مقالات

عدالت علی علیہ السلام

تحریر: علی گوہر ایمانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مقدمہ
علی علیہ السلام معصوم رہبر اور عادل امام تھے۔ جس نے عدالت کو بھی عدالت سکھائی ،عدالت علیؑ کے دروازے کی محتاج تھی، علیؑ ایسے عادل تھے جسے اپنے تو سبھی لیکن غیروں نے بھی مانا ہے کہ علی عادل امام تھے۔ جیسے کہ معاویہ کی دربار میں ایک مولا علیؑ کے صحابی کو جب معاویہ نے کہا کہ علی نے تیرے ساتھ انصاف و عدل نہیں کیا کہ اس کے دونوں بیٹے حسن و حسین علیھما السلام زندہ ہیں اور تیرے دونوں بیٹے علی کی طرف سے جنگ لڑتے ہوئے مر گئے تو اس مولا کے ماننے والے نے بہت ہی سنہری جملہ کہا کہ: اے معاویہ علیؑ تو سراپا عدالت تھے میں نے علیؑ سے انصاف و عدالت نہیں کی کہ علیؑ شہید ہوگئے اور میں زندہ رہ گیا۔

علیؑ مرد حق و عدل تھے۔ عدل کے میدان میں عرب و عجم اور سیاہ سفید، اپنے و بیگانے، حسب اور نسب کو نہیں پہچانتے تھے۔ جیسے کہ حضرت عقیل، مولا علیؑ کا بھائی ان کے دور حکومت میں ان کے پاس آتا ہے تاکہ کچھ اضافی وظیفہ اور رقم اسے دے دیں۔ تو مولا علی تلوار گرم کرکے اس کے قریب کر رہے وہ کہتے ہیں کہ آگ مجھے جلا رہی ہے۔ مولا علیؑ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کی آگ کی تپش ہے اس چیز کا سوال کرنا اس کے مترادف ہے کہ تم مجھے جہنم کی آگ سے جلاؤ اور ان کو اضافی رقم اور وظیفہ نہیں دیا۔ لہذا علیؑ کے نزدیک عدالت و انصاف میں سب ایک جیسے ہیں۔ علیؑ عدالت کے معاملے میں بہت باریک بین تھے، جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بیت المال کا حساب و کتاب کرتے وقت کچھ لوگ آپؑ سے ملنے آتے ہیں تو مولا غلام کو حکم دیتے ہیں کہ اس چراغ کو بجھا دو اور دوسرا چراغ جلاؤ تو وہ تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کام سے آپ کا کیا مطلب تھا۔ امامؑ نے فرمایا پہلے میں بیت المال کا حساب کتاب کر رہا تھا تو بیت المال کا چراغ استعمال کر رہا تھا اور ابھی تمہارا مجھ سے شخصی کام ہے تو میں نے شخصی چراغ جلانے کا کہا۔ اس حد تک عدالت کے اعتبار سے مولا علیؑ باریک بین تھے۔

مولا علیؑ عدالت کے اجراء کرنے میں اس حد تک شدید تھے کہ بیان کیا گیا ہے (قتل فی المحراب لشدۃ عدلہ) علی محراب میں عبادت میں شدت سے عدالت جاری کرنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ یعنی ان کی شہادت کا سبب ان کی عدالت بنی۔

آخر میں مولا علیؑ ہمیں یہ پیغام دیتے ہوئے اس دار فانی سے چلے گئے کہ علی کو مرنا و شہید ہونا تو پسند ہے لیکن بے عدالتی پسند نہیں ہے اور علی کے خون کا ایک ایک قطرہ عدالت کے آنسو بہاتے ہوئے زمین پر نقش کرتا ہوا یہ گواہی دے گیا کہ علیؑ سراپا عدل تھے اور عدالت کو جاری کرنے کی وجہ سے اس جہان فانی سے دارلبقاء کی جانب رخصت ہوگئے۔

