کعبہ فکر، قبلۂ ایماں ”مجموعہ رباعیات“
از: حضرت آیت اللہ سید عقیل الغروی مدظلہ العالی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
امیر المومنین، امام المتقین، نقطۃ دائرۃ المطالب، اسد اللہ الغالب، مطلوبِ کلِ طالب، علی ابن ابی طالبؑ کی ذاتِ گرامی وہ ذات ہے جو بعدِ نبی ﷺ برحق کائنات کی افضل ترین ذات، وہ ذات جس پر خود ذاتِ واجب کو ناز ہے۔ میدانِ کارزار میں اشجع العرب و مفرق الکتائب تو مسند و منبر پر افصح العرب، دانائے علم و حکمت، واقفِ رموزِ ایں و آں اور کیوں نہ ہوتے کہ افصح الفصحا کی آغوش میں پلے اور تربیت پائی۔
بدر و احد، خیبر و خندق کے واقعات آپ کے اشجع العرب ہونے پر گواہ ہیں تو ”نہج البلاغہ“ آپ کے علم و حکمت، دانائی، فصاحت و بلاغت پر مبنی دستاویز جس کی جمع آوری حضرتِ علامہ سید شریف رضیؒ کی محنتِ شاقہ کا ثمر ہے۔
نہج البلاغہ میں شامل خطبات، مکاتیب اور کلماتِ قصار، علم و حکمت، دانائی اور فلسفہ زندگی سے بھرے گہرِ آبدار ہیں جو بنی نوعِ انسان کے لئے ایک انمول خزانہ ہیں جب ہی تو ”فوق کلام المخلوق و تحت کلام الخالق“ کا ہر سو شور ہے۔
شومئی قسمت سے فی زمانہ عمومی طور پر امتِ مسلمہ کی توجہات اس خزانہ علمی کی طرف کم ہیں، مگر قدرت کو یہ منظور نہیں اس لئے ہر دور میں کوئی مردِ حق خود آگاہ، خدا آگاہ و علیؑ آگاہ اس کی ترویج کا پرچم بلند کرتا ہے اور آج کل یہ پرچم لائقِ صد احترام جناب مولانا شیخ مقبول حسین علوی کے ہاتھوں میں ہے۔
مولانا مقبول علوی صاحب جو ”مرکز افکارِ اسلامی، برطانیہ“ کے روح و رواں ہیں، انہوں نے اپنے ادارے کے تحت گزشتہ سالوں میں شعراء سے فرمائش کرکے اور منقبتی محافل منعقد کر کے اس حوالے سے شعر کہلوائے اور حال ہی میں ایک پرچہ ”نہج البلاغہ اور اردو شعراء“ شائع کیا۔
مگر اس سے بھی عظیم تر کام مولانا مقبول علوی صاحب نے یہ کیا کہ حضرت آیت اللہ سید عقیل الغروی صاحب جیسے عالمِ متبحر، خطیبِ عدیم المثال مگر عدیم الفرصت سے نہج البلاغہ کے مفہوم و افکار پر ۱۱۰ رباعیات لکھوائیں اور اپنے ادارے کے تحت اِسے شائع کیا، جو بلاشبہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے، کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
زچشم اہل نظر کسب کن حیاتِ ابد
کہ آب خضر از ایں جوئبار می گزرد
یہ مجموعہ رباعیات بعنوان ”کعبہ فکر، قبلہ ایماں“ پیشِ نظر ہے اور بقولِ مقبول حسین صاحب یہ رباعیات کیا ہیں گویا کلامِ امام کے ادبی، فکری و وجدانی تفہیم کے ۱۱۰ چراغ روشن ہیں۔ جی ہاں ۱۱۰ رباعیات کی تعداد یوں ہیں کہ یہی امیر المومنینؑ کے اسمِ گرامی ”علیؑ “ کے اعداد ہیں۔
