مقالات

نہج البلاغہ سے علی علیہ السلام کی معرفت

مقالہ نگار: محمد حسین چمن آبادی

﷽

چکیدہ

مولائے کائنات علیؑ کی شناخت اور معرفت کے لیے تاریخ کا مطالعہ اور اس کا تجزیہ کرنے کے علاوہ ان کے اپنے بارے میں بیانات یا ان لوگوں کے بیانات کا بھی حوالہ دیا جا سکتا ہے جنہوں نے انہیں سمجھا اور ان کے مکتب میں پرورش پائی یا ان کے دشمنوں کے بیانات بھی آپ کی شناخت کا ایک وسیلہ بن سکتے ہی۔

امام علیؑ چونکہ عصمت کے مقام پر فائز ہیں، اس لیے ہمارے جیسے غیر معصوم شخص کےلیے ان کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اسی لیے آپؑ کی معرفت کا بہترین طریقہ معصومین علیہم السلام کے فرامین اور خود مولائے کائنات کے فرمودات ہیں۔

علیؑ کی صفات وکمالات بے شمار ہیں ان کی نسبت ہمارا ادراک اور شناخت بہت ہی محدود ہے، اسی لیے اس تحریر میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ امیر المؤمنینؑ کو ان کے أپنے فرامین کی روشنی میں بیان کیا جائے۔

کلیدی کلمات: نہج البلاغہ معرفت علی صفات فرمودات

علیؑ کی معرفت اور شناخت کے باب میں یہ امر فطری ہے کہ راقم کی توانائی اور مضمون کی محدودیت کے پیش نظر، رسول خدا ﷺ کے بعد عالم اسلام کے اس عظیم شخصیت کےصرف چند پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا سکی ہے۔

1- علیؑ کی پرورش

‌أ- علیؑ، آغوش مصطفیٰ ﷺ میں

جب امیر المؤمنینؑ چھوٹے تھے تو پیغمبر اکرمؐ ان کے گہوارے کو اپنے پاس رکھتے، کبھی ان کے بدن کو دھوتے، ان کو دودھ پلاتے اور اپنے سینے سے لگاتے۔ آپؑ اس بارے میں فرماتے ہیں: «وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِی مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (صلی اللہ علیہ وآلہ) بِالْقَرَابَةِ الْقَرِیبَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِیصَةِ، وَضَعَنِی فِی [حَجْرِهِ‏] حِجْرِهِ وَ أَنَا وَلَدٌ يَضُمُّنِی إِلَى صَدْرِهِ وَ يَكْنُفُنِی فِی فِرَاشِهِ وَ يُمِسُّنِی جَسَدَهُ وَ يُشِمُّنِی عَرْفَهُ وَ كَانَ يَمْضَغُ الشَّيْ‏ءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِیهِ» تم جانتے ہو کہ میرا رسول خداؐ سے رشتہ داری میں کس مقام ومنزلت پر تھا، انہوں نے مجھے اپنی گود میں بٹھایا جب میں بچہ تھا، مجھے اپنے سینے سے لگایا، مجھے اپنے بستر میں ڈھانپا، مجھے اپنا جسم مس ہونے دیا اور مجھے اپنی خوشبو سونگھنے دی۔ وہ غذا کو چباتے تھے پھر مجھے کھلاتے تھے۔

‌ب- نوجوانی کا دور

مکہ میں خشک سالی کےسبب حضرت ابو طالبؑ شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہوئے۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس موقع پر حضرت ابوطالبؑ کی مددکے غرض سے ان کے دو بیٹوں کی کفالت قبول کی۔ اس طرح امام علیؑ، پیغمبر اکرمؐ کی کفالت میں آگئے، اور آپؐ نے مولا علیؑ کی تربیت کی ۔ امام (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں: «لَقْد کُنتُ اتبعہ اتّباعَ الفصیلِ إِثرَ أُمّہ، یَرفعُ لی فی کُلِّ یَومٍ مِنْ أَخْلاقِہ عِلْماً وَ یَأمُرنی بِالإقتِداءِ بہ» میں ان کی پیروی کرتا تھا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے، وہ ہر روز مجھے اپنے اخلاق میں سے ایک نیا نشان دکھاتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کرنے کا حکم دیتے تھے۔

