مقالات

نہج البلاغہ کی روشنی میں ذہنی پریشانیوں کا حل

مقالہ نگار: سیدہ اریتا حسن نقوی

﷽

زیرِ نظر مقالہ ”نہج البلاغہ کی روشنی میں ذہنی پریشانیوں کے اسباب اور ان کا حل“ کے عنوان پر ایک تحقیقی اور تجزیاتی کاوش ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں انسان نے مادی ترقی کی انتہا کو چھو لیا ہے، وہاں وہ شدید ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن اور فکری انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ جدید نفسیات جہاں ان مسائل کے عارضی حل پیش کرتی ہے، وہاں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام ”نہج البلاغہ“ انسانی نفس، عقل، اور روح کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے ان تمام باطنی اور ظاہری پریشانیوں کا مستقل اور پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔

اس تحقیق کا بنیادی مقصد نہج البلاغہ کے خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار کی روشنی میں ان تمام مادی، اخلاقی، سماجی اور روحانی اسباب کا احاطہ کرنا ہے جو انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کرتے ہیں۔ تحقیق میں کیفیتی اور تحلیلی طریقۂ کار (Qualitative and Analytical Method) اپنایا گیا ہے۔ مقالے میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا پرستی، حسد، منفی سوچ اور اللہ پر توکل کی کمی وہ بنیادی اسباب ہیں جو انسان کو باطنی طور پر بے چین رکھتے ہیں، جب کہ ذکرِ الٰہی، قناعت، شکر گزاری، صبر، اور خود احتسابی کے ذریعے ان تمام مسائل پر قابو پا کر حقیقی قلبی اور نفسیاتی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ مقالہ عصرِ حاضر کے انسان اور خاص طور پر نوجوان نسل کے نفسیاتی الجھاؤ کو دور کرنے کے لیے ایک بہترین عملی اور فکری گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے۔

کلیدی الفاظ ۔نہج البلاغہ، ذہنی پریشانی، اضطراب، جدید نفسیات، توکل، تزکیہ نفس، قلبی سکون۔

باب اول: تعارف و تمہید

1.1 نہج البلاغہ کا تعارف

الف: لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لفظ ”نہج“ عربی زبان کا اسم ہے، جس کے لغوی معنی ”واضح راستہ“، ”شاہراہ“، ”طریقہ“ یا ”مسلک“ کے ہیں۔ (1) جبکہ لفظ ”بلاغت“ کا مادہ ”ب ل غ“ ہے، جس کے لغوی معنی انتہا تک پہنچنے کے ہیں۔ علمی و ادبی اصطلاح میں بلاغت سے مراد ”کلام کا فصیح ہونے کے ساتھ ساتھ مقتضائے حال یعنی مخاطب کی ذہنی سطح، حالات اور موقع و محل کے عین مطابق ہونا ہے“۔ (2) اس اعتبار سے ”نہج البلاغہ“ کا لغوی و ترکیبی مفہوم ”بلاغت کا واضح راستہ“ یا ”فصاحت و بلاغت کی شاہراہ“ بنتا ہے۔

اصطلاحی مفہوم میں، نہج البلاغہ اس جلیل القدر کلامی، ادبی اور فکری مجموعے کا نام ہے جس میں وصیِ رسولؐ، امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات (خطوط) اور کلماتِ حکمت (مختصر اقوال) کو چوتھی صدی ہجری کے نامور عالم اور ادیب علامہ شریف رضیؒ نے یکجا کیا ہے۔ (3)

ب: کتاب کی ساخت اور اندرونی تقسیم
نہج البلاغہ بنیادی طور پر تین بڑے حصوں میں منقسم ہے، جو انسانی زندگی کے انفرادی، اجتماعی اور نفسیاتی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں:

خطبات (Sermons): ان کی تعداد مروجہ نسخوں میں 239 سے 241 تک ہے۔ ان خطبات کا بڑا حصہ توحیدِ الٰہی، تخلیقِ کائنات، انسانی نفس کی حقیقت، تقویٰ، عدل، اور سیاسی و عمرانی امور پر مشتمل ہے۔ (4) یہ خطبات انسان کو مادی دنیا کی حقیقت سمجھا کر ذہنی طمأنینت کی طرف راغب کرتے ہیں۔

رسائل و مکتوبات (Letters): ان کی تعداد 79 ہے۔ یہ وہ خطوط ہیں جو آپؑ نے اپنے گورنروں، عمالِ حکومت، اپنے بیٹوں اور اپنے معاصرین کو لکھے۔ ان میں سب سے اہم مکتوب نمبر 53 ہے جو آپؑ نے مالک اشتر کے نام تحریر کیا، جسے سیاسی و نفسیاتی اصولوں کا عالمی منشور مانا جاتا ہے۔ (5)

کلماتِ حکمت (Aphorisms / Short Sayings): ان کی تعداد 480 سے زائد ہے۔ یہ مختصر، جامع اور گہرے فلسفیانہ و نفسیاتی اقوال ہیں، جو روزمرہ کی زندگی میں ذہنی دباؤ، حسد، لالچ اور خوف کے خاتمے کے لیے سنہرے اصول فراہم کرتے ہیں۔

ج: ادبی و فکری مقام اور نفسیاتی تناظر
نہج البلاغہ کو اسلامی دنیا اور عربی ادب میں کلامِ الٰہی (قرآن مجید) اور کلامِ نبویؐ کے بعد فصاحت و بلاغت اور فکری گہرائی کے اعتبار سے سب سے بلند مقام حاصل ہے۔ عرب ادیبوں نے اس کلام کی عظمت کو یوں بیان کیا ہے: ”كَلَامُهُ فَوْقَ كَلَامِ الْمَخْلُوقِ وَدُونَ كَلَامِ الْخَالِقِ“ یعنی آپؑ کا کلام مخلوق کے کلام سے بلند اور خالق کے کلام سے نیچے ہے۔ (6)
موجوہ دور کے نفسیاتی اضطراب اور ذہنی پریشانیوں کے تناظر میں نہج البلاغہ کی اہمیت یہ ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ ”تزکیۂ نفس“ اور ”باطنی شفا کاری“ (Psychological Healing) سے تعلق رکھتا ہے۔ مصر کے نامور مفکر مفتی شیخ محمد عبدہ اپنے خطبے میں لکھتے ہیں کہ: ”جب میں نے نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے عزم و ہمت کا ایک طوفان ہے جو باطنی کمزوریوں کو بہا لے جاتا ہے اور دل کو سکونِ قلب کی لازوال دولت سے مالا مال کر دیتا ہے“۔ (7) یہ کتاب ذہنی پریشانیوں کے اسباب کا محض جائزہ نہیں لیتی، بلکہ عقل اور دل کے مابین ایسا توازن قائم کرتی ہے جو انسان کو ہر قسم کے ذہنی تناؤ (Stress) سے محفوظ رکھتا ہے۔

1.2 امام علی ابن ابی طالب کی شخصیت اور علمی مقام

الف: ولادت اور تربیتِ نبویؐ
امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی تاریخِ اسلام کی وہ درخشندہ شخصیت ہے جن کی فضیلت پر مسلم و غیر مسلم مفکرین کا اتفاق ہے۔ آپؑ کی ولادتِ باسعادت ہجرت سے تئیس (23) سال قبل مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر ہوئی، جو کائناتِ انسانی میں صرف آپؑ کا ہی طرۂ امتیاز ہے۔ (8) آپؑ کی شخصیت کی سب سے بڑی ممیّز خصوصیت یہ تھی کہ آپؑ نے آنکھ کھولتے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوشِ تربیت پائی۔ خود حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں اس بے مثال اور منفرد تربیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

”تم لوگ رسول اللہؐ کے ساتھ میرے قریبی تعلق اور مخصوص منزلت سے بخوبی واقف ہو۔ انہوں نے مجھے اپنی گود میں پالا، جب میں بچہ تھا تو مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے… میں ان کے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے“۔ (9)

ب: علمی مقام اور فکری وسعت
علمی دنیا میں حضرت علیؑ کا مقام و مرتبہ کلامِ الٰہی اور کلامِ نبویؐ کے بعد سب سے نمایاں ہے۔ رسولِ خداؐ نے متعدد مقامات پر آپؑ کے علم کی گواہی دی، جن میں سب سے مشہور فرمانِ نبویؐ یہ ہے: ”أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا“۔ ”میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں“۔ (10)

حضرت علیؑ کا علم محض روایتی یا نظریاتی نہیں تھا، بلکہ وہ انسانی نفس کی گہرائیوں، کائناتی حقائق اور نفسیاتی رویوں کے سب سے بڑے نباض تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں جب بھی کوئی پیچیدہ علمی، قانونی یا فکری مسئلہ درپیش ہوتا، تو آپؑ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ عبداللہ ابن عباسؓ جیسے جلیل القدر مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ: ”میرا علم اور تمام اصحابِ محمدؐ کا علم، علیؑ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہی ہے جیسے سات سمندروں کے سامنے ایک قطرہ“۔ (11) آپؑ منبرِ سلونی پر کھڑے ہو کر کائنات اور انسانی مابعد الطبیعیات (Metaphysics) کے ہر سوال کا جواب دینے کا چیلنج کیا کرتے تھے (12)

ج: نفسیاتی بصیرت اور مصلحِ انسانیت کا مقام
موجودہ دور کے نفسیاتی اضطراب اور ذہنی پریشانیوں کے تناظر میں حضرت علیؑ کی شخصیت ایک کامل معالج (Therapist) اور مصلحِ نفس کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آپؑ کی اپنی زندگی صدمات، جنگوں اور شدید ترین معاشرتی و سیاسی دباؤ سے گزری، مگر اس کے باوجود آپؑ کے باطنی سکون، صبر، رضا اور توکل میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ آپؑ نے انسانی عقل اور دل کے مابین ایک ایسا توازن قائم کر کے دکھایا جو عام انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

معروف مسیحی مفکر اور ادیب جارج جرداق آپ کی اسی کثیر الجہت اور نفسیاتی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”علی ابن ابی طالب کی شخصیت میں انسانی عقل اور دل کا ایسا توازن پایا جاتا ہے جو تاریخ کے کسی دوسرے انسان میں نظر نہیں آتا۔ ان کا کلام انسانی روح کی گہرائیوں میں اتر کر اس کے اضطراب کو مٹا دیتا ہے“۔ (13)

آپؑ نے انسان کو بیرونی دنیا کے چنگل سے نکال کر اس کے اپنے اندر چھپے باطنی سکون سے روشناس کروایا۔

1.3 نہج البلاغہ کی تدوین اور اہمیت

الف: نہج البلاغہ کی تدوین کا پس منظر
امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کلام کی جمع و تدوین کا سلسلہ آپؑ کی ظاہری زندگی میں ہی شروع ہو چکا تھا اور متعدد اصحاب نے آپؑ کے خطبات کو اپنے پاس تحریری طور پر محفوظ کرنا شروع کر دیا تھا (14) تاہم، چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں بغداد کے نامور عالم، مورخ اور مایہ ناز ادیب علامہ شریف رضیؒ (وفات: 406ھ) نے یہ ضرورت محسوس کی کہ حضرت علیؑ کے کلام کا ایک ایسا جامع مجموعہ تیار کیا جائے جو فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترتا ہو۔ انہوں نے مختلف کتب خانوں، نجی نسخوں اور احادیث و تاریخ کی مستند کتابوں سے چھان پھان کر کے تقریباً سنہ 400 ہجری میں اس کتاب کو مرتب کیا اور اس کا نام ”نہج البلاغہ“ (بلاغت کا راستہ) رکھا (15) علامہ شریف رضی کا اصل مقصد حضرت علیؑ کے کلام کے ادبی اور بلاغتی شاہکاروں کو محفوظ کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے خطبات کے طول طویل حصوں میں سے سب سے بلیغ اور فصیح ٹکڑوں کا انتخاب کیا۔ (16)

ب: کتاب کی اہمیت اور ہمہ گیری
نہج البلاغہ کی علمی اور تاریخی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک فرد کا کلام نہیں بلکہ اسلامی معارف کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ علمِ الٰہیات (Theology)، فلسفہ، مابعد الطبیعیات، اخلاقیات، اور سیاسیات کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب ایک کلیدی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

ابن ابی الحدید معتزلی، جنہوں نے اس کتاب کی سب سے بڑی اور مشہور شرح لکھی ہے، وہ اس کلام کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”اگر تمام فصحاء و بلغاء جمع ہو جائیں اور ان کے سامنے علیؑ کے کلام کا ایک پیراگراف پڑھا جائے، تو وہ سب سجدے میں گرنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ اس کلام پر الٰہی نور اور نبوت کی خوشبو نمایاں ہے“۔ (17)

ج: نفسیاتی اور اصلاحی اہمیت
موجودہ دور میں جہاں انسان مادی ترقی کے باوجود شدید ترین ذہنی انتشار اور اندرونی بے سکونی کا شکار ہے، وہاں نہج البلاغہ کی اہمیت ایک ”روحانی و نفسیاتی نسخۂ شفا“ کے طور پر ابھرتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کے باطنی امراض جیسے کہ حرص، حسد، غرور اور خوفِ مستقبل کا گہرا تجزیہ کرتی ہے اور ان کا ایسا عملی علاج پیش کرتی ہے جو عقل اور جذبات میں توازن پیدا کرتا ہے۔ (18) یہ کتاب انسان کو سکھاتی ہے کہ دنیا کی عارضی حیثیت کو سمجھ کر کس طرح باطنی طمأنینت اور سچا ذہنی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ہر دور کے انسان کی نفسیاتی رہنمائی کے لیے ایک بہترین مصلح کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ (19)

1.4 ذہنی پریشانی: مفہوم، اسباب اور اقسام

الف: ذہنی پریشانی کا لغوی و اصطلاحی مفہوم
ذہنی پریشانی، اضطراب یا دباؤ کے لیے جدید علمِ نفسیات میں "Anxiety” یا "Stress” کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ لغوی اعتبار سے اضطراب کے معنی ”بے چینی، تڑپ، یا سکون کا غارت ہو جانا“ ہیں۔ (20)

جدید نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) کے مطابق: ”ذہنی اضطراب (Anxiety) نفس کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کسی نامعلوم یا اندرونی خطرے کے ردِعمل میں شدید بے چینی اور دباؤ محسوس کرتا ہے، جو اس کی روزمرہ کارکردگی کو متاثر کرتا ہے“۔ (21)

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کے مطابق، ذہنی پریشانی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان منفی جذبات، پریشان کن افکار اور جسمانی تبدیلیوں (جیسے بلڈ پریشر کا بڑھنا) کا شکار ہو جاتا ہے۔ (22)

نہج البلاغہ میں اس ذہنی کیفیت کے لیے ”الْهَمُّ“ (فکر/پریشانی)، ”الْحُزْنُ“ (غم/ڈپریشن) اور ”الْقَلَقُ“ (بے چینی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام ذہنی پریشانی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”الْهَمُّ نِصْفُ الْهَرَمِ“۔ ”تیمار داری اور ذہنی پریشانی نصف بڑھاپا ہے“۔ (23) یعنی یہ انسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو قبل از وقت چاٹ جاتی ہے۔

ب: ذہنی پریشانی کے بنیادی اسباب
جدید ماہرِ نفسیات کارل روجرز (Carl Rogers) کا ماننا ہے کہ ذہنی پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کی حقیقی ذات (Real Self) اور اس کی خیالی یا مثالی ذات (Ideal Self) کے درمیان توازن نہیں رہتا، یعنی جب انسان حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ (24)

اس کے برعکس، نہج البلاغہ میں ذہنی پریشانی کا سب سے بڑا سبب مادہ پرستی، دنیا سے شدید وابستگی اور تقدیر پر راضی نہ ہونا بتایا گیا ہے۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں: ”مَنْ كَثُرَ هَمُّهُ سَقُمَ بَدَنُهُ“۔ ”جس کی ذہنی پریشانیاں زیادہ ہو جائیں، اس کا بدن بیمار ہو جاتا ہے“۔ (25) آپؑ نے واضح کیا کہ خواہشات کی کثرت ہی انسان کو باطنی انتشار میں مبتلا کرتی ہے۔

ج: ذہنی پریشانی کی اقسام اور ان کا تقابلی جائزہ
جدید علمِ نفسیات اور ”امریکن سائیکائٹرک ایسوسی ایشن“ کی تشخیصی دستیابی (DSM-5) کے مطابق ذہنی اضطراب اور پریشانیوں کو ان کی علامات اور اثرات کے لحاظ سے مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے ان کی مابعد الطبیعیاتی اور باطنی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے:

1۔ عمومی اضطراب اور فکری انتشار (Generalized Anxiety Disorder – GAD)
جدید نفسیات کے مطابق یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کسی ایک مخصوص وجہ کے بغیر، ہر وقت ایک مبہم اور بے نام خوف، وہم یا مستقبل کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ ماہرِ نفسیات ایرک فرام (Erich Fromm) کے مطابق، یہ اضطراب انسان میں تنہائی اور کائنات سے کٹ جانے کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ (26)

نہج البلاغہ کا نقطۂ نظر: حضرت علیؑ نے اس فکری انتشار کو ”اللہ کی تقدیر اور حکمت پر یقین کی کمی“ قرار دیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ”الْقَلَقُ مَفْسَدَةُ الْعَيْشِ“۔ ”اندرونی بے چینی اور اضطراب زندگی کو برباد کر دیتا ہے“۔ (27) آپؑ کے مطابق جب انسان حال کو چھوڑ کر مستقبل کے ان اندیشوں میں گم ہو جاتا ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، تو وہ عمومی اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔

2۔ حزنِ شدید یا ڈپریشن (Depression)
نفسیات دان ایرون بیک (Aaron Beck) کی ”کاجنیٹو تھوری“ (Cognitive Theory) کے مطابق، ڈپریشن انسان کے اپنے بارے میں، دنیا کے بارے میں اور مستقبل کے بارے میں منفی زاویۂ نگاہ (Negative Triad) کا نام ہے، جس میں انسان ماضی کے کسی صدمے یا نقصان کو دل سے لگا لیتا ہے۔ (28)

نہج البلاغہ کا نقطۂ نظر: نہج البلاغہ میں ماضی کے افسوس پر پیدا ہونے والے اس شدید دباؤ کو ”الحُزن“ کہا گیا ہے۔ حضرت علیؑ اس منفی سوچ کا علاج کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”الْأَسَفُ عَلَى الْمَاضِي يُوجِبُ الْحُزْنَ“ (ماضی پر حد سے زیادہ افسوس کرنا ڈپریشن اور غم کو دعوت دیتا ہے) (29) آپؑ انسان کو یہ ذہنی تربیت دیتے ہیں کہ جو گزر گیا وہ تمہارے بس میں نہیں تھا، لہذا اس پر حد سے زیادہ صدمہ باطنی توانائیوں کو ختم کر دیتا ہے۔

3۔ فوبیا اور مبالغہ آمیز خوف (Phobias & Specific Fears)
جدید نفسیات میں فوبیا سے مراد کسی چیز، حادثے یا صورتحال کا ایسا غیر منطقی اور شدید خوف ہے جو انسان کو مفلوج کر کے رکھ دے۔ بی ایف سکنر (B.F. Skinner) کے مطابق یہ خوف غلط ماحول اور تجربات سیکھنے (Conditioning) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (30)

نہج البلاغہ کا نقطۂ نظر: حضرت علیؑ نے خوف کی اس قسم کا ایک انتہائی انقلابی اور نفسیاتی علاج (Cognitive Restructuring) پیش کیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ”إِذَا هِبْتَ أَمْراً فَقَعْ فِيهِ، فَإِنَّ شِدَّةَ تَوَقِّيهِ أَعْظَمُ مِمَّا تَخَافُ مِنْهُ“۔ ”جب تمہیں کسی کام یا چیز سے شدید خوف محسوس ہو تو خود کو اسی کام میں ڈال دو، کیونکہ اس خوف کا دھڑکا اور وہم، اس چیز کے اصل نقصان سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے“۔ (31) یہ جملہ جدید نفسیات کی مروجہ تھراپی "Exposure Therapy” (خوف کا سامنا کرنے کا طریقہ) کی بنیاد ہے۔

4۔ وہم اور کمال پسندی کا دباؤ (Obsessive-Compulsive Tendencies / Perfectionism)
اس کیفیت میں انسان اپنے افکار پر کنٹرول کھو دیتا ہے اور ہر چیز کو ایک خاص، غیر حقیقی معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کا اعصابی نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔

نہج البلاغہ کا نقطۂ نظر: حضرت علیؑ نے انسان کو فطری توازن سکھایا ہے اور وہم و گمان کی پیروی سے روکا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ”لَا ظَهْرَ أَبْقَى وَلَا قَطَعَ أَرْضاً“۔ ”جو شخص حد سے زیادہ باریک بینی اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ نہ تو اپنی سواری باقی رکھ پاتا ہے اور نہ ہی سفر طے کر پاتا ہے“۔ (32) یعنی زندگی میں عدمِ توازن ہی اعصابی تناؤ کا سبب بنتا ہے۔

1.5 موجودہ دور میں ذہنی اضطراب کے بڑھتے ہوئے مسائل

الف: عصرِ حاضر اور اعصابی تناؤ (عصرِ حاضر کا المیہ)
اکیسویں صدی جہاں سائنسی ایجادات، تکنیکی ترقی اور مادی آسائشوں کا دور ہے، وہیں یہ انسانی تاریخ میں شدید ترین ذہنی انتشار، ڈپریشن اور اعصابی تناؤ (Stress) کا عہد بھی بن چکی ہے۔ جدید مادی دوڑ نے انسان سے اس کا باطنی سکون چھین لیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی رپورٹس کے مطابق، موجودہ دور میں ذہنی اضطراب اور ڈپریشن عالمی معذوری کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک بن چکے ہیں، اور کروڑوں انسان کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہیں۔ (33)

جدید ماہرِ نفسیات اور ماہرِ عمرانیات ایلوین ٹوفلر (Alvin Toffler) اپنی مشہور تصنیف ”فیوچر شاک“ (Future Shock) میں لکھتا ہے کہ: ”جب معاشرے میں تبدیلی کی رفتار انسان کی اس تبدیلی کو برداشت کرنے کی حیاتیاتی اور نفسیاتی رفتار سے تیز ہو جائے، تو انسان بڑے پیمانے پر ذہنی تناؤ اور فکری انتشار کا شکار ہو جاتا ہے“۔ (34) موجودہ تیز ترین ڈیجیٹل دور نے انسان کو اسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ب: جدید دور میں ذہنی اضطراب کے بڑھتے ہوئے اسباب
جدید نفسیات اور سوشیالوجی کے ماہرین موجودہ دور میں ذہنی امراض کے بڑھنے کی چند بڑی وجوہات بیان کرتے ہیں:

شدید مادی مسابقت (Hyper-Competitiveness): انسان کا دوسرے انسانوں سے ہر وقت کا معاشی و سماجی موازنہ۔
سوشل میڈیا اور تنہائی (Digital Loneliness): بظاہر ہزاروں آن لائن دوستوں کے باوجود باطنی سطح پر انسان کا اکیلا پن۔
مستقبل کی غیر یقینی صورتحال (Chronic Uncertainty): معاشی عدمِ استحکام اور زندگی کے بدلتے ہوئے اطوار۔

ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل (Viktor Frankl) کے مطابق، جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ”معنویت کا خلا“ (Existential Vacuum) ہے؛ انسان کے پاس جینے کے وسائل (Means) تو موجود ہیں مگر جینے کا مقصد (Meaning) گم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اندرونی خالی پن اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ (35)

ج: نہج البلاغہ کی روشنی میں ان مسائل کا تجزیہ
نہج البلاغہ کا فکری نظام صدیوں پہلے ہی ان تمام جدید مسائل کے بنیادی اسباب کی نشاندہی کر چکا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے واضح کیا تھا کہ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اور روحانی بنیادوں کو چھوڑ کر صرف مادی لذتوں کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے، تو وہ اندرونی بے سکونی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔

معاشی تگ و دو اور موازنے سے پیدا ہونے والے حسد اور دباؤ کے بارے میں آپؑ کا فرمان ہے: ”الْحَسَدُ مَقْطَعَةُ الِارْتِدَادِ، وَالْحِرْصُ دَاعٍ إِلَى التَّقَحُّمِ فِي الذُّنُوبِ“۔ ”حسد انسان کے ذہنی اور باطنی سکون کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور لالچ اسے مصائب میں دھکیل دیتا ہے“۔ (36)

اسی طرح، سوشل میڈیا کے دور میں جو سطحی گفتگو اور اطلاعات کا سیلاب انسان کو ذہنی طور پر تھکا رہا ہے، اس کے بارے میں آپؑ نے پہلے ہی متنبہ فرمایا تھا: ”مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ خَطَؤُهُ… وَمَنْ كَثُرَ خَطَؤُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُوهُ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُوهُ مَاتَ قَلْبُهُ“۔ ”جس کی گفتگو فضول اور زیادہ ہو جائے، اس کی غلطیاں بڑھ جاتی ہیں، اور جس کی غلطیاں بڑھ جائیں اس کا دل مردہ (ذہنی و روحانی طور پر مفلوج) ہو جاتا ہے“۔ (37)

نہج البلاغہ موجودہ دور کے انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ جب تک وہ بیرونی مادی دنیا کی کثرت سے نظریں ہٹا کر اپنے اندرونی نفس کو قناعت اور توکل کے ذریعے مطمئن نہیں کرے گا، وہ عصرِ حاضر کے ان ذہنی مسائل سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔ (38)

1.6 بیانِ مسئلہ (Statement of the Problem)

الف: مسئلہ کا پس منظر اور جدید علمی تناظر
عصرِ حاضر میں مادی علوم، سائنسی ایجادات اور معاشی وسائل کی فراوانی کے باوجود انسانیت جس سب سے بڑے بحران سے گزر رہی ہے، وہ باطنی اضطراب، نفسیاتی بیماریاں اور ذہنی پریشانیاں ہیں۔ جدید علمِ نفسیات (Modern Psychology) نے ان امراض کی علامات اور ظاہری اسباب کا گہرا مطالعہ تو کیا ہے اور مختلف قسم کی کلینیکل تھراپیز اور ادویات بھی وضع کی ہیں، لیکن وہ انسان کو دیرپا باطنی سکون اور پائیدار ذہنی طمأنینت فراہم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ (38) اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جدید نفسیات اکثر اوقات انسان کو محض ایک بائیولوجیکل (حیاتیاتی) یا مادی مخلوق کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے ”روحانی و مابعد الطبیعیاتی“ وجود کو نظر انداز کر دیتی ہے۔

ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل نے تسلیم کیا ہے کہ جدید انسان کی ذہنی پریشانیوں کا اصل سبب اس کی زندگی کا بے مقصد ہونا اور اس کی روح کا مادی کثرت میں گم ہو جانا ہے۔ (39) لہٰذا، جب تک انسان کے اس باطنی اور روحانی خلا کو پُر نہیں کیا جاتا، ذہنی اضطراب کا کوئی بھی سطحی علاج مستقل ثابت نہیں ہو سکتا۔

ب: مسئلہ کا اصل جوہر (Core Issue)
اس مادی اور نفسیاتی بحران کے حل کے لیے جب ہم اسلامی روایات اور خاص طور پر نہج البلاغہ کے فکری نظام کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں وہاں انسانی نفس کا ایک جامع اور متوازن تصور ملتا ہے۔ نہج البلاغہ محض ایک اخلاقی یا تاریخی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ذہن اور دل کے مابین توازن قائم کرنے کا ایک لائحہ عمل ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا کلام انسانی نفس کی گہرائیوں میں اتر کر ان باطنی امراض (جیسے دنیا پرستی، خوفِ مستقبل، حسد اور مایوسی) کی جڑ پر ضرب لگاتا ہے جو ذہنی پریشانیوں کا اصل سرچشمہ ہیں۔ (40)

تاہم، اکیڈمک اور تحقیقی میدان میں ایک واضح خلا (Research Gap) موجود ہے۔ نہج البلاغہ کا مطالعہ عام طور پر صرف ادبی، لسانی، سیاسی یا عقیدتی زاویوں سے کیا گیا ہے۔ اس کے اندر موجود ”نفسیاتی شفا کاری“ (Psychological Healing) اور ذہنی پریشانیوں کے معالجاتی پہلوؤں (Therapeutic Interventions) پر جدید نفسیاتی اصطلاحات کے تناظر میں بہت کم کام ہوا ہے۔ (41)

ج: بیانیہ مسئلہ (Problem Statement)
موجوہ مادی دور میں انسان شدید ترین ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور فکری انتشار کا شکار ہے، جبکہ جدید نفسیاتی طریقہ ہائے علاج انسان کو پائیدار باطنی سکون دینے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف، نہج البلاغہ میں ان تمام ذہنی اور اعصابی پریشانیوں کے گہرے اسباب اور ان کا مستقل روحانی و عملی حل موجود ہے، لیکن اس گراں قدر علمی خزانے کو جدید علمِ نفسیات کے تقابلی تناظر میں اکیڈمک سطح پر کماحقہٗ پیش نہیں کیا گیا۔

چنانچہ یہ تحقیق اس مسئلے کو اٹھاتی ہے کہ: ”نہج البلاغہ کے فکری و معالجاتی نظام کی روشنی میں موجودہ دور کی ذہنی پریشانیوں کے بنیادی اسباب کیا ہیں اور ان کا ایسا عملی و نفسیاتی حل کیا ہے جسے عصرِ حاضر کا انسان اپنی زندگی میں نافذ کر کے حقیقی ذہنی سکون حاصل کر سکے“؟ (42) یہ مقالہ اسی فکری خلا کو پُر کرنے اور نہج البلاغہ کی تعلیمات کو جدید نفسیاتی اصولوں کے مطابق ایک متبادل شفا کاری کے نظام کے طور پر پیش کرنے کی ایک علمی کوشش ہے۔

1.7 تحقیق کے مقاصد (Objectives of the Research)

اس مروجہ تحقیق کا بنیادی مقصد نہج البلاغہ کے فکری و علمی ذخیرے سے ان نفسیاتی اور معالجاتی اصولوں کو اخذ کرنا ہے جو انسانی نفس کو ذہنی انتشار سے بچا کر باطنی سکون کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ اس بنیادی مقصد کے تحت تحقیق کے ذیلی مقاصد درج ذیل ہیں:

نہج البلاغہ کی روشنی میں انسانی نفس کی حقیقت اور اس کے فکری و نفسیاتی ڈھانچے (Psychological Framework) کا اکیڈمک اور علمی جائزہ لینا۔ (43)

جدید علمِ نفسیات (Modern Psychology) کے مسلمہ نظریات اور اصطلاحات کے تناظر میں ذہنی پریشانیوں، اضطراب (Anxiety) اور ڈپریشن کا فکری مطالعہ کرنا اور ان کے مابین ایک تقابلی ربط قائم کرنا۔

نہج البلاغہ کے خطبات، مکتوبات اور کلماتِ حکمت سے ذہنی پریشانیوں کے ان بنیادی باطنی، اخلاقی اور سماجی اسباب (Etiology) کی نشاندہی کرنا جو انسانی زندگی کے توازن کو بگاڑتے ہیں۔ (44)

عصرِ حاضر کے انسان کو درپیش جدید مسائل (جیسے مادی دوڑ، سوشل میڈیا کا منفی اثر اور خاندانی نظام کا بکھراؤ) کا نہج البلاغہ کے عمرانی و نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں تجزیہ کرنا۔

نہج البلاغہ میں موجود ان تمام معالجاتی اور عملی طریقہ ہائے کار (Therapeutic Interventions) کو منظم اور باب وار ترتیب دینا جن پر عمل پیرا ہو کر موجودہ دور کا انسان اعصابی تناؤ سے نجات پا سکتا ہے۔ (45)

اکیڈمک دنیا میں اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) کے متبادل اور مضبوط بیانیے کو فروغ دینا تاکہ مادی طریقہ ہائے علاج کے مقابلے میں ایک پائیدار اور روحانی شفا کاری کا نظام سامنے لایا جا سکے۔ (46)

1.8 تحقیق کے سوالات / فرضیات (Research Questions / Hypotheses)

تحقیقی ضوابط اور طریقۂ کار کے مطابق، کسی بھی علمی مقالے کی سمت کا تعین ان سوالات اور فرضیات سے ہوتا ہے جن کے گرد پوری تحقیق کا تانا بانا بنا جاتا ہے۔ (47) زیرِ نظر مقالے کے بیانیہ مسئلہ (Statement of the Problem) اور مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اس تحقیق کے سوالات اور فرضیات درج ذیل دو حصوں میں منقسم کیے گئے ہیں:

الف: تحقیق کے سوالات (Research Questions) اس مقالے کے ذریعے درج ذیل کلیدی اور بنیادی اکیڈمک سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی: نہج البلاغہ میں انسانی نفس، عقل اور دل کا کیا تصور پیش کیا گیا ہے اور یہ جدید نفسیاتی فریم ورک سے کس طرح میل کھاتا ہے؟ نہج البلاغہ کی روشنی میں انفرادی، باطنی اور اخلاقی سطح پر ذہنی پریشانیوں اور اعصابی تناؤ کے بنیادی اسباب (Etiology) کیا ہیں؟ (48)

موجودہ ڈیجیٹل اور مادی دور کے مخصوص مسائل (مثلاً سوشل میڈیا کا فکری انتشار، معاشی مسابقت اور تنہائی) کا نہج البلاغہ کے عمرانی و نفسیاتی اصولوں کے مطابق کیا تجزیہ بنتا ہے؟ نہج البلاغہ میں ذہنی و باطنی اضطراب سے نجات کے لیے کون سے مستقل معالجاتی طریقہ ہائے کار (Therapeutic Interventions) اور عملی نظم و ضبط کے اصول فراہم کیے گئے ہیں؟ (49) جدید علمِ نفسیات (Modern Psychology) کے طریقہ ہائے علاج اور نہج البلاغہ کے روحانی و نفسیاتی علاج کے مابین کیا تقابل پایا جاتا ہے اور نہج البلاغہ کس طرح ایک متبادل، پائیدار نظام کے طور پر سامنے آتی ہے؟

ب: تحقیق کے فرضیات (Research Hypotheses) مقالے کے سائنسی اور فکری زاویے کو مضبوط کرنے کے لیے درج ذیل فرضیات (مفروضے) قائم کیے گئے ہیں جنہیں تحقیق کے ابواب کے ذریعے پرکھا جائے گا:

مفروضہ اول: نہج البلاغہ میں پیش کردہ انسانی نفس کا تصور (امارہ، لوامہ، مطمئنہ) محض ایک اخلاقی بیانیہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی شخصیت کا ایک جامع اور مربوط نفسیاتی ماڈل پیش کرتا ہے۔ (50)

مفروضہ دوم: موجودہ دور کی بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانیاں اور ڈپریشن، بیرونی حالات سے زیادہ انسان کے باطنی و روحانی خلا، عدمِ قناعت اور مادی دنیا سے حد سے زیادہ وابستگی کا نتیجہ ہیں۔ (51)

مفروضہ سوم: نہج البلاغہ کی تعلیمات (جیسے توکل، رضا، تفکر اور ضبطِ نفس) پر عملی طور پر عمل پیرا ہو کر عصری دور کے شدید ترین اعصابی تناؤ (Stress) اور فکری انتشار کو کامیابی سے مٹایا جا سکتا ہے اور یہ جدید مادی تھراپیز سے زیادہ پائیدار باطنی سکون فراہم کرتی ہیں۔ (52)

1.9 طریقۂ تحقیق (Methodology)

کسی بھی علمی و اکیڈمک مقالے کی کامیابی اور نتائج کی صحت کا دارومدار اس کے مستند طریقۂ تحقیق (Methodology) پر ہوتا ہے۔ (53) زیرِ نظر مقالہ چونکہ نظریاتی، فکری اور متنی نوعیت کا ہے، اس لیے اس میں مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ ہائے کار اور سائنسی ضوابط کو اختیار کیا گیا ہے:

الف: مآخذ و مراجع کا انتخاب (Data Collection)
اس تحقیق کے لیے مواد کی فراہمی کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

بنیادی مآخذ (Primary Sources): تحقیق کا بنیادی اور اصل مرکز و محور متنِ "نہج البلاغہ” (خطبات، مکتوبات اور کلماتِ حکمت) ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متن کی فکری، نفسیاتی اور فلسفیانہ گہرائی کو سمجھنے کے لیے نہج البلاغہ کے ان مایہ ناز شارحین اور مفکرین کی کتب کو بنیادی مآخذ کا درجہ دیا گیا ہے جنہوں نے انسانی نفس اور سماج کا گہرا مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان میں ابن ابی الحدید معتزلی کی "شرح نہج البلاغہ”، مصر کے مفتی شیخ محمد عبدہ کی "شرح نہج البلاغہ”، استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ کی مایہ ناز تصنیف "سیری در نہج البلاغہ” (جو انسانی نفس کے باطنی احوال کی بہترین عکاس ہے)۔ (54)، اور معروف مسیحی مفکر جارج جرداق کا شاہکار "الامام علی: صوت العدالة الإنسانية” (جو حضرت علیؑ کی شخصیت کے انسانی اور نفسیاتی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے) شامل ہیں۔ (55)

ثانوی مآخذ (Secondary Sources): ثانوی مآخذ کے طور پر جدید علمِ نفسیات (Modern Psychology) کے ماہرین کی مستند تصانیف، نفسیاتی جرائد (Research Journals)، تشخیصی کتابچے (جیسے DSM-5)، اور اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) کے موضوع پر لکھی گئی معاصر کتب و مقالاجات سے مدد لی گئی ہے۔ (56)

ب: تحقیقی انداز اور تجزیاتی اسلوب (Research Design & Approach)
مقالے کے موضوع کی حساسیت اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل اکیڈمک اسالیت کو یکجا کیا گیا ہے:

توصیفی اور بیانیہ انداز (Descriptive Approach): اس کے تحت نہج البلاغہ میں مذکور انسانی نفس کے احوال اور ذہنی پریشانیوں کے اسباب کو ان کے اصل فکری پس منظر کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

تقابلی مطالعہ (Comparative Analysis): یہ اس تحقیق کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے جدید نفسیاتی نظریات (مثلاً سگمنڈ فرائیڈ، کارل روجرز اور ایرون بیک کی تھوریز) کا نہج البلاغہ کے فراہم کردہ معالجاتی اصولوں کے ساتھ علمی تقابل (Comparison) کیا جائے گا۔

کیفیاتی تجزیہ (Qualitative Content Analysis): نہج البلاغہ کے منتخب کردہ کلمات اور جملوں کا گہرا باطنی اور اعصابی و نفسیاتی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ ارشادات انسانی ذہن پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

ج: مواد کی ترتیب اور ضابطہ بندی
تمام اکٹھے کیے گئے مواد کو مقالے کے منظور شدہ ابواب کی روشنی میں منطقی ترتیب دی جائے گی۔ سب سے پہلے اسباب کی درجہ بندی (ذاتی، اخلاقی، سماجی اور روحانی) کی جائے گی، اور پھر اسی ترتیب سے نہج البلاغہ کے تجویز کردہ حل (Therapeutic Interventions) کو جدید نفسیاتی اصطلاحات کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے گا، تاکہ مادی دنیا کے لیے ایک متبادل روحانی شفا کاری کا ماڈل تیار کیا جا سکے۔ (57)

1.10 حدودِ تحقیق (Limitations)

کسی بھی سائنسی یا اکیڈمک تحقیق کے لیے حدود کا تعین کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ مطالعہ اپنے اصل ہدف سے نہ بھٹکے اور مروجہ وقت و وسائل کے اندر مکمل ہو سکے۔ (58) چونکہ نہج البلاغہ اسلامی معارف، الہیات، فصاحت اور عمرانیات کا ایک بحرِ بے کنار ہے، اس لیے اس مقالے کے دائرۂ کار کو درج ذیل حدود کے اندر رکھا گیا ہے:

موضوعاتی حدود (Thematic Limitations): یہ تحقیق صرف اور صرف انسانی نفس کے احوال، اعصابی و ذہنی تناؤ (Stress)، اضطراب (Anxiety) اور مایوسی (Depression) جیسے نفسیاتی مسائل کے اسباب اور نہج البلاغہ کی روشنی میں ان کے ممکنہ معالجاتی حل (Therapeutic Interventions) تک محدود رہے گی۔ (59) نہج البلاغہ کے سیاسی، عدالتی، اور خالص تاریخی مباحث اس تحقیق کے دائرۂ کار سے باہر ہیں۔

متنی حدود (Textual Limitations): اس تحقیق کا بنیادی متن علامہ شریف رضیؒ کا مدون کردہ نسخۂ "نہج البلاغہ” ہے، جس میں موجود خطبات، مکتوبات اور کلماتِ حکمت سے ہی استدلال کیا جائے گا۔ متن کی اسناد اور تاریخی توثیق کے مباحث اس مقالے کا اصل موضوع نہیں ہیں۔ (60)

نفسیاتی تناظر کی حدود (Psychological Framework): تقابلی مطالعے کے لیے جدید علمِ نفسیات کی صرف ان مروجہ تھوریز (جیسے فرائیڈ، روجرز، اور ایرون بیک کے نظریات) کو منتخب کیا گیا ہے جو براہِ راست ذہنی پریشانیوں اور اضطراب کی درجہ بندی کرتی ہیں۔ (61) نفسیات کی دیگر شاخیں (جیسے کلینکل سائیکائٹری کی ادویات یا بائیولوجیکل نیورولوجی) اس تحقیق کا حصہ نہیں ہیں۔

1.11 سابقہ تحقیقات کا جائزہ (Literature Review)

مقالے کا یہ حصہ یہ ثابت کرنے کے لیے لازمی ہے کہ اس موضوع پر پہلے کتنا کام ہو چکا ہے اور موجودہ مقالہ کس طرح ایک نیا علمی اضافہ پیش کرتا ہے۔ (62) سابقہ مراجع اور کتب کا اکیڈمک جائزہ درج ذیل تین بنیادی زاویوں سے لیا گیا ہے:

الف: نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی پہلوؤں پر کام
نہج البلاغہ کے اخلاقی اور باطنی نظام پر مسلم دنیا میں کثرت سے لکھا گیا ہے۔ استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ کی تصنیف "سیری در نہج البلاغہ” (نہج البلاغہ کا مقتدرانہ جائزہ) اس سلسلے کا ایک بنیادی ستون ہے۔ مطہری صاحب نے اپنے کام میں انسانی نفس کے احوال، زہد کی حقیقت اور دنیا پرستی سے پیدا ہونے والے باطنی بگاڑ کا تفصیلی فکری نقشہ کھینچا ہے۔ (63) تاہم، ان کا یہ کام زیادہ تر کلامی، فلسفیانہ اور عمومی اخلاقی تناظر میں ہے، جسے جدید کلینکل نفسیات کی اصطلاحات (جیسے GAD یا ڈپریشن) کے سانچے میں نہیں ڈھالا گیا۔

اسی طرح، معروف مسیحی مفکر جارج جرداق نے اپنی معرکہ آرا کتاب "الامام علی: صوت العدالة الإنسانية” میں حضرت علیؑ کی شخصیت کے انسانی، سماجی اور جذباتی پہلوؤں کا حیرت انگیز احاطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپؑ کا کلام کس طرح انسانی روح کو مادی ظلم سے نجات دلاتا ہے۔ (64) لیکن ان کا مرکزِ نگاہ نفسیاتی شفا کاری کی بجائے انسانی حقوق اور سماجی عدل و انصاف رہا ہے۔

ب: اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) کے میدان میں کام
معاصر دور میں اسلامی نفسیات پر مستقل کام کا آغاز ہوا ہے۔ محمد الیاس کھوکھر کی کتاب "جدید نفسیات اور اسلام” میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ سگمنڈ فرائیڈ اور کارل جنگ جیسے ماہرین کے نظریات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ (65) مصنف نے ثابت کیا ہے کہ مادی نفسیات انسان کو دیرپا باطنی طمأنینت دینے میں ناکام رہی ہے کیونکہ وہ روح کے وجود کا انکار کرتی ہے۔ تاہم، اس کتاب کا دائرۂ کار عمومی ہے اور اس میں نہج البلاغہ کے مخصوص اور جامع نفسیاتی ماڈل پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔

مزید برآں، سید محمد رضوی کی کتاب "اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور” اس موضوع سے کچھ قریب تر ہے۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے کلماتِ حکمت سے تزکیۂ نفس کے چند بنیادی اصول اخذ کیے ہیں۔ (66) لیکن ان کی یہ تحقیق بیانیہ حد تک محدود ہے، اور اس میں ذہنی پریشانیوں کے مخصوص اسباب (Etiology) اور معالجاتی طریقہ ہائے کار (Therapeutic Interventions) کا کوئی الگ، منظم اور کلینکل تقابلی جائزہ نہیں ملتا۔

ج: موجودہ تحقیق کا علمی خلا (Research Gap)
سابقہ تحقیقات کے اس جائزے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

نہج البلاغہ کے ملوّن پہلوؤں پر ادبی اور فکری کام تو موجود ہے، مگر اس کے "سائیکو تھراپیٹک” (Psychotherapeutic) اور ذہنی شفا کاری کے پہلو پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسلامی نفسیات پر لکھنے والوں نے زیادہ تر عمومی قرآنی آیات سے استدلال کیا ہے، اور نہج البلاغہ کے اس عظیم علمی و عملی ذخیرے کو چھوڑ دیا ہے جو خود اعصابی تناؤ اور مصائب کے دور میں تحریر کیا گیا تھا۔

چنانچہ، زیرِ نظر مقالہ "نہج البلاغہ کی روشنی میں ذہنی پریشانیوں کے اسباب اور ان کا حل: ایک نفسیاتی مطالعہ” اسی علمی خلا (Research Gap) کو پُر کرنے کے لیے لکھا جا رہا ہے، جو نہج البلاغہ کے کلام کو جدید نفسیاتی امراض کے متبادل معالجاتی نظام کے طور پر اکیڈمک دنیا میں متعارف کروائے گا۔ (67)

نہج البلاغہ اور انسانی نفسیات (Psychological Framework)

2.1 انسانی نفس کا تصور

(امارہ، لوامہ، مطمئنہ) انسانی نفسیات اور اس کے اندرونی محرکات کو سمجھنے کے لیے نفس کی حقیقت کو سمجھنا بنیادی نقطہ آغاز ہے۔ علمِ نفسیات (Psychology) میں نفسِ انسانی کی مختلف کیفیات اور ان کے رویوں پر تفصیلی بحث ملتی ہے۔ قرآنِ مجید نے انسانی نفس کے ارتقا اور اس کی اخلاقی و نفسیاتی حالتوں کو تین بنیادی مدارج (امارہ، لوامہ اور مطمئنہ) میں تقسیم کیا ہے، اور نہج البلاغہ کا نفسیاتی فریم ورک انہی تصورات کی عملی تشریح کرتا ہے۔

1۔ نفس امارہ:
(The Impulsive Self) نفسِ امارہ انسان کی وہ ابتدائی اور مادی حالت ہے جو اسے عقل کے برعکس، فوری لذت اندوزی، جبلتوں کی تسکین اور سرکشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ قرآنی اصطلاح: قرآن میں اس نفس کی کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے: "اور میں اپنے نفس کی براءت نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے”۔ (68)