اس مجموعے کے مقدمے میں مولانا مقبول حسین علوی صاحب نے درست فرمایا ہے کہ نہج البلاغہ کی عظمت، اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے میں اردو ادب کے حوالے سے ہمارے علمائے کرام مثلاً آیت اللہ سید علی نقی نقوی، علامہ سید سبط الحسن رضوی، علامہ مفتی جعفر حسین، مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے نثر میں بہت بلند پایہ اور بلیغ گفتگو فرمائی ہے مگر اردو کے منظوم کلام کا دامن نہج البلاغہ کے ذکر سے عموماً خالی ہے، منظوم کلام میں کہیں ضمناً نہج البلاغہ کا ذکر آ گیا تو آگیا ورنہ بلاستیعاب نہج البلاغہ کے معنی، مفاہیم، عظمت و اہمیت کا ذکر نہیں۔ چنانچہ ایسے وقت میں ایسے منظوم کلام کا آنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور تشنگانِ علم کی سیرابی کا سامان بھی۔ بقولِ راقم:
ہر رباعی بہ دانشِ غرویؔ
ہے کلام علیؑ سے نور فشاں
ان کو پڑھیئے تو لَو دے دیدہ و دل
اور پختہ ہو آپ کا ایقاں
میں نے پوچھا کہ کیا ہے سال طبع
آئی آواز از دلِ فرحاں ۸
ہے یہ گنجینہ علم و حکمت کا ۸۰۳
کعبہ فکر، قبلۂ ایماں ۶۳۶
۱۴۴۷ء
آئیے اس مجموعۂ رباعیات ”کعبہ فکر، قبلہ ایماں“ کا مطالعہ کرتے ہیں اور قبلہ آیت اللہ عقیل الغروی صاحب کی صحت و سلامتی کے لئے دستِ دعا بلند کرتے ہیں۔
رباعیات کیا ہیں معنی و مفاہیم کا ٹھاٹھیں مارتا ایک سمندر جسے کسی صاحبِ فصاحت و بلاغت نے کوثر و تسنیم سے دھلی زبان میں تشنہ گانِ فکر و جویانِ علم کے لئے گویا ایک جوئبار نظم جاری کی ہے۔
میرے ایک بہت ہی عزیز دوست، صاحبِ نظر اور عمدہ لہجے کے معروف شاعر کلیم ظفر (مقیم ٹورنٹو) نے یہ رباعیات پڑھ کر مجھ سے فرمایا ”قبلہ و کعبہ کی رباعیات نے ایک خوشگوار حیرت میں ڈال دیا، اکثر علماء نے جب اشعار کہے تو شاعری علم کے بوجھ تلے دبتی نظر آئی ہے۔ مگر قبلہ غرویؔ صاحب کے کیا کہنے“۔ آگے مزید تعریفی کلمات کے بعد فرماتے ہیں ”ایک سوال تو میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ کیا شاعری ایسے علمی موضوعات کو اپنے جمالیاتی تجربے کا حصہ بنا سکتی ہے، کیا جمالیات کا یہاں گزر ہو سکتا ہے؟ بات اگر صرف مولیٰ کی ذات و صفات کی ہو تو مناقب میں شاعری کی جا سکتی ہے اور کی گئی ہے مگر جب بات مولیٰ کے کلام کی ہو تو سوچتا تھا فنِ شعر کہاں تک ساتھ دے سکتا ہے؟ مگر اِن رباعیات کے مطالعہ کے بعد میری یہ الجھن دور ہو گئی“۔
