مرکزی سلائیڈرمقالات

نہج البلاغہ کا تعارف

کاوش: سید بہادر علی زیدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

فہرست

نہج البلاغہ پر طائرانہ نظر
آغاز کلام
سید رضی کی تعلیم کا آغاز
نکتہ
اساتذہ
علمی آثار
نہج البلاغہ
نہج البلاغہ کی جامعیت
نہج البلاغہ کا اعجاز
نہج البلاغہ کی حیرت انگیز خصوصیت
نہج البلاغۃکی وجہ تالیف
مطالب نہج البلاغہ کی تقسیم بندی
وجہ تسمیہ
نہج البلاغہ کی شرحیں
نہج البلاغہ کے ترجمے
مستدرک نہج البلاغہ
فہرست و معجم نہج البلاغہ
نہج البلاغہ کے خطی نسخے
طرز نگارش
چند شبہات اور ان کے جوابات

نہج البلاغہ پر طائرانہ نظر

ردیف عنوان نام توضیح
1 صاحب نہج البلاغہ امام علی ؑ امیر المومنین، مولائے کائنات
2 مؤلف نہج البلاغہ سید محمد بن ابی احمد حسینی ابو الحسن سید رضی (۴۰۶۔ ۳۵۰ھ)
3 مؤلف نہج البلاغہ ثانی شیخ جعفر حائری یہ کتاب ۱۳۰ خطبوں ، ۷۱ خطوط ۳۶۶ کلمات قصار پر مشتمل ہے
4 اولین شرح نہج البلاغہ سید فضل اللہ راوندی آخرین تحقیق کے مطابق
5 اولین مستدرک نہج البلاغہ التذبیل تالیف عبد اللہ بن اسماعیل بن حلبی
5 اولین معجم الفاظ نہج البلاغہ کتاب "الکاشف” تالیف سید جواد مصطفوی، انہوں نے ۱۱ سال کی محنت سے ۲۰ ہزار کلمات پر مشتمل یہ معجم ترتیب دی ہے
7 قدیمی ترین خطی نسخۂ نہج البلاغہ قم میں آیت اللہ حسن زادہ عاملی کے ذاتی کتابخانہ میں موجود ہے یہ نسخہ ۴۲۱ھ کا تحریر کردہ ہے جبکہ سید رضی نے ۴۰۰ھ میں نہج البلاغہ مرتب کی تھی

آغاز کلام

بھلا کس کے پاس وہ علم کا سرمایہ ہے، کس کی زبان میں وہ طاقت ہے اور کس کے پاس وہ لفظوں کا خزانہ ہے جو حلال مشکلات، مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی ؑ یا ان کے وحیانی کلام کی تعریف و توصیف بیان کرسکے بلکہ خاضعانہ اس بات اس بات کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ ایک معمولی قطرہ علم کے بحر بیکر اں اور ایک ادنیٰ سا ذرہ چمکتے ہوئے سورج کی تعریف کس طرح کرسکتا ہے!
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

یا واصف المرتضی قد صِرتُ فی التیہ
ھیھات ھیھات ممّا تمنیہ (1)

”اے علی مرتضیٰ کی توصیف کے خواہشمند! تو اپنے ذہن میں ایک محال آرزو کو پروان چڑھا رہا ہے، تو ہرگز اس ذات مقدس کی توصیف نہیں کرسکتا، تو ان کے بیکراں صحرائے وجود میں سرگرداں ہوجائے گا“۔

لہذا ہم جیسا بشر نہ آنجنابؐ کی حقیقی تعریف بیان کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کے مقدس کلام کی توصیف کرسکتا ہے، ہم تو صرف تبرکاً و تیمّناً نہج البلاغہ کے تعارف میں اپنی تحریر کے ذریعے اس کی تعریف و توصیف کی ایک جھلک پیش کرسکتے ہیں جو اس کا ادنی تعارف شمار ہوسکتا ہے۔

نہج البلاغہ اس علم و دانش کے بحر ذخّار کا نام ہے جو امیر سخن، شجرۂ نبوت، محل نزول وحی و ملائکہ، گنجینۂ علم و دانش اور مخزن حکمت یعنی علیؑ بن ابی طالب کی پاکیزہ زبان سے جاری ہوا ہے۔ (2) خلق خدا کے درمیان جس کا مقام و مرتبہ چکی کی کیل کی مانند ہے۔ (3) لہذا جس کا حق یہ ہے کہ پوری امت کو اسی کے گرد گھومنا چاہیئے، خود رسول اسلام نے فرمایا: "أقضاکم علی؛ امور قضاوت میں تم میں سب سے دانا علی ؑ کی ذات ہے“۔ (4)

جس طرح امیر المومنین کی ذات گرامی پیغمبر اسلام کے بعد افضل الصحابہ ہی نہیں بلکہ پوری کائنات سے افضل و برتر ہے، اسی طرح قرآن کریم کے بعد آپ کا کلام نہج البلااغہ بھی اعجاز شان کے ساتھ ہر کلام سے اعلیٰ و ارفع حیثیت کا حامل ہے اور دنیا اسے حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے فوق کلام المخلوق تحت کلام الخالق کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔

کسی بھی کتاب کے بھرپور تعارف کے لئے اسے دو پہلو سے جانچا جاتا ہے یعنی اول کتاب کے مؤلف کی علمی و معنوی شخصیت دوئم یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتاب کا طرز نگارش کیا ہے، کسی حد تک نسخے پائے جاتے ہیں، کتاب پر کسی حد تک علمی کام ہوا ہے مثلاً کتاب کا ترجمہ، شرح و حاشیہ تحقیق وغیرہ اور اس کتاب کے منابع و مصادر کیا ہیں۔

لہذا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور نظر کتاب نہج البلاغہ کا ایک مختصر و مفید تعارف کرانے کی سعی کی گئی ہے۔

سید رضی: سید رضی چوتھی صدی ہجری کے نامور شیعہ عالم دین ہیں۔

آپ کا اسم گرامی محمد، کنیت ابو الحسن؛ لقب رضی اور شریف ہے، آپ بغداد کے ایک علاقے بنام کرخ میں ۳۵۹ ہجری میں ایک علمی و پرہیز گار گھرانے میں پیدا ہوئے اور کاظمین میں ۴۰۶ ہجری میں اس دارفانی کو امر الٰہی پر لبیک کہتے ہوئے الوداع کہہ دیا۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں آپ کے والد حسین بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن ابراہیم مجاب بن موسیٰ بن جعفرؑ ہیں جبکہ والدہ گرامی فاطمہ بنت الحسین بن حسن الناصر ابن علی ابن حسن ابن عمر ابن علی ابن حسین ابن علی بن ابی طالب علیہم السلام ہیں۔

سید رضی کی تعلیم کا آغاز

سید رضی کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کا آغاز بھی ایک عجیب انداز سے شروع ہوا ہے۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: نامور عالم فخار بن معد العلوی الموسوی نے مجھ سے بیان کیا ہے:

شیخ مفید ابو عبد اللہ محمد بن نعمان شیعہ فقیہ نے عالم رؤیا میں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ کرخ کی مسجد میں داخل ہوئیں، ساتھ میں ان کے دونوں فرزند امام حسنؑ و امام حسینؑ ہیں، جناب فاطمہ زہراؑ نے سلام کیا اور فرمایا ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دیں۔ شیخ مفیدؒ تعجب کے عالم میں خواب سے بیدار ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو رات کے خواب کی تعبیر اس طرح ظاہر ہوئی، انہوں نے دیکھا کہ فاطمہ بنت ناصر مسجد میں داخل ہوئیں اور ہاتھ پکڑے ہوئے ان کے دونوں فرزند محمد سید رضی اور علی سید مرتضیٰ آرہے ہیں۔