علی تیری عدالت پر میرے لاکھ لاکھ سلام
اس بے عدالت دنیا نے نہ پہچانا تیرا مقام

عدل کا مفہوم اور معنی

العدل ضد الجود۔ العادل المرضی للشھادۃ، عدل ظلم کی ضد ہے: عادل وہ ہے گواہی کیلئے پسندیدہ ہے مثلاً يَوْمُ الْعَدْلِ عَلَى الظَّالِمِ أَشَدُّ مِنْ يَوْمِ الْجَوْرِ عَلَى الْمَظْلُومِ عدل کا دن ظالم پر سخت تر ہے اس دن سے جس دن پر مظلوم پر ظلم و ستم واقع ہوا۔
(قاموس نہج البلاغہ، مؤلف ،محمد علی شرقی جز ۳ ص ۲۷۸)

محققین عدل کی معنی یوں کرتے ہیں (اعطا کل ذی حق حقہ) ہر صاحب حق کا حق ادا کرنا عدل ہے اور اس کے مقابلے میں کسی کا حق نہ دینا ظلم، ظلم کے مترادف ہے۔ خدا کے حدود سے تجاوز کرنا ہے اور یہ بھی عدل ہے کہ کسی چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنا۔
(ایمان جلد دوئم مولف سید عبد الحسین دستغیب، مترجم: سید سجاد حیدر رضوی: ص۲ ۸۸)

عدل کا لفظ لغت میں ظلم و جور کے مقابلے میں آیا ہے اور ہر چیز کو اپنی جگہ پر قرار دینا یا ہر کام کو اچھی طرح انجام دینا عدل ہے۔ جیسے مولا علیؑ فرماتے ہیں ’’العدل یضع الامور مواضعھا‘‘ عدل ہر چیز کو اپنی جگہ پر قرار دیتا ہے۔
(اصول عقائد مولف: محسن قرائتی ص ۱۱۴)

اعتدال کی معنی

لفظ اعتدال میانہ روی اور متوسط کی معنی میں آتا ہے (۱) اور عربی زبان میں لفظ ’’اقتصاد‘‘ کی معانی میں سے ایک معنی کے مترادف ہے۔ یہ لفظ عربی متون ہیں قرآن اور روایات میں ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اعتدال سے انحراف کے مد مقابل اور زیادہ افراد کی طرف چاہت یا اسراف کم تر کی طرف چاہت جسے تفریط کہتے ہیں۔

امام علیؑ فرماتے ’’کل ما زاد علی الاقتصاد اسراف‘‘ ہر وہ چیز جو حد اعتدال سے خارج ہو جائے اسے اسراف کہتے ہیں (۲)

اور نہج البلاغہ کے ۱۲۶ ویں خطبے میں فرماتے ہیں ’’الا و ان اعطا المال فی غیر حقہ تبذیر و اسراف‘‘ آگاہ ہو جائیں کہ مال کو اپنے مورد میں نہ دینا تبذیر اور اسراف ہے۔

وہ انسان معتدل ہے جو ظاہری اور بدنی کاموں کے علاوہ روحی اور قلبی کاموں میں بھی اعتدال رکھتا ہو۔ جس طرح حضرت لقمان حکیمؑ اپنے بیٹے کو ظاہری اور مخفی کاموں میں اعتدال کی سفارش کرتے تھے ’’واقصد فی مشیک‘‘ اپنے چلنے میں اعتدال کر۔ (۳)

ادھر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’مشی‘‘ سے مراد روش اور رفتار ہے یعنی تمام امور میں انسان کی روش اور رفتار اعتدال اور میانہ روی سے ہونی چاہیے۔
(اعتدال،مولف: علی کریمیان ص۱۱)

ارزش عدالت

ہر معلم و استاد تازہ ترین معلومات اپنے شاگردوں کو دیتا ہے اور ہر مکتب، جدید اطلاعات اپنے پیروکاروں کے درمیان رکھتا ہے لیکن تنہا بعض معلم اور بعض مکتب ہیں کہ ایک جدید منطق اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کو دیتے ہیں۔ اور ان کے طرز تفکر اور سوچ کو تبدیل کرتے ہیں اس مطلب کو سمجھنے کیلئے توضیح کی ضرورت ہے۔

