مقالات

امیر المومنین علیہ السلام کے مدد گار اور ساتھی

تحریر: ساجد علی مدرسہ مومنیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان ایک ایسا موجود ہے کہ ہادی اور مربی اس کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ ”لہٰذا وہ اپنے لئے مربی کا انتخاب کرتا ہے تاکہ اپنی مادی و روحانی مشکلات کو دور کر سکے۔ انسان کی زندگی میں اساسی مسائل میں سے ایک مربی کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ یہ رہبر و مرشد ہی ہوا کرتا ہے جو اپنی تربیت سے انسان کو یا تو اوج عزت اور ہدایت کی طرف لے جاتا ہے یا پھر اس کی تربیت اور ہم نشینی انسان کی بد بختی کا باعث بنتی ہے“۔ لہٰذا انسان کو اس معاملے میں بصیرت کامل اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ اور کسی ایسے کے مکتب میں جانا ہوگا جہاں سے وہ اپنی تمام ضروریات کو پورا کر سکے۔

اگر ہم تاریخ کا دقت سے مطالعہ کریں تو ہمارے لئے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ مکتب امام علیؑ ہی تربیت کرنے والا اور انسان ساز ہے، ہر وہ شخص جو فطرت سلیم اور استعداد رشد و کمال رکھتا ہو امیرالمومنین کی شخصیت کے سایہ میں ہدایت کے راستے کو پا لیتا ہے اور شکوفایی معنوی کو حاصل کر لیتا ہے اور آخر کار، معراج انسانیت کے آخری درجے پر پہنچ جاتا ہے۔

امیرالمومنینؑ کے سکوت کے جہاں اور بہت سے اہداف تھے وہاں ایک ہدف یہ بھی تھا کہ ایسے افراد کی تربیت کی جائے جو بعد میں اسلام کی ترویج اور نشو و نما کا باعث بنیں اور اس کی اپنے خون سے آبیاری کریں اور واقعاََ اسی طرح ہی ہوا امامؑ خطبہ نمبر 191 میں اپنے اصحاب اور مددگاروں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وہ لوگ کہاں ہیں کہ جنہیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی تو انھوں نے اسے قبول کر لیا اور قرآن کو پڑھا تو اس پر عمل بھی کیا، جہاد کے لئے انھیں ابھارا گیا تو اس طرح شوق سے بڑھے جیسے دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے بچوں کی طرف۔ انہوں نے تلواروں کو نیام سے نکال لیا اور دستہ بدستہ اور صف بہ صف بڑھتے ہوئے زمین کے اطراف پر قابو پا لیا (ان میں سے کچھ مر گئے کچھ بچ گئے نہ زندہ رہنے والوں کو مژدہ ہے وہ خوش ہوتے ہیں اور نہ مرنے والوں کی تعزیت سے متأثر ہوتے ہیں) رونے سے ان کی آنکھیں سفید، روزوں سے ان کے پیٹ لاغر، دعاؤں سے ان کے ہونٹ خشک، اور جاگنے سے ان کے رنگ زرد ہو گئے تھے اور فروتنی و عاجزی کرنے والوں کی طرح ان کے چہرے خاک آلود رہتے تھے، یہ میرے وہ بھائی تھے جو دنیا سے گزر گئے۔

اگر ان لوگوں نے امیر المومنینؑ کی پیروی کی تو آپ کے وصی رسولؐ، مطیع رسولؐ، منبع فیض، امیر المومنینؑ، یقین کی آخری منزل پر فائز، اور حق پر ہونے کی وجہ سے کی۔ اور اگر امیرالمومنینؑ بھی ان کو اپنا دوست رکھتے تھے تو ان کے ایمان، عقیدے، شناخت۔ اور بصیرت کی خاطر اور ان یاران امامؑ کی شہادت بھی ان کے ایمان اور عقیدے کی وجہ سے ہی ہوئی۔ یہ لوگ محرم راز علیؑ تھے۔ آپ کی تنہائی میں مونس تھے محافظ ولایت تھے تبھی تو امامؑ ان کی شہادت کے بعد اکثر ان کو یاد کرکے رویا کرتے تھے۔ ویسے تو امامؑ کے حقیقی مددگار اور ساتھی سبھی ایسے افراد تھے جنہوں نے اوج معنویت کو درک کیا مگر ان میں سے بعض نمایاں اہمیت کے حامل تھے ان میں سے بعض کے احوال پیش خدمت ہیں۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ

