
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ:
موجودات میں ہر ایک کا اپنا الگ مقام اور منزلت ہے، کوئی بلندی کی آخری حد کو چھونے کو بیتاب ہے تو کسی کی بلندی تک دوسروں کا طائرہ فکر بھی نہیں پہنچ سکتا، اور ان سب سے مافوق ایک ایسی ذات بھی ہے جس کے یہاں بلندی و پستی کا تصور بھی نہیں ہے۔
مولائے کائناتؑ کے اس کلمہ ’’قیمۃُ کل امرئٍ ما یُحسنہ‘‘ کے ضمن میں یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ جو جس مقام پربھی فائز ہے اس میں اس کے علم و معرفت کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ اب چونکہ خداوند عالم خود علام الغیوب ہے اور اس سے بڑھ کر علم کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اس لئے ذات باری تعالیٰ کی منزلت کے سلسلے میں بھی صرف تقریب ذہن کے لئے ’’فوق کل شئی‘‘ استعمال کیا جاتا ہے ورنہ وہ اس سے بھی بے نیاز ہے۔
اس کے بعد مخلوقات میں سب سے بلند مرتبہ اشرف مخلوقات، انسان کا ہے وہ بھی اس کے علم ہی کی بنا پر ہے۔ اور اشرف مخلوقات میں بھی پیغمبر اعظم حضرت محمد مصطفی ﷺ بلندی کے اس مینارہ پر فائز ہیں جس کے بعد مخلوقات کے لئے ریڈ لائن قرار دے دی گئی ہے، اس لئے کہ صرف انھیں کا سینہ اتنا قوی تھا جو وحی الہی کا بوجھ برداشت کر سکے۔ اس کے بعد کی جو منزل آتی وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بلا فصل وصی کی ہے جن کی افضلیت اور برتری کا اقرار تو سب کو ہے لیکن مصلحت نے ایسا اثر دکھایا کہ ابن ابی الحدید ایک گروہ کی نیابت میں یہ کہتا ہوا نظر آیا ’’الحمد للہ الذی۔۔۔۔۔قدم المفضول علی الافضل لمصلحۃ اقتضاھا‘‘۔
سوال یہ ہے کہ بھلا یہ کون سی مصلحت تھی جس کو خداوند متعال نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے تو پوشیدہ رکھا لیکن ابن ابی الحدید اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کو اس کا علم ہو گیا، غدیر خم میں اس کا پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا لیکن سقیفہ بنی ساعدہ میں اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا؟
اس مقالہ میں علیؑ بزبان علیؑ کے زیر عنوان حقیر نے موضوع کی وسعت اور نہج البلاغہ کی محوریت کو مدنظر رکھتے ہوئے جن مطالب کو جمع کیا ہے ان کی حیثیت ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے سامنے ایک قطرہ سے زیادہ نہیں۔
فصل اول
الف: علم غیب اور حضرت علی علیہ السلام
علم غیب کے سلسلے میں یہ بحث کرنا کہ یہ صرف خداوند متعال سے مخصوص ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس کا حامل نہیں ہے یا یہ کہ دوسرے افراد بھی علم غیب رکھتے ہیں یہ ایک تفصیلی بحث ہے۔
لیکن یہاں نقل ہونے والی روایات جو صرف امیر المومنینؑ کے حوالے سے وارد ہوئی ہیں ان کے مطالعہ سے انسان اس حقیقت تک پہنچ جاتا ہے کہ بلاشک و شبہ خداوند متعال نے امیرالمومنینؑ کو علم غیب عطا کیا ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس بات کا انکار کرے کہ خداوند متعال اس بات پر قادر ہے کہ وہ اپنے علم سے جس مقدار بھر بھی چاہے اپنے اولیاء کو عطا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
’’عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ أَحَدًا إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ۔۔۔۔‘‘ (1)
ترجمہ: وہ عالم الغیب ہے اور اپنے علم پر کسی کو بھی مطلع کر سکتا ہے مگر جس رسول کو پسند کرلے۔
ہاں فرق یہ ہے کہ خداوند عالم کا علم ذاتی ہے لیکن دوسرے انبیاء و اولیاء علیہم السلام کا علم ذاتی نہیں ہے بلکہ پروردگار عالم کا عطا کردہ ہے۔ اس بات کی طرف مولائے کائناتؑ نے خود ہی اشارہ فرمایا، جب جنگ جمل کے موقع پر حضرت علیؑ اپنے خطبہ میں آئندہ واقع ہونے والے حوادث کا ذکر فرما رہے تھے تو ایک چاہنے والے نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا: ’’لقد اعطیت یاامیرالمومنینؑ علم الغیب‘‘ یا امیرالمومنینؑ! کیا آپ کو علم غیب عطا کیا گی اہے؟ (شاید اس کا مقصدیہ رہا ہو کہ علم غیب تو صرف خدا سے مخصوص ہے) امیرالمومنینؑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
اے برادرکلبی! ’’لیس ھو بعلم غیبٍ انماھوتعلم من ذی علم غیبٍ۔۔۔۔‘‘۔ (2)
ترجمہ: یہ علم غیب (ذاتی) نہیں ہے بلکہ یہ صاحب علم غیب سے حاصل کیا ہوا علم ہے۔
ایک دوسرے مقام پر مولائے کائناتؑ نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ان کے علم کا منبع کیا ہے تاکہ دنیا کو کسی طرح کا دھوکا نہ ہونے پائے کیونکہ انسان کا ذہن کنج کاؤ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ ہر شے کی گہرائی تک جانے کی فکر میں رہتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ خطا کار ذہن کنج کاوی کے نتیجہ میں انسان کو منزل مطلوب سے ہٹا دے اس لئے انسانی طبیعت سے آگاہ علیؑ نے روز اول ہی آنے والی نسلوں پر یہ کہہ کر حجت تمام کر دیا:
’’لقدعلّمنی رسول اللّہ۔ صلی اللّہ علیہ وآلہ الف باب وکل باب یفتح الف باب‘‘۔ (3)
ترجمہ: مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے علم کے ہزار باب عطا کئے اور ہر باب سے ہزار باب کھلے۔
اتنے آشکارا دلائل کے باوجود بھی اگر کوئی علیؑ کے حق میں غلو سے کام لے کر ربوبیت کی منزل تک پہنچا دے یا عبدیت کے مقام میں گرا کر اتنا پست کر دے کہ ناشکرے بندوں کی صف میں کھڑا کر دے تو اس میں علیؑ کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہے بلکہ افراط یا تفریط کرنے والا اپنے اعمال کا خود ہی ذمہ دار ہوگا۔
علم علیؑ بزبان علیؑ کے چند نمونے
1: میں امام مبین ہوں
جناب عمار یاسر فرماتے ہیں کہ میں ایک جنگ میں امیرالمومنینؑ کے ہمراہ ایک ایسی سر زمین پر وارد ہوا جو چیونٹیوں سے بھری ہوئی تھی تو میں نے کہا: یاعلیؑ! کیا مخلوق خدا میں کوئی ایسا بھی ہے جو ان کی تعداد سے واقف ہو؟حضرتؑ نے فرمایا:ہاں اے عمار! میں ایسے انسان کو جانتا ہوں جو نہ صرف یہ کہ ان کی تعداد سے آگاہ ہے بلکہ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ان میں سے کتنے نر ہیں اور کتنے مادہ۔
میں نے کہا: وہ کون ہے؟ حضرتؑ نے فرمایا: اے عمار! کیا تم نے سورہ یٰس میں یہ نہیں پڑھا ہے:
’’وَکُلَّ شَیْئٍ أحْصَیْنَاہُ فِی إِمَامٍ مُبِینٍ‘‘۔ میں نے ہر چیز کو امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔
میں نے کہا: ہاں پڑھا تو ہے۔ تو حضرتؑ نے فرمایا: وہ امام مبین میں ہی ہوں۔ (4)
2: میری قرآنی فضلیت
سلیم بن قیس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علیؑ سے کہا: آپ مجھے اپنی سب سے بڑی قرآنی فضلیت بتائیے۔حضرتؑ نے فرمایا: میری سب سے بڑی قرآنی فضلیت، خداوندعالم کا یہ قول ہے:
’’وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفَی بِاﷲِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ‘‘۔
ترجمہ: اور کافر یہ کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔
اس آیت میں صاحب علم سے مراد میری ذات ہے۔ (5)
3: مجھے ہر ایک کے ہلاکت و نجات کی جگہ کا بھی علم ہے
امیر المومنینؑ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر میں چاہوں تو تم میں سے ہر ایک شخص کے بارے میں اس کے تمام امور، ہر طرح کی رفتار و گفتار کے بارے میں خبر دے سکتا ہوں۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پیغمبر اکرم ﷺ اور ہمارے بارے میں کفر کا شکار نہ ہو جاؤ۔ یہ جان لو کہ میں ان تمام خبروں کو ایسے افراد کے حوالے کروں گا جو اس خطرہ سے امان میں ہیں۔
پھر امامؑ نے فرمایا: قسم ہے اس خدا کی جس نے پیغمبر اکرم ﷺ کو عہد پیغمبری کے لئے منتخب کیا ہے، میں جو بھی کہوں گا سچ کہوں اور سچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہوں گا۔ ان تمام چیزوں کا علم پیغمبر ﷺ نے ہمارے حوالے کیا ہے۔میں ہر ہلاک ہونے والے کی ہلاکت کی جگہ اور نجات پانے والے کی نجات اور اس کا انجام، کوئی مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جو میری نظروں سے گزرے مگر یہ کہ مجھے اس کی تعلیم دی جا چکی ہے۔
اے لوگو! میں تمہیں کسی طرح کی اطاعت کی طرف ترغیب نہیں دلاتا مگر یہ کہ پہلے خود ہی اس پر عمل کرنے میں سبقت کر جاؤں اور کسی بھی معصیت سے نہیں روکتا مگر یہ کہ پہلے خود ہی اس سے دوری اختیار کر لوں۔ (6)
4: میں انبیاء و مرسلینؑ کے علوم کا وارث ہوں
تاریخ آدمیت میں علیؑ کی ذات سے ہٹ کر کہیں دوسری جگہ ایسا دعویٰ نہیں ملتا اور یہ صرف دعویٰ کی حد تک ہی منحصر نہیں رہا کہ کوئی یہ کہہ دے کہ صرف دعویٰ کرنا ہو تو کوئی بھی کرسکتا ہے، بلکہ علیؑ نے روز اول ہی، نبی خدا ﷺ کے دست مبارک پر صحف آسمانی کی تلاوت کرکے قیامت تک ایسی زبانوں پر تالے لگا دیئے کہ علیؑ کا دعویٰ بغیر دلیل کے نہیں ہوتا۔
ایک روایت میں حضرتؑ نے اپنی اس خداداد صفت کے بارے میں فرمایا:
