
﷽
کلیدی الفاظ (Keywords): نہج البلاغہ، تاریخ، عبرت
یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، لہٰذا گزشتہ اقوام کی تاریخ آئندہ آنے والوں کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات انسان کو فردی اور اجتماعی زندگی میں راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ عبرت یہ ہے کہ ماضی کے واقعات اور گزرے ہوئے لوگوں کے انجام سے سبق لیا جائے تاکہ ہم دنیا کی فریب کاری، غرور اور عارضی رشتوں سے محتاط رہیں۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ جو عبرت حاصل کرتا ہے، وہ بصیرت، فہم اور علم پاتا ہے اور اپنی زندگی کو صحیح راستے پر ڈالتا ہے۔ تاریخ کے عروج و زوال، بادشاہوں کی طاقت اور دولت، اور قبروں کی خاموشی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سب کچھ عارضی ہے، اصل سرمایہ نیکی اور عمل صالح ہے۔ دنیا کی چمک دمک میں نہ بہکیں بلکہ اپنی زندگی کو اعمال صالح سے روشن کریں، تاکہ موت اور زوال کے بعد بھی انسان کی قدر باقی رہے۔
عبرت حاصل کرنا یعنی ماضی کے تلخ و شیریں واقعات کو آنے والے مستقبل کا آئینہ قرار دینا عبرت حاصل کرنا ماضی کو مستقبل کے لیے مشعل راہ بنانا ،عبرت حاصل کرنا یعنی ماضی کو ایک درس سمجھنا، عربی لغت میں عبرت عبور سے نکلا ہو لفظ ہے جس کا معنیٰ کسی چیز سے گزرنا اسی لیے آنسو کو عربی میں عبرہ کہتے ہیں چونکہ آنسو آنکھوں سے نکل کر آتے ہیں اسی مناسبت سے جو حوادث و واقعات انسان کے لئے باعث نصیحت ہوں ان کو بھی عبرت کہتے ہیں۔ لسان العرب عبرت کا معنی یوں بیان کرتے ہیں؛ عبرت کا معنی ہے ماضی کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنا۔ (1)
لہذا عبرت حاصل کرنا یعنی حال سے ماضی کی طرف سفر کرنا اور تحقیق و تحلیل کے بعد اس سے نصیحت لینا۔ اپنے معاشرے کو سابقہ معاشرے سے موازنہ کرے تاکہ معاشرے میں موجود خامیوں سے اجتناب کیا جا سکے اور ان میں موجود خصوصیات کو اپنے معاشرے میں اپنا کر ایک روشن معاشرہ بنایا جا سکے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
ہو جس تاریخ میں عبرت وہی تاریخ ہے مطلوب
نہ ہو تاریخ میں عبرت تو پھر تاریخ ہی کیا ہے
عبرت حضرت علیؑ کی نگاہ میں
احادیث حضرت علیؑ میں ایسی نصحائح پائی جاتی ہیں جن پر عمل کرنے کے ذریعے انسان سعادتوں کی منزلوں پر قدم رکھ سکتا ہے انہی نصیحتوں کا ایک عنصر عبرت حاصل کرنا ہے حضرت علیؑ نے عبرت کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں
”مَا أَكْثَرَ الْعِبَرَ وَأَقَلَّ الْإِعْتِبَارَ“.(2)
نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔
النَّاصِحِ، وَ الْمُجِدِّ الْكَادِحِ، وَ اعْتَبِرُوْا بِمَا قَدْ رَاَیْتُمْ مِّنْ مَّصَارِعِ الْقُرُوْنِ قَبْلَكُمْ: قَدْ تَزَایَلَتْ اَوْصَالُهُمْ، وَ زَالَتْ اَبْصَارُهُمْ وَ اَسْمَاعُهُمْ، وَ ذَهَبَ شَرَفُهُمْ وَ عِزُّهُمْ، وَ انْقَطَعَ سُرُوْرُهُمْ وَ نَعِیْمُهُمْ فَبُدِّلُوْا بِقُرْبِ الْاَوْلَادِ فَقْدَهَا، وَ بِصُحْبَةِ الْاَزْوَاجِ مُفَارَقَتَهَا. لَا یَتَفَاخَرُوْنَ، وَ لَا یَتَنَاسَلُوْنَ، وَ لَا یَتَزَاوَرُوْنَ، وَ لَا یَتَجَاوَرُوْنَ.