ہر جگہ رسول خدا ﷺ اور امیر المومنینؑ کے بارے میں بات ہوگی ابو ذر غفاری کا نام ضرور لیا جائے گا۔ جہاں بھی عدالت و انقلاب کے بارے میں جستجو کی جائے گی ابو ذر کو اوج انقلاب پہ دیکھا جائے گا۔ ہر جگہ حق علیؑ کا دفاع، ذکر فضائل علیؑ اور صبر و استقامت، کے بارے میں گفتگو کی جائے گی مظلوم ابو ذر کی یاد آئے گی۔ کیونکہ ابو ذر نے زمین ربذہ کے گرم صحرا اور تپتی ریت پر رسالت، عدالت اور ولایت کی خاطر جان دی اس حال میں کہ علیؑ ان کے لبوں سے جدا نہیں ہوتا تھا۔

اسلام لانے والوں میں آپ تیسرے یا چوتھے یا پانچویں ہیں اور اس سبقت اسلامی کے ساتھ آپ کے زہد و اتقاء کا یہ عالم تھا کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ میری امت میں ابو ذر زہد و ورع میں عیسیٰ ابن مریمؑ کی مثال ہیں۔

جب حضرت علیؑ نے کسی حدیث کی ’’جو ابو ذر نے نقل کی، تصدیق کی اور حضرت عثمان نے کہا کہ آپ کس بنا پر اس حدیث کی صحت کی گواہی دیتے ہیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: کہ میں نے پیغمبر ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی بولنے والے پر آسمان نے سایہ نہیں ڈالا اور زمین نے اسے نہیں اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ راست گو ہو، اکثر مؤرخین شیعہ و سنی اور ابن ابی الحدید نے (ج: 1 شرح نہج البلا غہ ص: 241) متعدد علماء سے با سند معتبر اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

امام علیؑ سے ابو ذر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: ابوذر ایک ایسا شخص ہے کہ جس نے اس قدر علم حاصل کیا کہ لوگ اس کے درک اور تحمل سے عاجز تھے۔

آپ زندگی کے شب و روز ہدایت و تبلیغ کے فرائض انجام دیتے۔ اہل بیت رسولؐ کی عظمت سے روشناس کرنے اور جادۂ حق کی طرف رہنمائی فرمانے میں گزارتے تھے۔ چنانچہ شام اور جبل عامل میں شیعیت کے جو اثرات پائے جاتے ہیں وہ آپ ہی کی تبلیغ و مساعی کا نتیجہ اور آپ ہی کے بوئے ہوئے بیج کے برگ و بار ہیں۔ آپ جہاں بھی پہنچے حق و صداقت کی تبلیغ کی مسلمانوں کو پیغمبر اکرم ﷺ کا دور یاد دلاتے۔ ان احادیث کو بیان کرتے جو رسول اسلام ﷺ نے حضرت علیؑ کی شان میں بیان فرمائی تھیں اور جن کو مسلمان فراموش کر چکے تھے۔ حضرت ابوذر غفاری مسلمانوں کو کسروی و قیصری شان کے مظاہروں سے روکتے جس پر حاکمان وقت ان سے نالاں تھے۔ آپ نے ایک دن معاویہ سے کہا: اے معاویہ اگر تو نے اس محل کو مال خدا (بیت المال) سے بنایا ہے تو خیانت کی ہے اور اگر اپنے مال سے بنایا ہے تو اسراف کیا ہے۔

ایک موقع پر قریش نے ابو ذر سے کہا: کیا خلیفہ نے تمھیں فتویٰ دینے سے منع نہیں کیا ہے تو اس مکتب علیؑ میں پرورش پانے والے نے جواب دیا: اس خدا کی قسم کہ میری جان جس کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر شمشیر کو میرے سر پر بلند کیا جائے اور میرے لئے ممکن ہو کہ میں احادیث پیغمبر ﷺ کو بیان کر سکوں تو قبل اس کے کہ تلوار میرے سر کو کاٹے میں احادیث رسول ﷺ کو بیان کر وں گا۔

امیر المومنینؑ کے وہ نورانی کلمات جو آپؑ نے ابو ذر کو الوداع کرتے ہوئے فرمائے۔ ابو ذر کی صداقت، حقانیت، عدالت، زہد و تقویٰ، اور اخلاص کی دلیل ہیں۔

