مرکزی سلائیڈرمقالات

عظمت نماز

تحریر: عارف حیدر

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

نماز دین مبین اسلام کا وہ اہم ترین رکن ہے کہ جسے اسلام کی پہچان کہا گیا ہے۔ (1) حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں نماز کے اہمیت اور عظمت کے متعلق یوں فرماتے ہیں:

واقام الصلاۃ فانھا الملۃ (2) اور نماز کی پابندی عین دین ہے۔
یعنی نماز کی پابندی اور اہتمام دین اسلام کی استحکام و مضبوطی ہے۔

تقی جعفری شرح نہج البلاغہ میں مولا علیؑ کے اس فرمان کے ذیل میں اہمیت نماز کے متعلق یوں کہتے ہیں: نماز کی بدولت ہم چار الٰہی رابطوں یعنی خدا سے رابطہ، اپنے آپ سے رابطہ، دوسروں سے رابطہ اور کائنات سے رابطہ کے ذریعے ذکر الٰہی سے آشنا ہوتے ہیں اور وہ انسان جو ایسی نماز ادا کرتا ہے ہرگز فحشاء اور منکر انجام نہیں دیتا۔ بھلا تپتے صحرا میں وہ پیاسا شخص جو پیاس کی شدت سے مرنے والا ٹھنڈا شفاف پانی ڈھونڈنے کے بعد اس پانی کو ضائع کر سکتا ہے؟ (3)

عظمت نماز پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ سورہ معارج میں خداوند منان مومنوں کی صفات میں سب سے پہلے نمازکے متعلق فرماتا ہے: إِلَّا الْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (4) سوائے نمازگزاروں کے، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔

امام علی علیہ السلام، محمد بن ابی بکر کو لکھنے والے خط میں نماز کی اہمیت دوسرے اعمال کے مقابلے میں یوں اجاگر فرماتے ہیں: کل شیء من عملک تبع لصلاتک (5) تمہارا ہر عمل تمہار ے نماز کے تابع ہے۔

یعنی حضرت فرمانا چاہتے ہیں کہ سارے اعمال کی کسوٹی اور ترازو نماز ہے اور مومن کے سارے اعمال نماز کے پس منظرمیں دیکھے جائیں گے۔

نماز کے آداب

مولا علی علیہ السلام اپنے اصحاب کو اہمیت و آداب نما زکے متعلق فرماتے ہیں:

تعاھدو ا امر الصلوۃ و حافظو علیھا و استکثروا منھا و تقربوا بھا (6)
نماز کی پابندی اور اس کی حفاظت کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ بجا لاؤ اور اس کے ذریعہ سے اللہ کا تقرب چاہو۔

اس حدیث میں نماز کی پابندی کے علاوہ حضرت، نماز کی کیفیت اور کمیت کی حفاظت کا بھی حکم دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نماز میں تقرب الٰہی حاصل کرنے کا ذکر فرماتے ہیں کہ جس کا لازمہ خضوع و خشوع اور رقت اور دعا ہے۔

اس حدیث شریف کے ’’حافظوا علیھا‘‘ کی عبارت کے ذیل میں صاحب شرح منہاج البراعۃ یوں کہتے ہیں: حافظوا علیھا :ای علی اوقاتھا و رعایۃ آدابھا واستنھا وحدودھا و مراسمھا و شروطھا و أرکانھا (7)
اور نماز کی حفاظت کرو یعنی نماز کے اوقات، آداب، مستحبات، حدود، رسوم، شرائط اور ارکان کی رعایت اور حفاظت کرو۔

اسی طرح نماز کے آداب میں سے ایک، اوقات نماز میں دنیاوی امور کو ترک کرنا ہے۔ جیسے کہ حضرتؑ فرماتے ہیں: لیس عمل احب الی اللہ عزوجل من الصلاۃ فلا یشفعلکم عن اوقاتھا شی من الامور الدنیا (8)
کوئی بھی عمل خداوند متعال کے نزدیک نماز سے پسندیدہ نہیں پس اوقات نماز میں تمہیں دنیاوی امور مشغول نہ رکھیں۔

نماز کے اسرار

نماز ایک ایسی عظیم عبادت ہے جو بے شمار اسرار کا مجموعہ ہے اور یہی اسرار نمازی کے بلندی درجات کا موجب بنتی ہیں۔ جیسا کہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: الصلاۃ قربان کل تقی (9) نماز ہر پرہیز گار کیلئے باعث تقرب (الٰہی) ہے۔