’’سلونی عن اسرارالغیوب، فانی وارث علوم الانبیاء و المرسلین‘‘ (7)
ترجمہ: مجھ سے پوشیدہ اسرار کے بارے میں پوچھ لو کہ میں انبیاء و مرسلین کے علوم کا وارث ہوں۔
علامہ امینیؒ اس جملہ کو حضرتؑ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا:
سلونی، واللّہ لا تسألونی عن شی یکون الی یوم القیامۃ الّا اخبرتکم‘‘۔
ترجمہ: مجھ سے جو بھی پوچھنا ہو پوچھ لو، خدا کی قسم تم قیامت تک جس حادثہ کے بارے میں بھی مجھ سے سوال کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا۔
5: مجھے ہر ایک کی موت کی کیفیت کا علم ہے
یہ وہ صفت ہے جو سارے انبیاء کو بھی نہیں عطا ہوئی، علیؑ اس صفت کے بھی مالک تھے اور نہ یہ کہ دوسروں کی موت کی کیفیت کو جانتے تھے بلکہ خود اپنی موت کی کیفیت سے بھی آگاہ تھے۔ جس پر تاریخ کے صفحات گواہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں جب اپنے فرزندوں سے اس مہینے کی تاریخ پوچھی تو فرمایا: اب وہ دن بہت جلد آنے والا ہے جب یہ محاسن خون میں رنگین ہو جائیں گی۔ اور جب 19 ویں رمضان المبارک کو ابن ملجم کو نماز کے لئے جگا کر یہ کہا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ تو یہاں کس ارادہ سے آیا ہے‘‘۔ اس بات پرگواہ ہے کہ سب کچھ جاننے کے باجود بھی قضا و قدر الٰہی پر اس طرح سے راضی تھے جس طرح خدا چاہتا تھا۔
مولائے کائنات حضرت علیؑ نے اپنی اس صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے:
’’۔۔۔۔۔فاسألونی قبل ان تفقدونی ،فوالذی نفسی بیدہ لاتسألونی عن شی فیمابینکم وبین الساعۃ ،ولاعن فئۃ ٍتھدی مئۃً وتضل مئۃً الّاانبأتکم بناعقھاوقاعدھاوساعقھاومنازح رکابھاومحط رحالھا ومن یقتل منھاقتلاًومن یموت منھم موتاً‘‘۔ (8)
تم مجھ سے جو چاہو دریافت کرلو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہ جاؤں۔ اس پروردگار کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم اب سے قیامت تک جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے اور جس گروہ کے بارے میں دریافت کرو جو سو افراد کو ہدایت دے اور سو کو گمراہ کردے تو میں اس کے للکارنے والے، کھینچنے والے، ہنکانے والے، سواریوں کے قیام کی منزل، سامان اتارنے کی جگہ، کون ان میں سے قتل کیا جائے گا، کون اپنی موت مرے گا، سب بتا دوں گا۔
6: میری ہی ذات علوم و معارف کاسر چشمہ ہے
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ امام معصوم اپنے زمانہ میں کسی میدان میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتا ہے اور مولائے کائناتؑ بھی ہر اعتبار سے لاثانی تھے۔
سوال یہ ہے کہ علیؑ کے علوم و معارف کا معیار کیا تھا؟
اس سوال کے جواب میں آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولائے کائناتؑ کے علوم و معارف کا معیار طے کرنا انسان کے اختیار سے باہر کا مرحلہ ہے اس لئے کہ علیؑ کی کماحقہ معرفت یا تو خدا کو ہے یا پھر اس کے پیغمبر (ص) کو، لہذا اب معرفت کا معیار بھی یا خدا طے کر سکتا ہے یا اس کا پیغمبر (ص)، ہاں ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ علم علم ہی نہیں جو ذات علیؑ سے ہو کر نہ گزرے جس کو خود مولائے کائناتؑ نے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا کہ:
”ینحدر عنی السیل ولایرقیٰ علَیّ الطیر“۔ (9)
ترجمہ: علم کا سیلاب میری ہی ذات سے گذر کر نیچے کی طرف جاتا ہے اور میری ذات کی بلندی تک کسی کا طائرہ فکر بھی نہیں پہنچ سکتا۔
7: میرا سینہ مخزن علوم ہے
آج تک (اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی) کوئی ایسا پیدا نہیں ہو سکا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ میرا سینہ مخزن علوم ہے چاہے وہ دینی علوم میں عالَم ہو دنیاوی علوم کا ماہر، بلکہ جب بھی عالم پر بحث ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ لازم نہیں کہ عالم کے ذہن میں سارے مسائل بیک وقت موجود ہوں بلکہ اس ملکہ کا حاصل ہو جانا اہم ہے جس کی طرف توجہ کرنے کے بعد وہ اپنی مشکل کو حل کر سکتا ہے، یہ تنہا ذات علی ابن ابی طالبؑ ہے جن کا سینہ علوم سے پر ہے۔ اپنے اسی قوی مخزن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولا فرماتے ہیں:
’’۔۔۔۔بل اندمجتُ علی مکنو ن علمٍ لوبحتُ بہ لاضطرتبم اضطرابَ الاریشۃِ فی الطوی البعیدۃِ‘‘ (10)
ترجمہ: بلکہ میرے سینہ میں ایسا علم پوشیدہ ہے جو مجھے روکے ہوئے ہے ورنہ اسے ظاہر کر دوں تو تم اس طرح لرزنے لگو گے جس طرح گہرے کنویں میں رسی تھرتھراتی اور لرزتی ہے۔
یہ جملہ’’لاضطرتبم اضطرابَ الاریشۃِ فی الطوی البعیدۃِ‘‘ اس بات پر گواہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے بعد اتنا قوی سینہ علیؑ کے علاوہ اور کسی کا نہیں تھا، اور ہوتا بھی کیسے اس لئے کہ ان کے سوا کسی بھی رشتہ نور اعلیٰ سے نہیں۔ خدا نے جب نور کو دو حصوں میں تقسیم کیا تو ایک کو حامل وحی بنایا تو دوسرے کو مخزون علوم انبیاء و مرسلین۔
8: میں لوگوں کی پوشیدہ سرنوشتوں کو بھی جانتا ہوں
ہر وہ انسان جو اس دنیامیں آیا ہے اس کو یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اس کا مستقبل روشن رہے اور اسی روشن مستقبل کے لئے وہ ہر طرح کی زحمتیں برداشت کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ لیکن اس بیچارے کو کیا معلوم کہ آنے والا زمانہ اس کے لئے کیسا ہوگا وہ تو بس ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا جو ان آنکھوں سے دکھ جاتی ہیں اگر دکھ بھری ہوتی ہیں تو ان پر گریہ کر لیتا اور اگر مسرت کا باعث ہوتی ہیں اور ان پر اپنی مسرت کا اظہار کر لیتا ہے اور بس لیکن انسانی رموز و اسرار واقف علیؑ انسان کے بارے ان تمام چیزوں سے بھی آگاہ ہے جو اس سے چھپا لی گئیں ہیں۔
امامؑ فرماتے ہیں:
’’لوتعلمون مااعلمُ ممّاطوی عنکم غیبتُہ،اِذاً لَخرجتم الی الصُعُدات تَبکون علی اعمالِکم وتَلدمون علی انفسکم، ولترکتم امولُکم لاحارسَ[خارس] لھاولاخالف علیھا۔۔۔۔‘‘ (11)
ترجمہ: اگر تم ان تمام باتوں کو جان لیتے جو تم سے مخفی رکھی گئی ہیں اور جن کو میں جانتا ہوں تو تم صحراؤں میں نکل جاتے، اپنے اعمال پر گریہ کرتے، اپنے سر و سینہ پیٹتے اور سارے اموال کو اسی طرح چھوڑ کر چل دیتے کہ ان کا نہ کوئی نگہبان ہوتا اور نہ کوئی وارث ۔۔۔۔۔۔
ب: مولائے کائنات حضرت علیؑ چند پیشین گوئیاں
1۔ ابو بکر و عمر سے متعلق پیشین گوئی
ابو بکر و عمر کے بارے میں مولائے کائناتؑ کی جملہ پیشین گوئیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ حضرتؑ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم ! تمہاری نسل سے کوئی ایک بھی تا قیامت اس حکومت کو نہیں پہنچ سکتا‘‘۔ (12)
اس جملہ کو مولائے کائناتؑ نے اس وقت فرمایا جب وفات پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد امیرالمومنینؑ کو زبردستی مسجد میں لا کر ان کی گردن پر تلوار رکھ دی گئی تاکہ ابو بکر کی بیعت کریں۔
2۔ معاویہ کی صفات اور اعمال کے بارے میں پیشین گوئی
’’أَما انّہ سیظھر علیکم بعدی رجل رحبُ البُلعُوم ،مندحقُ البطنِ ،یاکلُ مایجِد و یطلُبُ مالا یجِد فاقتلوہ ، ولن یقتلوہ !أَلا واِنّہ سیأمُرُکم بسبِّی والبرأۃُ منِّی ۔۔۔۔۔‘‘ (13)
ترجمہ: آگاہ ہو جاؤ کہ عنقریب تم پر ایک ایسا شخص مسلط ہوگا جس کا حلق گشادہ اور پیٹ بڑا ہوگا جو پائے گا کھا جائے گا اور جو نہ ملے اس کی تلاش میں لگا رہے گا، تمہاری ذمہ داری ہے کہ اسے قتل کر دو مگر تم قتل نہ کرو گے۔۔۔۔
3۔خوارج کے بارے میں پیشین گوئی
جنگ نہروان کے موقع پر خوارج کے انجام کے بارے امامؑ میں فرماتے ہیں:
’’مصارِعُھم دون النطفۃِواللّہِ لایُفلِتُ منھم عشَرۃ ولایُھلِکُ منکم عشَرۃ‘‘ (14)
ترجمہ: دشمن کی قتل گاہ دریا کے اس طرف ہے، خداکی قسم نہ ان میں سے دس باقی بچیں گے اور نہ تمہارے دس قتل ہوں گے۔
خوارج ہی کے بارے میں ایک دوسرے مقام پر (جب خوارج کے قتل کے بعد لوگوں نے کہا اب تو ان کا خاتمہ ہو چکا ہے) تو امامؑ نے فرمایا: ’’کلّا واللّہ اِنّھم نُطَف فی اصلابِ الرجالِ و قراراتِ النّسائِ، کلّمانجَمَ منھم قَرن قُطِع حتی یکون آخرھم لصوصاً سلاّبین‘‘۔ (15)
ترجمہ: ہرگز نہیں! خدا گواہ ہے کہ یہ ابھی مردوں کے صلبوں اور عورتوں کے رحم میں موجود ہیں اور جب بھی ان میں سے کوئی سر نگالے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ آخر میں صرف لٹیرے اور چور ہو کر رہ جائیں گے۔
4۔ منجی عالم بشریت کے ظہور کے بارے میں مولائے کائناتؑ کا فرمان
امام زمانہؑ کے ظہور کی خبر مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہما السلام نے اس طرح دی۔
فرماتے ہیں: ’’فلبثتُم بعدَہ ماشائَ اللّہُ حتی یُطلِعَ اللّہُ لکم مَن یجمَعُکم ویضُمُّ نشرَکُم فلاتُطمَعوا [تطعنوا]فی غیر[عین] مقبلٍ، ولایتأسُومن مدبرٍ‘‘۔ (16)