چنانچہ عزیز دوست کلیم ظفر کے یہی سوالات میرے اِس مضمون کی بنیاد ہیں جسے ہم دو حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ (۱) رباعیات غرویؔ میں جمالیات۔ (۲) صنف ِ رباعی اور اس کی دِقّتیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں سمجھنا ہے کہ ”جمالیات“ خصوصاً زبان و ادب میں ”جمالیات“ سے کیا مراد ہے۔ صاحبانِ مطالعہ جانتے ہیں کہ افلاطون نے سب سے پہلے دنیا میں جمالیات کی بحث کا تعارف کرایا۔ ہیگل اس بحث کو ”حسیاتی“ اثرات کے زمرے میں لا کر اپنے معرضِ بیان میں لایا۔ مشہور جمالیاتی مفکر بام گارٹن نے اس کے لئے Aesthetic کا لفظ استعمال کیا اور اُس کے مطابق ”ہر ایسی شے اور ایسے تمام مظاہر جن کا حسی ادراک مسرت بخش ہو، جو ہمارے احساسِ جمال کو برانگیختہ کرے جمالیاتی مطالعہ کا موضوع ہے“۔ کولرج نے جمال اس کو کہا جو مسرت بخشے۔ لیوٹا لسٹائے نے جمال کو نیکی کہہ کر متضاد نظریہ بنا دیا، اخلاق پرست اسے خیرِ محض کا نام دیتے ہیں۔ فارسی شعراء جامیؔ، رومیؔ، ظہیر فاریابی وغیرہ نے اور پھر حافظؔ و سعدیؔ نے حسن کی وجودی تشریح کرتے ہوئے اِسے حسنِ ازل کا عکس قرار دیا۔ صوفیائے کرام نے بھی حسن کو حسنِ ازل کی صداقتوں کا پرتو قرار دیا۔
حُسنِ معشوقِ ازل در دلم از یار اُفتاد
عکسِ خورشید ز آئینہ بہ دیوار اُفتاد
اب اس حسن کے اس جمال و جمالیات کے کئی رُخ ہیں، کئی پہلو ہیں، یہ جمالیات نظامِ شمسی میں بھی ہے، طلوع و غروبِ آفتاب میں بھی، کوہِ دمن کی ہریالی میں بھی، انسان کی بنائی ہوئی تعمیرات میں بھی اور فنونِ لطیفہ مصوری، موسیقی، رقص، ادب و خطابت میں بھی، مگر ہم یہاں شعر و ادب میں جمالیات کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں جوہمارا موضوع ہے مگر اس سے قبل برسبیلِ تذکرہ یہ عرض کر دوں کہ ماضی قریب کے مشہور ادیب و نقاد جناب مجنوں گورکھپوری اس لفظ Aesthetic کو جمالیات کا ہم معنی نہیں مانتے، فرماتے ہیں ”جس انگریزی لفظ Aesthetic کے جواب میں یہ اردو لفظ جمالیات گڑھا گیا اِس کا یہ صحیح مترادف نہیں، انگریزی زبان میں لفظ Aesthetic جمالیات سے کہیں زیادہ جامع اور بلیغ ہے، Aesthetic کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جن کا تعلق حِس یا حسِّ لطیف سے ہو، اس لحاظ سے اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو Aesthetic کے لئے ”حسیات“ یا ”وجدانیت“ یا ”ذوقیات“ بہتر اصطلاحیں ہیں۔ جمالیات فلسفہ ہے حُسن اور حُسن کاری کا“۔
مجنوںؔ صاحب کی اس بحث سے قطع نظر یہ بات تو صاف ہے کہ شعر و ادب میں حُسن یا حسن کاری ہی اہم ہے۔ اب ہم اِسے جمالیات کہیں یا ”ذوقیات“ اسی سے قاری یا سامع مُسرّت اور بصیرت حاصل کرتا ہے۔ گویا نثر و نظم کا حُسن اُس کی حُسن کاری (Beautification) اور یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب فن کے تمام اُصول، تمام محاسن، آرائش زبان، تشبیہہ و استعارے کی ندرت و آراستگی، دلکش اور حسین پیرایۂ اظہار، تخیل کی بلندی کو بروئے کار لایا جائے۔
