مقالات

نہج البلاغہ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب

مقالہ نگار: عباس رضا

﷽

چکیدہ

زیرِ نظر مقالہ ”نہج البلاغہ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب“ کے موضوع پر ایک تحقیقی اور تجزیاتی کاوش ہے۔ اس مقالے کا بنیادی مقصد امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے افکار کی روشنی میں ان محرکات کی نشاندہی کرنا ہے جو کسی بھی معاشرے یا ریاست کی بقاء یا تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ مقالے میں نہج البلاغہ کے مشہور ”خطبہ قاصعہ“ اور ”عہد نامہ مالک اشترؒ“ کو بنیادی مآخذ بنایا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ظلم، تکبر، قانون شکنی اور معاشی ناہمواری قوموں کے زوال کا حتمی سبب ہیں، جبکہ عدلِ خالص، قانون کی بالادستی، احتساب، اور نوجوانوں کی فکری تربیت عروج کی ضمانت ہیں۔ آخر میں عصرِ حاضر کے عالمی اور ریاستی (خصوصاً پاکستان کے) بحرانوں کا نہج البلاغہ کی روشنی میں تطبیقی مطالعہ پیش کیا گیا ہے تاکہ دورِ حاضر کے مسائل کا عملی حل تلاش کیا جا سکے۔

کلیدی الفاظ: نہج البلاغہ، قوموں کا عروج و زوال، طرزِ حکمرانی، عہد نامہ مالک اشترؒ، طبقاتی تقسیم، عدل و انصاف، سماجی زوال، گڈ گورننس۔

مقدمہ

انسانی تاریخ محض گزرے ہوئے زمانوں اور بادشاہوں کے قصوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے جس میں قوانینِ قدرت (سننِ الٰہیہ) مسلسل اپنا عمل دہرا رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کا عمیق مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ قومیں اچانک نہ تو بامِ عروج پر پہنچتی ہیں اور نہ ہی راتوں رات صفحہ ہستی سے مٹتی ہیں۔ ان کے عروج کے پسِ پردہ ٹھوس سماجی، اخلاقی اور معاشی اصول کار فرما ہوتے ہیں، اور ان کے زوال کی بنیادوں میں ظلم، ناانصافی اور غفلت کا دیمک شامل ہوتا ہے۔

قوموں اور تہذیبوں کے اسبابِ زوال پر جدید عمرانیات کے بانی ابن خلدون نے اپنے مشہور ”مقدمہ“ میں اور جدید مغربی مفکرین جیسے آرنلڈ ٹوئن بی نے اپنی معرکہ آراء کتاب ”A Study of History“ (تاریخ کا مطالعہ) میں گہری بحث کی ہے۔ لیکن جب ہم اسلامی تفکر کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو چوتھی صدی ہجری میں سید رضیؒ کے مرتب کردہ کلامِ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام، یعنی ”نہج البلاغہ“ میں ہمیں وہ سیاسی، روحانی اور سماجی بصیرت ملتی ہے جو دنیا کے مروجہ فلسفوں میں ناپید ہے۔ نہج البلاغہ محض ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ فصاحت و بلاغت، ریاست سازی، طرزِ حکمرانی اور انسانی نفسیات کا ایک ابدی انسائیکلوپیڈیا ہے۔

امام علیؑ کے خطبات، خصوصاً ”خطبہ قاصعہ“ اور گورنروں کے نام لکھے گئے خطوط (بالخصوص مکتوب 53، عہد نامہ مالک اشترؒ) دراصل انہی آفاقی قوانین کی تشریح ہیں جو بتاتے ہیں کہ قومیں کیوں اٹھتی ہیں اور کیوں گرتی ہیں۔ ہم آج ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی اپنے عروج پر ہے مگر اخلاقی اور سماجی اعتبار سے قومیں تیزی سے زوال پذیر ہیں۔ ایسے میں عصرِ حاضر کے بحرانوں کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے نہج البلاغہ کے اصولوں کا تحقیقی مطالعہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں عروج و زوال کے ابدی اصول