ترجمہ: پھر جب تک خدا چاہے گا تمہیں اسی حال میں رہنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ اس شخص کو منظر عام پر لے آئے جو تمہیں ایک مقام پر جمع کردے اور تمہارے انتشار کو ختم کر دے۔ تو دیکھو جو آنے والا ہے اس کے علاوہ کسی کی طمع نہ کرو اور جو جا رہا ہے اس سے مایوس نہ ہو جاؤ۔
ج: علیؑ نباء عظیم
’’انا النباء العظیم‘‘ یہ جملہ جو آج بھی تاریخ کے دامن میں موجود ہے نہ تو روئے زمین پر حکومت کرنے والے کسی شہنشاہ یا بادشاہ کا ہے اور نہ ہی کسی ثروت مند و صاحب حیثیت کا بلکہ یہ اس شخص کا جملہ ہے جو ہر اعتبار سے بے مثال اور جس کا ہر ہر فعل، ہر ہر قدم، ہر ہر سانس ارادہ پروردگار کے مطابق تھا۔
صبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر بصرہ کے لشکر سے ایک شخص باہر آیا اور سورہ نباء کی ابتدائی آیتوں کی تلاوت کرنے لگا۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اس کے پاس گئے اور اس سے کہا: اے شخص تو اس عظیم خبر کو جانتا بھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ امام عالی مقام نے فرمایا: ’’واللّہ انی اناالنباء العظیم الذی ھم فیہ مختلفون کلّا سیعلمون حین اقف بین الجنۃ والنار۔۔۔‘‘ (17)
د: حضرت علی علیہ السلام کی خاندانی فضلیت
یہ بات کسی پر بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ دنیا میں جیسا گھرانہ علیؑ کا تھا روئے زمین پر اولین و آخرین میں سے کسی کو بھی ایسا خاندان نصیب نہیں ہوا۔ کون سی فضیلت ہے جو اس گھرانے کو نہ ملی، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ فضلیت فضلیت ہی نہیں جو در علیؑ سے متمسک نہ ہو جائے۔
اتنے واضح و روشن اور آشکار فضائل کے باجود بھی ان سے مقابلہ کرنا انسان کی سفاہت پردلالت کرتا ہے نہ کہ سیاست پر۔
ایک بار معاویہ نے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کو ایک خط بھیجا جس میں اپنی بڑائی کا ذکر کیا کہ میں وہ ہوں جس کا باپ زمانہ جاہلیت میں قریش کا سردار تھا، میں خال المومنین اور کاتب وحی پیغمبر (ص) تھا۔ جس کے جواب میں مولائے کائناتؑ نے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر بھیجے جس کو پڑھنے کے بعد اس نے خط کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیا اور کسی کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ اگر لوگ امام علیؑ کے بارے میں حقائق سے آگاہ ہو گئے تو اپنے لئے تخت بچانا مشکل ہوجائے گا۔
وہ اشعار یہ ہیں:
1۔ محمد النبی اخی وصنوی وحمزۃ سیدالشہداء عمی
2۔ وجعفرالذی یمسی ویضحی یطیرمع الملائکۃ ابن امی
3۔ وبنت محمد سکنی وعرسی مسوط لحمھابدمی ولحمی
4۔ وسبطاہ احمدوالدی منھا فایکم لہ سھم کسھمی
5۔ وسبقتکم الی الاسلام طراً غلاماًمابلغت اوان حلمی
6۔ وصیلت الصلاۃ وکنت طفلاً مقراًبالنبی فی بطن امی
7۔ اناالرجل الذی لاتنکروہ لیوم کریھۃ اویوم سلمی
8۔ واوجب لی ولایتہ علیکم رسول اللّہ یوم غدیرخم ٍ
9۔ فویل ثم ویل ثم ویل لمن یلقی الالہ غداًبظلمی (18)
ترجمہ:
حضرت محمد پیغمبر ﷺ میرے بھائی و میرے قرین ہیں اور حمزہ سید الشہداء میرے چچا ہیں۔
اور جعفر طیار کہ جو (جنت میں) فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں میرے بھائی ہیں۔
اور فاطمہ (س) دختر پیغمبر (ص) میری زوجہ ہے کہ جس کا خون و گوشت میرے خون و گوشت سے ملا ہوا ہے۔
پیغمبر (ص) کے دونوں نواسے (حسنینؑ) فاطمہ سلام اللہ علیہا (کے بطن) سے میرے فرزند ہیں پس تم میں سے میرے جیسا کون ہے۔
میں نے اسلام لانے میں تم سب پر سبقت حاصل کی حالانکہ (اس وقت) میں کم سن و سال، حتیٰ سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچا تھا۔
اور میں نے بچپنے ہی میں (پیغمبر ﷺ کے ساتھ) نماز پڑھی اور شکم مادر ہی میں ان کی نبوت کا اقرار کیا۔
میں وہ ہوں جس (کی خدمتوں) کا تم انکار نہیں کر سکتے ہو نہ جنگ کے موقع پر اور نہ ہی صلح کے ایام میں۔
اور رسول خدا ﷺ نے غدیر خم میں میری ولایت کو تمہارے اوپر واجب کر دیا ہے۔
پس وائے ہو، وائے ہو، وائے ہو اس شخص پر جو کل قیامت کے دن اس حال میں خدا سے ملاقات کرے کہ میرے اوپر ظلم کر رکھا ہو۔
ح: علیؑ مصاحب رسول خدا ﷺ
ویسے تو جب رسول خدا (ص) کے ساتھ رہنے والوں کا تذکرہ چھڑتا ہے تو ان کی فہرست اتنی طولانی ہو جاتی ہے کہ جن کا احصا کرنے کے لئے کئی جلد کتابوں کی ضرورت ہے لیکن ہمارا موضوع بحث ان کی تعداد نہیں ہے بلکہ وہ مصاحبت اور قرابت مراد ہے جس سے خدا کا رسول راضی رہتا تھا اور اس کا وصی بھی، اور جس سے ان دونوں کو سکون ملتا تھا۔
اس اٹوٹ رشتہ کی گہرائی کو علیؑ کی زبانی سننے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ مولائے متقیان علی بن ابی طالبؑ فرماتے ہیں:
’’وانا من رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ کالضوء من الضوء، والزرع من العضد‘‘۔ (19)
ترجمہ: میرا رشتہ رسول اکرم ﷺ سے وہی ہے جو نور کا رشتہ نور سے ہوتا ہے یا ہاتھ کا رشتہ بازو سے۔
مصاحبت علیؑ کے چند نمونے
1۔ علیؑ، نزول وحی کے موقع پر پیغمبر ﷺ کے ہمراہ
یہ وہ مقام ہے جو صحابیت سے بالاتر ہے اور اس منزل میں علیؑ کے سوا رسول اکرم ﷺ کی ہمراہی کسی کو بھی نصیب نہ ہوئی چاہے وہ پہلا بوڑھا مسلمان ہو یا جوان، چاہے اس کا تعلق صنف نسواں سے ہو یا مردوں کی صف کا شہسوار، چاہے اس کا تعلق گھر کے اندر سے ہو یا باہر سے۔ اس لئے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب نہ تو صحابیت کا تصور تھا اور نہ ہی زوجیت کا ڈھونگ، اس وقت خالص ایمان تھا جو رسول اکرم ﷺ کی ہمراہی کر رہا تھا۔
اس حسین منظر کو مولائے کائنات حضرت علیؑ کی زبانی سننے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”و لقد کان یجاور فی کل سنۃ بحراء [حرّاء] فاراہ، ولایراہ غیری، ولم یجمع بیت واحد یومئذ فی الاسلام غیر رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ۔ و حدیجۃ و انا ثالثھما، اریٰ نور الوحی والرسالۃ، واشم ریح النبوۃ، ولقد سمعت زنۃ الشیطان حین نزول الوحی علیہ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ۔ فقلت: یا رسول اللہ ماھذہ الزنۃ؟ فقال: ’’ھذا الشیطان قد یاس من عبادتہ، انک تسمع ما اسمع و تری ما اری الا انک لست بنبی، و لکنک وزیر و انک لعلی خیر“۔ (20)
ترجمہ: وہ سال میں، ایک زمانہ غار حرا میں گذارتے تھے جہاں صرف میں انہیں دیکھتا تھا اور کوئی دوسرا نہ ہوتا تھا۔ اس وقت رسول اکرم (ص) اور خدیجہ کے علاوہ کسی گھر میں اسلام کا گزر نہ ہوا تھا اور ان میں تیسرا میں تھا۔ میں نور وحی رسالت کا مشاہدہ کیا کرتا تھا اور خوشبوئے رسالت سے دماغ کو معطر کیا کرتا تھا۔ میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کی چیخ کی آواز سنی تھی اور عرض کی تھی یا رسول اللہ (ص)! یہ چیخ کیسی ہے؟ تو فرمایا تھا کہ یہ شیطان ہے جو آج پنی عبادتوں سے مایوس ہو گیا ہے۔ تم وہ سب دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں اور وہ سب سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں، صرف فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو۔ لیکن تم میرے وزیر بھی ہو اور منزل خیر پر بھی ہو۔
2۔ علیؑ، آغوش رسول اکرم (ص) کے پروردہ
جس محمد ﷺ کے بال، کھال اور پسینے پر دنیا مرتی ہو اس کی آغوش میں پرورش پانے والے انسان کا مرتبہ کیا ہوگا؟اور اس کی قرابت کی منزل کیا ہوگی؟
یہ ایک مفصل بحث ہے جس کو ایک مقالہ کی شکل میں جمع کرنا سورج کو چراغ دکھانے سے بھی نیچے کا مرحلہ ہے۔
بحث، تربیت کی کیفیت سے ہے کہ رسول اکرم (ص) نے مولائے کائناتؑ جو کی پرورش و تربیت کی، آیا اسی طرح کی جس طرح ایک دودھ پلانے والی دایہ کرتی ہے یا جس طرح ماں باپ پرورش کرتے ہیں؟
مولائے کائناتؑ کے مندرج ذیل کلمات میں غور و حوض کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اکرم (ص) کے ذریعہ انجام پانے والی تربیت، ایک بچہ کے بارے میں اس کو دودھ پلانے والی دایہ یا اس کے حقیقی ماں باپ کے ذریعہ کی جانے والی تربیت سے بھی عالی مقام کی حامل ہے اس لئے کہ جب ماں باپ اپنے بچے کی تربیت کرتے ہیں تو ابتداء جسمانی تربیت سے شروع ہوتی ہے اور جب بچہ سمجھدار ہو جائے تب روح کی تربیت کا کام شروع ہوتا ہے لیکن خلق عظیم پر فائز اللہ کا حبیب روز اول ہی سے اپنے وصی کی روحانی تربیت بھی کر رہا تھا جسمانی بھی۔
جب ماں باپ اپنے بچہ کو پیار سے سینہ سے لگاتے ہیں تو پیار منتقل ہوتا ہے، محبتیں منتقل ہوتی ہیں عادتیں منتقل ہوتی ہیں۔ لیکن جب اللہ کا رسول (ص) اپنے وارث کو سینہ سے لگا کر پیار کرتا تھا تو صرف محبتیں ہی منتقل نہیں ہوتی تھیں بلکہ محبتوں کے ساتھ ساتھ علم بھی منتقل ہوتا تھا حلم بھی، مکارم اخلاق منتقل ہوتے تھے محاسن اخلاق بھی، شجاعت بھی منتقل ہوتی تھی شہامت بھی، غرض یہ کہ اس دنیا میں آنے والا بچہ جو چیزیں بڑے ہو کر بھی نہیں سیکھ سکتا وہ سب سیکھ کر علیؑ بڑے ہو رہے تھے۔