شیخ مفید انہیں دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور سلام کیا، فاطمہ بنت ناصر نے کہا:

اے شیخ مفید! یہ دونوں میرے فرزند ہیں۔ ان کو آپ کی خدمت میں اس لئے لائی ہوں تاکہ انہیں فقہ کی تعلیم دیں۔ شیخ مفید کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رات کا خواب بیان کیا۔ اس کے بعد ان دونوں بچوں کو تعلیم دینے لگے یہاں تک کہ اللہ نے اپنی رحمت سے علم و فضل کے دروازے ان پر کھول دیئے دونوں بھائی دین و دنیا کے مختلف علوم حاصل کرکے درجہ علم و یقین اور کمال تک پہنچے اور علماء و دانشوروں میں علم و ادب کی خدمت کرکے بڑی شہرت پائی۔ (5)

نکتہ

یہاں اگرچہ بات خواب کی ہے لیکن وقت کے سب سے جید، بزرگ عالم، نابغۂ روزگار جن کا علم و ورع میں کوئی جواب نہ ہو، ان کا خواب میں عالم اسلام کی ایسی باعظمت خاتون دیکھنا کہ جن کا حضور سرور کائنات معمول سے زیادہ احترام و اکرام فرماتے تھے، صبح سویرے خواب کے مطابق تعبیر کا ظاہر ہونا، پھر شیخ مفید کا تن من دھن سے ان کی تعلیم و تربیت میں لگ جانا حد سے زیادہ ان دونوں بچوں کی علمی و معنوی کامیابی سے ہمکنار ہونا یہ سب بتاتا ہے کہ یہ خواب اللہ کی جانب سے تھا اور بڑا فضل و شرف اور تائید ان کے شامل حال تھی۔ اب ظاہر ہے یہ عنایات و کرامات جن کے شامل حال ہوں ان کا علم و تقویٰ کس منزل پر ہوگا اس کا اندازہ ان کی علمی کاوشوں اور ان کے بارے میں علماء و دانشوروں کے قلمی آثار سے ہو سکتا ہے۔

اساتذہ

آغوش مادر سے نکل کے بفضل خدا نابغۂ روزگار شیخ مفید جیسے عظیم استاد ملے جو ہر طرح کے علم و فضل اور معلومات کی شکوفائی کا سبب بنے ان کے علاوہ

۱۔ ابو سعید سیرافی (متوفی ۳۶۹ ھ) جو علم نحو میں امام اور استاد الاساتذہ کہے جاتے تھے،
۲۔ ابو الفتح عثمان بن جنی (۳۹۲ھ) جو علم نحو و صرف اور عربی ادب کے ماہر مانے جاتے تھے،
۳۔ عبداللہ مرزبانی ۳۷۸؁ھ مشہور دانشور و مؤرخ، محدث، شاعر، ادیب اور مؤلف تھے،
۴۔ قاضی عبد الجبار اور ابی بکر خوارزمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

سید رضی کی علمی صلاحیت پر علماء و دانشوروں کے تأثرات

بقول ابن ندیم: میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ اپنے اس فن (کلام) میں تمام فرقوں پر برتری رکھتے تھے۔ (6)

نجاشی: آپ کے ممتاز شاگرد نجاشی معترف ہیں کہ فقہ، کلام، روایت، وثاقت اور دیگر علوم میں جتنا مشہور ہیں اس سے کہیں زیادہ ماہر اور صاحب استعداد تھے۔ (7)

شیخ طوسی جیسے آپ کے نابغہ شاگرد کا بیان ہے کہ آپ مذہب امامیہ کے متکلمین سے ہیں اور شیعہ مرجعیت کو ان سے فروغ ملا، فقہ و کلام میں ہر شخص پر سبقت تھی، عالی فکر، دقیق ذہن اور حاضر جواب تھے۔ (8)

علامہ حلی فرماتے ہیں: آپ بڑے پایہ کے فقہاء اور علماء کے استاد رہے، بعد کے آنے والے تمام دانشوروں نے ان کے علوم و فنون سے استفادہ کیا ہے۔ (9)

علمی آثار

۱۔ تلخیص البیان فی مجازات القرآن: اس کتاب کا موضوع مجازات القرآن ہے یعنی ایسی آیتیں جن کا ظاہر مقصود کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر سب سے پہلے آپ ہی نے قلم اٹھایا ہے۔ (10)
۲۔ حقائق التاویل فی متشابہ التنزیل۔ اس کتاب کے بارے میں خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ میں ان کے استاد کے قول کو نقل کیا ہے کہ سید رضی نے معانی قرآن میں ایک ایسی کتاب لکھ دی ہے جس کی مثال لانا مشکل ہے۔ (11)

ان کے علاوہ معانی القرآن، خصائص الائمہ اور دیگر بہت سے ادبی شاہکار موجود ہیں جن میں نہج البلاغہ اپنی مثال آپ ہے۔

نہج البلاغہ

علامہ سید رضی نے بیس سال تک سینکڑوں کتابوں کی تلاش و جستجو کے بعد بکھرے ہوئے آثار کو جمع کرکے ۴۰۰ھ نہج البلاغہ کی شکل میں علم و دانش کا بہترین اور قیمتی مرقع بطور ہدیہ پیش کردیا۔ سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے امام اور علم و حکمت کے موجد باب مدینۃ العلم کے ایسے کلمات کی جمع آوری فرمائی ہے جن کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ ادیبوں کے لئے بلاغت کا منہج بنتا چلا گیا۔

نہج البلاغہ کے خطبوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت کی تہذیب و ثقافت اور اجتماعی رہن سہن میں فصاحت و بلاغت کتنا رچی بسی تھی کہ خالق نہج البلاغہ، امام فصاحت و بلاغت امیر المومنینؑ نے لوگوں کو اس طرح خطاب کیا تاکہ سامعین اور قارئین کے دل میں بات جاگزین ہو جائے، کلام کی خوبصورتی اور اچھے اسلوب کو دیکھ کر لوگوں کے اذہان ملتفت رہیں۔

خطبوں میں لطیف تعبیر، حسن ترکیب، لفظ کی زیبائی اور معنی کی بلند پردازی سے پڑھنے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سامع خود وہاں پر موجود ہے۔ اور بلاغت بھی کیا ہے! سننے والے کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا کلام یا خطاب جو سننے اور پڑھنے والے میں ایک مطلوب اثر چھوڑے۔ مختصر یہ کہ بلاغت میں جہاں چاہے خطیب بیان کو طولانی کردے اور جہاں چاہے اختصار سے کام لے۔ سید رضی نے جو مجموعۂ کلام جمع کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ امام علی ؑ کا کلام اس تعریف کا بہترین مصداق ہے۔ امام جہاں مناسب ہوتا ہے کلام طولانی کرتے ہیں تاکہ بات سامع کے ذہن پر نقش ہوجائے۔ ساتھ ہی ایک معنی کو مختلف عبارتوں میں ذکر کرتے ہیں۔ ہر عبارت ایک نئے نکتہ تک پہنچاتی ہے۔ ہر فقرہ میں درسِ عبرت اور سننے والے کے فہم و علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ امام ایسا خطبہ دیتے ہیں کہ جس میں دین و دنیا کی منفعت مقصود ہوتی ہے۔ غرض نہج البلاغہ علوم و معارف اور فصاحت و بلاغت کا ایسا بحر بیکراں اور عظیم سرمایہ ہے جس کی اہمیت و عظمت ہر دور میں مسلم رہی ہے اور ہر عہد کے علماء ادباء اور دانشوروں نے اس کی بلند پائیگی کا یوں اعتراف کیا ہے کہ ہر سمت سے فوق کلام المخلوق اور تحت کلام الخالق کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