چونکہ نہج البلاغہ کا ہر لفظ قرآنِ مجید کے احکامات کی عملی تفسیر ہے، اس لیے نہج البلاغہ کے افکار کو سمجھنے سے قبل قرآن کے اس فلسفے کو سمجھنا ضروری ہے جسے ”سنتِ الٰہیہ“ کہا جاتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ قوموں کی موت و حیات کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ الٰہی قوانین کے تابع ہے۔

1- باطنی اور فکری تبدیلی (انقلابِ درون):

قرآنِ مجید قوموں کی ترقی اور زوال کا کلی انحصار خود انسان کی اندرونی کیفیت پر رکھتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾
ترجمہ: ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو (اپنی سوچ اور عمل کو) نہ بدل لیں“۔

2- ظلم تباہی کا پیش خیمہ:

ظلم چاہے انفرادی ہو یا ریاستی، وہ معاشرے کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔

قرآنِ مجید سابقہ اقوام کے زوال کی وجہ ان کا معاشی اور سماجی ظلم بتاتا ہے:
﴿فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا﴾
ترجمہ: ”پس کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں، تو وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں۔“

3- نعمتوں کی ناقدری اور کفرانِ نعمت:

جب قومیں وسائل کا منصفانہ استعمال ترک کر دیتی ہیں اور شکر کے بجائے تکبر اختیار کرتی ہیں، تو زوال شروع ہوتا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾
ترجمہ: ”یہ اس لیے کہ اللہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو، نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہ بدل لے“۔

نہج البلاغہ میں قوموں کے زوال کے بنیادی اسباب
امیر المؤمنین علیہ السلام نے قوموں کی ہلاکت اور زوال کے جو اسباب بیان فرمائے ہیں، وہ آج کے جدید پولیٹیکل سائنس کے نظریات سے کہیں زیادہ جامع ہیں۔ آپؑ کی نظر میں زوال کے اہم ترین اسباب درج ذیل ہیں:

1- ظلم، ناانصافی اور حقوق العباد کی پامالی

نہج البلاغہ کی رو سے کسی بھی سلطنت کے زوال کا سب سے پہلا اور بڑا سبب حکمرانوں کا اپنی رعایا پر ظلم کرنا ہے۔ جب ریاست معاشرے کے کمزور طبقے کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

امام علیؑ نے مصر کے گورنر مالک اشترؒ کے نام اپنے تاریخی عہد نامے (مکتوب 53) میں اس اصول کو انتہائی صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
”وَلَيْسَ شَيْءٌ أَدْعَى إِلَى تَغْيِيرِ نِعْمَةِ اللّٰهِ وَتَعْجِيلِ نِقْمَتِهِ، مِنْ إِقَامَةٍ عَلَى ظُلْمٍ، فَإِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ دَعْوَةَ الْمُضْطَهَدِينَ، وَهُوَ لِلظَّالِمِينَ بِالْمِرْصَادِ“.
ترجمہ: ”اور کوئی چیز اللہ کی نعمتوں کو زائل کرنے اور اس کے عذاب کو جلد بلانے میں ظلم پر قائم رہنے سے بڑھ کر نہیں ہے، کیونکہ اللہ مظلوموں کی فریاد سننے والا اور ظالموں کی گھات میں ہے“۔

جدید دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ فرانسیسی انقلاب ہو یا روس کا بالشویک انقلاب، ان سب کے پیچھے حکمران طبقے کا وہ ظلم کارفرما تھا جس نے عوام کو بغاوت پر مجبور کیا۔ جہاں عدل کا گلا گھونٹ دیا جائے، وہ قومیں اندر سے مر جاتی ہیں۔

2- تکبر، عصبیت اور نسلی تفاخر (خطبہ قاصعہ کی روشنی میں)

نہج البلاغہ میں قوموں کے عروج و زوال پر سب سے طویل، جامع اور لرزہ خیز خطبہ ”خطبہ قاصعہ“ (خطبہ نمبر 192) ہے۔ اس خطبے میں امام علیؑ نے زوال کا ایک ایسا نفسیاتی اور سماجی سبب بیان کیا ہے جس نے آج تک انسانیت کو خون میں نہلا رکھا ہے، اور وہ ہے ”عصبیت“ اور ”تکبر“۔