یہ ایک ایسی نایاب تربیت تھی جس پر مولا علیؑ فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’و قد علمتم موضعی من رسول اللّہ (ص) بالقرابۃ القریبۃ، والمنزلۃ الخصیصۃ وضعنی فی حجرہ، اناولد یضمنی الی صدرہ، و یکنفنی فی فراشہ، و یمسّنی جسدہ، یمشنی عرفہ، و کان یمضغ الشی ثم یلقمنیہ، وما وجدلی کذبۃ فی قول، و لاخطاۃ فی فعل، لقد قرن اللّہ بہ من لدن ان کان فطیماً اعظم ملک من ملائکتہ یسلک بہ طریق المکارم، و محاسن اخلاق العالم لیلہ و نھارہ، لقدکنت اتبعہ اتّباع الفصیل اثرامہ ۔۔۔‘‘ (21)
ترجمہ: تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (ص) سے مجھے کس قدر قریبی قرابت ہے اور مخصوص منزلت حاصل ہے۔ انھوں نے بچپنے سے مجھے اپنی گود میں اس طرح جگہ دی ہے کہ مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔ اپنے بستر پر جگہ دیتے تھے۔ اپنے کلیجے سے لگا کر رکھتے تھے۔ مجھے مسلسل اپنی خوشبو سے سرفراز فرمایا کرتے تھے اور غذا کو اپنے دانتوں سے چبا کر مجھے کھلاتے تھے۔ نہ انھوں نے میری کسی بات میں جھوٹ پایا اور نہ میرے کسی عمل میں غلطی دیکھی۔ اور وہ دودھ بڑھائی کے دور ہی سے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین ملک کو کر دیا تھا جو ان کے ساتھ بزرگیوں کے راستہ اور بہترین اخلاق کے طور طریقہ پر چلتا رہتا تھا اور شب و روز یہی رہا کرتا تھا۔ اور میں بھی ان کے ساتھ اسی طرح چلتا تھا جس طرح بچہ ناقہ اپنی ماں کے ہمراہ چلتا ہے۔
3۔ علیؑ، حامی و جاں نثار رسول اللہ (ص)
مولائے کائناتؑ ابتدائے زندگی سے ہی سے رسول اکرم (ص) کے ہمراہ ایک محافظ کی حیثت سے رہتے تھے اور کسی وقت بھی رسول اکرم (ص) کو تنہا نہ چھوڑتے تھے چاہے وہ مکہ میں بچپنے کی زندگی سے لیکر ہجرت تک کے سخت ترین مواقع ہوں، یا پھر مدینہ کی زندگی میں میدان جہاد کے خطرناک حالات، کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں تھا جب کہ رسول اکرم (ص) کے ہمراہ حضرت علیؑ سپر بن کر نہ رہے ہوں جس کو خود مولائے کائناتؑ نے اس طرح بیان کیا ہے:
’’ولقد علم المستحفظون من اصحاب محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ انّی لم اردّ علی اللّہ ولا علی رسولہ ساعۃ قطّ، ولقد واسیتہ بنفسی فی المواطن التی تنکص فیھا الابطال، و یتاخر فیھا الاقدام، نجدۃ اکرمنی اللّہ فیھا‘‘۔ (22)
ترجمہ: اصحاب پیغمبر (ص) میں شریعت کے امدانت دار افراد اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا اور رسول (ص) کی بات کو رد نہیں کیا اور میں نے پیغمبر اکرم (ص) پر اپنی جان ان مقامات پر قربان کی ہے جہاں بڑے بڑے بہادر بھاگ کھڑے ہوئے اور ان کے قدم پیچھے ہٹ گئے، صرف اس بہادری کی بنیاد پر جس سے پروردگار عالم نے مجھے سرفراز فرمایا تھا۔
ایک دوسرے مقام پرامامؑ فرماتے ہیں:
’’۔۔۔لقد کنّا مع رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ نقتل آباء ناوابناء نا و اخواننا و اعمامنا، م انریدنا ذلک الا ایمانا و تسلیماً، مضیّاً علی اللقم، وصبراً علی مضض الالم، و جدّاًفی جھاد العدو‘‘۔ (23)
ہم رسول اکرم (ص) کے ساتھ اپنے خاندان کے بزرگ، بچے بھائی بند اور چچاؤں کو بھی قتل کر دیا کرتے تھے اور اس سے ہمارے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اضافہ ہی ہوتا تھا، اور ہم برابر سیدھے راستہ پر بڑھتے ہی جارہے تھے اور مصیبتوں کی سختیوں پر صبر ہی کرتے جا رہے تھے اور دشمن سے جہاد میں کوشش ہی کرتے جا رہے تھے۔
یہ خطبہ آپ نے اس وقت فرمایا جب بصرہ کے بنی تمیم کا عثمانی رجحان دیکھ کر کوفہ کے بنی تمیم کو مقابلہ پر بھیجنا چاہا لیکن ان لوگوں نے برادری سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت نے اپنے دور قدیم کا حوالہ دیا کہ اگر رسول اکرم (ص) کے ساتھ ہم لوگ بھی قبائلی تعصب کا شکار ہو گئے ہوتے تو آج اسلام کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ (علامہ جوادیؒ)
اسی سلسلے میں ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:
’’فلقد کنّا مع رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ، انّ القتل لیدور علی الٓاباء والابناء والاخوان والقرابات (الاقرباء) فمانزداد علی کل مصیبۃ و دشدۃ الّا ایماناً۔۔۔‘‘ (24)
ترجمہ:۔۔۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس وقت جب کرتے تھے جب مقابلہ پر خاندانوں کے بزرگ، بچے، بھائی بند اور رشتہ دار ہوتے تھے لیکن ہر مصیبت و شدت پر ہمارے ایمان میں اضافہ ہی ہوتا تھا۔۔۔۔۔
مولائے کائناتؑ کے اس کلام سے کم سے کم اتنا تو ہر صاحب فہم انسان درک کر سکتا ہے کہ علیؑ کی نگاہ میں اسلام اور رسول اسلام (ص) کی کیا اہمیت تھی؟ کہ ان کی خاطر اپنے تمام رشتوں کو توڑ دیا اور اپنے ہی خاندان کے لوگوں کے مقابلہ میں میدان جنگ میں تلوار نکال لی جس کے نتیجہ میں ایمان میں اضافہ ہوتارہا اور ایک وہ بھی موقع آیا جب علیؑ تو کیا علیؑ کے رکاب میں جہاد کرنے والوں کے ایمان کی منزل یہ تھی کہ کوئی دسویں درجہ کا صاحب ایمان بن گیا تو کوئی نویں درجہ کا، کسی کو ’’منا اھل البیت‘‘ کی سند مل گئی تو کوئی پیغمبر (ص) رازدار بن گیا۔
4۔ پہلی نماز پڑھنے والے علیؑ
جہاں بھی عبادت کا تذکرہ ہو وہاں علیؑ کا ذکر ضرور آتا ہے اس لئے علیؑ روح و جان عبادت ہے اور اس بات کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں ہے کہ علیؑ کی عبادت کا کیا مرتبہ ہوگا، چونکہ علیؑ اس ذات کا نام ہے جس نے ہر کار خیر میں دوسروں پر سبقت حاصل کی۔ علیؑ نے اس وقت خدا کی عبادت کی جب دنیا حقیقت عبادت سے بھی آگاہ نہیں تھی، اس وقت نماز پڑھی جب دنیا اصول نماز سے بھی باخبر نہیں تھی۔
اپنی اس فضلیت کو مولائے متقیانؑ نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’۔۔۔۔لم یسبقنی الّا رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ بالصلاۃ‘‘ (25)
ترجمہ: ۔۔۔ اور تیری بندگی میں رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی نے مجھ پرسبقت نہیں کی۔
فصل دوم
الف: علیؑ و معرفت الہی
اکثر علماء و دانشوروں منجملہ ابن ابی الحدید کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصحاب پیغمبر ﷺ میں معرفت الہی کے سلسلے میں جو بیانات حضرت علیؑ سے نقل ہوئے ہیں کسی اور سے بھی نقل نہیں ہوئے، بلکہ معرفت علیؑ کے بلند مفاہیم ان کے ذہن تک میں بھی نہیں آ سکتے۔ خطبہ 179 میں امامؑ ذعلب یمانی کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اما اعبد ما لااریٰ‘‘ کیا میں ایسے خدا کی عبادت کر سکتا ہوں جسے دیکھا بھی نہ ہو؟ (ذعلب) نے عرض کی اسے کس طرح دیکھا جا سکتا ہے؟ تو فرمایا:
’’لاتدرکہ العیون بمشاھدۃ العیان، ولکن تدرکہ القلوب بحقائق الایمان۔۔۔‘‘
ترجمہ: اسے نگاہیں آنکھوں کے مشاہدہ سے نہیں دیکھ سکتی ہیں، اس کا ادراک دلوں کو حقائق ایمان کے سہارے حاصل ہوتا ہے۔
معرفت خدا کی منزل میں رسول اکرم (ص) کے بعد ایسے بھی مواقع پیش آئے جہاں اگر علیؑ نہ ہوتے تو اسلامی ٹھیکیداروں کے ذریعہ خدا کی ایسی تعریف کی گئی تھی جو اسلامی نکتہ نظر کے بالکل برعکس تھی۔
حضرت علیؑ نے فرمایا: کب؟ کس وقت؟ کہاں ؟ کس جگہ؟ کس پر؟ اس طرح کے سوالات اس چیز کے بارے میں کئے جاتے ہیں۔ جو جسم ہو لیکن جو جسم و جسمانیات سے منزہ ہو اس کے بارے میں اس طرح کے سوالات جائز نہیں ہیں۔ خدا وہ ہے جو تمام پہلوں کاپہلا ہے (اس کے یہاں قبل کا تصور نہیں ہو سکتا) اور ہر طرح کی انتہائوں کی انتہا ہے (یعنی اس کے یہاں بعد کا تصور نہیں ہو سکتا)۔ (26)
اتنی دقیق معرفت رکھنے والے علیؑ اپنی خدائی معرفت کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’عرفتُ اللّہ سبحانہ بفسخ العزائمِ، وحلّ العقودِ، ونقصِ الھممِ‘‘۔ (27)
ترجمہ: میں نے خدا کو ارادوں کے ٹوٹ جانے، نیتوں کے بدل جانے اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے پہچانا ہے۔
یہ کلمہ اس حقیقت کا بیان گر ہے کہ وہ انسان جو خدا کا منکر ہے اپنے انکار میں چاہے جتنی حد تک پہنچ جائے لیکن جب کسی ایسی مشکل میں گرفتار ہو جائے جہاں ساری امیدیں ختم ہو گئیں ہوں پھر بھی دل میں ایک امید کی کرن ہوتی ہے جو اسے چین نہیں لینے دیتی یہی امید وہ ہے جو ساری امیدوں سے بالاتر ہے اور انسان کو خدا سے نزدیک تر کر دیتی ہے۔
یہاں پر معرفت خدا کے سلسلے میں مولائے کائنات کی طرف منسوب چند اشعار درج کئے جا رہے ہیں جو معرفت الہی کے سلسلے میں ہر انسان کے لئے معاون ثابت ہوں گے۔
امامؑ فرماتے ہیں:
ایامن لیس لی منک المجیر بعفوک من عذابک المستجیر
اناعبدالمقربکل ذنب وانت السیدالصمدالغفور
فان عذبتنی فالذنب منی اون تغفرفانت بہ جدیر (28)
ترجمہ: اے وہ کہ جس کے علاوہ میرے لئے کوئی جائے پناہ نہیں تیرے عذاب سے تیرے دامن عفو میں پناہ چاہتا ہوں