ج- علیؑ، بعثت کے دور میں

بعثت کے ایام میں علیؑ کی عمر تقریبا دس سال تھی، لیکن کمسنی باوجود رسول اکرمؐ کی تربیت اور ان کی معیت نے عليؑ کو اس مقام تک پہنچایا تھا کہ آپؑ خود اس بارے میں فرماتے ہیں: «وَ لَقَدْ كَانَ يُجَاوِرُ فِی كُلِّ سَنَةٍ بِحِرَاءَ فَأَرَاهُ وَ لَا یرَاهُ غَيْرِی ۔ ۔ ۔ أَرَى نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةِ وَ أَشُمُّ رِیحَ النُّبوَّةِ» اور ہر سال وہ حرا میں کچھ مدت ٹھہرتے تھے، میں انہیں دیکھتا تھا اورمیرے علاوہ کوئی اور انہیں نہیں دیکھتا تھا،۔ ۔ ۔ میں وحی اوررسالت کانوردیکھتاتھا اور نبوت کی خوشبو سونگھتا تھا۔

2- علیؑ، جانشین پیغمبر ﷺ

رسول اکرمؐ نے مختلف مراحل پر علیؑ کی جانشینی کا اعلان کیا۔ وحی کے نزول کا مرحلہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن علیؑ شیطان کی فریاد کے سنتے ہیں: «وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّيْطَانِ حِینَ نزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ (صلى ‏اللہ‏ علیہ ‏وآلہ) فقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الرَّنَّةُ فقَالَ هَذَا الشَّيْطَانُ قَدْ أَيِسَ مِنْ عِبَادَتِهِ۔ إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ وَ ترَى مَا أَرَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ وَ لَكِنَّكَ لَوَزِیرٌ وَ إِنَّكَ لَعَلَى خَيْر» جب آپؐ پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی، جس پر میں پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ آواز کیسی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے کہ جو اپنے پوجے جانے سے مایوس ہوگیا ہے (علیؑ) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ (میرے) وزیر و جانشین ہو اور یقیناً بھلائی کی راہ پر ہو۔

3- ایمان علیؑ

أ- پہلا مؤمن

بعثت کے بعد جس شخصیت نے سب سے پہلے رسول اکرمؐ پر ایمان لایا وہ مولا علیؑ تھے۔آپؑ اپنے ایمان کے بارے میں یوں فرماتے ہیں: «وَ اللهِ لَأنا أوّل مَن صدّقہ» اللہ کی قسم!جس نے سب سے پہلے ان کی تصدیق کی وہ میں تھا۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں: «إنّی وُلدتُ عَلَى الفِطرَةِ و سَبَقتُ إِلَى الإِیمَانِ» میں فطرت توحید پر پیدا ہوا ہوں، اور ایمان پر سب پر سبقت لے چکا ہوں۔

‌ب- ایمان کی کیفیت

آپ فرماتے ہیں کہ میرا ایمان صرف زبان کی حد تک نہیں تھا بلکہ یقین قلبی کے ساتھ جڑا ہوا تھا: «إنّی لَعلى يَقِینٍ مِنْ رَبّی وغَیرِ شُبهَةٍ مِن دِینی» مجھے اپنے پروردگار پر کامل یقین ہےاور اپنے دین میں کسی قسم کا شک وتردید نہیں۔ کسی دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: «مَا شَكَكْتُ فِی الحَقِّ مُذ أَرَیتُہ» جس زمانے سے مجھے حق دکھایا گیا کبھی اس میں شک نہیں کیا۔

4- علیؑ معیار حق

حق خود معیار ہے، اسے تولنے کے لیے کوئی ترازو نہیں لیکن علیؑ کے بارے میں رسول خدا ﷺ کی احادیث ملتی ہیں کہ علیؑ حق کا معیار ہیں ۔ امیر المؤمنینؑ خود بھی اس بارے میں فرماتے ہیں: «إنما مَثَلی بینَكُم كمَثل السّراج فی الظُلمة، يَستضیئ بِہا مَنْ وَلَجهَا» تمہارے درمیان میری مثال تاریکی میں چراغ کی مانند ہے، جو بھی اس کی طرف جائے گا اس کے نور سے مستفید ہوگا۔

امام علیؑ نے ضمانت دی ہے کہ وہ حق پر ہیں اور اس سے کبھی دور نہیں ہوئے: «لا ضَلَلتُ ولا ضلَّ بِی» میں ہرگز بھٹکا ہوا نہیں ہوں اورنہ میری وجہ سے کو بھٹکا ہے۔