امامؑ فرماتے ہیں: ابو ذر تم اللہ کے لئے غضب ناک ہوئے پھر جس کی خاطر یہ تمام غم و غصہ ہے اسی سے امید رکھو۔ ان لوگوں کو تم سے اپنی دنیا کے متعلق خطرہ ہے اور تمہیں ان لوگوں سے اپنے دین کے متعلق اندیشہ ہے اور جلد ہی جان جاؤ گے کہ کل فائدہ میں رہنے والا کون ہے اور کس پر حسد کرنے والے زیادہ ہیں۔
(نہج البلاغہ خطبہ: 128)

حاکم وقت نے مال و دولت کا لالچ دیا مگر اس طائر آزاد کو سنہری جال میں نہ جکڑ سکے۔ تشدد و سختی سے بھی کام لیا مگر ان کی زبان حق کو بند نہ کر سکے۔

حضرت عمار یاسرؓ

وہ کون سی شخصیت ہے جو علامت ہدایت، سلیم العقل، میزان و معیار حق، مفہوم خیر، قلعہ شرف و فضیلت، پیروان ہدایت کے لئے سر مشق اور محافظ رسالت و ولایت ہے وہ جز عمار یاسر کے کوئی نہیں ہے۔

عمار یاسر رحلت پیامبر ﷺ کے بعد دو راستوں میں سے کسی بھی راستے کا انتخاب کر سکتے تھےـ

1: راحت و ثروت و قدرت
2: مشقت و رنج و محرومیت

لیکن عمار یاسر چونکہ تربیت یافتہ مکتب علیؑ، صاحب ارادہ، متفکر، اور دور اندیش ہیں دوسرے راستے کو منتخب کیا۔ اور اس بات کی دلیل شرح ابن ابی الحدید ج: 12 ص: 26 پر موجود ہے۔

ابی الحدید کہتے ہیں: عمار یاسر کا صریحاََ آل امیہ کی روش ناروا کے خلاف انتقاد اور اعتراض کرنا اس بات کا موجب بنا کہ عمار یاسر دستگاہ خلافت کے مورد خشم قرار ٹھہرے اور اس راہ میں ضرب و شتم، شکنجہ اور زندان، جیسی صعوبتیں برداشت کیں۔ عمار یاسر چونکہ وظیفہ اسلامی سمجھ کر اعتراض و انتقاد کرتے تھے لہٰذا ساری مصیبتوں کو تحمل کیا اور کہا کرتے تھے یہ پہلی بار نہیں کہ ان مصیبتوں کا سامنا کر رہا ہوں۔

ابن ابی الحدید ج: 11 ص: 225 پر اس حدیث کو نقل کرتے ہیں: ایمان عمار یاسر کے گوشت و خون میں ملا ہوا ہے حضرت علیؑ کی ذات کس طرح عمار یاسر کے لئے اثر گذار ثابت ہوئی اس بات کا اندازہ عمار کی مناجات سے (جو آپ نے اہل شام کے حضور کیں) لگایا جا سکتا ہے۔ عمار بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:

پروردگار تو جانتا ہے کہ اگر مجھے معلوم ہو کہ تیری رضا اس میں ہے کہ، خود کو دریا میں گرا دوں تو ایسا ہی کر گزروں گا خدایا اگر مجھے معلوم ہو کہ تیری رضا اس میں ہے کہ نوک شمشیر کو شکم پر رکھ کر اتنا زور دوں کہ پشت سے باہر آجائے تو ایسا ہی کروں گا۔

امامؑ کا عمار کو الوداع کرنا

دو مرتبہ انکار کے بعد عمار یاسر تیسری مرتبہ جہاد کی اجازت لینے مولاؑ کے پاس جاتے ہیں امام نے (94 سالہ) عمار یاسر کی طرف حسرت بھرئی نگاہوں سے دیکھا مولا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے امامؑ سواری سے اترے عمار کو آغوش میں لیا اور دیر تک روتے رہے عمار نے عرض کی اے امیر المومنینؑ خدا کی قسم میں نے بصیرت و بینش کامل کے ساتھ آپ کی پیروی کی اس بات کی گواہی امیر المومنینؑ نے عمار کی شہادت کے بعد ایک خطبہ میں اس طرح دی:

امامؑ فرماتے ہیں: وہ میرے بھائی جو سیدھی راہ پر چلتے رہے اور حق پر گزر گئے کہاں ہیں عمار؟ کہاں ہیں ابن تہیان ذوالشھادتین کہاں ہیں ان کے اور دوسرے بھائی کہ جو مرنے پر عہد و پیمان باندھے ہوئے تھے اور جن کے سروں کو فاسقوں کے پاس روانہ کیا گیا:

نوف کہتے ہیں: اس کے بعد حضرتؑ نے اپنا ہاتھ ریش مبارک پر پھیر اور دیر تک روئے اور پھر فرمایا: آہ وہ میرے بھائی کہ جنھوں نے قرآن کو پڑھا تو اسے مضبوط کیا اور اپنے فرائض میں غور و فکر کیا تو انھیں ادا کیا سنت کو زندہ کیا اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتارا جہاد کیلئے انھیں بلایا گیا تو انھوں نے لبیک کہی اور اپنے پپشوا پر یقین کامل کے ساتھ بھروسہ کیا تو اس کی پیروی بھی کی (خطبہ: 180)

عمار معیار و میزان حق

حدیث معروف: ’’تقتلہ الفئۃ الباغیہ‘‘ عمار کے معیار حق ہونے کے علاوہ حقانیت علیؑ پر سند زندہ اور شاہد گویائی ہے۔ صفین میں عمار کا شہید ہونا دونوں لشکروں کے لئے حزن آور تھا شہادت عمار کا اثر یہ ہوا کہ معاویہ کے لشکر کی حرکت دفاعی مفلوج ہو کر رہ گئی اور صدائے حماسہ علیؑ کے لشکر سے بلند ہونے لگی عمار کی شہادت سے پہلے دونوں لشکروں میں کچھ افراد شک کی حالت میں تھے لیکن شہادت کے بعد حق ان کی نظروں میں آشکار ہو گیا۔

حضرت مالک اشتر

مالک اشتر امیر المومنینؑ کے ان خواص اصحاب میں سے تھے جو استقلال اور پا مردی کے جوہر دکھا کر کامل وثوق و اعتماد اور اپنے اخلاق و کردار کو حضرتؑ کے اخلاق و کردار کے سانچے میں ڈھال کر انتہائی قرب و اختصاص حاصل کر چکے تھے جس کا اندازہ حضرت کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے کہ ’’لقد کان لی مثل ما کنت لرسول اللہ‘‘ مالک میری نظروں میں ایسے ہی تھے جیسا میں رسول اللہ ﷺ کی نظروں میں تھا چنانچہ انھوں نے بے لوث جذبہ خدمت سے متاثر ہو کر جنگی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام معرکوں اور مہموں میں حضرتؑ کے دست بازو ثابت ہوئے اس غیر معمولی شجاعت کے ساتھ بلند امتیاز کے بھی حامل تھے امامؑ فرماتے ہیں: مالک! اور مالک کیا شخص تھا خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہو تا تو وہ کوہ بلند ہوتا اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی پہنچ سکتا تھا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا تھا۔ (کلمات القصار)

ایک دفعہ بازار کوفہ سے گذر رہے تھے کہ ایک سر پھرے دوکاندار نے کچھ گلے سڑے پتے اور شاخیں آپ کے اوپر پھینک دیں۔ مگر اس نا شائستہ حرکت سے آپ کی پیشانی پر نہ بل آیا اور نہ ہی نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا بلکہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ مالک تھے تو اس کے ہوش و حواس اڑ گئے اسی وقت ان کے پیچھے دوڑا تلاش کرتا ہوا ایک مسجد میں پہنچا اور نہایت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحاح وزاری سے عفو کا طالب ہوا آپ نے کہا: خدا کی قسم میں مسجد میں اس غرض سے آیا ہوں کہ تمھارے لئے بارگاہ خداوندی میں دعائے مغفرت کروں۔ میں نے تمھیں اسی وقت معاف کر دیا تھا۔ یہ علیؑ کی تربیت کا اثر ہے۔ یہ اس مکتب میں پرورش پانے کا نتیجہ ہے یہ اس نبرد آزما کا عفو و در گزر ہے جس کے نام سے بہادروں کے زہرے آب ہو جاتے ہیں۔