اس دنیا سے اس طرح خوف کھاؤ جس طرح کوئی ڈرنے والا اور اپنے نفس کا خیر خواہ اور جانفشانی کے ساتھ کوشش کرنے والا ڈرتا ہے۔ تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کے جو گرنے کی جگہیں دیکھی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے جوڑ بند الگ الگ ہو گئے۔ نہ ان کی آنکھیں رہیں اور نہ کان۔ ان کا شرف و وقار مٹ گیا، ان کی مسرتیں اور نعمتیں جاتی رہیں اور بال بچوں کے قرب کے بجائے علیحدگی اور بیویوں سے ہم نشینی کے بجائے ان سے جدائی ہو گئی۔ اب نہ وہ فخر کرتے ہیں اور نہ ان کے اولاد ہوتی ہے، نہ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے ہمسایہ بن کر رہتے ہیں۔ (3)
دنیا سے ڈرنے کا مطلب کیا ہے؟
مولاؑ نے فرمایا
”فَاحْذَرُوْهَا حَذَرَ الشَّفِیْقِ النَّاصِحِ“.
دنیا سے ایسے ڈرو جیسے کوئی مہربان خیر خواہ ڈرتا ہے۔ (4)
یہاں ڈر کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کو چھوڑ کر جنگل میں چلے جاؤ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کو مقصد نہ سمجھو بلکہ ذریعہ سمجھو دنیا کی چمک دمک سے دھوکہ نہ کھاؤ مثال دنیا ایک خوبصورت مگر عارضی اسٹیج ہے، اصل زندگی پردہ کرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔
قبروں کی خاموش زبان سب سے بڑی عبرت
”وَ اعْتَبِرُوْا بِمَا قَدْ رَاَیْتُمْ مِّنْ مَّصَارِعِ الْقُرُوْنِ قَبْلَكُمْ“.
اپنے سے پہلے والوں کے انجام سے عبرت حاصل کرو۔
سوچیں؟ وہ لوگ جو کبھی طاقتور تھے مالدار تھے عزت والے تھے!
آج کہاں ہیں؟ امامؑ فرماتے ہیں ان کے جسم کے جوڑ بکھر گئے آنکھیں اور کان ختم ہو گئے عزت و شان مٹ گئی یہ الفاظ انسان کے غرور کو توڑ دیتے ہیں۔
گویا قبر خاموش ہو کر کہہ رہی ہے میں نے بادشاہ بھی دیکھے ہیں اور فقیر بھی انجام سب کا ایک جیسا ہے۔
محبتیں بھی ساتھ نہیں جاتیں۔
امامؑ فرماتے ہیں جو اولاد کبھی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی آج جدائی بن گئی جو بیوی ہمیشہ ساتھ تھی آج ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی یہ جملہ دل کو ہلا دیتا ہے۔
دنیا میں جن رشتوں کے لیے انسان سب کچھ کرتا ہے موت کے بعد وہی رشتے صرف یاد بن جاتے ہیں۔
یعنی جو لوگ دنیا میں کہتے تھے میں کون ہوں؟ میری کیا حیثیت ہے آج وہ مٹی میں خاموش ہیں نہ وہ فخر کرتے ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں نہ ہمسایہ بنتے ہیں قبر میں نہ کوئی عہدہ کام آتا ہے نہ کوئی طاقت نہ کوئی شہرت۔
اصل پیغام عبرت بیداری کا ذریعہ ہے
امام علیؑ ہمیں ڈرانا نہیں چاہتے بلکہ جگانا چاہتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو دھوکہ نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھوغرور چھوڑ کر عاجزی اختیار کرونیک اعمال جمع کرو کیونکہ یہی اصل سرمایہ ہیں امام علیؑ گویا ہمیں قبرستان لے جا کر کہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تمہاری طرح چلتے تھے ہنستے تھے خواب دیکھتے تھے آج یہ خاموش ہیں تم بھی ایک دن یہاں آؤ گے اس سے پہلے جاگ جاؤ۔
آپ فرماتے ہیں
”مَنِ اعتَبَرَ أبصَرَ، و من أبصَرَ فَهِم، و مَن فَهِمَ عَلِمَ“.
