرمائی کوئی قوم تب ہی ترقی کر سکتی جب وہ قوم اپنے رہبر کی اطاعت کرے گی قرآن مجید رہبر کی اطاعت کو ضروری قرار دیتا ہے:
”اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے“۔(14)
ہم جب قوم بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات معلوم ہو جاتی ہےجب قوم بنی اسرائیل نے اپنے رہبر و پیشواکی اطاعت کی اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلسل انعام فرماتے رہےجب قوم بنی اسرائیل نےاللہ کی بندگی اور اپنے ر ہبر کی اطاعت کی اللہ نے ان کو عالمی حکومت دی جو حضرت سیلمانؑ و حضرت داؤدؑ کا زمانہ ہے اس دور میں ان کو عروج ملا ہے ان کو عالمین پر فضلیت بخشی۔
”اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا اور تمہیں عالمین پر فضیلت دی۔“(15)
یہی بنی اسرائیل جن کو اللہ نے عالمی حکومت سے نوازا اور دیگر انگینت نعمتوں سے نوازا جب اپنے رہبران الٰہی کی پیروی کرنے میں سستی دکھائی تو اللہ نے ذلت و رسوائی میں مبتلا کیا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
”ان پر ذلت و محتاجی تھوپ دی گئی۔“(16)
اگر امت مسلمہ کی تاریخ خصوصاً عصر نبیؐ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روشن ہو جائے گی جتنی بھی جنگیں ہوئیں اپنے رہبر کی اطاعت کے سبب مسلمان فتح یاب ہوئے جب اطاعت کے سلسلے میں جزوی طور پر کوتاہی دکھائی بھاری نقصان اٹھانا پڑا اس کی سب سے بڑی مثال جنگ احد میں ملتی ہے جب ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی بجاوری میں سستی دکھائی تو مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہو گئی۔
قوم کا رہبر جتنا بھی تجربہ کار، شجاع اور صاحب علم کیوں نہ ہو قوم صرف اس صورت میں عروج پا سکتی ہے جب اس کی اطاعت کی جائے حضرت علیؑ ایک مقام میں اپنی فوج کی شکست کا سبب امام حق کی نافرمانی اور اہل شام کی فتح یابی کا سبب اپنے رہبر کی اطاعت کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ تم امرِ حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں“۔(17)
حضرت علیؑ کی نگاہ میں کوئی ملت صرف اسی صورت میں ترقی کر سکتی ہے جب ملت اپنے رہبر کی اطاعت کرے اور رہبر کی اطاعت نہ کرنا نہ صرف تنزلی اور انحاط کا سبب بنتا ہے بلکہ باعث حسرت و ندامت بنتا ہے۔
حضرت علیؑ کا فرمان ہے،
”تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مہربان ،با خبر اور تجربہ کار نا صح کی محالفت کا ثمرہ حسرت و ندامت ہوتا ہے“۔(18)
3۔ عدل کا قیام اور ظلم و ستم کا راج
عدل ضد ہے ظلم کی عدل کی تعریف یوں بیان کی ہے کسی چیز کو اپنے مناسب جگہ پر قرار دینا ” (19) یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عدل و انصاف کے ہی ذریعے تمام لوگوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں، یوں حقدار کو جب ان کا حق مل جاتا ہے تو معاشرہ بلندی اور ارتقا کی سمت پرواز کر جاتا ہے۔ عدل و انصاف کو اپنانے والی قومیں ہی سربلندی و سرفرازی سے ہم کنار ہوتی ہیں اور جن معاشروں میں عدل و انصاف نہیں پایا جاتا ہے وہ زوال پذیر ہوکر آخر میں تباہ و برباد سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ حضرت علیؑ بھی قوم کی ترقی کا راز عدل و انصاف کو سمجھتے ہیں اور اپنی پوری حیات عدل کے بڑے حامی رہے عدل و انصاف کے قیام کے لئے جستجو فرماتے رہے۔
حضرت علیؑ کے نزدیک عدل کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ایک جگہ فرماتے ہیں:
”خدا کی قسم اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نظر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا ہو چکا ہوتا تو اسے بھی واپس پلٹا لیتا“۔(20)
اور حضرت علیؑ ظلم اور نا انصافی کے دشمن رہیں اور ظلم کے اتنے شدید مخالف تھے،
ایک جگہ آپؑ ارشاد فرماتے ہیں:
”خدا کی قسم اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمان کے نیچے ہیں مجھے دے دیئے جایئں صرف اللہ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جو چلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا نہ کروں گا“۔(21)