5- مطیع امر مولی اور غلام مصطفی ﷺ

امر خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہونے کی روش اور طریقہ اللہ کے اولیاء اور اوصیاء سے سیکھے۔ امیر المؤمنینؑ اطاعت خدا کے متعلق فرماتے ہیں: «أَنِّی لَمْ أَرُدَّ عَلَى اللَّهِ وَ لَا عَلَى رَسُولِهِ سَاعَةً قَطُّ وَ لَقَدْ وَاسَيْتُهُ بِنَفْسِی» میں نے کبھی ایک آن کے لیے بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے سرتابی نہیں کی۔ جس طرح اللہ کے احکامات کے سامنے تسلیم محض تھے اسی طرح رسول اکرمؐ کے فرمان سر أنکھوں بٹھاتے تھے۔ کسی شخص نے آپ سے استفسار کیا: «يَا أَمیرَالمُؤمنین! فنَبِيٌّ أَنتَ؟ قَالَ: وَیلَكَ، إنّما أنا عَبدٌ مِن عَبیدِ محمّدٍ» اے امیر المؤمنینؑ کیا آپ نبی ہیں؟ فرمایا: افسوس ہو تم پر! میں پیغمبر اکرم ؐکے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں۔

6- علیؑ باب علم

‌أ- تلمیذ پیغمبر اکرم ﷺ

جس شخص کی زندگی کا اکثر حصہ مدینہ علم ساتھ گذر گیا ہو اس کو بھی باب مدینہ علم کا لقب مل جاتا ہے۔ مولا علیؑ اس بارے میں فرماتے ہیں: «لَيْسَ كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ (صلى ‏اللہ ‏علیہ ‏وآلہ ‏وسلم) مَنْ كَانَ يَسْأَلُهُ وَ يَسْتفْهِمُهُ حَتَّى إِنْ كَانُوا لَيُحِبُّونَ أَنْ يَجِی‏ءَ الْأَعْرَابِيُّ وَ الطَّارِئُ فيَسْأَلَهُ (علیہ ‏السلام) حَتَّى يَسْمَعُوا وَ كَانَ لَا يَمُرُّ بِی مِنْ ذَلِكَ شَيْ‏ءٌ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَ حَفِظْتُهُ» اور نہ اصحاب پیغمبر میں سب ایسے تھے کہ جنہیں آپ سے سوال کرنے کی ہمت ہو، بلکہ وہ تو یہ چاہا کرتے تھے کہ کوئی صحرائی بدو یا پر دیسی آجائے اور وہ کچھ پوچھے تو یہ بھی سن لیں مگر میرے سامنے سے کوئی چیز نہ گزرتی تھی مگر یہ کہ میں اس کے متعلق پوچھتا تھا اور پھر اسے یاد رکھتا تھا۔

‌ب- پیغمبراکرمؐ سے کسب فیض

«فَعِلْمٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ نَبِيَّهُ فعَلَّمَنِیهِ وَ دَعَا لِی بِأَنْ يَعِيَهُ صَدْرِی وَ تَضْطَمَّ عَلَيْهِ جَوَانِحِی» ایسا علم جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو دیا اور نبیؐ نے مجھے بتایا، اور میرے لیے دعا فرمائی کہ میرا سینہ انہیں محفوظ رکھے اور میری پسلیاں انہیں سمیٹے رہیں۔

‌ج- علم علیؑ کی وسعت

رسول اکرم ﷺ جس کے علم کے اضافے کے لیے دعا کرئے اور اضافہ نہ ہو یہ ممکن نہیں۔ رسالت مآب کے بعد امیر المؤمنینؑ کے علم کا دائرہ فکر بشرسے ما فوق ہے۔ آپؑ اس بارے میں فرماتے ہیں «أَیهَا النَّاسُ سَلُونِی قبْلَ أَنْ تفْقِدُونِی فَلَأَنَا بِطُرُقِ السَّمَاءِ أَعْلَمُ مِنِّی بِطُرُقِ الْأَرْضِ» اے لوگو! مجھے کھو دینے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو کیونکہ میں آسمان کے راستوں کو زمین کے راہوں کی نسبت زیادہ علم رکھتا ہوں۔

دوسری جگہ پر آپ اپنے علم کی وسعت کے بارے میں فرماتے ہیں: «فوَ الَّذِی نفْسِی بِيَدِهِ لَا تَسْأَلُونِی عَنْ شَيْ‏ءٍ فِیمَا بيْنَكُمْ وَ بيْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِئَةٍ تهْدِی مِائَةً وَ تُضِلُّ مِائَةً إِلَّا أَنبَأْتُكُمْ بِنَاعِقِهَا وَ قَائِدِهَا وَ سَائِقِهَا وَ مُنَاخِ رِكَابِهَا وَ مَحَطِّ رِحَالِهَا» اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہےتم اس وقت سے لیکر قیامت تک کے درمیانی عرصے کی جو بات مجھ سے پوچھوگےمیں بتاؤں گا اور کسی ایسے گروہ کے متعلق دریافت کروگے جس نے سو کی ہدایت کی اور سو کوگمراہ کیا ہو تو میں اس کی للکارنے والے اور اسے آگے سے کھینچنے والے اور پیچھے دھکیلنے والے اور اس کی سواریوں کی منزل اور اس کے (سازوسامان سے لدے ہوئے) پالانوں کی جگہ تک بتادوں گا۔