نہج البلاغہ کی جامعیت

نہج البلاغہ کی جامعیت و ہمہ گیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اگرچہ مستقل ایک موضوع پر کتاب نہیں ہے لیکن اس کا دائرہ علم نہایت وسیع شواہد حکمتیں اور امثال موجود ہیں۔ اس میں طبیعات و مابعد الطبیعات، الہیات و ریاضیات، معاشیات و نفسیات، اخلاق وحکم، مواعظ وغیرہ، تدبیر منزل و سیاستِ مُدن، فلکیات و ارضیاب حال و استقبال، قرآن و تفسیر، معانی و بیان، بدیع، سجع، جناس، تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مراعات النظیر سب ہی کچھ موجود ہے۔

نہج البلاغہ کا اعجاز

دنیا کے تمام انشا پردازوں، منبر نشین خطیبوں اور فلسفۂ و حکمت، شعر و شاعری، اخلاق و آداب اور وعظ و نصیحت جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کرنے والوں کے افکار کا جائزہ لیجئے اور اس حقیقت سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ طبقات کے اختلاف اور زمانوں کے تفرقوں نے ان کے انداز تعبیر پر کیا کیا اثر ڈالے ہیں ان کی تصنیفات کا غائر نظر سے مطالعہ فرمائیے تو آپ کو یہ حقیقت نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ کارساز فطرت نے ان میں سے ہر ایک کو اس کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق ایک مخصوص ذوق سے سرفراز فرمایا ہے، کسی کے خزانۂ استعداد میں مقالات نگاری کے جوہر ودیعت کئے ہیں تو کسی میں مکاتیب و مراسلات پر خامہ فرسائی کی بہترین قابلیت، کسی کی علمی آغوش کو نثر نگاری کے امتیاز سے مالا مال کیا ہے تو کسی کے فانوس کمال میں علمی آغوش کو نثر نگاری کے امتیاز سے مالا مال کیا ہے تو کسی کے فانوس کمال میں نظم کی درخشاں شمعیں روشن کی ہیں لیکن یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ جب ایک بہترین مقالہ نگار مراسلہ نگاری کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو اس کے کمال کی روشنی دھندلی پڑجاتی ہے، ایک المیہ نگار جب المیہ نگاری کی منزل سے ہٹ کر مزاحیہ نگاری کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا کوئی فلسفی، فلسفی مضامین لکھتے لکھتے جب پند و نصیحت کی طرف رخ کرتا ہے تو اس کے قلم کی روانی میں فرق پیدا ہوجاتا ہے، نہج البلاغہ میں مختلف موضوعات و مختلف عناوین پر انسانی عقل کو متحیر بنا دینے والی فصاحت و بلاغت کے پیرائے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ ابتداء سے انتہاء تک ایک ایسی لڑی کی مانند ہے جس کا ہر موتی آب و رنگ میں یکسانیت کا حامل ہو، اسی لئے اِسے اسلوب بیان کی یک رنگی اور طرز بیان کی بلاغت کے اعتبار سے ایک اہم ترین ادبی معجزے کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

نہج البلاغہ کی حیرت انگیز خصوصیت

کسی بھی کتاب کو پڑھ کر اس کے مصنف کے مخصوص علم کا پتہ چل جاتا ہے مثلاً بہترین شاعری کی کتاب دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی بہترین شاعر کا کلام ہے، ادبی کتاب سے اس کے مؤلف کا ادیب ہونا معلوم ہوتا ہے بہترین ریاضی کی کتاب سے ریاضی دان کا پتہ چلتا ہے اسی طرح ہر کتاب اپنے مصنف کے خاص علم کا پتہ دیتی ہے لیکن نہج البلاغہ علوم و معارف کا ایسا مجموعہ ہےجس کے بارے میں خود سید رضی فرماتے ہیں:

اگر کوئی امام کے زہد و تقویٰ میں غور و فکر کرے اور یہ علم نہ ہو کہ یہ کسی ایسے صاحب اقتدار کا کلام ہے جس کی حکومت ساری دنیا پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو بلاشبہ کہے گا یہ ایسے انسان کا کلام ہے کہ جن کا تقویٰ و عبادت کے سوا کوئی اور مشغلہ ہی نہ ہوگا۔ گھر کے گوشہ تنہائی یا پہاڑ کے دامن اور غاروں میں پناہ لیکر ہمیشہ اپنی ہی فکر میں سرگرداں رہتا ہوگا۔ ہرگز یہ گمان نہ کرے گا کہ یہ سارے کلام ایسے مرد مجاہد کے ہیں جو میدان جنگ کا سب سے بڑا سورما تھا۔ جو ظالموں کی گردنوں کو تلوار سے جدا کرکے بڑے بڑے شہ زوروں کو خاک و خون میں غلطاں کرکے فاتح پلٹتا تھا۔ روئے زمین کے تمام لوگوں سے شجاع، پرہیز گاروں میں سب سے ممتاز اور ولیوں میں سب سے فائق تھا۔ آپ کی فضیلت ایسی عجیب فضیلتوں اور لطیف خصوصیتوں میں شامل ہے جس کی وجہ سے آپ کے اندر متضاد صفات اور بکھرے ہوئے کمالات جمع ہوگئے۔

نہج البلاغہ وجہ تالیف

دنیا کا کوئی عام سے عام آدمی بھی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس کے کام کی کوئی نہ کوئی وجہ ضروری ہوتی ہے لہذا جب کوئی عام آدمی بھی بغیر کسی سبب و ہدف کے کوئی سادہ سا کام انجام نہیں دیتا تو پھر پڑھا لکھا سمجھدار، عالم و فاضل کسی کام کو بغیر ہدف کے کیسے انجام دے سکتا ہے۔ یہی حال اہل قلم حضرات، مؤلفین، مصنفین، مترجمین، مؤرخین، محدثین و مفسرین وغیرہ کا ہے انہوں نے اپنی ہر تحریر کو کسی نہ کسی مقصد اور ہدف کے تحت رقم کیا ہے جس کا اندازہ ان کی تحریر کے مطالعہ سے ہوجاتا ہے، انہی میں سے ایک فاضل و فہیم اور نامور عالم باعمل سید رضی شریف ہیں جنہوں نے نہج البلاغہ کو ترتیب دیا ہے اس کتاب بے مثال کی وجہ تالیف کے بارے میں خود سید رضی نہج البلاغہ کے مقدمہ میں رقمطراز ہیں:

میں نے عنفوان زندگی کی شادابی میں ”خصائص ائمہ“ نامی کتاب کی تالیف شروع کی جو انہیں حضرات کے گلستان علم و ادب اور نورانی کلمات پر مشتمل تھی جس چیز نے مجھے اس تالیف پر ابھارا، میں نے دیباچہ میں ذکر کیا، وہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے خصائص سے متعلق تھا اس کو مکمل کیا لیکن زمانہ کی مزاحمتوں اور گردش ایام کی رکاوٹوں نے کتاب مکمل نہ ہونے دی۔ بہر کیف جتنا حصہ لکھا تھا چند ابواب و فصول میں تقسیم کیا اور آخری فصل کو امام کے کلمات قصار جو پند، حکمت، امثال اور اخلاقیات کے حسین شاہکاروں پر مبنی تھا۔ طولانی خطبات اور بسیط مکاتبات درج نہ تھے۔ احباب و برادران نے جمع شدہ مطالب کی لطافت، زیبائی اور بدیع اسلوب دیکھ اظہار حیرت کیا اور مجھ سے ایک ایسی کتاب تالیف کرنے کی خواہش کی جو امام علی ؑ کے تمام مجموعہ خطبات، رسائل اور موعظہ جس میں فصاحت و بلاغت کے نئے اسلوب، عربی لسانیات کے نمایاں شاہکار جو دین و دنیا میں مفید اور کارآمد ہوں۔ جو نہ کسی کلام میں فراہم اور نہ کسی کتاب میں میسر ہوں کیونکہ امام علی ؑ فصاحت کاسرچشمہ اور بلاغت کا منبع تھے۔ امام نے فصاحت و بلاغت کے اصول سکھائے اور ہر خطیب و متکلم نے آپ ہی کے نہج پر چل کر ان حضرت سے مدد حاصل کی اس لئے ان کے بیان کو سارے کلاموں پر سبقت اور برتری حاصل ہے۔

آپ کے کلام میں علم خدا کا نور اور ارشاد نبوی کی خوشبو ہے لہذا اس عظیم امر کو اس یقین کے ساتھ قبول کیا کہ یہ نیک فال اور آخرت کے لئے بابرکت ذخیرہ ہوگا۔ اسی تالیف کے ذریعے میں نے چاہا کہ میں امیر المومنین کی خطابت و فن بلاغت میں رفعت و برتری کو ظاہر کروں جو آپ کی بے شمار خوبیوں اور ان گنت فضیلتوں کے علاوہ ہے اور آپ تمام سلف اولین و گذشتہ علماء میں تنہاء ایسے فرد تھے جو کمال ادب کے اوج پر پہنچے ہوئے تھے۔ آپ کا کلام ایک ایسا ٹھاٹیں مارتا ہوا علم کا گہرا سمندر تھا جس کی گہرائی تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔

سید رضی اس موقع پر مقام افتخار میں کہتے ہیں: میرے لئے جائز و خوشگوار ہوگا کہ میں حضرت کی طرف اپنی نسبی استناد کی بنا پر فخر کرتے ہوئے فرزدق کا شعر بطور مثال پیش کروں:

أولئِکَ آبَائِی فجِئنِی بِمِثلِھِم
اِذَا جَمَعَتنٰا یا جُرَیر المُجَامع

اے جریر! یہ ہیں میرے آباء و اجداد والا صفات کہ جب بھی کسی نشست میں اہل علم و فضل جمع ہوں تو ان کی کوئی مثال (نہیں لاسکتا اور اگر) ہو تو لاؤ!

مطالب نہج البلاغہ کی تقسیم بندی

مطالب نہج البلاغہ کی تقسیم بندی کے سلسلہ میں سید رضی فرماتے ہیں:
میری نظر میں حضرت کا کلام تین بنیادی قسموں پر مشتمل ہے۔

۱۔ خطبات و احکام (فرمان)
۲۔ مکتوبات و رسائل
۳۔ حکم و نصائح

میں نے بتوفیق الٰہی پہلے خطبات پھر خطوط اور کلماتِ قصار کا انتخاب کرکے ہر ایک کو مستقل باب میں مرتب کیا ہے اور ہر باب کے درمیان چند اوراق سادہ چھوڑ دیئے ہیں تاکہ جو کلام مجھ سے چھوٹ جائے اور بعد میں ہاتھ آئے، اس کا اندراج ان میں ہوجائے اور ایسا کلام جو روزمرہ کی گفتگو یا کسی سوال کے جواب میں یا کسی دوسرے مقصد کے لئے ہو، جو اقسام مذکورہ اور میرے قرار داد قاعدے سےخارج ہو، اسے اس باب میں درج کردیا جائے جو اس کے مناسب اور مقاصد سے نزدیک ہو۔

علماء نے نہج البلاغہ میں خطبات کی تعداد ۲۴۱، کتب و رسائل ۷۹ اور کلمات قصار ۴۸۰ بیان کی ہے۔

وجہ تسمیہ

ممکن ہے نہج البلاغہ کا نام سننے کے بعد کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہوجائے کہ جب اس میں خطبات، مکتوبات اور حکمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے تو اس کا نام نہج البلاغہ کیوں رکھا ہے؟

سید رضی نے قبل از سوال خود ہی اس کا جواب نہج البلاغہ کے مقدمہ میں درج فرما دیا ہے آپ فرماتے ہیں:

اس کتاب کے مکمل ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کا نام نہج البلاغہ رکھوں۔ کیونکہ یہ کتاب بلاغت کے دریچوں کو کھولتی ہے اور تلاش کرنے والوں کو فصاحت سے نزدیک کرتی ہے، اس سے جہاں عالم و متعلم اپنی علمی تشنگی کو بجھا سکیں گے وہیں اہل فصاحت و بلاغت اور صاحبان ایمان بھی اپنے مقاصد کو پاسکیں گے۔

اس کتاب میں توحید، عدل، نبوت اور خدا کے جسم و جسمانیت سے منزہ و مبرا ہونے کے متعلق عجیب و غریب کلام ملیں گے، جو ہر تشنگی سے سیرابی، ہر مرض سے شفایابی اور ہر شبہ کو دفع کرنے والے ہیں۔

یاد رہے کہ نہج کے لغوی معنی، روشن راستہ ہیں لہذا نہج البلاغہ یعنی جو بلاغت کی راہوں کو آشکار کرتا ہے۔

نہج البلاغہ کی شرحیں

کسی بھی کتاب کی عظمت و اہمیت اور جامعیت و ہمہ گیری کا اندازہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ کس حد تک اس پر شرحیں اور تفسیر یں لکھی گئی ہیں۔ کتب خانوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ طول تاریخ میں علماء و افاضل نے نہج البلاغہ کی اہمیت کو محسوس اور اس کے مطالب و مفاہیم کی جامعیت کا اندازہ کرتے ہوئے گرانقدر شرحیں رقم کی ہیں اگرچہ ان میں سے قلیل تعداد ہی ہم تک پہنچ سکی ہیں۔

۱۔ علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف ”الذریعہ“ میں نہج البلاغہ کی ۱۰۰ شرحوں کا تذکرہ کیا ہے۔
۲۔ علامہ امینی نے کتاب ”الغدیر“ میں ۸۱ شرحوں کا ذکر کیا ہے۔
۳۔ سید عبد الزہرا حسینی کتاب ”مصادر“ میں ۱۴۳ شرحوں کا تذکرہ کیا ہے۔
۴۔ شیخ حسن جمعہ نے ایران و عراق اور لبنان وغیرہ کے کتب خانوں میں چھان بین کرکے ۲۱۰ شرحوں کے نام تلاش کئے ہیں۔ (12)