یعنی قرب الٰہی بغیر پرہیز گاری اور تقوی کے حاصل نہیں ہو سکتا اور تقویٰ واقعی نماز کی بدولت ہی ممکن ہے۔ اسرار نماز میں سے ایک کی طرف امام علی علیہ السلام یوں اشارہ فرماتے ہیں۔

اگر نماز گزار جانے کہ عظمت الٰہی نے کیسے اسے احاطہ کیا ہوا ہے تو ہرگز وہ سجدے سے سر نہ اٹھائے۔ (10)

اسی سجدے کی حکمت کے متعلق حضرتؑ، پوچھنے والے کے جواب میں یوں فرماتے ہیں:

پہلے سجدے میں جانے کی معنی یہ ہیں کہ خدایا ہمیں اسی زمین سے تو نہ پیدا کیا ہے اور سجدے سے سر اٹھانے کے معنی یہ ہیں کہ اسی زمین سے ہمیں نکالنا ہے اور دوسرے سجدے میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسی زمین میں خدایا تو نے ہمیں پلٹانا ہے اور دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے معنی یہ ہے کہ دوبارہ ہمیں اسی زمین سے تو نے اٹھانا ہے۔ (11)

یعنی نماز کے سارے افعال و شرائط حکمت و اسرار الٰہی کا مجموعہ ہیں کہ جنہیں صرف معصومؑ ہی سمجھ سکتے ہیں جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام اوقات ادائیگی نماز کی حکمت سے یوں پردہ اٹھاتے ہیں: جب نماز اول وقت میں اٹھتی ہے (ادا ہوتی ہے) تو نمازی کے طرف سفید نورانی چیز کی صورت میں پلٹتی ہے اور کہتی ہے: تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے اور جب نماز بغیر وقت کے (کوتاہی) کے ساتھ اٹھتی ہے (ادا ہوتی ہے) تو سیاہ تاریک شکل میں پلٹتی ہے اور کہتی ہے تو نے مجھے ضائع کیا خدا تجھے ضائع کرے۔ (12)

نماز کے ثمرات

نماز کے ثمرات اور برکات بے شمار ہیں جن میں سے مولا علیؑ کے کلام میں صرف ایک کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں:

فرض اللہ…الصلاۃ تنزیھا عن الکبر (13) اللہ نے نماز کو واجب کیا تکبر کو پاک کرنے کیلئے۔

ابن ابی الحدید حضرت کے اس نورانی کلام کے ذیل میں یوں کہتے ہیں:

نماز واجب کی گئی ہے غرور کو ختم کرنے کیلئے، کیونکہ انسان نماز میں کھڑا ہوتا ہے جو تکبر کے خلاف ہے پھر نمازی ہاتھوں کو تکبیر کیلئے اٹھاتا ہے اس شخص کی مانند جو گردن کوجلاد کیلئے سیدھا کرتا ہے‘‘پھر اس فرد کے مانند رکوع کرتا ہے جو جلاد سے گردن کٹوانے کیلئے گردن آگے کرتا ہے ۔پھر سجدہ بجا لاتا ہے اور اپنی عزیز ترین عضو بدن یعنی پیشانی کو حقیر ترین چیز یعنی مٹی پہ قرار دیتا ہے۔ (14)

شرح نہج الصباغہ میں اس حدیث شریف کے ذیل میں مختصراً یوں کہتا ہے:
اور نماز تکبر سے پاک کردیتی ہے کیونکہ نماز میں نمازی اپنے شریف ترین عضو یعنی پیشانی کو مٹی پہ رکھتا ہے پس قدرتی طور پر تکبر نمازی سے نکل جاتا ہے۔ (15)

واقعاً نماز کا تکبر کو دور کرنے کی زندہ مثال خود عرب جاہلیت کا معاشرہ ہے کیونکہ جن عربوں کا تکبر ضرب المثل تھی وہ نماز کے بدولت ایسے منکر المزاج ہوئے کہ دنیا ان کے محاسن اخلاق کی اسیر ہوئی اور اپنے اخلاق سے انہوں نے دنیا والوں کے دلوں کو جیت لیا۔