عمومی طور پر ادب کے دو پہلو ہیں ایک موضوع دوسرا مواد، افکار و تصوّرات، تجزیہ و تخیل ادب کے لئے موضوع و مواد کا کام کرتے ہیں لیکن موضوع اور مواد کی خوبی اچّھا ادب تخلیق نہیں کرتی اچھی تخلیق کے لئے جمالیاتی ادراک کے ساتھ فنکارانہ اظہار پر قدرت بھی ضروری ہے۔
یہی سبب ہے کہ ایک ہی موضوع پر لکھی گئیں ساری تحریریں یا شاعری بڑے ادب کا حصہ نہیں بن پاتیں۔
ہمارا ادب، نثر اور نظم پر مشتمل ہے۔ نثر میں داستان، ناول، افسانے، انشائیہ، مضامین، خطوط وغیرہ شامل ہیں اور نظم جن میں غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، رباعی وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ ہر نثری اور شعری صنف کے اپنے کچھ مخصوص فنی اور ہیئتی اصول ہوتے ہیں اس لئے ایک صنف کی جمالیات دوسری صنف کی جمالیات سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ لیکن ہر صنف میں جمالیات کاتعلق بنیادی طور پر کلام کی حُسن کاری، سجاوٹ (Beautification) سے ہوتا ہے۔
ہاں قادر الکلام شاعر و ادیب فنی اور ہیئتی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے دوسری اصناف کی جمالیات کو اپنی صنف میں شامل کر لے تو وہ باکمال ہے۔
آپ حضرت غرویؔ کی رباعیات ملاحظہ فرمائیں خصوصاً تشبیہات، استعارات اور وہ حسین تراکیب جو قبلہ نے نہج البلاغہ کے لئے وضع کی ہیں، ذرا تشبیہات و استعارے ملاحظہ فرمائیں۔
مثلاً سروِ آزاد، ابرِ گہر بار، غازۂ تقریر، ترنّم، سلکِ بیاں، ملکوتی آواز، ٹوٹ کے ابرِ کرم کا برسنا، درد میں ڈوبا لہجہ، وغیرہ جو غزل اور گیت کے عمومی الفاظ ہیں مگر کس خوبصورتی سے رباعیوں میں صرف ہوئے ہیں، چند رباعیات آپ کے ذوق سخن کی نذر ہیں۔
رباعی نمبر ۳۴
ہے نطق پہ احسانِ ترّحم تیرا
ہے غازہ تقریر تبسّم تیرا
اے گلشنِ توحید کے سرو آزاد
جبرئیل کا ہم ساز تکلّم تیرا
رباعی نمبر ۳۵
رونق ہے بلاغت کی تکلّم تیرا
قراں کی تجوید ترنّم تیرا
اے نفسِ نبیؐ زینتِ عرش و گیتی
فردوس کی رونق ہے تبسّم تیرا
رباعی نمبر ۴۶
کیا منبعِ انوار ہے کردارِ علیؑ
ہے لوح کہ سینۂ ضیاء بارِ علیؑ
موتی سے چھلک رہا ہے بحرِ ہستی
کیا ابرِ گہر بار ہے گفتارِ علیؑ
رباعی نمبر ۸۸
سمجھائے علیؑ نے جو رموزِ بعثت
روشن ہوئے نکتہ ہائے عدل و حکمت
کرتے رہے منبر پہ دُعائے باران
برسا کئے کُھل کُھل کے سحابِ رحمت
رباعی نمبر ۷۶
منظر آنکھوں میں ایسے پھرتے ہیں
پردے اُٹھتے ہیں پردے گرتے ہیں
الفاظ و معنی پہ علیؑ کی قُدرت
کیا سینۂ بحر پہ گُہر تِرتے ہیں
اس لفظ ”تِرتے“ کا کوئی جواب نہیں، سبحان اللہ!