حضرت علیؑ اہل مصر کے نام ایک خط لکھتے ہیں جس میں مالک کے بارے میں فرماتے ہیں: تمھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ میں نے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تمھاری طرف بھیجا ہے جو خطرہ کے دنوں میں سوتا نہیں اور خوف کی گھڑیوں میں دشمن سے ہراساں نہیں ہوتا اور فاجروں کے لئے جلانے والی آگ سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ مالک اشتر ہے ان کی بات کو سنو اور ان کے ہر اس حکم کو جو حق کے مطابق ہو مانو۔ کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جس کی نہ دھار کند ہوتی ہے اور نہ اس کا وار خالی جاتا ہے۔ اگر وہ تمھیں دشمنوں کی طرف بڑھنے کے لئے کہے تو بڑھو اور اگر ٹھہر نے کے لئے کہے تو ٹھہرے رہو۔ کیونکہ وہ میرے حکم کے بغیر نہ آگے بڑھیں گے نہ پیچھے ہٹیں گے نہ کسی کو پیچھے ہٹاتے ہیں اور نہ آگے بڑھاتے ہیں۔ میں نے ان کے بارے میں تمھیں خود اپنے اوپر ترجیح دی اس خیال سے کہ تمھارے خیر خواہ اور دشمنوں کے لئے سخت گیر ثابت ہوں گے۔
(نہج البلاغہ مکتوب: 38)

ایک اور جگہ پر امامؑ ارشاد فرماتے ہیں (فوج کے سرداروں سے خطاب کرتے ہوئے)

میں نے مالک ابن حارث اشتر کو تم پر اور تمھارے ماتحت لشکر پر امیر مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ان کے فرمان کی پیروی کرو اور انھیں اپنے لئے زرہ اور ڈھال سمجھو کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن سے کمزوری و لغزش کا اور جہاں جلدی کرنا تقاضائے ہوشمندی ہو وہاں سستی کا اور جہاں ڈھیل کرنا مناسب ہو وہاں جلد بازی کا اندیشہ نہیں۔
(نہج البلاغہ مکتوب: 13)

جب معاویہ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ مالک اشتر کا (مصر کے لئے) تقرر ہو گیا پے تو وہ چکرا سا گیا کیونکہ مالک کو مغلوب کرکے مصر کو فتح کرنے کا وہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔

چنانچہ مالک اشتر جب اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ عریش پہنچے تو شہد کے شربت میں زہر کی آمیزش کرکے آپ کے سامنے پیش کیا گیا جس کے پیتے ہی زہر کا اثر شروع ہو گیا۔

جب معاویہ کو اپنی دسیسہ کاری میں کامیابی کی اطلاع ہوئی تو مسرت سے جھوم اٹھا اور خوشی کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ کہنے لگا علی ابن ابی طالب کے دو دست راست تھے ایک صفین کے دن کٹ گیا اور وہ عمار یاسر تھے اور دوسرا ابھی قطع ہوگیا اور وہ مالک اشتر تھے۔

امامؑ فرماتے ہیں: بلاشبہ جس شخص کو میں نے مصر کا ولی بنایا تھا وہ ہمارا خیر خواہ اور دشمنوں کے لئے سخت گیر تھا خدا اس پر رحمت کرے اس نے زندگی کے دن پورے کر لئے اور موت سے ہمکنار ہو گیا اس حالت میں ہم اس سے رضا مند ہیں خدا کی رضا مندیاں بھی اسے نصیب ہوں اور اسے بیش از پیش ثواب عطا کرے۔
(نہج البلاغہ خطبہ: 34)

محمد ابن ابی بکر کے نام

امامؑ کے نزدیک بھائی چارے اور دوستی کا ملاک و میزان پیوند عقیدتی ہے جو دلوں کو آپس میں ملا دیتا ہے اور پیوند خاندانی پر غالب آجاتا ہے اس بات کی دلیل یہ ہے کہ امامؑ نے محمد بن ابی بکر کے بارے میں فرمایا: ’’کان الی حبیباََ و کان لی ربیباََ‘‘ آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ محمد اگرچہ صلبی اعتبار سے ابو بکر کا بیٹا ہے لیکن چونکہ اس کی تربیت میں نے کی ہے لہٰذا اس اعتبار سے یہ میرا فرزند ہے۔