جو عبرت حاصل کرتا ہے وہ بصیرت کو پا لیتا ہے، جو بصیرت کو پا لیتا ہے وہ فہم و فراست کو پا لیتا ہے اور جو فہم و فراست کو پا لیتا ہے وہ عالم بن جاتا ہے۔ (5)
مولاؑ نے عبرت کو ایک کڑی بنا دیا بصیرت فراست اور عالم یہ تینوں اوصاف کو حاصل کرنے کے لیے پہلے عبرت سے سبق لینا سیکھو پہلی سیڑھی عبرت ہے کیونکہ عبرت کے ذریعے سے آپ کو اس انجام کا علم ہوتا ہے جس کا ابتدا ہمارے لیے پوشیدہ تھا۔
خود مولا اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”إنَّ الاُمورَ إذا اشتَبَهَت اعتُبِرَ آخِرُها بِأوَّلِها“.
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیئے۔ (6)
تو انجام کو دیکھنا چاہیے اور جب ہم انجام کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ایسے لوگ جن کو دیکھ کر انسان شاید یہ سوچے کہ کون ان جیسا ہوسکتا ہے ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہونے والی ہے ان کی دولت کبھی نہ ختم ہونے والی ہے ان کا اقتدار ہمیشہ رہے گا ایسے لوگ گزرے ہیں تاریخ میں انہی لوگوں کے بارے میں میرے مولا فرماتے ہیں۔
”و إنَّ لَكُم في القُرونِ السّالِفَةِ لَعِبرَةً، أينَ العَمالِقَةُ و أبناءُ العَمالِقَةِ؟! أينَ الفَراعِنَةُ وَ أبناءُ الفَراعِنَةِ؟! أينَ أصحابُ مَدائنِ الرَّسِّ الّذين قَتَلوا النَّبِيّينَ، و أطفَؤوا سُنَنَ (سِيَرَ) المُرسَلِينَ، و أحيَوا سُنَنَ الجَبّارينَ“.
تمہارے لئے گذشتہ ادوار (کے ہر دور) میں عبرتیں (ہی عبرتیں) ہیں (ذرا سوچو تو کہ) کہاں ہیں عمالقہ اور ان کے بیٹے! کہاں ہیں فرعون اور ان کی اولادیں! کہاں ہیں اصحاب الرس کے باشندے، جنہوں نے نبیوں کو قتل کیا، پیغمبروں کے روشن طریقوں کو مٹایا اور ظالموں کے طور طریقوں کو زندہ کیا۔ (7)
جب ہم فرعون کے محلّات کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو آج وہاں صرف خاموشی کی دھول اڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہی فرعون جو اپنے آپ کو خدائی کا دعویٰ کرنے والا سمجھتا تھا، جس کے دربار میں سونے کے ستون اور طاقت کے نشے میں ڈوبے ہوئے سپاہی تھے، آج اس کی سلطنت کا نام و نشان مٹی میں مل چکا ہے۔ اس کے خزانے، اس کے محلات اور اس کی شوکت و جبروت سب زمانے کی گرد میں دفن ہو گئے۔
اسی طرح جب ہم عمالقہ کے بیٹوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کبھی زمین کے طاقتور اور جابر لوگ تھے۔ ان کے قلعے بلند تھے، ان کے لشکر بے شمار تھے، اور وہ سمجھتے تھے کہ شاید ان کی حکومت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مگر آج نہ ان کے قلعے باقی ہیں نہ ان کے لشکر۔ وقت کی آندھی نے ان کی عظمت کو اس طرح مٹا دیا کہ گویا وہ کبھی اس دنیا میں تھے ہی نہیں۔
اور جب اصحابُ الرَّس کے باشندوں کا تذکرہ سامنے آتا ہے تو دل اور بھی عبرت سے بھر جاتا ہے۔ وہ قوم بھی اپنی سرزمین میں طاقت، دولت اور آسائش کے غرور میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انہیں گمان تھا کہ ان کا اقتدار کبھی ختم نہیں ہوگا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ کے صفحات ان پر بند ہو گئے۔ آج وہ سب خاک میں سو رہے ہیں، ان کے محلات کھنڈر بن چکے ہیں اور ان کی دولت کا کوئی وارث بھی باقی نہیں۔