رباعی میں ایسی صنعت کاری! یہ چند رباعیات نمونے کے طور پر پیش کیں، اب صاحبانِ سخن خود الفاظ کے در و بست، معنی آفرینی و ندرت خیال سے حظ اٹھائیں، مُسرت و بصیرت حاصل کریں۔
اسی طرح قبلہ نے بہت خوبصورت تراکیب نہج البلاغہ کے لئے وضع کی ہیں، مثلاً نبراسِ فصاحتِ محمدؐ، انوارِ بلاغتِ محمدؐ، برہانِ نبوت محمدؐ، ترجمان توحید، شانِ توحید، فیضانِ علیؑ، کشکولِ رضی، دستورِ رہ سیر و سلوک، تسنیمِ فصاحت، فردوسِ بلاغت۔
چند رباعیات پیشِ خدمت ہیں۔
رباعی نمبر ۲۵
نبراسِ فصاحتِ محمدؐ ہے عقیلؔ
انوارِ بلاغتِ محمدؐ ہے عقیلؔ
کہتے ہیں جسے نہجِ بلاغہ، یہ کتاب
برہانِ نبوتِ محمدؐ ہے عقیلؔ
رباعی نمبر ۲۸
ہیں گوش بر آوازِ علیؑ سب شرفا
ہر خطبہ ہے اللہ سے منشورِ وفا
ہے بس کہ یہ مجموعۂ تقریرِ علیؑ
دستورِ رہِ سیر و سلوکِ عُرفا
رباعی نمبر ۴۹
تسنیمِ فصاحت ہے یہ کشکولِ رضی
فردوسِ بلاغت ہے یہ کشکولِ رضی
قران ہے اعجازِ نبوّت جیسے
اعجازِ امامت ہے یہ کشکولِ رضی
ٹھہریئے ذرا اس مندرجہ ذیل رباعی کو بار بار پڑھیں۔
رباعی نمبر ۷
معنی کی گرہ کھول رہے ہوں جیسے
میزاں میں خرد تول رہے ہوں جیسے
خطبوں کو پڑھا زندہ دلی سے تو لگا
منبر پہ علیؑ بول رہے ہوں جیسے
ہم نے اس لفظ زندہ دلی پر غور کیا ، بار بار پڑھا، کیا یہ عمومی معنی کے طور پر نظم ہوا ہے؟ کیا اس کے وہی معنی ہیں جو عموماً لغات میں ہے؟ یعنی خوش دلی، خوش مزاجی، ظرافت۔
نہیں حضور ایک عالم و فقیہہ خطبات علی ؑ کے پڑھنے کے لئے اُس زندہ دلی کا ذکر نہیں کر رہا ہے بلکہ اُس زندہ دلی کا جس کا ذکر قرآنِ کریم میں متعدد بار آیا ہے، شاید تیرہ (۱۳) مقامات پر:
قلبِ سلیم (سورۂ شعراء آیت ۸۹)، قلبِ منیب (سورۂ ق، آیت ۳۳)، قلبِ مخبت (سورۂ حج، آیت ۵۴)، قلبِ وجَل (سورۂ مومنین، آیت ۶۰)، قلبِ مطمئن (سورۂ رعد، آیت ۲۸)
اور دل کے وہ اندھے (مردہ دل) نہیں جن کا ذکر سورۂ حج آیت ۴۶ میں یوں آیا ہے:
فا انّھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب فی الصدور۔
(اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں)
ان رباعیات میں روز مرہ و محاورات کا بھی عمدہ صرف ہوا ہے ۔ صرف ایک مثال دوں گا، یہ رباعی ملاحظہ فرمائیں جس میں لفظ ”پاٹوں پاٹ“ استعمال ہوا ہے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہ لفظ ضرور سنا، مگر اب قلیل الاستعمال ہے، کیا خوبصورتی سے نظم ہوا ہے۔
رباعی نمبر ۸۵
پوچھے کوئی مجھ سے جو کتابِ تقویٰ
دریافت کرے اگر نصابِ تقویٰ
کہہ دوں گا فقط نہجِ بلاغہ پڑھ لو
کُھل جائے گا پاٹوں پاٹ بابِ تقویٰ
صنفِ رباعی اور دقتیں:
اربابِ سخن جانتے ہیں کہ اصنافِ سخن میں رباعی ایک خاصے کی چیز ہے۔ چار مصرعوں میں جامع سے جامع مضمون کو خوبصورتی سے مکمل کر دینا گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور وہ بھی خاص اوزان کی پابندی کے ساتھ۔ مگر ساتھ ہی یہ بڑی دلکش صنف ہے، اختصار اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
آپ اس سے بھی واقف ہیں کہ یہ صنف فارسی شعراء کی ایجاد ہے، فارسی شاعری کی طرح رباعی کا باوا آدم بھی رُودکیؔ ہے۔ اس کے علاوہ فرید الدین عطّارؔ، حافظؔ شیرازی، شیخ سعدیؔ معروف رباعی گو گزرے ہیں مگر جس فارسی شاعر کا نام رباعی گو کی حیثیت سے اَمر ہو گیا وہ عمر خیّامؔ ہے۔
ہم نے یہاں قصداً معروف قدیم شاعر بابا طاہر عریاںؔ کا ذکر نہیں کیا کہ گو ان کی دو بیتیاں رباعیات کے عنوان سے شائع ہوئیں لیکن وہ رباعی کے مروجہ اوزان کے تحت نہیں ہیں۔
اردو میں میرؔ تقی میرؔ، سوداؔ، دردؔ، انیسؔ، دبیرؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ، شادؔ، رباعی کہنے میں بلند مقام رکھتے ہیں، حالی ؔ کی اخلاقی اور اکبر الٰہ آبادی کی مزاحیہ و اصلاحی رباعیات بھی اہم ہیں۔
علامہ اقبال کی رباعیات کی بھی شہرت ہے مگر وہ دو بیتی یا قطعات تو ہو سکتے ہیں رُباعیات نہیں اس لئے کہ وہ رُباعی کے مروجہ اوزان کی پابند نہیں۔ صرف چار مصرعوں کے ہونے سے وہ رباعی نہیں ہو سکتی۔ (اس موضوع پر بحث در بحث ہے مگر وہ میرے احاطہ تحریر سے باہر ہے)۔
رباعی کی دقتوں یعنی موضوع، مضمون اور وزن کے برقرار رکھنے کے حوالے سے جوشؔ صاحب کی رائے بھی اہم ہے۔ جس کا ذکر مولانا مقبول حسین علوی صاحب اپنے مقدمہ میں فرما چکے ہیں، اُس کا دہرانا مقصود نہیں مگر یہ بات طے ہے کہ صنف ِ رباعی ایک پیچیدہ اور دشوار صنف ہے جہاں غلطی کا امکان بہت ہے۔
جب حضرت غالبؔ جیسا عظیم شاعر ٹھوکر کھا جائے تو پھر کسی اور کا کیا کہنا۔ اس موضوع پر نظم طباطبائیؔ نے بحث کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ ہو سکتا ہے یہ غالبؔ کی اجتہادی غلطی ہو (بہرکیف اس پر مزید گفتگو بھی میری احاطہ تحریر و بساط سے باہر ہے)
قارئین کرام واقف ہیں کہ رباعی میں عموماً پند و نصیحت، تصوّف، حمد، نعت، منقبت، فلسفہ، اخلاقیات اور دنیا کی بے ثباتی کے موضوع بیان ہوتے ہیں۔
مگر جب صرف ایک موضوع یعنی نہج البلاغہ کے حوالے سے ۱۱۰ رباعیاں کہنی ہوں تو اس کے لئے بڑی مشّاقی، مہارت اور زبان و بیان پر قدرت درکار ہے۔ جی ہاں جو کلامِ امام ہو، امام الکلام ہو، اور جس پر خود صاحب ِ کلام ناز کرتا ہو۔ آپ ”کعبہ فکر، قبلہ ایماں“ ملاحظہ فرمائیں جو معنی آفرینی، فصاحت، بلاغت اور نادر تشبیہات و استعارات سے مزیّن ہے۔