ایک اور مقام پر آپؑ نے اپنے علم کی وسعت اور بحر بیکراں ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: «هَا إِنَّ هَاهُنَا لَعِلْماً جَمّاً وَ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ لَوْ أَصَبْتُ لَهُ حَمَلَةً بلَى أَصَبْتُ لَقِناً غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَيْہ» حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ کاش! اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے، ہاں ملا، کوئی تو، یا ایسا ذہین تو ہے، مگر ناقابل اطمئنان ہے۔

7- علیؑ شہادت کے عاشق

احد کے دن جب شہید ہونے والے شہید ہوگئے تو یہ علیؑ پر گراں گزرا تھا۔ رسول خدا نے علیؑ سے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو کہ شہادت تمہیں پیش آنے والی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ یہ یونہی ہو کر رہے گا۔ اس وقت رسول اللہؐ نے پوچھا کہ تمہارے صبر کی کیا حالت ہوگی تو علیؑ نے کہا : «يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا مِنْ مَوَاطِنِ الصَّبْرِ، وَ لَكِنْ مِنْ مَوَاطِنِ الْبُشْرَى وَ الشُّكْرِ» رسول اللہ ﷺ یہ صبر کا کوئی واقعہ نہیں ہے، یہ تو (میرے لیے) مژدہ اور شکر کا مقام ہوگا۔

8- علیؑ لوگوں کےغم خوار

امیر المؤمنینؑ کے پاس حکومت ہو یا نہ عوام الناس کے ہر غم میں شریک اور ہرگھڑی میں ان کے مونس و غم خوار تھے۔ اپنی خلافت کے دوران آپؑ اپنے گورنروں کو تاکید کرتے ہوئے بھیجا کہ وہ لوگوں کے غم میں شرک رہیں۔ آپؑ ایک خط میں بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «أَ أَقنَعُ مِنْ نفْسِی بِأَنْ یقَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ وَ لَا أُشَارِكَهُمْ فِی مَكَارِهِ الدَّهْرِ أَوْ أَكُونَ أُسْوَةً لَهُمْ فِی جُشُوبَةِ الْعَيْشِ» کیا میں اسی میں مگن رہوں کہ مجھے امیر المؤمنین کہا جاتا ہے مگر میں زمانہ کی سختیوں میں مومنوں کا شریک وہمدم اور زندگی کی بدمزگیوں میں ان کے لیے نمونہ نہ بنوں۔

9- علیؑ صبر و استقامت کے امام

سخت گھڑی میں انسان کے صبر اور استقامت کا امتحان ہوتا ہے۔ قدرت و توانائی کے ہوتے ہوئے بڑے ہدف کی خاطر صبر سے کام لینا بڑے جگر اور گردے والوں کا کام ہے۔ امیر المؤمنینؑ وہی علیؑ تھے جس نے چشم زدن میں مرحب و عنتر اور عمرو بن عبدود جیسے عرب کے بڑے شہسواروں کو خوں میں غلطاں کر دیا تھا لیکن ایک مرحلے میں پہنچ کر اسلام کی حفاظت کے لیے کس طرح صبر کیا آپ خود فرماتے ہیں: «فرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبرْتُ وَ فِی الْعَيْنِ قَذًى وَ فِی الْحَلْقِ شَجًا أَرَى ترَاثِی نهْباً حَتَّى مَضَى الْأَوَّلُ لِسَبِیلِهِ فَأَدْلَى بِهَا إِلَى ابْنِ الْخَطَّابِ بعْدَهُ—— فَصَبرْتُ عَلَى طُولِ الْمُدَّةِ وَ شِدَّةِ الْمِحْنَةِ» مجھے اس اندھیرے پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا۔ لہذا میں نے صبر کیا حالانکہ آنکھوں میں (غبار اندوہ کی) خلش تھی اور حلق میں (غم و رنج کے) پھندے لگے ہوئے تھے۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور بعد خلافت ابن خطاب کو دے گیا۔ ۔۔۔ میں نے اس طویل مدت اور شدید مصیبت پرصبر کیا۔