امامؑ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح تکبر نے ابلیس کی ہزاروں سالہ عبادت کو برباد کیا، اور کس طرح یہی نسلی اور خاندانی غرور بڑی بڑی قوموں کو لے ڈوبا۔

آپؑ فرماتے ہیں:
”فَاعْتَبِرُوا بِمَا كَانَ مِنْ فِعْلِ اللّٰهِ بِإِبْلِيسَ… فَاحْذَرُوا عِبَادَ اللّٰهِ عَدُوَّ اللّٰهِ أَنْ يُعْدِيَكُمْ بِدَائِهِ، وَأَنْ يَسْتَفِزَّكُمْ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ“.
ترجمہ: ”پس عبرت حاصل کرو اس سلوک سے جو اللہ نے ابلیس کے ساتھ کیا… اے اللہ کے بندو! اللہ کے اس دشمن سے ڈرو کہ کہیں وہ تمہیں بھی اپنی (تکبر کی) بیماری میں مبتلا نہ کر دے، اور اپنے پیادوں اور سواروں کے ذریعے تمہیں اکسا نہ دے“۔

”عصرِ حاضر کی سیاسی تاریخ میں اگر ہم ہٹلر کے جرمنی (نازی ازم) یا مسولینی کے اٹلی (فاشزم) کا تنقیدی جائزہ لیں، تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم نے خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھا (جسے امام علیؑ عصبیت کا نام دیتے ہیں)، تو اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہ ہوا“۔

3- قانون شکنی اور بدعنوانی (فساد فی الارض)

جب معاشرے میں قانون کا احترام ختم ہو جائے اور مقتدر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے، تو وہ ریاست کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

امام علیؑ نے فرمایا:
”الْفَسَادُ أَسَاسُ الضَّعْفِ“. (نہج البلاغہ کے کلماتِ قصار کی تشریح میں وارد ہوا ہے)
ترجمہ: ”فساد (قانون شکنی اور بدعنوانی) قوم کو کمزور کر دیتا ہے“۔

جب ریاستی اہلکار ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے لگیں، اور کرپشن کو ادارہ جاتی شکل مل جائے تو قوم کی توانائیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ آج کی عالمی رپورٹس بھی یہی بتاتی ہیں کہ جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہے، وہ معاشی اور سماجی طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں

4- معاشی ناہمواری اور طبقاتی تقسیم (اقتصادی استحصال)

کسی بھی ریاست کے زوال کی ایک بہت بڑی وجہ دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا ہے۔ جب معاشرے کا ایک طبقہ عیش و عشرت میں ڈوب جائے اور دوسرا طبقہ بنیادی ضرورتوں کو ترسے، تو وہ قوم بغاوت اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ جدید ماہرینِ عمرانیات اور کارل مارکس جیسے مفکرین نے انیسویں صدی میں جس طبقاتی کشمکش کو معاشرے کی تباہی کا سبب قرار دیا، امیر المؤمنین علیہ السلام نے صدیوں پہلے اس کی جڑ پکڑ لی تھی۔

آپؑ نے واضح فرمایا کہ غریب کا فاقہ امیر کی ہوس کا نتیجہ ہے
”إِنَّ اللّٰهَ سُبْحَانَهُ فَرَضَ فِي أَمْوَالِ الْأَغْنِيَاءِ أَقْوَاتَ الْفُقَرَاءِ، فَمَا جَاعَ فَقِيرٌ إِلَّا بِمَا مُتِّعَ بِهِ غَنِيٌّ، وَاللّٰهُ تَعَالَى سَائِلُهُمْ عَنْ ذٰلِكَ“.
ترجمہ: ”بے شک اللہ سبحانہ نے مالداروں کے اموال میں غریبوں کی روزی مقرر کر دی ہے۔ پس کوئی غریب بھوکا نہیں رہتا مگر اس وجہ سے کہ امیر نے اس کے حصے سے فائدہ اٹھا لیا ہے، اور اللہ تعالیٰ ان مالداروں سے اس بارے میں باز پرس کرنے والا ہے“۔