یہ صرف حضرت علیؑ کا دعویٰ نہیں رہا بلکہ عملاً عدل و انصاف کو معاشرے میں رائج کرکے دکھایا۔ نفاذ عدل میں حضرت علیؑ رشتہ دار اور غیروں کے درمیان فرق روا نہیں رکھتے تھے ایک مرتبہ حضرت علیؑ کے بھائی حضرت عقیل نے بیت المال میں سے اضافی مال مانگا جو ان دونوں سخت حالات سے گزر رہے تھے حضرت علیؑ نے منع فرمایا۔ نہج البلاغہ میں یہ پوری داستان خطبہ نمبر 221 میں نقل ہوئی ہے۔ اسی طرح آپؑ کی بہن ام ہانی آپ کے پاس آئیں اور ان کو ان کا حصہ دیا گیا اور جب ایک کنیز آئی ان کو بھی حضرت ام ہانی کے برابر دیا گیا تو کہنے لگی میں خلیفہ کی بہن ہوں اور عرب ہوں یہ کنیز عرب بھی نہیں اور خلیفہ سے رشتہ داری بھی نہیں۔ اس موقع پر حضرت علیؑ نے پیارا جواب دیا :میں نے کتاب خدا میں کوئی فرق نہیں پایا۔(22)
ایک عرب شاعرہ نے حضرت علیؑ کی عدالت کے بارے کیا خوب کہا ہے:
یعنی حق کو قائم کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں کرتے اور اپنے یگانے اور بیگانے سب کے ساتھ عدل و داد سے کام لیتے ہیں۔(23)
نہ صرف یہ کی آپؑ خود عدل و انصاف کی فراہمی اور ظلم و زیادتی سے روکتے بلکہ اپنے ماتحتوں کو بھی عدل و انصاف کے ساتھ کام کرنے کی تاکید اور ظلم سے باز رہنے کی تلقین فرماتے تھے جب حضرت علیؑ نے عہد نامہ مالک اشتر میں سب سے زیادہ اہمیت لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو دی ہے۔
حضرت علیؑ تحریر فرماتے ہیں:
”تمہاری نظر میں سب سے پسندیدہ کام وہ ہونا چاہئے جو حق کے مطابق ہو جس میں عدل عمومی ہو اور زیادہ زیادہ سے رعایا کی خوشنودی کا باعث ہو“۔(24)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:
”دوست و دشمن (دونوں) کے ساتھ عدالت سے پیش آؤ“۔(25)
آپؑ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر عدالت اجراء ہوجائے تو سارے لوگ بے نیاز ہو جائیں گے اسی وجہ سے مملکت اسلامی کی بھاگ دوڑ ہاتھ میں لیتے ہی آپ کے حلق مبارک سے نکلنے والی عدالت انسانی کی صدائیں اسلامی مثالی معاشرے کی فضاؤں میں گونجنے لگی:
”اگر لوگوں کے درمیان عدالت اجراء ہوتی تو سارے لوگ ایک دوسرے سے بے نیاز ہو جاتے“۔(26)
حضرت علیؑ کی نگاہ میں اگر کسی معاشرے میں عدل کا نفاذ ہو جائے تو اس سماج کے لوگ کسی کے محتاج نہیں رہتے چونکہ یہ بات بدہی ہے کہ معاشرے کے لوگوں کے اندار پائی جانے والی غربت تنگ دستی بھوک و افلاس کا ایک بڑا سبب عدالت کا نہ پایا جانا ہے بے عدالتی کے سبب طاقت وار طبقہ کمزور طبقہ کے حقوق ظلماً کھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پورا معاشرہ انحاط کا شکار ہو جاتا ہے حضرت علیؑ اپنے کلام مبارک میں ظلم کرنے کو امتوں کی تنزلی اور ہلاکت کا سبب قرار دے رہے ہیں:
”ظلم قوموں کے ڈگمگاتا ہے اور نعمتوں کو سلب کرکے امتوں کو ہلاک کر دیتا ہے“۔(27)
4۔ باہمی تعاون کرنا اور باہمی تعاون سے ہاتھ اٹھانا
قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب قوم کے افراد ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، دکھ، درد اور مصیبت کے مواقع پر باہمی تعاون کو اپنا شعار بناتے ہیں ایسی قومیں عروج پاتی ہیں۔ لیکن جب کسی قوم کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیں، باہمی تعاون سے ہاتھ کھینچ لیں اور ذاتی مفادات کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دینے لگیں، تو وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔
مغرب کی مادی ترقی اور ملتِ مسلمہ کی تنزلی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ وہ باہمی تعاون کے اصول پر عمل پیرا ہیں، جبکہ ملتِ مسلمہ اس میدان میں سست اور کمزور نظر آتی ہے، حالانکہ امتِ مسلمہ کو تعاون اور اتحاد کے میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا۔ قرآن مجید باہمی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔
”نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو“۔(28)
قرآن پاک نے قوموں کے عروج زوال کے قانون کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔
اللہ کی یہ سنت ہے کہ جس قوم کے افراد دوسروں کے لئے نفع بخش اور سود مند نہ رہیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔(29)
حضرت علیؑ گزشتہ قوموں کے زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب باہمی تعاون نہ کرنے کو قرار دے رہے ہیں:
”اور تم ہر اس امر سے بچ کر رہو کہ جس نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ ڈالا اور قوت و توانائی کو ضعف سے بدل دیا، (اور وہ یہ تھا) کہ انہوں نے دلوں میں کینہ اور سینوں میں بغض رکھا، ایک دوسرے کی مدد سے پیٹھ پھرا لی اور باہمی تعاون سے ہاتھ اٹھا لیا“۔(30)
5۔ امانت داری / خیانت کرنا
نہج البلاغہ قوموں کے عروج کےاسباب میں سے ایک سبب امانت داری اورخیانت کو زوال کا سبب قرار دیتی ہے۔ چانچہ حضرت علیؑ اہلِ شام کی کامیابی کا سبب ان کی امانت داری کو، اور اپنی فوج کی ناکامی و شکست کا سبب خیانت کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے۔ میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔(31)
آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں ”ان کی امانت داری ان کے مخالف گروہ کے مقابلے میں فوج، سرمایہ اور امکانات پیدا کرتی ہے لیکن تمہاری خیانت ان تمام چیزوں کو برباد کرتی ہے۔ ایک ایسا گروہ جس کے پاس امکانات کا فقدان ہو اور ضرورت کے مطابق تیاری نہ ہو اس کا نتیجہ شکست کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے“۔(32)
حوالہ جات
[1] سورہ فاطر آیت 43[2] سورہ رعد آیت 11
[3] ابن خلدون عبد الرحمن، مقدمہ ابن خلدون، نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی، 1990 ج 1 ص 85
[4] سورہ اعراف 34
[5] نجفی، شیخ محسن، تفسیر الکوثر، مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور 2014 ج 3 ص 205
[6] سورہ احزاب آیت 33
[7] تفسیر الکوثر ج 3 ص 205
[8] عبد الواحد الامدی، غرر الحکم و درالکلم 7835
[9] نہج البلاغہ خطبہ 190
[10] نہج البلاغہ خطبہ 190
[11] ہج البلاغہ خطبہ 190
[12] نہج البلاغہ خطبہ 25
[13] خامنہ ای، سید علی، ڈھائی سو سالہ انسان، العرفان پبلی کیشنز کراچی پاکستان، 2003 ج سوم ص 414
[14] سورہ النساء آیت 64
[15] سورہ بقرہ آیت 47
[16] سورہ بقرہ آیت 61
[17] نہج البلاغہ خطبہ نمبر 25
[18] نہج البلاغہ خطبہ 35
[19] الاصفہانی، الراغب، مفرادت الفاظ القرآن، دار القلم دمشق حلبونی، 1994 م، ص 537
[20] نہج البلاغہ خطبہ 15
[21] نہج البلاغہ خطبہ 221
[22] ابن الحدید معتزلی، عبد الرحمن شرح نہج البلاغہ، دار الکتب بیروت 1418، ج 1 ص 251
[23] جارج جرداق، ندائے عدالت انسانی، ناشر مکتبہ الہمدانی تلہ گنگ۔ اول دسمبر 2001۔ ص 47
[24] نہج البلاغہ، مکتوب 53 عہد نامہ مالک اشتر
[25] تویسر کانی، سید حسین شیخ الاسلامی، ترجمہ نثار زینپوری، غرر الحکم در الکلم، انصاریان پبلیکیشنز قم، 2005، ج 1، ص 45
[26] كليني، محمد بن یعقوب، الكافي، زہرا اکادمی کراچی پاکستان، 2021، ج 1، ص 542
[27] قمی، سید اصغر ناظم زادہ ،تجلیات حکمت، انصاریان پبلیکشنز قم جمہوری اسلامی ایران، اول فروری سنہ 1996 ،ص 304
[28] سورہ مائدہ آیت 2
[29] چستی، حبیب اللہ ،امت مسلمہ کا عروج وزوال کے اسباب وجوہات تدارک،ضیاءالقرآن پبلی کیشنز لاہور ،اپریل 2005، ص 210
[30] نہج البلاغہ خطبہ 190
[31] نہج البلاغہ خطبہ 125
[32] مکارم شیرازی، ناصر، کلام امیر المومنین، مصباح القرآن ٹرسٹ 2016، ج 2، ص 103
منابع و مآخذ
[1] حوالہ جات[2] القران کریم
[3] نہج البلاغہ
[4] شرح نہج البلاغہ ابن الحدید معتزلی
[5] شرح کلام امیر المومنین
[6] مفردات الفاظ القرآن
[7] مقدمہ ابن خلدون
[8] تفسیر الکوثر
[9] ڈھائی سو سالہ انسان
[10] ندائے عدالت انسانی
[11] تجلیات حکمت
[12] امت مسلمہ کا عروج و زوال کے اسباب و وجوہات تدارک