10- علیؑ زہد کے امام

بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کسی امیر شخص کی دعوت میں شریک ہوا جس کی خبر آپؑ تک پہنچی تو اس کی توبیخ کرتے ہوئے ایک خط بھیجا جس میں آپؑ نے اپنی زندگی کی راہ ورسم درج کیا: «أَلَا وَ إِنَّ إِمَامَكُمْ قَدِ اكْتفَى مِنْ دُنيَاهُ بِطِمْرَيْهِ وَ مِنْ طُعْمِهِ بِقُرْصَيْهِ أَلَا وَ إِنَّكُمْ لَا تقْدِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَ لَكِنْ أَعِینُونِی بِوَرَعٍ وَ اجْتِهَادٍ وَ عِفَّةٍ وَ سَدَادٍ فوَاللَّهِ مَا كَنزْتُ مِنْ دُنيَاكُمْ تِبْراً وَ لَا ادَّخَرْتُ مِنْ غَنَائِمِهَا وَفْراً وَ لَا أَعْدَدْتُ لِبَالِی ثوْبِی طِمْرا» دیکھو تمہارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے ساز وسامان میں دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے۔میں جانتا ہوں کہ تمہارے بس کی یہ بات نہیں۔ لیکن اتنا تو کرو کہ پرہیزگاری سعی وکوشش پاک دامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو۔ خدا کی قسم میں نے تمہاری دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھ اور نہ اس کی مال ومتاع میں سے انبار جمع کر رکھے ہیں۔

دوسری جگہ پر آپ دنیا کے بارے فرماتے ہیں: «دُنيَاكُمْ هَذِهِ أَزْهَدَ عِنْدِی مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ» تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ نا قابل اعتنا پاتے۔

ایک مقام پر آپ حکومت اور جاہ کو پھٹی جوتی سے تشبیہ دیتے نظر آتے ہیں: «فقَالَ لِی مَا قِیمَةُ هَذَا النعْلِ فقُلْتُ لَا قِیمَةَ لَهَا فقَالَ ( علیہ‏السلام) وَ اللَّهِ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِمْرَتِكُمْ إِلَّا أَنْ أُقِیمَ حَقّاً أَوْ أَدْفَعَ بَاطِلًا» ابن عباس کہتا ہے میں نے کہا کہ اب تو اس پھٹی جوتی کی کچھ بھی قیمت نہ ہوگی، تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے۔

11- علیؑ سیاست کے امام

مولا علیؑ نے قرآن کریم اور رسول اکرمؐ کی سنت کو اپنے رہنما قرار دیا اور کسی صورت میں قرآنی اور سنت کی مبانی اور دستورات سے عدول کرنے کو قبول نہیں کیا ،یہاں تک کہ بعض کے جواب میں فرمایا: «أَ تَأْمُرُونِی أَنْ أَطْلُبَ النَّصْرَ بِالْجَوْرِ فِیمَنْ وُلِّیتُ عَلَيْهِ وَ اللَّہ مَا أَطُورُ بِهِ مَا سَمَرَ سَمِیرٌ وَ مَا أَمَّ نَجْمٌ فِی السَّمَاءِ نَجْماً» کیا تم مجھ پر یہ امر عائد کرنا چاہتے ہو کہ میں جن لوگوں کا حاکم ہوں ان پر ظلم و زیادتی کرکے (کچھ لوگوں کی) امداد حاصل کروں تو خدا کی قسم! جب تک دنیا کا قبضہ چلتا رہے گا اور کچھ ستارے دوسرے ستاروں کی طرف جھکتے رہیں گے میں ان کے قریب بھی نہیں بھٹکوں گا۔

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ زیرکی اور عقل و درایت وسیاست میں معایہ کو مجھ پر قیاس کرنا باطل ہے: «وَ اللَّهِ مَا مُعَاوِيَةُ بِأَدْهَى مِنِّی وَ لَكِنَّهُ یغْدِرُ وَ یفْجُرُ وَ لَوْ لَا كَرَاهِيَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ أَدْهَى النَّاسِ وَ لَكِنْ كُلُّ غُدَرَةٍ فُجَرَةٌ وَ كُلُّ فُجَرَةٍ كُفَرَةٌ» خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیادہ چالاک اور ہوشیار نہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ وہ غداریوں سے چوکتا نہیں اور بدکرداروں سے باز نہیں آتا۔ اگر مجھے عیاری اور غداری سے نفرت نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زائد ہوشیار وزیرک ہوتا۔لیکن غداری گناہ اور ہرگناہ حکم الہی کی نافرمانی ہے۔

ابن ابی الحدید کہتا ہے«علی اپنی جنگ میں صرف وہی ٹیکنیک استعمال کرتے تھے جو کتاب و سنت کے مطابق تھا، اور معاویہ کتاب و سنت کے خلاف عمل کرتا تھا اور تمام حیلے، حلال اور حرام، استعمال کرتاتھا»