میں تیرا وہ بندہ ہوں جو اپنے تمام گناہوں کا اقرار کرتا ہے اور تو بھی عظیم، بے نیاز اور بخش دینے والا خدا ہے
لہذا اگر تو مجھے عذاب دے گا تو یہ میرے گناہوں کی بنا پر ہوگا اور اگر مجھے معاف کردے گا تو یہ تیرے لئے سزاوار ہے۔
1۔ بارگاہ خدا میں تضرع
علیؑ اس اعلیٰ ذات کا نام ہے جس کو قرآن نے نباء عظیم سے تعبیر کیا ہے۔ اس قوی انسان کانام علیؑ ہے جس کا انسان تو انسان نہ مرئی مخلوق جنات بھی مقابلہ نہ کرسکی، ایسا غنی جس کے دروازے سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہ پلٹا، ایسا عطا کرنے والا ہے جس کی چوکھٹ پر انسان تو کیا فرشتے بھی اپنی حاجت روائی کے لئے آیا کرتے تھے، ایسا رزق تقسیم والا ہے کہ شیشے میں بند چیونٹی کو بھی رزق پہچا دیتا ہے۔ لیکن ایسا بندہ ہے جو کسی وقت بھی اپنے معبود سے غافل نہیں ہوتا اور جب اپنے معبود کی بارگاہ میں آ جائے تو فریاد کرتا ہوا نظرآتا ہے: مولای یامولای انت المولیٰ و انا العبد و ھل رحم العبد الّا المولیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مولای یا مولای انت العظیم وانا الحقیر و ھل یرحم الحقیر الّا العظیم، مولای یا مولای انت القوی و انا الضعیف و ھل یرحم الضعیف الّا القوی، مولای یا مولای انت الغنی و انا الفقیر و ھل یرحم الفقیر الّا الغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولای یا مولای انت الرب و انا المربوب و ھل یرحم المربوب الّا الرب ۔۔۔۔۔۔۔ (29)
ترجمہ: اے میرے مولا و آقا تو میرا مولا اور میں تیرا عبدہوں کیا کسی عبد پر مولا کے علاوہ کوئی رحم کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے مولا و آقا تو عظیم ہے اور حقیر ہوں کیا کسی حقیر پر عظیم کے علاوہ بھی کوئی اور رحم کرتا ہے، اے میرے مولا و آقا تو قوی ہے اور میں ضعیف و ناتوان ہوں کیا کسی ضعیف پر قوی کے علاوہ بھی کوئی رحم کرتا ہے، اے میرے مولا و آقا تو غنی ہے اور میں فقیر ہوں کیا کسی فقیر پر غنی کے علاوہ بھی کوئی رحم کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے مولا و آقا تو میرا پالنے والا اور میں تیرا پروردہ ہوں کیا کسی پروردہ پر اس کے پالنے والے علاوہ کوئی رحم کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
2۔ دل میں خوف خدا کا نمونہ
علیؑ کو خداوند عالم کے احسانات کا کتنا احساس، عدل الہی پر کتنا بھروسہ تھا اور دل میں کس قدر خوف الہی تھا کہ زندگی میں گناہ تو دور ترک اولی بھی انجام نہ دینے والا جب مصلیٰ عبادت پر آتا ہے تو کس طرح ایک گنہگار بندہ کی طرح گڑگڑا کر اپنے معبود سے فریاد کرتا ہوا نظر آتا ہے: ’’اللھم اغفرلی الذنوب التی تھتک العصم، اللھم اغفرلی الذنوب التی تنزل النقم، اللھم اغفرلی الذنوب التی تحبس الدعاء، اللھم اغفرلی الذنوب التی تنزل البلاء، اللھم اغفرلی کل ذنب اذنبتہ و کل خطیئۃ اخطاتھا‘‘۔ (30)
ترجمہ: خدایا! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو پردہ عصمت کو پارہ پارہ کر دینے والے ہیں، خدایا! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو عذاب نقمت کو نازل ہونے کا سبب ہیں، خدایا! میرے ان گناہوں کو بخشے دے نعمتوں کے نزول کا رخ کسی اور طرف موڑ دیتے ہیں، خدایا! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو میری دعا کی قبولیت میں مانع ہیں، خدایا! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلا کا سبب ہیں، خدایا! میرے ہر اس گناہ کو بخش دے جس کا میں مرتکب ہوا ہوں اور میری ہر اس خطا سے چشم پوشی کر لے جو مجھ سے سرزد ہوئی ہے۔
اس لئے کہ علیؑ اس بات سے اچھی طرح سے آگاہ ہے کہ خدا کو اپنے بندوں کی کون سی ادا پسندہے۔ اور ابتداء میں گناہوں کے اقرار کے بعد آخر میں ’’یاسریع الرضا، اغفرلمن لایملک الاّالدعا‘‘ کا جملہ اس بات کا گواہ ہے کہ خدا کو اپنے بندوں کا عاجزانہ انداز پسند ہے نامیدی یا مایوسی نہیں، اسی طرح خدا اپنے خاضع بندوں کو دوست رکھتا ہے اکڑ جانے والے کو نہیں۔
اور انسان کتنی ہی بلند منزل پرکیوں نہ پہنچ جائے قادر مطلق کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں اوراس خاکی بشر کو جو بھی ملاہے ا س وہ سب اسی کی عطا ہے اور اس سے ہٹ کر کسی چیز بھی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی ہے یہی وہ نکتہ ہے جس سے اکثر، انسان غافل ہو جایا کرتا ہے اور پھر یہیں سے اس کی تنزلی شروع ہو جاتی ہے اور اگر انسان اپنے کو نہ سنبھالے تو احسن تقویم پر پیدا ہونے والا انسان آخر میں اسفل السافلین میں ڈال دیا جاتا ہے۔
ب: علیؑ اور عدالت
عدالت ایک ایسی خدائی صفت ہے جو مقام بیان میں تو بہت شیریں ہے اور ہر ایک اس کی چاشنی کا مزہ حاصل کرتا ہے لیکن یہی مقام عمل میں اس قدر تلخ ہے کہ اچھے اچھے اس کی تلخی کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
خدا و رسول (ص) کے بعد عدالت اور علیؑ آپس میں اس طرح گرہ کھائے ہوئے ہیں کہ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور نامکمل رہ جاتا ہے۔
امامؑ فرماتے ہیں: ’’۔۔۔والبستکم العافیۃ من عدلی‘‘ میں نے اپنے عدل کی بناپرتمہیں لباس عافیت پنھایا۔
مولائے کائناتؑ کایہ جملہ دنیا والوں کو اس بات کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ اگرچہ عدالت کی راہ میں ظاہراً مشکلات ہیں لیکن انسان کی خیر و عافیت اسی میں نہاں ہے۔
1۔ علیؑ ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے عدالت کے قائل
اس خدائی صفت کے احیاء کے لئے علیؑ ہمیشہ کوشاں رہے اور ہر میدان میں اس کو ملحوظ خاطررکھاکبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوئے یہی وجہ ہے کہ جب خواص نے دیکھاکہ علی ؑ عدالت کے اجراء میں اتنے مصمم ہیںکہ عدالت کے تقاضہ کی بناپر آقاوغلام کوایک ہی صف میں کھڑا کردیاتو اب وہی حضرات جوآج تک علی ؑکے گن گاتے تھے علی ؑسے دوری اختیارکرناشروع کردی لیکن خدائی اقتدارکے بھروسہ مندعلی ؑ نے ان اس کی پرواہ کئے بغیراپنے ارادہ کوعملی جامعہ پہنانے میں کوشہ رہے یہی وجہ ہے کہ جب مسندخلافت ظاہری پرقدم رکھا توسب سے پہلے خواص سے حساب وکتاب لیااور اس سلسلے میں آپ کاوہ فرمان آج بھی موجود ہے جس میں آپ عثمان کی جاگیروں کو مسلمانوں واپس دینے کے بارے میں فرمایا:
’’واللّہ لو وجدتہ قد تزوج النساء، و ملک [تملّک] بہ الاماء، لرددتہ، فان فی العدل سعۃ، ومن ضاق علیہ العدل، فالجور علیہ اضیق‘‘۔ (31)
ترجمہ: خدا کی قسم اگر میں کسی مال کو اس حالت میں پاتا کہ اسے عورتوں کا مہر بنا دیاگیا ہے یا کنیز کی قیمت کے طور پر دے دیا گیا ہے تو اسے بھی واپس کرا دیتا اس لئے کہ انصاف میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے اورجس کے لئے انصاف میں تنگی ہو اس کے لئے تو ظلم میں اور بھی تنگی ہوگی۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ علیؑ بیت المال کو تقیسم کرنے کے بعد اس میں جھاڑو دے کر دو رکعت نماز ادا کرتے تھے تاکہ یہ زمین بھی روز قیامت علیؑ کے عدل و انصاف کی گواہی دے۔
2۔ علیؑ، ظلم و جور سے پاک
زمین و آسمان و مافیہ اس بات پر گواہ ہیں کہ علی بن ابی طالبؑ کی ذات وہ ذات ہے جو ہر طرح کی نا انصافیوں سے منزہ ہے اور نہ صرف یہ کہ خود ظلم سے مبرا رہے۔ کسی پر ظلم ہوتے ہوئے بھی برداشت نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے معاویہ کی معزولی کا حکم جاری کیا اور وہ بغاوت پر اتر آیا تو چاہنے والوں نے علیؑ کو مشورہ دیا کہ کچھ دن کے لئے اس سے چشم پوشی کر لیجئے جب آپ کی حکومت مستحکم ہو جائے تو اس کے مقابلہ قدم اٹھائیے لیکن وصی رسول ﷺ نے اس مشورہ کو ٹھکرا دیا کہ ہمارا مقصد حکومت کرنا نہیں بلکہ حکومت وسیلہ ہے خدائی احکام کے رائج کرنے کا۔
اس سلسلے میں امامؑ خود فرماتے ہیں:
’’واللّہ لان ابیت علی حسبک السعدان مسھداً، او اجرّ فی الاغلال مصفّداً، احب الیّ من ان القیٰ اللّہ ورسولہ یوم القیامۃ ظالماً لبعض العباد، و غاصباً لشئی من الحطام، و کیف اظلم احداً لنفس یسرع الی البلی قفولھا، و یطول فی الثری حلو لھا‘‘؟ (32)
ترجمہ: خدا گواہ ہے کہ میرے لئے سعدان کی خاردار جھاڑی پر جاگ کر رات گذار لینا یا زنجیروں میں قید ہو کر کھینچا جانا اس امر سے زیادہ عزیز ہے کہ میں روز قیامت پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کروں کہ کسی بندہ پر ظلم کر چکا ہوں، یا دنیا کے کسی معمولی مال کو غصب کیا ہو۔ بھلا میں کسی شخص پر بھی اس نفس کے لئے کس طرح ظلم کروں گا جو فنا کی طرف بہت جلد پلٹنے والا ہے اور زمین کے اندر بہت دنوں رہنے والا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
’’واللّہ لو اعطیت الا قالیم السبعۃ بما تحت افلاکھا، علی ان اعصی اللّہ فی نملۃ اسلبھا جلب [خملۃ] شعیرۃ مافعلتہ‘‘۔ (33)