یہ سب منظر انسان کو ایک گہرا پیغام دیتے ہیں کہ دنیا کی طاقت، دولت اور حکومت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ کل جو لوگ تخت و تاج کے مالک تھے آج وہی مٹی کے نیچے بے نام و نشان پڑے ہیں۔ ان کے محلات ویران ہیں، ان کے خزانے بکھر چکے ہیں اور ان کی سلطنتوں کی گونج صرف تاریخ کے صفحات میں رہ گئی ہے۔
شاید مولا اسی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”واعتَبِروا بِما قَد رَأيتُم مِن مَصارِعِ القُرون قَبلَكُم، قَد تَزايَلَت أوصالُهُم، و زالَـت أبصارُهُم و أسماعُهُم، و ذَهَبَ شَرَفُهُم و عِزُّهُم، و انقَطَعَ سُرورُهُم و نَعيمُهُم“.
تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کے گرنے کی جو جگہیں دیکھی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے جوڑ بند الگ الگ ہوگئے، نہ ان کی آنکھیں رہیں اور نہ کان۔ ان کا شرف و وقار مٹ گیا اور ان کی مسرتیں اور نعمتیں جاتی رہیں۔ (8)
پس ان گزرے ہوئے زمانوں سے عبرت حاصل کرنا چاہیے یہ دنیا ایک سرائے ہے، یہاں نہ اقتدار ہمیشہ رہتا ہے نہ دولت۔ باقی رہنے والی صرف نیکی، عدل اور خدا کی اطاعت ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں وہی تاریخ میں عزت کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں، اور جو غرور میں ڈوب جاتے ہیں وہ فرعون، عمالقہ اور اصحاب الرس کی طرح زمانے کی خاک میں گم ہو جاتے ہیں۔
اور کس چیز سے عبرت حاصل کریں؟ مولا فرماتے ہیں
”فاعتَبِروا بِحال وُلْدِ إسماعيلَ و بَني إسحاقَ و بَني إسرائيلَ:، فما أشَدَّ اعتِدالَ الأحوالِ، و أقرَبَ اشتِباهَ الأمثالِ“.
اے اسماعیلؑ کی اولاد! اسحاقؑ کے فرزندوں اور یعقوب کے بیٹوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو۔ یہ حالات کتنے ملتے ہوئے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں۔ (9)
اے اسماعیلؑ کی اولاد اسحاقؑ کے فرزندوں اور یعقوبؑ کے بیٹوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو ذرا تاریخ کے اوراق کو کھول کر دیکھو ان کے زمانوں پر نظر ڈالو ان کے عروج و زوال کے قصوں کو پڑھو اور پھر اپنے حال پر غور کرو حقیقت یہ ہے کہ زمانے بدل جاتے ہیں مگر انسانوں کے کردار اور ان کے انجام اکثر ایک جیسے ہوتے ہیں۔
بنی اسرائیل کبھی اللہ کے محبوب بندے کہلاتے تھے۔ ان پر انبیاء نازل ہوئے انہیں کتابیں عطا ہوئیں ان کے درمیان موسیٰؑ، ہارونؑ، داودؑ اور سلیمانؑ جیسے عظیم پیغمبر آئے اللہ نے انہیں عزت بخشی، دشمنوں پر غلبہ دیا اور انہیں نعمتوں سے نوازا مگر جب وہ غرور، نافرمانی اور اختلاف میں مبتلا ہو گئے، جب انہوں نے حق کو چھوڑ کر دنیا کی محبت کو اختیار کیا، تو وہی قوم جو کبھی سربلند تھی ذلت و رسوائی کا شکار ہو گئی۔ ان کی طاقت بکھر گئی، ان کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی اور وہ تاریخ کی عبرت بن کر رہ گئے۔