حضرت علی علیہ السلام نفسِ امارہ کی اس بے لگام کیفیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی بگاڑ کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "آگاہ رہو! گناہ اور خطائیں ایسے سرکش گھوڑوں کی مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو بٹھا دیا گیا ہو اور ان کی لگامیں اتار لی گئی ہوں، پھر وہ انہیں لے کر آگ (تباہی) کے گڑھوں میں کود جائیں”۔  ( 69)

اس خطبے کی شرح میں ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ نفسِ امارہ دراصل انسان کی مادی اور حیوانی قوتوں کا نام ہے، جو عقل کے کنٹرول کو قبول نہیں کرتیں۔ اگر ان قوتوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ پورے انسانی وجود کا نفسیاتی توازن بگاڑ دیتی ہیں۔ (70)

مرتضیٰ مطہری کے مطابق، نہج البلاغہ میں نفس سے جنگ کا مطلب انسانی وجود کی نفی کرنا یا خواہشات کو یکسر ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ نفسِ امارہ کی اندھی جبلتوں کو عقل اور شعور کے تابع کرنا ہے۔ (71)

جدید نفسیاتی تقابل: یہ تصور جدید نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کے پیش کردہ تصور ‘ایڈ’ (Id) سے مماثلت رکھتا ہے۔ فرائڈ کے نزدیک ‘ایڈ’ انسانی ذہن کا وہ لاشعوری حصہ ہے جو صرف فوری لذت اور جبلتوں کی تسکین چاہتا ہے، چاہے وہ اخلاقی اور سماجی طور پر کتنی ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو۔ (72)

2۔ نفس لوامہ
یہ انسانی نفس کا وہ دوسرا درجہ ہے جہاں انسان کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور وہ کسی بھی لغزش، غلطی یا گناہ کے سرزد ہونے پر اندرونی ملامت، شرمندگی اور پشیمانی محسوس کرتا ہے۔ قرآنی اصطلاح: قرآنِ مجید میں اس نفس کی اہمیت کو یوں بیان کیا گیا ہے: "اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں”۔ (73)

نہج البلاغہ میں پشیمانی اور اندرونی ملامت کو اخلاقی و ذہنی اصلاح کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آپ کا قول ہے: "ندامت و پشیمانی دلوں کو پاک کر دیتی ہے۔ (74)

جارج جرداق اس نفسیاتی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے انسان کے اندر کے بیدار ضمیر اور اخلاقی ملامت کو وہ مقام دیا ہے جو انسان کو حیوانیت کے درجے سے اٹھا کر انسانیت کے اعلیٰ افق پر فائز کرتا ہے۔ ان کا کلام انسان کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا کام کرتا ہے۔ (75)

نفسِ لوامہ کو جدید نفسیات کی اصطلاح میں ‘سپر ایگو’ (Super-Ego) یا ضمیر (Conscience) کہا جاتا ہے۔ ماہرِ نفسیات کارل جنگ (Carl Jung) کے مطابق، جب انسان اپنے مروجہ اخلاقی اصولوں کے خلاف جاتا ہے تو اس کا اندرونی دفاعی نظام متحرک ہو کر اسے ملامت کرتا ہے، جو اسے مستقل ذہنی امراض سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ ( 76)

3۔ نفسِ مطمئنہ
یہ نفس کا وہ اعلیٰ ترین اور متوازن درجہ ہے جہاں تمام اندرونی تضادات، اضطراب اور شک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں، اور انسانی ذہن کامل سکون اور اطمینان پا لیتا ہے۔ قرآنی اصطلاح: قرآن میں اس حالت کو یوں مخاطب کیا گیا ہے: "اے اطمینان پا جانے والے نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو”۔ (77)

نہج البلاغہ میں نفسِ مطمئنہ کی حالت کو ہی حقیقی ذہنی صحت اور کامیابی کا معیار مانا گیا ہے۔ امام حسن علیہ السلام کے نام اپنے مکتوب میں آپ فرماتے ہیں: "اپنے دل کو موعظہ سے زندہ رکھ، زہد سے اسے قابو میں کر، اور یقین و اطمینان سے اسے مضبوط بنا”۔ (78)

ابن ابی الحدید کے مطابق، جب نفسِ لوامہ اپنی مسلسل تربیت سے نفسِ امارہ کی سرکشی پر قابو پا لیتا ہے، تو انسان کے اندر ایک مستقل اور پرسکون کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی حالت کا نام نفسِ مطمئنہ ہے۔ (79)

مرتضیٰ مطہری کا کہنا ہے کہ نفسِ مطمئنہ تک پہنچنے کا واحد راستہ تقویٰ اور یادِ الٰہی ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دنیا کے عارضی خوف یا غم سے مضطرب اور ذہنی طور پر بیمار نہیں ہوتا۔ ( 80)

ہیومنسٹک نفسیات (Humanistic Psychology) کے ماہر ابراہام میسلو (Abraham Maslow) نے انسانی ضروریات کے نظریے میں آخری منزل کو ‘تکمیلِ ذات’ (Self-Actualization) کا نام دیا ہے، جہاں انسان اندرونی تضادات سے آزاد ہو کر ذہنی سکون پا لیتا ہے۔ نہج البلاغہ کا پیش کردہ ‘نفسِ مطمئنہ’ اس مادی تصور سے آگے بڑھ کر کائنات کی اصل حقیقت کے ساتھ جڑ کر ابدی اطمینان حاصل کرنے کا نام ہے۔ (81)

2.2 عقل اور دل کا تعلق

انسانی نفسیات میں عقل اور دل کا باہمی تعلق فکری و جذباتی توازن کا بنیادی محور ہے۔ جدید علمِ نفسیات میں جسے ادراک (Cognition) اور جذبات (Emotion) کی ہم آہنگی کہا جاتا ہے، نہج البلاغہ کے فریم ورک میں وہ عقل اور دل کے متوازن تعلق سے عبارت ہے۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر عقل اور دل کے اس گہرے ربط کو واضح کیا ہے جہاں دل کو صرف ایک گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ ادراک اور سوچنے کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے کہ "ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں”۔ (82)

نہج البلاغہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام اسی قرآنی تصور کی نفسیاتی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "انسان کی عقل کا محل اس کا دل ہے اور غصہ جگر میں ہوتا ہے”۔ (83)

اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ خطباتِ علیؑ میں عقل اور دل دو الگ جزیرے نہیں ہیں، بلکہ دل وہ باطنی اوزار ہے جو عقل کے فیصلوں کو قبول کرتا ہے اور اگر دل بیمار ہو جائے تو عقل کی کارکردگی بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ اس نفسیاتی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جب انسان کا دل دنیاوی خواہشات یا تعصبات سے آلودہ ہو جاتا ہے، تو وہ عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے، جس سے انسان کی فیصلہ سازی کی قوت مفلوج ہو جاتی ہے۔ (84)

ان کے مطابق نہج البلاغہ کا اصل مقصد عقل کو دل کی حاکمیت پر اور دل کو عقل کی رہنمائی پر اس طرح مامور کرنا ہے کہ انسان کے اندر کوئی نفسیاتی تضاد باقی نہ رہے۔ اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ کلامِ علیؑ میں عقل اور دل کی جنگ کا کوئی تصور نہیں ملتا، بلکہ وہاں عقل کو ایک رہنما اور دل کو اس جذبے کا مرکز مانا گیا ہے جو انسان کو عمل پر ابھارتا ہے۔ ان کے نزدیک اگر عقل کے پاس دل کی تڑپ نہ ہو تو وہ بے عمل رہتی ہے، اور اگر دل کے پاس عقل کی روشنی نہ ہو تو وہ اندھے جذبات کے تحت انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ (85)

مغربی افکار کے تقابل میں جارج جرداق اس نفسیاتی تعلق کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے عقل اور دل کو ملا کر ایک ایسے انسانِ کامل کا تصور دیا ہے جو بیک وقت نہایت دانشور بھی ہے اور انتہائی حساس ضمیر کا مالک بھی ہے۔ ان کے بقول نہج البلاغہ کی منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہ انسانی عقل کو خشک منطق نہیں بننے دیتی اور دل کو کمزور جذباتیات سے بچا کر دونوں میں ایک حیرت انگیز توازن پیدا کرتی ہے۔ (86)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصور جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کے نظریات سے گہرا ربط رکھتا ہے۔ اس حوالے سے ڈینئیل گولمین یہ کہتے ہیں کہ انسان کی کامیابی اور ذہنی صحت کا دارومدار صرف اس کی عقلی صلاحیت (IQ) پر نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات اور دل کی کیفیات کو عقل کے ذریعے کس طرح منظم (EQ) کرتا ہے۔ (87)

نہج البلاغہ کا یہ پورا فریم ورک انسان کو اسی جذباتی اور عقلی توازن کی تربیت دیتا ہے تاکہ وہ ایک صحت مند اور پرسکون زندگی گزار سکے۔

2.3 خوف

غم اور اضطراب کی حقیقت انسانی نفسیات میں منفی جذبات جیسے خوف، غم اور اضطراب (Anxiety) ذہنی صحت کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید انسان کی اس فطری کمزوری کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ "بیشک انسان بڑا ہی بے صبرا اور حریص پیدا ہوا ہے، جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اضطراب اور گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے”۔ (88) نہج البلاغہ میں ان نفسیاتی کیفیات کی حقیقت اور ان کے اثرات پر گہری بحث ملتی ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام خوف اور وہم کے نفسیاتی نقصان کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کا نتیجہ محرومی ہے”۔ (89)

آپؑ کے اس کلام سے یہ نفسیاتی نکتہ سامنے آتا ہے کہ اکثر اوقات کسی آنے والی مصیبت کا خیالی خوف انسان کو اس حقیقی مصیبت سے زیادہ مفلوج کر دیتا ہے، اسی لیے آپؑ کا ایک اور قول ہے کہ "جب کسی چیز سے ڈر لگے تو اس میں کود جاؤ، کیونکہ اس کا خوف اس تکلیف سے زیادہ بڑا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے”۔ (90)

اس حوالے سے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ کلامِ علیؑ انسان کو خیالی وسوسوں اور مستقبل کے مہم جویانہ خوف سے نکال کر حال کی حقیقت کا سامنا کرنا سکھاتا ہے۔ ان کے مطابق، غم ماضی کے نقصانات کا مرثیہ ہے اور خوف مستقبل کے خطرات کا وہم، اور جو انسان ان دونوں میں الجھا رہتا ہے، اس کی عقل مفلوج ہو جاتی ہے۔ (91)

اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں خوف اور غم کو انسان کی معنوی اور نفسیاتی کمزوری کی علامت مانا گیا ہے۔ ان کے نزدیک، جب انسان کا خدا پر توکل کمزور ہوتا ہے، تو اس کے اندر تنہائی، بے یقینی اور مستقل اضطراب جنم لیتا ہے، جبکہ نہج البلاغہ کا فلسفہ انسان کو ان تمام باطنی بیماریوں سے آزاد کر کے ایک محکم اور نڈر شخصیت میں ڈھالتا ہے۔ (92)

اس نفسیاتی زاویے پر جارج جرداق یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے انسان کو بزدلی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے امید اور شجاعت کا وہ درس دیا ہے جو نفسیاتی طور پر انسان کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے بقول، نہج البلاغہ کی تعلیمات انسان کو حوادثِ زمانہ کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہونا سکھاتی ہیں تاکہ وہ غم کی دلدل میں دھنسنے کے بجائے آگے بڑھ سکے۔ (93)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ طرزِ فکر علمی سلوکیاتی تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy CBT) کے بنیادی اصولوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس مکتبِ فکر کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے حالات کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتا، بلکہ ان حالات کے بارے میں اپنے خیالات اور منفی سوچ کی وجہ سے اضطراب کا شکار ہوتا ہے۔ (94) نہج البلاغہ انسان کے اسی فکری زاویے (Cognitive Reframing) کو تبدیل کر کے اسے باطنی سکون فراہم کرتی ہے۔

2.4 صبر و تحمل کی نفسیاتی اہمیت

انسانی نفسیات میں صدمات، دباؤ (Stress) اور بحرانوں کے دوران ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے صبر و تحمل کو سب سے اہم دفاعی نظام مانا گیا ہے۔ قرآنِ مجید صبر کو ایک نفسیاتی طاقت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ "اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔ (95) نہج البلاغہ میں صبر کو صرف ایک اخلاقی فضیلت نہیں، بلکہ انسانی عقل اور ارادے کی پختگی کا معیار قرار دیا گیا ہے۔

امیر المؤمنین علیہ السلام صبر کی نفسیاتی اور وجودی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "ایمان میں صبر کا وہی مقام ہے جو جسم میں سر کا ہوتا ہے، جس طرح سر کے بغیر جسم کا کوئی فائدہ نہیں، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں”۔ (96) آپؑ کے اس کلام سے یہ نفسیاتی نکتہ ثابت ہوتا ہے کہ صدمے کے وقت جذباتی ہیجان پر قابو پانا ہی انسان کو ذہنی طور پر ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

اس حوالے سے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں صبر کا مطلب بزدلی یا حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی باطنی قوت کا نام ہے جو انسان کو مصائب کے ہجوم میں بھی اپنے مقصد پر قائم رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، جو انسان صدمے کے ابتدائی لمحات میں اپنے جذبات پر قابو پا لیتا ہے، وہ اپنی عقل کو مغلوب ہونے سے بچا لیتا ہے اور یہی حقیقی شجاعت ہے۔ (97)

اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ کلامِ علیؑ میں صبر کو ایک متحرک قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے اندر جرات پیدا کرتی ہے۔ ان کے نزدیک، صبر انسان کے اعصابی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور اسے پے در پے آنے والی ناکامیوں کے باوجود مایوسی کی دلدل میں گرنے سے روکتا ہے، جس سے معاشرے میں ایک مضبوط اور باوقار شخصیت جنم لیتی ہے۔ (98)

اس نفسیاتی زاویے پر جارج جرداق یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے انسانی تاریخ کو صبر و استقامت کا جو عملی درس دیا، وہ انسانی ارادے کی عظمت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ ان کے بقول، نہج البلاغہ کی یہ تعلیم کہ "صبر کامیابی کا ضامن ہے چاہے طویل وقت ہی کیوں نہ لگے” انسان کے اندر مستقل مزاجی پیدا کرتی ہے اور اسے وقتی جذباتی فیصلوں کے سنگین نتائج سے محفوظ رکھتی ہے۔ (99)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصور لچک پذیری (Resilience) اور خود ضابطگی (Self-Regulation) کے جدید نظریات سے گہرا ربط رکھتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرینِ نفسیات یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ دباؤ والے حالات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ذہنی امراض اور اعصابی تناؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔ (100) نہج البلاغہ کا یہ پورا فریم ورک انسان کو اسی باطنی استحکام کی تربیت دیتا ہے

2.5 امید اور توکل کا کردار

انسانی نفسیات میں مایوسی اور ناامیدی کو ذہنی زوال اور نفسیاتی امراض کی سب سے بڑی وجہ مانا جاتا ہے، جبکہ امید اور توکل انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید مایوسی کی نفی اور توکل کی نفسیاتی طاقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ "اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے” (101) نہج البلاغہ میں امید پسندی اور خدا پر بھروسے کو انسانی شخصیت کا ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام توکل اور امید کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "حقیقتِ یقین یہ ہے کہ تم اللہ کے ہاتھ میں موجود چیز پر اس سے زیادہ بھروسہ کرو جو تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے”۔ (102)

آپؑ کے اس کلام سے یہ نفسیاتی نکتہ سامنے آتا ہے کہ جب انسان اپنے مادی وسائل سے بالاتر ہو کر ایک ابدی طاقت پر بھروسہ کر لیتا ہے، تو اس کے اندر سے سیکیورٹی کا خوف اور مستقبل کی بے چینی یکسر ختم ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے فرائض کو پوری محنت سے ادا کرنے کے بعد نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دینے کا نام ہے۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ فکر انسان کو لایعنی فکرمندی سے بچاتا ہے اور اسے کام کے دوران ذہنی یکسوئی فراہم کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا اصل مالک خدا ہے۔ (103)

اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ کلامِ علیؑ میں امید کو ایک ایسی توانائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کو جمود سے نکال کر متحرک کرتی ہے۔ ان کے نزدیک، توکل انسان کے اندر ایک مثبت نفسیاتی لہر پیدا کرتا ہے جو اسے سخت ترین حالات میں بھی یہ یقین دلاتی ہے کہ اندھیرے کے بعد اجالا لازمی ہے، اور یہی یقین ذہنی صحت کی اصل بنیاد ہے۔ (104)

اس نفسیاتی زاویے پر جارج جرداق یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے انسان کو مایوسی کے خلاف جو فکری ہتھیار دیا ہے، وہ دنیا کے کسی اور فلسفے میں نہیں ملتا۔ ان کے بقول، نہج البلاغہ کی یہ روح کہ "مایوسی انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے” انسان کو ہمیشہ جوان عزم رکھنے پر ابھارتی ہے اور اسے ہر قسم کے اعصابی دباؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔ (105)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصور مثبت نفسیات (Positive Psychology) اور امید کے نظریات (Hope Theory) سے گہرا ربط رکھتا ہے۔ اس حوالے سے چارلس سنائیڈر یہ کہتے ہیں کہ جن افراد میں امید کا گراف بلند ہوتا ہے، وہ نہ صرف مشکلات کا بہتر حل تلاش کرتے ہیں بلکہ ان میں صدمات سے نکلنے کی صلاحیت (Bouncing Back) بھی عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ (106) نہج البلاغہ انسان کے اندر اسی اعلیٰ درجے کی امید اور توکل کو پیدا کر کے اسے ذہنی طور پر ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے۔

2.6 روحانی سکون کے اصول

جدید دور میں انسان تمام تر مادی آسائشوں کے باوجود باطنی اضطراب اور ذہنی سکون کی کمی کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ روحانیت سے دوری ہے۔ قرآنِ مجید باطنی اطمینان کا حتمی اصول بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ "آگاہ ہو جاؤ! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے”۔ (107)

نہج البلاغہ میں روحانی سکون کے حصول کے لیے مادی وابستگیوں کو ترک کرنے اور باطنی پاکیزگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام باطنی سکون کا اصل راز زہد اور قناعت کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "قناعت ایسا سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا”۔ (108)

آپؑ کے اس کلام سے یہ نفسیاتی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حقیقی سکون بیرونی حالات کے تابع نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کے اپنے اندرونی رویوں، خواہشات پر کنٹرول اور زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد کے تحت گزارنے کا نام ہے۔ اس حوالے سے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں بیان کردہ زہد انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں ہے، بلکہ اسے دنیا کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان مادی چیزوں کی حد سے زیادہ محبت سے آزاد ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کا حسد، لالچ اور رقابت ختم ہو جاتی ہے، جو کہ ذہنی تناؤ اور باطنی بے سکونی کی اصل جڑ ہیں۔ (109)

اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ کلامِ علیؑ میں روحانی سکون کا مطلب صوفیانہ تنہائی اختیار کرنا نہیں ہے، بلکہ تقویٰ کے ذریعے اپنے اعصاب اور نفس پر ایسا کنٹرول حاصل کرنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی حادثہ انسان کے باطنی توازن کو ہلا نہ سکے۔ ان کے نزدیک، ذکر اور بندگی انسان کو کائنات کے اصل منبع سے جوڑ دیتے ہیں، جس سے عارضی نقصانات کا خوف مٹ جاتا ہے۔ (110)

اس نفسیاتی زاویے پر جارج جرداق یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے انسانی روح کو مادیت کے بوجھ سے آزاد کرانے کے لیے جو اصول دیے ہیں، وہ انسان کو ایک غیر معمولی نفسیاتی آزادی عطا کرتے ہیں۔ ان کے بقول، نہج البلاغہ کی یہ روح کہ "دنیا تمہارے لیے ایک عارضی منزل ہے” انسان کو ہر قسم کے ذہنی بوجھ اور ڈیپریشن سے بچاتی ہے کیونکہ وہ دنیا کے عارضی غموں کو اپنے اوپر طاری نہیں کرتا۔ (111)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اصول مائنڈ فلنس (Mindfulness) اور باطنی ہم آہنگی (Inner Harmony) کے جدید نظریات سے گہرا ربط رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے وکٹر فرینکل یہ کہتے ہیں کہ انسان مادی آسائشوں سے نہیں بلکہ زندگی کو ایک اعلیٰ اور معنوی مقصد دینے سے ذہنی سکون پاتا ہے۔ (112) نہج البلاغہ انسان کو اسی اعلیٰ معنوی مقصد اور خدا کی یاد سے جوڑ کر حقیقی اور دائمی روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔

2.7 (اخلاقی تربیت اور ذہنی صحت)

بالکل اسی رواں، سادہ اور علمی پیراگرافنگ کی ترتیب میں: اخلاقی تربیت اور ذہنی صحت جدید اخلاقی نفسیات میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ انسان کے اخلاقی رویے اور اس کی ذہنی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ منفی اخلاقی اوصاف جیسے حسد، کینہ اور تکبر براہِ راست اعصابی تناؤ اور نفسیاتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ قرآنِ مجید تزکیہِ اخلاق کو ذہنی اور روحانی فلاح کے لیے لازم قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ "یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں دبا دیا”۔ (113)

نہج البلاغہ میں اخلاقی تربیت کو ذہنی امراض کے علاج اور ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ مانا گیا ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام اخلاقی کمزوریوں کے نفسیاتی اثرات کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "حسد کرنے والے کو کبھی سکون نہیں ملتا”۔ (114) آپؑ کے اس کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اخلاقی برائیاں پہلے انسان کے اپنے باطنی امن کو تباہ کرتی ہیں اور بعد میں سماجی رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اس حوالے سے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں اخلاقیات محض چند خشک قوانین کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ذہن کو پاکیزہ اور متوازن رکھنے کا ایک عملی نسخہ ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان عفو و درگزر، سخاوت اور سچائی جیسے اوصاف کو اپنا لیتا ہے، تو وہ ان تمام اندرونی الجھنوں اور احساسِ جرم سے آزاد ہو جاتا ہے جو انسان کو نفسیاتی طور پر کمزور اور بیمار بناتی ہیں۔ (115)

اسی تسلسل میں مرتضیٰ مطہری یہ کہتے ہیں کہ کلامِ علیؑ میں اخلاقی تربیت کا براہِ راست نتیجہ ذہنی صحت اور باطنی شفا کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان کے نزدیک، اخلاقی طور پر تربیت یافتہ انسان کے اندر ایک ایسی لچک پذیری پیدا ہوتی ہے جو اسے معاشرتی دباؤ اور لوگوں کے منفی رویوں کے باوجود اپنے اعصابی توازن کو کھونے نہیں دیتی، اور یہی ایک صحت مند شخصیت کی علامت ہے۔ (116)

اس نفسیاتی زاویے پر جارج جرداق یہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے اخلاقیات کو انسانی حقوق اور ذہنی آزادی کے ساتھ اس طرح جوڑا ہے کہ وہ فرد کے باطن کو جلا بخشتی ہے۔ ان کے بقول، نہج البلاغہ کی یہ تعلیم کہ "اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرو” انسان کو خود شناسی کی طرف لے جاتی ہے، جس سے اس کا فکری انتشار ختم ہو جاتا ہے اور وہ نفسیاتی طور پر ایک مطمئن زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے۔ (117)

جدید نفسیاتی اسکولوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصور اخلاقی ترقی کے نظریات (Theory of Moral Development) اور مثبت سماجی رویوں (Prosocial Behavior) سے گہرا ربط رکھتا ہے۔ اس حوالے سے لارنس کوہلبرگ یہ کہتے ہیں کہ اخلاقی شعور کا اعلیٰ ترین درجہ انسان کو باطنی ہم آہنگی اور ذہنی پختگی عطا کرتا ہے، جس سے وہ معاشرے کا ایک مفید اور پرسکون رکن بن جاتا ہے۔ (118) نہج البلاغہ انسان کی اسی اخلاقی سطح کو بلند کر کے اسے بہترین ذہنی اور نفسیاتی صحت فراہم کرتی ہے۔

باب نمبر 3: ذہنی پریشانیوں کے اسباب (Etiology of Psychological Distress)

3.1: دنیا پرستی اور مادہ پرستی (Materialism and Worldliness)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں دنیا پرستی اور مادہ پرستی کو انسانی نفس کی سب سے بڑی گمراہی اور تمام تر ذہنی و نفسیاتی اضطراب کی جڑ قرار دیا ہے، کیونکہ جب انسان فانی چیزوں کو اپنی زندگی کا محور بنا لیتا ہے تو وہ مستقل خوف اور حسرت کا شکار رہتا ہے۔ (119)

شارحِ نہج البلاغہ ابن ابی الحدید نے اس نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا کی محبت انسان کے اندر حرص اور طمع کو اس حد تک بڑھا دیتی ہے کہ اس کا باطنی سکون بالکل تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ہر وقت مزید پانے کی اندھی دوڑ میں مبتلا رہتا ہے۔ (120)

علامہ مرتضیٰ مطہری نے اس مادہ پرستانہ سوچ کے نفسیاتی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ جب انسان کا ہدف صرف مادی آسائشیں بن جائیں، تو اس کی "انا” (Ego) بیمار ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے حقیقی وجود سے دور ہو کر شدید وجودی بحران (Existential Crisis) کا شکار ہو جاتا ہے۔ (121)

جارج جرداق کے مطابق، نہج البلاغہ میں دنیا پرستی کی جو مذمت کی گئی ہے، اس کا مقصد انسان کو رہبانیت سکھانا نہیں بلکہ اسے مادی اشیاء کی غلامی سے نجات دلانا ہے، تاکہ وہ ذہنی طور پر ایک آزاد اور پرسکون زندگی گزار سکے۔ (122)

جدید ماہرینِ نفسیات، جیسے کہ ایرک فروم (Erich Fromm) اپنے "To Have or To Be” کے نظریے میں اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنی خوشی کا انحصار مادی اشیاء کو جمع کرنے (Having) پر رکھتے ہیں، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ڈپریشن اور اینگزائٹی (Anxiety) کا شکار ہوتے ہیں جو اپنی ذات کی فکری و اخلاقی نشو و نما (Being) پر توجہ دیتے ہیں۔

3.2 گناہ اور روحانی بے چینی

نہج البلاغہ کے فکری اور فلسفیانہ نظام میں گناہ محض ایک اخلاقی نافرمانی یا کسی بیرونی قانون کی خلاف ورزی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی روح کے فطری توازن اور اندرونی نظامِ صحت کو درہم برہم کرنے والا سب سے بڑا عامل ہے۔ جب انسان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے باطن میں ایک شدید قسم کا تصادم (Inner Conflict) جنم لیتا ہے، جسے جدید نفسیات میں ‘نفسیاتی انتشار’ یا باطنی بے چینی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے انسانی نفسیات کے اس نازک پہلو کو اپنے کلام میں جگہ جگہ اجاگر فرمایا ہے۔

قرآنِ کریم اس باطنی اور روحانی بے چینی کی بنیاد کو ان الفاظ میں واضح فرماتا ہے:
"وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا”۔ (123)
اور جس نے میرے ذکر سے منہ موڑا، اس کے لیے زندگی کی معیشت تنگ ہو جائے گی۔
آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ خدا کی یاد سے دوری اور گناہ کی راہ اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ زندگی کی اندرونی تنگی اور بے سکونی کی صورت میں نکلتا ہے، خواہ انسان کے پاس ظاہری آسائشیں ہی کیوں نہ ہوں۔

اس قرآنی تصور کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ گناہ دراصل انسان کی اپنی حقیقی فطرت کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ جب انسان گناہ کرتا ہے، تو وہ اپنے ضمیر پر ایک بوجھ ڈالتا ہے جو اسے مسلسل اندر سے کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ مطہری کے نزدیک، نہج البلاغہ میں تقویٰ کو جو مرکزیت حاصل ہے وہ اسی لیے ہے کیونکہ تقویٰ انسان کو اس باطنی انتشار اور روحانی اضطراب سے بچا کر ایک نفسیاتی تحفظ اور اندرونی آزادی فراہم کرتا ہے۔ (124)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے گناہوں کے اسی نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا: "لَا تَجِدُ عُقُوبَةً أَشَدَّ مِنَ الْقَسْوَةِ” اور ایک مقام پر گناہوں کے اثرات کے بارے میں فرمایا کہ کچھ بلائیں اور سختیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہیں۔ نہج البلاغہ کے مطابق، گناہ دل کو سخت کر دیتا ہے، اور سخت دل کبھی سکون کا تجربہ نہیں کر سکتا۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ گناہ انسانی قلب پر ایک تاریک پردے کی مانند چھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جب دل گناہوں کی کثرت سے تاریک ہو جاتا ہے تو اس کی وہ لطافت اور نورانیت ختم ہو جاتی ہے جو اسے طمأنینت (سکون) بخشتی ہے، نتیجتاً انسان ایک ایسی دائمی بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے جس کا علاج دنیاوی مادی لذتوں میں ممکن نہیں ہوتا۔ (125)

اسی طرح جارج جرداق نے انسانی حقوق اور انسانی نفسیات کے تناظر میں علی علیہ السلام کے کلام کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک گناہ اور ظلم صرف معاشرتی توازن کو ہی نہیں بگاڑتے، بلکہ یہ خود گناہ گار اور ظالم کے اپنے وجود کو سب سے پہلے کھوکھلا کرتے ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، جو شخص عدل اور ضمیر کی آواز کے خلاف جا کر گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، وہ اپنے اندر ایک دوزخ دہکا لیتا ہے؛ اس کا خوف، اس کی ملامتِ ضمیر اور اس کی باطنی افراتفری اسے کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ (126)

قرآنِ مجید دلوں کے حقیقی سکون کا فارمولا ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”۔ (127)
آگاہ ہو جاؤ کہ دلوں کو اطمینان صرف اللہ کے ذکر سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

پس جب انسان گناہ کے ذریعے ذکرِ الہیٰ اور اطاعت سے دور ہوتا ہے، تو طمأنینت کا یہ سایہ اس کے سر سے اٹھ جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک نامعلوم خوف، پشیمانی اور مستقل روحانی بے چینی لے لیتی ہے، جس کا اظہار جدید اصطلاح میں مختلف نفسیاتی امراض اور ذہنی دباؤ کی صورت میں ہوتا ہے۔

3.3 حرص، حسد اور غصہ

نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی نظام میں حرص (Greed)، حسد (Envy) اور غصہ (Anger) کو ایسی باطنی بیماریاں قرار دیا گیا ہے جو انسانی عقل کو مفلوج کر کے براہِ راست شدید ترین ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اضطراب کا سبب بنتی ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ان تینوں رذائل کے باہمی گٹھ جوڑ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی اذیت کو اپنے کلام میں نہایت گہرائی کے ساتھ آشکار فرمایا ہے۔

قرآنِ کریم ان منفی جذبات، بالخصوص حسد اور حرص کے نفسیاتی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ”۔ (128)
اور جو اپنے نفس کے بخل اور حرص سے بچا لیا گیا، پس وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نفسانی حرص سے آزادی ہی حقیقی کامیابی اور باطنی سکون کی کلید ہے، جبکہ اس میں مبتلا انسان فلاح اور اطمینانِ قلب سے محروم رہتا ہے۔

اس حوالے سے علامہ مرتضیٰ مطہری نہج البلاغہ کے خطبات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کے نزدیک حرص اور حسد انسان کے اندر ایک ایسی لامتناہی آگ بھڑکا دیتے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔ مطہری کے مطابق، حریص انسان ہمیشہ مستقبل کے خوف اور کمی کے احساس میں جیتا ہے، جبکہ حاسد دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے۔ یہ دونوں کیفیات انسان کو اس کے "حال” (Present) سے محروم کر دیتی ہیں اور وہ ایک ایسی نفسیاتی قید میں چلا جاتا ہے جہاں اطمینان کا گزر ممکن نہیں ہوتا۔ نہج البلاغہ کی رو سے، ان باطنی امراض کا علاج زہد اور رضا بالقضا میں ہے جو روح کو سکون دیتے ہیں۔ (129)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حسد کے جسمانی اور ذہنی اثرات کو بیان کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ایک انتہائی بلیغ جملہ ارشاد فرمایا: "صِحَّةُ الْجَسَدِ مِنْ قِلَّةِ الْحَسَدِ” (جسم کی صحت حسد کی کمی میں ہے) اور ایک دوسرے مقام پر حاسد کی ذہنی کیفیت پر فرمایا: "الْعَجَبُ لِغَفْلَةِ الْحُسَّادِ عَنْ سَلَامَةِ الْأَجْسَادِ”۔ تعجب ہے حاسدوں کی اپنی جسمانی سلامتی سے غفلت پر!۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حسد محض ایک اخلاقی گناہ نہیں بلکہ ایک جان لیوا نفسیاتی عارضہ ہے۔ جب انسان حسد کی آگ میں جلتا ہے تو اس کا نظامِ ہضم، اس کی نیند اور اس کا پورا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، حاسد اپنے محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے نقصان سے پہلے خود اپنے وجود کو ذہنی تناؤ اور باطنی فرسودگی کے ذریعے ختم کر رہا ہوتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی سزا ہے۔ (130)

جہاں تک غصے کا تعلق ہے، نہج البلاغہ میں اسے جنون کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنینؑ فرماتے ہیں: "الْغَضَبُ ضَرْبٌ مِنَ الْجُنُونِ لِأَنَّ صَاحِبَهُ يَنْدَمُ، فَإِنْ لَمْ يَنْدَمْ فَجُنُونُهُ مُسْتَحْكَمٌ”۔ غصہ جنون کی ایک قسم ہے کیونکہ غصہ کرنے والا بعد میں ضرور پشیمان ہوتا ہے، اور اگر وہ پشیمان نہ ہو تو اس کا جنون پکا ہو چکا ہے۔

جارج جرداق نے اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی موازنے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ نے غصے، حرص اور حسد کو انسانی شخصیت کے توازن کے لیے سب سے بڑا خطرہ مانا ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، جب انسان غصے کی حالت میں ہوتا ہے یا حرص کی اندھی دوڑ میں شامل ہوتا ہے، تو وہ اپنے شعور کا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔ یہ کیفیات انسان کے اندر ایک مستقل ہیجان اور بوجھ پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے سماجی ماحول اور اپنوں سے کٹ جاتا ہے اور ایک بدترین تنہائی اور باطنی خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ (131)

قرآنِ مجید غصے پر قابو پانے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی باطنی خوبصورتی کا ذکر یوں کرتا ہے:
"وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”۔ (132)
اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے پورے اخلاقی ڈھانچے میں، حرص، حسد اور غصے پر قابو پانا صرف آخرت کی نجات کے لیے نہیں، بلکہ اسی دنیا میں ذہنی انتشار، اینگزائٹی (Anxiety) اور اعصابی دباؤ سے نجات حاصل کرنے کا واحد نفسیاتی راستہ ہے

3.4 مایوسی اور ناامیدی

نہج البلاغہ کے فکری دریچوں میں مایوسی (Despair) اور ناامیدی (Hopelessness) کو محض ایک عارضی کیفیت نہیں، بلکہ روح کا قتل اور عقل کی سب سے بڑی تاریکی قرار دیا گیا ہے۔ جدید نفسیات میں مایوسی کو شدید ذہنی دباؤ (Depression) کی جڑ مانا جاتا ہے، جہاں انسان مستقبل سے بالکل ناامید ہو کر اپنی تخلیقی اور عملی صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں ناامیدی کو انسان کے باطنی وجود کے لیے ایک مہلک زہر سے تعبیر فرمایا ہے، جو اس کے نفسیاتی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔

قرآنِ کریم مایوسی کو کفر کے مساوی لاتے ہوئے نہایت سختی سے منع فرماتا ہے:
"وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ”۔ (133)
اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔
یہ آیت مبارکہ واضح کرتی ہے کہ ناامیدی دراصل مابعد الطبیعاتی سطح پر خدا کی قدرت اور اس کی ربوبیت پر یقین کی کمی سے پیدا ہوتی ہے، جو انسان کو ایک گہرے نفسیاتی اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔

اس قرآنی فلسفے کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں رقم طراز ہیں کہ نہج البلاغہ کا بنیادی مقصد انسان کے اندر امید کی شمع کو روشن رکھنا ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام انسان کو کائنات کے تعمیری نظام سے جوڑتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس کائنات میں اکیلا اور بے یار و مددگار ہے، تو وہ مایوسی کے دلدل میں گر جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ سخت ترین حالات کے بعد بھی آسانی کا دور آتا ہے، اور یہی یقین انسانی ذہن کو اینگزائٹی اور ڈپریشن سے محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا نفسیاتی ہتھیار ہے۔ (134)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے کلماتِ قصار میں مایوسی کے اس نفسیاتی حملے اور اس کے علاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"الْفَقِيهُ كُلُّ الْفَقِيهِ مَنْ لَمْ يُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ، وَلَمْ يُؤْمِنْهُمْ مِنْ مَكْرِ اللهِ”۔
کامل فقیہ اور دانا وہ ہے جو لوگوں کو خدا کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور نہ ہی انہیں خدا کی تدبیر سے بے خوف کرے۔

آپؑ نے ایک اور مقام پر انسان کو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ خدا کی رحمت سے ناامید ہو جانا ہے۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ناامیدی انسان کی قوتِ ارادی (Willpower) کو مفلوج کر دیتی ہے۔ جب انسان باطنی طور پر یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ اب کچھ نہیں بدل سکتا، تو اس کا اعصابی نظام اور اس کی ذہنی قوتیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امیر المؤمنینؑ نے انسان کو ہمیشہ متحرک اور پرامید رہنے کی تلقین اس لیے کی ہے کیونکہ ناامید ذہن شیطان کا مسکن بن جاتا ہے، جہاں صرف وساوس، اداسی اور باطنی انتشار جنم لیتے ہیں۔ (135)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی انقلابی شخصیت اور کلام کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ زندگی اور امید کے پیامبر ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے کلام میں وہ جادوئی اثر ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں اور مایوس ذہنوں میں دوبارہ جینے کی امنگ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ علیؑ نے بدترین سماجی و سیاسی حالات میں بھی کبھی مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی سکھایا کہ حالات خواہ کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں، عزم اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے، کیونکہ ناامیدی انسان کو جیتے جی مار دیتی ہے اور اس کے باطن کو ایک قبرستان بنا دیتی ہے۔ (136)

قرآنِ مجید انسان کی اسی باطنی ٹوٹ پھوٹ کے علاج کے لیے ایک اور مقام پر اعلان فرماتا ہے:
"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ”۔ (137)
آپ فرما دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

پس نہج البلاغہ کے نفسیاتی نظام کے تحت، امید محض ایک خوش فہمی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی ذات پر توکل کا وہ عملی مظاہرہ ہے جو انسان کو ذہنی تناؤ، مایوسی کی دلدل اور باطنی بے سکونی سے نکال کر اطمینانِ قلب کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔

3.5 تنہائی اور معاشرتی بے ربطی

نہج البلاغہ کے سماجی اور نفسیاتی فلسفے میں انسان کو ایک سماجی وجود تسلیم کیا گیا ہے، جس کی ذہنی صحت کا دارومدار صحت مند معاشرتی تعلقات پر ہے۔ جب انسان اپنوں سے کٹ جاتا ہے، یا معاشرتی بے ربطی (Social Alienation) اور تنہائی (Loneliness) کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا باطن شدید خلفشار اور اینگزائٹی کی زد میں آ جاتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں الگ تھلگ رہنے، دوستوں کو کھو دینے اور معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنے کو انسانی روح کے لیے ایک تکلیف دہ عذاب قرار دیا ہے۔

قرآنِ کریم معاشرتی اتحاد، باہمی جڑت اور تنہائی پسندی کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”۔ (138)
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کٹ کر اکیلے رہ جانے کے بجائے ایک صالح اجتماعیت کا حصہ بنے رہنا ہی انسانی بقا اور باطنی استحکام کا ذریعہ ہے۔

اس سماجی اور نفسیاتی اصول کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو رہبانیت (Isolation) اور سماج سے فرار کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کے خطبات یہ سکھاتے ہیں کہ حقیقی زہد یہ نہیں کہ انسان غاروں یا جنگلوں میں جا کر چھپ جائے اور تنہائی اختیار کر لے، بلکہ معاشرے کے اندر رہ کر اچھے اخلاق کے ساتھ لوگوں کے دکھ سکھ کا حصہ بننا اصل کمال ہے۔ مطہری کے مطابق، جب انسان معاشرتی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر کے تنہائی کی کھائی میں گرتا ہے، تو وہ مختلف باطنی وساوس اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ (139)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے دوستوں سے محرومی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی کو سب سے بڑی عاجزی قرار دیتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ اکْتِسَابِ الْإِخْوَانِ، وَأَعْجَزُ مِنْهُ مَنْ ضَیَّعَ مَنْ ظَفِرَ بِهِ مِنْهُمْ”۔
سب سے زیادہ عاجز اور کمزور وہ شخص ہے جو دوست بنانے میں ناکام رہے، اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ ہے جو پائے ہوئے دوستوں کو بھی کھو دے۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ دوست اور مخلص ساتھی انسان کے لیے ایک نفسیاتی پناہ گاہ (Psychological Support System) کی مانند ہوتے ہیں۔ جب انسان زندگی کے مصائب میں اکیلا رہ جاتا ہے اور اس کا کوئی ہمدرد نہیں ہوتا، تو تنہائی کا یہ احساس اسے اندر سے کھا جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امیر المؤمنینؑ نے معاشرتی روابط کو مضبوط رکھنے پر اس لیے زور دیا ہے کیونکہ سماجی بے ربطی انسان کو بدگمانی، چڑچڑے پن اور ذہنی تناؤ کی اس دلدل میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے اکیلے نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ (140)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے کلام میں موجود سماجی ہم آہنگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک تنہائی صرف جسمانی اکیلے پن کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل تنہائی وہ ‘نفسیاتی تنہائی’ ہے جو انسان کو اپنے معاشرے میں اجنبی بنا دیتی ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ نے ایسے حکمرانوں اور افراد کی سخت مذمت کی ہے جو اپنے گرد ایک خول چڑھا کر عوام اور سماج سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو انسان خود کو دوسروں سے کاٹ لیتا ہے، وہ کائنات کے دھارے سے کٹ جاتا ہے؛ اس کی یہ معاشرتی بے ربطی اس کے اندر ایک گہرا خالی پن پیدا کر دیتی ہے، جو بالاخر اسے ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔ (141)

قرآنِ مجید باہمی محبت اور سماجی جڑت کے اسی نفسیاتی سکون کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا”۔ (142)
پس اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، تو تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔

پس نہج البلاغہ کے نزدیک، معاشرتی روابط کو برقرار رکھنا اور تنہائی کے خول سے نکل کر انسانوں کے کام آنا محض ایک سماجی فریضہ نہیں، بلکہ باطنی اکیلے پن، ڈیپریشن اور فکری انتشار سے نجات پانے کا ایک لازمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.6 خوفِ مستقبل اور فکری انتشار

مستقبل کا خوف (Anticipatory Anxiety) اور فکری انتشار (Cognitive Disarray) جدید نفسیات کے مطابق ذہنی تناؤ اور اعصابی امراض کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔ انسان جب اپنے آنے والے کل، معاشی حالات، یا حادثات کے متعلق ضرورت سے زیادہ اندیشوں کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا موجودہ لمحہ (Present) مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری نظام میں خوفِ مستقبل کو توکل کی کمی اور وساوسِ نفس کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، جو انسان کی عقلی و نفسیاتی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔
قرآنِ کریم مستقبل کے اسی فرضی خوف اور معاشی تنگی کے اندیشوں کے پیچھے کارفرما منفی قوت کی نشاندہی ان الفاظ میں کرتا ہے:
"الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا”۔ (143)
شیطان تمہیں مفلسی اور تنگی سے ڈراتا ہے اور تمہیں برائی کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ آنے والے وقت کا وہ خوف جو انسان کو بے بس اور فکری انتشار میں مبتلا کر دے، وہ دراصل ایک شیطانی وسوسہ ہے جو خدا کے فضل پر یقین کو کمزور کرتا ہے۔
اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو ‘حال’ میں جینا اور خدا کی تدبیر پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، جب انسان مستقبل کے ان حادثات کا خوف پال لیتا ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے، تو وہ اپنی فکری توانائیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ علی علیہ السلام کا کلام انسان کے اندر ایک ایسا فکری استحکام پیدا کرتا ہے جہاں وہ حوادثِ زمانہ کے خوف سے بالا تر ہو کر پرسکون ذہن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ (144)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے مستقبل کے اندیشوں اور فکری انتشار کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے اپنے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"الْهَمُّ نِصْفُ الْهَرَمِ” (مستقبل کی فکر اور اندیشہ آدھی بڑھاپا ہے)۔ ایک اور مقام پر فکری انتشار اور توکل کی کمی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رزق کی خاطر کل کی چنتا نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمہاری زندگی کا حصہ ہے تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔
ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘الہمّ’ سے مراد وہ باطنی اضطراب اور ذہنی بوجھ ہے جو انسان آنے والے کل کے خوف میں اپنے سر پر سوار کر لیتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ خوف انسان کے اعصابی نظام کو اس طرح بوڑھا اور خستہ کر دیتا ہے جیسے کوئی شدید جسمانی بیماری۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے انسان کو ذہنی انتشار سے بچانے کے لیے یہ سنہری اصول دیا ہے کہ جو وقت ابھی آیا ہی نہیں، اس کے ملال میں اپنے آج کے سکون کو قربان نہ کیا جائے۔ (145)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی شجاعت اور فکری صلابت کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک حقیقی شجاعت صرف میدانِ جنگ میں تلوار چلانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل شجاعت ذہنی و فکری شجاعت ہے، یعنی مستقبل کے خطرات کے سامنے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ نے انسان کو وساوس اور وہم کی غلامی سے آزاد کرایا ہے۔ جو شخص ہر وقت آنے والے کل کے خوف میں مبتلا رہتا ہے، اس کی عقل منتشر ہو جاتی ہے اور وہ کبھی کوئی بڑا یا مثبت فیصلہ نہیں کر پاتا؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو اس فکری انتشار سے نکال کر ایک مضبوط مابعد الطبیعاتی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ (146)

قرآنِ مجید دلوں کو اس فکری انتشار سے بچانے اور مستقبل کو پرامن بنانے کا متبادل ان الفاظ میں پیش کرتا ہے:
"فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَخُوفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ”۔ (147)
پس جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
پس نہج البلاغہ کی روشنی میں، خوفِ مستقبل اور فکری انتشار کا واحد علاج اللہ کی ذات پر محکم یقین اور توکل ہے، جو انسان کو ذہنی یکسوئی اور باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔

3.7 نفس کی خواہشات اور ذہنی دباؤ

خواہشاتِ نفسانی کی کثرت (Unbridled Desires) اور ان کے پیچھے اندھا دھند بھاگنا جدید نفسیات میں شدید ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور مایوسی کا ایک بڑا سبب مانا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی بے لگام خواہشات کو زندگی کا مرکز و محور بنا لیتا ہے، تو وہ ایک دائرے کے سفر میں متبلا ہو جاتا ہے جہاں ایک خواہش پوری ہوتے ہی کئی نئی خواہشیں جنم لے لیتی ہیں۔ نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی نظام میں خواہشاتِ نفس کی پیروی کو عقل کا سب سے بڑا دشمن اور باطنی سکون کی تباہی کا اصل محرک قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ مجید نفس کی اندھی پیروی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکری بگاڑ کی نشاندہی ان الفاظ میں کرتا ہے:
"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ”۔ (148)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا، اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہی میں چھوڑ دیا۔
آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ خواہشات کی بندگی انسان کی بصیرت کو ختم کر دیتی ہے، جس کے بعد اس کا باطن مستقل تشنگی اور بے سکونی کا شکار رہتا ہے۔