ترجمہ: خدا گواہ ہے کہ اگر مجھے ہفت اقلیم کی حکومت تمام زیر آسمان دولتوں کے ساتھ دے دی جائے اور مجھ سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ میں کسی چیونٹی پر صرف اس قدر ظلم کروں کہ اس کے منہ سے اس چھلکے کو چھین لو جو وہ چبا رہی ہے تو ہرگز ایسا نہیں کر سکتا ہوں۔
فصل سوم
الف: مظلومیت علی علیہ السلام
1۔ بے یار و مددگار علیؑ
دور جاہلیت میں جب کہ دوسروں کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا، دوسروں کی عزت کی کوئی حقیقت نہیں تھی، قبیلہ ای نظام کا رواج تھا، ہر ایک عزت و آبرو سردار قبیلہ کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی، جہاں کسی کو یہ بھی حق نہیں تھا کہ وہ اپنی شخصی زندگی کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرسکے کہ اسے کیسے زندگی گذارنی ہے اور نہ ہی اپنی اولاد کے بارے میں، ایسے ماحول میں سر زمین عرب پر ایک ایسا انسان کامل پیدا ہوا جو آزادی کا نمائندہ، قبیلہ ای اور بردگی نظام کا سخت مخالف، صلح و دوستی کا سفیر، ہدایت کی تلاش میں رہنے والوں کے لئے سراج منیر تھا۔ جس کا لوگوں کو انسانیت کا سبق پڑھا کر آزاد زندگی گذارنے کا ہنر سکھانا اور اخلاق حسنہ سے مزین کرکے ایک خالص بندہ خدا بنا کر دنیا و آخرت میں سیعد گرداننا تھا۔
جس نے اپنے اخلاق کا ایسا مظاہرہ کیاکہ دشمن بھی اس کا گرویدہ ہو گیا، اس کی صداقت نے لوگوں کے دلوں پر ایسا اثر ڈالا کہ کفار بھی اس کی صداقت کا کلمہ پڑھنے لگے، حلم و بردباری کا ایسا مرقع پیش کیا کہ سب اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اب یہ صرف سر زمین عرب ہی میں محدود نہیں رہا اس لئے کہ وہ صرف عربی نہیں تھا بلکہ دنیا کے ہر گوشے سے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی آوازیں آنے لگیں کیونکہ وہ عجم والوں کے لئے بھی رسول بن کر آیا تھا۔ اب جہاں چاہنے والوں کا ہجوم تھا وہیں مخالفین کی بھی تعداد کم نہ تھی، جہاں عقیدت مند افراد کسب فیض کیا کرتے تھے وہیں دشمن بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتے تھے لیکن اس نے اپنی خداداد استعداد کو بروئے کا رلاتے ہوئے ایسی حکمت آپنائی کہ جس سے آس پاس رہنے والا دشمن جب بظاہر اس کے مقابل میں کوئی عملی قدم نہ اٹھا سکا تو شخصیت ہی کو مجروح کرنے پر اکتفاء کی، لیکن دلوں میں کینوں کی پرورش ہو رہی تھی، بغض و حسد کو پروان چڑھایا جا رہا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ ادھر جیسے ہی اس الہی نمائندہ کی آنکھیں بند ہوئی ادھر دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی،کینوں نے سر نکالنا شروع کر دیا بغض و حسد نے پوری طمطراقی سے اپنا کام کر دکھایا اور امت میں ایسا تفرقہ ڈال دیا کہ جس وصی رسول ﷺ کے ہاتھوں پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے بیعت کی بعد رسول ﷺ وہی فریاد کرتا ہوا نظر آرہا ہے:
’’فنظرتُ فاذالی لیس معین الاّاہل بیتی فضننتُ بھم عن الموتِ، و اغضیتُ علی القذیٰٰ ،وشربتُ علی اخذالکظمِ،وعلی امّرمِن طعمِ العلقمِ‘‘۔ (34)
ترجمہ : میں نے دیکھا سوائے میرے گھر والوں کے کوئی میرا مددگارنہیں ہے تومیں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے گریز کیا اور اس حال میں چشم پوشی کی کہ آنکھوں میں خش و خاشاک تھا، میں نے غم و غصہ کے گھونٹ پیئے اور گلو گرفتگی اور حنظل سے زیادہ تلخ حالات پرصبر کیا۔
یہ امت اسلام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جو علیؑ ہر طرح کی مصیبتیں سہے اور اف تک نہ کہے اس علیؑ پر بعد رسول اکرم ﷺ کون سی مصبیت ڈھا دی گئی جو ایسی فریاد کرنے پر مجبور ہوگیا۔ ’’واغضیت علی القذیٰ ۔۔۔‘‘
2۔ مدام حق سے محرومی
دین اسلام نے ہمیشہ اپنے پیروؤں کو اس بات کی تاکید کی کہ دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کسی دوسرے کے حق کو پامال کرے کسی سے چھیننا اور غضب کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اسلام میں غیر مسلم کے حقوق کے کی پائمالی کی اجازت نہیں ہے چہ جائیکہ مسلمان اور دنیا کا ہر صاحب عقل و فہم انسان اس بات کا معترف ہے کہ بغیر مالک کی اجازت کے اس کے مال میں تصرف حرام ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے اندر کیسے جرأت ہو گئی کہ انھوں ایک ایسے شخص کی ملکیت پر ہاتھ صاف کر دیا جو نہ کہ صرف مسلمان تھا بلکہ اسلام کے اعتبار سے اول المسلمین، ایمان کے اعتبار سے اول المومنین، قاری قرآن کی قرأت میں بے نظیر، تفہیم قرآن میں لاثانی، عبادت کے میدان میں عباد زمانہ اس کی چوکھٹ پر سر جھکائے نظر آ رہے ہیں تو علم کے میدان کسی کا طائرہ فکر بھی اس تک پرواز نہیں کر سکتا، میدان جہاد میں ہمیشہ اسلام کی ناک اسی نے بچائی۔ ایسا سخی جس کے دروزاے سے آج تک کوئی خالی ہاتھ نہ پلٹا، ایسا کریم جس نے اپنے دشمن کو بھی پیاسہ نہ رہنے دیا، ایسا صابر جس نے ان تمام مصائب کے باوجود بھی کبھی کسی کے حق میں بد دعا نہ کی بلکہ جب رسول اکرم (ص) کو خواب میں دیکھا تو فریاد کی ’’۔۔۔قلت: یا رسول اللّہ ما ذالقیت من امتک من اولاد واللدد‘‘۔ (۔۔۔میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کی امت سے بے پناہ کجروی اور دشمنی کا مشاہدہ کیا ہے) ’’فقال: ادع علیھم‘‘ (اور رسول اکرم (ص) نے کہا: ان کے لئے بد دعا کر دو۔) تو بجائے بد دعا کرنے کے فرمایا: ’’فقلت: ابدلنی اللّہ بھم خیراً منھم و ابدلھم شراً منی‘‘۔ (خدایا! مجھے ان سے بہتر قوم دے دے اور انھیں مجھ سے سخت تر رہنما)۔
کیا تعلیمات اسلامی کو نظر انداز کرنے اور اتنے ظلم ڈھانے کے بعد بھی ایسے انسان کو صاحب ایمان کہا جا سکتا ہے؟
رسول اکرم (ص) کے بعد مسلسل اہل بیتؑ پر دباؤ ڈالا گیا اور انہیں ان کے حق سے محروم رکھا گیا۔ جس کی فریاد مولائے کائناتؑ خود مولائے کائناتؑ کی زبانی نقل کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’۔۔۔فو اللّہ ما زلت عن مدفوعاً حقی، مستاثراً علی، منذ قبض اللّہ نبیہ صلی اللّہ علیہ وسلم حتی یوم الناس ھذا‘‘۔ (35)
ترجمہ: خدا گواہ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھا گیا ہوں اور دوسروں کو مجھ پرمقدم کیا گیا ہے۔ جب سے سرکار دو عالم (ص) کا انتقال ہوا ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
ایک دوسرے مقام پر بنی امیہ کے ظلم و جورکے سلسلے میں امام نے فرمایا:
’’ان بنی امیۃ لیفوقوننی تراث محمد صلی اللّہ علی و آلہ تفویقاً‘‘۔ (36)
ترجمہ: یہ بنی امیہ مجھے میراث پیغمبر ﷺ کو بھی تھوڑا تھوڑا کرکے دے رہے ہیں۔
یہ کلمات اس بات کی دلیل ہیں کہ کسی بھی خاندان کی حکومت رہی ہو اہل بیت اطہارؑ پر ظلم ستم دھانے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں تھا۔
3۔ علیؑ کی طرف ناروا نسبتیں دینا
خداوند عالم جب بھی کسی انسان کو کوئی منصب دیتا ہے تو اس سے پہلے اس کا امتحان لیتا ہے اور امتحان لینے کے بعد ہی اس کو کوئی منصب عطا کرتا ہے اور جب خداوند عالم کسی کوئی کسی منصب کیلئے منتخب کرلے تو اس میں کسی طرح کا بھی کوئی نقص و عیب نہیں ہوسکتا، وہ ہر اعتبار سے اپنے زمانہ میں ممتاز ہو جاتا ہے کیونکہ وہ الہی نمائندہ ہوتا ہے۔
وصی رسول خدا ﷺ حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام جو لباس عصمت سے مزین زہد و تقویٰ کا پیکر تھے، انہیں نمائندوں میں سے ایک تھے جو کسی بھی میدان میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن دنیا پرست اپنی ہوس کے غلاموں نے ان کی طرف ایسی ناروا ںنسبتیں دیں جو عام صاحب کردار کے لئے سزاوار نہیں ہیں چہ جائیکہ امیرالمومنینؑ۔
امامؑ فرماتے ہیں:
’’وقد قال قائل: انک علی ھذا الامر یا بن ابی طالب لحریص، فقلت: بل واللّہ انتم احرص و ابعد و انا اخص و اقرب ۔۔۔۔‘‘ (37)
ترجمہ: (روز شوریٰ) ایک شخص نے مجھ سے یہاں تک کہہ دیا کہ فرزند ابوطالب! آپ میں اس خلافت کی طمع پائی جاتی ہے تو میں نے کہا: کہ خدا کی قسم تم لوگ زیادہ حریص ہو حالانکہ تم لوگ دور والے ہو۔ میں تو اس کااہل بھی ہوں اور پیغمبر ﷺ سے قریب تر بھی ہوں۔۔۔۔۔۔
(بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ بات شوریٰ کے موقع پر سعدبن ابی وقاص نے کہی تھی اور بعض کا خیال ہے کہ سقیفہ کے موقع پر ابو عبیدہ بن الجراح نے کہی تھی اور دونوں ہی امکانات پائے جاتے ہیں کہ دونوں ہی کی فطرت ایک جیسی تھی اور دونوں امیرالمومنینؑ کی مخالفت پر متحد تھے۔ علامہ جوادیؒ)
کتنی شرم و حیا کی بات ہے کہ جنہوں نے اسلام کی خاطر ایک ضرب نہ کھائی ہو گی وہ دین کے ٹھکیدار بن گئے اور جس نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں پیغمبر (ص) کی حفاظت ذمہ داری اپنے سرلے لی اور حفظ اسلام کے لئے نہ صرف اپنے بلکہ اپنی زوجہ کے حق سے دستبرداری کرلی اس سے یہ کہا جارہا ہے۔ ’’انک علی ھذاالامر لحریض‘‘۔
4۔ فرمان علیؑ سے سرپیچی