پس اے اسماعیلؑ کی اولاد! تم بھی انہی راستوں پر چلنے والے انسان ہو، تمہاری سرزمین بھی اسی دنیا کا حصہ ہے اور تمہاری آزمائشیں بھی وہی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں کی تھیں۔ ان کے حالات کو دیکھو اور سمجھو کہ جب قومیں اتحاد، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کو اختیار کرتی ہیں تو اللہ انہیں عزت دیتا ہے، اور جب وہ ظلم، غرور اور اختلاف میں پڑ جاتی ہیں تو ان کی عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اس خطبے میں انسان کو متوجہ کرتے ہیں کہ تاریخ محض قصہ نہیں بلکہ آئینہ ہے۔ اس میں ہم اپنے ماضی اور مستقبل دونوں کو دیکھ سکتے ہیں بنی اسرائیل کے حالات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ طاقت اور عزت ہمیشہ باقی نہیں رہتیں، بلکہ وہ قوموں کے کردار کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔
لہٰذا اے اولادِ اسماعیلؑ! ان گزرے ہوئے زمانوں کے واقعات سے سبق حاصل کرو، ان کے انجام کو اپنے سامنے رکھو اور اس بات کو یاد رکھو کہ قوموں کی تقدیر ان کے اعمال سے بدلتی ہے۔ اگر وہ عدل، تقویٰ اور اتحاد کو اپنائیں تو بلندی ان کا مقدر بنتی ہے، اور اگر غرور، ظلم اور نافرمانی میں ڈوب جائیں تو تاریخ انہیں بھی اسی طرح مٹا دیتی ہے جیسے اس سے پہلے بہت سی قومیں مٹ چکی ہیں۔
اگر ہم دستہ ادب جوڑ کر مولا سے پوچھے کہ کس چیز سے عبرت حاصل کریں؟
تو مولا اسی نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں
”فاعتَبِروا بِنُزولِكُم مَنازِلَ مَن كانَ قَبلَكُم، و انقِطاعِكُم عَن أوصَلِ (أصلِ ـ أهلِ) إخوانِكُم“.
جن مکانات میں اگلے لوگ آباد تھے ان میں اب تم مقیم ہوتے ہو اور قریب سے قریب تر بھائی گزر جاتے اور تم رہ جاتے ہو، اس سے عبرت حاصل کرو۔ (10)
جن مکانات میں اگلے لوگ آباد تھے آج انہی گھروں میں تم رہتے ہو اور کل یہی گھر کسی اور کے نصیب میں ہوں گے یہ دنیا ایک مسلسل بدلتا ہوا منظر ہے یہاں رہنے والے بدل جاتے ہیں مگر دیواریں وہی رہتی ہیں در و دیوار خاموش گواہ بن کر زمانے کے گزرنے کی کہانی سناتے رہتے ہیں۔ کل انہی کمروں میں کسی اور کی ہنسی گونجتی تھی، کسی اور کے قدموں کی آہٹ تھی، کسی اور کے خواب بسے ہوئے تھے۔ وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ یہ گھر، یہ سامان اور یہ زندگی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب رخصت ہو گئے اور ان کی جگہ تم آ بسے۔
انسان جب اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر ذرا گہرائی سے سوچے تو اسے محسوس ہوگا کہ یہ مکان محض اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ گزرے ہوئے زمانوں کی ایک خاموش داستان ہے کتنے لوگ یہاں ہنسے ہوں گے کتنے لوگ روئے ہوں گے کتنی امیدیں یہاں پروان چڑھی ہوں گی اور کتنے خواب یہاں ٹوٹ کر بکھر گئے ہوں گے۔ مگر آج وہ سب کہیں نہیں ہیں صرف ان کے آثار باقی ہیں اور ان کی یادیں تاریخ کے دھندلکے میں گم ہو چکی ہیں۔