12- علیؑ عدالت کے امام

امیر المؤمنینؑ کا عدالت کےاجراء کے بارے میں لچک دار نہ ہونے کے سبب جنگ جمل آپ پر مسلط کردی گئی۔ معاویہ کے ساتھ نرمی نہ دکھانے کے باعث صفین کا معرکہ کرنا پڑا۔ آپ کی نگاہ میں اگر عدالت کے اجراء میں تعلل سے کام لیا جائے تو ایسی حکومت کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ عدالت کے بارے میں فرماتے ہیں: «وَ اللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ قَدْ تُزُوِّجَ بِهِ النِّسَاءُ وَ مُلِكَ بِهِ الْإِمَاءُ لَرَدَدْتُهُ فَإِنَّ فِی الْعَدْلِ سَعَةً وَ مَنْ ضَاقَ عَلَيْهِ الْعَدْلُ فَالْجَوْرُ عَلَيْهِ أَضْيَقُ» عثمان کو عطا کردہ جاگیریں جب مسلمانوں کو پلٹا دیں، تو فرمایا: خدا کی قسم! اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نظر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جا چکا ہو تو اسے بھی واپس پلٹا لیتا۔ چونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہوگی۔

دوسری جگہ پر آپؑ عدالت کے اجراء میں کسی قسم کی نرمی سے انکار کرتے ہوئے فرماتےہیں: «وَ الَّذِی بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَتُبَلْبَلُنَّ بَلْبَلَةً وَ لَتُغَرْبَلُنَّ غَرْبَلَةً وَ لَتُسَاطُنَّ سَوْطَ الْقِدْرِ حَتَّى يَعُودَ أَسْفَلُكُمْ أَعْلَاكُمْ وَ أَعْلَاكُمْ أَسْفَلَكُمْ وَ لَيَسْبِقَنَّ سَابِقُونَ كَانُوا قَصَّرُوا وَ لَيُقَصِّرَنَّ سَبَّاقُونَ كَانُوا سَبَقُوا» اس ذات کی قسم! جس نے رسول کو حق وصداقت کے ساتھ بھیجا۔ تم بری طرح تہ و بالا کئے جاؤ گے اور اس طرح چھانٹے جاؤ گے جس طرح چٖلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کئے جاؤ گے جس طرح (چمچے سے ہنڈیا) یہاں تک کہ تمہارں ادنی اعلی ہوجائیں گے۔جو پیچھے تھے آگے بڑھ جائیں گے اور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے وہ پیچھے چلے جائیں گے۔

13- علیؑ شجاعت کے امام

قریش میں قبیلہ بنی ہاشم شجاعت وبہادری کے اعتبار سےمشہور تھا۔امیر المؤمنینؑ اسی قبیلےسے تعلق رکھتے تھے، اسی لیے آپ کی شجاعت زبان زد عام تھی۔ آپ خود اپنی شجاعت کے بارے میں فرماتے ہیں: «أَنَا وَضَعْتُ فِی الصِّغَرِ بِكَلَاكِلِ الْعَرَبِ وَ كَسَرْتُ نوَاجِمَ قرُونِ رَبِیعَةَ وَ مُضَرَ» میں نے تو بچپن ہی میں عرب کا سینہ پیوند زمین کردیا تھا اور قبیلہ ربیعہ ومضر کے ابھرے ہوئے سینگوں کو توڑ دیا تھے۔

دوسری جگہ امامؑ اپنی بہادری کے متعلق یوں فرماتے ہیں: «أَمَا وَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَفِی سَاقَتِهَا حَتَّى توَلَّتْ بِحَذَافِیرِهَا مَا عَجَزْتُ وَ لَا جَبُنْتُ وَ إِنَّ مَسِیرِی هَذَا لِمِثْلِهَا فَلَأَنقُبَنَّ الْبَاطِل حَتَّى يَخْرُجَ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِہ» خدا کی قسم! میں بھی ان لوگوں میں تھا جو اس صورت حال میں انقلاب پیدا کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ انقلاب مکمل ہوگیا۔ میں نے (اس کام میں) نہ کمزوری دکھائی نہ بزدلی سے کام لیا اور اب بھی میرا اقدام ویسے ہی مقصد کے لیے ہے تو سہی جو میں باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں۔