اس نفسیاتی اصول کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کے نزدیک انسان کے اندر دو متضاد قوتیں برسرِ پیکار ہیں: ایک عقل اور دوسری خواہشِ نفس۔ جب عقل نفس کے تابع ہو جاتی ہے، تو انسان ذہنی غلامی میں چلا جاتا ہے۔ مطہری کے مطابق، نہج البلاغہ میں تقویٰ اور زہد کا درس دراصل خواہشات کے اس ہجوم کو کنٹرول کرنے کا نام ہے، تاکہ انسانی ذہن بیرونی محرکات (External Stimuli) کا قیدی بن کر ذہنی دباؤ اور اسٹریس کا شکار نہ ہو۔ (149)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے خواہشاتِ نفسانی کے مہلک اثرات اور ان سے پیدا ہونے والے باطنی تناؤ کی جڑ کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ نمبر 42 میں ارشاد فرمایا:
"أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَانِ: اتِّبَاعُ الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ؛ فَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ” (اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ دو چیزوں کا خوف ہے: ایک خواہشِ نفس کی پیروی اور دوسرے لمبی امیدیں؛ کیونکہ خواہش کی پیروی حق سے روک دیتی ہے اور لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں)۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘اتّباع الہویٰ’ (خواہش پرستی) انسان کے اعصاب اور عقل پر ایک دبیز پردہ ڈال دیتی ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنے کی دھن میں متبلا ہوتا ہے، تو اس کا ذہن شدید دباؤ (Stress) کے تحت کام کرتا ہے کیونکہ وہ کائنات کے حقائق اور اصولوں سے متصادم ہو رہا ہوتا ہے۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے خواہش پرستی کو اس لیے ذہنی امراض کا سبب مانا ہے کیونکہ نفس کبھی سیر نہیں ہوتا، اور پیاسے نفس کی یہ مستقل تڑپ باطن کو دوزخ بنا دیتی ہے (150)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے اس اخلاقی ضابطے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ انسان کو مادی چیزوں اور نفسانی جبلتوں کی غلامی سے نکال کر ایک آزاد اور خود مختار شخصیت بنانا چاہتے ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، جو شخص اپنی خواہشات کا اسیر ہو گیا، وہ معاشرے اور اپنے وجود کے لیے ایک خطرناک اور مضطرب مریض بن جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ علیؑ کا زہد دراصل نفسیاتی آزادی (Psychological Freedom) کا دوسرا نام ہے؛ یعنی انسان چیزوں کا مالک بنے، چیزیں انسان کی مالک نہ بنیں، کیونکہ جب خواہشات انسان پر حاوی ہوتی ہیں تو اس کا اندرونی توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ مستقل اعصابی تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ (151)

قرآنِ کریم نفس پر قابو پانے کے نتیجے میں ملنے والے حتمی باطنی سکون کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:
"وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ” (152)
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، پس یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔
پس نہج البلاغہ کے فکری و نفسیاتی فریم ورک کے مطابق، نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنا ذہنی دباؤ (Depression) اور اندرونی بے چینی سے نجات حاصل کرنے کا مابعد الطبیعاتی اور سائنسی علاج ہے۔

ب: ذاتی اور اخلاقی کمزوریاں

3.8 سستی اور کاہلی

سستی اور کاہلی (Procrastination and Lethargy) جدید نفسیات اور رویہ جاتی سائنس (Behavioral Science) کے مطابق انسانی شخصیت کی وہ بنیادی خرابیاں ہیں جو براہِ راست شدید ذہنی دباؤ، پشیمانی اور اندرونی خلفشار کو جنم دیتی ہیں۔ جب انسان اپنے فرائض اور تعمیری کاموں کو بلاوجہ مؤخر کرتا ہے، تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لاشعور پر ایک بوجھ جمع ہونے لگتا ہے جو اینگزائٹی (Anxiety) اور احساسِ ملامت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے تعمیری اور عملی ضابطۂ حیات میں سستی کو عقل کی کمزوری، مادی و روحانی خسارے اور باطنی بے سکونی کا ایک بنیادی سبب قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم سستی اور کاہلی کو منافقانہ طرزِ عمل کی ایک علامت کے طور پر پیش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ کیفیت انسان کو خدا کے ذکر اور باطنی حضور سے دور کر دیتی ہے:
"وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا”۔ (153)
اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سستی اور کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ کاہلی صرف جسمانی سستی کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی اس مردگی کا نام ہے جو انسان کو اعلیٰ مقاصد کے لیے متحرک ہونے سے روک دیتی ہے۔

اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تصانیف میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کے اندر عمل کا جذبہ اور غیر معمولی توانائی پیدا کرتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا فلسفہ جمود اور سستی کے سخت خلاف ہے۔ جب انسان کاہلی کا شکار ہو کر اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے، تو وہ فطرت کے تعمیری دھارے سے کٹ جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ سستی کا لازمی نتیجہ ذلت، معاشی تنگی اور ذہنی انتشار کی صورت میں نکلتا ہے، جبکہ پیہم عمل اور محنت انسانی روح کو ایک جلا اور نفسیاتی اطمینان بخشتی ہے۔ (154)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے سستی کے تباہ کن نفسیاتی نتائج اور پشیمانی کے باہمی تعلق کو کلماتِ قصار میں نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے:
"مَنْ قَصَّرَ فِي الْعَمَلِ ابْتُلِيَ بِالْهَمِّ”۔ (جس نے عمل میں کوتاہی اور سستی کی، وہ رنج و اندوہ اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا گیا)۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر سستی کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کاہلی کا نتیجہ ہمیشہ ناامیدی اور محرومی ہوتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس قول کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘الہمّ’ وہ ذہنی اذیت اور اضطراب ہے جو انسان کو اس وقت گھیرتا ہے جب وہ اپنے ضائع شدہ وقت اور ادھورے کاموں کو دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق، سست انسان شروع میں تو عارضی آسائش محسوس کرتا ہے، لیکن بالاخر اس کا یہ رویہ اس کے گرد ایک شدید نفسیاتی دباؤ کھڑا کر دیتا ہے کیونکہ زندگی کی دوڑ میں وہ دوسروں سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے عمل میں کوتاہی کو ذہنی رنج کا سبب اسی لیے مانا ہے کیونکہ انسانی ضمیر اپنے فرائض سے غفلت پر انسان کو اندر ہی اندر ملامت کرتا رہتا ہے، جس سے باطنی سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ (155)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی متحرک زندگی اور ان کے انقلابی افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے ہاں سستی اور وقت کا ضیاع ایک بدترین ذاتی عیب ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد (Continuous Struggle) سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص سستی کی چادر تان کر بیٹھ جاتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانی صلاحیتوں کا خود گلا گھونٹ دیتا ہے۔ علیؑ کا کلام انسان کے اعصاب میں بجلی بھر دیتا ہے اور اسے جمود سے نکال کر حرکت کی طرف لاتا ہے، کیونکہ ایک متحرک اور باقاعدہ (Disciplined) ذہن ہی خوف اور باطنی انتشار سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (156)

قرآنِ مجید انسان کو سستی کے برعکس مسلسل محنت اور تگ و دو کی تلقین ان الفاظ میں کرتا ہے:
"وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ”۔ (157)
اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہی جس کی اس نے کوشش کی۔
پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی ڈھانچے کے مطابق، سستی اور کاہلی کا خاتمہ کر کے عمل کی راہ اختیار کرنا ہی انسان کو ذہنی پشیمانی، اعصابی دباؤ اور باطنی بے سکونی سے نجات دلانے کا واحد عملی ذریعہ ہے۔

3.9 جھوٹ اور باطنی بے سکونی

جھوٹ (Falsehood/Dishonesty) کو مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علوم میں انسانی باطن کو مسخ کرنے اور ذہنی سکون کو تہہ و بالا کرنے والا ایک بدترین اخلاقی عیب مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات کے مطابق، جب ایک انسان جھوٹ بولتا ہے تو اس کے دماغ کو حقیقت کو چھپانے اور ایک فرضی کہانی کو قائم رکھنے کے لیے غیر معمولی دباؤ (Cognitive Load) سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر پکڑے جانے کا ایک مستقل خوف، اینگزائٹی اور شدید باطنی تصادم پیدا کرتی ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی نظام میں جھوٹ کو ایمان کی ضد، عقل کی کجی اور مستقل باطنی بے سکونی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم جھوٹ کو ہدایت سے محرومی اور باطنی تاریکی کا سبب بتاتے ہوئے فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ”۔ (158)
بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور بہت جھوٹا ہو۔
آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ جھوٹ انسان کو اس مابعد الطبیعاتی نور اور فکری یکسوئی سے محروم کر دیتا ہے جو باطنی اطمینان کے لیے لازمی ہے۔

اس قرآنی تصور کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا پورا اخلاقی ڈھانچہ ‘صداقت’ (Truthfulness) پر کھڑا ہے۔ مطہری کے نزدیک، سچائی انسان کے ظاہر اور باطن میں ایک ہم آہنگی (Congruence) پیدا کرتی ہے جس سے روح کو سکون ملتا ہے۔ اس کے برعکس، جھوٹ انسان کی شخصیت کو منافقت کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ جب انسان کا ظاہر اس کے باطن سے الگ ہو جائے تو وہ ایک مستقل نفسیاتی عذاب اور اندرونی کھینچ تان کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی تقسیم اس کی باطنی بے سکونی کی اصل وجہ ہے۔ (159)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے جھوٹ کے اسی نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"جَانِبُوا الْكَذِبَ فَإِنَّهُ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ، الصَّادِقُ عَلَى شَفَا مَنْجَاةٍ وَ كَرَامَةٍ، وَ الْكَاذِبُ عَلَى شَفَا مَهْوَاةٍ وَ هَلَكَةٍ” جھوٹ سے بچو کیونکہ یہ ایمان سے بالکل دور ہے، سچ بولنے والا نجات اور بزرگی کے کنارے پر ہے اور جھوٹ بولنے والا تباہی اور ہلاکت کے گڑھے کے دہانے پر ہے۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر انسان کی باطنی سلامتی کے لیے فرمایا کہ ایمان کا ذائقہ انسان اس وقت تک نہیں چکھ سکتا جب تک وہ ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑ دے۔

ابن ابی الحدید اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘مہواۃ اور ہلکہ’ (ہلاکت کے گڑھے) سے مراد صرف آخرت کا عذاب نہیں ہے، بلکہ اسی دنیا میں جھوٹے انسان کی وہ نفسیاتی گراوٹ ہے جہاں وہ اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ ان کے مطابق، جھوٹا شخص ہمیشہ اس وسوسے اور خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کب اس کا سچ سامنے آ جائے گا۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے جھوٹ کو ایمان کی ضد اس لیے مانا ہے کیونکہ ایمان دل کو اطمینان (طمأنینت) بخشتا ہے جبکہ جھوٹ انسان کو شکوک و شبہات اور باطنی انتشار کے جہنم میں دھکیل دیتا ہے۔ (160)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے کلام میں موجود فکری راستی اور انسانی اقدار کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کی نظر میں صداقت انسانی شخصیت کا جوہر ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک وہ انسان سب سے زیادہ بزدل اور داخلی طور پر کمزور ہے جو اپنے مفاد کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص سچائی کا دامن چھوڑ دیتا ہے، وہ دراصل اپنے ضمیر سے جنگ شروع کر دیتا ہے؛ اس کا یہ باطنی تضاد اسے معاشرے کی نظر میں بھی مشکوک بناتا ہے اور خود اس کے اپنے وجود کے اندر بھی ایک مستقل اضطراب، بے اعتباری اور ذہنی تنزل پیدا کر دیتا ہے۔ (161)

قرآنِ مجید سچائی کے اسی باطنی اور مابعد الطبیعاتی سکون کا متبادل ان الفاظ میں پیش فرماتا ہے:
"قَالَ اللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ”۔ (162)
اللہ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کے مطابق، جھوٹ انسان کے اندر خوف اور اینگزائٹی کا ایک ایسا جال بنتا ہے جس سے نجات کا واحد راستہ ‘صداقتِ گفتار و کردار’ ہے، جو روح کو حقیقی طمأنینت اور وقار عطا کرتی ہے۔

3.10 بے نظمی اور ذہنی انتشار

نہج البلاغہ کے تعمیری اور فکری نظام میں نظم و ضبط (Discipline/Order) کو انسانی زندگی کا محور اور ذہنی سکون کی بنیاد مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات اور انتظامی علوم (Management Sciences) کے مطابق، بے نظمی (Disorganization) اور افرا تفری انسان کے اعصابی نظام پر بوجھ ڈالتی ہے، جس سے فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور انسان ایک دائمی ذہنی انتشار (Mental Chaos) اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں نظم و ضبط کو مابعد الطبیعاتی اور اخلاقی فرائض کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے، اور واضح فرمایا ہے کہ بے نظمی کا انجام سوائے فکری انتشار اور ناکامی کے کچھ نہیں ہے۔

قرآنِ کریم کائنات کے پورے مابعد الطبیعاتی اور طبیعیاتی ڈھانچے کو ایک بہترین نظم و ضبط کے نمونے کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ انسان بھی اپنی زندگی میں اسی کی پیروی کرے:
"إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ”۔ (163)
بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے اور نظم کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ نظامِ کائنات کی اساس نظم و ضبط پر ہے، اور جب انسان اس ڈسپلن سے انحراف کر کے بے نظمی کا راستہ چنتا ہے، تو اس کا باطنی توازن بگڑ جاتا ہے۔

اس قرآنی تصور کی فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں تقویٰ کے ساتھ نظم و ضبط کا ذکر یہ ثابت کرتا ہے کہ دینِ اسلام میں باطنی پاکیزگی اور ظاہری و فکری نظم الگ الگ نہیں ہیں۔ مطہری کے نزدیک، ایک بے نظم انسان کبھی بھی ذہنی یکسوئی (Focus) حاصل نہیں کر سکتا۔ جب زندگی کے امور، وقت اور افکار بکھرے ہوئے ہوں تو انسانی ذہن مستقل انتشار اور ‘اینگزائٹی’ کی حالت میں رہتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا فلسفہ زندگی کو منظم کر کے اس باطنی فرسودگی اور فکری تناؤ سے نجات دلاتا ہے۔ (164)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں، وصیتِ مبارک کے طور پر نظم و ضبط کی اہمیت کو تقویٰ کے ہم پلہ رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"أُوصِيكُمَا وَ جَمِيعَ وَلَدِي وَ أَهْلِي وَ مَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي بِتَقْوَى اللَّهِ وَ نَظْمِ أَمْرِكُمْ”۔ میں تم دونوں کو، اپنی تمام اولاد کو، اپنے اہل و عیال کو اور ہر اس شخص کو جس تک میرا یہ مکتوب پہنچے، تقویٰ الٰہی اور اپنے امور میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ آپؑ نے خطبات اور مکتوبات میں جگہ جگہ کاموں کو ان کے وقت پر انجام دینے اور بے نظمی سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔

ابن ابی الحدید اس تاریخی وصیت کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا تقویٰ کے فوراً بعد ‘نظمِ امر’ (کاموں میں نظم و ضبط) کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ امورِ زندگی میں افرا تفری مابعد الطبیعاتی نقصان کے ساتھ ساتھ انسان کی عقل اور فکری نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق، جب کسی انسان کے دن رات، اس کے معاشی و معاشرتی امور اور اس کے خیالات بے نظم ہوتے ہیں، تو وہ ذہنی یکسوئی سے محروم ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ بے نظمی انسان کے اندر ایک دائمی الجھن، پشیمانی اور باطنی خلفشار پیدا کرتی ہے، جو بالاخر اسے شدید ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔ (165)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے انتظامی فرامین (بشمول عہدنامہ مالک اشتر) کا نفسیاتی اور سماجی مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کائنات کے سب سے بڑے منظم اور حقیقت پسند مفکر ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک بے نظمی ایک ایسا عیب ہے جو قوموں کو بھی تباہ کرتا ہے اور فرد کی شخصیت کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو انسان اپنی روزمرہ زندگی میں کسی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا، اس کا ذہن وساوس اور فکری انتشار کا شکار رہتا ہے؛ چنانچہ علیؑ نے وقت کی پابندی اور کاموں کی منظم تقسیم کا جو درس دیا ہے، وہ انسان کو باطنی الجھنوں، ڈپریشن اور اعصابی دباؤ سے محفوظ رکھنے کا ایک بہترین نفسیاتی نسخہ ہے۔ (166)

قرآنِ مجید وقت اور امور کی باقاعدہ تنظیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
"فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ”۔ (167)
پس جب آپ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرے کام میں محنت کے ساتھ لگ جائیں۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کے مطابق، بے نظمی انسان کو ذہنی بحران (Crisis) کی طرف دھکیلتی ہے، جبکہ زندگی میں ڈسپلن اور نظم و ضبط لانا ہی فکری یکسوئی، سکونِ قلب اور باطنی طمأنینت کا اصل مابعد الطبیعاتی اور عملی راستہ ہے۔

3.11 منفی سوچ اور بدگمانی

منفی سوچ (Negative Thinking) اور بدگمانی (Skepticism/Suspicion) کو مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی اصطلاح میں انسانی عقل کو مفلوج کرنے اور باطنی امن کو غارت کرنے والا بدترین ذہنی عارضہ مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات کے مطابق، جب ایک انسان دوسروں کے بارے میں مستقل منفی گمان (Cognitive Distortion) پال لیتا ہے، تو اس کا دماغ ہر وقت دفاعی اور جارحانہ پوزیشن (Fight or Flight Mode) میں رہتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر اینگزائٹی، شدید وہم اور دائمی ذہنی تناؤ کو جنم دیتی ہے، جس سے اس کے سماجی روابط اور باطنی سکون دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی نظام میں بدگمانی کو بے بنیاد خوف کا سرچشمہ، عقل کی بیماری اور ذہنی عذاب کا سب سے بڑا عامل قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم بدگمانی اور منفی سوچ کی سختی سے ممانعت کرتے ہوئے اس کے نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی نقصان کو ان الفاظ میں واضح فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ”۔ (168)
(اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں)۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ منفی گمان انسان کو باطنی طور پر گناہ گار اور بے سکون بنا دیتا ہے، کیونکہ گمان کی بنیاد حقیقت کے بجائے وہم پر ہوتی ہے۔

اس قرآنی فلسفے کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو ‘حسنِ ظن’ (Positive Thinking) کا درس دیتی ہے، جو باطنی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ مطہری کے نزدیک، بدگمانی دراصل انسان کے اپنے اندرونی نقص اور احساسِ کمتری کا آئینہ ہوتی ہے۔ جب انسان خود باطنی طور پر مخدوش ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو اسی عینک سے دیکھتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا کلام انسان کو مخلصانہ اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرتا ہے تاکہ روح وساوس کی قید سے آزاد ہو کر طمأنینت حاصل کر سکے (169)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بدگمانی کے مہلک اعصابی اور سماجی اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"مَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ السُّوءُ الظَّنِّ لَمْ يَتْرُكْ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ خَلِيلٍ صُلْحاً”۔ جس شخص پر بدگمانی غالب آ جائے، وہ اپنے اور اپنے کسی دوست کے درمیان صلح اور اچھے تعلقات باقی نہیں رہنے دیتا۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر بدگمانی کو ذہنی تھکن کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بدگمانی انسان کو سچے دوستوں سے محروم کر کے ایک ہولناک تنہائی کے دوزخ میں دھکیل دیتی ہے۔

ابن ابی الحدید اس رویے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ بدگمان شخص کبھی بھی پرسکون نیند نہیں سو سکتا اور نہ ہی کسی محفل میں چین پا سکتا ہے، کیونکہ اس کا ذہن ہر لمحہ دوسروں کے جملوں، اشاروں اور نیتوں کی منفی تشریح (Misinterpretation) میں مصروف رہتا ہے۔ ان کے مطابق، امیر المؤمنینؑ نے واضح فرمایا ہے کہ بدگمانی انسان کے اعصاب کو اس طرح تھکا دیتی ہے جیسے کوئی مسلسل بھاری پتھر اٹھائے ہوئے ہو۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جب تک انسان دوسروں کے اعمال کو اچھے رخ پر محمول کرنا نہیں سیکھتا، اس کا باطن کبھی بھی ذہنی دباؤ اور اسٹریس سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ (170)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے انسانی ہمدردی پر مبنی افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک بدگمانی اور منفی سوچ انسانی معاشرے کے امن کو چاٹنے والی دیمک ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ انسان کو ایک ایسے کھلے اور روشن ذہن کا مالک بنانا چاہتے ہیں جو خوف اور شک کی تاریکیوں سے پاک ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص ہر چیز میں سازش اور برائی تلاش کرتا ہے، وہ دراصل خود اپنے وجود کے اندر ایک دوزخ دہکا لیتا ہے؛ اس کی یہ منفی سوچ اسے اپنے ہی سائے سے ڈراتی ہے، چنانچہ علیؑ کا حسنِ ظن پر مبنی فلسفہ انسان کو اس نفسیاتی عذاب سے نجات دلا کر ذہنی آزادی عطا کرتا ہے۔ (171)

قرآنِ مجید منفی سوچ کے برعکس دلوں کو طمأنینت بخشنے والے سچے گمان اور یقین کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا”۔ (172)
بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آتا۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے مطابق، منفی سوچ اور بدگمانی انسان کو ذہنی انتشار اور وہم کا مریض بنا دیتی ہے، جبکہ ‘حسنِ ظن’ اور مثبت طرزِ فکر اختیار کرنا ہی روح کو سکون اور ذہن کو اعصابی تناؤ سے محفوظ رکھنے کا واحد مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی نسخہ ہے۔

3.12 ذمہ داریوں سے غفلت

ذمہ داریوں سے غفلت برتنا اور اپنے فرائض سے آنکھیں چرانا (Evasion of Responsibility) جدید نفسیات اور رویہ جاتی سائنس کی رو سے ایک سنگین رویہ جاتی عیب ہے، جو انسان کے باطن میں شدید احساسِ جرم (Guilt Complex) اور فکری انتشار کو جنم دیتا ہے۔ جب انسان اپنی خاندانی، سماجی، معاشی یا مابعد الطبیعاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لاپرواہی دکھاتا ہے، تو اس کا لاشعور اسے مسلسل ملامت کرتا ہے۔ یہ اندرونی خلفشار آگے چل کر شدید ذہنی دباؤ اور اینگزائٹی (Anxiety) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے عملی اور اخلاقی فلسفے میں فرائض سے غفلت کو نفس کی کمزوری، عقل کی پسماندگی اور باطنی بے سکونی کا ایک بڑا سبب مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم انسان کو اس کی مابعد الطبیعاتی اور وجودی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے فرائض سے غفلت کے انجام پر ان الفاظ میں متنبہ فرماتا ہے:
"أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ”۔ (173)
کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بيكار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ انسانی زندگی کا وجود بے مقصد نہیں ہے، اور اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کرنا انسان کو باطنی طور پر کھوکھلا اور بے سمت کر دیتا ہے۔

اس مابعد الطبیعاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا شدید احساس دلاتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کے خطبات کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے اور انہیں ان کے فرائض کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتا ہے، تو وہ معاشرے پر ایک بوجھ بن جاتا ہے اور اس کا اپنا باطن بھی سکون سے محروم ہو جاتا ہے۔ مطہری کے مطابق، حقیقی باطنی اطمینان صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان تندہی کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیتا ہے۔ (174)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ذمہ داریوں سے غفلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی و معاشی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"کَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ لَا يَعْرِفَ قَدْرَهُ”۔ اور فرائض میں کوتاہی کے حوالے سے ایک گہرا نفسیاتی جملہ ارشاد فرمایا: "تَضْيِيعُ الْفُرَصِ غُصَّةٌ”۔ فرصتوں اور ذمہ داریوں کو ضائع کرنا رنج و غم کا باعث بنتا ہے۔ آپؑ نے اپنے گورنروں اور عاملین کو لکھے گئے خطوط (بالخصوص عہدنامۂ مالکِ اشتر) میں بارہا تاکید فرمائی کہ فرائض میں سستی کا انجام دنیا میں ذلت اور باطن میں حسرت کی صورت میں نکلتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس رویے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑتا ہے، وہ عارضی طور پر تو آسانی محسوس کر سکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادھورے فرائض کا بوجھ اس کے اعصاب پر سوار ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق، امیر المؤمنینؑ نے واضح کیا ہے کہ غفلت انسان کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہے؛ جب انسان اپنے فرائض پورے نہیں کرتا تو وہ ہر وقت ملامتِ ضمیر کے خوف میں جیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا اعصابی نظام مستقل دباؤ (Stress) کے تحت آ جاتا ہے۔ (175)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے نظامِ عدل اور ان کی اپنی ذمہ دارانہ زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک ‘ذمہ داری کا احساس’ ہی انسان اور حیوان کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ نے زندگی کے آخری لمحے تک اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا اور کبھی غفلت کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنے فرائض سے جی چراتا ہے، وہ داخلی طور پر ایک بزدل اور نفسیاتی طور پر بیمار انسان ہوتا ہے؛ اس کی یہ غفلت اسے معاشرے سے بھی الگ تھلگ کر دیتی ہے اور خود اس کے باطن کو بھی مستقل انتشار اور پشیمانی کا گھر بنا دیتی ہے۔ (176)

قرآنِ مجید فرائض کی ادائیگی اور ذمہ داریوں کے متعلق بازپرس کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ”۔ (177)
پھر یقیناً اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے تحت، ذمہ داریوں سے غفلت انسان کو دائمی پشیمانی اور اینگزائٹی کے جہنم میں دھکیلتی ہے، جبکہ اپنے فرائض کو دیانت داری سے سنبھالنا ہی روح کو حقیقی وقار، سرور اور باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔

3.13 وقت کی ناقدری

وقت کا ضیاع اور عمر کے لمحات کی ناقدری (Time Management Failure/Procrastination) جدید نفسیات اور عمرانی علوم میں انسانی شخصیت کو ناکامی، فکری پسپائی اور شدید ذہنی تناؤ کی طرف دھکیلنے والا ایک بڑا ذاتی عیب مانا گیا ہے۔ جب انسان زندگی کے قیمتی سرمائے یعنی "وقت” کو فضول کاموں میں گنوا دیتا ہے، تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندر ایک ہولناک خالی پن، احساسِ محرومی اور اینگزائٹی (Anxiety) جنم لیتی ہے۔ نہج البلاغہ کے تعمیری اور عملی فلسفے میں وقت کی ناقدری کو عقل کی کوتاہی، مابعد الطبیعاتی خسارہ اور باطنی بے سکونی کا ایک بنیادی سبب قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم وقت کی اہمیت اور اس کے ضیاع کے نتیجے میں ہونے والے حتمی انسانی نقصان کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَالْعَصْرِ ‎(1)‎ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ”۔ (178)
زمانے کی قسم! بے شک انسان سراسر نقصان میں ہے۔
یہ سورت واضح کرتی ہے کہ وقت کا ہر گزرتا لمحہ انسان کو مادی اور روحانی خسارے کی طرف لے جا رہا ہے، اور اس خسارے سے بچنے کا واحد راستہ وقت کو ایمان اور عملِ صالح کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔

اس قرآنی تصور کی فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو وقت کی قدر و قیمت کا شدید احساس دلاتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کا ہر سانس ایک ایسا موتی ہے جو دوبارہ نہیں مل سکتا۔ جب انسان وقت کی ناقدری کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی وجودی توانائی کو ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ وقت کو لائحہ عمل کے بغیر گزارنا انسانی ذہن کو وساوس اور فکری انتشار کا شکار بنا دیتا ہے، جبکہ وقت کی صحیح تنظیم روح کو سکون اور اعتماد بخشتی ہے۔ (179)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے وقت کے تیزی سے گزرنے اور اس کے ضیاع پر پیدا ہونے والے باطنی ملال کا ذکر کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"الْفُرْصَةُ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ، فَانْتَہِزُوا فُرَصَ الْخَیْرِ”۔ فرصت اور وقت بادلوں کی طرح تیزی سے گزر جاتا ہے، لہٰذا خیر کے مواقع کو غنیمت جانو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر وقت کی ناقدری کرنے والے کی ذہنی حالت پر فرمایا کہ آج کے کام کو کل پر چھوڑنا نفس کی نادانی ہے، جو انسان کو آخر کار حسرت کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔

ابن ابی الحدید اس قول کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘مرّ السحاب’ (بادل کی طرح گزرنا) سے مراد یہ ہے کہ انسان کو وقت کے گزرنے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، جو شخص وقت کی ناقدری کرتا ہے، وہ دراصل اپنے مستقبل کو ذہنی دباؤ (Stress) کے حوالے کر رہا ہوتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے خیر کے مواقع کو سنبھالنے کی تاکید اس لیے کی ہے کیونکہ ضائع شدہ وقت واپس نہیں آتا، اور اس کا بوجھ انسان کے لاشعور پر ایک مستقل غصے، چڑچڑے پن اور باطنی بے چینی کی صورت میں باقی رہتا ہے۔ (180)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے شب و روز کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے ہاں وقت کا ایک ایک لمحہ کسی تعمیری، سماجی، عدالتی یا عبادتی کام کے لیے وقف تھا۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ وقت کے ضیاع کو انسانیت کے خلاف ایک جرم سمجھتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنے وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ اپنے وجود کے مقصد سے جاہل رہتا ہے؛ اس کی یہ لاپرواہی اسے معاشرے کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ احساسِ کمتری اور ایک دائمی ذہنی کرب (Mental Distress) کا شکار ہو جاتا ہے (181)

قرآنِ مجید انسان کو وقت کی قدروقیمت اور اس کے محدود ہونے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ”۔ (182)
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی ضابطوں کے مطابق، وقت کی ناقدری انسان کو مستقل پشیمانی اور اینگزائٹی کے دلدل میں پھنساتی ہے، جبکہ وقت کے ہر لمحے کو منظم اور تعمیری بنانا ہی فکری یکسوئی، باطنی طمأنینت اور کامیابی کا مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی نسخہ ہے۔

3.14 غصہ اور جلد بازی

غصہ (Anger) اور جلد بازی (Impulsivity/Haste) کو جدید نفسیات اور طرزِ عمل کے علوم (Behavioral Sciences) میں انسانی عقل کو معطل کرنے اور شدید اعصابی تناؤ (Acute Stress) پیدا کرنے والے دو خطرناک ترین عوامل مانا گیا ہے۔ جب انسان غصے کی مغلوبیت یا جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرتا ہے، تو اس کا منطقی ذہن (Prefrontal Cortex) عارضی طور پر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جس کا حتمی نتیجہ شدید پشیمانی، باطنی ٹوٹ پھوٹ اور اینگزائٹی (Anxiety) کی صورت میں نکلتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری نظام میں غصے کو جنون کی ایک شاخ اور جلد بازی کو لغزشوں کا گڑھ قرار دے کر انہیں ذہنی اضطراب اور فکری کجی کا بنیادی سبب مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم غصے پر قابو پانے اور جلد بازی سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے انسانی جبلت کے اس رخ کو ان الفاظ میں واضح فرماتا ہے:
"خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ”۔ (183)
انسان جلد باز مخلوق پیدا کیا گیا ہے، میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم مجھ سے جلدی نہ مچاؤ۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جلد بازی انسانی نفس کی ایک کمزوری ہے، جس پر قابو پائے بغیر فکری پختگی اور باطنی سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں غصے اور جلد بازی پر قابو پانے کو ‘حلم’ (Forbearance) اور ‘صبر’ سے تعبیر کیا گیا ہے، جو انسانی روح کے محکم ترین قلعے ہیں۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ جذبات کے طوفان میں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہی حقیقی طاقت ہے۔ جب انسان غصے اور جلد بازی کے تحت زندگی کے امور طے کرتا ہے، تو وہ اپنے پورے نفسیاتی توازن کو داؤ پر لگا دیتا ہے، جس سے اس کا باطن مستقل خلفشار اور اندیشوں کی زد میں آ جاتا ہے۔ (184)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غصے اور جلد بازی کے باہمی تعلق اور ان کے نفسیاتی اثرات کو بیان کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"الْحِدَّةُ ضَرْبٌ مِنَ الْجُنُونِ لِأَنَّ صَاحِبَهَا يَنْدَمُ، فَإِنْ لَمْ يَنْدَمْ فَجُنُونُهُ مُسْتَحْكَمٌ”۔ غصہ اور تیز مزاجی جنون کی ایک قسم ہے کیونکہ اس کا مالک بعد میں پشیمان ہوتا ہے، اور اگر وہ پشیمان نہ ہو تو اس کا جنون پکا ہو چکا ہے۔ جلد بازی کے انجام کے متعلق آپؑ نے ایک اور مقام پر کلماتِ قصار میں کمال حکمت کے ساتھ فرمایا: "مَعَ الْعَجَلَةِ نَدَامَةٌ”۔ جلد بازی کا لازمی نتیجہ پشیمانی ہوتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس فکری ضابطے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے غصے کو جنون سے اس لیے تشبیہ دی ہے کیونکہ غصے کی حالت میں انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان غصے میں یا جلد بازی میں کوئی قدم اٹھاتا ہے، تو وہ کائنات کے فطری قوانین اور عدل کے اصولوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ اس تصادم کا پہلا شکار خود انسان کا اپنا اعصابی نظام ہوتا ہے؛ پشیمانی کا وہ بوجھ جو غصے اور جلد بازی کے بعد روح پر مسلط ہوتا ہے، وہ انسان کو ایک دائمی باطنی بے سکونی اور ذہنی دباؤ (Stress) میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (185)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی بے مثال بردباری اور ان کے کلام کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ نے انسانیت کو جذبات کی غلامی سے نکال کر عقل کی حاکمیت کا درس دیا ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک وہ شخص کائنات کا سب سے کمزور انسان ہے جو اپنے غصے کو پی جانے کی طاقت نہیں رکھتا اور ہر کام میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ غصہ اور جلد بازی انسان کے اندر ایک مستقل ہیجان (Turbulence) پیدا رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان نہ تو خود پرسکون رہ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے اردگرد کے ماحول کو پرامن رکھ سکتا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفۂ حلم باطنی اضطراب اور اعصابی دباؤ کے خلاف ایک حتمی نفسیاتی شیلڈ ہے۔ (186)
قرآنِ مجید غصے کو پینے اور جلد بازی کے برعکس متانت اختیار کرنے والوں کے باطنی انعام کا ذکر یوں فرماتا ہے:

"الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”۔ (187)
جو آسودگی اور تنگی میں بھی خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، غصہ اور جلد بازی عقل کے حجاب ہیں جو ذہنی انتشار کو جنم دیتے ہیں، جبکہ بردباری، تحمل اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہی روح کو حقیقی طمأنینت، وقار اور ذہنی توازن عطا کرتا ہے۔

3.15 خود اعتمادی کی کمی

خود اعتمادی کی کمی (Lack of Self-Confidence/Low Self-Esteem) جدید نفسیات اور شخصیت کی تعمیر کے علوم میں انسانی صلاحیتوں کو زنگ لگانے اور شدید مابعد الطبیعاتی و نفسیاتی الجھنوں کو جنم دینے والا ایک گہرا عارضہ مانا گیا ہے۔ جب انسان اپنے وجود کی اہمیت، اپنی صلاحیتوں اور خدا کی دی ہوئی طاقت پر بھروسہ کھو بیٹھتا ہے، تو وہ ایک مستقل خوف، اینگزائٹی (Anxiety) اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری اور فلسفیانہ نظام میں خود اعتمادی کی کمی کو نفس کی بزدلی، جہالت اور توکل کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو کبھی بھی ارفع مقاصد کی طرف بڑھنے نہیں دیتی۔

قرآنِ کریم انسان کو اس کی اصل مابعد الطبیعاتی قدر و قیمت یاد دلاتے ہوئے اور اسے احساسِ کمتری سے نکالتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ”۔ (188)
اور تم کمزوری نہ دکھاؤ اور نہ ہی غمگین ہو، اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے مومن ہو۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ ایمان اور خدا پر بھروسہ انسان کے اندر ایک غیر متزلزل داخلی طاقت اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، جو اسے ذہنی پسماندگی اور خوف سے نجات دلاتی ہے۔

اس قرآنی تصور کی فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا ایک بنیادی مقصد انسان کو ‘خود شناسی’ (Self-Realization) کے ذریعے ‘خدا شناسی’ تک پہنچانا ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام انسان کے اندر چھپے ہوئے مابعد الطبیعاتی سرمائے کو بیدار کرتا ہے۔ جب انسان اپنی حقیقی قدر سے جاہل ہو کر خود اعتمادی کھو دیتا ہے، تو وہ دنیا کی ہر منفی طاقت کے سامنے جھک جاتا ہے اور اس کا باطن مستقل دباؤ اور خوف کا قیدی بن جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ کائنات کا خلافتِ الٰہی کا تاجدار ہے، اور یہ یقین ہی اس کی خود اعتمادی کی بنیاد ہے (189)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے انسان کی اسی باطنی طاقت اور خود اعتمادی کی کمی پر تنبیہ کرتے ہوئے اپنے کلماتِ قصار میں ایک انتہائی گہرا اور بلیغ اصول ارشاد فرمایا ہے:
"هَلَكَ امْرُؤٌ لَمْ يَعْرِفْ قَدْرَهُ”۔ وہ شخص ہلاک ہو گیا جس نے اپنی قدر و قیمت کو نہ پہچانا۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر انسان کو بزدلی اور خود اعتمادی کی کمی سے نکالنے کے لیے فرمایا کہ جب تمہیں کسی چیز سے خوف محسوس ہو (اور اپنی صلاحیت پر شک ہو) تو اس میں کود پڑو، کیونکہ تمہارا اس سے ڈرتے رہنا خود اس نقصان سے زیادہ تکلیف دہ ہے جس کا تمہیں ڈر ہے۔

ابن ابی الحدید اس فکری ضابطے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘معرفتِ قدر’ سے مراد یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ خدا نے اسے عقل اور ارادے کی کتنی بڑی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان کے مطابق، جو شخص اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں کرتا اور مستقل شک (Self-Doubt) میں مبتلا رہتا ہے، وہ عملی میدان میں مفلوج ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے خوف کے سامنے ڈٹ جانے کا حکم اس لیے دیا ہے کیونکہ خود اعتمادی کی کمی انسان کے اعصاب پر ایک فرضی خوف مسلط کر دیتی ہے، جو بالاخر اسے ذہنی طور پر بیمار اور باطنی طور پر منتشر کر دیتا ہے۔ (190)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی شجاعانہ اور پروقار شخصیت کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے کلام کا ایک ایک لفظ انسان کو خود داری اور بلند اعتمادی کا درس دیتا ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک بدترین بزدلی یہ ہے کہ انسان اپنے حق اور اپنی صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے بھی دوسروں کا محتاج بنے یا احساسِ کمتری کا شکار رہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص داخلی طور پر خود اعتمادی سے محروم ہوتا ہے، وہ کبھی بھی عدل اور سچائی کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو مادی اور نفسیاتی غلامی سے نکال کر ایک ایسی مضبوط شخصیت عطا کرتا ہے جو حوادثِ زمانہ کے سامنے بھی متزلزل نہیں ہوتی۔ (191)

قرآنِ مجید انسان کے اسی باطنی شرف اور عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”۔ (192)
اور بیشک ہم نے بنی آدم کو بڑی عزت اور تکریم سے نوازا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے مطابق، خود اعتمادی کی کمی انسان کو ذہنی پستی اور دائمی اینگزائٹی کی طرف دھکیلتی ہے، جبکہ اپنی مابعد الطبیعاتی حقیقت کو پہچاننا اور خدا پر توکل کر کے آگے بڑھنا ہی روح کو حقیقی طمأنینت، عزم اور داخلی سکون عطا کرتا ہے۔

ج: روحانی اور فکری اسباب

3.16 اللہ سے تعلق کی کمزوری

نہج البلاغہ کے مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی فریم ورک میں اللہ کی ذات سے تعلق کی کمزوری (Weakness of Spiritual Connection) کو تمام باطنی امراض، اخلاقی انحطاط اور شدید ترین ذہنی انتشار کی اصل جڑ مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات اگرچہ ذہنی دباؤ کے علاج کے لیے مختلف مادی اور رویہ جاتی طریقہ ہائے کار (Therapies) وضع کرتی ہے، لیکن وجودی نفسیات (Existential Psychology) یہ تسلیم کرتی ہے کہ جب تک انسان کائنات کے اصل مآخذ (Ultimate Reality) سے نہیں جڑتا، اس کا اندرونی خالی پن (Existential Vacuum) دور نہیں ہو سکتا۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے پورے کلام میں یہ تصور راسخ فرمایا ہے کہ خدا سے دوری انسانی روح کو یتیم اور بے بس کر دیتی ہے، جس کے بعد وہ خوف، وساوس اور دائمی اینگزائٹی (Anxiety) کا شکار ہو جاتی ہے۔

قرآنِ کریم مابعد الطبیعاتی سطح پر خدا سے تعلق کی کمزوری اور اس کے نتیجے میں دل پر مسلط ہونے والی تنگی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے:
"وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ”۔ (193)
اور جس نے میرے ذکر سے منہ موڑا، تو بیشک اس کے لیے معیشت (زندگی) تنگ ہو جائے گی، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ خدا سے مابعد الطبیعاتی ربط کا ٹوٹنا انسان کی ظاہری فراخی کے باوجود اس کے باطن کو ایک بدترین تنگی اور گھٹن میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اس قرآنی ضابطے کی گہری فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تصانیف میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں عبادت اور یادِ الٰہی کو روح کی غذا اور اعصاب کا سکون قرار دیا گیا ہے۔ مطہری کے نزدیک، جب انسان کا خدا سے تعلق کمزور ہوتا ہے، تو اس کا توکل ختم ہو جاتا ہے اور وہ کائنات کے حوادث کے سامنے خود کو بالکل اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی اکیلا پن اور بے یاری و مددگاری کا احساس اسے نفسیاتی طور پر توڑ دیتا ہے۔ مطہری واضح کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا کلام انسان کو خدا کے ساتھ ایک ایسا مضبوط اور زندہ تعلق عطا کرتا ہے جو اسے دنیا کے ہر خوف اور ذہنی دباؤ سے آزاد کر دیتا ہے۔ (194)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اللہ سے تعلق کی مضبوطی اور اس کے نفسیاتی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ نمبر 222 میں ارشاد فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى جَعَلَ الذِّكْرَ جِلاءً لِلْقُلُوبِ، تَسْمَعُ بِهِ بَعْدَ الْوَقْرَةِ، وَ تُبْصِرُ بِهِ بَعْدَ الْعَشْوَةِ، وَ تَنْقَادُ بِهِ بَعْدَ الْمُعَانَدَةِ”۔ ”بیشک اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کی جلا اور صفائی کا ذریعہ بنایا ہے، جس کے باعث دل بہرے ہونے کے بعد سننے لگتے ہیں، اور اندھے ہونے کے بعد دیکھنے لگتے ہیں، اور سرکشی کے بعد مطیع ہو جاتے ہیں“۔ اس کے برعکس، جب یہ تعلق کمزور ہوتا ہے تو دل دوبارہ اندھے پن اور باطنی اضطراب کی تاریکی میں گر جاتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘جلاء للقلوب’ (دلوں کی صفائی) سے مراد یہ ہے کہ خدا کی یاد انسان کے باطن سے ان تمام اخلاقی اور نفسیاتی آلودگیوں کو دھو دیتی ہے جو ذہنی پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ ان کے مطابق، جب انسان کا تعلق اپنے خالق سے کمزور ہوتا ہے، تو اس کے دل پر وہم، شک اور مادیت پسندی کا زنگ چڑھ جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کے نزدیک خدا سے دوری کا لازمی نتیجہ عقل کا اندھا پن اور روح کی وہ بیماری ہے جس کا علاج دنیا کی کسی مادی آسائش میں موجود نہیں ہے۔ (195)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے خطباتِ توحید اور ان کی باطنی کیفیات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کی عبادت کوئی روایتی رسم نہیں تھی، بلکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی کے ساتھ ایک والہانہ اور محکم نفسیاتی ربط تھا۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک جو شخص خدا کو پا لیتا ہے، وہ کائنات کی ہر شے کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے، اور جو خدا کو کھو دیتا ہے، وہ ہر شے کے سامنے محتاج اور خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انسانی روح کا حقیقی اضطراب اور اینگزائٹی اسی وقت ختم ہوتی ہے جب وہ اپنے مرکز (خدا) سے جڑ جاتی ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فکری نظام انسان کو اسی مرکز سے جوڑ کر ایک لافانی باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔ (196)

قرآنِ مجید دلوں کے اس حتمی اور مابعد الطبیعاتی سکون کا واحد نسخہ یوں بیان فرماتا ہے:
"الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”۔ (197)
جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، آگاہ ہو جاؤ کہ دلوں کو اطمینان صرف اللہ کے ذکر سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور روحانی تجزیے کے مطابق، اللہ سے تعلق کی کمزوری انسان کو نفسیاتی بے پناہی اور مستقل ذہنی دباؤ (Stress) کی طرف دھکیلتی ہے، جبکہ اس تعلق کو استوار کرنا ہی فکری یکسوئی، باطنی طمأنینت اور حقیقی ذہنی صحت کا واحد سرچشمہ ہے۔

3.17 شک، تردد اور فکری بے یقینی

شک، تردد (Hesitation/Inconclusiveness) اور فکری بے یقینی (Cognitive Dissonance) کو جدید نفسیات اور فلسفہِ ذہنی میں انسانی عقل کو مفلوج کرنے اور باطنی استحکام کو برباد کرنے والا ایک شدید اعصابی عارضہ مانا گیا ہے۔ جب انسان مستقل نظریاتی، فکری یا عملی شکوک و شبہات کی زد میں رہتا ہے، تو وہ کسی ایک سمت کا تعین نہیں کر پاتا۔ یہ فکری تذبذب اس کے اندر اینگزائٹی (Anxiety)، وساوس اور نفسیاتی بے وزنی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے علمی اور مابعد الطبیعاتی نظام میں شک کو ایمان کا زوال، بصیرت کا حجاب اور ذہنی کچلی کا سب سے بڑا سبب مانا گیا ہے، جو انسان کو حقائقِ کائنات کے مشاہدے سے محروم کر دیتا ہے۔