کیسے منطق تبدیل ہوتی ہے اور کیسے طرز تفکر اور سوچ وبچار کا طریقہ تبدیل ہوتا ہے؟

انسان چاہے علمی مسائل ہوں چاہے اجتماعی، اس جہت سے کہ وہ ایک موجود متفکر ہے استدلال کرتا ہے اور اپنے استدلات میں چاہے نہ چاہے بعض اصول پر تکہ کرتا ہے اور انہیں اصولوں پر تکیہ لگاتے ہوئے نتیجہ نکالتا ہے اور قضاوت کرتا ہے۔ منطق اور طرز تفکر کا تفاوت انہیں اصول میں ہے جو استدلالوں اور نتائج میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ کہ کس قسم کے اصولوں پر تکیہ کیاجائے اور استدلال اور نتیجے کیلئے اساس و بنیاد قرار دیا جائے۔ یہاں سے تفکرات اور نتیجے مختلف ہوتے ہیں۔ علمی مسائل میں تقریبا طرز تفکر، ہر زمانے میں شناخت رکھنے والوں کے درمیان روح علمی کے ساتھ زمان برابر ہے، اگر کوئی اختلاف ہے تو مختلف زمانوں کے تفکرات کے درمیان ہے۔ لیکن اجتماعی مسائل میں ہم زمان لوگ بھی ایک جیسے اور ہمشکل نہیں ہیں یہ خود ایک راز ہے جس کو بیان کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے۔

انسان اجتماعی و اخلاقی مسائل میں برخورد کرنے سے ،چاہتے نہ چاہتےہوئے  ایک قسم کی دریابی کرتا ہے۔

اپنی ارزیابی میں ان مسائل کیلئے فرجات اور مراتب یعنی مختلف ارزشوں کا قائل ہوتا ہے اور انہیں طقبہ بندی اور درجہ بندی کی بنیاد پر ہے کہ نوع اصول جو استعمال کرتا ہے اور اس سے جو دوسرا ارزیابی کرتا ہے متفاوت ہوتا ہے اور نتیجے میں طرز تفکر مختلف ہوتے ہیں خصوصا عورت کیلئے ایک اجتماعی مسئلہ ہے کیا سب لوگ اس موضوع میں اپنی ارزیابی کے وقت ایک جیسا (نوع کا) فکر کرتے ہیں؟ البتہ ایسا نہیں ہے اختلاف ہے بعض لوگوں نے اس موضوع کی ارزش کو صفر کے درجے پر پہنچایا ہے۔ بس یہ موضوع ان کے اندیشے اور فکر میں کوئی نقش نہیں رکھتا اور بعض بی انتھا ارزش و اہمیت کے قائل ہیں۔ اور اس ارزش کی نفی کرنے سے زندگی کی ارزش کے قائل نہیں ہیں۔

اسلام جس نے طرز تفکر کو تبدیل کیا اس معنی میں کہ ارزشوں کو اوپر اور نیچے کیا وہ ارزش جو صفر کی حدتک تھی جیسے تقوی، اس کو اعلی درجے پر قرار دیا۔ اور ان کے لئے فوق العادہ اور وزنی قیمت معین کی، اور بہت اوپر کی ہوئی ارزش کو جیسے خون و قوم اور ان کے غیر کو نیچے لایا اور صفر کی سرحد تک پہنچایا۔

عدالت اور عدل ان مسائل میں سے ایک ہے جو اسلام کے ذریعے زندگی کو، فوق العادہ اہمیت کا بنا دیتا ہے۔

اسلام نے فقط عدالت کی سفارش نہیں کی اور فقط اس کے اجراء کرنے پر ہی قناعت نہیں کی بلکہ عمدہ بات یہ ہے کہ اس کی ارزش کو اوپر لایا ہے۔