یہ ایک مسلمہ تحقیقی اصول ہے کہ معاشی ناانصافی جرائم کو جنم دیتی ہے، اور جرائم ریاست کی رٹ کو ختم کر کے قوم کو زوال کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

نہج البلاغہ میں قوموں کے عروج اور بقاء کے اسباب

تخریب کے اسباب بیان کرنے کے بعد، نہج البلاغہ ایک مضبوط، مستحکم اور فلاحی ریاست کی تعمیر کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔ امیر المؤمنینؑ کے فرامین کی روشنی میں جو قومیں درج ذیل اصولوں کو اپنا لیتی ہیں، وہ عروج اور پائیدار ترقی حاصل کرتی ہیں، چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ (جیسا کہ جدید فلاحی ریاستیں مثلاً سکینڈے نیوین ممالک کا ماڈل)۔

1- عدلِ خالص کا قیام اور قانون کی یکساں بالادستی

عروج پانے والی قوموں کا پہلا اور سب سے اہم ستون عدل ہے۔ امیر المؤمنینؑ کی نظر میں حکمران کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ معاشرے میں ایسا انصاف قائم کرے جو سب کے لیے یکساں ہو۔ مالک اشترؒ کو مصر کا گورنر بناتے وقت آپؑ نے انہیں جو ہدایات دیں، وہ آج بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے کہیں زیادہ جامع ہیں۔

آپؑ نے فرمایا:
”وَلْيَكُنْ أَحَبَّ الْأُمُورِ إِلَيْكَ أَوْسَطُهَا فِي الْحَقِّ، وَأَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ، وَأَجْمَعَهَا لِرِضَى الرَّعِيَّةِ“.
ترجمہ: ”اور تمہارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام وہ ہونا چاہیے جو حق کے اعتبار سے درمیانہ، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل ہونے والا (عام)، اور رعایا کی رضامندی کا سب سے زیادہ باعث ہو“۔

اس تحقیقی جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ریاست کا کوئی قانون کسی خاص اشرافیہ کے حق میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ”أَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ“ (سب کے لیے عام انصاف) ہونا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب امام علیؑ کی اپنی زرہ چوری ہوئی، تو خلیفۃ المسلمین ہونے کے باوجود آپؑ ایک عام شہری کی طرح قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئے اور قانون کی بالادستی کا عملی ثبوت دیا۔ جس قوم کا نظامِ انصاف ایسا ہو، وہ کبھی زوال کا شکار نہیں ہو سکتی۔

2- اہلیت کی بنیاد پر حکام کا تقرر

اقوام کا عروج اس بات پر منحصر ہے کہ ریاست کی ذمہ داریاں کس کے سپرد کی جا رہی ہیں۔ اگر اقربا پروری ،رشوت یا ذاتی پسند کی بنیاد پر نااہل لوگوں کو عہدے دے دیے جائیں، تو ادارے تباہ ہو جاتے ہیں اور ادارے تباہ ہونے سے قومیں گر جاتی ہیں۔ جدید گورننس کا پہلا اصول ”میرٹ“ ہے۔ نہج البلاغہ نے چودہ سو سال قبل میرٹ کا جو معیار مقرر کیا، وہ آج کی ہر مہذب ریاست کا نصب العین ہے۔

عہد نامہ مالک اشتر میں واضح ہدایت ہے:
”ثُمَّ انْظُرْ فِي أُمُورِ عُمَّالِكَ فَاسْتَعْمِلْهُمُ اخْتِبَاراً، وَلَا تُوَلِّهِمْ مُحَابَاةً وَأَثَرَةً، فَإِنَّهُمَا جِمَاعٌ مِنْ شُعَبِ الْجَوْرِ وَالْخِيَانَةِ“.
ترجمہ: ”پھر اپنے عمال (سرکاری افسران) کے معاملات پر نظر رکھو، اور انہیں آزما کر (ان کی اہلیت جانچ کر) عہدوں پر مقرر کرو۔ اور محض اپنی رعایت اور طرف داری کی بنا پر انہیں مقرر نہ کرو، کیونکہ یہ دونوں باتیں ظلم اور خیانت کا مجموعہ ہیں“۔

یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ”محاباہ“ (اقربا پروری) کو امام علیؑ نے قومی خیانت قرار دیا ہے۔ کامیاب قومیں ہمیشہ عہدوں کو امانت سمجھتی ہیں اور انہیں صرف اہل افراد کے حوالے کرتی ہیں۔

3- مستحکم معیشت اور عوام دوست ٹیکس کا نظام

کوئی بھی قوم اس وقت تک سپر پاور یا عروج کی حالت میں نہیں رہ سکتی جب تک اس کی معیشت مستحکم نہ ہو۔ امام علیؑ نے معاشی استحکام کا ایک انتہائی سائنسی اصول پیش کیا ہے۔ آپؑ کے نزدیک ریاست کا کام صرف ٹیکس (خراج) اکٹھا کرنا نہیں، بلکہ زمین کو آباد کرنا اور معیشت کا پہیہ چلانا ہے۔ اگر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا جائے اور معاشی ترقی نہ ہو، تو ریاست تباہ ہو جاتی ہے۔

اس حوالے سے آپؑ کی دور اندیشی ملاحظہ فرمائیں:
”وَتَفَقَّدْ أَمْرَ الْخَرَاجِ بِمَا يُصْلِحُ أَهْلَهُ… وَلْيَكُنْ نَظَرُكَ فِي عِمَارَةِ الْأَرْضِ أَبْلَغَ مِنْ نَظَرِكَ فِي اسْتِجْلَابِ الْخَرَاجِ، لِأَنَّ ذٰلِكَ لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالْعِمَارَةِ“.
ترجمہ: ”اور خراج (ٹیکس) کے معاملے کی اس طرح دیکھ بھال کرو جس میں خراج دینے والوں کی بہتری ہو… اور تمہاری نظر خراج وصول کرنے سے زیادہ زمین کی آبادی (اور پیداوار بڑھانے) پر ہونی چاہیے، اس لیے کہ خراج زمین کو آباد کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا“۔

جدید اکنامک تھیوری میں اسے کہا جاتا ہے، یعنی ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے روزگار اور پیداوار بڑھائی جائے تاکہ لوگ خوشحالی سے ٹیکس دے سکیں۔ جو قومیں اس اصول پر چلتی ہیں، ان کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہوتا، اور جو صرف نچوڑنے کی پالیسی اپناتی ہیں، وہ زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔

4- حریتِ فکر، آزادیِ اظہار اور باہمی مشاورت

زندہ اور عروج پانے والی قومیں اپنے عوام کو آزادیِ اظہار کا حق دیتی ہیں۔ جہاں عوام کو حق بات کہنے پر پابندِ سلاسل کر دیا جائے، وہاں فکری جمود پیدا ہوتا ہے۔ امام علیؑ نے اپنے دورِ خلافت میں کڑی تنقید کو بھی خندہ پیشانی سے سنا اور حکمرانوں کو تلقین کی کہ عوام کے ساتھ فاصلے نہ رکھیں۔

آپؑ فرماتے ہیں:
”فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِهِ الْجَبَابِرَةُ، وَلَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ، وَلَا تُخَالِطُونِي بِالْمُصَانَعَةِ“.
ترجمہ: ”مجھ سے اس طرح بات نہ کیا کرو جس طرح جابر و ظالم بادشاہوں سے کی جاتی ہے، اور نہ مجھ سے اس طرح بچ بچ کر رہو جس طرح غصے والوں سے رہا جاتا ہے، اور نہ مجھ سے بناوٹ اور چاپلوسی کے ساتھ ملو“۔