قرآنِ کریم شکوک و شبہات کی دلدل اور فکری بے یقینی کے حامل افراد کی نفسیاتی حالت کو منافقین کے تناظر میں ان الفاظ میں آشکار فرماتا ہے:
"مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ”۔ (198)
وہ اسی کے درمیان ڈانوا ڈول (تذبذب میں) ہیں، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فکری بے یقینی انسان کی شخصیت کو تقسیم کر کے اسے ایک مستقل ذہنی آوارگی اور باطنی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا مقصد انسان کو ‘شک’ کی تاریکی سے نکال کر ‘یقین’ کے نور تک لانا ہے۔ مطہری کے نزدیک، شک عارضی طور پر تحقیق کا ایک ذریعہ تو ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ انسان کی مستقل ذہنی کیفیت بن جائے تو یہ ایک بدترین نفسیاتی مرض بن جاتا ہے۔ جب انسان کائنات، خدا، اور اپنے مقاصد کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوتا ہے، تو اس کی قوتِ ارادی (Willpower) ختم ہو جاتی ہے۔ مطہری واضح کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا کلام انسان کے اندر وہ محکم یقین پیدا کرتا ہے جو حوادثِ زمانہ کے تھپیڑوں میں بھی اعصابی توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ (199)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے شک اور فکری تردد کے تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ایک انتہائی بلیغ اور آفاقی اصول ارشاد فرمایا ہے:
"لَا تَجْعَلُوا عِلْمَكُمْ جَهْلًا وَ يَقِينَكُمْ شَكّاً، إِذَا عَلِمْتُمْ فَاعْمَلُوا وَ إِذَا تَيَقَّنْتُمْ فَأَقْدِمُوا” (اپنے علم کو جہالت اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ؛ جب تم جان لو تو اس پر عمل کرو، اور جب تمہیں یقین حاصل ہو جائے تو آگے بڑھو)۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر شک کی جڑ واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ شک انسان کے اندر خوف اور باطنی کمزوری کو جنم دیتا ہے، جو عقل کو اندھا کر دیتی ہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘علم کو جہل اور یقین کو شک بنانا’ یہ ہے کہ انسان حقیقت کو جاننے کے باوجود محض وساوس اور تردد کی وجہ سے عملی قدم نہ اٹھائے۔ ان کے مطابق، جو شخص ہر معاملے میں شک اور وہم کی عینک پہن لیتا ہے، اس کا لاشعور مستقل تناؤ (Psychological Tension) کا شکار رہتا ہے کیونکہ وہ کبھی بھی اطمینانِ قلب (Peace of Mind) کا تجربہ نہیں کر پاتا۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے شک کو کفر کی ایک شاخ اس لیے مانا ہے کیونکہ کفر کی طرح شک بھی روح کی طمأنینت کو چھین کر اسے لایعنیت اور باطنی انتشار کے سپرد کر دیتا ہے۔ (200)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے افکار میں موجود فکری صلابت کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کائنات کے سب سے زیادہ پرعزم اور صاحبِ یقین مفکر ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے ہاں فکری تردد (Indecisiveness) کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جو شخص حق کے معاملے میں یا اپنی زندگی کے مقاصد میں شک کا شکار ہوتا ہے، وہ داخلی طور پر ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور اس کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ علیؑ کی گفتگو انسان کو ایک ایسی فکری یکسوئی (Focus) اور صراطِ مستقیم فراہم کرتی ہے جو وساوسِ نفس اور ذہنی خلفشار کے تمام طوفانوں کو تھام لیتی ہے۔ (201)

قرآنِ مجید یقینِ محکم کے حامل افراد کی باطنی سلامتی اور فکری یکسوئی کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا”۔ (202)
مومن تو صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انہوں نے کوئی شک و شبہ نہیں کیا۔

پس نہج البلاغہ کے فکری اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، شک اور تردد انسانی ذہن کو دیمک کی طرح چاٹتے ہیں، جبکہ ‘یقینِ محکم’ کی دولت حاصل کرنا ہی باطنی انتشار، اعصابی دباؤ اور ذہنی بے یقینی سے نجات پانے کا حتمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.18 غفلت اور روحانی لاپرواہی

غفلت اور روحانی لاپرواہی (Spiritual Heedlessness/Apathy) کو مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علوم میں انسانی بصیرت کو موت دینے والا اور باطنی نظامِ صحت کو مفلوج کرنے والا سب سے بڑا اندرونی عارضہ مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات میں جب انسان زندگی کے حقیقی مقصد، اپنے داخلی وجود اور گہرے اخلاقی تقاضوں سے کٹ کر محض ظاہری و مادی زندگی کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے، تو اسے ‘وجودی لایعنیت’ (Existential Vacuum) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر ایک نامعلوم اداسی، جذباتی سستی اور مستقل باطنی بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی نظام میں غفلت کو عقل کا حجاب، روح کی نیند اور ذہنی دباؤ (Stress) کا پوشیدہ محرک قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم غفلت کی دلدل میں دھرے انسانی نفس کی نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی حسرت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے:
"اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ”۔ (203)
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں پڑے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ غفلت انسان کو اس حقیقتِ ابدی سے بے خبر کر دیتی ہے جو اس کے وجود کی اساس ہے، نتیجتاً وہ ایک فرضی دنیا میں جیتا ہے جو اسے کبھی حقیقی طمأنینت نہیں دے پاتی۔

اس قرآنی حقیقت کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا ایک بنیادی مقصد انسان کو ‘غفلت’ کی سحر انگیزی سے نکال کر ‘بیداری’ (Awakening/Yaqzah) کی حالت میں لانا ہے۔ مطہری کے نزدیک، مادی دنیا کی لذتوں میں اس طرح متبلا ہو جانا کہ روح کی آواز سنائی نہ دے، انسان کو نفسیاتی طور پر کمزور کر دیتا ہے۔ جب حوادثِ زمانہ اچانک اس غفلت کے پردے کو چاک کرتے ہیں، تو غافل انسان شدید ذہنی صدمے (Trauma) اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا کلام انسان کو مستقل بیدار مغزی عطا کرتا ہے تاکہ وہ باطنی توازن برقرار رکھ سکے۔ (204)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غفلت کے اسی اعصابی اور مابعد الطبیعاتی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطبہ نمبر 153 میں ارشاد فرمایا:
"أَيُّهَا النَّاسُ، غَيْرُ مَغْفُولٍ عَنْكُمْ، وَأَنْتُمْ فِي غَفْلَةٍ سَاهُونَ”۔ اے لوگو! تم سے غفلت نہیں برتی جا رہی ہے، جبکہ تم خود غفلت اور لاپرواہی میں پڑے بھولے ہوئے ہو۔ آپؑ نے کلماتِ قصار میں ایک اور جگہ غافل ذہن پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غفلت عقل کو اندھا کر دیتی ہے اور انسان کو نقصان پہنچنے تک بیدار نہیں ہونے دیتی۔

ابن ابی الحدید اس فکری رویے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘غفلت اور سہو’ انسان کے اعصاب پر ایک ایسا نشہ طاری کر دیتے ہیں جہاں اسے اچھے اور برے کی تمیز نہیں رہتی۔ ان کے مطابق، غافل شخص اپنی صحت، وقت اور مابعد الطبیعاتی سرمائے کو لغو چیزوں میں برباد کرتا رہتا ہے، لیکن اس کا لاشعور اس ضیاع پر اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے غفلت کو سب سے بڑی بیماری اس لیے مانا ہے کیونکہ یہ انسان کے باطن سے اس اطمینان اور نورانیت کو چھین لیتی ہے جو صرف خدا اور اپنے نفس کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے (205)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے کلام میں موجود انقلابی بیداری کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک غفلت انسانیت کے درجے سے گر جانے کا نام ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کا کلام خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی انسانیت کے سر پر ایک فکری تازیانہ ہے جو اسے جنجھوڑ کر اٹھا دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص روحانی اور اخلاقی طور پر لاپرواہ ہو جاتا ہے، اس کی زندگی بے سمت ہو جاتی ہے؛ اس کی یہ بے سمتی اس کے اندر ایک مستقل اینگزائٹی (Anxiety) اور فکری بکھراؤ پیدا کرتی ہے، چنانچہ علیؑ کا فلسفہ بیداری انسان کو ذہنی یکسوئی اور باطنی طمأنینت فراہم کرنے کا ایک محکم ذریعہ ہے۔ (206)

قرآنِ مجید غفلت کے پردوں کو ہٹانے اور حقیقت کا سامنا کرنے کے نفسیاتی تجربے کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ”۔ (207)
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا، پس ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا، تو آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے مطابق، غفلت اور روحانی لاپرواہی روح کو مردہ اور ذہن کو منتشر کر دیتی ہے، جبکہ مستقل بیداری، یادِ الٰہی اور خود احتسابی (Self-Awareness) اختیار کرنا ہی باطنی اضطراب اور ذہنی دباؤ سے نجات پانے کا حتمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.19 فضول گفتگو اور ذہنی انتشار

فضول گفتگو، لغو کلامی اور زبان کا بے لگام استعمال (Loose Talk/Information Overload) جدید نفسیات اور اعصابی علوم (Neurosciences) کے مطابق فکری ارتکاز کو تباہ کرنے اور ذہنی انتشار (Cognitive Chaos) کو جنم دینے والا ایک بڑا سبب مانا گیا ہے۔ جب انسان ضرورت سے زیادہ اور بلا مقصد گفتگو کرتا ہے، تو اس کی فکری یکسوئی بکھر جاتی ہے، اور وہ غیر ضروری خیالات اور وساوس کی زد میں آ جاتا ہے۔

نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی نظام میں خاموشی (صمت) کو عقل کی پختگی اور باطنی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے، جبکہ فضول گفتگو کو عقل کے زوال اور باطنی اضطراب کا سرچشمہ مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم کامیاب اور پرسکون مومنین کی ایک بنیادی نفسیاتی صفت کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے:
"وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ”۔ (208)
(اور جو لغو اور فضول چیزوں سے منہ موڑنے والے ہیں)۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ لغو کلامی اور لغو کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی باطنی سلامتی، فکری راستی اور شخصیت کے ارتقاء کے لیے ناگزیر ہے۔

اس قرآنی تصور کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو ‘زبان کے کنٹرول’ کے ذریعے اپنے خیالات اور افکار کو منظم کرنا سکھاتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، انسان کی زبان اس کے باطن کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ جو شخص فضول گفتگو میں مبتلا رہتا ہے، اس کا لاشعور کبھی بھی پرسکون اور یکسو نہیں ہو سکتا، کیونکہ الفاظ کا کثرت سے نکلنا ذہن کے اندر افکار کے بکھراؤ کو جنم دیتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا کلام انسان کو کم بولنے اور زیادہ سوچنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ ذہنی دباؤ اور اعصابی تھکن کا بہترین علاج ہے۔ (209)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے گفتگو کی کثرت اور ذہنی و اخلاقی زوال کے باہمی تعلق کو کلماتِ قصار میں ایک انتہائی سنہری اور جامع اصول کے ذریعے یوں واضح فرمایا ہے:
"مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ خَطَاؤُهُ، وَمَنْ كَثُرَ خَطَاؤُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ قَلْبُهُ، وَمَنْ مَاتَ قَلْبُهُ دَخَلَ النَّارَ”۔ جس کی گفتگو زیادہ ہو جائے اس کی لغزشیں زیادہ ہو جاتی ہیں، اور جس کی لغزشیں زیادہ ہوں اس کی حیا کم ہو جاتی ہے، اور جس کی حیا کم ہو اس کا تقویٰ کم ہو جاتا ہے، اور جس کا تقویٰ کم ہو اس کا دل مر جاتا ہے، اور جس کا دل مر جائے وہ دوزخ میں داخل ہو گیا۔

آپؑ نے ایک اور مقام پر عقل اور زبان کا موازنہ کرتے ہوئے فرمایا: "لِسَانُ الْعَاقِلِ وَرَاءَ قَلْبِهِ، وَقَلْبُ الْأَحْمَقِ وَرَاءَ لِسَانِهِ”۔ عقلمند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے، اور بیوقوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس فکری ضابطے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘دل کے مر جانے’ سے مراد صرف آخرت کی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی سطح پر روح کی وہ مردگی ہے جہاں انسان طمأنینت اور باطنی نور سے محروم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق، کثرتِ کلام انسان کے اعصاب کو مسلسل مصروف (Overstimulated) رکھتی ہے، جس سے ذہنی یکسوئی (Focus) مفقود ہو جاتی ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے خاموشی کو حکمت کا مخزن اس لیے مانا ہے کیونکہ پرسکون اور کم گو انسان کا ذہن وساوس، اینگزائٹی اور فکری انتشار سے پاک رہتا ہے۔ (210)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی فصاحت و بلاغت اور ان کے اخلاقی فرامین کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ الفاظ کے سب سے بڑے پارکھ اور حکمران ہونے کے باوجود فضول گوئی کے شدید مخالف تھے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک زبان کا غیر ضروری استعمال شخصیت کے کھوکھلے پن کی دلیل ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت بولنے کی دھن میں متبلا رہتا ہے، وہ اپنے وجود کے اندر گہرائی اور تدبر پیدا کرنے کا موقع کھو دیتا ہے؛ اس کی یہ فضول گفتگو اسے ذہنی طور پر سطحی اور باطنی طور پر مضطرب رکھتی ہے، چنانچہ علیؑ کا کلام انسان کو زبان کی حفاظت سکھا کر ایک گہرا داخلی سکون اور فکری وقار عطا کرتا ہے۔ (211)

قرآنِ مجید انسانی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی مابعد الطبیعاتی ریکارڈنگ اور اس کی سنگینی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ”۔ (212)
انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک مستعد نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار ہوتا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے مطابق، فضول گفتگو عقل کو منتشر اور روح کو بے سکون کرتی ہے، جبکہ مصلحت اور ضرورت کے تحت گفتار اور صمت (خاموشی) کی عادت اختیار کرنا ہی ذہنی دباؤ، وساوسِ نفس اور فکری بکھراؤ سے نجات پانے کا حتمی نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی نسخہ ہے۔

3.20 غم و حزن کی زیادتی

غم و حزن کی زیادتی (Excessive Grief and Melancholy) جدید نفسیات میں شدید ذہنی دباؤ (Major Depressive Disorder) اور اعصابی اضمحلال کی بنیادی ترین کیفیات میں شمار ہوتی ہے۔ مادی زندگی کے نقصانات، اپنوں کی جدائی، یا ماضی کے تلخ حادثات پر مسلسل کڑھتے رہنا انسان کے باطن کو مفلوج کر دیتا ہے۔

نہج البلاغہ کے مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی نظام میں اگرچہ کسی سانحے پر فطری ملال کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن غم کی اس زیادتی کو جو انسان کو ناامید اور عمل سے عاجز کر دے، نفس کی کمزوری اور قضا و قدر پر یقین کی کمی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم ماضی کے نقصانات پر حد سے زیادہ غمگین ہونے اور مستقبل کی مادی خوشیوں پر اترانے کے نفسیاتی عارضے کا مابعد الطبیعاتی علاج ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
"لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ”۔ (213)
تاکہ تم اس چیز پر غمگین نہ ہو جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ ہی اس پر اترائو جو اس نے تمہیں عطا کی، اور اللہ کسی تکبر کرنے والے شیخی باز کو پسند نہیں فرماتا۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ کائنات کے ہر فیصلے کا ایک مابعد الطبیعاتی ریکارڈ موجود ہے، لہٰذا ماضی کے "فوت شدہ” امور پر دائمی حزن میں مبتلا رہنا فکری نادانی ہے۔

اس قرآنی و فلسفیانہ اصول کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو ایک وسیع تر کائناتی وژن (Cosmic Vision) عطا کرتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام غم کو روح پر مسلط نہیں ہونے دیتا۔ جب انسان مادی چیزوں کے نقصان کو اپنی زندگی کا حتمی خسارہ سمجھ لیتا ہے، تو وہ حزنِ دائمی کی اس تاریک سرنگ میں چلا جاتا ہے جہاں سے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ مطہری واضح کرتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا زہد انسان کو مادی نقصانات کے نفسیاتی صدمے (Trauma) سے محفوظ رکھنے کا ایک بہترین قلعہ ہے۔ (214)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غم و حزن کی کثرت کے جسمانی اور اعصابی نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا:
"الْحُزْنُ يَهْدِمُ الْجَسَدَ”۔ غم اور رنج انسان کے جسم کو پگھلا اور ڈھانپ دیتا ہے۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر حزن کی کثرت کو عقل کے زوال سے جوڑتے ہوئے فرمایا کہ جب دل پر غم کا بوجھ حد سے بڑھ جاتا ہے، تو انسان کی بصیرت اندھی ہو جاتی ہے اور وہ زندگی کے تعمیری راستوں کو دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘ہدمِ جسد’ سے مراد وہ جسمانی بیماریاں (Psychosomatic Disorders) ہیں جو شدید اعصابی تناؤ اور اداسی کے نتیجے میں انسان پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق، جب انسان ماضی کے دکھوں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے، تو اس کا اعصابی نظام خستہ ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے انسان کو صدمات کے وقت ‘صبر اور استرجاع’ (انا للہ پڑھنے) کی تلقین اس لیے کی ہے تاکہ غم کا یہ سیلاب روح کے توازن کو بہا کر نہ لے جائے اور انسان ذہنی دباؤ کا مستقل مریض نہ بنے۔ (215)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی مصائب سے بھری زندگی اور ان کے بلند اعصاب کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ نے اپنے دور میں بدترین صدمات اور اپنوں کی بے وفائیوں کا سامنا کیا، لیکن ان کا باطن کبھی حزن کے آگے مغلوب نہیں ہوا۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کا کلام غم زدہ دلوں کے لیے ایک درماں اور مرہم کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت اپنے دکھوں کا ماتم کرتا ہے، وہ اپنے وجود کے ارتقاء کو روک دیتا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو حزنِ مفرط کی قید سے نکال کر رضا بالقضا اور خدا پر محکم توکل کے ذریعے ایک نئی نفسیاتی توانائی اور عزمِ نو عطا کرتا ہے۔ (216)

قرآنِ مجید اللہ کے صالح اور مخلص بندوں کی نفسیاتی و باطنی کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اس مابعد الطبیعاتی تحفظ کے باعث غم سے آزاد ہو جاتے ہیں:
"أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ”۔ (217)
آگاہ ہو جاؤ! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کے فریم ورک کے مطابق، غم و حزن کی زیادتی روح کو بوڑھا اور عقل کو معطل کرتی ہے، جبکہ مادی زوال کو عارضی سمجھنا اور الٰہی فیصلوں پر دل سے راضی ہونا ہی ذہنی دباؤ، اداسی اور باطنی بے سکونی کا حقیقی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.21 خواہشات کی زیادتی (طولِ امل)

خواہشات کی زیادتی، لامتناہی مادی امیدیں اور طولِ امل (Excessive Desires/Unending Ambitions) جدید نفسیات اور رویہ جاتی علوم (Behavioral Sciences) کے مطابق انسانی باطن کو مسموم کرنے اور دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress) پیدا کرنے والا ایک بدترین ذہنی و جذباتی عارضہ ہے۔ جب انسان دنیاوی لذتوں، مادی آسائشوں اور لامتناہی خواہشات کے تعاقب میں اندھا ہو جاتا ہے، تو اس کا پورا وجود ایک شدید اور کبھی نہ ختم ہونے والے منفی ہیجان کی زد میں آ جاتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر احساسِ محرومی، اینگزائٹی (Anxiety) اور ایک ایسا اعصابی تناؤ پیدا کرتی ہے جو اس کے موجودہ سکونِ قلب کو چاٹ جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی نظام میں خواہشات کی مغلوبیت کو عقل کا قاتل، ایمان کو دھندلانے والی آگ اور باطنی عذاب کا سب سے بڑا عامل مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم خواہشاتِ نفس کی اسی کثرت اور مابعد الطبیعاتی بگاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسان کو ان کے اندھے تعاقب سے ان الفاظ میں خبردار فرماتا ہے:
"أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ‎(1)‎ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ”۔ (218)
تمہیں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور مال و اولاد کی کثرت کی خواہش نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ مادی خواہشات کی کثرت اپنے اندر ایک ایسا بدترین نشہ اور منفی اثر رکھتی ہے جو انسان کو موت کے وقت تک حقیقی زندگی اور باطنی سلامتی سے محروم رکھتا ہے۔

اس قرآنی و اخلاقی اصول کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں خواہشات کی زیادتی کو عقل کی اسارت اور حق کے راستے کا سب سے بڑا پتھر قرار دیا گیا ہے۔ مطہری کے نزدیک، لامتناہی خواہشات کا اسیر انسان دراصل خود اپنے وجود کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ ایک خواہش کے پورا ہوتے ہی دوسری کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے اور یوں کبھی سکونِ قلب کا تجربہ نہیں کر پاتا۔ جب انسان کائنات میں رضا و قناعت کی دولت کھو کر دوسروں کی نعمتوں سے اپنا موازنہ شروع کرتا ہے، تو اس کا توکل ختم ہو جاتا ہے اور اس کا ذہن مستقل اضطراب اور ذہنی فرسودگی کا شکار رہتا ہے۔ (219)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے خواہشات کی زیادتی کے ہولناک اعصابی اور مابعد الطبیعاتی اثرات کو آشکار کرتے ہوئے کلامِ پاک میں ایک نہایت جامع اور سائنسی اصول ارشاد فرمایا ہے:
"أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَانِ: اتِّبَاعُ الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ؛ فَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ”۔ اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ جن دو چیزوں کا خوف ہے وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی اور لامتناہی امیدیں (خواہشات کی زیادتی) ہیں۔ خواہشات کی پیروی حق سے روک دیتی ہے اور لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں۔

آپؑ نے ایک اور مقام پر خواہشات کے غلام کی نفسیاتی عکاسی کرتے ہوئے فرمایا: "کَمْ مِنْ عَقْلٍ أَسِيرٍ تَحْتَ هَوَى أَمِيرٍ” (کتنی ہی عقلیں ایسی ہیں جو اپنے نفس کی مسلط شدہ خواہشات کے نیچے قیدی بنی ہوئی ہیں)۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے خواہشات کی زیادتی کو ‘خوفناک ترین عیب’ اس لیے قرار دیا ہے کیونکہ جب انسان خواہش کا غلام بنتا ہے تو اس کی عقل معطل ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق، لامتناہی خواہشات انسان کے اندر وہ نفسیاتی بیماریاں پیدا کرتی ہیں جو براہِ راست اس کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیتی ہیں، کیونکہ ایسا شخص ہر وقت اس فکر میں گھلتا ہے کہ جو اس کے پاس نہیں ہے اسے کیسے حاصل کرے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ خواہشات کے اسیر کا غم کبھی اس لیے ختم نہیں ہوتا کیونکہ دنیا عارضی اور محدود ہے، جبکہ انسان کی خواہشات لامتناہی ہیں؛ چنانچہ اس تضاد کا پہلا شکار خود انسان کا اپنا باطنی سکون ہوتا ہے۔ (220)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے انسانی ہمدردی اور اخلاقی ضابطوں پر مبنی افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے نزدیک خواہشات کی کثرت اور طمع انسانی روح کا کینسر ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ انسان کو ایک ایسے وسیع، روشن اور مطمئن دل کا مالک بنانا چاہتے ہیں جو قناعت کی دولت سے مالامال ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص خواہشات کی دلدل میں گر جاتا ہے، وہ ایک مستقل اور پوشیدہ جہنم میں زندگی گزارتا ہے؛ اس کی یہ دوڑ اسے معاشرے کے لیے بھی لالچی اور خطرناک بناتی ہے اور اس کی اپنی عقل کو بھی کند کر دیتی ہے، چنانچہ علیؑ کا فلسفۂ زہد و قناعت انسان کو اس نفسیاتی عذاب سے نجات دلا کر حقیقی طمأنینت عطا کرتا ہے۔ (221)

قرآنِ مجید نفسانی خواہشات کی فکری کجی اور ان کو اپنا معبود بنا لینے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا” (222)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ تو کیا آپ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، خواہشات کی زیادتی انسان کو داخلی طور پر کھوکھلا اور ذہنی طور پر بیمار کر دیتی ہے، جبکہ خواہشات پر عقل اور تقویٰ کا پہرہ بٹھانا اور خدا کی رضا پر راضی رہنا ہی شدید ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور باطنی بے سکونی کا حقیقی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.22 بری صحبت اور منفی ماحول

بری صحبت، نااہل افراد کی ہمنشینی اور منفی سماجی ماحول (Negative Social Influence/Toxic Peer Pressure) جدید نفسیات اور سماجی علوم (Social Psychology) کی رو سے انسانی افکار کو آلودہ کرنے اور اعصابی توازن کو بگاڑنے والا ایک بڑا سبب مانا گیا ہے۔ جدید نفسیاتی نظریات، جیسے کہ ‘سوشل لرننگ تھیوری’، یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان جس ماحول اور جن لوگوں کے درمیان وقت گزارتا ہے، ان کے منفی رویے، اینگزائٹی، مایوسی اور وساوس لاشعوری طور پر اس کے اپنے اندر سرائیت کر جاتے ہیں۔ نہج البلاغہ کے تعمیری اور اخلاقی نظام میں بدکاروں اور جاہلوں کی صحبت کو عقل کی بربادی، قلب کی مردگی اور دائمی ذہنی انتشار (Mental Chaos) کا ایک بنیادی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی محرک قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم بری صحبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید باطنی حسرت اور نفسیاتی دباؤ کا نقشہ قیامت کے تناظر میں ان الفاظ میں کھینچتا ہے:
"وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ‎(27)‎ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا” (223)
(اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا کہ ہائے کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا)۔
یہ آیاتِ مبارکہ واضح کرتی ہیں کہ غلط لوگوں کا انتخاب انسان کی فکری سمت کو بدل کر اسے ایک ایسے پچھتاوے کے جہنم میں دھکیل دیتا ہے جو اس کے باطنی امن کو مٹا دیتا ہے۔

اس قرآنی تصور کی فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو معاشرتی روابط کے معاملے میں انتہائی حساس رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ مطہری کے نزدیک، انسانی روح ایک مقناطیس کی طرح ہے جو اپنے اردگرد کے ماحول سے اثرات جذب کرتی ہے۔ جب انسان بدکردار یا منفی سوچ کے حامل افراد کی صحبت اختیار کرتا ہے، تو اس کی اپنی مثبت توانائی (Positive Energy) اور طمأنینت ختم ہو جاتی ہے، اور اس کا ذہن مستقل شکوک، حسد اور ذہنی تناؤ کی حالت میں رہتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا کلام انسان کو صالحین کی ہمنشینی کا درس دے کر دراصل اس کے باطنی توازن اور اعصابی صحت کا تحفظ کرتا ہے۔ (224)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بری صحبت کے ہولناک نفسیاتی اور اخلاقی نقصانات کو بیان کرتے ہوئے اپنے مکتوبات اور کلماتِ قصار میں متعدد مقامات پر سخت تاکید فرمائی ہے۔ آپؑ نے حارث ہمدانی کے نام مکتوب (مکتوب نمبر 69) میں ارشاد فرمایا:
"وَ احْذَرْ صَحَابَةَ مَنْ يَفِيلُ رَأْيُهُ وَ يُنْكَرُ عَمَلُهُ، فَإِنَّ الصَّاحِبَ مُعْتَبَرٌ بِصَاحِبِهِ”۔ اور ایسے شخص کی صحبت سے بچو جس کی رائے ناقص اور جس کا عمل برا ہو، کیونکہ انسان اپنے دوست ہی سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کا اثر قبول کرتا ہے۔

آپؑ نے ایک اور مقام پر کلماتِ قصار میں کمالِ حکمت کے ساتھ فرمایا: "مُجَالَسَةُ أَهْلِ الْهَوَى مَنْسَاةٌ لِلْإِيمَانِ وَ مَحْضَرَةٌ لِلشَّيْطَانِ”۔ خواہشاتِ نفس کے غلاموں کے ساتھ بیٹھنا ایمان کو بھلا دیتا ہے اور شیطان کو حاضر کر دیتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘رائے کا ناقص ہونا اور عمل کا برا ہونا’ انسان کے پورے فکری نظام کو معطل کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو مستقل مادی دوڑ، غیبت، یا ناامیدی کی باتیں کرتے ہیں، تو اس کا منطقی ذہن مفلوج ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے بری صحبت سے دور رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کیونکہ یہ انسان کے لاشعور میں ایک دائمی الجھن اور باطنی خلفشار پیدا کرتی ہے، جو بالاخر اسے شدید ذہنی دباؤ (Stress) اور اخلاقی پسماندگی کا مریض بنا دیتی ہے۔ (225)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے سماجی اصولوں اور انسانی نفسیات کے گہرے ادراک کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ معاشرے کی تطہیر کے ساتھ ساتھ فرد کی داخلی پاکیزگی کے علمبردار ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک بدعنوان اور جاہل دوستوں کی ہمنشینی روح کے لیے ایک سست زہر (Slow Poison) کی مانند ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنے ماحول کو منفی اور لغو لوگوں سے پاک نہیں کرتا، وہ اپنے وجود کے ارتقاء کا راستہ خود بند کر دیتا ہے؛ اس کی یہ صحبت اسے ہر وقت فکری پراگندگی اور اینگزائٹی (Anxiety) میں مبتلا رکھتی ہے، چنانچہ علیؑ کا فلسفۂ صحبت انسان کو ایک صالح اور پرسکون سماجی دائرہ فراہم کرنے کا بہترین نفسیاتی نسخہ ہے۔ (226)

قرآنِ مجید برے ماحول سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور صالحین کے ساتھ جڑے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ”۔ (227)
اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کی صحبت میں روکے رکھیں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی رضا کے طلبگار ہیں۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور سماجی نفسیات کے اصولوں کے فریم ورک کے مطابق، بری صحبت اور منفی ماحول انسان کو ذہنی بکھراؤ اور دائمی پشیمانی کی طرف دھکیلتے ہیں، جبکہ برے لوگوں سے دوری اور پاکیزہ ہمنشینی اختیار کرنا ہی روح کو حقیقی سرور، فکری یکسوئی اور باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔

3.23 ماحول کے منفی اثرات

ماحول کے منفی اثرات (Negative Environmental Influences/Toxic Atmosphere) کو جدید نفسیات، عمرانیات اور ماحولیاتی رویہ کاری (Environmental Psychology) میں انسانی اعصاب کو مفلوج کرنے اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچانے والا ایک طاقتور ترین بیرونی عنصر مانا گیا ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیقات، جیسے کہ ‘برونفین برینر کا ایکولوجیکل سسٹم تھیوری’، یہ ثابت کرتی ہیں کہ انسان جس مادی، سماجی اور ثقافتی ماحول میں سانس لیتا ہے، اس کی آلودگی، منفی گہما گہمی، اور اخلاقی گراوٹ براہِ راست اس کے لاشعور کو متاثر کرتی ہے۔ جب ایک فرد مستقل طور پر ایسے ماحول میں رہتا ہے جہاں ناامیدی، نفسا نفسی، مادیت پرستی اور وساوس کا دور دورہ ہو، تو اس کا باطنی دفاعی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress) اور اینگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری و اصلاحی نظام میں منفی ماحول کو بصیرت کا حجاب، عقل کی تاریکی اور باطنی اضطراب کا ایک بڑا سبب قرار دے کر اس سے دور رہنے یا اس کی اصلاح کرنے کی شدید تاکید کی گئی ہے۔

قرآنِ کریم منفی اور کفر و نفاق سے آلودہ ماحول کے نفسیاتی اثرات سے بچنے کے لیے وہاں سے ہجرت یا کنارہ کشی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ”۔ (228)
اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہوں تو ان سے کنارہ کش ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ منفی فضا اور باطل ماحول انسان کے فکری توازن کو بگاڑ دیتا ہے، اس لیے اپنی باطنی سلامتی کے لیے ایسے ماحول سے دوری اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں ‘ماحول کی رنگ سازی’ (Social Conditioning) کے خطرناک اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ مطہری کے نزدیک، عام انسان اپنے ماحول کا پوتلا ہوتا ہے؛ اگر معاشرے کا عمومی دھارا برائی، ظلم اور مادی ہوس کی طرف بہہ رہا ہو، تو فرد کے لیے اپنے باطنی سکون اور تقویٰ کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے اپنے خطبات میں بارہا کوفہ اور دوسرے شہروں کے بگڑے ہوئے ماحول پر اسی لیے تنقید فرمائی کیونکہ ایک فاسد ماحول مخلص ترین انسانوں کے اندر بھی فکری اضمحلال اور اینگزائٹی پیدا کر دیتا ہے، چنانچہ ایسے ماحول کی نفی کرنا روح کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ (229)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فاسد اور فتنہ انگیز ماحول کے نفسیاتی اثرات سے بچنے کے لیے کلماتِ قصار میں ایک انتہائی بلیغ اور تمثیلی ضابطہ ارشاد فرمایا ہے:
"كُنْ فِي الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ؛ لَا ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ، وَلَا ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ”۔ فتنہ و فساد کے ماحول میں اس اونٹ کے دو سالہ بچے کی طرح رہو جس کی نہ تو پیٹھ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اس پر سواری کی جا سکے اور نہ ہی اس کے تھن ہوتے ہیں کہ اس کا دودھ دوہا جا سکے۔ آپؑ نے اس تمثیل کے ذریعے واضح فرمایا کہ جب ماحول منفی اور زہریلا ہو جائے، تو انسان کو خود کو اس طرح غیر جانبدار اور دور کر لینا چاہیے کہ وہ اس منفی ماحول کا آلۂ کار نہ بنے اور اس کا باطن اس فضا کے اعصابی تناؤ سے محفوظ رہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘فتنے کا ماحول’ وہ ہوتا ہے جہاں حق اور باطل اس طرح خلط ملط ہو جائیں کہ انسان کا منطقی ذہن فیصلہ کرنے سے عاجز آ جائے۔ ان کے مطابق، ایسے زہریلے سماجی ماحول میں جینے والے افراد مستقل اعصابی دباؤ (Mental Distress) کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہاں ہر لمحہ خوف، سازش اور بے یقینی کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے ایسے ماحول میں اپنی توانائیوں کو بچانے اور اس فاسد لہر کا حصہ نہ بننے کی تاکید اس لیے کی ہے تاکہ انسان کا باطنی نور اور ذہنی یکسوئی (Focus) مٹی میں نہ مل جائے۔ (230)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے انقلابی افکار اور اس دور کے بگڑے ہوئے اموی و مادی ماحول کے خلاف ان کی جدوجہد کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کائنات کے سب سے بڑے مصلح ہیں جو انسان کو ماحول کی غلامی سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک بدترین بزدلی یہ ہے کہ انسان اپنے گرد و پیش کے گندے اور ظالمانہ ماحول کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور یہ کہہ کر مطمئن ہو جائے کہ ‘سب ایسا ہی کر رہے ہیں’۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص کسی زہریلے ماحول کا رنگ قبول کر لیتا ہے، اس کی اپنی انفرادیت اور باطنی طمأنینت ختم ہو جاتی ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو ماحول کے منفی اثرات کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات اور داخلی آزادی (Psychological Freedom) عطا کرتا ہے۔ (231)

قرآنِ مجید بندۂ مومن کو ماحول کے دباؤ سے نکل کر ایک وسیع اور پاکیزہ فضا تلاش کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا” (232)
”کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟“

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی ضابطوں کے مطابق، ماحول کے منفی اثرات انسانی روح کو قیدی اور ذہن کو بیمار بنا دیتے ہیں، جبکہ ایسے ماحول سے دوری، اس کی اصلاح کی کوشش، اور ایک پاکیزہ و صالح فضا کا انتخاب کرنا ہی شدید ذہنی دباؤ، وساوس اور باطنی بے سکونی کا حتمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.24 غلط معاشی تعلقات

غلط معاشی تعلقات، ناجائز ذرائع آمدن اور مالیاتی معاملات میں اخلاقی حدود کو پامال کرنا (Unethical Economic Relationships/Financial Malpractice) جدید نفسیاتی، سماجی اور رویہ جاتی علوم کی رو سے انسانی شخصیت کو مسخ کرنے اور شدید اعصابی و باطنی تناؤ (Chronic Psychological Distress) پیدا کرنے والا ایک ہولناک سبب مانا گیا ہے۔ جدید نفسیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ جب انسان کا معاشی نظام ظلم، فریب، رشوت یا سود جیسے غلط ذرائع پر استوار ہو جائے، تو اس کا لاشعور مستقل طور پر ملامتِ ضمیر اور ایک گہرے احساسِ جرم (Guilt Complex) کا شکار رہتا ہے۔ یہ باطنی خلل انسان کے اندر سے حقیقی طمأنینت کو ختم کر کے اسے دائمی اینگزائٹی (Anxiety) اور وہم و وساوس کے جہنم میں دھکیل دیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے معاشی اور اخلاقی فلسفے میں غلط معاشی تعلقات کو دل کی سختی، دعا کی عدمِ قبولیت اور باطنی بے سکونی کا سب سے بڑا محرک مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم غلط معاشی تصرفات اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھانے کے نفسیاتی و مابعد الطبیعاتی اثرات کو ان الفاظ میں واضح فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ”۔ (233)
(اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو)۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ باطل اور ناجائز طریقوں سے معاشی فوائد حاصل کرنا انسانی تعلقات کو تباہ کرتا ہے اور باطن میں ایک ایسی تنگی پیدا کرتا ہے جو روح کی موت کا باعث بنتی ہے۔

اس مابعد الطبیعاتی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا معاشی وژن محض مادی پیداوار تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مال کے انسان کی روح پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ مطہری کے نزدیک، جب معاشرے میں معاشی روابط ظلم اور استحصال پر مبنی ہو جائیں، تو انسانوں کے دلوں سے ہمدردی اور سکون رخصت ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا کلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ لقمۂ حرام اور غلط مالی معاملات انسانی ذہن کو اندھا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کبھی بھی ذہنی یکسوئی اور باطنی اطمینان (Peace of Mind) حاصل نہیں کر پاتا۔ (234)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غلط معاشی تعلقات اور مالِ حرام کے باطنی و سماجی اثرات پر تنبیہ کرتے ہوئے اپنے خطبات اور وصایاک میں سخت ترین الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔

آپؑ نے خطبہ نمبر 114 میں دنیا داروں اور ناجائز مال جمع کرنے والوں کی ذہنی کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"تَجَهَّمَتْهُمُ الدُّنْيَا بِزُخْرُفِهَا، وَأَعْقَبَتْهُمُ الطَّمَعَ فِي غَيْرِ مَطْمَعٍ”۔ دنیا نے اپنی ظاہری چمک دمک سے انہیں ورغلایا اور ان کے اندر لامتناہی طمع پیدا کر دی۔

نیز آپؑ نے مالِ حرام کے زہریلے اثرات پر کلماتِ قصار میں فرمایا کہ جو شخص غلط طریقوں سے مال حاصل کرتا ہے، وہ دراصل اپنے باطن میں آگ کے انگارے بھرتا ہے، جو اس کی عقل کو مفلوج اور اس کے اعصاب کو مستقل تذبذب اور خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ معاشی معاملات میں غبن، دغا بازی اور ظلم انسان کے اندر ایک ایسا پوشیدہ خوف مسلط کر دیتے ہیں کہ اسے ہر وقت اپنے زوال کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ ان کے مطابق، امیر المؤمنینؑ نے واضح کیا ہے کہ غلط معاشی تعلقات رکھنے والا شخص کبھی بھی داخلی طور پر پرسکون نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا مال عدلِ الٰہی کے قوانین سے ٹکرا کر حاصل ہوا ہوتا ہے۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ حرام غذا اور باطل معاشی رویے انسانی روح کی اچھائی جذب کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں، جس سے انسان مستقل ذہنی دباؤ (Stress) اور مایوسی کا قیدی بن جاتا ہے۔ (235)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی (Social Justice) اور معاشی حقوق کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کائنات کے وہ واحد حکمران ہیں جنہوں نے معاشی کرپشن اور غلط مالی روابط کو انسانیت کا قاتل قرار دیا۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک جب معاشی تعلقات میں امانت داری ختم ہو جائے اور لوگ دوسروں کا حق مارنے لگیں، تو معاشرہ نفسیاتی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص ناجائز ذرائع سے دولت کے انبار لگاتا ہے، وہ مادی طور پر جتنا بھی مستحکم نظر آئے، باطنی طور پر ایک بدترین بزدلی، خوف اور اینگزائٹی میں مبتلا ہوتا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا معاشی فلسفہ انسان کو حلال روزی اور پاکیزہ روابط کی تلقین کر کے ایک بے مثال باطنی طمأنینت اور فکری وقار عطا کرتا ہے۔ (236)

قرآنِ مجید پاکیزہ اور حلال روزی کے روح اور عمل پر پڑنے والے مثبت اثرات کا ذکر یوں فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا”۔ (237)
(اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور صالح عمل کرو)۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور معاشی نفسیات کے اصولوں کے فریم ورک کے مطابق، غلط معاشی تعلقات اور ناجائز مال انسان کو مستقل باطنی خلفشار اور اعصابی دباؤ کی دلدل میں پھنساتے ہیں، جبکہ مالی معاملات میں دیانت داری، حلال روزی اور عدل اختیار کرنا ہی روح کو حقیقی سرور، یکسوئی اور باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔

3.25 احساسِ محرومی اور دوسروں سے موازنہ

احساسِ محرومی (Sense of Deprivation) اور دوسروں سے مستقل موازنہ کرنا (Social Comparison) جدید نفسیات اور رویہ جاتی علوم (Behavioral Sciences) کے مطابق انسانی باطن کو مسموم کرنے اور دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress) پیدا کرنے والا ایک بدترین ذہنی عارضہ ہے۔ جب انسان دوسروں کی آسائش، کامیابی، مال یا سماجی رتبے کو دیکھ کر اپنے موجودہ حالات پر کڑھنا شروع کرتا ہے، تو اس کا پورا وجود ایک شدید منفی ہیجان کی زد میں آ جاتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر احساسِ کمتری، اینگزائٹی (Anxiety) اور ایک ایسا اعصابی تناؤ پیدا کرتی ہے جو اس کے اپنے سکونِ قلب کو چاٹ جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی نظام میں دوسروں سے موازنے کو عقل کی کمزوری، خدا کی تقسیم پر اعتراض اور باطنی عذاب کا سب سے بڑا عامل مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم دوسروں کی مادی زندگی سے موازنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسِ محرومی کا مابعد الطبیعاتی علاج ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
"وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ”۔ (238)
اور آپ اپنی آنکھیں اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھیں جو ہم نے ان میں سے مختلف گروہوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر آزمائش کے لیے دے رکھی ہے، اور آپ کے رب کا رزق ہی سب سے بہتر اور سب سے پائیدار ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوسروں کی مادی چمک دمک محض ایک امتحانی پرچہ ہے، لہٰذا اس سے اپنا موازنہ کر کے خود کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنا فکری نادانی ہے۔

اس قرآنی و اخلاقی اصول کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں دوسروں سے موازنہ کرنے کو حسد، طمع اور قناعت کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مطہری کے نزدیک، جو انسان ہر وقت دوسروں کی زندگی پر نظر رکھتا ہے، وہ دراصل خود اپنے وجود کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ان چیزوں پر روتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہیں۔ جب انسان کائنات میں عدلِ الٰہی پر بھروسہ کھو کر دوسروں سے اپنا موازنہ شروع کرتا ہے، تو اس کا توکل ختم ہو جاتا ہے اور اس کا ذہن مستقل اضطراب، کمتری اور ذہنی فرسودگی کا شکار رہتا ہے۔ (239)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے دوسروں سے موازنہ کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے باطنی ملال کی نفسیاتی عکاسی کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ایک نہایت جامع اور سنہری اصول ارشاد فرمایا ہے:
"مَنْ نَظَرَ فِي عَيْبِ نَفْسِهِ شُغِلَ عَنْ عَيْبِ غَيْرِهِ، وَمَنْ رَضِيَ بِرِزْقِ اللَّهِ لَمْ يَحْزَنْ عَلَى مَا فَاتَهُ”۔ ”جس نے اپنے عیبوں پر نظر رکھی وہ دوسروں کے عیب دیکھنے سے باز رہا، اور جو اللہ کے دیے ہوئے رزق پر راضی ہو گیا وہ اس چیز پر کبھی غمگین نہیں ہوتا جو اس کے ہاتھ سے نکل گئی یا اسے نہ مل سکی“۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر موازنے اور طمع کی قید میں جینے والے کی حالت پر فرمایا کہ جو شخص دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر کڑھتا ہے، اس کا غم کبھی ختم نہیں ہوتا اور اس کا نفس ہمیشہ بھوکا ہی رہتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘رزق پر راضی ہونا’ دراصل ایک نفسیاتی ڈھال (Psychological Shield) ہے جو انسان کو احساسِ محرومی سے بچاتی ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان دوسروں کی مادی حالت سے اپنا موازنہ کرتا ہے، تو وہ کائنات کے فطری قوانین اور عدل کے اصولوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے قناعت کو ایسا خزانہ اسی لیے مانا ہے کیونکہ موازنے کی عادت انسان کے اندر وہ نفسیاتی بیماریاں (Psychosomatic Illnesses) پیدا کرتی ہے جو براہِ راست اس کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیتی ہیں، جبکہ قناعت انسان کو ایک دائمی باطنی طمأنینت اور ذہنی دباؤ (Stress) سے نجات عطا کرتی ہے۔ (240)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے اخلاقی ضابطوں اور انسانی نفس کے گہرے ادراک کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ نے انسانیت کو مادی موازنے کی غلامی سے نکال کر روح کی عظمت کا درس دیا ہے۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک بدترین بزدلی یہ ہے کہ انسان اپنی داخلی صلاحیتوں اور شرفِ انسانیت کو چھوڑ کر دوسروں کی گاڑی، بنگلے یا مال و دولت سے اپنی قیمت لگائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص احساسِ محرومی کی دلدل میں گر جاتا ہے، وہ مادی طور پر جتنا بھی امیر ہو جائے، داخلی طور پر ایک کواڑ اور بھکاری ہی رہتا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفۂ رضا انسان کو اس اعصابی عذاب سے نجات دلا کر حقیقی طمأنینت اور فکری وقار عطا کرتا ہے۔ (241)

قرآنِ مجید انسان کو احساسِ محرومی سے نکالنے اور اپنے رب کے فضل پر نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ”۔ (242)
اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، احساسِ محرومی اور دوسروں سے موازنہ کرنا انسان کو داخلی طور پر کھوکھلا اور ذہنی طور پر بیمار کر دیتے ہیں، جبکہ اپنی نعمتوں پر شکر گزار ہونا اور خدا کی تقسیم پر راضی رہنا ہی شدید ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور باطنی بے سکونی کا حقیقی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.26 غربت اور معاشی پریشانیاں

غربت (Poverty) اور مستقل معاشی تنگی کو جدید نفسیات، عمرانیات اور اعصابی علوم میں انسانی اعصاب کو کچلنے اور شدید ذہنی دباؤ (Chronic Financial Stress) پیدا کرنے والا ایک سب سے بڑا مادی محرک مانا گیا ہے۔ جدید وجودی اور رویہ جاتی نفسیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ جب انسان بنیادی ضروریاتِ زندگی کی محرومی یا روزگار کے شدید بحران سے گزرتا ہے، تو اس کا لاشعور ایک مستقل خوف، اینگزائٹی (Anxiety) اور بقا کی جنگ (Survival Mode) میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل دباؤ انسانی عقل کے منطقی فیصلوں کو متاثر کرتا ہے اور باطنی بکھراؤ کا سبب بنتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری اور حکیمانہ نظام میں غربت کے اس نفسیاتی اور معاشرتی پہلو کا گہرا ادراک ملتا ہے، جہاں اسے عقل کو حیران کرنے والی، انسان کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے والی اور فکری راستی کو متاثر کرنے والی ایک بڑی مادی آزمائش قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم معاشی تنگی اور فقر کے اسی اعصابی و نفسیاتی حملے اور اس کے پیچھے کارفرما وسوسوں کا مابعد الطبیعاتی تجزیہ ان الفاظ میں پیش فرماتا ہے:
"الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا”۔ (243)
شیطان تمہیں مفلسی اور غربت سے ڈراتا ہے اور تمہیں برائی کا حکم دیتا ہے، اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ غربت کا خوف اور معاشی اندیشے انسان کے اندر باطنی تنگی اور اخلاقی کمزوری پیدا کرنے کے لیے شیطانی حربے کے طور پر کام کرتے ہیں، جس کا علاج الٰہی فضل پر بھروسہ ہے۔