صاحبانِ شعر و ادب جانتے ہیں کہ رباعی کی بحر، بحرِ ہزج ہے جس کا بنیادی رکن مفاعلین ہے، اسی مفاعلین کے مختلف وزن میں جو مختلف زحافات کے استعمال سے حاصل ہوتے ہیں اور یہ تعداد میں دس ہیں۔ اور ان سے ہی ۲۴ بحریں رباعی کی رائج ہیں۔ (بعض حضرات نے ۳۶ اور ۵۴ بحروں کا ذکر کیا ہے رُباعی کے حوالے سے)۔
پھر یہ پابندی کہ ان اوزان کی مصرعے میں جگہ بھی معین ہے۔ مثلاً
صدرِ مصرع (پہلا رُکن) میں صرف مفعول و مفعولن استعمال کر سکتے ہیں: اور آخری رکن (ضرب) میں فع، فاع، فعل اور فعول۔
درمیانی رکن (حشو) میں مفاعلن، فاعلن، مفاعیلن، مفاعیل آئیں گے۔
اساتذہ نے ان اوزان کو دو شجروں میں تقسیم کیا ہے:
شجرہ اخرب جو مفعول سے شروع ہوتا ہے، اس کے بارہ اوزان ہیں۔
شجرہ اخرم جو مفعولن سے شروع ہوتا ہے اس کے بھی بارہ اوزان ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ قدیم اساتذہ نے اخرب و اخرم کے اوزان کو ایک ہی رباعی میں باندھنے سے منع کیا ہے۔ مگر اب کم ہی شاعر اسے مانتے ہیں اور بلا تکلّف اخرب اور اخرم کے اوزان ایک ہی رباعی میں جمع کرتے ہیں۔
ہم نے قبلہ غرویؔ کی کئی رباعیاں اس نظر سے دیکھیں، معلوم ہوتا ہے جناب نے اس عیب سے گریز فرمایا ہے۔
آخرِ مضمون میں جاتے جاتے نہج البلاغہ کی سند کے ذیل میں یہ رباعی اور قطعہ دیکھتے جائیں۔
رباعی
جویائے سندِ بہرِ کلامِ علوی
سُن لیں بہ دل و جاں یہ پیامِ غرویؔ
جو شانِ رضی جانتے ہیں جانتے ہیں
ارسالِ رضی برتر از اسنادِ قوی
قطعہ
جن کو ہے شغف نورِ کلامِ علوی سے
سُن لیں وہ بہ تحقیق یہ نکتہ غرویؔ سے
جو شانِ رضی جانتے ہیں جانتے ہیں یہ
ارسالِ رضی کم نہیں اسنادِ قوی سے
ملاحظہ فرمائیں مضمون ایک، قوافی ایک مگر صرف ایک آخری رُکن ”فعل“ کو ”فعولن“ کرنے سے رباعی قطعہ بن گئی۔
رباعی کی بحر ہے مفعول، مفاعیل، مفاعیل، فعل (فع)
قطعہ کی بحر ہے مفعول، مفاعیل، مفاعیل، فعولن (فعلن)
خصوصاً تیسرا مصرع رباعی اور قطعہ دونوں کا
رباعی: جو شانِ رضی جانتے ہیں جانتے ہیں
قطعہ: جو شانِ رضی جانتے ہیں جانتے ہیں یہ
صرف ایک لفظ ”یہ“ کے اضافے سے رباعی قطعہ میں تبدیل ہو گئی۔
قطعہ اور رباعی کے فرق کو جاننے کے لئے کیا عمدہ مثال ہے۔
قارئین کرام! میں کیا اور میری بساط کیا کہ آیت اللہ سید عقیل الغروی کے کلام پر لب کشائی کروں۔ ہاں اُن سے جو عقیدت و محبت ہے اور جس طرح وہ اس ہیچمداں پر لطف و عنایات فرماتے ہیں اس کے نتیجے میں یہ چند سطور کی جرأت کی۔
امیر المومنینؑ کا فرمان ہے:
تَکَلَّمُوْا تُعْرَفُوْا، فَاِنَّ الْمَرْئَ مَخْبُوْٓئٌ تَحْتَ لِسَانِہٖ۔
آپ نے مولاؑ کے فرمان کے پہلے حصے کی جھلک قبلہ کی خطابت میں خوب دیکھی، اب فرمان کے دوسرے حصے کے ادراک کے لئے ”کعبہ فکر، قبلہ ایمان“ کا مطالعہ فرمائیں۔
طالب ِدُعا
سید جاوید حسن
ڈاربی، برطانیہ، ۲۴ نومبر ۲۰۲۵