معاویہ کو لکھے گئے خط میں آپ نے اپنے ہاتھوں بنی امیہ کے جہنم جانے والوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنی شجاعت کا تذکرہ کیا: «فَأَنَا أَبُو حَسَنٍ قَاتِلُ جَدِّكَ وَ أَخِیكَ وَ خَالِكَ شَدْخاً یوْمَ بَدْرٍ وَ ذَلِكَ السَّيْفُ مَعِی وَ بِذَلِكَ الْقَلْبِ أَلْقَى عَدُوِّی» میں وہی ابو الحسن ہوں کہ جس نے تمہارے نانا تمہارے ماموں اور تمہارے بھائی کے پرخچے اڑا کر بدر کے دن مارا تھا۔ وہی تلوار اب بھی میرے پاس ہے اور اسی دل گردے کے ساتھ اب بھی دشمن سے مقابلہ کرتا ہوں۔

14- علی ثمرہ رسالت

رحلت رسول خداﷺ کے بعد سقیفہ کی خبر امیر المؤمنینؑ تک پہنچی تو حضرت نے پوچھا کہ قریش نے کیا کہا؟ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے شجرہ رسولؐ سے ہونے کی وجہ سے اپنے استحقاق پر استدلال کیا تو حضرت نے فرمایا: «فَقَالَ (علیہ‏ السلام) احْتَجُّوا بِالشَّجَرَةِ وَ أَضَاعُوا الثَّمَرَةَ» انہوں نے شجرہ ایک ہونے سے استدلال کیا لیکن اس کے پھلوں کو ضائع کر دیا۔ یعنی شجرہ رسول سے ہونے کی بناء پر ان کا حق مانا گیا ہے، تو جو اس شجرہ رسالت کے پھل ہیں، وہ کیونکر نظر انداز کئے جاسکتے ہیں۔

حوالہ جات

[1] فروغ ولایت ص ۱۷
[2] فيض الاسلام،خطبه 234، ص 811
[3] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 13، ص 198 و 199- تاریخ طبری، 2، ص313
[4] صبحى صالح، خطبه 192 ، صفحه‏ى 300
[5] صبحى صالح، خطبه 192، صفحه‏ 301
[6] صبحى صالح، خطبه 192 ، صفحه‏ 302
[7] نهج البلاغه خطبه ۳۷
[8] نهج البلاغه خطبه ۵۷
[9] نہج البلاغہ خطبہ ۲۲
[10] نہج البلاغہ خطبہ ۴
[11] ابن بابويه، محمد بن على، أمالي( صدوق) ناشر، کتابچی، تہران، ۱۳۷۶ ش
[12] نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۷
[13] نہج البلاغہ حکمت ۱۸۵
[14] صبحى صالح، خطبه 197، صفحه‏ 311
[15] میزان الحکمہ ج۱،ص ۲۶۸
[16] صبحى صالح ، صفحه۳۲۷، خطبه ۲۱۰
[17] صبحى صالح، صفحه‏186، خطبه 128‏
[18] صبحى صالح، صفحه‏ ۲۸۰، خطبه ۱۸۹
[19] صبحى صالح، صفحه 137، خطبه 93
[20] صبحى صالح، قصار 147، صفحه‏ 496
[21] صبحى صالح، خطبه 156، صفحه‏ 220
[22] فيض الاسلام، نامه ۴۵، صفحه‏ ۹۷۱
[23] ابن ابى الحديد، خطبہ ۳، جلد 1، صفحه‏ ۱62
[24] فيض الاسلام، نامه 45، صفحه‏ 966
[25] صبحى صالح، خطبه 3، صفحه‏ 50
[26] صبحى صالح، خطبه 33، صفحه‏ 76
[27] عبده، خطبه 121، جلد 2، صفحه‏ 7
[28] ابن ابى الحديد، خطبه 193، جلد 10، صفحه‏ 211
[29] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، 10 / 228 – 232. کان علی لایستعمل فی حربه الا ما وافق الکتاب والسنة و کان (معاویة) یستعمل خلاف الکتاب والسنة و یستعمل جمیع المکاید حلالها و حرامها.
[30] صبحى صالح، خطبه 15، صفحه 57
[31] صبحى صالح، خطبه 16، صفحه‏ 5۷
[32] صبحى صالح، خطبه۱۹۲، صفحه‏ ۳۰۰
[33] بنياد، خطبه 33، صفحه‏ 42
[34] فروغ ولایت ص ۱۷
[35] بنياد، خطبه 66، صفحه‏ى 64