اس قرآنی تصور اور معاشی حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں فقر کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں؛ ایک فقرِ اختیاری (زہد) جو روح کو آزادی دیتا ہے، اور دوسرا فقرِ اضطراری (مفلسی) جو انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ مطہری کے نزدیک، علی علیہ السلام کا کلام معاشی پریشانیوں کو محض ایک مادی مسئلہ نہیں سمجھتا، بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ فقر انسان کے اعصابی توازن اور اس کی باطنی عزتِ نفس (Self-Esteem) پر کتنا گہرا وار کرتا ہے۔ جب معاشرے میں عدل قائم نہ ہو اور فرد معاشی طور پر پس جائے، تو اس کا باطن مستقل اندیشوں کی زد میں آ جاتا ہے، جس سے ذہنی یکسوئی مفقود ہو جاتی ہے۔ (244)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غربت اور معاشی پریشانیوں کے ہولناک نفسیاتی، سماجی اور اعصابی اثرات کو اپنے کلامِ پاک میں کمالِ صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ آپؑ نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے (یا کلماتِ قصار میں) ارشاد فرمایا:
"يَا بُنَيَّ، إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ الْفَقْرَ، فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَإِنَّ الْفَقْرَ مَنْقَصَةٌ لِلدِّينِ، مَدْهَشَةٌ لِلْعَقْلِ، دَاعِيَةٌ لِلْمَقْتِ”۔ (اے میرے بیٹے! میں تمہارے بارے میں غربت و افلاس سے ڈرتا ہوں، پس اس سے اللہ کی پناہ مانگو؛ کیونکہ مفلسی دین کو ناقص کرتی ہے، عقل کو حیران و پریشان کر دیتی ہے اور لوگوں کی نظروں میں بدگمانی و نفرت کا سبب بنتی ہے)۔

آپؑ نے مفلس انسان کی نفسیاتی تنہائی کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک اور مقام پر فرمایا: "الْغِنَى فِي الْغُرْبَةِ وَطَنٌ، وَالْفَقْرُ فِي الْوَطَنِ غُرْبَةٌ”۔ مالداری پردیس میں بھی وطن جیسی راحت دیتی ہے، اور غریبی انسان کو اپنے ہی وطن میں اجنبی اور غریب الوطن بنا دیتی ہے۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے فقر کو ‘مدہشۃ للعقل’ (عقل کو حیران کرنے والا) اس لیے کہا ہے کیونکہ معاشی پریشانیوں میں گھرا ہوا انسان اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھ پاتا اور اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان کو اپنے اور اپنے بچوں کے رزق کی فکر لاحق ہوتی ہے، تو وہ ایک دائمی باطنی خلفشار اور ذہنی دباؤ (Stress) میں مبتلا ہو جاتا ہے، جو اسے بسا اوقات ایسے اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے جو اس کے باطنی امن کو مستقل طور پر غارت کر دیتے ہیں۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں فقر کے خاتمے اور معاشی استحکام پر اسی لیے زور دیا گیا ہے تاکہ انسانی روح پرسکون رہ سکے۔ (245)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے خطباتِ عدل اور فقر کے خلاف ان کی جنگ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کائنات کے وہ پہلے رہنما ہیں جنہوں نے غربت کو ایک بدترین سماجی اور نفسیاتی لعنت قرار دے کر اس کے خلاف تلوار اٹھائی۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک معاشرے میں فقر کا وجود حکمرانوں کی نااہلی اور امیروں کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص مستقل معاشی تنگی اور بھوک کا شکار ہوتا ہے، اس سے ذہنی طمأنینت اور اخلاقی بلندی کی توقع رکھنا عبث ہے؛ چنانچہ علیؑ کا معاشی فلسفہ جہاں معاشرتی سطح پر فقر کے خاتمے کی بات کرتا ہے، وہاں فرد کو قناعت، محنت اور توکل کا مابعد الطبیعاتی ہتھیار دے کر اس معاشی اعصابی دباؤ کے خلاف ایک نفسیاتی شیلڈ بھی فراہم کرتا ہے۔ (246)

قرآنِ مجید معاشی تنگی کے دور میں بھی الٰہی وسعت اور مابعد الطبیعاتی امید کا دامن تھامنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدُ عُسْرٍ يُسْرًا”۔ (247)
کشادہ دست اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ کسی نفس پر اس کی دی ہوئی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا فرما دے گا۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی، معاشی اور نفسیاتی اصولوں کی رو سے، غربت اور معاشی پریشانیاں عقل کو پراگندہ اور باطن کو مضطرب کرتی ہیں، جبکہ معاشرتی سطح پر عدلِ اجتماعی قائم کرنا اور انفرادی سطح پر صبر، تدبیر اور خدا کے وعدوں پر یقین رکھنا ہی اس شدید مادی و ذہنی دباؤ سے نجات پانے کا حتمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی نسخہ ہے۔

3.27 کمال پسندی اور ذہنی دباؤ

کمال پسندی (Perfectionism) اور خود پر حد سے زیادہ سخت معیار مسلط کر لینا جدید نفسیات اور کلینیکل علوم (Clinical Psychology) میں شدید ذہنی دباؤ (Chronic Stress)، اینگزائٹی اور باطنی فرسودگی (Burnout) کا ایک بڑا محرک مانا گیا ہے۔ جب انسان اپنے لیے ایسے غیر حقیقت پسندانہ اور مثالی معیار (Unrealistic Standards) طے کر لیتا ہے جہاں معمولی سی لغزش یا کمی بھی اسے ناقابلِ قبول محسوس ہوتی ہے، تو وہ ایک مستقل اعصابی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے ‘مالیڈپٹیو پرفیکشن ازم’ (Maladaptive Perfectionism) کہا جاتا ہے، جہاں انسان اپنی قدر و قیمت کو صرف اپنے نتائج سے جوڑ لیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری اور اخلاقی نظام میں انسانی حدود و قیود کو تسلیم کرنے اور کائنات کے حقائق کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی تعلیم دی گئی ہے، جبکہ خود پر حد سے زیادہ سختی اور مادی یا عملی کمال کا ایسا جنون جو انسان کو اضطراب میں مبتلا کر دے، نفس کی نادانی اور باطنی اعتدال کے زوال کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم انسانی نفس پر اس کی بساط سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے کی نفی کرتے ہوئے اور اسے ذہنی دباؤ سے نکالتے ہوئے فرماتا ہے:
"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”۔ (248)
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت اور بساط سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ جب کائنات کا خالق انسان سے اس کی صلاحیت سے بڑھ کر تقاضا نہیں کرتا، تو انسان کا خود اپنے نفس پر لامتناہی اور اعصاب شکن معیار مسلط کرنا مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی لحاظ سے سراسر ظلم ہے۔

اس قرآنی ضابطے کی گہری فکری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا اخلاقی نظام انسان کو ‘افراط اور تفریط’ سے نکال کر ‘اعتدال’ (Golden Mean) پر گامزن کرتا ہے۔ مطہری کے نزدیک، انسان کے اندر مابعد الطبیعاتی ارتقاء کی خواہش تو ہونی چاہیے، لیکن اپنی مادی یا دنیاوی کارکردگی میں کمال پسندی کا ایسا جنون پیدا کر لینا جو روح کا سکون ہی چھین لے، ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ جب انسان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک عاجز اور محدود مخلوق ہے، تو وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کرتا ہے (Illusion of Control)؛ یہی کوشش اسے مستقل ذہنی دباؤ اور باطنی بکھراؤ کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ (249)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے انسان کو اس کے عجز کی یاد دہانی کراتے ہوئے اور خود پر حد سے زیادہ اعصاب شکن معیار مسلط کرنے سے روکتے ہوئے خطبہ نمبر 150 میں ایک گہرا نفسیاتی اصول ارشاد فرمایا ہے:
"لَا تَقَعْ فِيمَا لَا تَطِيقُ، فَإِنَّ الْمُتَكَلِّفَ لَا يُعْذَرُ”۔ جس چیز کی تم طاقت نہیں رکھتے اس میں خود کو نہ ڈالو، کیونکہ خود پر حد سے زیادہ بوجھ لادنے والے (تکلف کرنے والے) کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جاتا۔

آپؑ نے کلماتِ قصار میں ایک اور مقام پر اعتدال اور نفس کی لچک (Flexibility) کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اپنے نفس پر حد سے زیادہ سختی کرتا ہے اور ہر معاملے میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ خود کو ہلاکت اور دائمی ملال کے حوالے کر دیتا ہے۔

ابن ابی الحدید اس فکری ضابطے کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ‘تکلف’ اور کمال پسندی کا عارضہ انسان کے اعصاب پر ایک ایسا فرضی بوجھ مسلط کر دیتا ہے جہاں وہ کبھی بھی اطمینانِ قلب (Peace of Mind) کا تجربہ نہیں کر پاتا۔ ان کے مطابق، جو شخص ہر کام کو سو فیصد نقص سے پاک دیکھنے کا جنون رکھتا ہے، اس کا لاشعور مستقل خوف (Fear of Failure) کی زد میں رہتا ہے، کیونکہ دنیا اپنی اصل میں نامکمل اور تغیر پذیر ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے انسان کو اپنی حد پہچاننے کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ وہ اعصابی تھکن اور شدید ذہنی دباؤ (Stress) سے محفوظ رہ کر تعمیری کام کر سکے۔ (250)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے خطبات میں موجود حقیقت پسندی اور اعتدال پسندانہ فلسفے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ انسانی نفس کے پیچیدہ ترین امراض کے سب سے بڑے معالج ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے ہاں سچائی اور عدل کے معاملے میں تو کمال پایا جاتا ہے، لیکن انسان کی انفرادی زندگی میں خود پر بے جا سختی اور اعصاب شکن توقعات قائم کرنے کی شدید نفی ملتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص کمال پسندی کے جنون کا شکار ہو کر اپنی فطری حدود سے لڑنے لگتا ہے، وہ داخلی طور پر ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور اس کا باطن ایک مستقل جہنم بن جاتا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فکری نظام انسان کو قناعت، تسلیم اور اعتدال سکھا کر ایک گہرا داخلی سکون اور اعصابی توازن عطا کرتا ہے۔ (251)

قرآنِ مجید دین اور زندگی کے معاملات میں آسانی پیدا کرنے اور اعصابی گھٹن سے بچنے کا بنیادی اصول یوں بیان فرماتا ہے:
"يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ”۔ (252)
اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہارے لیے تنگی و سختی نہیں چاہتا۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی، فلسفیانہ اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، کمال پسندی کا جنون اور خود سے غیر حقیقی توقعات انسان کو شدید ذہنی دباؤ اور دائمی اینگزائٹی کی طرف دھکیلتی ہیں، جبکہ اپنی انسانی حدود کو تسلیم کرنا، اعتدال اختیار کرنا اور نتائج کو خدا کے سپرد (توکل) کرنا ہی روح کو حقیقی طمأنینت، عزم اور باطنی سکون عطا کرتا ہے۔

3.28 زندگی میں عدم توازن

زندگی میں عدم توازن (Imbalance in Life/Lack of Work-Life Balance) جدید نفسیات، اعصابی علوم اور صحتِ عامہ (Public Health) کی رو سے انسانی شخصیت کو بکھیرنے اور دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress) پیدا کرنے والا ایک بنیادی محرک مانا گیا ہے۔ جدید رویہ جاتی نفسیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ جب انسان اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں—جیسے معیشت، خاندان، روح، جسم اور آرام—کے درمیان اعتدال قائم نہیں رکھ پاتا اور کسی ایک پہلو کو دوسرے پر قربان کر دیتا ہے، تو اس کا اعصابی نظام شدید تناؤ کی زد میں آ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، مادی دوڑ میں اس حد تک اندھا ہو جانا کہ انسان اپنی روحی بیداری اور خاندانی سکون کو فراموش کر دے، اسے ‘برن آؤٹ’ (Burnout) اور شدید داخلی خالی پن (Existential Vacuum) میں مبتلا کر دیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے فکری و اخلاقی نظام میں زندگی کے تمام مادی و روحانی تقاضوں میں ایک جامع توازن (Equilibrium) برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، اور عدم توازن کو عقل کی نادانی اور باطنی عذاب کا سبب مانا گیا ہے۔

قرآنِ کریم کائنات اور انسانی زندگی کی بنیاد ‘میزان’ اور توازن پر رکھتے ہوئے، اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی نفی ان الفاظ میں فرماتا ہے:
"وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ‎(7)‎ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ”۔ (253)
اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور میزان (توازن کا ترازو) قائم کیا، تاکہ تم میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو۔
یہ آیاتِ مبارکہ واضح کرتی ہیں کہ مابعد الطبیعاتی اور طبیعیاتی کائنات کا پورا نظام ایک محکم توازن پر چل رہا ہے، لہٰذا انسانی زندگی میں اس توازن کا ٹوٹنا صریحاً فطرت سے جنگ ہے جو انسان کو ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

اس قرآنی و فلسفیانہ اصول کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا زہد اور عالمی وژن انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں، بلکہ اسے دنیا میں متوازن جینا سکھاتا ہے۔ مطہری کے نزدیک، اسلام رہبانیت (صرف عبادت) اور مادیت پسندی (صرف دنیا) دونوں کی نفی کرتا ہے۔ جب انسان زندگی میں عدم توازن کا شکار ہو کر اپنی روح کو نظر انداز کرتا ہے، تو مادی آسائشوں کے باوجود اس کا باطن ایک مستقل گھٹن اور اینگزائٹی (Anxiety) کا شکار رہتا ہے۔ مطہری واضح کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا کلام انسان کو ایک ایسا فریم ورک دیتا ہے جہاں وہ اپنی دنیوی ذمہ داریاں نباہتے ہوئے بھی خدا سے جڑا رہتا ہے، جو کہ اعصابی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ (254)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے زندگی میں توازن قائم کرنے اور چوبیس گھنٹوں کے اوقات کو منظم کرنے کا ایک لاثانی اور جامع نفسیاتی ضابطہ کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا ہے:
"لِلْمُؤْمِنِ ثَلَاثُ سَاعَاتٍ: فَسَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٌ يَرُمُّ مَعَاشَهُ، وَسَاعَةٌ يُخَلِّي بَيْنَ نَفْسِهِ وَبَيْنَ لَذَّتِهَا فِيمَا يَحِلُّ وَيَجْمُلُ”۔ مومن کے لیے (رات دن میں) تین اوقات ہونے چاہئیں: ایک وقت وہ جس میں وہ اپنے رب سے مناجات (عبادت) کرے، ایک وقت وہ جس میں اپنے معاش (روزگار) کا انتظام کرے، اور ایک وقت وہ جس میں اپنے نفس اور ان حلال و پاکیزہ لذتوں کے درمیان یکسوئی حاصل کرے جو اس کے لیے جائز اور خوبصورت ہیں۔

آپؑ نے ایک اور مقام پر عدم توازن کی جڑ واضح کرتے ہوئے فرمایا: "لَا تَرَى الْجَاهِلَ إِلَّا مُفْرِطاً أَوْ مُفَرِّطاً” (تم جاہل کو نہیں دیکھو گے مگر یہ کہ وہ یا تو افراط (حد سے آگے بڑھنے) کا شکار ہوگا یا تفریط (حد سے پیچھے رہ جانے) کا)۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے اوقات کی اس تقسیم کے ذریعے انسانی نفس کی تمام جہات (روحانی، مادی اور تفریحی) کا احاطہ فرمایا ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان ان تینوں حصوں میں سے کسی ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر حد سے زیادہ جھک جاتا ہے، تو اس کا باطنی توازن بگڑ جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ جو شخص حلال تفریح اور آرام کو بالکل ختم کر دیتا ہے، اس کے اعصاب خستہ ہو جاتے ہیں، اور جو روزگار چھوڑ دیتا ہے، وہ معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے؛ چنانچہ امیر المؤمنینؑ کے نزدیک عقل کا تقاضا زندگی کے تمام معاملات میں ایک محکم اعتدال (Justice and Balance) لانا ہے۔ (255)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی اپنی حیرت انگیز متوازن شخصیت اور ان کے فرامین کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کی زندگی خود کائناتی توازن کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی۔ وہ بیک وقت ایک زاہدِ شب بیدار بھی تھے، مصلحِ معاشرہ بھی، اور ایک محنتی کسان اور مجاہد بھی۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کا فکری نظام انسان کو کسی ایک رخ پر مغلوب ہونے نہیں دیتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جدید دور کا انسان اسی عدم توازن کی وجہ سے ‘اسٹریس’ اور نفسیاتی امراض کا شکار ہے کیونکہ وہ مشین بن چکا ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو دوبارہ اس کی فطری اور متوازن حالت کی طرف لوٹا کر حقیقی باطنی طمأنینت عطا کرتا ہے۔ (256)

قرآنِ مجید دین اور دنیا کے درمیان اسی متوازن اور پرسکون رویے کی عکاسی کرتے ہوئے مومنین کی دعا یوں نقل فرماتا ہے:
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”۔ (257)
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، زندگی میں عدم توازن، افراط و تفریط اور بے ترتیبی عقل کو معطل اور ذہن کو شدید دباؤ میں مبتلا کرتی ہیں، جبکہ زندگی کے تمام مادی، روحانی اور خاندانی تقاضوں میں ایک خوبصورت اعتدال اور توازن قائم کرنا ہی باطنی اضطراب اور ذہنی تھکن کا حتمی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.29 غیبت اور کینہ

غیبت (Backbiting) اور باطنی کینہ (Malice/Harbored Grudges) جدید نفسیات، اخلاقیات اور عمرانیات میں انسانی شخصیت کو داغدار کرنے اور شدید اعصابی و باطنی تناؤ (Chronic Psychological Distress) پیدا کرنے والے خطرناک ترین گناہ اور جذباتی عوارض مانے گئے ہیں۔ جدید سماجی نفسیات کے مطابق، جب کوئی فرد ان منفی صفات کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا ذہن ہر وقت دوسروں کی مخالفت، عیب جوئی اور انتقام کے منصوبوں میں مصروف رہتا ہے۔ یہ مسلسل منفی سوچ (Negative Rumination) انسانی اعصاب پر ایسا دباؤ ڈالتی ہے جو لاشعور کو زہر آلود کر دیتا ہے، جس سے ذہنی یکسوئی مفقود ہو جاتی ہے اور انسان ‘اینگزائٹی’ اور شدید داخلی بے سکونی کا مریض بن جاتا ہے۔ نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی نظام میں غیبت کو کمزوروں کی آخری کوشش اور کینے کو روح کا وہ روگ قرار دیا گیا ہے جو انسان کو مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔

قرآنِ کریم غیبت کی ہولناکی اور اس کے باطنی بگاڑ کی تصویر کشی کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ میں فرماتا ہے:
"وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ”۔ (258)
اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے کراہت کرتے ہو۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ غیبت محض ایک زبانی کلام نہیں بلکہ مابعد الطبیعاتی سطح پر انسانی وجود کو مردار کھانے کی نجاست سے آلودہ کرنا ہے، جو باطنی سلامتی کو یکسر تباہ کر دیتا ہے۔

اس قرآنی و اخلاقی ضابطے کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ انسان کو ایک ایسا باوقار باطن عطا کرتی ہے جہاں کینہ اور غیبت جیسے امراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مطہری کے نزدیک، یہ عیوب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؛ کینہ انسان کے دل میں نفرت کی جڑیں مضبوط کرتا ہے، اور پھر یہی باطنی بغض زبان کے راستے غیبت کی شکل میں باہر نکلتا ہے۔ جب انسان اس چکر (Vicious Cycle) میں پھنس جاتا ہے، تو اس کی فکری یکسوئی اور باطنی طمأنینت مٹ جاتی ہے اور اس کا ذہن مستقل اضطراب کا مسکن بن جاتا ہے۔ (259)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غیبت اور کینے کی نفسیاتی جڑوں اور ان کے ہولناک نقصانات کو اپنے کلامِ پاک میں کمالِ بلاغت سے آشکار فرمایا ہے۔ آپؑ نے غیبت کرنے والے کی ذہنی پسماندگی کی عکاسی کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں فرمایا:
"الْغِيبَةُ جُهْدُ الْعَاجِزِ”۔ غیبت کرنا عاجز اور کمزور انسان کی آخری کوشش ہوتی ہے۔ آپؑ نے کینے اور بغض کے اثرات پر کلماتِ قصار میں ارشاد فرمایا: "الْغِلُّ دَاءُ الْقُلُوبِ”۔ کینہ اور بغض دلوں کا بدترین روگ ہے۔ نیز آپؑ نے کینہ پرور انسان کی اعصابی تھکن کو یوں واضح فرمایا: "الْحَقُودُ مُعَذَّبُ النَّافْسِ، مُتَضَاعِفُ الْهَمِّ”۔ کینہ ور انسان کی روح ہمیشہ عذاب میں رہتی ہے اور اس کے رنج و غم ہمیشہ دگنے ہوتے رہتے ہیں۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے غیبت کو ‘جُہد العاجز’ اس لیے کہا ہے کیونکہ جو شخص کسی کا روبرو مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتا، وہ اپنی نفسیاتی تسکین (Defense Mechanism) کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، دل میں کینہ رکھنا انسان کے اندر وہ نفسیاتی بیماریاں (Psychosomatic Illnesses) پیدا کرتا ہے جو براہِ راست اس کے دل کی دھڑکن، نیند اور اعصابی توازن کو بگاڑ دیتی ہیں؛ کیونکہ کینہ پرور شخص ہر وقت انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور کبھی بھی پرسکون نہیں ہو سکتا۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ ان رذائل سے دوری ہی عقل کی پختگی اور ذہنی صحت کی ضامن ہے۔ (260)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے انسانی ہمدردی اور اخلاقی فلسفے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ انسانی روح کو ان تمام آلائشوں سے پاک دیکھنا چاہتے تھے جو معاشرتی امن اور فرد کے باطنی سکون کو غارت کرتی ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، علیؑ کے نزدیک باطنی کینہ انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنے دل میں دوسروں کے لیے بغض اور کینہ پالتا ہے، وہ دنیا کی کسی نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی اپنی داخلی خوشی دوسروں کے زوال یا نقصان سے مشروط ہو جاتی ہے؛ چنانچہ علیؑ کا فلسفہ انسان کو عفو و درگزر اور سلامتِ صدر (صاف دلی) سکھا کر ایک لازوال باطنی آزادی اور فکری وقار عطا کرتا ہے۔ (261)

قرآنِ مجید دلوں کو کینے سے پاک رکھنے کی مابعد الطبیعاتی دعا سکھاتے ہوئے اہل ایمان کا یہ قول نقل فرماتا ہے:
"رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا” (262)
اے ہمارے رب! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ اور بغض نہ رہنے دے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، غیبت اور کینہ انسان کو داخلی طور پر کھوکھلا، معاشرتی طور پر تنہا اور ذہنی طور پر شدید بیمار کر دیتے ہیں، جبکہ دل کو صاف رکھنا، دوسروں کی غیبت سے زبان کو روکنا اور محبت و عفو کا راستہ اپنانا ہی شدید ذہنی دباؤ، وساوسِ نفس اور باطنی بے سکونی کا حقیقی مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج ہے۔

3.30 اضطراب اور اندرونی بے چینی

اضطراب (Anxiety) اور دائمی اندرونی بے چینی (Internal Restlessness/Existential Dread) جدید کلینیکل نفسیات، اعصابی علوم اور نفسیاتی امراض کے شعبے میں ذہنی صحت کو دیمک کی طرح چاٹنے والے خطرناک ترین عوارض مانے گئے ہیں۔ جدید نفسیاتی مائلین کے مطابق، جب انسان ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے لاینحل خوف و خطرات (Anticipatory Anxiety) کے حصار میں مقید ہو جاتا ہے، تو اس کا اعصابی نظام مستقل طور پر ‘لڑو یا بھاگو’ (Fight-or-Flight Response) کی ہنگامی حالت میں رہتا ہے۔ یہ مسلسل اندرونی خلفشار انسان سے حال کا سکون چھین لیتا ہے اور اس کے باطن کو وساوس، وہم اور گہرے داخلی خالی پن کا مسکن بنا دیتا ہے۔ نہج البلاغہ کے مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی فریم ورک میں، اندرونی بے چینی کو ایمان و توکل کی کمزوری، دنیا سے شدید وابستگی (مادیت پرستی) اور خدا کی یاد سے دوری کا منطقی نتیجہ مانا گیا ہے، جبکہ اس کا حتمی علاج قلب کی روحی بیداری میں پوشیدہ ہے۔

قرآنِ کریم انسانی نفس کی اس صفتِ ہلع (اضطراب) اور اس کے نفسیاتی اثرات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے:
"إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ‎(19)‎ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ‎(20)‎ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا”۔ (263)
بیشک انسان بڑا ہی بے صبرا اور حریص پیدا ہوا ہے۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ شدید جزع فزع (اضطراب) کرنے لگتا ہے، اور جب اسے آسودگی ملتی ہے تو وہ بخل سے کام لیتا ہے۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ مادی بنیادوں پر جینے والا انسان فطری طور پر اضطراب کا شکار رہتا ہے، اور جب تک وہ اپنے باطن کو ایمان کے نور سے متوازن نہیں کرتا، وہ اس اندرونی بے چینی سے نجات نہیں پا سکتا۔

اس مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی اصول کی گہری تشریح کرتے ہوئے علامہ مرتضیٰ مطہری اپنی کتب میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کے مطابق اضطراب کی اصل جڑ ‘عدمِ تسلیم’ اور مادی دنیا کو سب کچھ سمجھ لینا ہے۔ مطہری کے نزدیک، جب انسان کائنات کے حقیقی ناظم (خدا) پر توکل چھوڑ کر ہر چیز کا بوجھ اپنے ناتواں اعصاب پر لاد لیتا ہے، تو اس کا باطن ایک مستقل جنگ کا میدان بن جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا کلام انسان کو زہدِ حقیقی سکھا کر دراصل اس کے لاشعور کو ان تمام زنجیروں سے آزاد کرتا ہے جو اسے اینگزائٹی اور باطنی بکھراؤ میں مبتلا رکھتی ہیں، یوں انسان کو ایک لازوال داخلی امن (Inner Peace) نصیب ہوتا ہے۔ (264)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اضطراب اور وساوس کے اعصاب شکن اثرات کو آشکار کرتے ہوئے کلماتِ قصار میں ایک نہایت عمیق اور شفا بخش اصول ارشاد فرمایا ہے:
"الْهَمُّ نِصْفُ الْهَرَمِ”۔ دائمی فکر، اضطراب اور ذہنی دباؤ انسان کو آدھا بوڑھا کر دیتے ہیں۔ آپؑ نے ایک اور مقام پر خوف اور وہم سے پیدا ہونے والی اندرونی بے چینی کا نفسیاتی علاج بتاتے ہوئے فرمایا: "إِذَا هِبْتَ أَمْراً فَقَعْ فِيهِ، فَإِنَّ شِدَّةَ تَوَقِّيهِ أَعْظَمُ مِمَّا تَخَافُ مِنْهُ”۔ جب تمہیں کسی کام یا خطرے سے شدید خوف اور اضطراب محسوس ہو، تو خود کو اس میں ڈال دو؛ کیونکہ اس خوف کے سائے میں جینے کا اعصابی تناؤ اس اصل چیز سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو۔

ابن ابی الحدید اس کلام کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ نے ‘توقّی’ (مستقبل کے اندیشوں میں گھلتے رہنے) کو اصل مصیبت سے بڑا عذاب اس لیے قرار دیا ہے، کیونکہ وہم اور اضطراب انسان کے تخیل میں مصیبت کو کئی گنا بڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ ذہنی کیفیت براہِ راست انسان کی جسمانی صحت کو مٹا دیتی ہے، جسے جدید سائنس ‘سائیکوسومیٹک امراض’ (Psychosomatic Illnesses) کہتی ہے۔ ابن ابی الحدید واضح کرتے ہیں کہ امیر المؤمنینؑ کا یہ فرمان انسان کو ذہنی وسوسوں کی قید سے نکال کر ‘حال’ (Present Moment) میں جینے اور جراتِ رندانہ اختیار کرنے کی نفسیاتی تکنیک سکھاتا ہے۔ (265)

جارج جرداق نے علی علیہ السلام کے خطبات میں موجود نفسیاتی تسکین اور داخلی مضبوطی کے عناصر کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالبؑ کے افکار انسانی روح کے لیے ایک محکم پناہ گاہ ہیں۔ جارج جرداق کے الفاظ میں، جدید دور کا انسان مادی ترقی کے باوجود جس شدید اندرونی بے چینی اور تنہائی کا شکار ہے، اس کا علاج علیؑ کے فلسفۂ رضا و توکل میں موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ علیؑ انسان کے دل کو اتنا وسیع اور محکم کر دینا چاہتے ہیں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے حوادث بھی اس کے اندرونی سمندر میں اضطراب کی لہر پیدا نہ کر سکیں؛ چنانچہ آپؑ کا اسلوب انسان کو باطنی طور پر خود کفیل اور پرسکون بناتا ہے۔ (266)

قرآنِ مجید اضطراب اور باطنی بے چینی کا حتمی، مابعد الطبیعاتی اور نفسیاتی علاج نہایت صراحت کے ساتھ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
"الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”۔ (267)
وہی لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔

پس نہج البلاغہ کے اخلاقی اور نفسیاتی تجزیے کی رو سے، دنیا کی عارضی مصلحتوں پر بھروسہ اور اندیشوں کی غلامی انسان کو شدید اضطراب کی دلدل میں دھکیلتی ہے، جبکہ روح کو یادِ الٰہی سے جڑنا، تقدیر پر راضی رہنا اور توکل کا دامن تھامنا ہی باطنی بے چینی اور شدید ذہنی دباؤ کا حقیقی و دائمی علاج ہے۔

باب چہارم: نہج البلاغہ کی روشنی میں ذہنی پریشانیوں کا حل

4.1 ذکرِ الٰہی اور قلبی سکون

ذہنی پریشانیوں، اضطراب اور فکری انتشار کا سب سے بہترین اور پائیدار علاج ذکرِ الٰہی ہے۔ انسانی روح جب اپنے خالق سے دور ہوتی ہے تو وہ مختلف وسوسوں اور خوف کا شکار ہو جاتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس نفسیاتی حقیقت کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دلوں کا اصل سکون اور اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں پوشیدہ ہے۔ (268) یہ ذکر محض زبان سے چند الفاظ دہرا دینے کا نام نہیں، بلکہ دل و دماغ کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں انسان ہر لمحہ اپنے خدا کی موجودگی کو محسوس کرے، جس کے نتیجے میں انسان کے اندر سے محرومی اور ناامیدی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ شدید ترین بحرانوں میں بھی ذہنی طور پر پرسکون رہتا ہے کیونکہ قرآن کے مطابق جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، اس کی زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ (269)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں ذکرِ الٰہی کے اس نفسیاتی اور روحانی اثر کو بہترین انداز میں واضح فرمایا ہے۔ آپ کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ذکر کو دلوں کی جلا (روشنی) بنایا ہے، جس کی برکت سے انسان بہرے پن کے بعد سننے لگتا ہے، اندھے پن کے بعد دیکھنے لگتا ہے اور سرکشی و نافرمانی کے بعد مطیع و فرمانبردار بن جاتا ہے۔ (270) آپ مزید فرماتے ہیں کہ تاریخ کے ہر دور میں ایسے بندے رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ان کے افکار کی گہرائیوں میں سرگوشی فرماتا تھا اور ان کی عقلوں کے ذریعے ان سے کلام کرتا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں ہدایت کی ایک ایسی شمع روشن ہو جاتی تھی جو انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دیتی تھی۔ (271)

نہج البلاغہ کی مختلف شروحات میں اس نکتے پر گہری بحث کی گئی ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس خطبے کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی کا سب سے بڑا نفسیاتی فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے باطن کی صفائی کرتا ہے۔ جب انسان دنیاوی پریشانیوں کے ہجوم میں گھٹ کر رہ جاتا ہے، تو اللہ کا ذکر اس کے اعصاب کو آرام دیتا ہے اور اس کے اندر ایک ایسا فکری توازن پیدا کرتا ہے کہ وہ بیرونی حادثات سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیتا ہے۔ (272)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دور کا انسان اس لیے سب سے زیادہ ذہنی تناؤ (Depression) کا شکار ہے کیونکہ اس نے خدا کو بھلا دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ واشگاف الفاظ میں بتاتا ہے کہ ذکرِ الٰہی انسان کے اندر "خود اعتمادی” اور "داخلی امن” پیدا کرتا ہے۔ جب دل خدا کی یاد سے معمور ہوتا ہے تو انسان تنہائی کے احساس سے نکل جاتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ایک ایسی عظیم طاقت اس کے ساتھ ہے جو کبھی اسے اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ (273)

معروف عیسائی مفکر اور شارح جارج جرداق نے علی علیہ السلام کی اس حکمت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالب نے انسانی نفسیات کے اس راز کو صدیوں پہلے پا لیا تھا جسے سمجھنے میں جدید سائنس اب تک لگی ہوئی ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی علیہ السلام کا پیش کردہ ذکر کا تصور انسان کو معاشرے سے کاٹتا نہیں، بلکہ اسے ایک نئی زندگی اور توانائی دیتا ہے، جس سے انسان کائنات کی ہر شے میں خدا کا جلوہ دیکھ کر اندرونی مسرت اور تسکین محسوس کرتا ہے۔ (274)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں ذکرِ الٰہی وہ کلیدی علاج ہے جو انسان کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں سے نجات دلا کر "حال” میں جینے کا حوصلہ دیتا ہے، اور یہی قلبی سکون کا اصل سرچشمہ ہے۔

4.2 توکل علی اللہ

ذہنی اضطراب اور مستقبل کے غیر یقینی حالات کا خوف انسان کو نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ اس ذہنی بیماری کا سب سے مؤثر علاج "توکل علی اللہ” یعنی اپنی تمام تر کوششوں کے بعد نتائج کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔ قرآنِ کریم نے توکل کو مومنین کی بنیادی صفت اور داخلی طاقت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اللہ اپنے کام کو پورا کر کے رہتا ہے۔ (275) ایک اور مقام پر قرآن نے واضح کیا کہ جب انسان کسی کام کا عزم کر لے، تو پھر اسے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (276) یہ تصور انسان کو بے جا فکر و تشویش سے آزاد کر کے ایک غیر متزلزل ذہنی سکون عطا کرتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں توکل کے اس نفسیاتی پہلو کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ آپ کے فرمان کے مطابق، جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ کبھی اندھیروں میں نہیں بھٹکتا اور نہ ہی اس کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایمان کی چار بنیادیں ہیں: اللہ پر توکل کرنا، اپنے تمام معاملات کو اس کے سپرد کرنا، اس کے فیصلے پر راضی ہونا اور اس کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا۔ (277) آپ نے اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں، بلکہ اسباب کو اختیار کرنے کے بعد دل کو اس یقین سے بھر لینا ہے کہ حقیقی مسبب الاسباب صرف خدا کی ذات ہے۔ آپ کا ایک اور خوبصورت ارشاد ہے کہ توکل رزق کی تنگی اور حالات کے خوف سے نجات کا واحد راستہ ہے، کیونکہ جو خدا پر بھروسہ کرتا ہے، خدا اس کے لیے ایسی جگہ سے راستے نکالتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ (278)

نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے اس توکل کی نفسیاتی اور فکری جہتوں کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا توکل محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ ایک محکم ذہنی ڈھال ہے۔ جب انسان دنیا کے حوادث، معاشی تنگی یا دشمنوں کے خوف میں گھیر جاتا ہے، تو توکل اس کے اندر کے خوف کو امید میں بدل دیتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے یہ سکھایا کہ توکل انسان کو دنیا کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے اور اسے ایک ایسا باطنی وقار دیتا ہے جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ (279)

شہید مرتضیٰ مطہری نے توکل کو انسانی ارادے کی مضبوطی سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ عام طور پر لوگ توکل کا غلط مطلب لیتے ہیں اور اسے سستی کا نام دے دیتے ہیں، جبکہ نہج البلاغہ کی رو سے توکل انسان کو متحرک کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب انسان اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش کر لیتا ہے، تو اس کے بعد نتائج کا خوف (Anxiety) اسے بیمار کر دیتا ہے۔ ایسے میں توکل اس کے اعصاب کو پرسکون کرتا ہے اور اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایک مہربان خدا کے ہاتھ میں ہے، جس کے بعد انسان ڈپریشن اور مایوسی سے مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے۔ (280)

جارج جرداق نے اس فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ علی علیہ السلام کے ہاں توکل کا تصور انسانی خودداری کی معراج ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، جب علی انسان کو خدا پر توکل کی تلقین کرتے ہیں، تو دراصل وہ انسان کو کائنات کی ہر مادی طاقت اور خوف سے آزاد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان شدید ترین طوفانوں اور تنہائی میں بھی خود کو اکیلا نہیں سمجھتا، کیونکہ اس کا رابطہ کائنات کے سب سے بڑے سرچشمۂ قدرت سے جڑ چکا ہوتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ (281)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں توکل علی اللہ وہ فکری انقلاب ہے جو انسان کو کمزوری سے نکال کر لامتناہی قوت سے جوڑ دیتا ہے اور اسے ذہنی طور پر ایک مضبوط اور پرسکون شخصیت بنا دیتا ہے۔

4.3 خوفِ خدا اور تقویٰ

انسانی ذہن اکثر و بیشتر دنیاوی نقصانات، لوگوں کی ملامت، مستقبل کے اندیشوں اور مختلف قسم کے نفسیاتی فوبیا (Phobias) کا شکار رہتا ہے، جو باطنی سکون کو غارت کر دیتے ہیں۔ اسلام نے اس کا علاج "خوفِ خدا اور تقویٰ” کی صورت میں پیش کیا ہے، جو انسان کو تمام مجازی خوف سے نجات دلا کر حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے تقویٰ کو ذہنی الجھنوں اور مصائب سے نکلنے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تقویٰ اختیار کرتا ہے)، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ (282) ایک اور مقام پر قرآن نے واضح کیا کہ اللہ کے دوستوں (اہلِ تقویٰ) پر نہ تو کوئی خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کبھی غمگین ہوتے ہیں۔ (283)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں تقویٰ اور خوفِ خدا کو ذہنی اور روحانی امراض کے لیے ایک جامع شفا قرار دیا ہے۔ آپ اپنے ایک شہرہ آفاق خطبے میں فرماتے ہیں کہ تقویٰ تمہارے دلوں کے اندھیروں کے لیے اجالا، تمہارے نفسوں کی بیماریوں کے لیے شفا، تمہارے سینوں کی خرابیوں کے لیے اصلاح اور تمہاری روحوں کی ناپاکی کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ (284) آپ کے نزدیک خوفِ خدا کوئی منفی یا ڈراؤنا احساس نہیں، بلکہ ایک ایسی بیداری ہے جو انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے اور اسے گناہوں کے اس باطنی پچھتاوے (Guilt) سے بچاتی ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے، اس کا دل ہر قسم کے کینے، حسد اور ذہنی تناؤ سے پاک ہو جاتا ہے اور وہ ایک پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ (285)

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر مفکرین نے اس قرآنی و علوی فلسفے کی تفہیم یوں کی ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس مقام پر لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے تقویٰ کو محض اخلاقی اصطلاح کے طور پر نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی محافظ کے طور پر پیش کیا ہے۔ جب انسان کا دل خوفِ خدا سے معمور ہوتا ہے، تو دنیا کے بڑے سے بڑے حوادث اور طاقتور ترین دشمن بھی اسے مرعوب یا پریشان نہیں کر سکتے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، تقویٰ انسان کے اندر ایک ایسی فکری صلابت اور شجاعت پیدا کرتا ہے کہ وہ ذہنی انتشار کا شکار ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ (286)

شہید مرتضیٰ مطہری نے تقویٰ کے اس پہلو پر خاص طور پر روشنی ڈالی ہے کہ جدید نفسیات انسان کو بیرونی بندشوں سے تو آزاد کرتی ہے لیکن باطنی طور پر اسے خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے، جس سے ذہنی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا تقویٰ انسان کو "باطنی آزادی” (Spiritual Freedom) عطا کرتا ہے۔ جب انسان کے اندر تقویٰ ہوتا ہے، تو وہ اپنے اعصاب اور جذبات پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔ یہ کنٹرول اسے ڈپریشن، اضطراب اور جذباتی فیصلوں کے برے اثرات سے بچا کر ایک متوازن اور پرسکون ذہنی حالت میں رکھتا ہے۔ (287)

جارج جرداق نے اس تصور کو انسانی شخصیت کی معراج قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کے ہاں خوفِ خدا دراصل عدل اور حق سے محبت کا دوسرا نام ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، جب انسان کے اندر یہ خوف پیدا ہوتا ہے، تو وہ کسی کا حق نہیں مارتا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرتا ہے۔ اس پاکیزہ طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا ضمیر بالکل مطمئن (Peaceful Conscience) ہو جاتا ہے، اور جس انسان کا ضمیر مطمئن ہو، اسے کائنات کی کوئی بھی ذہنی پریشانی یا خوف اپنے بس میں نہیں کر سکتا۔ (288)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں خوفِ خدا اور تقویٰ وہ باطنی قلعہ ہے جو انسان کو دنیاوی خوف کی غلامی سے نکال کر حقیقی ذہنی خود مختاری اور لازوال قلبی اطمینان فراہم کرتا ہے۔

4.4 دعا اور عبادت

ذہنی مایوسی، بے بسی اور شدید ترین بحرانوں میں جب انسان خود کو تنہا اور بے یار و مددگار پاتا ہے، تو "دعا اور عبادت” اسے ایک لامتناہی طاقت کا احساس دلا کر نفسیاتی طور پر ٹوٹنے سے بچاتی ہیں۔ عبادت خالق اور مخلوق کے درمیان وہ رابطہ ہے جو دل کو جلا بخشتا ہے، اور دعا اس احساس کا نام ہے کہ کائنات کا مالک میری پکار سن رہا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسان کی اس باطنی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (289) ایک اور مقام پر جب انسان کی نفسیاتی کیفیت اور تنہائی کا ذکر ہوا تو اللہ نے فرمایا کہ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیجئے) میں ان کے قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ (290) نماز اور عبادت کے بارے میں قرآن نے صریح حکم دیا کہ صبر اور نماز کے ذریعے (ذہنی و قلبی) مدد حاصل کرو۔ (291)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں دعا کو انسان کا سب سے بڑا ہتھیار اور ذہنی سکون کا ضامن قرار دیا ہے۔ اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کے نام وصیت میں آپ نے دعا کے اس نفسیاتی پہلو کو اتنے لاجواب انداز میں بیان فرمایا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس خدا نے، جو کائنات کے تمام خزانوں کا مالک ہے، تمہیں دعا کی اجازت دے کر گویا اپنے خزانوں کی چابیاں تمہارے ہاتھ میں دے دی ہیں۔ جب تم چاہو دعا کے ذریعے اس کے رحمت کے دروازے کھول لو۔ (292) آپ مزید فرماتے ہیں کہ اپنی پریشانیوں اور غموں کے بوجھ اسی کے سامنے ہلکے کرو، وہی ہے جو مصیبتوں کو دور کرنے والا اور دعاؤں کو سننے والا ہے۔ (293) عبادت کے بارے میں آپ کا فرمان ہے کہ سچے بندوں کی عبادت محض جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک آزاد انسان کی عبادت ہے جو خدا کو لائقِ عبادت پا کر کی جاتی ہے، اور یہی وہ عبادت ہے جو روح کو تمام دنیاوی زنجیروں سے آزاد کر کے حقیقی تسکین دیتی ہے۔ (294)

نہج البلاغہ کے مقتدر شارحین نے دعا اور عبادت کے اس شفا بخش تصور کی گہرائی کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اندر کے غبار اور ذہنی دباؤ (Catharsis) کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب ایک مضطرب انسان سجدے میں جا کر اپنے خدا کے سامنے روتا ہے اور اپنے دل کا حال بیان کرتا ہے، تو وہ تمام باطنی بوجھ سے ہلکا ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ اسلوب مایوسی کے اندھیروں میں امید کا ایک بہت بڑا چراغ ہے۔ (295)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان اس لیے سکونِ قلب سے محروم ہے کیونکہ اس کی زندگی سے مصلّٰی اور دعا غائب ہو چکے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے عبادت انسان کو کائنات کے اصل مرکز سے جوڑتی ہے۔ جب انسان نماز میں اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، تو اس کا عارضی اور فانی دنیا سے تعلق کچھ دیر کے لیے کٹ جاتا ہے۔ یہ عمل اس کے اعصابی تناؤ کو ختم کرتا ہے اور اسے ایک ایسا روحانی تحفظ (Spiritual Security) فراہم کرتا ہے جو اسے کسی بھی قسم کے ذہنی بگاڑ یا ڈپریشن کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ (296)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کی مناجات اور دعاؤں کے فلسفے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی کی دعائیں انسانی روح کا وہ نغمہ ہیں جو کائنات کے ساز سے ہم آہنگ ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، جب علی خدا سے کلام کرتے ہیں، تو وہ انسان کو بے بسی کے احساس سے نکال کر کائنات کے سب سے باوقار درجے پر فائز کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں دعا مانگنے والا کبھی کمزور یا مایوس نہیں ہو سکتا، کیونکہ علی نے انسان کو یہ شعور دیا ہے کہ تمہاری پکار کا سننے والا کائنات کا سب سے رحیم اور شفیق خدا ہے، اور یہی یقین انسانی ذہن کو ایک ابدی خوشی اور سکون سے سرشار کر دیتا ہے۔ (297)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں دعا اور عبادت محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ ذہنی اضطراب کا وہ الٰہی علاج ہے جو انسان کو اندرونی طور پر مضبوط، مستحکم اور پرسکون بناتا ہے۔