اور پھر انسان اپنے اردگرد نظر ڈالتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے اپنے عزیز و اقارب بھی ایک ایک کر کے اس دنیا سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی بھائی کوئی دوست کوئی قریبی رشتہ دار آج ہے اور کل اس دنیا میں نہیں رہتا جنازے اٹھتے ہیں قبریں بنتی ہیں اور زندگی کا قافلہ آگے بڑھتا رہتا ہے انسان پیچھے رہ جاتا ہے مگر زیادہ دیر نہیں ایک دن اس کی باری بھی آتی ہے اور وہ بھی اسی خاموش سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف امیرالمؤمنین حضرت علیؑ متوجہ کرتے ہیں کہ انسان اس دنیا کے فریب میں نہ پڑے جو گھر آج تمہارے ہیں وہ کل کسی اور کے ہوں گے جو رشتے آج تمہارے ساتھ ہیں وہ بھی ایک دن جدا ہو جائیں گے اس لیے عقل مند وہ ہے جو اس بدلتی ہوئی دنیا سے عبرت حاصل کرے اپنے دل کو غرور اور غفلت سے پاک رکھے اور اپنی زندگی کو ایسے اعمال سے آراستہ کرے جو اس کے ساتھ ہمیشہ باقی رہیں۔
آخری مولا علی علیہ السلام کے ان اقوال میں عبرت کے بارے میں اتنا زور دینا کس لیے؟ آخر عبرت کا ثمر کیا ہے فائدہ کیا ہے؟ عبرت کے ثمر کو بھی خود مولا علیؑ کے اقوال مبارکہ سے جانتے ہیں مولا فرماتے ہیں:
”مَن تَبَيَّنَت لَهُ الحِكمَةُ عَرَفَ العِبرَةَ، و مَن عَرَفَ العِبرَةَ فكأنَّما كانَ في الأوَّلينَ“.
جس کے لئے علم و عمل آشکارا ہو جائے وہ عبرت سے آشنا ہوگا، جو عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو۔ (11)
اس حکمت کے ذریعے مولا نے انسان کو ایک گہرا اور بامعنی درس دیا ہے۔ جب انسان کے سامنے علم روشن ہو جاتا ہے اور وہ اس علم کو عمل کے ساتھ جوڑ دیتا ہے تو اس کے دل کی آنکھ کھل جاتی ہے پھر وہ صرف واقعات کو سنتا یا پڑھتا نہیں بلکہ ان کے اندر چھپے ہوئے پیغام کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی نظر سطحی چیزوں سے آگے بڑھ کر حقیقت تک پہنچ جاتی ہے۔
ایسا انسان جب تاریخ کے اوراق پڑھتا ہے، جب گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو دیکھتا ہے، جب بادشاہوں کے عروج و زوال اور قوموں کے بننے اور بکھرنے کی داستانیں سنتا ہے تو وہ انہیں محض قصے کہانیاں نہیں سمجھتا بلکہ ان سے عبرت اور سبق حاصل کرتا ہے اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جو کچھ پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا وہی اصول آج بھی انسانوں پر لاگو ہوتے ہیں۔
اسی لیے حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص عبرت سے آشنا ہو جاتا ہے وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں کے درمیان موجود رہا ہو۔ گویا اس نے اپنی آنکھوں سے ان کے حالات دیکھے ہوں، ان کے انجام کو محسوس کیا ہو اور ان کے تجربات سے سیکھ لیا ہو۔ تاریخ اس کے لیے زندہ حقیقت بن جاتی ہے اور وہ دوسروں کی لغزشوں سے سبق لے کر اپنے راستے کو درست کر لیتا ہے۔
یہی اصل دانائی ہے کہ انسان ہر چیز خود آزما کر نہ سیکھے بلکہ دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ زندگی کے نشیب و فراز میں بھٹکتا نہیں، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ غرور کا انجام زوال ہے، ظلم کا نتیجہ تباہی ہے اور تقویٰ و عدل کا راستہ عزت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
کیونکہ خود مولا فرماتے ہیں
”إنَّ من صَرَّحَت لَهُ العِبَرُ عَمّا بَينَ يَدَيهِ مِنَ المَثُلاتِ، حَجَزَتهُ التَّقوى عَن تَقَحُّمِ الشُّبُهاتِ“.