بہتر ہے کہ اس مطلب کو مولاء علی ابن ابی طالبؑ کی زبانی نہج البلاغہ میں سنیے۔

ایک باہوش آدمی امیر المومنین علیؑ سے سوال کرتا ہے ’’العدل افضل ام الجود‘‘ (۴)کیا عدالت افضل اور شریف تر ہے یا جود و بخشش؟مورد سوال انسان کی دو خصوصیتیں ہیں، بشر ہمیشہ ظلم سے گریزان رہا ہے اور ہمیشہ احسان اور نیکی کو جو دوسروں پر کرتا ہے بغیر لالچ کے، اس کیلئے جزاء کا قائل ہے اور اس کو مورد تحسین اور تعریف قراردیتا ہے۔

اوپر والے سوال کا جواب بہت آسان نظر آتا ہے جود وبخشش، عدالت سے بالاتر اور بہتر ہے اس لئے کہ عدالت یعنی دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا اور ان کے حقوق اور حدود سے تجاوز نہ کرنا ہے لیکن جود بخشش یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ سے اپنے مسلم حق کو دوسرے کے اوپر قربان کرے۔ جو عدالت کرتا ہے وہ دوسرے کے حقوق پر تجاوز نہیں کرتا۔ یا یہ کہ وہ دوسروں کے حقوق کی متجاوزیں (تجاوز کرنے والوں) سے حفاظت کرتا ہے لیکن جو جود کرتا ہے وہ قربانی کرتا ہے اور اپنے مسلم حق کو دوسروں پر قربان کرتا ہے۔ بس جود بہتر ہے۔

واقعاً اگر تنہا اخلاقی اور فردی معیارات کے ذریعے دیکھیں تو مطلب اس طرح ہے کہ عدالت سے زیادہ جود و بخشش کرنے میں انسان کا کمال اور اس کے روح کی ترقی ہے لیکن حضرت علیؑ اوپر کی نظر کے برعکس جواب دیتے ہیں فرماتے ہیں ’’العدل الامور مواضعھا و الجود یخرجھا من جھتھا‘‘ عدل ہر چیز کو اپنی طبیعی جگہ پر قرار دیتا ہے لیکن جود چیز کو اپنی طبیعی حالت سے خارج کردیتاہے اس لئے عدالت کا مفہوم یہ ہے کہ طبیعی اور واقعی استحقاق کو دیکھا جائے اور ہر شخص کو اس کے کام اور استعداد اور لیاقت کے مطابق دیا جائے۔

دوسرا یہ کہ ’’العدل سائس عام والجود عارض خاص‘‘ عدالت ایک عام قانون ہے اور ایک کلی مدیر ہے جو تمام اجتماع کو گھیر لیتا ہے اور ایک بڑا راستہ ہے جس سے سب کو گذر جانا ہے لیکن جود و بخشش ایک استثنائی اور غیر کلی حالت ہے جس کے منہ کا حساب نہیں کیا جا سکتا۔ اساساً جود اگر قانونی و عمومی جنبہ پیدا کرلے اور کلیت حاصل کرلے تو اس کو جود نہیں کہیں گے علیؑ نے اس وقت نتیجہ نکالا: فالعدل اشرفھما و افضلھما (۵) بس عدالت اور جود میں جو اشرف و افضل ہے وہ عدالت ہے۔

اس قسم کا فکر انسان کے بارے میں اور انسانی مسائل کے بارے میں ایک خاص قسم کا اندیشہ و سوچ و بچار ہے اور خاص ارزیابی کے تحت ہے۔ اس ارزیابی کا بنیاد اور جڑ و اہمیت اصالت اجتماع ہے وہ ارزیابی یہ ہے کہ اصول اور مبادی اجتماعی اصول اور مبادی اخلاقی پر مقدم ہیں۔

وہ ایک اصل ہے اور یہ ایک فرع، وہ ایک رکن ہے اور یہ ایک زینت و زیور ہے مولا علیؑ کی نظر میں وہ اصل جو اجتماع میں تعادل کو حفظ کرسکتا ہے اور سب کو راضی رکھ سکے اور اجتماع کے پیکر کو سلامتی اور اس کے روح کو آرام دے وہ عدالت ہے۔