نہج البلاغہ کے ترجمے

نہج البلاغہ علوم و معارف کا ایسا گرانبہا سرمایہ ہے جس کے مطالب عرب دنیا ہی کی ضر ورت کو پورا کرنے کے لئے نہیں تھے یا اس کی عالمی و آفاقی پیغام کو صرف شیعہ مذہب ہی نے محسوس نہیں کیا بلکہ اس کی علمی اہمیت کے پیش نظر شیعہ و سنی یہاں تک کہ غیر مسلم دانشوروں نے اپنی عوام کو اس کے معارف سے روشناس کرنے کے لئے اپنی اپنی زبانوں میں ترجمے کئے ہیں۔ اب تک دنیا کی متعدد زبانوں مثلاً فارسی، اُردو، جرمنی، انگلش، اٹالین، آلبانی، اسپانیائی، فرانسوی، روسی، بوسنی، ترکی، ہندی اور سندھی وغیرہ میں ترجمے منتشر ہوچکے ہیں۔

مستدرک نہج البلاغہ

حضرت علی ؑ کا مکمل کلام صرف نہج البلاغہ ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس میں آنجاب کے کلام کا بعض حصہ موجود ہے جیسا کہ خود سید رضی نے نہج البلاغہ کے مقدمہ میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ میں آنجناب کے کلام کا مکمل احصاء نہیں کرسکا بلکہ جتنا مجھے مل سکا ہے میں نے اس میں سے انتخاب کیا ہے۔ اس بنا پر بعض علماء و افاضل نے حضرت علی ؑ کے اس کلام کو جمع کرنا شروع کردیا جو نہج البلاغہ میں کسی بھی وجہ سے درج نہیں ہو سکا لہذا نہج البلاغہ کے اصول و ضوابط کے مطابق مستدرک نہج البلاغہ کی تالیف کا عمل انجام پایا۔

مختلف بے شمار کتب میں آنجناب کے کلمات کی تلاش خود ایک نہایت سخت و دشوار کام تھا لیکن اس کے باوجود گرانقدر آثار تالیف کئے گئے البتہ اس سلسلہ کی قدیم تالیفات کے صرف نام باقی رہ گئے ہیں لیکن دور حاضر میں جدید تالیفات ترتیب دی گئی ہیں جن میں بعض ذیل میں مذکور ہیں:

۱۔ مستدرک نہج البلاغہ تالیف ہادی کاشف الغطاء وفات ۱۳۶۱ھ
۲۔ نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ محمد باقر محمودی، اس کی آٹھ جلدیں چھپ چکی ہیں۔
۳۔ نہج البلاغہ الثانی، جعفر حائری تاریخ نشر ۱۴۱۰ھ

فہرست و معجم نہج البلاغہ

جہاں نہج البلاغہ سے خاطر خواہ استفادہ کرنے کے لئے اس کی شرحیں، ترجمے، اور مصادر ومسانید وغیرہ پر تحقیقی قلم اٹھائے گئے ہیں وہیں اس سے بھرپور مستفید ہونے اور تحقیق و مطالعہ کے لئے اس کی مکمل فہرست بندی، مطالب کی موضوعی طبقہ بندی اور تفصیلی لغات و معجم ترتیب دی گئی ہیں مثلاً:

نمبر نام کتاب مؤلف توضیح
۱ کشف الستارہ عن نہج البلاغہ احمد کاشانی ترتیب الفاظ کے مطابق
۲ الکاشف عن الفاظ نہج البلاغہ من شروحیہ سید جواد مصطفی اشتقاق لغات کے مطابق
۳ الدلیل علی موضوعات نہج البلاغہ علی انصاریان تنظیم موضوعی
۴ الہادی علی موضوعات نہج البلاغہ علی مشکینی موضاعات نہج البلاغہ کی الفبائی ترتیب
۵ المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ سید کاظم محمدی و محمد دشتی الفاظ نہج البلاغہ کے مطابق
۶ تصنیف نہج البلاغہ لبیب بیضون موضوعی ہے
۷ معجم الموضوعی نہج البلاغہ اویس کریم محمد موضوعی ہے
۸ فرہنگ آفتاب عبد المجید معادیخواہ مفاہیم نہج البلاغہ کی تفصیلی لغت

نہج البلاغہ کے خطی نسخے

سید نے جس بھرپور توجہ اور خلوص دل سے نہایت جانفشانی و عرق ریزی کے بعد حضرت علیؑ کے کلام کو نہج البلاغہ کی شکل میں جمع کیا یقیناً ان کی یہ سعی و کوشش بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئی اسی لئے اس عظیم کتاب نے علمی فضاء میں بہت جلد اپنا مقام حاصل کرلیا اور دنیائے علم و ادب نے اس کی علمی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر اس کے قلمی نسخے تیار کرنا شروع کردیئے تاکہ آنے والی نسلوں تک اس عظیم میراث کو منتقل کرسکیں۔

اس لئے پرنٹنگ مشینوں کی ایجاد سے پہلے خطی نسخوں کی صورت میں کثیر تعداد میں تیار کی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے اور یہی وجہ ے کہ آج ہمارے زمانے تک دنیا بھر کے کتاب خانوں میں نہج البلاغہ کے خطی نسخے جابجا موجود ہیں۔ آج بھی نہج البلاغہ کا سب سے قدیم نسخہ آیت اللہ حسن زادہ عاملی کے شخصی کتاب خانہ میں موجود ہے جو ۴۲۱ھ یعنی نہج البلاغہ کی تالیف کے ۲۱ سال بعد تحریر کیا گیا تھا۔

نہج البلاغہ کے یہ خطی نسخے آئر لینڈ، لندن، امریکا کے مختلف شہروں، لاس اینجلس، نیو جرسی، اس کے علاوہ پیرس، واٹیکان، ترکی، علی گڑھ، رامپور، پٹنہ، بغداد، موصل، مصر، دمشق، قاہرہ، مشہد، تہران، شیراز، اصفہان اور قم وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

طرز نگارش

سید رضی نے نہج البلاغہ کے نقل مطالب میں صرف سترہ موارد میں وہ بھی کلی طور پر اسناد کا تذکرہ کیا ہے، (13) اسی لئے بہت سے علماء نے نہایت تلاش و جستجو کرکے مختلف شیعہ سنی کتب سے ان کی اسناد کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں ہم آئندہ منابع و مصادر کی بحث میں پیش کریں گے۔

منابع و مصادر نہج البلاغہ

کسی بھی صاحب قلم کی تحریر کو دیکھنے کے بعد ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تحریر خود اس کے ذہن کی تخلیق ہے یا اس نے کسی کی بات کو کسی دوسرے سے نقل کیا ہے۔ اگر اس کا اپنا کلام نہیں ہے تو پھر اس کی تحریر کا منبع و مصدر کیا ہے۔ لہذا ہر صاحب قلم اپنی تحریر کو مستند و مستحکم بنانے کے لئے اپنی تحریر کے حوالہ جات اور منابع کا ضرور تذکرہ کرتا ہے۔

لیکن جب ہم منظور نظر کتاب پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سید رضی نے مطالب کو نقل کرنے میں مصادر کا ذکر نہیں کیا ہے تو کیا منابع و مصادر کے ذکر نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ کتاب اپنا اعتبار کھو سکتی ہے؟ اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ امیر المومنین کا کلام نہیں بلکہ سید رضی کی تصنیف ہے؟

اس کے جواب میں اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ابو عثمان جاحظ ۲۵۵ھ جن کو عربی اداب کا امام اور علامہ مسعودی نے فصیح ترین قلمکار جانا ہے، امام کے اس فقرہ ”قیمۃ کل امریءٍ ما یُحسِنہ؛ ہر انسان کی قیمت بس اتنی ہے جتنا وہ علم رکھتا ہے“ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ اگر اس کتاب سے اس ایک جملے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا جب بھی ہم اس کی سند سے مطمئن اور بے نیاز ہوجاتے کیونکہ یہی جملہ نتیجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ سب سے بہترین کلام وہ ہوتا ہے جس کا مختصر سا جملہ سامع کو بہت طولانی کلام سے بے نیاز کردے۔ (14)