یہ قول ایک جمہوری اور فلاحی ریاست کی اساس ہے۔ جب تک حکمران اور رعایا کے درمیان چاپلوسی کا پردہ حائل نہ ہو اور عوام اپنے حقوق کے لیے بے دھڑک بات کر سکیں، وہ قوم کبھی فکری اور سیاسی زوال کا شکار نہیں ہو سکتی۔

عصرِ حاضر کے تناظر میں نہج البلاغہ کا اطلاق

اکیسویں صدی کا انسان مادی ترقی کے عروج پر ہے مگر فکری، اخلاقی اور سماجی اعتبار سے شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر ہم آج کی عالمی سپر پاورز، مغربی تہذیب، اور خصوصاً امتِ مسلمہ اور پاکستان کے حالات کا نہج البلاغہ کی روشنی میں تطبیقی مطالعہ کریں، تو امیر المؤمنین علیہ السلام کے بیان کردہ عروج و زوال کے اصول پوری طرح صادق آتے نظر آتے ہیں۔

1- عالمی سطح پر اخلاقی زوال اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی

آج کا عالمی نظام بنیادی طور پر سرمایہ داری پر استوار ہے، جس کا واحد مقصد دولت کا ارتکاز اور مادی منافع کا حصول ہے۔ اس نظام نے دنیا کو دو واضح طبقات انتہائی امیر اور انتہائی غریب میں تقسیم کر دیا ہے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ اور حکمتوں کی روشنی میں یہ طبقاتی تقسیم تہذیبوں کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔

آج دنیا میں قحط، غربت، اور ماحولیاتی تبدیلیاں دراصل اسی ہوس اور وسائل کے بے دریغ استحصال کا نتیجہ ہیں جس سے امام علیؑ نے روکا تھا۔ جدید مغربی تہذیب نے اگرچہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کر لیا ہے، لیکن خاندانی نظام کی تباہی، نفسیاتی انتشار اور روحانی خلا اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ جب کوئی قوم صرف مادی عروج پر توجہ دے اور اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دے، تو اس کا زوال اندر سے شروع ہو جاتا ہے۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا تھا:
”رُبَّ عَالِمٍ قَدْ قَتَلَهُ جَهْلُهُ، وَعِلْمُهُ مَعَهُ لَا يَنْفَعُهُ“.
ترجمہ: ”بہت سے عالم ایسے ہیں جنہیں ان کی جہالت نے مار ڈالا، اور ان کا علم ان کے پاس تھا مگر اس نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا“۔

یہ قول آج کی اس ”پڑھی لکھی“ مگر روحانی طور پر بنجر دنیا پر حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے جو ایٹم بم تو بنا سکتی ہے مگر انسانوں کو بھوک سے نہیں بچا سکتی۔

2- امتِ مسلمہ اور پاکستان کا فکری و سیاسی بحران

اگر ہم امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے موجودہ بحرانی حالات کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان تمام بیماریوں میں مبتلا ہیں جنہیں نہج البلاغہ نے زوال کا سبب قرار دیا تھا۔ پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز درج ذیل ہیں:

قانون کی عدم حکمرانی اور کمزور احتساب: آج ہمارے ریاستی ادارے اس لیے کمزور ہیں کیونکہ قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر یکساں نہیں ہے۔ جب تک ہم ”عہد نامہ مالک اشتر“ کے اس اصول کو نہیں اپناتے کہ ”خواص کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر عوام کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کیے جائیں“، تب تک ہم سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتے۔

عصبیت اور فرقہ واریت: لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تعصبات نے ہماری قومی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ یہ وہی ”عصبیتِ جاہلیہ“ ہے جس پر خطبہ قاصعہ میں سخت تنبیہ کی گئی تھی۔

میرٹ کا قتل اور اقربا پروری: اداروں میں نااہل افراد کی تعیناتی اور برین ڈرین یعنی ہمارے قابل نوجوانوں کا مایوس ہو کر ملک چھوڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے امانتوں کو ان کے حقداروں تک نہیں پہنچایا۔