کس قدر امیرالمومنینؑ کو محبوب تھے اس بات کا ندازہ حضرتؑ کے اس کلام سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے محمد کی شہادت سے پہلے اور بعد میں ان کی توصیف میں فرمایا: اس موقع پر جب آپؑ کو معلوم ہوا ۔۔۔۔کہ وہ مصرکی حکومت سے اپنی معزولی سے رنجیدہ ہیں فرمایا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمھاری جگہ پر اشتر کو بھیجنے سے تمھیں ملال ہوا ہے تو واقعہ یہ ہے کہ میں نے یہ تبدیلی اس لئے نہیں کی تھی کہ تمھیں کام میں کمزور اور ڈھیلا پایا ہو اور یہ چاہا ہو کہ تم اپنی کوشش کو تیز کر دو اور اگر تمھیں اس منصب حکومت سے جو تمھارے ہاتھ میں تھا میں نے ہٹایا تھا تو تمھیں کسی ایسی جگہ کی حکومت سپرد کرتا جس میں تمھیں زحمت کم ہو اور تمھیں پسند بھی زیادہ آئے۔
(نہج البلاغہ خطبہ: 34)

مصر میں محمد ابن ابی بکر کے شہید ہو جانے کے بعد عبداللہ بن عباس کے نام :
مصر کو دشمنوں نے فتح کر لیا اور محمد ابن ابی بکر شہید ہو گئے ہم اللہ ہی سے اجر چاہتے ہیں اس فرزند کے مارے جانے پر کہ جو ہمارا خیر خواہ، سر گرم رکن، تیغ براں اور دفاع کا ستون تھا۔
(نہج البلاغہ مکتوب: 35)

جب آپ کو محمد بن ابی بکر کے شہید ہونے کی خبر پہنچی تو آپؑ نے فرمایا: ہمیں ان کے مرنے کا اتنا ہی رنج و قلق ہے جتنی دشمنوں کو اس کی خوشی، بلا شبہ ان کا ایک دشمن کم ہوا اور ہم نے ایک دوست کھو دیا۔
(نہج البلاغہ کلمات قصار: 325)

حباب بن ارت

حباب بن ارت کے بارے میں فرمایا: خدا حباب ابن ارت پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ وہ اپنی رضامندی سے اسلام لائے اور با خوشی ہجرت کی اور ضرورت بھر پر قناعت کی اور اللہ کے فیصلوں پرر اضی رہے اور مجاہدانہ شان سے زندگی بسر کی۔ حضرت حباب ابن ارت پیغمبر ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور مہاجرین اولین میں سے تھے۔ انھوں نے قریش کے ہاتھوں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں۔ چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کئے گئے۔ آگ پر لٹایا گیا۔ مگر کسی طرح پیغمبر ﷺ اور امیر المومنینؑ کا دامن چھوڑنا گوارہ نہیں کیا۔ صفین و نہروان میں امیر امومنینؑ کا ساتھ دیا حضرتؑ نے یہ کلمات ترحم ان کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمائے: خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا، حساب و کتاب کے لئے اعمال انجام دیے، ضرورت بھر پر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا۔

اسی طرح امامؑ کے ایک اور جلیل القدر صحابی جناب کمیل ابن زیاد نخعی تھے جو اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیر المومنینؑ کے خاص اصحاب میں سے تھے۔

کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ امیر المومنینؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبرستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ بھری پھر فرمایا: اے کمیل! یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے ولا ہو لہٰذا جو میں تمھیں بتاؤں اسے یاد رکھنا اور پھر نورانی کلمات کی صورت میں آپ کو درس دیا۔

شیعہ علیؑ کون؟

امیرالمومنینؑ کے پرچم کے نیچے جنگ کرنے والے گویا آپ ہی کی جماعت میں شمار ہوتے تھے۔ مگر جن کی آنکھوں میں آنسو چہروں پر زردی زبانوں پر قرآنی نغمے دلوں میں ایمانی ولولے پیروں میں ثبات و قرار روح میں عزم و ہمت اور نفس میں صبر و استقامت کا جوہر ہوتا تھا۔ انھیں کو صحیح معنیٰ میں شیعان علی اور مددگار علیؑ کہا جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کی جدائی میں امیر المومنینؑ کے دل کی بے تابیاں آہ بن کر زبان سے نکل رہی ہیں اور آتش قرآں کے لو کے قلب و جگر کو پھونکے دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو دیوانہ وار موت کی طرف لپکتے تھے اور بچ رہنے پر انھیں مسرت و شادمانی نہ ہوتی تھی بلکہ ان کے دل کی آواز یہ ہوتی تھی کہ ’’شرمندہ ماندہ ایم کہ چرازندہ ماندہ ایم، جس انسان میں ان صفات کی تھوڑی بہت جھلک ہوگی وہی متبع آل محمد اور مددگار علیؑ اور شیعہ علیؑ کہلا سکتا ہے ورنہ یہ ایک ایسا لفظ ہوگا کہ جو اپنے معنیٰ کو کھو چکا ہو اور بے محل استعمال ہونے کی وجہ سے اپنی عظمت کو گنوا چکا ہو۔