ظلم و جور اور تبعیض قادر نہیں ہے کہ حتی خود ستمگر کے روح اور جس کے نفع میں ستم کررہا ہے راضی و آرام میں لاسکے تو کیا مظلومین اور پائمال ہونے والوں کو چین و آرام دے سکتا ہے؟ عدالت ایک بڑا عمومی راستہ ہے جو سب کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے اور بغیر کسی مشکل کے عبور کراسکتا ہے لیکن ظلم و جور ایک تنگ راستہ ہے جو حتی کہ خود ستمگر کو بھی مقصد تک نہیں پہنچاتا۔

معلوم ہے کہ عثمان بن عفان نے ایک حصہ مسلمانوں کے عمومی مال کا اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دیا تھا، عثمان کے بعد مولا علیؑ نے حکومت کے امور کی ڈوری کو اپنے ہاتھ میں لیا۔

مولاء علیؑ کو کہا گیا کہ جو گذر گیا ہے اسے بھول جائیں اور گذشتہ چیزوں سے کوئی کام نہ رکھیں اور اپنی کوشش کو ان حوادث کیلئے محدود کریں جو اس کے بعد آپ کو اپنی خلافت کیلئے پیش آئیں گے۔

لیکن مولا علیؑ نے جواب دیا کہ: ’’الحق لا یبطلہ شیء‘‘ پرانا حق کبھی بھی باطل نہیں ہوتا ہے۔

’’وَاللهِ! لَوْ وَجَدْتُّهٗ قَدْ تُزُوِّجَ بِهِ النِّسَآءُ وَ مُلِكَ بِهِ الْاِمَآءُ لَرَدَدْتُّهٗ فَاِنَّ فِی الْعَدْلِ سَعَةً، وَ مَنْ ضَاقَ عَلَیْهِ الْعَدْلُ، فَالْجَوْرُ عَلَیْهِ اَضْیَقُ.“۔ (۸)
مزید فرمایا کہ خدا کی قسم! اگر اس مال سے اپنے لئے بیویاں لی ہوں یا کنیزیں خریدلی ہوں پھر بھی اس مال کو بیت المال میں لوٹاؤں گا۔ بتحقیق عدل میں وسعت ہے اور جس پر عدل تنگ ہو جائے اس کو جاننا چاہیے کہ ظلم و جور اس سے زیادہ تنگ تر ہے۔

یعنی عدالت ایک ایسی چیز ہے جس کو ایمان کی سرحد کہہ سکتے ہیں اور اس کی حدود پر راضی اور قانع رہ سکتے ہیں، لیکن اگر یہ سرحد توڑ دی جائے اور یہ ایمان چھین لیا جائے اور آدمی کے پاؤں سرحد کی اس طرف پڑ جائیں تو پھر اپنے لئے کوئی حد نہیں پہچانتا جس حد تک بھی پہنچ جائے اپنی طبیعت و شہوت کی تقاضا کے مطابق دوسری حد کا پیاسا اور تشنہ رہتا ہے اور زیادہ نارضایتی کا احساس کرتا ہے۔
(سیری در نہج البلاغہ، مولف، شہید مطہری ص ۱۰۸)

عدل کے بار ے میں مولا علیؑ کیا کہتے ہیں
العدل منھا علی اربع شعب غائص الفھم و غور العلم و نصرۃ الحکم و رساحۃ الحلم، فمن علم، غور العلم و من علم غور الحلم صدر شرائع الحکم ومن حلم لم یفرط فی امرہ و عاش فی الناس حمیدا (نہج البلاغہ)

عدل کی چار شاخیں ہیں گہرائی تک پہنچنے والی فکر اور علمی غور، فیصلہ کی خوبی اور عقل پائیداری چنانچہ جس نے غور فکر کیا وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا وہ فیصلہ کے سرچشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم اور بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام ہوکر زندگی بسر کی۔