منابع و مآخذ

[1] قرآن کریم
[2] ابن ابى الحديد، عزالدين ابو حامد، شرح‏نهج‏البلاغة (ابن‏ابى‏الحديد) ج 1 تا ۲۰ ، قم كتابخانه‏ عمومى‏آية الله‏ مرعشى ‏نجفى، ‏ ط۱، ۱337ش، مصحح: محمد ابو الفضل‏ ابراهيم
[3] ابن بابويه، محمد بن على‏، الأمالي (للصدوق)، تهران كتابچى، ط۶، ‏1376 ش‏.
[4] حائرى، سيد محمد كاظم قزوينى، شرح‏نهج‏البلاغة(قزوينى‏حائرى)ج 1 و2،  نجف مطبعة النعمان، ط۱، 1337ش. /
[5] حرانی، ابن شعبه، تحف العقول عن آل الرسول (ص)، آل علی قم، ط۱ ، 1382 ش. /
[6] خراسانى، حجت هاشمى، شرح‏ صد و ده‏ كلمه‏ از كلمات ‏اميرالمؤمنين ‏عليه ‏السلام‏، قم نشر حاذق‏، ط۱، 1370ش. /
[7] خوئى، ميرزا حبيب الله هاشمى، منهاج ‏البراعة في ‏شرح‏ نهج‏ البلاغة (خويى) ج 1 تا 21، تهران مكتبه الاسلاميہ،ط۴، 1358ش، مصحح: سيد ابراهيم ‏ميانجى /
[8] دشتی، محمد، ترجمه نهج البلاغه، مؤسسه فرهنگی تحقیقاتی امیر المؤمنین(ع)، نشر آدینه سبز، ط۱، 1385 ش. /
[9] دشتى، محمد، فرهنگ‏ معارف‏ نهج ‏البلاغه ‏ج 1 و2 ، قم موسسه‏ تحقيقاتى ‏اميرالمومنين‏ عليه‏ السلام، ط۱،  1376ش. /
[10] ذاکري؛ علي اکبر، مديريت و سياست، مرکز انتشارات دفتر تبليغات اسلامي، 1380. /
[11] راوندى، قطب الدين سعيد بن ہبتہ الله، منهاج‏ البراعة في‏ شرح ‏نهج ‏البلاغة (راوندى) ج 1 تا 3، قم کتابخانه ‏عمومى‏آية الله‏ مرعشى‏ نجفى،ط۲، 1364 ش، مصحح: سيد عبد اللطيف‏كوه كمرى /
[12] سبحانی، جعفر، فروغ ولایت، قم مؤسسه امام صادق (ع) /۷۸۵. ط۱ ، 1382 ش. /
[13] سيد رضى‏، خورشيدبى‏غروب‏نهج‏البلاغه، قم نشرذره، 1374  ش، مترجم: عبد المجيد معاديخواه‏ /
[14] صبحی صالح، نهج البلاغه، قم مرکز بحوث الاسلامیه،ط۳،  1374 ش. /
[15] عبده ، محمد ، شرح ‏نهج‏ البلاغة (عبده) ج1 و2 و3، قاهره مطبعة الاستقامہ، ط۲، ۱۳۴۹ش، ‏مصحح: محمد محيى‏الدين‏ عبد الحميد /
[16] قاينى خراسانى، سيد محمد تقى نقوى، مفتاح‏ السعادة في‏ شرح‏ نهج ‏البلاغة ج 1 و2 و3و4 و5 و 6و7، تهران مكتبہ المصطفوى، ط۲، ۱۳۶۶ش . /
[17] قطب الدين، محمد بن حسين بيهقى كيذرى، حدائق ‏الحقائق‏ في‏شرح ‏نهج‏البلاغة ج 1 و ۲ ، قم بنياد نهج ‏البلاغه-انتشارات‏ عطارد، ط۱،  1375ش، مصحح: عزيز الله ‏عطاردى. /
[18] مطهرى، مرتضى، في‏ رحاب ‏نهج‏ البلاغة، بیروت الدار الاسلاميہ، ط۱، 1371ش. /
[19] مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیر المؤمنین، شرح نهج البلاغه، قم، انتشارات امام علی بن ابیطالب (علیه السلام)، چاپ اول، 1388ش. /
[20] موسوى ، سيد صادق، تمام ‏نهج ‏البلاغة ، تهران موسسه‏ امام‏صاحب ‏الزمان (عج) ط۱ ، 1376 ش ‏، مصحح: فريد سيد. /
[21] ميثم بحرانى، بن على، شرح‏ نهج‏البلاغة (ابن‏ميثم) ج 1 تا ۵، قم دفتر نشر الكتاب، ط۲،  1362ش. /
[22] مير جهانى طباطبايى، حسن، مصباح البلاغة في‏ مشكاة الصياغة ج 1 2 3 4، ط۲،  نجف مطبعه النعمان، 1346ش.

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button