جہاں دنیا میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیا کہ کبھی کسی ملک کا کوئی حاکم سر میدان آیا ہو اور آ کر تلوار چلائی ہو بلکہ ہمیشہ وہ محفوظ قلعہ میں رہ کر فرمان داری کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ یہ تنہا علیؑ کے افتخارات کاایک جزء ہے کہ ہمیشہ میدان جنگ میں دوسرے سپاہیوں کے شانہ بشانہ دشمن سے جہاد کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ نے تو معاویہ سے بھی کہدیا کہ کیوں مسلمانوں کا ناحق خون بہا رہا ہے تلوار لے کرمیدان میں آجا۔ آپس ہی میں دو دو ہاتھ کر لیتے ہیں جو زندہ رہ جائے وہ حکومت کرے، لیکن معاویہ تو علیؑ کی سابقہ زندگی سے آگاہ تھا اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ علیؑ کی تلوار سے دو ہی صورت میں بچا جا سکتا ہے یا صلب میں کوئی مومن ہو یا پھر عمر عاص جیسا ہنرمند ہو۔
وہیں یہ بھی کہیں نہیں دیکھا گیا کہ کوئی سپاہی اپنے ہی حاکم کی گردن پر تلوار رکھ دے اور کہے جنگ روک دو ورنہ ہم تمہاری گردن ماردیں گے۔ یہ تنہا علیؑ کی مظلومیت کی ایک کڑی ہے جہاں پہلے زبردستی جنگ رکوائی گئی اور پھر جب فیصلہ اپنی مرضی کے خلاف چلا گیا تو ’’لاحکم الّا للّہ ‘‘ کانعرہ لگا کر بپھر گئے اور علیؑ پر دباؤ ڈالنے لگے کہ نہیں ہمیں دوبارہ جنگ لڑنی چاہئے۔ ایسے ہی موقع پر علیؑ نے اپنی مظلومیت کی فریاد کی:
’’لقد کنت امس امیراً و اصبحت الیوم ماموراً و کنت امس ناھیاً فاصبحت الیوم منھیاً۔۔۔۔۔‘‘ (38)
ترجمہ: افسوس کہ میں کل تک تمہارا حاکم تھا اور آج محکوم بنایا جا رہا ہوں،کل تک میں تمہیں روکتا تھا اور آج تم مجھے روک رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
5۔ لوگوں کو علیؑ کی معرفت کا حاصل نہ ہونا
یہ بات سچ ہے کہ خدا کو رسول خدا (ص) اور حضرت علیؑ کے سوا کسی نے نہیں پہچانا اور پیغمبر اکرم (ص) کو خداوند عالم اور علیؑ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور علی مرتضیٰ کو جز خدائے متعال اور محمد مصطفیٰ (ص) کسی نے نہیں پہچانا۔ لیکن یہ بات کماحقہ معرفت کی ہے یعنی ایسا نہیں کی علیؑ اور پیغمبر (ص) کے سوا کسی نے خدا کو نہیں پہچانا نہیں بلکہ جس نے بھی خدا کو پہچانا انھیں کے ذریعہ پہچانا۔ جس نے ان سے ہٹ کر خدا کو تلاش کرنے والے نے جہاں جس صورت میں بھی جلوئہ الٰہی کا مشاہدہ کیا اسی کو خدا مان بیٹھا اور اسی کی عبادت کرنے لگا۔ نتیجہ میں خداؤں کی بازار لگ گئی۔ لیکن جس نے ان کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کی اس نے اس ذات والا صفات کو نہ کسی زمان سے مخصوص کیا اور نہ کسی مکان میں محصور کیا، نہ تو کسی کو اس فرزند بنایا اور نہ اس کو کسی کا بیٹا تصور کیا، اسے فضاؤں میں بھی پایا خلاؤں میں بھی اس کامشاہدہ کیا، زمین کے خضوع و خشوع میں اس کے خاضعیت کے جلوہ دیکھے تو اونچے اونچے پہاڑوں میں اس کے محکم عزائم کے راز نمودار ہوئے غرض ہر طرح کے جلوؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی کبھی لاالہ الا اللہ سے تجاوز نہیں کیا۔
اور جس نے محمد رسول اللہ (ص) کو اپنے ذہن ناقص سے پہچاننے اور علم ناقص پر پرکھنے کی کوشش کی انھیں ایک چلتے پھرتے انسان سے زیادہ کچھ نہ پایا جو کھاتا پیتا بھی ہے سوتا جاگتا بھی ہے۔ غلطی بھی کرتا ہے جھوٹ بھی بولتا ہے عورتوں میں بھی رہتا ہے اس پر جنون بھی طاری ہوتا ہے اور ان سب کے باوجود وہ نبی خدا بھی ہے۔ لیکن جس نے علی مرتضیؑ کے ذریعہ محمد مصطفی (ص) کی معرفت حاصل کی اس نے انھیں کامل انسان پایا جو محبتوں کا سفیر تھا تو عصمتوں کا امیر بھی، جو جامعہ کے ضعیف لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا تھا تو متبکر افراد کے ساتھ سختی بھی، جو ہمیشہ حق کو دوست رکھتا تھا اور اسی کے ساتھ رہتا تھا تو ظلم سے سخت بیزار تھا اور ظالمین سے دور، غرض ایسا جامع انسان تھا کہ ہر طرح کی خوبی کا محورتھا اور ایسا مانع تھا کہ کوئی بدی اس کے نزدیک نہ آتی تھی۔
اور علیؑ کو بھی جن لوگوں نے خدا اور رسول (ص) کی زبانی پہچانا انھوں نے علیؑ کو بندہ خدا، وصی رسول خدا (ص) صدیق اکبر، فاروق حق و باطل، مظلوموں کا حامی ظالموں کے لئے سر سخت، وارث علوم و کمالات اولین و آخرین، اور ایسا امیر المومنین پایا جو ظالموں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جائے تو مظلوم کے سامنے زانو تہہ کر دے، جب میدان جنگ میں پیغمبر کی حفاظت کی بات آ جائے تو اکیلے ہی سارے لشکر کا مقابلہ کرے اور جب بعد پیغمبر ﷺ، اسلام کے وقار کی بات آ جائے تو مٹھی بھر لٹیروں کے مقابلہ میں خانہ نشنینی اختیار کرلے۔ لیکن تعجب ہوتا ہے ان عقلوں پر جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کا زمانہ درک کیا ان کے ساتھ ساتھ رہے، قرآن بھی پڑھتے رہے ارشادات پیغمبر (ص) کو بھی سنتے رہے، اپنی نظروں سے کمالات علیؑ کا بھی مشاہدہ کرتے رہے، علیؑ کے زیر سایہ دشمنوں سے امان بھی رہے، علیؑ کی ذات سے کسب فیض بھی کرتے رہے، علیؑ کی سنتے بھی رہے اور علیؑ کی سناتے بھی رہے لیکن افسوس کہ جیسے ہی پیغمبر (ص) کی انکھیں بند ہوئیں علیؑ سے دوری کر اختیار کرنے لگے اور اتنا دور ہوگئے کہ مظلوم علیؑ کی فریاد بلند ہوئی:
’’۔۔۔۔و تعرفونی بعد خلو مکانی و قیام غیرمقامی [مکانی ]‘‘۔ (39)
ترجمہ: اور تم میری معرفت حاصل کرو گے جب میری جگہ خالی ہو جائے گی اور دوسرے لوگ اس پر قابض ہو جائی گے۔
جائے تعجب ہے کہ ہزار سال بعد آنے والی نسلوں نے کلام علیؑ سے کس قدر فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ کہنے والے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جس زمانہ میں علیؑ آئے تھے وہ علیؑ کا زمانہ نہیں تھا بلکہ علیؑ کو آج کے ترقی یافتہ زمانہ میں ہونا چاہئے تھا۔
علل مظلومیت علیؑ
مظلومیت علیؑ کی مختلف اسباب و علل ہیں ان میں سے اہم ترین علتیں جو خود بزبان علیؑ بیان ہوئی ہیں ان کو یہاں ذکر کیا جا رہا ہے۔
1۔ لوگوں کی جہالت و نادانی
جہالت ایک ایسی بلا ہے جو نہ صرف حضرت علیؑ کے لئے درد ساز تھی بلکہ رسول اکرم (ص) کے سامنے بھی مشکلات کی دیواریں کھڑی کر رکھیں تھی اور دشمن ہمیشہ اسی سے فائدہ اٹھاتا رہا۔
اور یہ اتنی سخت بلا ہے جو کسی کے لئے بھی مشکل ساز ہو سکتی ہے خود حضرت علیؑ کو بھی ایسے ہی افراد کا سامنا تھا جن کے سلسلے میں مولائے کائناتؑ نے فرمایا:
”۔۔۔انتم معاشرہ اخفاء الھام، سفھاء الاحلام، ولم آت ۔ لاآبالکم۔ بجراً ولا اردت لکم ضراً“۔ (40)
ترجمہ: ۔۔۔تم دماغ کے ہلکے اور عقل کے احمق نکلے۔ خدا تمہارا برا کرے۔ میں نے تو تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالا تھا اور تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں چاہا تھا۔
2۔ دوستوں کی پے درپے مخالفت کا سامنا
یہ علت در حقیقت اسی پہلی والی علت کا نتیجہ ہے ورنہ ایک عالم کے سامنے بلند آواز سے بات کرنا ادب کے خلاف ہے چہ جائیکہ عالم ربانی کے حضور میں ایسے افراد کو زبان کھولنے کی جرات ہو گئی جن کو اپنے وجود کے بارے میں علم نہیں۔ اور کبھی یہ مخالفتیں اتنی شدید ہو جاتی تھیں کہ مولائے کائنات کو اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ جس کا خود مولائے کائناتؑ نے اس انداز میں ذکر کیا ہے۔
’’۔۔۔وقدکنت نہیتکم عن ھذہ الحکومۃفأبیتم علی آباء المنابذین [المخالفین]حتی صرفت عن رائی الی ھوائکم ‘‘ (41)
ترجمہ :میں تمہیں اس تحکیم سے منع کررہاتھالیکن تم نے عہدشکن دشمنوں کی طرح میری مخالفت کی یہاں تک کہ میں نے اپنی رائے چھوڑکر مجبوراًتمہاری بات کومان لیا۔
3۔ دنیا کی ہوس
دنیا ایک ایسی نا مطلوب شی کا نام ہے جو اپنے محب کو نہ تو چین و سکون کی حالت میں دیکھنا چاہتی ہے اور نہ ہی کبھی سیراب۔ دنیا، جب امیر المومنینؑ کو دھوکہ نہ دے سکی تو ان کے ساتھیوں کے دامن گیر ہو گئی اور بعد رسول (ص) آنے والی مصیبتوں میں امیر المومنینؑ دفاع کرنے والے اس کے دھوکے میں آ کر ایک وقت خود امیر المومنینؑ ہی کے مقابلہ میں لشکر کشی کرنے لگے اور حریم خانہ وحی کی پاسداری کے فرائض انجام دینے والوں نے ہی زوجہ پیغمبر کو میدان جنگ میں لا کر کھڑا کر دیا،صرف اس بنا پر کی علیؑ ان کے ناجائز مطالبات کے آگے تسلیم نہیں ہوئے۔
امامؑ دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’واللّہ لو کنتِ شاخصاً مرئیّا، وقالباً حسّیّاً (جنیّاً) لا قمت علیکِ حدودَ اللّہ فی عبادٍ غررتھم بالامانی، و اممٍ القیتھم فی المھاوی، و ملوکٍ اسلمتھم الی التلف ۔۔۔۔۔۔‘‘ (42)
خدا کی قسم! اگر تو دکھنے والی شی اور محسوس ہونے والا ڈھانچہ ہوتی تو میں تیرے اوپر ضرور حد جاری کرتا کہ تو نے اللہ کے بندوں کو آرزؤں کے سہارے دھوکہ دیا ہے اور قوموں کو گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیا ہے۔ بادشاہوں کو بربادی کے حوالے کر دیا ہے۔