مولائے موحدین امیر المومنینؑ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ عدل کی چار شاخیں ہیں ’’غائص الفھم‘‘ ضروری مشکلات کی سمجھ رکھتا ہو جو مومن فہم فراست کا حامل نہیں اس کی کوئی قمیت نہیں فہم و ادراک بہت ضروری ہے۔ ’’غور العلم‘‘ ایسا علم ہو جس کے ذریعے حقائق کی گہرائی میں دوب جائے چیزوں کی حقیقت سمجھ لے تاکہ عدل سے کام لے۔ ’’اذھرۃ الحکم‘‘ حکمت ظاہر رکھتا ہو۔ روشن فکر ہو یعنی حکمت شناس ہو بعض نسخوں میں تفواص آیا ہے جو تعوص سے لیا گیا ہے چنانچہ غوطہ خور سمندر میں جواہرات حاصل کرنے کی غرض سے گہرائی تک اترتا ہے پس مومن کو بھی چاہیے اپنے فہم و ادراک کے ذریعے حقائق کی گہرائی تک رسائی حاصل کر کے حکمت کے گوہر حاصل کرے اور ان سے فوائد حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ مومن کو حلیم و بردبار ہونا چاہیے۔
(ایمان جلد دوم مؤلف: دستغیب ص۳۴۴)

دوسری جگہ پر مولائے الموحدین فرماتے ہیں: (فی العدل صلاح البریۃ والاقتداء بسنۃ اللہ و قال العدل حیوۃ اوالجور ممات) عدل میں لوگوں کی صلاح و مصلحت ہے اور خدا کی روش کی اقتداء اور پیروی بھی ہے اور فرمایا عدالت حیات و زندگی اور ظلم اجتماعی موت ہے
(اصول عقائد ،محسن قرائتی ص۱۰۷)

حضرت علیؑ بے عدالتی کو نہیں دیکھ سکتے تھے
حضرت علیؑ عدالت کو ایک وظیفہ الہی، بلکہ ناموس الہی سمجھتے ہیں اور آپ کو ہر گز گوارا نہیں کہ اسلامی تعلیمات سے آگاہ مسلمان طبقاتی نظام اور بے عدالتی کو تماشائی بنا دیکھتا رہے۔

خطبہ شقشقیہ میں گذشتہ سیاسی حالات کو بیان فرماتے ہیں کہ جب حالات نے پلٹا کھایا تو لوگ قتل عثمان کے بعد آپ کے پاس آئے اور خلافت قبول کرنے کیلئے اصرار کرنے لگے گذشتہ دردناک واقعات اور موجودہ زمانہ کی ناگفتہ بہ حالات کو دیکھتے ہوئے آپ اس سنگین ذمہ داری کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اگر آپ خلافت کو قبول نہ کرتے (ایک طرف) حقائق پامال ہو جاتے اور لوگ کہتے کہ علی کو تو شروع ہی سے خلافت سے رغبت نہیں تھی اور آپ کی نگاہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی (دوسری طرف) اسلام اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتا کہ معاشرہ ظالم اور مظلوم دو حصوں میں بٹ جائے کہ ایک ظالم زیادہ پری کی بنا پر ناراض اور دوسرا (مظلوم و ستم دیدہ) بھو ک کی وجہ سے پریشان ہو۔

ایسی صورت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشائی بنا رہے۔ لہذا آپ نے اس سنگین ذمہ داری کو قبول کرلیا۔

لو لا حضور الحاضر و قیام الحجۃ بوجود الناصر و ما اخذ اللہ علی العلماء ان لا یقادو علی کظۃ ظالم و لا سعب مظلوم لا لقیت جھا علی تماربھاو لسقیت امرھا بکاس اولھا (نہج البلاغہ خطبہ نمبر۳ شقشقیہ) اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو خدا نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلو م کی گرسنگی، بھوک پر سکون و اطمینان سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اس کے کاندھے پر ڈال دیتا اور روز اول کی طرح ایک گوشہ میں بیٹھ جاتا۔
(مطالعہ نہج البلاعہ مولف شہید مطہری ص۱۴۱)