اصلاحِ احوال کا لائحہ عمل (عروج کی جانب واپسی کا راستہ)

نہج البلاغہ صرف امراض کی تشخیص نہیں کرتی بلکہ ان کا شافی علاج بھی پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور مسلم امہ کو اپنے کھوئے ہوئے عروج کو پانے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے:

شفاف حکمرانی کا نفاذ: حکمرانوں اور بیوروکریسی کو چاہیے کہ وہ خود کو عوام کا خادم سمجھیں۔ احتساب کا عمل اوپر سے نیچے کی طرف شروع ہونا چاہیے۔

نوجوانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت: ہمارا تعلیمی نظام صرف کلرک یا مشینیں پیدا کرنے کے بجائے ایسی نسل تیار کرے جو شعورِ بیداری اور اخلاقی اقدار سے لیس ہو۔ نوجوانوں کو امام علیؑ کے خطوط (خصوصاً امام حسنؑ کے نام وصیت) پڑھائے جائیں تاکہ وہ ایک باوقار قوم کی تعمیر کر سکیں۔

معاشی انصاف اور فلاحی ریاست کا قیام: وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ زرعی اور صنعتی ترقی پر توجہ دی جائے، اور غریبوں پر بالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ کم کر کے اشرافیہ سے براہِ راست ٹیکس وصول کیا جائے۔

خواتین کا تعمیری کردار: معاشرے کی تشکیلِ نو میں خواتین کی تعلیم اور ان کے مساوی سماجی حقوق کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اگلی نسلوں کی بہتر انداز میں تربیت کر سکیں

خلاصہ

مقالے کی اس طویل اور عمیق بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا تعلق کسی طلسم یا جادو سے نہیں، بلکہ ان ٹھوس اخلاقی، سماجی اور سیاسی قوانین سے ہے جنہیں سنتِ الٰہیہ کہا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی وہ آفاقی کتاب ہے جس نے ان قوانین کو پوری صراحت، فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جو قوم بھی عدل، انصاف، شکرِ نعمت، میرٹ، قانون کی حکمرانی اور اخلاقی بلندی کو اپنائے گی چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا خطے سے ہو وہ کائنات میں سر بلند ہوگی۔ اور جو قوم ظلم، تکبر، کرپشن، طبقاتی استحصال، اور حقوق العباد کی پامالی کا راستہ اختیار کرے گی، وہ زوال کے گڑھے میں گر کر تاریخ کا عبرت ناک باب بن جائے گی۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نہج البلاغہ کو محض ایک متبرک کتاب سمجھ کر غلافوں میں نہ لپیٹا جائے، بلکہ اسے مسندِ اقتدار، عدالتوں کے ایوانوں، یونیورسٹیوں کے نصاب، اور معیشت کے مراکز میں ایک عملی دستورکے طور پر نافذ کیا جائے۔ یقیناً اسی میں عصرِ حاضر کے انسان کی نجات اور ہماری قومی و ملی بقاء کا راز مضمر ہے۔

حوالہ جات

[1] القرآن الکریم، سورۃ الرعد، آیت: 11
[2] القرآن الکریم، سورۃ الحج، آیت: 45
[3] القرآن الکریم، سورۃ الانفال، آیت: 53
[4] سید رضی، نہج البلاغہ، اردو ترجمہ: علامہ مفتی جعفر حسین، مکتوب نمبر 53 (عہد نامہ مالک اشتر)، ناشر: مرکز افکارِ اسلامی
[5] ایضاً، خطبہ نمبر 192 (خطبہ قاصعہ)
[6] ایضاً، کلماتِ قصار (حکمت) نمبر 328
[7] ایضاً، مکتوب نمبر 53 (عہد نامہ مالک اشترؒ)
[8] ایضاً، مکتوب نمبر 53
[9] ایضاً، مکتوب نمبر 53
[10] ایضاً، خطبہ نمبر 216
[11] ایضاً، کلماتِ قصار (حکمت) نمبر 107


Nahj-ul-Balagha Mein Qaumon Ke Urooj-o-Zawal Ke Asbab

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button