سید رضی نے نہج البلاغہ کی جمع آوری میں اگرچہ مصادر کو ذکر نہیں کیا ہے لیکن اہل علم و تحقیق آج اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ سید رضی کے زمانے میں آج سے زیادہ منابع موجود تھے۔ سید رضی کے بعد بغداد میں کتابخانہ کو جلانے کا جو حادثہ پیش آیا اس میں کہا جاتا ہے کہ ۸۰ ہزار جلد نفیس کتابیں جلادی گئیں۔ وہ بھی آج کے زمانے کی طرح ایسا نہیں تھا کہ ہر جگہ ہر کتابخانہ میں وہ نسخے موجود ہوں بہت سی غیر مطبوعہ کتابیں تھی، بہت سی ایسی کتابیں جو حکمرانوں نے قدرت و سلطنت اور حکومت کے بل بوتے پر ہندوستان سے لیکر افریقہ تک اور ہر وہ جگہ جہاں دسترسی ممکن ہوئی کتبِ مراجع یا اس کی نقل کو جمع کر لیا تھا۔ غرض اس زمانے کی بہترین کتابیں سید رضی کے اختیار میں تھیں۔ یہ بھی یقین ہے کہ وہ ساری کتابیں ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔ پھر بھی بہت سے ایسے مصادر کی جمع آوری ہوچکی ہے جو سید رضی کی حیات سے قبل موجود تھے۔

رجال کبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ زید بن وہب جہنی متوفی ۹۶ھ میں جو خود حضرت علی کے روات احادیث میں سے ہیں آپ کے خطبوں کو بنام ”خطب امیر المومنین علی ؑ المنابر فی الجمع و الاعیاد“ جمع کیا۔ ان کے علاوہ بھی مختلف علماء نے جو سید رضی سے پہلے تھے یا حضرت علیؑ کے مجموعہ کلام کو جمع کیا ہے یا بعض کلام کا تذکرہ کیا ہے جنہیں تاریخ و ادب اور رجال وغیرہ کی کتب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اسناد و مدارک نہج البلاغہ کو مفصل بیان کرنے کے لئے علماء نے اس موضوع پر مندرجہ ذیل مستقل کتابیں تالیف فرمائی ہیں:

۱۔ مدارک نہج البلاغہ و رفع الشبہات عنہ ہادی کاشف الغطاء وفات ۱۳۶۱ھ
۲۔ مصادر نہج البلاغہ فی مدارک نہج البلاغہ سید ھبۃ الدینی حسینی شہرستانی وفات ۱۳۸۶ھ
۳۔ استناد نہج البلاغہ امتیاز علی خان عرشی ۔
۴۔ مصادر نہج البلاغہ سید عبد الزہراء حسینی وفات ۱۴۱۵ھ
۵۔ مدارک نہج البلاغہ عبد اللہ نعمۃ معاصر
۶۔ پژوھشی در اسناد و مدارک نہج البلاغہ سید محمد مہدی جعفری معاصر
۷۔ بررسی نہج البلاغہ و اسناد آن سید جواد مصطفوی معاصر
۸۔ بحثی کوتاہ پیراموں نہج البلاغہ رضا استادی معاصر
۹۔ روش تحقیق در اسناد و مدارک نہج البلاغہ محمد دشتی معاصر
۱۰ اجازات نہج البلاغہ عزیز اللہ عطاردی معاصر

یہاں ذیل میں ان کتابوں کا حوالہ بھی نقل کیا جارہا ہے جن میں نہج البلاغہ میں پائے جانے والے ارشادات امیر المومنین کا حوالہ دیا گیا ہے اور ان کا زمانہ نہج البلاغہ کی تالیف سے یقیناً مقدم ہے بلکہ اکثر مؤلفین کی وفات بھی سید شریف رضی کی ولادت سے پہلے واقع ہوگئی تھی۔ جس کے بعد یہ تصور انتہائی جاہلانہ بلکہ احمقانہ ہے کہ ان کلمات و ارشادات کو سید رضی نے اختراع کیا ہے اور ان کا امیر المومنین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیا اس کا بھی کوئی امکان ہے کہ انسان دنیا میں آنے سے پہلے کلمات و بیانات مؤلفین کے اذہان تک منتقل کردے اور ان کی کتابوں میں درج کردے!؟

ایسا ہو سکتا ہے تو یہ بھی سید رضی کے معجزات میں شمار ہوگا جس کا اسلامی دنیا میں کوئی امکان نہیں پایا جاتا۔ (15)