عدالت کو مصلحت پر قربان نہیں ہونا چاہیے!
تبعیض اور رقیق بازی اور لوگوں کے منہ کو بڑے بڑے لقموں سے بند کرنا اور سینا ہمیشہ سیاست کا اوزار شمار کیا جاتا ہے ابھی ایک مرد زمامدار اور سیاست کی کشتی کا چلانے والا ہوا ہے جو اس اوزار کا دشمن ہے اس کا ہدف اس قسم کی سیاست بازی سے مقابلہ کرنا ہے۔ طبعا اسی پہلے دن سے ارباب توقع یعنی وہ ہی سیاسی لوگ، رنجش کرتے ہیں۔ان کی نجس خواب کاری اور تباہکاری کا موجب ہوتی ہے اور درد سر پیدا کرتی ہے۔ خیر خواہ لوگ مولا علیؑ کے پاس آئے اور نہایت ہی خلوص اور خیر خواہی کے ساتھ تقاضا کیا کہ کہ مہم تر مصلحت کی خاطر، اپنی سیاست میں انعطاف اور مہربانی کو شامل کرلیں۔ اور یہ مشورہ دیا کہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے درد سر سے راحت کرلیں ’’دھن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ‘‘ کتے کا منہ لقمے سے بند کر دیں۔ یہ ناقذ تر لوگ ہیں ان میں سے بعض صدر اول کی شخصیات میں سے ہیں :مثلاً تمہارا معاویہ جیسا مد مقابل ہے جو ایک زرخیز صوبہ شام اختیار میں رکھتا ہے۔

کون سا مانع ہے کہ فعلا بخاطر ’’مصلحت‘‘ مساوات اور برابری کے موضوع کو مسکوت عنہ کردیں؟ یعنی اس موضوع سے خاموشی اختیار کرلیں؟ حضرت علی نے جواب دیا: اتامرونی ان اطلب النصر بالجور واللہ مااطور بہ ما سمر سمیر و ام نجم فی السماء نجما لو کان المال لی لسویت بینھم فکیف و انما المال مال اللہ (۶)

تم لوگ مجھ سے چاہتے ہو کہ کامیابی کو تبعیض اور ستمگری و ظلم کی قیمت پر ہاتھ میں لاؤ؟ مجھ سے چاہتے ہو کہ عدالت کو سیاست اور سیادت و بزرگی کی بیاد پر قربان کرو؟ نہیں خداوند متعال کی ذات کی قسم! جب تک دنیا، دنیا ہے ایسا کام نہیں کروں گا اور ایسے کام کے پیچھے نہیں جاؤں گا میں اور تبعیض ؟میں اور عدالت کو پامال کرنا؟

اگر یہ سارا مال جو عمومی ہے اور میرے اختیار میں ہے خود میرا شخصی مال ہوتا اور اس کو لوگوں میں تقسیم کرنا چاہتا تو بھی ہر گز اس میں تبعیض کو جائز نہیں سمجھتا اور تبعیض نہیں کرتا، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مال، مال خدا ہو اور میں خدا کی طرف سے امانتدار ہوں!

یہ ایک نمونہ تھا عدالت کے بارے میں مولا علیؑ کی ارزیابی کا اور یہ ہے عدالت کی ارزش و اہمیت علیؑ کی نظر میں
(سیر در نہج البلاغہ ،مولف شہدی مطہری)

عدالت علی اور ظلم ختم کرنا

مولا علیؑ کی برجستہ اوصاف میں سے ایک عدالت خواہی اور ظلم کو ختم کرنا ہے۔ جسے آنحضرتؑ کے فرزندوں نے بھی نمونہ عمل قرار دیا ہے، کیونکہ انہوں نے بھی ظالموں کے ظلم کے مقابلے میں اور زمانے کے طاقتوروں کی طاقت کے مقابلے میں اپنی کمر خم نہیں کی اور ظلم و ستم کو قبل نہیں کیا۔