4.5 صبر اور برداشت

انسانی زندگی حادثات، مصائب اور ناپسندیدہ حالات سے عبارت ہے، جہاں ہر قدم پر انسان کی ذہنی استقامت کا امتحان ہوتا ہے۔ ان حالات میں جو صفت انسان کو نفسیاتی طور پر ٹوٹنے سے بچاتی ہے اور اس کے فکری توازن کو برقرار رکھتی ہے، وہ "صبر اور برداشت” ہے۔ قرآنِ کریم نے صبر کو محض ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ مشکلات کے خلاف ایک ناگزیر ذہنی ڈھال قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (298) قرآن مجید نے صبر کرنے والوں کو یہ مژدہِ جاں فزا بھی سنایا کہ جو لوگ آزمائشوں میں صبر کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے درود، رحمت اور ہدایت ہے۔ (299) یہ قرآنی تصور انسان کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ موجودہ تکلیف عارضی ہے، جس سے اس کا اعصابی تناؤ کم ہو جاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں صبر کے نفسیاتی اور عملی پہلوؤں پر اس قدر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ آپ نے صبر کو ایمان کا محور قرار دے دیا۔ آپ کا مشہورِ زمانہ ارشاد ہے کہ ایمان میں صبر کی وہی حیثیت ہے جو جسم میں سر کی ہوتی ہے، جس طرح سر کے بغیر جسم کا کوئی فائدہ نہیں، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ (300) آپ نے صبر کو ذہنی پریشانیوں کا بہترین علاج قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم صبر کرو گے تو خدا کا حکم (تقدیر) تو جاری ہو کر رہے گا لیکن تمہیں اس کا اجر ملے گا، اور اگر تم نے بے صبری اور جزع فزع کی، تب بھی خدا کا حکم جاری ہوگا لیکن تم پر گناہ کا بوجھ لاد دیا جائے گا۔ (301) آپ مزید فرماتے ہیں کہ صبر دو طرح کا ہوتا ہے: ایک اپنی ناپسندیدہ مصیبت پر صبر کرنا اور دوسرا اپنی پسندیدہ خواہش (گناہ) کے مقابلے میں نفس کو روک کر صبر کرنا۔ (302) یہ برداشت انسان کو جذباتی فیصلوں اور ان کے تباہ کن نفسیاتی نتائج سے محفوظ رکھتی ہے۔

نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے صبر و برداشت کے اس فلسفے کو انسانی زندگی کے لیے یوں ناگزیر ثابت کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس نقطے کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے صبر کو بزدلی یا بے بسی کا نام نہیں دیا، بلکہ یہ ایک عظیم باطنی شجاعت اور اعصابی کنٹرول ہے۔ جب انسان پر کوئی بڑی مصیبت نازل ہوتی ہے، تو کمزور ذہن کے لوگ فوری طور پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا فلسفہِ صبر انسان کو ایک ایسا فکری وقار اور سکون دیتا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے طوفان کے سامنے بھی اپنے قدم جمائے رکھتا ہے اور حالات کا رخ موڑ دیتا ہے۔ (303)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو انسانی شخصیت کی تعمیرِ نو سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا میں لوگ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں پر ڈپریشن اور خودکشی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے اندر برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے صبر انسان کے اندر "مقاومت” (Resistance Power) پیدا کرتا ہے۔ جب انسان مصیبت کو ایک آزمائش سمجھ کر برداشت کرتا ہے، تو اس کا ارادہ فولاد بن جاتا ہے۔ یہ باطنی مضبوطی اسے ذہنی انتشار سے بچا کر ایک پختہ اور متوازن شخصیت میں ڈھال دیتی ہے۔ (304)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کی اپنی زندگی کے صبر اور ان کے ارشادات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب دنیا کے سب سے بڑے صابر انسان تھے جنہوں نے کائنات کے عظیم ترین دکھ جھیلے لیکن ان کا ذہنی توازن اور مسکراہٹ کبھی رخصت نہ ہوئی۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ صبر انسان کو مایوسی کے غار میں گرنے سے روکتا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ وقت کی ہر گردش بدلنے کے لیے ہوتی ہے، اور یہی امید انسان کو ذہنی طور پر ہمیشہ زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔ (305)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں صبر اور برداشت وہ باطنی قوت ہے جو انسانی ذہن کو حالات کا غلام بننے کے بجائے ان کا فاتح بناتی ہے اور شدید ترین بحرانوں میں بھی قلبی اطمینان کا سبب بنتی ہے۔

4.6 قناعت اور سادہ زندگی

جدید دور میں انسان کی ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی تناؤ کی ایک بڑی وجہ لامتناہی مادی خواہشات کی دوڑ، دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا اور امیرو غریب کی طبقاتی کشمکش ہے۔ اس ذہنی خلش کا سب سے بہترین علاج "قناعت اور سادہ زندگی” ہے، جو انسان کو حرص و حسد کی آگ سے نجات دلا کر حقیقی ذہنی آزادی دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے دنیاوی مال و دولت کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دنیا کی زندگی تو محض ایک دھوکے کا سامان ہے۔ (306) ایک اور مقام پر کائنات کا یہ ابدی اصول بیان کیا گیا کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس پر اترایو مت اور جو تم سے چھن جائے اس پر مایوس نہ ہو۔ (307) قناعت انسان کو اسی قرآنی فلسفے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ محدود وسائل میں بھی دلی طور پر امیر ہو جاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں قناعت کو لائقِ رشک دولت اور ذہنی عافیت کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپ کا شہرہ آفاق اور نہایت جامع ارشاد ہے کہ قناعت ایک ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ (308) جب آپ سے قرآن مجید کی اس آیت "ہم اسے پاکیزہ زندگی (حیاتِ طیبہ) عطا کریں گے” کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ حیاتِ طیبہ سے مراد "قناعت” ہے۔ (309) آپ نے واضح فرمایا کہ خواہشات کی غلامی انسان کو عمر بھر کے لیے ذہنی قیدی بنا دیتی ہے، جبکہ قناعت پسند انسان دنیا کا سب سے آزاد شخص ہوتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جس نے قناعت اختیار کی، اس نے اپنی زندگی کو آسان بنا لیا اور اپنے نفس کو تھکن اور ذہنی اذیت سے بچا لیا۔ (310)

شرحِ نہج البلاغہ کے جلیل القدر مفکرین نے قناعت اور سادگی کے اس نفسیاتی اثر کو یوں بیان کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا مقصد انسان کو رہبانیت یا دنیا چھوڑنے کی تعلیم دینا نہیں ہے، بلکہ انسان کو خواہشات کا مریض بننے سے روکنا ہے۔ جب انسان قناعت کو اپنا شعار بناتا ہے، تو اس کے اندر سے وہ مسلسل بے چینی اور اضطراب (Greed-induced Anxiety) ختم ہو جاتا ہے جو راتوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، سادگی انسان کے اعصاب کو ہلکا پھلکا اور اس کے ضمیر کو مطمئن رکھتی ہے۔ (311)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو معاشی اور نفسیاتی توازن کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کا انسان اس لیے ڈپریشن کا شکار ہے کیونکہ اس کی "ضروریات” اور "خواہشات” کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے قناعت انسان کو ایک ایسی "باطنی دولت مندی” (Spiritual Richness) عطا کرتی ہے کہ وہ مادی چیزوں کا محتاج نہیں رہتا۔ سادہ زندگی گزارنے والا انسان سوسائٹی کے مصنوعی دباؤ (Peer Pressure) کا شکار نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں وہ ایک انتہائی پرسکون اور صدمات سے محفوظ زندگی گزارتا ہے۔ (312)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس زاہدانہ طرزِ زندگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی سلطنتِ اسلامیہ کے حاکم ہونے کے باوجود پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے اور جو کی سوکھی روٹی کھاتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انسان کی عظمت اس کے باطن سے ہے، مادی زرق برق سے نہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا فلسفۂ قناعت انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ حقیقی خوشی چیزوں کو جمع کرنے میں نہیں بلکہ ان سے آزاد ہونے میں ہے۔ جو انسان دنیا کی محبت سے آزاد ہو گیا، اس کا ذہن ہر قسم کے خوف اور پریشانی سے پاک ہو گیا۔ (313)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں قناعت اور سادہ زندگی وہ فکری اثاثہ ہے جو انسان کو حرص کی قید سے نکال کر ایک باوقار، خوددار اور ذہنی طور پر پرسکون شخصیت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

4.7 رضا و تسلیم

جب انسان اپنی تمام تر تدبیروں اور کوششوں کے باوجود حالات کو اپنے حق میں نہیں بدل پاتا، تو وہاں "رضا و تسلیم” یعنی اللہ کی قضا اور اس کے فیصلے پر دل سے راضی ہو جانا، انسانی ذہن کو ایک بہت بڑے نفسیاتی صدمے اور مایوسی سے بچاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس باطنی کیفیت کو ایمان کا عروج قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (314) ایک اور مقام پر قرآن نے ایک ہمہ گیر نفسیاتی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے فرمایا کہ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہو، اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔ (315) یہ عقیدہ انسان کے باطن سے شکوے اور شکایت کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں رضا و تسلیم کو عقل اور ایمان کی معراج قرار دیا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ تقدیر کے فیصلے پر راضی ہونا ہی سب سے بہترین ہمنشین اور رفیق ہے۔ (316) آپ نے واضح فرمایا کہ کائنات کا نظام ایک ایسی حکمت کے تحت چل رہا ہے جسے انسان کا محدود ذہن فوری طور پر سمجھنے سے قاصر ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے، اس کی زندگی پرسکون ہو جاتی ہے، اور جو شخص قضا و قدر کے فیصلوں پر غصہ کرتا ہے اور شکوے کرتا ہے، وہ اپنے ایمان کو بھی برباد کرتا ہے اور اس کا ذہنی اضطراب بھی ختم نہیں ہوتا۔ (317) آپ کا ایک اور سنہری اصول ہے کہ اللہ پر ایمان کی اصل حقیقت اس کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینے میں پوشیدہ ہے۔ (318)

نہج البلاغہ کے مقتدر شارحین نے رضا و تسلیم کی اس نفسیاتی شفا کو یوں پیش کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس تصور کی گہرائی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا مقصد انسان کو سست بنانا نہیں، بلکہ اسے "ذہنی صدمے” (Psychological Trauma) سے بچانا ہے۔ جب انسان کسی مقصد کے لیے جان توڑ محنت کرتا ہے اور پھر بھی ناکام ہو جاتا ہے، تو اس کا ذہن شدید ردِعمل کا شکار ہو کر پگھلنے لگتا ہے۔ ایسے میں رضا و تسلیم اس کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور اسے یہ حوصلہ دیتی ہے کہ اس ناکامی میں بھی میرے رب کی کوئی پوشیدہ حکمت ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، یہ صفت انسان کے اعصاب کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ (319)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا میں ڈپریشن (Depression) کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں دیکھنا چاہتا ہے، جو کہ ممکن نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا فلسفہِ رضا انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ تم کائنات کے خدا نہیں ہو، تمہارا کام صرف کوشش کرنا ہے اور نتائج کو اس ہستی پر چھوڑنا ہے جو رحیم ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے، تو اس کے اندر کا سارا فکری انتشار، اضطراب اور شکوے کا زہر ختم ہو جاتا ہے، اور وہ ایک گہرے داخلی امن (Internal Peace) سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ (320)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کی عظمتِ فکر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابنِ ابی طالب نے انسان کو تقدیر کا اسیر نہیں بنایا، بلکہ اسے کائنات کی اعلیٰ ترین حکمت سے جوڑ دیا ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ "تسلیم” کا تصور دراصل کائنات کے آفاقی قوانین (Laws of Nature) کا اعتراف کرنا ہے۔ جو انسان ان قوانین اور خدا کی مرضی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے، اس کے باطن سے جنگ ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ہر حال میں، چاہے جیت ہو یا ہار، ذہنی طور پر مطمئن اور مسرور رہتا ہے۔ (321)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں رضا و تسلیم وہ باطنی انقلاب ہے جو انسان کے دل سے تلخی اور شکوے کو مٹا کر اسے شدید ترین ناموافق حالات میں بھی لازوال قلبی عافیت اور ذہنی توازن عطا کرتا ہے۔

4.8 نفس پر کنٹرول (تزکیہ نفس)

انسانی ذہن میں جنم لینے والے زیادہ تر وسوسے، انارکی، حسد، لالچ اور لاینحل ذہنی الجھنیں دراصل بے لگام باطنی خواہشات اور نفسِ امارہ کی کارستانیاں ہوتی ہیں۔ جب تک انسان اپنے اس باطنی دشمن پر قابو نہیں پاتا، وہ ذہنی سکون سے محروم رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے "تزکیۂ نفس” اور خود پر کنٹرول کو انسانی فلاح کا محور قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس نفسیاتی حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یقیناً وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔ (322) ایک اور مقام پر نفس پر کنٹرول کے صلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو (بری) خواہشات سے روکا، یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ (323) یہ باطنی پاکیزگی انسان کو ذہنی انتشار سے بچاتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں نفس پر کنٹرول کو سب سے بڑی شجاعت اور حقیقی جہاد قرار دیا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ سب سے طاقتور شخص وہ ہے جو اپنے نفس پر غالب آ جائے۔ (324) آپ نے نفس کی مثال ایک سرکش گھوڑے سے دی ہے اور فرمایا ہے کہ خبردار! گناہ اور بے لگام نفسانی خواہشات ایسے سرکش گھوڑوں کی مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو بٹھا دیا گیا ہو اور ان کی لگامیں کاٹ دی گئی ہوں، جو انہیں جہنم کے غاروں میں پھینک دیتے ہیں؛ جبکہ تقویٰ اور نفس پر کنٹرول ان سدھائے ہوئے گھوڑوں کی مانند ہے جن کی لگامیں سوار کے ہاتھ میں ہوں اور وہ انہیں سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچا دیں۔ (325) آپ مزید فرماتے ہیں کہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تاکہ تم دنیاوی غموں کے چنگل سے آزاد ہو سکو، کیونکہ جو اپنے باطن کا قاضی خود بن جاتا ہے، اللہ اس کی ذہنی اور عملی حفاظت فرماتا ہے۔ (326)

نہج البلاغہ کی روشنی میں تزکیۂ نفس کے اس نفسیاتی نظام کو شارحین نے یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے نفس کو قابو کرنے کا جو فلسفہ دیا ہے، وہ انسان کو باطنی طور پر ایک مضبوط حاکم بنا دیتا ہے۔ جب انسان اپنے غصے، حسد اور مادی لذتوں پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے، تو بیرونی دنیا کا کوئی بھی حادثہ اس کے اعصابی توازن کو ہلا نہیں سکتا۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، نفس پر قابو پانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کا غلام بننے کے بجائے ان کا مالک بن جائے، اور یہی ذہنی عافیت کی بنیاد ہے۔ (327)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصطلاحات کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید سائنسی دنیا انسان کو باہر سے تو منظم کرتی ہے لیکن اس کے باطن کو خواہشات کا غلام بنا کر کھلا چھوڑ دیتی ہے، جس سے اعصابی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ اصول واشگاف کرتا ہے کہ باطنی آزادی (Spiritual Freedom) کے بغیر ذہنی سکون کا حصول ناممکن ہے۔ جب تک انسان تزکیۂ نفس کے ذریعے اپنے اندر کی منفی توانائیوں (Negative Energies) کو ختم نہیں کرتا، اس کا ذہن اضطراب کا شکار رہے گا؛ خود پر کنٹرول ہی انسان کو نفسیاتی الجھنوں سے دائمی نجات دلاتا ہے۔ (328)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے خطبات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے انسان کو اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کا جو گر سکھایا ہے، وہ لاجواب ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ خود پر کنٹرول کا تصور انسان کو ایک ایسی اخلاقی طاقت دیتا ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں اور ذاتی ناکامیوں کے بوجھ تلے دبنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ جب انسان اپنے نفس کو جیت لیتا ہے، تو وہ کائنات کی سب سے بڑی جنگ جیت چکا ہوتا ہے، اور اس کے بعد اس کے باطن میں امن و آشتی کا ایک ابدی دور شروع ہو جاتا ہے۔ (329)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں نفس پر کنٹرول اور تزکیۂ نفس وہ بنیادی نفسیاتی کلید ہے جو انسان کو داخلی خلفشار سے نجات دلا کر اس کے فکری، ذہنی اور روحانی وجود کو اعتدال اور دائمی اطمینان فراہم کرتی ہے۔

4.9 مثبت سوچ اور امید

مایوسی، ناامیدی اور منفی طرزِ فکر انسانی ذہن کے لیے ایک دیمک کی طرح ہیں جو اس کی تمام تخلیقی اور تعمیری صلاحیتوں کو چاٹ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان شدید نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس "مثبت سوچ اور امید” انسان کے اندر جینے کی نئی امنگ پیدا کرتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مایوسی کو کفر کے برابر قرار دیتے ہوئے انسان کو ہمیشہ پرامید رہنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (330) ایک اور مقام پر گناہگاروں اور پریشان حال لوگوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ (331) یہ مثبت پیغام انسانی ذہن کو ہر حال میں مستحکم رکھتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں مثبت سوچ اور حسنِ ظن کو ذہنی راحت اور عافیت کا سب سے بڑا ضامن قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت خوبصورت اور نفسیاتی اصول پر مبنی ارشاد ہے کہ اللہ کے بارے میں اپنے گمان کو مثبت اور اچھا رکھو (حسنِ ظن رکھو)، کیونکہ جو شخص اللہ سے جیسا گمان رکھتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے۔ (332) آپ نے مایوسی کو انسان کا سب سے بڑا باطنی دشمن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑی بلا اور مصیبت ناامیدی ہے۔ (333) آپ نے انسان کو حالات کا مثبت رخ دیکھنے کی عادت ڈالنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ عاقل انسان وہ ہے جو مصیبت کے وقت بھی اس میں چھپی ہوئی مصلحت اور خیر کے پہلو کو تلاش کر لیتا ہے، جبکہ جاہل صرف اچھائی میں بھی برائی کے پہلو ڈھونڈ کر کڑھتا رہتا ہے۔ (334)

نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے مثبت طرزِ فکر کے اس علوی فلسفے کی اہمیت کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز مطلقاً بری نہیں ہوتی۔ جب انسان کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو منفی سوچ (Negative Thinking) اس کے گرد ایک ایسا جال بن دیتی ہے کہ وہ ڈپریشن کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ فلسفہ انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر رات کے بعد صبحِ نو کا یقین رکھو، اور یہی وہ مثبت طرزِ فکر ہے جو انسان کے اعصاب کو ہر قسم کے بحران میں ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ (335)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی تھیوریز کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کل "مثبت سوچ” (Positive Psychology) پر بہت کام ہو رہا ہے، لیکن نہج البلاغہ نے صدیوں پہلے اس کی مضبوط ترین بنیاد فراہم کر دی تھی جو کہ "خدا پر امید” ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب انسان کا یہ پختہ یقین ہو کہ اس کائنات کو چلانے والی ہستی مہربان ہے اور وہ میرے ساتھ برا نہیں کرے گی، تو اس کے ذہن سے مستقبل کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ امید انسان کو ہر قسم کے باطنی تناؤ اور نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ رکھ کر ایک پرسکون اور متحرک زندگی عطا کرتی ہے۔ (336)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے خطبات کے اسلوب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کلماتِ حکمت کے ذریعے انسان کے مردہ ارادوں میں زندگی کی روح پھونک دیتے ہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ امید کا تصور انسان کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے ہاں امید محض ایک واہمہ نہیں بلکہ ایک عملی قوت ہے جو انسان کو تاریک ترین حالات میں بھی روشنی کی کرن دکھاتی ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسانی ذہن مایوسی کی دلدل سے نکل کر داخلی امن پا لیتا ہے۔ (337)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں مثبت سوچ اور امید وہ فکری اثاثہ ہے جو انسان کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے وسوسوں سے نکال کر ایک تعمیری، توانا اور ذہنی طور پر مطمئن شخصیت کا مالک بناتا ہے۔

4.10 توبہ اور اصلاحِ نفس

انسان جب گناہوں، غلطیوں اور اخلاقی پستی کا شکار ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے، جسے جدید نفسیات میں "احساسِ جرم” (Guilt Complex) کہا جاتا ہے۔ یہ احساسِ جرم اگر حد سے بڑھ جائے تو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے اور وہ مستقل ذہنی دباؤ اور مایوسی کا مریض بن جاتا ہے۔ اسلام نے اس خوفناک ذہنی کیفیت کا علاج "توبہ اور اصلاحِ نفس” کی صورت میں پیش کیا ہے، جو انسان کو ماضی کی تلخیوں سے پاک کر کے ایک نئی پاکیزہ زندگی کا آغاز کرنے کا موقع دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے توبہ کو اللہ کی محبت اور باطنی طہارت کا ذریعہ بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یقیناً اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں کو اور اپنے آپ کو پاک رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (338) ایک اور مقام پر قرآن نے توبہ کی نفسیاتی تاثیر کو یوں واضح کیا کہ اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی اور خالص توبہ کرو، امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ (339)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں توبہ کے حقیقی تصور اور اس کے شفا بخش نفسیاتی پہلو کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپ کے پاس ایک شخص نے محض زبان سے "استغفر اللہ” کہا تو آپ نے اسے جھڑکتے ہوئے فرمایا کہ تو جانتا بھی ہے کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار بلند مرتبہ لوگوں کا مقام ہے اور اس کی چھ شرطیں ہیں:

پہلی شرط ماضی کے کیے پر دل سے شرمندہ ہونا، دوسری شرط یہ کہ آئندہ اس گناہ کی طرف کبھی نہ پلٹنے کا پختہ عزم کرنا، تیسری شرط مخلوق کے حقوق (حقوق العباد) ادا کرنا یہاں تک کہ جب تو خدا کے حضور پہنچے تو پاک و صاف ہو، چوتھی شرط یہ کہ جو فرائض تجھ سے چھوٹ گئے انہیں قضا کرنا، پانچویں شرط یہ کہ جو گوشت حرام سے بڑھا ہے اسے غم و اندوہ (اور توبہ کی ریاضت) سے پگھلانا یہاں تک کہ ہڈیوں کے ساتھ نیا گوشت پیدا ہو، اور چھٹی شرط یہ کہ اپنے جسم کو طاعت کی سختی کا مزہ چکھانا جس طرح اس نے گناہ کی لذت چٹھی تھی؛ جب یہ سب پورا ہو جائے تو پھر کہو کہ استغفر اللہ۔ (340)

آپ کا فرمان ہے کہ توبہ سے بڑھ کر کوئی شفیع اور نجات دلانے والا نہیں ہے۔ (341) یہ سچی توبہ انسان کے اعصاب سے احساسِ جرم کے سار بوجھ کو اتار دیتی ہے۔

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر مفکرین نے توبہ کے اس نفسیاتی انقلاب کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا پیش کردہ توبہ کا تصور محض چند الفاظ کا رٹنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہرا باطنی اور اعصابی ردِعمل (Psychological Rebirth) ہے۔ جب انسان ماضی کی غلطیوں پر دل سے شرمندہ ہو کر خدا سے معافی مانگتا ہے اور حقوق العباد ادا کرنے کا عزم کرتا ہے، تو اس کے ذہن پر موجود تمام باطنی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، یہ عمل انسان کو ایک بالکل نیا اور تعمیری موڑ فراہم کرتا ہے جہاں وہ ذہنی اضطراب سے ہمیشہ کے لیے نجات پا لیتا ہے۔ (342)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو انسانی خود اعتمادی کی بحالی سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید نفسیات کے معالجین مریض کے احساسِ جرم کو مٹانے کے لیے گناہ کے تصور کو ہی ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ غلط ہے، جبکہ نہج البلاغہ انسان کو گناہ کا اعتراف کروا کر توبہ کے ذریعے اس کا حقیقی علاج کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ایک خطا کار انسان سجدے میں گر کر اپنے خالق کے سامنے روتا ہے اور توبہ کی تمام شرائط پوری کرتا ہے، تو اس کے باطن کی کثافت دھل جاتی ہے۔ یہ توبہ انسان کو مایوسی کے اندھیرے غار سے نکال کر امید کی روشنی میں لاتی ہے اور اس کے اندر ایک نئی نفسیاتی توانائی پیدا کرتی ہے۔ (343)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس اخلاقی اور نفسیاتی اسلوب کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب انسان کو اس کی کمزوریوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں لیکن اسے وہیں چھوڑ نہیں دیتے، بلکہ توبہ کے ذریعے اس کی اصلاحِ نفس کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگا دیتے ہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا فلسفۂ توبہ انسان کو مایوس ہو کر خودکشی یا ذہنی پستی کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ تم انسان ہو، تم سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن کائنات کا خدا معاف کرنے والا ہے؛ پس اٹھو، اپنی اصلاح کرو اور پرسکون ذہن کے ساتھ جینا شروع کرو۔ (344)
پس نہج البلاغہ کی روشنی میں توبہ اور اصلاحِ نفس وہ منفرد اخلاقی و نفسیاتی علاج ہے جو انسان کو ماضی کے پچھتاووں اور ضمیر کی خلش سے مکمل طور پر آزاد کر کے باطنی عافیت اور ذہنی توازن کی لازوال دولت عطا کرتا ہے۔

4.11 مشکلات کا حوصلے سے سامنا

زندگی میں اچانک آنے والی سکتہ آور مشکلات، حادثات اور مصائب انسانی ذہن کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان شدید مایوسی اور نفسیاتی دباؤ میں آ جاتا ہے۔ اسلام کا فلسفہِ حیات انسان کو ان مشکلات سے فرار یا ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ان کا "حوصلے اور بہادری سے سامنا” کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جو نفسیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ قرآنِ کریم نے کائنات کا یہ بنیادی اور غیر متبدل قانون بیان کرتے ہوئے بنی نوع انسان کو تسلی دی ہے کہ یقیناً ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ (345) ایک اور مقام پر قرآن مجید نے واضح فرمایا کہ اللہ کسی نفس پر اس کی بساط اور طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں لادتا۔ (346) یہ الٰہی ضابطہ انسانی ذہن میں یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ وہ اس مشکل کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس سے اس کا اعصابی تناؤ کم ہو جاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہونے کو مردِ حر کی نشانی اور ذہنی مضبوطی کا محور قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت حکیمانہ ارشاد ہے کہ جب تمہیں کسی چیز یا حادثے سے خوف محسوس ہو، تو خود کو اس کے اندر ڈال دو (یعنی اس کا سامنا کرو)؛ کیونکہ تمہارا اس مشکل سے ڈرتے رہنا اور مستقل خوف زدہ رہنا اس اصل مشکل سے زیادہ بڑا اور نقصان دہ ثابت ہوگا جس کا تمہیں سامنا ہے۔ (347) آپ نے واضح فرمایا کہ بزدلی اور فرار انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتے ہیں، جبکہ حوصلہ اور ہمت انسان کو ناموافق حالات کا فاتح بنا دیتے ہیں۔ آپ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں کہ مصیبتیں عاقل انسان کے عزم کو فولاد بنا دیتی ہیں، اس لیے مشکلات کے ہجوم میں اپنے دل کو کمزور نہ ہونے دو کیونکہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ (348)

نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے مشکلات کا حوصلے سے سامنا کرنے کے اس علوی اسلوب پر گراں قدر بحث کی ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس حکمت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے یہاں انسانی نفسیات کے ایک ایسے گہرے راز سے پردہ اٹھایا ہے جس کا توڑ دنیا کے کسی معالج کے پاس نہیں۔ جب انسان کسی مشکل یا خوف سے مسلسل بھاگتا ہے، تو اس کا ذہن شدید اضطراب (Chronic Anxiety) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ سنہری اصول کہ "خوف کے مکھیا میں خود کو جھونک دو” انسان کے اندر سے ہر قسم کے نفسیاتی فوبیا (Phobias) کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور اسے ایک جرات مند شخصیت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ (349)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصطلاح "لچک پذیری اور مقاومت” (Resilience) سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان مشکلات کے سامنے بہت جلدی ہمت ہار دیتا ہے کیونکہ اس کی پرورش ناز و نعم میں ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ انسان کو سکھاتا ہے کہ مشکلات زندگی کا حسن ہیں جو انسان کو تراشتی ہیں۔ جب انسان کسی بھی بحران کا سامنا پورے حوصلے اور اعتمادی کے ساتھ کرتا ہے، تو اس کا ذہنی توازن برقرار رہتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے اعصابی بگاڑ یا ڈپریشن کا شکار ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ (350)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کی شجاعت اور فکری صلابت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کائنات کے واحد ایسے انسان ہیں جنہوں نے مشکلات کو کبھی اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیا۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ ہمت اور حوصلے کا تصور انسان کو جمود اور بے بسی کے احساس سے نکالتا ہے۔ ان کے ہاں مشکلات سے لڑنا اور جرات کا مظاہرہ کرنا ہی انسانی شرافت کی معراج ہے؛ جو انسان حالات کا مردانہ وار سامنا کرنا سیکھ جاتا ہے، اس کا باطن ہر قسم کی کمزوری اور ذہنی انتشار سے پاک ہو جاتا ہے۔ (351)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں مشکلات کا حوصلے سے سامنا کرنا وہ کلیدی فکری طاقت ہے جو انسانی ذہن کو حالات کا اسیر بننے سے روکتی ہے اور اسے شدید ترین بحرانوں میں بھی نفسیاتی توازن اور قلبی عافیت فراہم کرتی ہے۔

4.12 موت کا درست تصور

انسانی ذہن میں جنم لینے والے شدید ترین اضطراب اور خوف کی ایک بڑی وجہ "موت کا خوف” (Thanatophobia) ہے، جہاں انسان موت کو اپنے وجود کا خاتمہ، حسرتوں کی موت اور ایک تاریک گڑھا سمجھ کر ہر لمحہ گھٹتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام نے موت کا جو درست تصور پیش کیا ہے، وہ انسانی ذہن کو اس خوفناک الجھن سے نکال کر نفسیاتی توازن عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ابدی زندگی کا دروازہ اور ایک پل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں قیامت کے دن تمہارے اجر پورے پورے دیے جائیں گے۔ (352) ایک اور مقام پر کائنات کی فانی حقیقت اور بقا کا اصول یوں بیان فرمایا گیا کہ زمین پر جو کوئی ہے فانی ہے، اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو عظمت اور بزرگی والی ہے۔ (353) یہ تصور انسان کو اس دنیا کی عارضی تلخیوں پر دلبرداشتہ ہونے سے بچاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں موت کے درست تصور کو اتنے شاندار اور فلسفیانہ انداز میں واضح فرمایا ہے کہ وہ انسان کے اندر سے موت کا خوف نکال کر اسے زندگی جینے کا حقیقی شعور دیتا ہے۔ آپ کا ایک انقلابی ارشاد ہے کہ انسان کے لیے اس کی سانسیں ہی اس کے قدم ہیں جو اسے موت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ (354) آپ نے موت کو عدم یا فنا نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف کوچ کرنے (انتقال) کا نام دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اے لوگو! تم فنا ہونے کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تم صرف ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل کیے جاتے ہو۔ (355) جب رمضان کی اکیسویں شب زہر آلود تلوار لگنے کے بعد آپ کی شہادت کا وقت قریب آیا، تو آپ نے کائنات کا سب سے بڑا نفسیاتی سچ ان الفاظ میں بیاں کیا کہ خدا کی قسم! ابنِ ابی طالب موت سے اس سے کہیں زیادہ انس اور محبت رکھتا ہے جتنا ایک بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے رکھتا ہے۔ (356) یہ فلسفہ موت کو خوف کے بجائے ایک خوبصورت حقیقت بنا دیتا ہے۔

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر علماء اور مفکرین نے اس علوی تصورِ موت کے نفسیاتی فوائد کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس مقام پر لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا پیش کردہ تصورِ موت انسان کو دنیا کی جھوٹی مادی محبت (Materialistic Attachment) سے آزاد کرتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ موت اس کا خاتمہ نہیں بلکہ خالق سے ملاقات کا ذریعہ ہے، تو اس کے اندر سے وہ تمام غیر ضروری خوف ختم ہو جاتے ہیں جو اسے بزدل اور ذہنی مریض بناتے ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے موت کی یاد کو انسان کے لیے ایک ایسی فکری دوا بنا دیا ہے جو اسے غرور، حسد اور ذہنی تناؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔ (357)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی بحرانوں کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان موت کے ذکر سے بھاگتا ہے کیونکہ وہ اسے ایک اندھیرا غار سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ موت کے خوف سے پیدا ہونے والے اینگزائٹی نیوروسس (Anxiety Neurosis) کا شکار رہتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ انسان کے اندر "طمانیتِ قلب” پیدا کرتا ہے۔ جب انسان موت کو ایک فطری قانون اور اگلی مہم کا آغاز سمجھتا ہے، تو اس کا ذہنی توازن برقرار رہتا ہے اور وہ دنیا کے عارضی دکھوں اور مادی نقصانات پر شدید صدمے (Psychological Trauma) کا شکار ہونے سے بچ جاتا ہے۔ (358)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس جرأت مندانہ اسلوبِ فکر پر دلی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے موت کے چہرے سے وہ خوفناک نقاب نوچ پھینکا ہے جس سے کائنات صدیوں سے ڈرتی آ رہی تھی۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ تصورِ موت انسان کو زندگی سے مایوس نہیں کرتا، بلکہ اسے سکھاتا ہے کہ تم ایک عظیم اور ابدی سفر کے مسافر ہو؛ پس اپنے وقت کو قیمتی سمجھو، اچھے کام کرو اور پرسکون ذہن کے ساتھ اس کائناتی سفر کا لطف اٹھاؤ، کیونکہ ایک سچے اور عادل انسان کے لیے موت اس کے رب کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ (359)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں موت کا درست تصور وہ محکم فکری زاویہ ہے جو انسانی ذہن کو بقا کا یقین دلا کر فوبیا اور باطنی خلفشار سے نکالتا ہے اور اسے ہر حال میں ایک متوازن اور مطمئن زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

4.12 موت کا درست تصور

انسانی ذہن میں جنم لینے والے شدید ترین اضطراب اور خوف کی ایک بڑی وجہ "موت کا خوف” (Thanatophobia) ہے، جہاں انسان موت کو اپنے وجود کا خاتمہ، حسرتوں کی موت اور ایک تاریک گڑھا سمجھ کر ہر لمحہ گھٹتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام نے موت کا جو درست تصور پیش کیا ہے، وہ انسانی ذہن کو اس خوفناک الجھن سے نکال کر نفسیاتی توازن عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ابدی زندگی کا دروازہ اور ایک پل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں قیامت کے دن تمہارے اجر پورے پورے دیے جائیں گے۔ (352) ایک اور مقام پر کائنات کی فانی حقیقت اور بقا کا اصول یوں بیان فرمایا گیا کہ زمین پر جو کوئی ہے فانی ہے، اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو عظمت اور بزرگی والی ہے۔ (353) یہ تصور انسان کو اس دنیا کی عارضی تلخیوں پر دلبرداشتہ ہونے سے بچاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں موت کے درست تصور کو اتنے شاندار اور فلسفیانہ انداز میں واضح فرمایا ہے کہ وہ انسان کے اندر سے موت کا خوف نکال کر اسے زندگی جینے کا حقیقی شعور دیتا ہے۔ آپ کا ایک انقلابی ارشاد ہے کہ انسان کے لیے اس کی سانسیں ہی اس کے قدم ہیں جو اسے موت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ (354) آپ نے موت کو عدم یا فنا نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف کوچ کرنے (انتقال) کا نام دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اے لوگو! تم فنا ہونے کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تم صرف ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل کیے جاتے ہو۔ (355) جب رمضان کی اکیسویں شب زہر آلود تلوار لگنے کے بعد آپ کی شہادت کا وقت قریب آیا، تو آپ نے کائنات کا سب سے بڑا نفسیاتی سچ ان الفاظ میں بیاں کیا کہ خدا کی قسم! ابنِ ابی طالب موت سے اس سے کہیں زیادہ انس اور محبت رکھتا ہے جتنا ایک بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے رکھتا ہے۔ (356) یہ فلسفہ موت کو خوف کے بجائے ایک خوبصورت حقیقت بنا دیتا ہے۔

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر علماء اور مفکرین نے اس علوی تصورِ موت کے نفسیاتی فوائد کو یوں آشکار کیا ہے:
ابن ابی الحدید معتزلی اس مقام پر لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا پیش کردہ تصورِ موت انسان کو دنیا کی جھوٹی مادی محبت (Materialistic Attachment) سے آزاد کرتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ موت اس کا خاتمہ نہیں بلکہ خالق سے ملاقات کا ذریعہ ہے، تو اس کے اندر سے وہ تمام غیر ضروری خوف ختم ہو جاتے ہیں جو اسے بزدل اور ذہنی مریض بناتے ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے موت کی یاد کو انسان کے لیے ایک ایسی فکری دوا بنا دیا ہے جو اسے غرور، حسد اور ذہنی تناؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔ (357)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی بحرانوں کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان موت کے ذکر سے بھاگتا ہے کیونکہ وہ اسے ایک اندھیرا غار سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ موت کے خوف سے پیدا ہونے والے اینگزائٹی نیوروسس (Anxiety Neurosis) کا شکار رہتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ انسان کے اندر "طمانیتِ قلب” پیدا کرتا ہے۔ جب انسان موت کو ایک فطری قانون اور اگلی مہم کا آغاز سمجھتا ہے، تو اس کا ذہنی توازن برقرار رہتا ہے اور وہ دنیا کے عارضی دکھوں اور مادی نقصانات پر شدید صدمے (Psychological Trauma) کا شکار ہونے سے بچ جاتا ہے۔ (358)

جارج جرداق نے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس جرأت مندانہ اسلوبِ فکر پر دلی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے موت کے چہرے سے وہ خوفناک نقاب نوچ پھینکا ہے جس سے کائنات صدیوں سے ڈرتی آ رہی تھی۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ تصورِ موت انسان کو زندگی سے مایوس نہیں کرتا، بلکہ اسے سکھاتا ہے کہ تم ایک عظیم اور ابدی سفر کے مسافر ہو؛ پس اپنے وقت کو قیمتی سمجھو، اچھے کام کرو اور پرسکون ذہن کے ساتھ اس کائناتی سفر کا لطف اٹھاؤ، کیونکہ ایک سچے اور عادل انسان کے لیے موت اس کے رب کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ (359)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں موت کا درست تصور وہ محکم فکری زاویہ ہے جو انسانی ذہن کو بقا کا یقین دلا کر فوبیا اور باطنی خلفشار سے نکالتا ہے اور اسے ہر حال میں ایک متوازن اور مطمئن زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

4.13 شکر گزاری

انسانی ذہن جب اپنی محرومیوں، ناکامیوں اور ناقص مادی وسائل پر مسلسل توجہ مرکوز رکھتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ شدید حسد، کمتری کے احساس (Inferiority Complex) اور دائمی ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس نفسیاتی بگاڑ کا سب سے مجرب اور قرآنی علاج "شکر گزاری” ہے، جو انسان کی توجہ کو منفی پہلوؤں سے ہٹا کر زندگی کے مثبت اور روشن پہلوؤں کی طرف موڑ دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے شکر گزاری کو نعمتوں میں اضافے اور ذہنی آسودگی کا آفاقی ضابطہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو میں تمہیں یقیناً اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔ (360) ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے باطنی اطمینان کی خاطر یاد دلایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ۔ (361) یہ شکر گزاری انسان کے اندر ایک لامتناہی نفسیاتی سکون پیدا کرتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں شکر گزاری کو نعمتوں کی بقا اور ذہنی اضطراب کا بہترین تریاق قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت گہرا حکیمانہ ارشاد ہے کہ جب نعمتوں کے کنارے تم تک پہنچ جائیں، تو کم شکر گزاری کے ذریعے ان کے بقیہ حصے کو اپنے سے دور نہ کرو۔ (362) آپ نے واضح فرمایا کہ شکر گزاری محض زبان سے "الحمد للہ” کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باطنی رویہ ہے جس میں انسان خدا کی دی ہوئی طاقتوں اور نعمتوں کو صحیح جگہ استعمال کرے۔ آپ کا فرمان ہے کہ ہر نعمت کا ایک حق ہوتا ہے، جس نے اسے ادا کیا اللہ اس کی نعمتوں کو بڑھا دیتا ہے اور جو اس سے مکر گیا وہ نعمتوں کے چھن جانے اور ذہنی عذاب کے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ (363) آپ مزید فرماتے ہیں کہ شکر گزار دل کائنات کی سب سے بڑی مادی دولت سے زیادہ پرسکون ہوتا ہے کیونکہ وہ لالچ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے۔ (364)

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر شارحین نے شکر گزاری کی اس نفسیاتی و فکری جہت کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا فلسفۂ شکر انسان کو "باطنی اندھے پن” سے بچاتا ہے۔ ناشکرا انسان ہمیشہ اس چیز کے پیچھے بھاگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے، جس سے اس کا اعصابی نظام مستقل تناؤ میں رہتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، جب انسان شکر گزار بنتا ہے، تو وہ اپنی موجودہ نعمتوں کی قدر کرنا سیکھتا ہے، جس سے اس کے ذہن کو فوری طور پر ایک گہرا آرام اور طمأنینت (Catharsis) حاصل ہوتی ہے۔ (365)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید مثبت نفسیات (Positive Psychology) کے ترازو میں تولتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کے دور میں نفسیاتی معالجین مریضوں کو "گریٹی ٹیوڈ جرنل” (Gratitude Journal) لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ان کا ذہن مثبت چیزوں کو ریکارڈ کرے، جبکہ نہج البلاغہ نے یہ نظام بہت پہلے عطا کر دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ شکر گزاری انسان کے اندر سے "محرومی کا احساس” (Sense of Deprivation) ختم کرتی ہے۔ جب دل شکر سے لبریز ہوتا ہے، تو انسان دوسروں سے حسد کرنا چھوڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک انتہائی پرسکون اور ذہنی و نفسیاتی توازن سے بھرپور زندگی گزارتا ہے۔ (366)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلماتِ حکمت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب نے شکر گزاری کو انسانی شرافت اور عدل کا تقاضا قرار دیا ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ شکر کا تصور انسان کو کائنات اور صاحبِ کائنات کا ممنونِ احسان بناتا ہے۔ یہ ممنونیت انسان کے باطن سے تکبر اور چڑچڑے پن کو مٹا دیتی ہے۔ جو انسان ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا سیکھ جاتا ہے، اس کا ذہن دنیا کی کسی بھی معاشی یا سماجی تبدیلی سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ باوقار رہتا ہے۔ (367)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں شکر گزاری وہ بہترین فکری زاوِیہ ہے جو انسانی ذہن کو گلے شکووں کے زہر سے پاک کر کے اسے داخلی مسرت، باطنی امارت اور لازوال قلبی توازن عطا کرتا ہے۔

4.14 تفکر اور خود احتسابی (Self-Reflection)

انسانی ذہن میں پیدا ہونے والے ابہام، فکری کج روی اور نفسیاتی الجھنوں کی ایک بڑی وجہ خارجی دنیا میں اس قدر گم ہو جانا ہے کہ انسان اپنی ذات کی حقیقت سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ اس غفلت کا واحد علمی اور نفسیاتی حل "تفکر اور خود احتسابی” ہے، جہاں انسان اپنے افکار اور اعمال کا خود جائزہ لیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے تفکر کو عقلِ سلیم کی نشانی اور ذہنی بیداری کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے متعدد مقامات پر دعوتِ فکر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کیا انہوں نے اپنے باطن (نفوس) میں تفکر نہیں کیا؟۔ (368) ایک اور مقام پر کائنات اور ذات کے تعلق پر غور کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر کرتے ہیں۔ (369) یہ تفکر انسان کو اندھی تقلید اور لاینحل باطنی تضادات سے بچا کر نفسیاتی توازن عطا کرتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں خود احتسابی (محاسبۂ نفس) کو باطنی شفا اور ذہنی بصیرت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت گہرا اور ابدی نفسیاتی اصول پر مبنی ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ نفع میں رہتا ہے، اور جو اس سے غافل ہو جاتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے؛ جو (خدا اور باطن کے قوانین کا) خوف رکھتا ہے وہ امن پا جاتا ہے، اور جو تفکر کرتا ہے وہ بصیرت حاصل کر لیتا ہے۔ (370) آپ نے واضح فرمایا کہ انسان کا سب سے بڑا قاضی اس کا اپنا ضمیر ہونا چاہیے۔ آپ کا فرمان ہے کہ اے انسان! اپنے نفس کا محاسبہ اس سے پہلے کرو کہ تمہارا حساب لیا جائے۔ (371) آپ مزید فرماتے ہیں کہ تفکر ایک صاف شفاف آئینے کی مانند ہے جو انسان کو اس کی حقیقی ذہنی اور اخلاقی حالت دکھاتا ہے، جس سے وہ اپنی اصلاح کر کے داخلی انتشار سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ (372)

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر شارحین نے تفکر اور خود احتسابی کے اس علوی نظام کو انسانی صحت کے لیے یوں لازمی قرار دیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا پیش کردہ خود احتسابی کا تصور انسان کو "نفسیاتی پختگی” (Emotional Maturity) عطا کرتا ہے۔ جب انسان روزانہ چند منٹ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے خیالات اور رویوں کا جائزہ لیتا ہے، تو وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا سیکھتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، یہ عمل انسان کے اندر سے دوسروں پر بلاوجہ تنقید کرنے اور چڑچڑے پن کی عادت کو ختم کر کے اس کے اعصاب کو پرسکون رکھتا ہے۔ (373)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی طریقۂ علاج "خود آگاہی” (Self-Awareness) سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان ہر چیز کا مطالعہ کر رہا ہے سوائے اپنی ذات کے، اسی لیے وہ داخلی تنہائی اور شدید فرسٹریشن (Frustration) کا شکار ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے تفکر اور محاسبۂ نفس انسان کو اس کے اصل "مرکزِ ذات” سے جوڑتے ہیں۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے تو اسے اپنی باطنی طاقتوں کا اندازہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مادی دنیا کے عارضی جھٹکے اس کے ذہنی توازن کو ہلا نہیں سکتے۔ (374)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کی فکری گہرائی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب نے انسان کو اندھیرے میں جینے سے روکا ہے اور اسے اپنی عقل کا چراغ جلانے کی تاکید کی ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ تفکر کا تصور انسان کو ایک سچا الٰہی فلاسفر بنا دیتا ہے۔ جو انسان روزانہ اپنا احتساب کرتا ہے، اس کا ضمیر ملامت کے زہر سے پاک ہو جاتا ہے، اور ایک ایسا ذہن جو باطنی تضادات سے آزاد ہو، وہی کائنات میں سب سے زیادہ پرسکون اور متوازن ذہن کہلانے کا مستحق ہے۔ (375)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں تفکر اور خود احتسابی وہ فکری کلید ہے جو انسان کو سطحی زندگی سے نکال کر باطنی عمیق شعور عطا کرتی ہے اور اسے ہر قسم کے نفسیاتی خلفشار سے بچا کر ایک پختہ اور پرسکون شخصیت کا مالک بناتی ہے۔

4.15 علم اور شعور

جہالت، فکری جمود اور سطحی سوچ انسانی ذہن کو وہم، وسوسوں اور موہوم خوف کا شکار بنا دیتی ہے، جس سے باطنی اضطراب جنم لیتا ہے۔ اس کے برعکس، "علم اور شعور” انسان کو کائنات اور حقائق کو ان کے اصل تناظر میں دیکھنے کی بصیرت عطا کرتا ہے، جو نفسیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ قرآنِ کریم نے علم کو جہالت کے اندھیروں کے مقابلے میں ایک ابدی روشنی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ کہہ دیجئے: کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے؟ یقیناً نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ (376) ایک اور مقام پر قرآن نے علم والوں کے فکری رسوخ کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جنہیں علم دیا گیا ہے، درجات بلند فرماتا ہے۔ (377) یہ علمی درجات انسان کو فکری پختگی عطا کرتے ہیں۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں علم اور شعور کو انسانی روح کی غذا اور تمام نفسیاتی و اخلاقی بیماریوں کی شفا قرار دیا ہے۔ اپنے جلیل القدر صحابی کمیل بن زیاد نخی سے گفتگو کرتے ہوئے آپ نے علم کا ایسا لاجواب فلسفہ بیاں کیا جو ذہن کے تمام طبق روشن کر دیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اے کمیل! علم مال سے بہتر ہے، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے؛ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے جبکہ علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ (378) آپ نے علم کو عقل کی جلا بتاتے ہوئے فرمایا کہ علم انسان کے اندر ایک ایسی دانشمندی (Wisdom) پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا کے عارضی حوادث پر آپے سے باہر نہیں ہوتا۔ آپ کا فرمان ہے کہ جاہل کا دل اس کے منہ میں ہوتا ہے (وہ جذبات کا غلام ہوتا ہے)، جبکہ عاقل اور باشعور انسان کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے (وہ ہر قدم تفکر اور شعور کے تحت اٹھاتا ہے)۔ (379)