جس شخص کو اس کے دیدۂ عبرت نے گذشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں تقویٰ اسے شہبات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔ (12)
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے ان کلمات کا حاصل یہ ہے کہ جب انسان دیدۂ عبرت سے تاریخ اور گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے حقیقتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا کی طاقت دولت اور اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے فرعون کی سلطنت عمالقہ کی قوت، اصحابِ الرس کی آبادیاں اور بنی اسرائیل کے عروج و زوال جیسے واقعات انسان کو یہی سبق دیتے ہیں کہ جو قومیں غرور نافرمانی اور خواہشات کی پیروی میں ڈوب جاتی ہیں وہ آخرکار زوال اور عذاب کا شکار ہو جاتی ہیں۔
جب انسان ان انجاموں کو دل کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے تو اس کے اندر تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے یہی تقویٰ اسے اس بات سے روکتا ہے کہ وہ خواہشات اور شہوات کے پیچھے اندھا دھند دوڑ پڑے اسے احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی صرف چند لمحوں کی مہلت ہے اور جو گھر آج ہمارے ہیں وہ کل کسی اور کے ہو جائیں گے جیسے ہم آج ان گھروں میں رہ رہے ہیں جن میں کبھی دوسرے لوگ آباد تھے۔
اس طرح عبرت انسان کو شعور دیتی ہے شعور انسان کو تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے اور تقویٰ انسان کو گناہ اور غفلت کے راستے سے بچا لیتا ہے گویا جو شخص تاریخ کے انجاموں سے سبق حاصل کر لیتا ہے وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس نے خود پچھلی قوموں کے حالات دیکھے ہوں اور اسی تجربے کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کو درست راستے پر قائم رکھتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ عبرت کی نگاہ انسان کے لیے ہدایت کا چراغ ہے۔ جو شخص اس چراغ کی روشنی میں زندگی گزارتا ہے وہ دنیا کے فریب میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ تقویٰ اور بصیرت کے ساتھ اپنا راستہ اختیار کرتا ہے اور یہی راستہ انسان کو تباہی سے بچا کر کامیابی اور نجات کی طرف لے جاتا ہے۔
حوالہ جات
[1] ابن منظور ،لسان العرب، ناشر بیروت 1414ھ ،ج 4 ص 531[2] بحار الانوار، مجلسی محمد باقر مؤسسة الوفاء، بیروت، 1403ھ / 1983ء، جلد 71، صفحہ 327، نہج البلاغہ حکمت 297
[3] نہج البلاغہ خطبہ 159
[4] نہج البلاغہ خطبہ 159
[5] مجلسی، محمد باقر، بحار الانوارناشر موسسه وفا 1403ھ، ج 74 ص 327، نہج البلاغہ، حکمت 153
[6] نہج البلاغہ، حکمت 76
[7] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم، دار إحياء الكتب العربية، قاہرہ، 1378ھ (1959ء)، ج 10، ص 92 نہج البلاغہ، خطبہ 182
[8] نہج البلاغہ، خطبہ 16
[9] نہج البلاغہ، خطبہ 192
[10] نہج البلاغہ، مکتوب 117
[11] نہج البلاغہ، حکمت 31
[12] نہج البلاغہ، خطبہ 16
SEO Keywords
عبرت حاصل کرنا
تاریخ سے سبق حاصل کرنا
ماضی کے واقعات سے نصیحت
حضرت علیؑ کے اقوال
دنیا کی بے ثباتی
اعمال صالح کی اہمیت
مقالہ نگار: مظاہر حسین سفیر
طالب علم حوزہ امام خمینی کراچی
بی ایس ایجوکیشن اردو یونی و رسٹی کراچی