نمبر شمار کتاب مولف وفات مولف کیفیت
۱ کتاب اثبات الوصیہ مسعودی ۳۰۳ھ ۵۶ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲ الاخبار الطوال ابو حنیفہ دینوری ۲۹۰ھ ۶۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳ الاشتقاق ابن ورید ۳۲۱ھ ۳۸ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴ اعجاز القرآن باقلانی ۳۷۲ھ ۲۸ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۵ کمال الدین صدوقؒ ۳۸۱ھ ۲۰ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۶ اغانی ابو الفرج اصفہانی ۳۵۶ھ ۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۷ امالی زجاجی ۳۲۹ھ ۳۰ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۸ الامامۃ و السیاسۃ ابن قتیبہ ۲۷۶ھ ۸۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۹ الامتاع و الموانسہ ابوحیان توحیدی ۳۸۰ھ ۲۰ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۱۰ انساب الاشراف بلاذری ۲۷۹ھ ۸۰ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۱ الاوائل ابو ہلال العسکری ۳۹۶ھ ۵ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۱۲ البخلاء ابو عثمان الجاحظ ۲۵۵ھ ۱۰۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۳ البدیع ابن المعتز ۲۹۶ھ ۶۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۴ بصائر الدرجات الصفار ۲۹۰ھ ۶۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۵ البلدان ابن الفقیہ ۳۰۰ھ ۵۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۶ البیان و التبیین الجاحظ ۲۵۵ھ ۱۰۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۷ التاریخ یعقوبی ۲۸۴ھ ۷۵ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۱۸ تحف العقول ابن شعبہ حرانی ۳۸۰ھ ۲۰ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۱۹ البصائر و الذخائر ابوحیان توحیدی ۳۸۰ھ ۲۰ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۲۰ تفسیر العیاشیؒ ۳۰۰ھ ۵۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۱ توحید صدوقؒ ۳۸۱ھ ۱۹ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۲۲ ثواب الاعمال صدوقؒ ۳۸۱ھ ۱۹ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۲۳ الجمل مدائنی ۲۲۵ھ ۱۳۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۴ الجمل واقدی ۲۰۷ھ ۱۵۲ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۵ جمہرۃ الانساب الکلبی ۲۰۴ھ یا ۲۰۶ھ ۵۵ یا ۱۵۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۶ جمہرۃ الامثال ابو ہلال عسکری ۳۹۵ھ ۵ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۲۷ خصائص نسائی ۳۰۳ھ ۵۶ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۸ الخطب المعرّبات ابراہیم بن ہلال ثقفی ۲۸۳ھ ۷۶ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۲۹ خطب امیر المومنین ؑ زید بن وہب جہنی ۹۶ھ ۲۶۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۰ خطبۃ الزہراء لامیر المومنینؑ ابی مخنف بن سلیم ازدی ۱۵۷ھ ۲۰۲ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۱ خطب امیر المومنینؑ واقدی ۲۰۷ھ ۱۵۲ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۲ خطب علی ؑ نصر بن مزاحم ۲۰۲ھ ۱۵۷ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۳ خطب علی کرم اللہ وجہہ ابو منذر بن الکلبی ۲۰۵ھ ۱۵۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۴ خطب علی وکتبہ الی عمالہ المدائنی ۲۲۵ھ ۱۳۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۵ خطب امیر المومنینؑ ابن الخالد الخرّاز الکوفی ۳۱۰ھ ۴۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۶ خطب امیر المومنینؑ القاضی نعمان المصری ۳۶۳ھ ۳۷ قبل تالیف نہج البلاغہ
۳۷ دعائم الاسلام القاضی نعمان المصری ۳۶۳ھ ۳۷ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۳۸ دلائل الامامۃ الطبری ۳۱۰ھ ۴۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۳۹ روضۃ الکافی الکلینی ۳۲۵ھ ۳۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۰ الزواجر و المواعظ ابن سعید العسکری ۳۸۲ھ ۱۸ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۴۱ کتاب صفین الجلودی ۳۳۲ھ؁ ۲۷ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۲ کتاب صفین ابراہیم بن الحسین المحدث ۲۸۱ھ ۷۸ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۳ کتاب صفین نصر بن مزاحم ۲۰۲ھ ۱۵۷ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۴ الطبقات الکبریٰ ابن سعد ۲۳۰ھ ۱۲۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۵ العقد الفرید ابن عبد ربہ ۳۲۸ھ ۳۱ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۶ غریب الحدیث ابن سلام ۲۲۳ھ ۱۳۶ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۷ غریب الحدیث ابن قتیبہ ۲۷۶ھ ۸۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۸ الفاضل المبرد ۲۵۸ھ ۱۰۱ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۴۹ الفتوح ابن اعثم ۳۱۴ھ ۴۵ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۰ فتوح البلدان بلاذری ۲۷۹ھ ۸۰ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۱ الفرج بعد الشدۃ التنوخی ۳۸۴ھ ۱۶ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۵۲ قوۃ القلوب ابو طالب المکی ۳۸۶ھ ۱۴ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۵۳ الکامل الازدی البصری ۲۸۵ھ ۷۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۴ المجالس الثعلب ۲۹۱ھ ۶۸ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۵ المحاسن البَرقی ۲۷۶ھ؁ ۸۵ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۶ المحاسن و الاضداد الجاحظ ۲۵۵ھ ۱۰۴ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۷ الموفقیات الزبیر بن بکار ۲۵۶ھ ۱۰۳ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۵۸ الموفق المرزبانی ۳۷۷ھ ۲۳ سال قبل تالیف نہج البلاغہ
۵۹ نقض العثمانیہ ابو جعفر محمد بن عبد اللہ المعتزلی ۲۴۰ھ ۱۱۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۶۰ الوزراء و الکتاب الجھثیاری ۳۳۱ھ ۲۸ سال قبل ولادت سید رضیؒ
۶۱ الولاۃ و القضاۃ الکندی ۳۵۰ھ ۹ سال قبل ولادت سید رضیؒ

اس کے علاوہ بے شمار مولفین و مصنفین جنہوں نے اپنی کتاب میں نہج البلاغہ میں نقل ہونے والے کلمات کا حوالہ دیا ہے لیکن چونکہ ان کا زمانہ سید رضیؒ کا ہم زمان یا ان کے بعد کا ہے اس لئے ان کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔

علامہ عبد العزیز الخطیب نے اس ذیل میں ۱۸۰ کتابوں کا حوالہ دیا ہے اور انہیں کو نہج البلاغہ کے مصادر میں پیش شمار کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سیکڑوں علماء اعلام اور محققین کے اس بیان کے بعد کہ یہ فقرات و ارشادات امیر المومنینؑ کے ہیں یافعی یا ان کے جیسے بے خبر یا متعصب افراد کے اس پروپیگنڈہ کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی ہے کہ یہ کلام سید رضیؒ کی ایجاد طبع ہے اور اس کا امیر المومنینؑ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ اس پروپیگنڈہ کا سبب وہ بعض خطبات ہیں جن میں اسلام کی معروف و مشہور شخصیتوں پر کھلی ہوئی تنقید کی گئی ہے اور ان کے کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے اب چونکہ خلیفہ چہارم ہونے کے اعتبار سے امیر المومنینؑ کے بیان کی تردید نہیں کی جاسکتی ہے لہذا اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کلام کے کلامِ امام ہونے سے انکار کردیا جائے تاکہ اسلامی شخصیتوں کی عظمت کا تحفظ کیا جاسکے حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اس طرح کسی حقیقت کا انکار ممکن نہیں ہوتا ہے۔

چند شبہات اور ان کے جوابات

ذیل میں چند شبہات کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے بنا پر نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ؑ ہونے کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے:

۱۔ نہج البلاغہ میں بار بار اصحاب رسولؐ پر تنقید کی گئی ہے اور یہ بات امیر المومنین کے شایان شان نہیں ہے!

اس شبہ کا واضح سا جواب یہ ہے کہ اگر اصحاب رسولؐ سے مراد صاحبان اخلاص و شرافت ہیں تو ان کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی نہیں ہے اور اگر صرف بزم رسالت تک آجانے والے اور منافقین مراد ہیں تو ان کے خلاف پروردگار نے پورا سورہ نازل کر دیا ہے تو لسانِ اللہ کی زبان پر یہ تنقید کیوں نہیں آ سکتی ہے۔

خود رسول اکرمؐ کی زبان سے بھی حوض کوثر کی حدیث میں اصحاب کی مذمت وارد ہوئی ہے جسے بخاری جیسی صحیح کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض لوگوں کو اہل بیت پیغمبرؐ کی دشمنی ہی اندھا بنادیتی ہے۔

۲۔ اس جہالت کا کیا جواب ہے کہ جب قرآن مجید میں ۳۲ مرتبہ اس مادہ کا ذکر کیا گیا ہے تو بھی ان مدعیان علم و فن کو اس دَور میں اس لفظ کا وجود نظر نہیں آرہا ہے۔
خود رسول اکرمؐ نے بھی دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت علیؑ کے لئے اسی لفظ کو استعمال فرمایا ہے جیسا کہ تاریخ طبری اور تاریخ الکامل وغیرہ میں بصراحت پایا جاتا ہے۔
۳۔ اس کتاب میں بعض خطبے بے حد طولانی ہیں اور یہ اس دور کی رواج کے خلاف ہے؟

اس غریب کو کون سمجھائے کہ بیان کا طول و اختصار حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کا فنکاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات دو کلمے بھی کافی ہوتے ہیں اور بعض اوقات مفصل تقریر کرنا پڑتی ہے جیسا کہ ”سرح العیون“ میں سحبان بن وائل (خطیب عرب) کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ دربار معاویہ میں ظہر کے بعد خطبہ شروع کیا اور اس کا سلسلہ عصر تک جاری رہا اور یہ اُسی دور کا ذکر ہے۔ بیسویں صدی کا تذکرہ نہیں ہے۔

خود سرکار عالمؐ کے خطبہ غدیر کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ حالات کے اقتضاء کے بعد دوپہر اور دھوپ میں بھی مفصل خطبہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ مسجد اور پرسکون ماحول میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

۴۔ اس کتاب میں سجع۔ قافیہ بندی اور صنائع و بدائع کا انداز پایا جاتا ہے اور یہ اس دَور کے رواج کے خلاف ہے؟