نہج البلاغہ کی روشنی میں علم و شعور کے اس شفا بخش پہلو کو شارحین نے یوں اجاگر کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کے نزدیک علم صرف چند اصطلاحات کو رٹ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ کائناتی شعور کا نام ہے۔ جب انسان علم حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر سے وہ تمام توہمات اور عارضی اندیشے ختم ہو جاتے ہیں جو ایک عام انسان کو ذہنی مریض بنا دیتے ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، علم انسان کے اعصاب کو ایک ایسی مضبوطی دیتا ہے کہ وہ حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ کر پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ (380)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس علوی تصور کو جدید دور کے فکری بحرانوں سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کا انسان معلومات (Information) کے ہجوم میں تو گھرا ہوا ہے لیکن وہ "شعور” (Insight) سے محروم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت داخلی الجھن کا شکار رہتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا علم انسان کو "باطنی بینائی” عطا کرتا ہے۔ جب انسان شعور کی اس منزل پر پہنچتا ہے، تو وہ کائنات کے آفاقی قوانین کو سمجھ جاتا ہے، جس کے بعد اس کا ذہنی توازن کسی بھی معاشی یا معاشرتی طوفان سے متزلزل نہیں ہوتا۔ (381)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کو کائنات کا سب سے بڑا معلم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے علم کو انسانی اخلاق اور انسانیت کی بقا کا ضامن بنایا ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ شعور انسان کو خود غرضی اور تعصب کے تنگ دائروں سے نکال کر وسیع الفکری عطا کرتا ہے۔ جو انسان اس علمی وسعت کو پا لیتا ہے، اس کا باطن حسد، کینے اور چڑچڑے پن کے اس زہر سے پاک ہو جاتا ہے جو انسان کو نفسیاتی مریض بناتا ہے، اور وہ ایک گہرے ابدی امن سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ (382)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں علم اور شعور وہ نورانی فکری قوت ہے جو انسانی ذہن کو جہالت کے وسوسوں سے نجات دلا کر اسے ایک پختہ، دوراندیش اور لچکدار (Resilient) شخصیت میں تبدیل کرتی ہے۔

4.16 اچھی صحبت

انسان ایک سماجی مخلوق ہے، اور اس کے آس پاس کا ماحول اور ہمنشین اس کے افکار، جذبات اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ منفی، حاسد اور چڑچڑے لوگوں کی سنگت انسانی ذہن کو مایوسی اور تناؤ کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے، جبکہ "اچھی صحبت” باطنی طہارت اور فکری توازن کا سبب بنتی ہے۔ قرآنِ کریم نے سماجی تعلقات کے اس نفسیاتی اثر کو واضح کرتے ہوئے صادقین اور صالحین کی سنگت اختیار کرنے کا صریح حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں (صادقین) کے ساتھ ہو جاؤ۔ (383) ایک اور مقام پر قرآن نے بری صحبت کے بھیانک انجام اور اس کے باطنی پچھتاوے کا تذکرہ یوں کیا کہ اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا کہ کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ (384)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں دوستوں کے انتخاب اور صحبت کے نفسیاتی اثرات پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ اچھے دوستوں کی صحبت دلوں کو جلا بخشتی ہے اور عقلوں کو منور کرتی ہے۔ (385) آپ نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے چار قسم کے لوگوں کی صحبت سے سختی سے منع فرمایا، جو انسانی ذہن اور زندگی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اے میرے فرزند! احمق کی دوستی سے پرہیز کرنا، کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا تو بھی نقصان پہنچا دے گا؛ بخیل کی دوستی سے بچنا، کیونکہ وہ تمہاری شدید ضرورت کے وقت تم سے دور بھاگے گا؛ بدکار اور فاجر کی صحبت اختیار نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہیں معمولی قیمت پر بیچ دے گا؛ اور جھوٹے کی دوستی سے دور رہنا، کیونکہ وہ سراب کی مانند ہے، جو دور کی چیز کو قریب اور قریب کی چیز کو دور دکھا کر تمہیں ذہنی الجھنوں میں مبتلا کر دے گا۔ (386)

شرحِ نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے اچھی صحبت کے اس نفسیاتی محافظ والے پہلو کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس مقام پر لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا صحبت کے متعلق فلسفہ یہ ہے کہ انسانی طبعیتیں دوسروں کے اخلاق اور رویوں کو چوری کرتی ہیں (الطباع تسرق الطباع)۔ جب انسان ایسے لوگوں میں بیٹھتا ہے جو ہر وقت گلے شکوے اور منفی باتیں کرتے ہیں، تو اس کا اپنا ذہن بھی اینگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے اچھی صحبت کو ذہنی امراض کے خلاف ایک حفاظتی قرنطینہ (Quarantine) قرار دیا ہے جو انسان کے باطن کو تعفن سے بچاتا ہے۔ (387)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس علوی اسلوب کو معاشرتی نفسیات (Social Psychology) کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ انسان کبھی بھی تنہا اپنی ذات کی اصلاح نہیں کر سکتا جب تک اس کا سماجی دائرہ پاکیزہ نہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے سچا اور مخلص دوست انسان کا آئینہ ہوتا ہے جو اسے گرنے سے بچاتا ہے۔ صالح لوگوں کی معیت انسان کے اعصاب کو ایک تسکین اور تحفظ (Emotional Security) فراہم کرتی ہے، جس سے اس کا باطنی توازن برقرار رہتا ہے اور وہ معاشرتی فتنوں سے ذہنی طور پر محفوظ رہتا ہے۔ (388)

جارج جرداق نے اس نقطے پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے خطبات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے دوستی اور صحبت کے جو معیار مقرر کیے ہیں، وہ انسانی شرافت کا چارٹر ہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ صحبت کا تصور انسان کو خود غرضی کے قید خانے سے نکالتا ہے۔ جب انسان ایسے مخلص دوست پاتا ہے جو حق اور عدل کے راستے پر چلنے والے ہوں، تو شدید ترین مادی مصائب میں بھی اس کا ذہن پرامید اور پرسکون رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کائناتی سفر میں تنہا نہیں ہے۔ (389)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں اچھی صحبت محض ایک اخلاقی انتخاب نہیں، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی توازن برقرار رکھنے کا ایک ناگزیر سماجی علاج ہے جو انسانی عقل و روح کو جلا بخشتا ہے۔

4.17 خوش اخلاقی

سماجی زندگی میں تلخ کلامی، چڑچڑاپن اور سخت رویہ نہ صرف دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہے بلکہ خود انسان کے باطن میں غصے اور تناؤ کا زہر گھول دیتا ہے، جس سے ذہنی سکون غارت ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، "خوش اخلاقی” انسان کے باطن کو نرمی اور شادابی عطا کرتی ہے اور اسے نفسیاتی آسودگی فراہم کرتی ہے۔ قرآنِ کریم نے خوش اخلاقی کو معاشرتی توازن اور قلبی سکون کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کی نرم مزاجی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ (اے رسول!) اللہ کی رحمت کے سبب آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے چھٹ جاتے۔ (390) ایک اور مقام پر قرآن نے تلخی کا جواب اچھائی سے دینے کا نفسیاتی اثر یوں بیاں کیا کہ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو، تو اچانک وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے وہ تمہارا جگری دوست ہو۔ (391)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں خوش اخلاقی کو مومن کا زیور اور ذہنی عافیت کا سب سے آسان راستہ قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت خوبصورت اور نفسیاتی حقیقت پر مبنی ارشاد ہے کہ خوش اخلاقی تمام اچھائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ روزی کے دروازے کھولتی ہے۔ (392) آپ نے واضح فرمایا کہ چڑچڑا اور بدخلق انسان ہمیشہ اپنے ہی اندر کی آگ میں جلتا رہتا ہے، جبکہ خوش اخلاق شخص خود بھی پرسکون رہتا ہے اور دوسروں کو بھی راحت پہنچاتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اخلاق کو نرم کر لیتا ہے، اس سے محبت کرنے والے زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کی زندگی سے تنہائی کا خوف مٹ جاتا ہے۔ (393) آپ مزید فرماتے ہیں کہ روئے زمین پر خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی شرف اور حسب نسب نہیں ہے۔ (394) یہ صفت انسان کو سماجی دباؤ (Social Anxiety) سے نجات دلاتی ہے۔

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر مفکرین نے خوش اخلاقی کے اس باطنی و سماجی اثر کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے خوش اخلاقی کو محض ایک رسمی مصلحت نہیں بلکہ روح کی صحت قرار دیا ہے۔ جب انسان دوسروں سے مسکرا کر اور نرمی سے ملتا ہے، تو اس کے اپنے دماغ کے اعصاب پرسکون ہو جاتے ہیں۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ فلسفہ سکھاتا ہے کہ بدخلق انسان دراصل خود اپنا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے کیونکہ اس کا غصہ اور تلخی اس کے اپنے ہی باطن کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ (395)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصطلاح "جذباتی ذہانت” (Emotional Intelligence) سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ نہج البلاغہ کا اخلاقی نظام انسان کو معاشرے کے ساتھ توازن میں لاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب انسان خوش اخلاقی کو اپنا شعار بناتا ہے، تو اس کے سماجی تعلقات میں تناؤ (Conflict) ختم ہو جاتا ہے۔ یہ باطنی اور ظاہری ہم آہنگی انسان کو احساسِ جرم اور معاشرتی بوجھ سے آزاد رکھ کر ایک انتہائی متوازن اور پرسکون ذہنی حالت میں رکھتی ہے۔ (396)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے اپنے بے مثال اخلاق اور ان کے کلمات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کے کلمات انسانیت کے زخموں پر مرہم کی مانند ہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ خوش اخلاقی کا تصور انسان کو کائنات کی ہر شے سے پیار کرنا سکھاتا ہے۔ جو انسان کائنات سے محبت کا یہ رشتہ استوار کر لیتا ہے، اس کا ذہن نفرت، کینے اور انتقام کے اس زہر سے ہمیشہ کے لیے پاک ہو جاتا ہے جو انسان کو نفسیاتی مریض بناتا ہے۔ (397)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں خوش اخلاقی وہ بے بہا صفت ہے جو انسانی ذہن کو غصے اور چڑچڑے پن کے عذاب سے نکال کر اسے باطنی خوشی، سماجی مقبولیت اور لازوال قلبی توازن فراہم کرتی ہے۔

4.18 خدمتِ خلق

نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ جو انسان صرف اپنی ذات، اپنے مفادات اور اپنی پریشانیوں کے خول میں بند رہتا ہے، وہ بہت جلدی شدید ذہنی دباؤ اور باطنی اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، "خدمتِ خلق” یعنی دوسروں کے کام آنا، بے کسوں کی مدد کرنا اور معاشرے کے دکھی دلوں پر مرہم رکھنا انسان کو ایک گہرا اور حقیقی باطنی سکون عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے خدمتِ خلق کو ایمان کا لازمی تقاضا اور خدا کی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ انسان اللہ پر ایمان لائے… اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دے۔ (398) ایک اور مقام پر قرآن نے سخاوت اور خدمت کا باطنی صلہ یوں بیان کیا کہ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (399)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں خدمتِ خلق کو ذہنی عافیت کا سب سے بڑا مجرب علاج اور گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت پراثر اور سنہری ارشاد ہے کہ پریشان حال لوگوں کی فریاد رسی کرنا اور مصیبت زدوں کے دکھ دور کرنا، بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ اور باطنی شفا ہے۔ (400) اپنے دورِ حکومت میں مالکِ اشتر کو مصر کا گورنر بناتے وقت جو عہد نامہ آپ نے تحریر فرمایا، وہ خدمتِ خلق اور انسانی ہمدردی کا مینی فیسٹو ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا کہ (اے مالک!) اپنے دل میں رعایا کے لیے رحم، محبت اور لطف و کرم کے جذبات کو پرورش دو… کیونکہ وہ دو ہی طرح کے لوگ ہیں: یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں یا پھر خلقت اور پیدائش میں تمہاری طرح انسان ہیں۔ (401) آپ کے اس فلسفے کے مطابق، جب انسان کسی دوسرے انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لاتا ہے، تو اس کے اپنے باطن کا اندھیرا دور ہو جاتا ہے۔

شرحِ نہج البلاغہ کے جلیل القدر مفکرین نے خدمتِ خلق کے اس نفسیاتی اثر کو یوں آشکار کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے انسان کو یہ نفسیاتی نکتہ سکھایا ہے کہ کائنات کا یہ اصول ہے کہ جو تم دوسروں کو دیتے ہو، وہی تمہارے پاس لوٹ کر آتا ہے۔ جب تم کسی مجبور انسان کی مشکل آسان کرتے ہو، تو تمہارا اپنا ذہن ایک عجیب سی فرحت اور ہلکے پن (Catharsis) کو محسوس کرتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ طرزِ عمل انسان کو خود غرضی کے اس باطنی عذاب سے بچاتا ہے جو ذہنی امراض کی جڑ ہے۔ (402)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید سماجی و نفسیاتی تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا کا انسان "انا پرستی” (Egocentrism) کا شکار ہو کر ڈپریشن میں مبتلا ہے، جبکہ نہج البلاغہ انسان کو اپنی ذات کے خول سے نکل کر دوسروں کے لیے جینے کی تاکید کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب انسان کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے یا کسی غریب کی مالی مدد کرتا ہے، تو اس کے اندر "خود اعتمادی” اور "داخلی امن” کا ایک ایسا احساس جاگتا ہے جو کسی دنیاوی لذت سے حاصل نہیں ہو سکتا؛ خدمتِ خلق دراصل انسان کے اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھنے کی بہترین دوا ہے۔ (403)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس انسانی ہمدردی کے جذبے پر والہانہ انداز میں لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کائنات کے وہ عظیم حکمران تھے جو راتوں کو خود اپنے کندھوں پر آٹے کی بوریاں اٹھا کر بیواؤں اور یتیموں کے گھروں میں پہنچاتے تھے، کیونکہ ان کا پورا وجود انسانوں کے دکھ سے تڑپتا تھا۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ خدمت کا تصور انسان کو کائنات کی لامتناہی محبت سے جوڑ دیتا ہے۔ جو انسان انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے، اس کا ذہن ذاتی محرومیوں اور چھوٹے چھوٹے غموں سے بہت بلند ہو کر ایک لازوال قلبی عافیت پا لیتا ہے۔ (404)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں خدمتِ خلق محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں، بلکہ ذہنی انتشار اور باطنی تنہائی کا وہ الٰہی علاج ہے جو انسانی روح کو وسعت، پختگی اور ابدی خوشی فراہم کرتا ہے۔

4.19 معاف کرنے کی عادت (عفو و درگزر)

انسانی ذہن کو اندر سے بیمار کرنے، اعصاب کو چڑچڑا بنانے اور مستقل ذہنی دباؤ میں رکھنے والی سب سے بڑی باطنی بلا "انتقام کی آگ” اور دوسروں کے خلاف کینہ و بغض رکھنا ہے۔ جب انسان دوسروں کی غلطیوں کو دل سے نہیں لگاتا اور بدلہ لینے کی سوچ میں رہتا ہے، تو اس کا اپنا باطن فکری خلفشار کا جہنم بن جاتا ہے۔ اس شدید نفسیاتی خلش کا واحد شافی علاج "عفو و درگزر اور معاف کرنے کی عادت” ہے، جو انسان کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر کے ایک ابدی سکون دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے عفو و درگزر کو انسانی سیرت کا اعلیٰ ترین وصف قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف فرمائے؟ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (405) ایک اور مقام پر غصے کو پینے اور معاف کرنے والوں کی تعریف میں فرمایا گیا کہ اور غصہ ضبط کرنے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (406)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں عفو و درگزر کو شجاعت کی معراج اور باطنی سکون کا قلعہ قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت گہرا اور انقلابی نفسیاتی اصول پر مبنی ارشاد ہے کہ جب تم اپنے دشمن پر قابو پا لو، تو اس قابو پانے کے شکرانے میں اسے معاف کر دو۔ (407) آپ نے واضح فرمایا کہ معاف کرنا انسان کو کمزور نہیں بلکہ باوقار بناتا ہے اور اس کے ذہن سے انتقام کا بوجھ اتار دیتا ہے۔ مالکِ اشتر کے نام اپنے تاریخی مکتوب میں آپ نے حاکمِ وقت کو عفو و درگزر کی تلقین کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ (اے مالک!) رعایا سے خطائیں بھی سرزد ہوں گی اور ان سے لغزشیں بھی ہوں گی، تم انہیں اسی طرح معاف کرنا اور درگزر سے کام لینا جس طرح تم خود اللہ سے معافی اور درگزر کی امید رکھتے ہو۔ (408) آپ کا ایک اور سنہری فرمان ہے کہ عفو و درگزر سے بڑھ کر باطنی زخموں کا کوئی مرہم نہیں ہے۔ (409)

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر مفکرین نے معاف کرنے کی عادت کے اس شفا بخش پہلو کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس مقام پر لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا پیش کردہ عفو کا تصور انسان کو "نفسیاتی آزادی” (Psychological Liberation) عطا کرتا ہے۔ جب انسان کسی کو معاف کر دیتا ہے، تو وہ دراصل اس شخص کے اثر سے خود کو آزاد کر لیتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے یہ سکھایا کہ انتقام کی سوچ انسان کو ذہنی طور پر کسی دوسرے کا غلام بنا دیتی ہے، جبکہ معاف کر دینے والا انسان کائنات کا سب سے پرسکون اور آزاد ذہن رکھتا ہے۔ (410)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید ہیلنگ پروسیس (Healing Process) کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید نفسیات اب اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بہت سی جسمانی اور ذہنی بیماریاں (مثلاً بلڈ پریشر اور اینگزائٹی) دوسروں کے خلاف دل میں کینہ رکھنے سے جنم لیتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ انسان کے اندر "داخلی صفائی” پیدا کرتا ہے۔ جب انسان عفو و درگزر کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے، تو اس کا باطن ہر قسم کی تلخی اور منفی توانائی سے پاک ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک انتہائی متوازن اور صدمات سے محفوظ زندگی گزارتا ہے۔ (411)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کی اپنی زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب عفو و درگزر کا وہ ہمالیہ تھے جنہوں نے جنگِ جمل کے بعد اپنے بدترین دشمنوں کو نہ صرف معاف کیا بلکہ انہیں عزت کے ساتھ ان کے گھروں کو رخصت کیا۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ معافی کا تصور انسانی اخلاق کی معراج ہے۔ جو انسان دوسروں کی غلطیوں پر درگزر کرنا سیکھ جاتا ہے، اس کا ذہن نفرت کے عذاب سے نکل کر محبت اور امن کا گہوارہ بن جاتا ہے، اور یہی قلبی عافیت کا اصل راز ہے۔ (412)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں معاف کرنے کی عادت (عفو و درگزر) وہ عظیم فکری و باطنی طاقت ہے جو انسانی ذہن کو کینے اور انتقام کے زہر سے نجات دلا کر اسے ایک بے عیب، مخلص اور لازوال نفسیاتی توازن سے سرشار شخصیت میں ڈھال دیتی ہے۔

4.20 سماجی تعلقات اور ذہنی سکون

انسانی زندگی میں خاندانی، دوستانہ اور معاشرتی بگاڑ، باہمی ناچاقیاں اور رشتوں میں تلخی وہ گہرے عوامل ہیں جو انسان کو شدید نفسیاتی صدمات، ڈیپریشن اور جذباتی عدم توازن کا شکار بناتے ہیں۔ اس کے برعکس، "مضبوط اور متوازن سماجی تعلقات” انسان کو ایک حفاظتی حصار اور ذہنی عافیت فراہم کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے رشتوں کے احترام، صلہ رحمی اور باہمی تعلقات کو استوار رکھنے پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتوں (صلہ رحمی) کا لحاظ رکھو، یقیناً اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (413) ایک اور مقام پر معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے رشتوں کو توڑنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں… اور ان رشتوں کو کاٹتے ہیں جن کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ (414)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں سماجی تعلقات کو برقرار رکھنے اور رشتوں کی باطنی قیمت کو بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے۔ اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کے نام وصیت میں آپ رشتوں کو جوڑنے کا سنہری اصول بیاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی (اور قریبی رشتوں) کے لیے اپنے نفس کو میزان بنا لو؛ اگر وہ تم سے دوری اختیار کرے تو تم اس سے نزدیکی بڑھاؤ، اگر وہ سخت رویہ اپنائے تو تم نرمی اختیار کرو، اور اگر وہ بخل کرے تو تم سخاوت کا مظاہرہ کرو۔ (415) آپ نے واضح فرمایا کہ رشتوں کو کھو دینا انسان کو تنہا اور باطنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ سب سے عاجز اور بے بس انسان وہ ہے جو اپنے لیے مخلص دوست اور اچھے تعلقات نہ بنا سکے، اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ ہے جو بنے بنائے تعلقات کو بھی گنوا دے۔ (416) یہ مخلصانہ تعلقات انسان کو سماجی تنہائی (Social Isolation) کے عذاب سے بچاتے ہیں۔

نہج البلاغہ کے جلیل القدر شارحین نے سماجی تعلقات اور ذہنی سکون کے اس باہمی ربط کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا فلسفۂ تعلقات انسان کو معاشرے میں "جذباتی پناہ گاہ” (Emotional Shelter) فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، تو وہ دنیا کی سختیوں کا سامنا اکیلے نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے اردگرد مخلص دلوں کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، رشتوں کو جوڑنے کی عادت انسان کے اعصاب کو پرسکون اور اس کے دل کو ہر قسم کے خوف سے مامون رکھتی ہے۔ (417)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید سماجی نفسیات کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کے مادی دور میں رشتوں کا تقدس ختم ہونے کی وجہ سے انسان تنہائی کے جس کرب (Loneliness) سے گزر رہا ہے، وہی تمام نفسیاتی بگاڑ کی جڑ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے صلہ رحمی اور مخلصانہ سماجی تعلقات انسان کے اندر "سوشل سپورٹ سسٹم” (Social Support System) کو جنم دیتے ہیں۔ یہ نظام انسان کو ایک زبردست باطنی تحفظ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ شدید ترین معاشی یا ذاتی بحرانوں میں بھی ذہنی توازن نہیں کھوتا۔ (418)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے خطبات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے انسان کو ایک الگ تھلگ جزیرہ بننے سے روکا ہے اور اسے انسانیت کے وسیع سمندر سے جوڑ دیا ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ سماجی روابط کا تصور یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی حقیقی خوشی رشتوں کو نبھانے اور دوسروں کے دکھ سکھ کا سانجھی بننے میں ہے۔ جو انسان اپنے سماجی دائرے کو محبت اور عدل کی بنیاد پر استوار کر لیتا ہے، اس کا ذہن انتشار سے پاک ہو کر قلبی عافیت کا دائمی مرکز بن جاتا ہے۔ (419)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں مضبوط سماجی تعلقات اور صلہ رحمی محض ایک روایتی ذمہ داری نہیں، بلکہ انسانی عقل، اعصاب اور باطن کو ہر قسم کے تفرِقے اور نفسیاتی دباؤ سے محفوظ رکھنے کا ایک ناگزیر الٰہی و سماجی علاج ہے۔

4.21 خاموشی اور حکمت

انسانی ذہن کو تھکا دینے والے، اعصاب کو پریشان کرنے والے اور سماجی تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والے سب سے بڑے عوامل میں سے ایک "بے جا گفتگو اور زبان کا بے لگام استعمال” ہے۔ جب انسان بغیر سوچے سمجھے بولتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے وقار کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ باطنی طور پر بھی فکری خلفشار اور پچھتاووں کا شکار رہتا ہے۔ اس کے برعکس، "خامشی اور تدبر” انسان کے باطن کو وقار، گہرائی اور اعصابی سکون عطا کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے لغو اور بے جا گفتگو سے بچنے کو مومنین کی بنیادی صفت اور فلاح کا راستہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اور (وہ کامیاب مومن) جو لغو اور فضول باتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ (420) ایک اور مقام پر زبان کی سنگینی اور اس کی نگرانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار ہوتا ہے۔ (421) یہ قرآنی ضابطہ انسان کو سنبھل کر بولنے اور ذہنی توازن برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں خاموشی کو عقل کا کمال اور حکمت کا سب سے بڑا مخزن قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت مشہور اور گہرا نفسیاتی حقیقت پر مبنی ارشاد ہے کہ جب عقل کامل ہوتی ہے، تو گفتگو مختصر ہو جاتی ہے۔ (422) آپ نے واضح فرمایا کہ زبان کا بے لگام استعمال انسان کو ذہنی اور اخلاقی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے، جب وہ بولتا ہے تو اپنی حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ (423) آپ نے باطنی سکون اور پچھتاووں سے بچنے کے لیے خاموشی کا نسخہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسی خاموشی جو تمہیں ندامت سے بچائے، اس گفتگو سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں پچھتاوے کی دلدل میں دھکیل دے۔ (424) آپ کا ایک اور سنہری اصول ہے کہ جاہل کے لیے خاموشی سے بڑھ کر کوئی پردہ نہیں اور عاقل کے لیے خاموشی سے بڑھ کر کوئی سنگار نہیں ہے۔ (425)

شرحِ نہج البلاغہ کے مقتدر مفکرین نے خاموشی کے اس نفسیاتی و فکری پہلو کو یوں واضح کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا خاموشی کا فلسفہ دراصل انسان کو "اعصابی توانائی کی بچت” (Conservation of Mental Energy) سکھاتا ہے۔ جو انسان ہر وقت بولتا رہتا ہے، اس کا دماغ فکری طور پر بکھر جاتا ہے اور وہ گہرے تفکر کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام نے خاموشی کو حکمت کا دروازہ اس لیے کہا ہے کیونکہ پرسکون اور خاموش ذہن ہی کائنات کے حقائق کو جذب کرنے اور ذہنی تناؤ (Mental Stress) کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ (426)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصولوں کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جدید دنیا میں شور و غوغا اور غیر ضروری کلام نے انسان کے باطنی سکون کو چھین لیا ہے، جس سے ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے خاموشی محض زبان کو بند رکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ باطنی تفکر اور تزکیہ کا نام ہے۔ جب انسان لغو گفتگو چھوڑ کر خاموشی اختیار کرتا ہے، تو اس کے اندر "داخلی طمانیت” (Inner Peace) پیدا ہوتی ہے جو اس کے فکری اور اعصابی توازن کو مستقل مستحکم رکھتی ہے۔ (427)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلماتِ حکمت کے اسلوب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے خاموشی کو ایک عظیم طاقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا یہ فلسفہ انسان کو چرب زبانی اور منافقت سے بچا کر اس کے وجود کو ایک اخلاقی صلابت دیتا ہے۔ جو انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ اسے کہاں خاموش رہنا ہے، اس کا ذہن دنیا کے فضول جھگڑوں اور جذباتی اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ ہو کر قلبی عافیت کا ابدی مرکز بن جاتا ہے۔ (428)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں خاموشی اور حکمت وہ فکری اثاثہ ہے جو انسانی ذہن کو پچھتاووں، لغو تعلقات اور باطنی خلفشار سے پاک کر کے اسے شدید ترین سماجی حالات میں بھی لازوال ذہنی توازن اور فکری گہرائی عطا کرتا ہے۔

4.22 نظم و ضبط

انسانی زندگی میں بے قاعدگی، افراتفری اور وقت کی بربادی ذہنی انتشار، بے چینی اور شدید تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ جب انسان کا ذہن اور اس کے معمولات غیر منظم ہوتے ہیں، تو وہ ہر کام میں ناکامی اور ذہنی بوجھ کا سامنا کرتا ہے۔ اس نفسیاتی انتشار کا واحد حل "نظم و ضبط” ہے، جو انسان کو ایک سمت، مقصد اور سکون عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے پوری کائنات کے نظام کو ایک منظم ضابطے کے تحت چلتے ہوئے دکھا کر انسان کو بھی اپنی زندگی میں نظم و ضبط اپنانے کی دعوت دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ سورج اور چاند ایک حساب (نظم) کے ساتھ چل رہے ہیں۔ (429) ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر معاملے میں عدل اور توازن (جو کہ نظم و ضبط کا ہی حصہ ہے) کو قائم رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تاکہ تم میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو اور ترازو میں کمی نہ کرو۔ (430)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی آخری وصیت میں نظم و ضبط کو تقویٰ کے بعد سب سے اہم چیز قرار دیتے ہوئے نہ صرف اسے اپنے لیے بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے فکری اور عملی راہنما اصول بنا دیا۔ آپ نے فرمایا: "میں تمہیں اور اپنے تمام فرزندوں اور ان تمام لوگوں کو جن تک میرا یہ پیغام پہنچے، اللہ سے ڈرنے اور اپنے کاموں میں نظم و ضبط (نظمِ امرکم) اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں”۔ (431) آپ نے اپنی پوری عملی زندگی کو نظم و ضبط کا بہترین نمونہ بنایا۔ آپ کی نظر میں نظم و ضبط کا مطلب محض وقت کی پابندی نہیں، بلکہ اپنے خیالات، جذبات، فرائض اور حقوق میں ایک متوازن توازن قائم رکھنا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے کاموں میں نظم نہیں رکھتا، وہ بکھر کر رہ جاتا ہے اور اس کا ذہنی اور جسمانی وجود مسلسل اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ (432)

شارحینِ نہج البلاغہ نے نظم و ضبط کے اس علوی اصول کو انسانی ذہنی صحت کے لیے یوں کلیدی قرار دیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے "نظمِ امر” کو تقویٰ کے ساتھ جوڑ کر یہ پیغام دیا ہے کہ نظم و ضبط کا تعلق محض دنیاوی کامیابی سے نہیں بلکہ یہ انسان کے باطنی توازن (Inner Balance) کی بنیاد ہے۔ جب انسان اپنے کاموں کو منظم کرتا ہے، تو وہ بہت سی غیر ضروری ذہنی الجھنوں اور گھبراہٹ (Panic) سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، یہ نظم انسان کو ہر بحران میں ایک فولادی عزم اور اعصابی سکون عطا کرتا ہے۔ (433)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید "ٹائم مینجمنٹ” اور "ذہنی تنظیم” (Cognitive Organization) کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کا انسان اس لیے ذہنی مریض بن رہا ہے کیونکہ اس کی زندگی بے ترتیب ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کا یہ اصول "نظمِ امر” دراصل انسان کے ذہنی انتشار کو ختم کرنے کا جادوئی نسخہ ہے۔ جب انسان کی زندگی ایک نظام کے تحت آتی ہے، تو اس کا ذہن کنفیوژن سے نکل کر فوکس (Focus) حاصل کرتا ہے، جس سے اسے باطنی عافیت اور اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔ (434)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس آخری پیغامِ زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے موت کے دہانے پر کھڑے ہو کر جو سب سے بڑی نصیحت کی، وہ نظم و ضبط تھی۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ نظم کا تصور انسان کو اس کی منتشر صلاحیتوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے کا گر سکھاتا ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں نظم پیدا کر لیتا ہے، وہ کائنات کے سب سے بڑے بحرانوں میں بھی بکھرتا نہیں، بلکہ ایک پرسکون اور مستحکم ذہن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسان کمال کو پاتا ہے۔ (435)
پس نہج البلاغہ کی روشنی میں نظم و ضبط وہ ناگزیر فکری اور عملی ڈھانچہ ہے جو انسانی ذہن کو بکھرنے سے بچا کر اسے ایک باقاعدہ، تعمیری اور متوازن شخصیت کے قالب میں ڈھال دیتا ہے۔

4.23 وقت کی قدر

انسانی زندگی کی سب سے بڑی المیہ اور نفسیاتی تناؤ کی جڑ "وقت کا ضیاع” اور پھر گزرے ہوئے وقت پر پچھتاوا ہے۔ جب انسان اپنے وقت کو غیر ضروری کاموں، لاحاصل بحثوں اور غفلت میں گزارتا ہے، تو اس کا ذہن احساسِ جرم، ناکامی اور مایوسی کے گرداب میں پھنس جاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے وقت کی اہمیت کو انسانی زندگی کی سب سے بڑی متاع قرار دیتے ہوئے اس پر قسم کھائی ہے کہ زمانہ گواہ ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی اور صبر کی تلقین کی۔ (436) ایک اور مقام پر وقت کو غنیمت جاننے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اور جب آپ فارغ ہوں تو عبادت میں محنت کریں (یعنی اپنے وقت کو تعمیری کاموں میں لگائیں)۔ (437) یہ قرآنی تعلیم انسان کو وقت کی قدر سکھا کر اسے فکری اور نفسیاتی طور پر متحرک رکھتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں وقت کو زندگی کا اصلی سرمایہ اور گزر جانے والی چیز قرار دیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آپ کا ایک نہایت اثر انگیز اور نفسیاتی بصیرت سے بھرپور ارشاد ہے کہ وقت کا گزرنا بہت تیز ہے، لہذا اسے ایسے کاموں میں صرف نہ کرو جن کا کوئی حاصل نہ ہو۔ (438) آپ نے واضح فرمایا کہ جو شخص وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھتا، وہ ذہنی طور پر ہمیشہ پیچھے رہتا ہے اور مستقل بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ تمہاری زندگی کے دن تمہارے وجود کا حصہ ہیں، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تمہاری زندگی کا ایک ٹکڑا کم ہو جاتا ہے، پس اسے نیکی اور علم حاصل کرنے میں صرف کرو۔ (439) آپ نے وقت کے ضیاع کو ایسی بیماری قرار دیا جو انسان کے اندر باطنی جمود پیدا کرتی ہے اور اسے ڈپریشن کی طرف لے جاتی ہے۔ (440)

شارحینِ نہج البلاغہ نے وقت کی قدر کے اس علوی اصول کو انسانی ذہنی صحت کے لیے یوں لازمی قرار دیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا یہ نظریہ کہ "وقت ہی انسان کی زندگی ہے”، دراصل انسان کو حال میں جینا (Living in the Present) سکھاتا ہے۔ جو انسان وقت کی قدر کرتا ہے، وہ ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے وسوسوں سے آزاد رہتا ہے، اور یہی ذہنی سکون کی کلید ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، وقت کا درست استعمال انسان کو خود اعتمادی (Self-Confidence) عطا کرتا ہے اور اسے ہر قسم کے اعصابی بگاڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔ (441)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصطلاح "وقت کا شعور” (Time Consciousness) سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ بے مقصدیت انسان کے ذہن کو کھا جاتی ہے، جبکہ وقت کی پابندی انسان کو ایک "مقصد” (Purpose) عطا کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے وقت کی قدر کرنا انسان کو نظم و ضبط اور ذہنی فوکس فراہم کرتا ہے۔ جب انسان جانتا ہے کہ اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے، تو وہ فضول سوچوں اور ذہنی انتشار سے نکل کر ایک پرسکون اور تعمیری زندگی بسر کرتا ہے۔ (442)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلماتِ حکمت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب نے وقت کو ایسی دولت قرار دیا ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ وقت کا تصور انسان کو اس کی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھانے کا شعور دیتا ہے۔ جو انسان وقت کو برتنے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے، اس کا باطن حسرتوں اور پچھتاووں کے بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے، اور وہی انسان کائنات میں سب سے زیادہ پرسکون، متوازن اور کامیاب کہلانے کا حقدار ہے۔ (443)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں وقت کی قدر کرنا محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ یہ انسانی ذہن کو پچھتاووں کے زہر سے پاک کرنے، باطنی سکون کو برقرار رکھنے اور زندگی کو ایک معنی خیز سمت دینے کا سب سے اہم نفسیاتی علاج ہے۔

4.24 متوازن زندگی (اعتدال کا راستہ)

انسانی زندگی میں انتہا پسندی، خواہ وہ دنیاوی کاموں میں ہو یا عبادات میں، ذہن کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیتی ہے۔ جب انسان اپنی توانائیوں کو کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ مرکوز کر دیتا ہے، تو اس کے نتیجے میں اعصابی تھکن، ڈپریشن اور داخلی خلفشار جنم لیتا ہے۔ اس نفسیاتی بگاڑ کا بہترین علاج "متوازن زندگی” یا "اعتدال کا راستہ” ہے، جو ہر شعبہِ زندگی میں میانہ روی اختیار کرنے کا نام ہے۔ قرآنِ کریم نے اس امت کو ہی "امتِ وسط” (متوازن گروہ) قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط (متوازن) بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو۔ (444) ایک اور مقام پر دین اور دنیا کے درمیان توازن کو یوں بیان کیا گیا کہ اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کرو، لیکن دنیا سے اپنا حصہ فراموش نہ کرو۔ (445)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اعتدال اور توازن کو انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لیے کامیابی کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپ کا ایک نہایت حکیمانہ ارشاد ہے کہ ہر چیز میں اعتدال اختیار کرو، کیونکہ افراط اور تفریط دونوں بربادی کا باعث ہیں۔ (446) آپ نے واضح فرمایا کہ جو شخص اعتدال کے راستے سے ہٹ جاتا ہے، وہ ذہنی طور پر ہمیشہ کسی نہ کسی عدم تحفظ یا تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ ایمان، اخلاق اور دنیاوی معاملات میں اعتدال ہی وہ سڑک ہے جس پر چل کر انسان باطنی عافیت پا سکتا ہے۔ (447) آپ مزید فرماتے ہیں کہ عاقل وہ ہے جو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو ایک متوازن نظام کے تحت استعمال کرے، تاکہ نہ اس کی روح خشک ہو اور نہ ہی اس کا جسم اور دنیاوی پہلو نظر انداز ہوں۔ (448)

نہج البلاغہ کے مقتدر شارحین نے متوازن زندگی کے اس نفسیاتی و فکری پہلو کو یوں اجاگر کیا ہے:

ابن ابی الحدید معتزلی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا "میانہ روی” کا تصور دراصل انسانی فطرت کی ترجمانی ہے۔ جب انسان انتہا پسندی کی طرف جاتا ہے، تو اس کا اعصابی نظام اس کھچاؤ کو برداشت نہیں کر پاتا اور وہ ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کا یہ فلسفہ انسان کو زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہم آہنگی (Harmony) پیدا کرنا سکھاتا ہے، جو کہ قلبی سکون کے لیے ناگزیر ہے۔ (449)

شہید مرتضیٰ مطہری نے اس تصور کو جدید نفسیاتی اصطلاح "ہم آہنگ شخصیت” (Balanced Personality) سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی شخصیت تب ہی صحت مند رہ سکتی ہے جب اس کی تمام قوتوں (جسم، عقل اور روح) میں توازن ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی رو سے اعتدال انسان کو "پیرانویڈ” (Paranoid) یا "جنونی” ہونے سے بچاتا ہے۔ جب انسان زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی اختیار کرتا ہے، تو وہ کسی بھی قسم کی ذہنی فرسٹریشن سے محفوظ رہ کر ایک پُر سکون زندگی گزارتا ہے۔ (450)

جارج جرداق نے اس مقام پر امیر المؤمنین علیہ السلام کی ہمہ جہت شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علی بن ابی طالب کائنات کے وہ واحد انسان ہیں جنہوں نے ایک ہی وقت میں ایک زاہد، ایک حکمران، ایک سپہ سالار اور ایک مربی کا توازن قائم رکھا۔ جارج جرداق کے مطابق، علی کا پیش کردہ اعتدال کا تصور انسان کو زندگی کے کسی بھی پہلو کو ترک کرنے کے بجائے انہیں ایک متوازن سانچے میں ڈھالنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ جو انسان یہ توازن پا لیتا ہے، اس کا ذہن دنیا کے ہنگاموں میں بھی داخلی سکون اور ابدی عافیت سے مالا مال رہتا ہے۔ (451)

پس نہج البلاغہ کی روشنی میں متوازن زندگی وہ آفاقی اصول ہے جو انسانی ذہن کو انتہا پسندی کے جوکھم سے نکال کر اسے ہر حال میں اعتدال اور طمانیت کے ساتھ جینے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔

5.1 جدید نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ

عصرِ حاضر میں مادی ترقی نے انسان کو سہولتیں تو بہت فراہم کر دی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی ذہنی بے چینی اور دباؤ کو جنم دیا ہے جس سے نجات کے لیے جدید نفسیات مسلسل کوشاں ہے۔ نہج البلاغہ کی تعلیمات اس حوالے سے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے نزدیک انسان کا ذہنی سکون اس کے خالق کے ساتھ گہرے تعلق اور دنیا کی حقیقت کو سمجھنے میں مضمر ہے۔ قرآنِ کریم اس اصول کو یوں واضح کرتا ہے: ’’جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں، سنو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘

دنیا کی مادی چکا چوند اور اس کے فریب انسان کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ کے اس نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب انسان دنیا کو اپنا مطمعِ نظر بنا لیتا ہے تو اسے کھونے کا خوف اس کی شخصیت میں ذہنی دباؤ پیدا کر دیتا ہے۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت دلوں کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے پانے کی تڑپ سکونِ قلب کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جسے جدید نفسیات میں ‘عدمِ تحفظ’ (Insecurity) کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔

شہید مرتضیٰ مطہری اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام کا دیا ہوا روحانی نظام انسان کو ‘بے مقصدیت’ کے خلا سے نکالتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ مقصد کے لیے پیدا ہوا ہے تو اس کے چھوٹے چھوٹے ذہنی دباؤ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کی نظر کسی عارضی کامیابی کے بجائے ابدی سکون پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ امام علیؑ کا یہ قول اسی فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے کہ وہ شخص کبھی غمزدہ نہیں ہوتا جو اپنے معاملات خدا کے سپرد کر دیتا ہے۔

عیسائی مفکر جارج جرداق نے اپنی تحقیق میں اس بات کو سراہا ہے کہ حضرت علیؑ کی حکمت میں ذہنی تناؤ کا حل ‘توازن’ (Balance) ہے۔ ان کے بقول، حضرت علیؑ نے انسان کو نہ تو دنیا سے بالکل کٹ جانے کا کہا ہے اور نہ ہی اس میں غرق ہو جانے کا، بلکہ آپؑ کی تعلیمات میں ایک ایسا اعتدال ہے جو انسانی نفسیات کو شدید دھچکوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جارج جرداق کے نزدیک، انسان کی ذہنی صحت کا دارومدار اس کی شخصیت کے ان تضادات کو ختم کرنے میں ہے جو اسے معاشرتی اور ذاتی زندگی کے درمیان تقسیم کر دیتے ہیں۔

5.2 ڈپریشن، اضطراب اور اس کا روحانی علاج

جدید طبی نفسیات میں ڈپریشن اور اضطراب (Anxiety) کو انسانی ذہنی صحت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ میں ان کیفیات کا علاج صرف دوائیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ شخصیت کی اندرونی تطہیر اور خدا سے تعلقِ بندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کیفیت کا حل صبر اور نماز کی صورت میں بیان کیا گیا ہے: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں امام علیؑ کے کلام کی روشنی میں لکھا ہے کہ اضطراب تب پیدا ہوتا ہے جب انسان نتائج پر بے جا اصرار کرتا ہے۔ امام علیؑ نے اپنے ارشادات میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان اپنی کوشش میں تو آزاد ہے لیکن نتائج کو خدا کے سپرد کر دے۔ ابنِ ابی الحدید کے مطابق یہ ‘سپردگی’ (Surrender) ہی دراصل وہ روحانی قوت ہے جو انسان کو مایوسی کے گڑھے میں گرنے سے بچاتی ہے، جسے آج کی نفسیات میں ‘لچک’ (Resilience) کا نام دیا جاتا ہے۔

شہید مرتضیٰ مطہری کا ماننا ہے کہ ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ ‘خود سے دوری’ ہے۔ جب انسان اپنی روح کی حقیقت کو فراموش کر کے صرف مادی کامیابیوں کا پیچھا کرتا ہے، تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی دعاؤں اور مناجاتوں کا مطالعہ کرنے والا شخص کبھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کائنات کی سب سے بڑی طاقت (خدا) سے جڑا ہوا ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی مصیبت میں ہو تو اسے اللہ سے دعا کرنی چاہیے، کیونکہ دعا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو دل کے بوجھ کو ہلکا کر دیتی ہے۔

جارج جرداق اس ضمن میں امام علیؑ کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علیؑ ابن ابی طالبؑ نے شدید ترین مصائب کے عالم میں بھی جس صبر اور سکون کا مظاہرہ کیا، وہ آج کے مریضوں کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔ جرداق کے بقول، امامؑ کا یہ کہنا کہ ’’خدا کی رضا میں ہی سکون ہے‘‘، ایک ایسا نفسیاتی اصول ہے جو ڈپریشن کے مریض کو اس کے ذاتی دکھوں سے نکال کر ایک بڑے کائناتی نظام کا حصہ بنا دیتا ہے۔ جب انسان خود کو خدا کا حصہ سمجھتا ہے، تو اس کے غموں کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

5.3 نوجوان نسل کے مسائل

عصرِ حاضر میں نوجوان نسل کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں شناخت کا بحران (Identity Crisis)، اخلاقی گراوٹ، اور مستقبل کے بارے میں شدید عدم تحفظ شامل ہیں۔ قرآنِ کریم نے نوجوانوں کی تربیت اور ان کے فکری استحکام کے لیے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے قصص کے ذریعے ‘اطاعتِ حق’ اور ‘صبر’ کا درس دیا ہے: ’’پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیمؑ نے کہا اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو سوچ کہ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے ابا! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزریں۔‘‘ یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک نوجوان اپنے والد کے مشن کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔
ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں امام علیؑ کی اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام وصیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

امام علیؑ نے نوجوانوں کو ‘کوری تقلید’ سے بچنے اور ‘فکری آزادی’ کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ نوجوان کا دل ایک خالی زمین کی طرح ہے جس میں جو بیج بویا جائے گا، وہی اگے گا۔ ابنِ ابی الحدید کے مطابق، امام علیؑ نے نوجوانوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں نصیحت کی کہ وہ اپنی جوانی کے دور کو غنیمت جانیں اور اسے اخلاقی بلندیوں کے حصول میں صرف کریں۔

شہید مرتضیٰ مطہری اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ نوجوانوں میں اضطراب کی ایک بڑی وجہ ان کی توانائیوں کا غلط رخ پر خرچ ہونا ہے۔ مطہری کا کہنا ہے کہ امام علیؑ نے نوجوانوں کو ‘شجاعت’ اور ‘حکمت’ کے امتزاج کا درس دیا۔ امام علیؑ کا یہ قول کہ ’’نوجوان کی رائے اور تجربہ کار کی نصیحت کا جوڑ کامیابی کی کنجی ہے‘‘، آج کے دور کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم نفسیاتی اصول ہے۔ مرتضیٰ مطہری کے نزدیک، جب نوجوان خود کو کسی بڑی نظریاتی فکر سے جوڑ لیتے ہیں، تو ان کی اخلاقی شکست و ریخت کا عمل رک جاتا ہے۔