چنانچہ روایت میں ہے کہ امیر المومنینؑ نے ایک جماعت کو اپنے دروازہ پر دیکھا تو قنبر سے پوچھا یہ کون ہیں؟قنبر نے کہا کہ یا امیرالمومنینؑ یہ آپ کے شیعہ ہیں۔ یہ سن کر حضرتؑ کی پیشانی پر بل آیا اور فرمایا کہ کیا وجہ ہے یہ شیعہ کہلاتے ہیں اور ان میں شیعوں کی کوئی بھی علامت نظر نہیں آتی؟ اس پر قنبر نے دریافت کیا کہ شیعوں کی علامت کیا ہوتی ہے؟ تو حضرتؑ نے جواب میں فرمایا: بھوک سے ان کے پیٹ لاغر، پیاس سے ان کے ہونٹ خشک اور رونے سے ان کی آنکھیں بے رونق ہو گئی ہوتی ہیں۔

حقیقی مددگار کی صفات

کس قدر سعادت مند ہے وہ شخص جس نے ہدایت کے راستے کو اپنایا اور کمال کے درجہ کو پہنچایا۔ اس طرح کہ امیر المومنینؑ نے اس کو اپنا بھائی کہا اور اس کی دوستی پر فخر کیا۔ اس کے اوصاف و کرامات کی توصیف فرمائی اور اس کی بزرگواری کو بیان کیا۔ امیر المومنینؑ نے اس اپنے بھائی کو اپنے شیعوں کے لئے نمونہ قرار دیتے ہوئے ان سے چاہا کہ وہ بھی اسی طرح اپنی تربیت کریں اور اپنے اندر انھیں اوصاف کو پیدا کریں۔

امامؑ فرماتے ہیں: عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وقت سے با عزت تھا کہ دنیا اس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جو چیز اسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ مصرف میں نہ لاتا تھا۔ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کر دیتا تھا۔ وہ سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا مگر جہاد کا موقع آجائے تو شیر بیشہ اور وادی کا اژدہا تھا۔ جو دلیل و برہان پیش کرتا وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی کسی کو سر زنش نہیں کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر و معذرت کو سن نہ لے۔ کسی درد و تکلیف کا ذکر نہ کرتا مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارہ پا لیتا۔ وہ جو کرتا تھا وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا اسے کہتا نہیں تھا۔ اگر بولنے والے اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیں تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا۔ جب اچانک اس کے سامنے دو چیزیں آجاتیں تو وہ دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے؟ تو اس کی مخالفت کرتا۔ لہٰذا تمھیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیئے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہش مند رہنا چاہیئے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ درجات عالی اور مقامات معنوی اولیائے خدا اور انبیاء کے ساتھ مختص ہیں اور ہر ایک کا ان تک پہچنا ممکن نہیں۔ اس طرح کے عذر اور بہانوں سے وہ اپنی سستی، تن پروری اور آسائش کی توجیہ کرتے ہیں لیکن اگر حضرتؑ کے کلام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرتؑ فرما رہے ہیں کہ اپنی ہمت کو بلند رکھیں اور مصمم ارادہ کے ساتھ میدان میں وارد ہو کر اس الگو کی پیروی کی کوشش کریں تاکہ ان مقامات اور درجات کو پالیں۔ صراط مستقیم سب کے لئے کھلا ہوا ہے اور سبھی کو اس کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اس راستے کو اپنانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا شمار بھی امامؑ کے مدد گاروں میں ہو تو خود امامؑ کے بتائے ہوئے قاعدے پر عمل پیرا ہو کر اپنی اس آرزو کو پورا کر سکتے ہیں امامؑ فرماتے ہیں: اے میرے شیعو! میری مدد کرو واجبات پر عمل کرکے اور محرمات سے اجتناب کرکے۔

اللھم اجعلنامن اھل الیقین ومن شیعۃ امیر المومنین علیہ افضل صلوٰت المصلین

ساجد علی
مدرسہ مومنیہ
قم ’’ایرن‘‘

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button