امامؑ ایک خط میں اپنے بھائی عقل کو لکھتے ہیں: و لا تحسبن ابن ابیک و لو اسلمہ الناس متضرعا متخشعا و لا مقرا للضیم واھنا (۷) گمان نہ کر کہ تیرے باپ کا بیٹا یعنی (تیرا بھائی) اگرچہ لوگ اسے چھوڑ دیں، ذلت اور خواری میں اپنا تن دے دے یا سستی اور ناتوانی سے ظلم وستم کو قبول کرلے اور دوسری جگہ پر فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: لا یمنع الضیم الذلیل و لا یدرک الحق الابالجد جس نے خواری میں تن دیا ہے وہ ظلم و ستم کو منع نہیں کرسکے گا اور حق کوشش کے علاوہ ہاتھ نہیں آئے گا۔

علیؑ مرد حق تھے اور فقط حق کے اجراء کرنے کے پیچھے تھے اور اس راستے میں کسی سے بھی نہیں ڈرتے تھے فقیر اور غنی حسب و نسب، سیاہ و سفید، عرب و عجم، حاکم و رعیت کو نہیں پہچانتے تھے۔ وہ فقط حق کے مقابلے میں متعھد تھے اور حاضر نہیں تھے کہ سوٹی کی نوک کے برابر بھی عدالت کے راستے سے منحرف ہو جائیں۔ علیؑ نہ تنہا عادل تھے بلکہ اصل عدالت اور اس کا مجسم نمونہ شمارہ ہوتے تھے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’قتل فی محراب عبادتہ لشدۃ عدلہ‘‘ آنحضرتؑ محراب عبادت میں شدت سے عدالت جاری کرنے کی وجہ سے قتل کئے گئے یعنی عدالت کو شدت سے جاری کرنا ان کی شہادت کا سبب بنا۔

علیؑ نے کسی کو بھی بغیر مورد کے امتیاز نہیں دیا آنحضرتؑ ایک کارمند کے بارے میں جس نے عمومی مال (بیت اللہ) میں خیانت کی لکھتے ہیں ’’واللہ لو ان الحسن والحسین فعلا مثل الذی فعلت ما کانت لھما عندی ھوادۃ و لا ظفر امنی بارادۃ حتی اخذ الحق منھما‘‘ خدا کی قسم اگر حسن و حسین علیھما السلام یہ کام کرتے جو تو نے کیا ہے تو بھی ان سے صلح و دوستی نہیں کرتا اور مجھ سے کوئی خواہش و ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ حق کو ان سے لے لیتا۔

فہرست منابع

[۱] قاموس نہج البلاغہ، محمد علی شرقی جز ۳ ص ۲۷۸
[۲] اصول عقائد آقای محسن قرائتی ص ۱۱۴ و ۱۰۷
[۳] ایمان، سید عبد الحسین دستغیب مترجم: سجاد رضوی ج ۲ ص ۲۸۸
[۴] اعتدال، علی کریمیان ص ۱۱
[۵] سیری در نہج البلاغہ شہید مرتضی مطہری ص ۱۰۸، ۱۱۵
[۶] مطالعہ نہج البلاغہ شہید مطہری ص ۱۴۱
[۷] روابط امام علی و خلفاء بہ روایت نہج البلاغہ رجبلی، موسوی، رھدار: ص ۱۱۲

حوالہ جات

[۱] فرہنگ فارسی عمید واژہ اعتدال
[۲] بحوالہ حسین نوری طبرسی: المستدرک الوسائل ج ۱۵ ص ۲۷۲ باب ۲۳
[۳] بحوالہ لقمان ۳۱:۱۹
[۴] نہج البلاغہ حکمت ۴۳۷
[۵] نہج البلاغہ حکمت ۴۳۷
[۶] نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۶
[۷] نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۶ حصہ ۶
[۹] نہج البلاغہ خطبہ ۱۵

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button