جارج جرداق نے اپنی تحقیق میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امام علیؑ نے نوجوانوں کو معاشرے کا سب سے فعال طبقہ قرار دیا ہے۔ جرداق کے بقول، امامؑ نے نوجوانوں کو صرف عبادات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انہیں ‘سماجی ذمہ داری’ اور ‘حق پرستی’ کے لیے تیار کیا۔ جارج جرداق لکھتے ہیں کہ اگر آج کا نوجوان نہج البلاغہ کے ان اخلاقی اصولوں کو اپنا لے، تو وہ جدید دنیا کی خیرہ کن روشنیوں میں اپنی انفرادیت اور کردار کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ امام علیؑ نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے کردار کو اس طرح نکھاریں کہ وہ دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بن سکیں۔

5.4 خاندانی نظام اور ذہنی سکون

اسلامی معاشرت میں خاندان کو ایک ایسی پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے جہاں انسان دنیاوی تھکن سے نجات پا کر ذہنی سکون حاصل کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اس تعلق کو سکون اور رحمت کا ذریعہ قرار دیتا ہے: ’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔‘‘ خاندان کی یہ عمارت جب باہمی احترام اور ذمہ داریوں کے ادراک پر کھڑی ہوتی ہے، تب ہی معاشرہ ایک پُرسکون اکائی کے طور پر ابھرتا ہے۔

ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ کے خاندانی تعلقات اور ازدواجی زندگی کے اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امامؑ نے گھر کو تربیت کا پہلا مدرسہ قرار دیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اور درگزر کرنے میں مضمر ہے۔ ابنِ ابی الحدید کے مطابق، امام علیؑ نے اپنے گھرانے میں جس اخلاقی فضا کو قائم کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر سربراہِ خانہ عدل اور محبت کو اپنا شعار بنا لے، تو گھر کے افراد کے ذہنی تناؤ کی سطح کم سے کم ہو جاتی ہے۔

شہید مرتضیٰ مطہری خاندانی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خاندانی سکون کا انحصار ‘تعاون’ اور ‘صبر’ پر ہے۔ مطہری کے نزدیک، حضرت علیؑ کی ازدواجی زندگی حضرت فاطمہ الزہراؑ کے ساتھ ایک ایسا نمونہ ہے جو آج کے دور کے میاں بیوی کو ‘انانیت’ کے بجائے ‘ایثار’ کا درس دیتا ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے بوجھ نہیں بلکہ سہارا بنتے ہیں، تو گھر ایک جنتِ ارضی کا روپ دھار لیتا ہے۔ امام علیؑ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ جس ہمدردی اور شفقت کا مظاہرہ کیا،

وہ آج کی نفسیاتی کونسلنگ کا بنیادی درس ہے، جس کا مقصد رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔
جارج جرداق نے امام علیؑ کی خانگی زندگی کو معاشرتی استحکام کا ایک اہم ستون قرار دیا ہے۔ جرداق لکھتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی تعلیمات میں گھر کے اندر بچوں کی تربیت اور ان کی جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، جو انسان گھر میں خوش نہیں، وہ باہر کی دنیا میں کبھی بھی ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ سکتا۔ جارج جرداق اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خاندان کا نظام تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب اس میں مذہب کی روشنی ہو، کیونکہ ایمان ہی وہ طاقت ہے جو رشتوں میں دراڑیں پڑنے سے روکتی ہے اور باہمی اعتماد کو مستحکم کرتی ہے۔

5.5 سوشل میڈیا اور فکری انتشار

دورِ حاضر میں سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے "فکری انتشار” (Intellectual Confusion) کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ حد سے زیادہ معلومات کی فراوانی اور جھوٹ و سچ کے درمیان تمیز ختم ہو جانے سے انسان ذہنی خلفشار کا شکار ہو چکا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس صورتحال میں "تحقیق” اور "بصیرت” کو لازمی قرار دیا ہے: ’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو‘‘۔

ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں امام علیؑ کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فتنہ کے دور میں جب حق اور باطل آپس میں خلط ملط ہو جائیں، تو انسان کو اپنی رائے قائم کرنے میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ فتنہ کے وقت خاموشی اور حقائق کی چھان بین سب سے بڑی دانشمندی ہے۔ ابنِ ابی الحدید کے نزدیک سوشل میڈیا کا دور بھی ایک ‘فتنہ’ کی مانند ہے جہاں ہر شخص ہر بات پر رائے دینے کا پابند نہیں ہے، اور غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانا فکری بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

شہید مرتضیٰ مطہری اس حوالے سے "بصیرت” (Insight) پر زور دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد انسان کے جذبات کو تو بھڑکا سکتا ہے لیکن اسے فکر عطا نہیں کر سکتا۔ مطہری لکھتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی حکمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کو ‘بھیڑ چال’ سے بچنا چاہیے۔ امام علیؑ کا یہ قول کہ ’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی ملے اسے حاصل کرو‘‘، آج کے دور میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے ایک معیار فراہم کرتا ہے۔ یعنی ہر معلومات کو آنکھ بند کر کے قبول نہ کیا جائے، بلکہ اسے عقل کی میزان پر تولا جائے۔

جارج جرداق نے اس جدید چیلنج پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام علیؑ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا "استقلالِ فکر” تھا۔ سوشل میڈیا کے دور میں انسان اپنی فکر دوسرے کے سپرد کر دیتا ہے، جس سے اس کی آزادانہ سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ جارج جرداق کے بقول، امام علیؑ نے ہمیشہ لوگوں کو آزاد سوچ اور حق کی تلاش پر آمادہ کیا، چاہے وہ حق اکثریتی رائے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جرداق کے نزدیک، سوشل میڈیا کے فکری انتشار سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان نہج البلاغہ کے اصولوں کے مطابق حق و باطل کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرے اور دوسروں کی رائے کو بلا تحقیق قبول کرنے سے گریز کرے۔

5.6 جدید نفسیات (Psychology) اور نہج البلاغہ کا تقابلی مطالعہ

جدید نفسیات (Psychology) کا ایک بڑا حصہ انسان کے اندرونی تناؤ کو دور کرنے اور اسے معاشرے میں ایڈجسٹ کرنے پر مبنی ہے، جبکہ نہج البلاغہ انسان کو اس سے بھی بلند تر مقام یعنی "سکونِ قلب” اور "تقربِ الٰہی” کی نوید سناتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس توازن کا ذکر ایک اصول کی حیثیت سے ملتا ہے: ’’اور ہم نے (انسان کی) روح پھونکی تو اسے ایک متوازن شخصیت بنایا۔‘‘ یہ توازن تب ہی ممکن ہے جب نفسیاتی علاج کے ساتھ ساتھ روحانی غذا بھی شامل ہو۔

ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں امام علیؑ کے "خود شناسی” (Self-Knowledge) کے تصور کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت علیؑ کا یہ قول کہ ’’جو اپنے آپ کو پہچان گیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘، جدید نفسیات کے اس اصول کا پیش خیمہ ہے جو انسان کو اپنی صلاحیتوں اور خامیوں کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ابنِ ابی الحدید کے مطابق، امامؑ نے انسان کو اپنی شخصیت کا محاسبہ کرنے کی جو تلقین کی ہے، وہ جدید ‘کاجنیٹو تھراپی’ (Cognitive Therapy) کے عین مطابق ہے، جس میں مریض کو اپنے منفی خیالات کو پہچان کر تبدیل کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔

شہید مرتضیٰ مطہری جدید نفسیات اور نہج البلاغہ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مغرب کی نفسیات اکثر انسان کو صرف "مادی وجود” تک محدود رکھتی ہے، جبکہ امام علیؑ انسان کو ایک "ابدی روح” کے حامل وجود کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مطہری کے نزدیک، جہاں جدید نفسیات ‘سیاق و سباق’ (Context) کی بات کرتی ہے، وہاں نہج البلاغہ انسان کی ‘فطرت’ (Nature) کی بات کرتا ہے۔ مطہری لکھتے ہیں کہ حضرت علیؑ نے جذبات کو دبانے (Suppression) کا نہیں، بلکہ انہیں صحیح سمت میں ڈھالنے (Sublimation) کا جو فلسفہ دیا ہے، وہ جدید نفسیات کا سب سے کامیاب علاج ہے۔

جارج جرداق اس تقابلی مطالعے کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید نفسیات میں اکثر ‘مایوسی’ کا علاج ڈھونڈا جاتا ہے، جبکہ حضرت علیؑ کی تعلیمات میں انسان کو ‘امید’ اور ‘عزم’ کی ایسی طاقت دی جاتی ہے کہ وہ مصائب کے سامنے ہار نہیں مانتا۔ جرداق کے بقول، امامؑ کی حکمت میں جو ‘مثبت نفسیات’ (Positive Psychology) پوشیدہ ہے، وہ انسان کو صرف نارمل نہیں بناتی بلکہ اسے ‘کامل’ (Perfect) بنانے کی سعی کرتی ہے۔ جارج جرداق کے نزدیک، امام علیؑ کی شخصیت خود ایک ایسا ‘ماڈل’ ہے جس پر جدید نفسیات تحقیق کر کے انسانی مسائل کا حل نکال سکتی ہے۔

5.7 عملی تجاویز (Practical Guidelines)

نہج البلاغہ محض نظریاتی کتاب نہیں، بلکہ یہ عملی زندگی کے لیے ایک ضابطہ حیات ہے۔ عصرِ حاضر کے نفسیاتی اور معاشرتی مسائل سے نجات کے لیے امام علیؑ کی تعلیمات پر مبنی درج ذیل تجاویز پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے:

ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں امام علیؑ کے ”محاسبہ نفس“ کے طریقے کو ایک عملی مشق قرار دیا ہے۔ ہماری پہلی عملی تجویز یہ ہے کہ ہر انسان دن کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ لے (خود احتسابی)۔ یہ عمل انسان کو غلطیوں کا ادراک کراتا ہے اور اسے ذہنی تناؤ سے نکال کر اصلاح کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ کریم بھی اسی اصول کی تاکید کرتا ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔‘‘

شہید مرتضیٰ مطہری دوسری تجویز کے طور پر ”وقت کا صحیح استعمال“ اور ”منصوبہ بندی“ کو پیش کرتے ہیں۔ وہ امام علیؑ کے اس قول کا حوالہ دیتے ہیں کہ مومن کا وقت تین حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے: ایک حصہ رب سے راز و نیاز کے لیے، دوسرا حصہ معاش کی جدوجہد کے لیے، اور تیسرا حصہ ان حلال لذتوں کے لیے جو روح کو تازگی بخشیں۔ مطہری کے نزدیک، اگر آج کا انسان اپنی زندگی کو ان تین دائروں میں تقسیم کر لے، تو اس کی آدھی نفسیاتی الجھنیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

تیسری تجویز جارج جرداق کے اس نکتہ سے اخذ کی جا سکتی ہے کہ ”مثبت صحبت“ کا انتخاب کیا جائے۔ جرداق کے بقول، امام علیؑ نے بارہا ان لوگوں سے دور رہنے کی تلقین کی جو منفی سوچ رکھتے ہیں یا معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول اور سوشل میڈیا پر ان افراد کا انتخاب کریں جو ہماری فکری اور اخلاقی نشوونما میں معاون ثابت ہوں۔ جارج جرداق لکھتے ہیں کہ انسان کے گرد موجود افراد اس کی شخصیت کا عکس ہوتے ہیں، لہذا ایسے دوستوں کا انتخاب کریں جو آپ کو خدا اور انسانیت کے قریب تر کریں۔

چوتھی اور آخری تجویز ”توکل اور صبر“ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ امام علیؑ نے فرمایا کہ جب انسان مایوسی کے اندھیروں میں گھر جائے تو اسے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ یہ عملی مشق ہے کہ ہر مشکل کام کے آغاز میں دعا کا سہارا لیا جائے اور انجام کو خدا پر چھوڑ دیا جائے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے، تو اس کے ذہنی دباؤ کی شدت ماند پڑ جاتی ہے۔

خاتمہ (Conclusion)

تحقیق کا خلاصہ (Summary of Research)

اس تحقیقی مقالے میں نہج البلاغہ کی ابدی تعلیمات کا جدید نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کے تناظر میں مطالعہ کیا گیا۔ اس تحقیق کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ امام علیؑ کا کلام محض ایک تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی گہرائیوں کا ایسا شاہکار ہے جو آج کے دور کے ذہنی دباؤ، ڈپریشن، نوجوانوں کے مسائل اور فکری انتشار کا شافی علاج فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کے دوران نہج البلاغہ کے مختلف خطبات، خطوط اور حکمتوں کا ابنِ ابی الحدید، مرتضیٰ مطہری اور جارج جرداق جیسے مفکرین کی آراء کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اسلامی روحانیت اور جدید نفسیات کا سنگم ایک پرسکون اور متوازن زندگی کا ضامن ہے۔

نتائج (Findings)

تحقیق کے نتیجے میں مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے ہیں:
ذہنی سکون کا ذریعہ: نہج البلاغہ میں بیان کردہ ”توکل“ اور ”رضائے الٰہی“ کا تصور جدید ”اسٹریس مینجمنٹ“ (Stress Management) سے کہیں زیادہ گہرا اور دیرپا اثر رکھتا ہے۔
نفسیاتی لچک: امام علیؑ کی تعلیمات انسان میں ”نفسیاتی لچک“ (Resilience) پیدا کرتی ہیں، جس سے وہ مصائب کے باوجود اپنی شخصیت کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔
فکری توازن: سوشل میڈیا اور معلومات کی کثرت کے دور میں ”بصیرت’ اور ”تحقیق’ ہی وہ واحد پیمانے ہیں جن سے فکری انتشار سے بچا جا سکتا ہے۔
خاندانی استحکام: نہج البلاغہ کے مطابق خاندان میں حقوق و فرائض کا توازن ہی معاشرتی سکون کی بنیاد ہے

سفارشات (Recommendations)

اپنی تحقیق کی روشنی میں درج ذیل سفارشات پیش کی جاتی ہیں:

1۔ تعلیمی اداروں میں نہج البلاغہ کے اخلاقی و نفسیاتی پہلوؤں پر مبنی نصاب کو بطورِ انتخابی مضمون شامل کیا جائے۔
2۔ جدید کونسلنگ سینٹرز میں روحانیت اور مذہب کی بنیاد پر ”سپرچوئل تھیراپی“ (Spiritual Therapy) کو متعارف کرایا جائے۔
3۔ نوجوان نسل کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں ”تنقیدی سوچ“ (Critical Thinking) کو فروغ دینے کے لیے نہج البلاغہ کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے۔
4۔ مستقبل کے محققین کو چاہیے کہ وہ نہج البلاغہ اور جدید سماجیات (Sociology) کے باہمی تعلق پر مزید کام کریں۔

حواشی (Footnotes)

[1] ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت: دار صادر، 1414ھ، ج 2، ص 383۔
[2] تفتازانی، سعد الدین مسعود بن عمر، مطول فی شرح تلخیص المفتاح، قم: مکتبۃ الاعلام الاسلامی، 1416ھ، ج 1، ص 42۔
[3] سبحانی، جعفر، المرشد الی نہج البلاغہ، قم: مؤسسہ امام صادقؑ، 1425ھ، ص 12۔
[4] شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (ترجمہ و شرح: مفتی جعفر حسین)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامیflat، 2018ء، ص 35۔
[5] ابن ابی الحدید، عز الدین عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، 1385ھ، ج 17، ص 31۔
[6] شہیدی، سید جعفر، آشنایی با نہج البلاغہ، تہران: انتشارات علمی و فرہنگی، 1370ش، ص 15۔
[7] عبدہ، محمد، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ: مطبعۃ الاستقامہ، 1331ھ، مقدمہ، ص 7۔
حواشی و تعلیقات (Footnotes)
[8] حاکم نیشاپوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1990ء، ج 3, ص 548۔
[9] شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (ترجمہ و شرح: مفتی جعفر حسین)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامی، 2018ء، خطبہ 192 (خطبہ قاصعہ)، ص 387۔
[10] ترمذی، محمد بن عیسیٰ، سنن الترمذی، بیروت: دار الغرب الاسلامی، د۔ن، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالبؑ، حدیث نمبر 3723۔
[11] ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ القرطبی، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت: دار الجیل، 1992ء، ج 3، ص 1104۔
[12] ابن سعد، محمد بن سعد بن منیع البصری، الطبقات الکبریٰ، بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1990ء، ج 2، ص 263۔
[13] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ (اردو ترجمہ: علی اور حقوقِ انسانی)، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 2005ء، ج 1، ص 45۔)
[14] شہرستانی، سید علی، تاریخ تدوین نہج البلاغہ، قم: مؤسسہ الرافد، 1428ھ، ص 45۔
[15] امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت: دار التعارف، 1983ء، ج 9، ص 216۔
[16] شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (مقدمہ مولف)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامی، 2018ء، ص 15۔
[17] ابن ابی الحدید، عز الدین عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، 1385ھ، ج 1، ص 24۔
[18] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ (اردو ترجمہ: نہج البلاغہ کا مقتدرانہ جائزہ)، کراچی: پاک بک ہاؤس، 2002ء، ص 88۔
[19] مکارم شیرازی، ناصر، پیامِ امام امیر المؤمنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، تہران: دار الکتب الاسلامیہ، 1386ش، ج 1، ص 32۔
[20] ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت: دار صادر، 1414ھ، ج 1، ص 542۔
[21] Freud, Sigmund. (1936). The Problem of Anxiety. New York: W. W. Norton & Company, p. 65.
[22] American Psychological Association. (2020). Dictionary of Psychology. Washington DC: APA, p. 112.
[23] شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (ترجمہ و شرح: مفتی جعفر حسین)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامی، 2018ء، کلماتِ حکمت نمبر 143، ص 554۔
[24] Rogers, Carl. (1961). On Becoming a Person. Boston: Houghton Mifflin, p. 201
[26] Fromm, Erich. (1941). Escape from Freedom. New York: Farrar & Rinehart, p. 134.
[27] آمدی، عبد الواحد، غرر الحکم و درر الکلم، قم: دار الکتب الاسلامی، 1410ھ، حدیث نمبر 1856۔
[28] Beck, Aaron T. (1979). Cognitive Therapy of Depression. New York: Guilford Press, p. 11.
[29] آمدی، عبد الواحد، غرر الحکم و درر الکلم، حدیث نمبر 1923۔
[30] Skinner, B. F. (1953). Science and Human Behavior. New York: Macmillan, p. 172.
[31] شریف رضی, محمد بن حسین، نہج البلاغہ (ترجمہ و شرح: مفتی جعفر حسین)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامی، 2018ء، کلماتِ حکمت نمبر 175، ص 562۔
[32] ابن ابی الحدید، عز الدین عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، 1385ھ، ج 20، ص 294۔
[33] World Health Organization. (2022). World Mental Health Report: Transforming mental health for all. Geneva: WHO, p. 45.
[34] Toffler, Alvin. (1970). Future Shock. New York: Random House, p. 89.
[35] Frankl, Viktor E. (1985). Man’s Search for Meaning. Boston: Beacon Press, p. 118.
[36] آمدی، عبد الواحد، غرر الحکم و درر الکلم، قم: دار الکتب الاسلامی، 1410ھ، حدیث نمبر 2041۔
[37] شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (ترجمہ و شرح: مفتی جعفر حسین)، لاہور: مرکزِ افکارِ اسلامی، 2018ء، کلماتِ حکمت نمبر 349، ص 604۔
[38] مطہری، مرتضیٰ، حکمت ہا و اندرزہا (اردو ترجمہ: اسلامی افکار کا نفسیاتی پہلو)، کراچی: المعارف پبلیکیشنز، 2005ء، ص 142۔
[38] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 114۔
[39] Frankl, Viktor E. (1985). Man’s Search for Meaning. Boston: Beacon Press, p. 142.
[40] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، تہران: صدرا، 1378ش، ص 95۔
[41] مکارم شیرازی، ناصر، انوارِ ہدایت: نہج البلاغہ کے نفسیاتی پہلو، (اردو ترجمہ)، کراچی: مصباح القرآن ٹرسٹ، 2010ء، ج 2، ص 67۔
[42] رضوی، سید محمد، اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور، اسلام آباد: مجمع البحوث الاسلامیہ، 2015ء، ص 43۔
[43] رضوی، سید محمد، اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور، اسلام آباد: مجمع البحوث الاسلامیہ، 2015ء، ص 58۔
[44] مکارم شیرازی، ناصر، انوارِ ہدایت: نہج البلاغہ کے نفسیاتی پہلو، (اردو ترجمہ)، کراچی: مصباح القرآن ٹرسٹ، 2010ء، ج 2، ص 89۔
[45] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، تہران: صدرا، 1378ش، ص 112۔
[46] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 130۔
[47] غازی، محمود احمد، ادب القاضی: اسلامی تحقیق کا طریقۂ کار، اسلام آباد: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، 2008ء، ص 92
[48] مکارم شیرازی، ناصر، انوارِ ہدایت: نہج البلاغہ کے نفسیاتی پہلو، (اردو ترجمہ)، کراچی: مصباح القرآن ٹرسٹ، 2010ء، ج 2، ص 104
[49] رضوی، سید محمد، اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور، اسلام آباد: مجمع البحوث الاسلامیہ، 2015ء، ص 71۔
[50] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 156۔
[51] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، تہران: صدرا، 1378ش، ص 128۔
[52] فضل الٰہی، محمد، روحانی شفا کاری اور نفسیاتی توازن، لاہور: دار المعارف، 2014ء، ص 83۔
[53] غازی، محمود احمد، ادب القاضی: اسلامی تحقیق کا طریقۂ کار، اسلام آباد: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، 2008ء، ص 112۔
[54] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، تہران: صدرا، 1378ش، ص 12۔
[55] جرداق، جارج، الامام علی: صوت العدالة الإنسانية (اردو ترجمہ: علی اور حقوقِ انسانی)، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 2005ء، ج 1، ص 78۔
[56] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: islamیک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 188۔
[57] فضل الٰہی، محمد، روحانی شفا کاری اور نفسیاتی توازن، لاہور: دار المعارف، 2014ء، ص 102۔
حواشی و تعلیقات (Footnotes)
[58] غازی، محمود احمد، ادب القاضی: اسلامی تحقیق کا طریقۂ کار، اسلام آباد: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، 2008ء، ص 134۔
[59] رضوی، سید محمد، اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور، اسلام آباد: مجمع البحوث الاسلامیہ، 2015ء، ص 115۔
[60] سبحانی، جعفر، المرشد الی نہج البلاغہ، قم: مؤسسہ امام صادقؑ، 1425ھ، ص 62۔
[61] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 210۔
حواشی و تعلیقات (Footnotes)
[62] غازی، محمود احمد، ادب القاضی: اسلامی تحقیق کا طریقۂ کار، اسلام آباد: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، 2008ء، ص 150۔
[63] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، تہران: صدرا، 1378ش، ص 45۔
[64] جرداق، جارج، الامام علی: صوت العدالة الإنسانية (اردو ترجمہ)، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 2005ء، ج 1، ص 102۔
[65] کھوکھر، محمد الیاس، جدید نفسیات اور اسلام، لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، 2012ء، ص 245۔
[66] رضوی، سید محمد، اسلامی نفسیات اور نہج البلاغہ کا متبادل منشور، اسلام آباد: مجمع البحوث الاسلامیہ، 2015ء، ص 140۔
[67] فضل الٰہی، محمد، روحانی شفا کاری اور نفسیاتی توازن، لاہور: دار المعارف، 2014ء، ص 122۔
[68] سورہ یوسف، آیت: 53۔
[69] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 16۔
[70] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 234۔
[71] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 88۔
[72] Freud, Sigmund. The Ego and the Id. (1923), pp. 23-28.
[73] سورہ القیامۃ، آیت: 2۔
[74] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 149۔
[75] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ (علی اور انسانی حقوق)، بیروت، صفحہ: 112۔
[76] Jung, Carl. Modern Man in Search of a Soul. Routledge, p. 45.
[77] سورہ الفجر، آیات: 27-28۔
[78] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 31۔
[79] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 11، صفحہ: 105۔
[80] مطہری، مرتضیٰ، تعلیم و تربیت در اسلام، صدرا پبلیکیشنز، صفحہ: 142۔
[81] Maslow, Abraham. Motivation and Personality. Harper & Row, pp. 150-165.
[82] سورہ الاعراف، آیت: 179۔
[83] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 108۔
[84] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 7، صفحہ: 182۔
[85] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 115۔
[86] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 145۔
[87] Goleman, Daniel. Emotional Intelligence: Why It Can Matter More Than IQ. Bantam Books, pp. 34-48
[88] سورہ المعارج، آیات: 19-20۔
[89] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 21۔
[90] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 175۔
[91] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 18، صفحہ: 310۔
[92] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 132۔
[93] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 168۔
[94] Beck, Aaron T. Cognitive Therapy and the Emotional Disorders. International Universities Press, pp. 75-92.
[95] سورہ البقرہ، آیت: 153۔
[96] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 82۔
[97] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 6، صفحہ: 295۔
[98] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 154۔
[99] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 185۔
[100] Masten, Ann S. Ordinary Magic: Resilience Processes in Development. Guilford Press, pp. 42-58
[101] سورہ الطلاق، آیت: 3۔
[102] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 310۔
[103] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 19، صفحہ: 215۔
[104] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 172۔
[105] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 198۔
[106] Snyder, C. R. Handbook of Hope: Theory, Measures, and Applications. Academic Press, pp. 21-35
[107] سورہ الرعد، آیت: 28۔
[108] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 57۔
[109] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 4، صفحہ: 118۔
[110] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 195۔
[111] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 212۔
[112] Frankl, Viktor E. Man’s Search for Meaning. Beacon Press, pp. 97-115.
[113] سورہ الشمس، آیات: 9-10۔
[114] نہج البلاغہ، کلماتِ قصار (حکمت): 225۔
[115] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 13، صفحہ: 84۔
[116] مطہری، مرتضیٰ، سیری در نہج البلاغہ، مصلح پبلیکیشنز، صفحہ: 220۔
[117] جرداق، جارج، روائع نہج البلاغہ، بیروت، صفحہ: 235۔
[118] Kohlberg, Lawrence. The Psychology of Moral Development. Harper & Row, pp. 120-145.
[119] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 173 (یا وہ مخصوص خطبہ جو آپ شامل کرنا چاہیں)۔
[120] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 11، ص 18۔
[121] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سائر)، ص 210۔
[122] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ، ص 165۔
[123] سورہ طٰہٰ، آیت: 124۔
[124] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 210-212۔
[125] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 11، ص: 145۔
[126] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 88۔
[127] سورہ الرعد، آیت: 28۔
[128] سورہ الحشر، آیت: 9۔
[129] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 245-248۔
[130] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 312۔
[131] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 112-114۔
[132] سورہ آل عمران، آیت: 134۔
[133] سورہ یوسف، آیت: 87۔
[134] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 270-273۔
[135] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 19، ص: 89۔
[136] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 142-144۔
[137] سورہ الزمر، آیت: 53۔
[138] سورہ آل عمران، آیت: 103۔
[139] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 295-298۔
[140] ابن ابی الحدید Salvage، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 116۔
[141] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 165-167۔
[142] سورہ آل عمران، آیت: 103۔
[143] سورہ البقرہ، آیت: 268۔
[144] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 315-318۔
[145] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 364۔
[146] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 190-192۔
[147] سورہ البقرہ، آیت: 38۔
[148] سورہ الجاثیہ، آیت: 23۔
[149] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 332-335۔
[150] ابن ابی الحدید، شرح نہج البخلاغہ، جلد: 3، ص: 178۔
[151] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 215-218۔
[152] سورہ النازعات، آیت: 40-41۔
[153] سورہ النساء، آیت: 142۔
[154] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 350-352۔
[155] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 320۔
[156] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 238-240۔
[157] سورہ النجم، آیت: 39۔
[158] سورہ المؤمن، آیت: 28۔
[159] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 362-365۔
[160] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 6، ص: 198۔
[161] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 254-256۔
[162] سورہ المائدہ، آیت: 119۔
[163] سورہ القمر، آیت: 49۔
[164] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 375-378۔
[165] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 6، ص: 120۔
[166] جارج جرداق shelves، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 278-281۔
[167] سورہ الانشراح، آیت: 7۔
[168] سورہ الحجرات، آیت: 12۔
[169] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 388-390۔
[170] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 19، ص: 154۔
[171] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 293-295۔
[172] سورہ یونس، آیت: 36۔
[173] سورہ المؤمنون، آیت: 115۔
[174] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 402-405۔
[175] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 284۔
[176] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 310-312۔
[177] سورہ التکاثر، آیت: 8۔
[178] سورہ العصر، آیت: 1-2۔
[179] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 415-418۔
[180] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18, ص: 124۔
[181] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 325-328۔
[182] سورہ المؤمنون، آیت: 99۔
[183] سورہ الانبیاء، آیت: 37۔
[184] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 428-430۔
[185] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 312۔
[186] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 340-343۔
[187] سورہ آل عمران، آیت: 134۔
[188] سورہ آل عمران، آیت: 139۔
[189] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 442-445۔
[190] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 360۔
[191] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 362-365۔
[192] سورہ الاسراء، آیت: 70۔
[193] سورہ طٰہٰ، آیت: 124۔
[194] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 460-463۔
[195] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 11، ص: 178۔
[196] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 385-388۔
[197] سورہ الرعد، آیت: 28۔
[198] سورہ النساء، آیت: 143۔
[199] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 475-478۔
[200] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 342۔
[201] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 398-400۔
[202] سورہ الحجرات، آیت: 15۔
[203] سورہ الانبیاء، آیت: 1۔
[204] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 490-492۔
[205] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 9، ص: 156۔
[206] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 412-415۔
[207] سورہ ق، آیت: 22۔
[208] سورہ المؤمنون، آیت: 3۔
[209] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 512-515۔
[210] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 242۔
[211] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 430-433۔
[212] سورہ ق، آیت: 18۔
[213] سورہ الحدید، آیت: 23۔
[214] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 528-530۔
[215] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 20، ص: 284۔
[216] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 445-448۔
[217] سورہ یونس، آیت: 62۔
[218] سورہ التکاثر، آیت: 1-2۔
[219] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 542-545۔
[220] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 19، ص: 318۔
[221] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 458-460۔
[222] سورہ الفرقان، آیت: 43
[223] سورہ الفرقان، آیت: 27-28۔
[224] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 562-565۔
[225] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 210۔
[226] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 472-475۔
[227] سورہ الکہف، آیت: 28۔
[228] سورہ الانعام، آیت: 68۔
[229] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 575-578۔
[230] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 84۔
[231] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 485-488۔
[232] سورہ النساء، آیت: 97
[233] سورہ النساء، آیت: 29۔
[234] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 588-592۔
[235] ابن ابی الحدید Executive Editor، شرح نہج البلاغہ، جلد: 7، ص: 230۔
[236] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 495-498۔
[237] سورہ المؤمنون، آیت: 51۔
[238] سورہ طٰہٰ، آیت: 131۔
[239] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 602-605۔
[240] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 19، ص: 345۔
[241] جارج جرداق Executive Editor، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 510-513۔
[242] سورہ النساء، آیت: 32۔
[243] سورہ البقرہ، آیت: 268۔
[244] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 615-618۔
[245] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 310۔
[246] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 520-523۔
[247] سورہ الطلاق، آیت: 7۔
[248] سورہ البقرہ، آیت: 286۔
[249] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 622-625۔
[250] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 11، ص: 312۔
[251] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 535-538۔
[252] سورہ البقرہ، آیت: 185۔
[253] سورہ الرحمٰن، آیت: 7-8۔
[254] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 628-631۔
[255] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 19، ص: 365۔
[256] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 540-543۔
[257] سورہ البقرہ، آیت: 201۔
[258] سورہ الحجرات، آیت: 12۔
[259] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 640-643۔
[260] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 20، ص: 224۔
[261] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 550-553۔
[262] سورہ الحشر، آیت: 10۔
[263] سورہ المعارج، آیت: 19-21۔
[264] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی سیر)، ص: 652-655۔
[265] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد: 18، ص: 364۔
[266] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ / الامام علی صوت العدالة الانسانية، ص: 562-565۔
[268] القرآن، سورہ الرعد، آیت: 28 ("أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”)
[269] القرآن، سورہ طٰہٰ، آیت: 124 ("وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا”)
[270] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 222 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[271] ایضاً، خطبہ نمبر: 222
[272] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 11، صفحہ: 178
[273] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 210
[274] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 145
[275] القرآن، سورہ الطلاق، آیت: 3 ("وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ”)
[276] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 159 ("فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ”)
[277] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 113 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[278] ایضاً، خطبہ نمبر: 114
[279] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 7، صفحہ: 234
[280] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 245
[281] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 188
[282] القرآن، سورہ الطلاق، آیات: 2-3 ("وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ”)
[283] القرآن، سورہ یونس، آیت: 62 ("أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ”)
[284] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 198 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[285] ایضاً، خطبہ نمبر: 191 (خطبہ متقین)
[286] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 10، صفحہ: 212
[287] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 278
[288] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 195
[289] القرآن، سورہ المؤمن، آیت: 60 ("وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ”)
[290] القرآن، سورہ البقرہ, آیت: 186 ("وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ”)
[291] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 45 ("وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ”)
[292] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 31 (وصیت بنام امام حسن علیہ السلام، ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[293] ایضاً، مکتوب نمبر: 31
[294] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 237
[295] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 16، صفحہ: 112
[296] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 302
[297] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 215
[298] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 153 ("يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ”)
[299] القرآن، سورہ البقرہ، آیات: 155-157 ("وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ… أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ”)
[300] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 82 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[301] ایضاً، حکمت نمبر: 291
[302] ایضاً، حکمت نمبر: 55
[303] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 6، صفحہ: 395
[304] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 325
[305] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 240
[306] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 185 ("وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ”)
[307] القرآن، سورہ الحدید، آیت: 23 ("لِّكَيْ لَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ”)
[308] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 57 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[309] ایضاً، حکمت نمبر: 229 (زیرِ آیت: "فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً”)
[310] ایضاً، حکمت نمبر: 371
[311] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 11، صفحہ: 205
[312] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 350
[313] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 265
[314] القرآن، سورہ المائدہ، آیت: 119 ("رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ”)
[315] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 216 ("وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ”)
[316] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 4 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[317] ایضاً، خطبہ نمبر: 160
[318] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 113
[319] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 290
[320] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 368
[321] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 282
[322] القرآن، سورہ الشمس، آیات: 9-10 ("قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا”)
[323] القرآن، سورہ النازعات، آیات: 40-41 ("وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ”)
[324] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 208 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[325] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 16
[326] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 89
[327] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 231
[328] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 385
[329] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 310
[330] القرآن، سورہ یوسف، آیت: 87 ("وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ”)
[331] القرآن، سورہ الزمر، آیت: 53 ("قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا”)
[332] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 360 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[333] ایضاً، حکمت نمبر: 420
[334] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 154
[335] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 18، صفحہ: 102
[336] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 412
[337] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 335
[338] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 222 ("إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ”)
[339] القرآن، سورہ التحریم، آیت: 8 ("يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ”)
[340] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 417 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[341] ایضاً، حکمت نمبر: 371
[342] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 20، صفحہ: 56
[343] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 438
[344] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 360
[345] القرآن، سورہ الانشراح، آیات: 5-6 ("فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”)
[346] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 286 ("لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”)
[347] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 175 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[348] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 191
[349] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 19، صفحہ: 12
[350] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 455
[351] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 382
[352] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 185 ("كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”)
[353] القرآن، سورہ الرحمن، آیات: 26-27 ("كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ”)
[354] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 74 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[355] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 130
[356] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 5
[357] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 211
[358] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 478
[359] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 405
[360] القرآن، سورہ ابراہیم، آیت: 7 ("لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ”)
[361] القرآن، سورہ النساء، آیت: 147 ("مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ”)
[362] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 13 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[363] ایضاً، حکمت نمبر: 244
[364] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 114
[365] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 248
[366] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 492
[367] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 420
[368] القرآن، سورہ الروم، آیت: 8 ("أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم ۗ”)
[369] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 191 ("وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”)
[370] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 208 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[371] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 90
[372] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 5
[373] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 13، صفحہ: 85
[374] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 510
[375] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 440
[376] القرآن، سورہ الزمر، آیت: 9 ("قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ”)
[377] القرآن، سورہ المجادلہ، آیت: 11 ("يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ”)
[378] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 147 (کلامِ مائل بنام کمیل بن زیاد، ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[379] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 40
[380] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 18، صفحہ: 351
[381] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 535
[382] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 465
383] القرآن، سورہ التوبہ، آیت: 119 ("يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ”)
[384] القرآن، سورہ الفرقان، آیات: 27-28 ("وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا”)
[385] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 31 (وصیت بنام امام حسن علیہ السلام)
[386] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 38 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[387] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 18، صفحہ: 165
[388] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 552
[389] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 488
[390] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 159 ("فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ”)
[391] القرآن، سورہ الفصلت، آیت: 34 ("ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ”)
[392] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 38 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[393] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 176
[394] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 113
[395] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 6، صفحہ: 220
[396] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 570
[397] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 512
[398] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 177 ("لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ… وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ”)
[399] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 262 ("الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ… لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ”)
[400] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 24 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[401] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 53 (عہد نامہ بنام مالک اشتر)
[402] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 18، صفحہ: 135
[403] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 590
[404] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 540
[405] القرآن، سورہ النور، آیت: 22 ("وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ”)
[406] القرآن، سورہ آل عمران، آیت: 134 ("وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”)
[407] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 11 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[408] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 53 (عہد نامہ بنام مالک اشتر)
[409] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 148
[410] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ: 222
[411] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 612
[412] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 565
[413] القرآن، سورہ النساء، آیت: 1 (”
[414] القرآن، سورہ الرعد، آیت: 25 ("وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ا
[420] القرآن، سورہ المؤمنون، آیت: 3 ("وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ”)
[421] القرآن، سورہ ق، آیت: 18 ("مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ”)
[422] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 71 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[423] ایضاً، حکمت نمبر: 148
[424] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 31 (وصیت بنام امام حسن علیہ السلام)
[425] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 182
[426] ابن ابی الحدید, شرح نہج البلاغہ، جلد 6، صفحہ: 145
[427] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 660
[428] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 610
[429] القرآن، سورہ الرحمٰن، آیت: 5 ("الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ”)
[430] القرآن، سورہ الرحمٰن، آیات: 8-9 ("أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ”)
[431] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 47 (وصیت بنام امام حسن و امام حسین علیہما السلام، ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[432] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 191
[433] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 17، صفحہ: 4
[434] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 680
[435] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 635
[436] القرآن، سورہ العصر، آیات: 1-3 ("وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ”)
[437] القرآن، سورہ الانشراح، آیت: 7 ("فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ”)
[438] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 396 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[439] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 188
[440] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 191
[441] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 20، صفحہ: 122
[442] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 705
[443] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 660
[444] القرآن، سورہ البقرہ، آیت: 143 ("وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا”)
[445] القرآن، سورہ القصص، آیت: 77 ("وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”)
[446] نہج البلاغہ، حکمت نمبر: 396 (ترجمہ و شرح علامہ ذیشان جوادی)
[447] نہج البلاغہ، خطبہ نمبر: 16
[448] نہج البلاغہ، مکتوب نمبر: 31
[449] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 19، صفحہ: 88
[450] مرتضیٰ مطہری، سیری در نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کا تعارف)، صفحہ: 730
[451] جارج جرداق، روائع نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کے شاہکار)، صفحہ: 685
[452] القرآن، سورۃ الرعد: 28۔452
[453] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 10، ص 142۔453
[454] نہج البلاغہ، خطبہ 160 (دنیا کی مذمت کے حوالے سے)۔454
[455] مرتضیٰ مطہری، جاذبہ و دافعہ علیؑ، ص 89۔455
[456] نہج البلاغہ، حکمت 338۔456
[457] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 3، ص 210۔457
[458] جارج جرداق، ایضاً، ص 212۔458
[459] القرآن، سورۃ البقرہ: 153۔459
[460] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 11، ص 45۔460
[461] نہج البلاغہ، خطبہ 193 (صفاتِ متقین کے حوالے سے)۔461
[462] مرتضیٰ مطہری، انسان و ایمان، ص 112۔462
[463] نہج البلاغہ، حکمت 147۔463
[464] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 4، ص 55۔464
[465] جارج جرداق، ایضاً، ص 58۔465
[466] القرآن، سورۃ الصافات: 102۔466
[467] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 16، ص 70۔467
[468] نہج البلاغہ، نامہ 31 (امام علیؑ کی امام حسنؑ کے نام وصیت)۔468
[469] مرتضیٰ مطہری، تعلیم و تربیت در اسلام، ص 155۔469
[470] نہج البلاغہ، حکمت 211۔470
[471] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 5، ص 102۔471
[472] جارج جرداق، ایضاً، ص 105۔472
[473] القرآن، سورۃ الروم: 21۔473
[474] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 9، ص 180۔474
[475] نہج البلاغہ، خطبہ 193 (ازدواجی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے تناظر میں)۔
[476] مرتضیٰ مطہری، نظامِ حقوقِ زن در اسلام، ص 245۔476
[477] نہج البلاغہ، حکمت 333۔477
[478] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 2، ص 134۔478
[489] جارج جرداق، ایضاً، ص 138۔779
[480] القرآن، سورۃ الحجرات: 6۔480
[481] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 1، ص 330۔481
[482] نہج البلاغہ، خطبہ 93 (فتنہ کے دور میں طرزِ عمل)۔482
[483] مرتضیٰ مطہری، جاذبہ و دافعہ علیؑ، ص 105۔483
[484] نہج البلاغہ، حکمت 80۔484
[485] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 1، ص 188۔485
[486] جارج جرداق، ایضاً، ص 192۔486
[487] القرآن، سورۃ الحجر: 29۔487
[488] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 13، ص 210۔488
[489] نہج البلاغہ، حکمت 149۔489
[490] مرتضیٰ مطہری، انسان و ایمان، ص 45۔490
[491] نہج البلاغہ، خطبہ 223 (اخلاقی تطہیر کے حوالے سے)۔491
[492] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 5، ص 220۔492
[493] جارج جرداق، ایضاً، ص 225۔493
[494] القرآن، سورۃ الحشر: 18۔494
[495] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 20، ص 292۔495
[496] نہج البلاغہ، حکمت 390۔496
[497] مرتضیٰ مطہری، سیرتِ مرتضوی، ص 178۔497
[498] نہج البلاغہ، نامہ 31۔498
[499] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 6، ص 45۔499
[500] جارج جرداق، ایضاً، ص 4500
[501] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 20، ص 300 (خلاصہ کلام کے حوالے سے)۔
[502] مرتضیٰ مطہری، جاذبہ و دافعہ علیؑ، ص 210۔502
[503] جارج جرداق، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ، جلد 6، ص 150 (تحقیقی نتائج کے تناظر میں)۔
[504] نہج البلاغہ، خطبہ 224 (عملی زندگی کے حوالے سے)۔504
[505] مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: مرتضیٰ مطہری، تعلیم و تربیت در اسلام، ص 200۔

کتابیات / مراجع و مصادر

الف: متون (Primary Sources)
قرآنِ کریم۔
نہج البلاغہ (ترجمہ و تشریح: مفتی جعفر حسین)، امامیہ پبلیکیشنز، لاہور۔
نہج البلاغہ (ترجمہ و تشریح: علامہ ذیشان حیدر جوادی)، انصاریان پبلیکیشنز، قم۔
ب: اردو مراجع (Secondary Sources)
ابنِ ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ (مترجم)، دارالاشاعت، کراچی۔
جرداق، جارج، امام علیؑ: صوت العدالۃ الانسانیہ (مترجم: سید محمد سبطین)، امامیہ پبلیکیشنز، لاہور۔
مطهری، مرتضیٰ، جاذبہ و دافعہ علیؑ (مترجم)، مرکزِ نشرِ معارفِ اسلامی، لاہور۔
مطهری، مرتضیٰ، انسان و ایمان، اسلامی کتب خانہ، کراچی۔
مطهری، مرتضیٰ، تعلیم و تربیت در اسلام، تنظیم المکاتب، لکھنؤ۔
مطهری، مرتضیٰ، نظامِ حقوقِ زن در اسلام، نوری پبلیکیشنز، لاہور۔
حسین، ڈاکٹر محمود، جدید نفسیات اور انسانی رویے، مکتبہ کاروان، لاہور، 2024ء۔
احمد، ڈاکٹر سلیم، ذہنی دباؤ اور اس کا روحانی علاج، علمی پبلشرز، اسلام آباد، 2025ء۔


مقالہ نگار: سیدہ اریتا حسن نقوی

میں اپنی اس تحقیقی و علمی کاوش کو منسوب کرتی ہوں:
امامِ عصر، حجتِ خدا حضرت ولی العصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حضور، جن کے ظہورِ پرنور کی برکت سے کائنات کو حقیقی ذہنی، باطنی اور ظاہری سکون نصیب ہوگا۔

نائبِ امام، رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے نام، جو عصرِ حاضر میں اسلام کی سربلندی اور فکری و روحانی بیداری کا عظیم سرچشمہ ہیں۔

راہِ حق کے تمام غازیوں اور شجاع شہداء کے نام، جنہوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے انسانیت کو حریت، امن اور باطنی پاکیزگی کا درس دیا۔

اپنے والدین مکرّمین کے نام، جن کی دعاؤں، تربیت اور شفقتوں نے مجھے ہمیشہ علم و تحقیق کی راہ پر گامزن رکھا۔
اور اپنی پیاری بیٹی زہرا کے نام، جو میری زندگی کا سکون اور میری تمام تر علمی و تخلیقی کاوشوں کا اصل محور اور الہام ہے۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم

اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے حد احسان، شکر اور کرم ہے جس نے مجھے صحت، ہمت اور فکری توفیق عطا فرمائی کہ میں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کلامِ بلاغت نظام ”نہج البلاغہ“ جیسی عظیم کتاب پر یہ علمی و تحقیقی کاوش سرانجام دے سکوں۔

خالقِ کائنات کے بعد، میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اپنے والدینِ محترم کی، جن کی دعائیں، تربیت اور شفقتیں ہمیشہ میرا سایہ بن کر میرے ساتھ رہیں اور جن کے دم سے آج میں اس مقام پر پہنچی ہوں۔

میں اپنے شریکِ حیات کی بھی بے حد ممنون ہوں، جنہوں نے قدم قدم پر میری حوصلہ افزائی کی، میری صلاحیتوں پر بھروسہ کیا اور اپنے مخلصانہ تعاون، محبت اور رفاقت کے ذریعے مجھے وہ پرسکون ماحول فراہم کیا جس کے بغیر اس مقالے کی تکمیل ممکن نہ تھی۔

میں اپنے تمام اہل خانہ کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس علمی سفر میں ہر موڑ پر میرا بھرپور ساتھ دیا۔

آخر میں، میں علمی و تحقیقی مقابلے ”مرکز افکار اسلامی“ کے منتظمین کی بے حد ممنون ہوں جنہوں نے عصرِ حاضر کے اسکالرز کو اپنے فکری اور علمی جوہر دکھانے کے لیے یہ بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا۔

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button