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نام نہاد استاد نے قرآن مجید کی تلاوت کا شرف بھی حاصل نہیں کیا ہے ورنہ سورۂ رحمن۔ سورۂ دہر۔ سورۂ واقعہ اور مختصر سوروں کو دیکھنے کے بعد ایسی جاہلانہ بات کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی۔

۵۔ اس کتاب میں ایک ایک موضوع پر جس دقّتِ نظر کا اظہار کیا گیا ہے اور طاؤس۔ چیونٹی۔ ٹڈی اور چمگادڑ کی خلقت کے بارے میں جس باریک بینی سے کام لیا گیا ہے وہ اس دور میں ایک نامکمل عمل تھا اور اس کا رواج یونان اور فارس کے فلسفہ کے منتقل ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ امام علی ؑ کے دَور میں اس کا کوئی تصور نہیں تھا؟

افسوس اس استاد نے حضرت علیؑ کی عظمت کا بھی احساس نہیں کیا اور یونان و ایران میں مفکرین کے وجود پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سارا تبصرہ حضرت علیؑ کے علم پر کر دیا کہ انہیں یہ باریک بینی یونان و ایران کے فلاسفہ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔

باب مدینۃ العلم کے بارے میں یہ کوتاہ بینی حق و انصاف کی بارگاہ میں ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔

۶۔ اس کتاب میں اعداد ۶۔۴۔۳ وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہے جو اس دور میں رائج نہیں تھا؟

خدا جانے سرکار دو عالمؐ کی ان حدیثوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جن میں انہیں اعداد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو العقد الفرید ۳۰۲/۲، ۴۱۷/۲، ۲۷۲/۶ وغیرہ۔

اور پھر یہی انداز طبری نے ۴۳۰/۳ میں حضرت ابوبکر کے کلام کا نقل کیا ہے اور شرح نہج البلاغہ میں ابن ابی الحدید نے حضرت عمر کا نقل کیا ہے۔ (۷۱/۱۲)

۷۔ اس کتاب کے بعض خطبوں میں علم غیب کی جھلک پائی جاتی ہے اور یہ علم پروردگار کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے؟

اس شبہ کا جواب خود امیر المومنین نے اس وقت دے دیا تھا جب آپ کے خطبہ کو سن کر ایک شخص نے علم غیب کا حوالہ دیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ یہ علم غیب نہیں ہے۔ صاحب علم غیب سے استفادہ ہے۔ یعنی پروردگار نے یہ علم اپنے حبیب کو دیا تھا اور ان کے ذریعہ میری طرف منتقل ہوا ہے۔ علم غیب ذاتی طور پر پروردگار کا کمال ہے۔ اس کے بعد وہ کسی کو عطا کرنا چاہے تو کسی کو روکنے کا حق بھی نہیں ہے۔

۸۔ اس کتاب میں زہد۔ ترک دنیا۔ ذکر موت وغیرہ کی بہتات ہے اور یہ مسیحٰ یا صوفی فکر ہے جس کا اس وقت کے عالم اسلام میں کوئی وجود نہیں تھا؟

یعنی قرآن مجید کی وہ تمام آیات جن میں موت کا ذکر کیا گیا ہے اور حیات دنیا۔ لذات دنیا کی مذمت کی گئی ہے یہاں تک کہ ازواج پیغمبرؐ کو زینتِ حیاتِ دنیا کے مطالبہ پر طلاق کی تہدید کی گئی ہے۔ یہ سب عالمِ عیسائیت سے رعایت لی گئی ہیں یا انہیں بعد کے صوفیوں نے قرآن مجید میں شامل کردیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

۹۔ اس کتاب کے بعض کلمات اور جملے دوسرے افراد کے نام سے بھی نقل کئے گئے ہیں لہذا یہ امیر المومنینؑ کا کلام نہیں ہے؟

یعنی اُس نسبت کو غلط نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ صرف اس کتاب کو غلط کہا جاسکتا ہے۔ کاش اس مرد فاضل نے ذرہ برابر انصاف کیا ہوتا تو اسے اندازہ ہوتا کہ بعض کلمات فکر کی ہم آہنگی کی بنا پر مشترک ہوجاتے ہیں بعض کلمات دوسروں کے نام سے اس لئے بھی نقل ہوسکتے ہیں کہ دشمنوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا ہو یا دوستوں نے یہ چاہا ہو کہ یہ ارشاد گرامی قوم میں زندہ رہ جائے کہ اہلیبیت طاہرینؑ نام کے خواہاں نہیں ہیں وہ پیغام کی بقا کے خواہاں ہیں۔

۱۰۔ اکثر کتب لغت و ادب میں نہج البلاغہ کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے لہذا یہ کلام لوگوں کی نظرمیں معتبر نہیں تھا ورنہ مختلف مسائل میں بطور حوالہ ضرور ذکر کیا جاتا۔

اس کا جواب اس حصہ سے واضح ہوچکا ہے جس میں سید رضیؒ کی ولادت سے پہلے متعدد علماء مورخین کے کلمات و خطب میں امیر المومنینؑ کے حوالہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بعد میں انہیں کلمات و خطب کو نہج البلاغہ میں جگہ دی گئی ہے۔

اور اسی فہرست سے اس شبہ کا جواب بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ سید رضیؒ نے تمام کلمات و خطب کو بلا سند ذکر کیا ہے اور روایت مرسلہ کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے جب کہ ان کے اور حضرت علیؑ کے دور میں تقریباً چار صدیوں کا فاصلہ ہے۔

جواب کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ یہ کلمات سید رضیؒ کی ولادت کے پہلے سے نقل ہو رہے ہیں اور انہوں نے صرف جمع آوری کا کام کیا ہے لہذا اسے غیر مسند یا غیر مستند نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان کلمات کا سلسلۂ نقل امیر المومنینؑ کے بعد ہی سے شروع ہو گیا ہے جس کے بعد کسی مزید سند کی ضرورت نہیں ہے اور اس قدر مؤلفین کا نقل کرنا ہی اس کے استناد کے لئے کافی ہے۔

و السلام علی من اتبع الھدیٰ

حوالہ جات

[1] شرح نہج البلاغہ، ابن میثم، ترجمہ قربان علی، ح۱، ۵۔
[2] سخن شجرۂ النبوّۃ ومحبَطُ الرسالۃ و مختلف الملائکۃ و معادن العلم و ینابیع الحکم؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۹۔
[3] ان محلی منھا محل القطب من الرّحی؛ نہج البلاغہ، خطبہ۳۔
[4] کشف المراد، علامہ حلی، ص ۳۰۲۔
[5] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ/ ۴۱؛ علامہ امینی، الغدیر، ج۴،، ۲۵۳۔
[6] فہرست ابن ندیم، ص ۲۶۶۔
[7] رجال نجاشی، ص ۲۸۳۔
[8] فہرست ، شیخ طوسی، ص ۱۵۷۔
[9] خلاصۃ الاقوال، ص ۱۴۷۔
[10] الغدیر، ج۴، ص ۱۹۸، الذریعہ ج۲/ ۴۲۱۔
[11] تاریخ بغداد، ج۲/ ۲۴۶۔
[12] مجموعہ آشنائی با نہج البلاغہ ، ج۲، ص ۱۷۱۔
[13] سیمائے نہج البلاغہ، محمد مہدی علی قلی، ص ۲۰۰۔
[14] البیان و التبیین، ج۱، ص ۸۳ تصحیح عبد السلام ہارون۔
[15] علامہ ذیشان حیدر جوادی، ترجمہ نہج البلاغہ، ص ۸۔

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button