نمازکی آفات

نماز کی آفات متعدد ہیں ابی ابی الحدید نماز کی آفات کے متعلق علی علیہ السلام سے یوں حدیث نقل کرتے ہیں: لا یزال الشیطان ذعرا من المومن ما حافظ علی الخمس فاذا ضعھن تجرا علیہ واوقعہ فی العظائم (16)
حتماً شیطان خوفزہ ہوتا ہے اس مومن سے جو پانچ وقت کی نمازوں کو پابندی سے ادا کرتا ہے اور جب مومن پانچ وقت کی نمازوں کو ضائع کرتا ہے تو شیطان اس کی طرف رغبت کرتا ہے اور اسکے جوڑوں میں اترتا ہے۔

علی علیہ السلام نماز کی بعض دیگر آفات کے متعلق یوں اشارہ فرماتے ہیں

لایقومن احدکم فی الصلاۃ متکاسلا و لا ناعسا و لا یتفکرن فی نفسہ فانہ بین یدی ربہ عزوجل (17)
تم میں سے کوئی بھی سستی اور غنودگی کی حالت میں اور سوچنے کی حالت میں نماز کیلئے ہرگز گھڑا نہ ہو کیونکہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے ہوتا ہے۔

امام علیؑ اور نماز

اور اگر نماز کو اس کی ساری شرائط و آداب اور عاشقانہ انداز میں ادائیگی کا نظارہ کرنا ہے تو علی علیہ السلام کی نماز کو دیکھیں کہ جو نماز کا مصداق اکمل و اتم ہے۔ کیونکہ جب حالت نماز میں تیر پاؤں سے نکالا جاتا ہے تو محبوب حقیقی سے اس انداز میں راز و نیاز میں مشغول ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ اس لیے تو جب زخمی حالت میں بستر شہادت پہ اپنے جگر گوشوں کو وصیت فرمارہے ہیں تو نماز کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ اللہ فی الصلاۃ فانھا عمود دینکم (18) نماز کے بارے میں خدا سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے

اور صرف یہی نہیں بلکہ جب محراب عبادت میں نماز میں زہر بھری تلوار حضرت کے سر مبارک کو شق کرتی ہے تو حضرت بجائے گریہ و فغاں کہ فرماتے ہیں:

’’فزت برب الکعبۃ‘‘ رب کعبہ کی قسم میں (علی) کامیاب ہوا!

لم یسبقنی الا رسول اللہ بالصلاۃ (19)
رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی نے بھی نماز پڑھنے میں مجھ سے سبقت نہیں کی۔

اور نمازیوں کے امام علی کا نماز میں سبقت کی گواہی خود رسول دیتے ہیں: اول من صلی معی علی (20) جس نے میرے ساتھ سب سے پہلے نماز ادا کی وہ علیؑ تھا۔

خداوند ہمیں توفیق دے کہ سارے معصومین علیہم السلام اور خاص کر علی علیہ السلام کے ان ارشادات پہ عمل کرکے ان کے پیروان واقعی کہلائیں۔ (آمین)

حوالہ جات

[1] رسول خدا ﷺ نے فرمایا: لکل شیء وجہ و جہ دینکم الصلاۃ: ہر چیز کا چہرہ ہوتا ہے اور تمہارے دین کا چہرہ نماز ہے، ابو حنیفہ نعمان، دعائم الاسلام ج 1 ص 179
[2] نہج البلاغہ خطبہ:2، 11
[3] جعفری، محمد تقی تفسیر نہج البلاغہ ج 20 ص 99-100
[4] سورہ معارج :22-23
[5] نہج البلاغہ ،مکتوب 15، 27
[6] نہج البلاغہ، خطبہ 199
[7] خوئی، حبیب اللہ م، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغہ، ج 12 ص 187
[8] شیخ الصدوق ، الخصال ص 624
[9] نہج البلاغہ حکمت 136
[10] مجلسی محمد باقر، بحار الانوار ج 82 ص 207، حدیث 12
[11] من لا یحضر الفقیہ، ج 1 ص 314
[12] البرقی، محمد بن خالد المحاسن ج 1 ص 161
[13] نہج البلاغہ، کلمات قصار 252
[14] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 19 ص 86-87
[15] محمد تقی، نہج البلاغہ ج 13 ص 174
[16] ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج 10 ص 26
[17] خوئی، حبیب اللہ، منہاج البراعۃ ج 7 ص 325
[18] نہج البلاغہ ،مکتوب: 47، 5
[19] نہج البلاغہ، خطبہ 131، 4
[20] ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ج 2 ص 21

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button