ب: مظلوم علیؑ، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سوگ میں
رسول اکرم (ص) کے بعد خاندان نبوت پر ڈھائے گئے مظالم کاکسی مقالہ کی شکل میں جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ بطور خلاصہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح فضائل کا دوست و دشمن سب نے کسی نہ کسی شکل میں اقرار کیا ہے اسی طرح مظالم کا بھی سب نے اقرار کیا ہے جس کے ذکر کا یہ محل نہیں ہے۔
مولائے کائناتؑ کی اسفناک مظلومیتوں کی ایک کڑی معصومہ عالم شہادت ہے جو رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے 75 یا 95 دن کے بعد امت کی بے وفائیوں کا مشاہدہ کرکے خاندان نبوت پر مسلسل ہونے والے مظالم کی گواہی دینے کے لئے بارگاہ ایزدی کی طرف کوچ کر گئیں۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت کے موقع حضرت علیؑ پر جو مصیبت پڑی وہ اتنی سنگین تھی جو سخت ترین دلوں کو بھی پگھلا دیتی ہے کیونکہ وہ دختر پیغمبر خدا (ص) جو آنحضرت کی زندگی میں سب کے لئے قابل احترام تھی، جس کے بارے میں فرمائشات و تاکیدات پیغمبر (ص) موجود ہوں، وہی بیٹی باپ کی وفات کے بعد اپنے شوہر سے یہ وصیت کرے اے علیؑ! مجھے رات میں غسل و کفن دینا اور میں مجھ پر نماز ادا کرنے کے بعد رات کی تاریکی میں میں دفن کرنا اور جنہوں نے مجھ پر ظلم و ستم ڈھایا ہے انہیں ہمارے جنازے میں نہ آنے دینا۔
مرحوم علامہ مجلسی طبری سے نقل کرتے ہیں:
’’انّ فاطمۃ دفنت لیلاً ولم یحضرھا الا العباس و علی و المقداد و الزبیر۔ (43)
ترجمہ: فاطمہ (س) کو رات میں دفن کیا گیا اور ان کے جنازے میں عباس، علیؑ، مقداد اور زبیر کے علاوہ کوئی نہ تھا۔
فاطمہ زہرا (س) کی جدائی کا صدمہ ہی علیؑ کے لئے کیا کم تھا لیکن جس نے اس مصیبت اور بڑھا دیا اور امیر المومنینؑ کو زندگی بھر تڑپایا وہ، وہ مصیبیتں تھیں جو بانوی عالم پر آتی رہی اور شوہر نامدار علیؑ اپنی آنکھوں سے وہ تمام مناظر دیکھتے رہے۔ لیکن مصالح اسلام کی خاطر ان کے مقابلہ میں کوئی اقدام نہ کر سکے جس کی انتہا حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیت میں دیکھنے کو ملتی ہے جہاں علیؑ پیغمبر دو عالم (ص) کی چہیتی بیٹی کو رات کے سناٹے میں دفن کرنے پر مجبور ہوئے یہی وجہ ہے کہ جب مولائے کائناتؑ فاطمہ زہرا (س) کو سپر لحد کر چکے تو شکستہ دل، آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لیے قبر رسول (ص) کی طرف رخ کرکے فریاد کی:
’’السلام علیک یا رسول اللّہ عنی و عن ابنتک النازلۃ فی جوارک۔۔۔ بما وعد اللّہ الصابرین‘‘۔ (44)
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول! میری طرف سے اور آپ کی اس دختر کی طرف سے جو آپ کے جوار میں آ رہی ہے۔
یا رسول اللہ! میری قوت صبر آپ کی منتخب روزگار دختر کے بارے میں ختم ہوئی جا رہی ہے اور میری ہمت ساتھ چھوڑ رہی ہے، صرف سہارا یہ ہے کہ میں نے آپ کے فراق کے عظیم صدمہ اور جانکاہ حادثہ پر صبر کر لیا تو اب بھی صبر کر لوں گا کہ میں نے آپ کو قبرمیں اتارا تھا اور میرے ہی سینے پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا۔ بہرحال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اس کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔
آج امانت واپس چلی گئی اور جو چیز میری تحویل میں دی تھی وہ مجھ سے چھڑا لی گئی۔ اب میرا رنج و غم دائمی ہے اور میری راتیں نذر بیداری ہیں جب تک مجھے پروردگار اس گھر تک نہ پہنچا دے جہاں آپ کا قیام ہے۔
عنقریب آپ کی دختر نیک اختر ان حالات کی اطلاع دے گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اس پر ظلم ڈھانے کے لئے اتفاق کر لیا تھا۔ اور اس سے مفصل سوال فرمائیں اور جملہ حالات دریافت کریں۔
افسوس ہے کہ یہ سب اس وقت ہوا جب ﷺ آپ کا زمانہ گذرے ہوئے دیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی آپ کا تذکرہ باقی ہے۔
میراسلام ہو آپ دونوں پر۔ اس کاسلام جو رخصت کرنے والا ہے اور دل تنگ و ملول نہیں ہے۔ میں اگر اس قبر سے واپس چلا جاؤں تو یہ دل تنگی کا نتیجہ نہیں ہے اور اگر یہیں ٹھہر جاؤں تو یہ اس وعدہ کی بے اعتباری نہیں ہے جو پروردگار نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے۔
علیؑ کی مظلومیت کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ علیؑ تاریخ کا وہ تنہا مظلوم ہے جو اپنی زوجہ کا نشان قبر مٹانے پر مجبور ہوا۔
ج: آخری رسومات پیغمبر (ص) کی ذمہ داری علیؑ پر
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب ساری دنیا فراق پیغمبر (ص) میں سوگوار تھی، خانہ وحی میں فرش عزا بچھی ہوئی تھی، صف ہائے ملائکہ میں کہرام برپا تھا، زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ گریہ نما تھا، پورا مدینہ ماتم کدہ بنا ہوا تھا، چھوٹے بڑے سب کے سب پچھاڑیں کھا رہے تھے۔ انھیں میں وہ ذات بھی تھی جسے اتنے بارز اور آشکار علائم کے باجود بھی پیغمبر (ص) کی موت کا یقین نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی دوسرے نے آ کر معائنہ کرکے موت کی تصدیق کی تو ایسایقین آیا کہ اب ذہن میں خلافت کے علاوہ کوئی تصور نہ رہا، نہ صحابیت کو اپنے پیغمبر (ص) کے غسل و کفن کا خیال تھا اور نہ ہی باپ کو اپنی بیٹی کی بیوگی کی پرواہ، سب کے سب دنیاداری میں لگ گئے۔ لیکن ایک ہی تھا جو ہر قدم پر پیغمبر (ص) کے ہمراہ سایہ کی طرح رہتا تھا۔ ہر مصیبت میں ان کے لئے سپر بن جاتا تھا اور ان کی ہر آواز پر لبیک کہتا تھا یہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی نور تھا جسے پیغمبر (ص) اپنے ہاتھوں پر کعبہ سے لے کر آئے تھے اور آج جب سب پیغمبر (ص) کو چھوڑ کر چلے گئے تو اسی نے اپنے ہاتھوں سے پیغمبر (ص) کوغسل و کفن دے کر سپرد لحدکیا۔
اس کیفیت کو مولائے کائناتؑ نے اس طرح بیان کیا۔ آپ فرماتے ہیں:
’’ولقد قبض رسول اللّہ (ص) و انّ راسہ علی صدری، و لقد سألت نفسہ علی کفّی فامرر تھا علی وجہی، ولقد ولّیت غسلہ صلی اللّہ علیہ وآلہ و الملائکۃ اعوانی، فضجت الدار الا فنیۃ ملأ یھبط و ملأیعرج، وما فارقت سمعی ھینمۃ منھم، یصلون علیہ حتی رأیناہ فی ضریحہ فمن ذا أحق بہ منّی حیّاً و میّتاً؟‘‘ (45)
ترجمہ: رسول اکرم (ص) اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب ان کا سر میرے سینہ پر تھا اور ان کی روح اقدس میرے ہاتھوں پر جدا ہوئی تو میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ پرمل لیا۔ میں نے ہی آپ کو غسل دیا جب کہ ملائکہ میری مدد کر رہے تھے اور گھر کے اندر و باہر ایک کہرام برپا تھا۔ ایک گروہ نازل ہو رہا تھا اور ایک واپس جا رہا تھا۔ سب نماز پڑھ رہے تھے اور میں مسلسل ان کی آوازیں سن رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے ہی ان کو سپرد لحد کیا۔ تو اب بتاؤ زندگی اور موت میں مجھ سے زیادہ ان سے نزدیک تر کون ہے؟
اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
’’۔۔۔فلقد و سدتک فی ملحودۃ قبرک، وفاضت بین نحری وصدری نفسک ف(انا للّہ واناالیہ راجعون) (46)
ترجمہ: میں نے ہی آپ کو قبرمیں اتارا تھا میرے ہی سینہ پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا۔ بہرحال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔
غرض اسے ہٹ کر بھی اگر تاریخ میں نگاہ ڈالی جائے تو روز روشن کی طرح دکھائی دے گا کہ تنہا علیؑ ہی تھے جنھوں نے تجہیزات رسول اکرم (ص) کے امورانجام دیے جب کہ ساری دنیا پوری امت رسول ﷺ کے جانشین کی تلاش میں چلی گئی تھی۔
گویا امت کی نگاہ میں جانشین زیادہ اہم تھا کہ پیغمبر ﷺ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا اور علیؑ کی نگاہ میں پیغمبر ﷺ کے وقار کی زیادہ اہمیت تھی کہ امام نے انھیں اس حال میں چھوڑ کر سقیفہ سازی میں حصہ نہیں لیا۔
اب حدیث پیغمبر ﷺ کی اس حدیث کو ’’الحقُّ مع علی بن ابی طالب حیث دار‘‘۔
ترجمہ :علیؑ جدھر بھی مڑے حق ان کے ساتھ ہے۔ (47)
کو ذہن میں رکھ فیصلہ کرنے میں مسلمانوں کو کوئی مشکل نہیں ہوگی کہ جو انھوں نے کیا وہ صحیح تھا یا جس کو علیؑ نے انجام دیا اس پرخدا اور سول ﷺ راضی ہیں۔
د: علیؑ و کامیابی
یہ بات زمین و آسمان والے، اپنے پرائے اور دوست و دشمن، سب جانتے ہیں کہ جو فضیلتیں علیؑ کو ملیں کسی اور کو نصیب نہیں ہوئیں اس لئے کہ دنیا کا چاہے جتنا بڑا ہی صاحب وقار انسان کیوں نہ ہو اس کے فضل و کرم کی داستان کو ایک دو، دس بیس، سو دو سو جلد کتابوں میں جمع کیا جاسکتا ہے لیکن علی بن ابی طالبؑ کی ذات ایسی ذات ہے جس کے فضائل کو اگر کتاب کی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو صفحہ کے اعتبار سے زمین اپنی تمام وسعتوں ساتھ تنگ ہے۔ قلم کے لئے اشجار جہاں بھی حد نصاب کو پہنچنے سے معذور ہیں۔ کاتب کے لحاظ سے انس و جن اپنی تمام تر تعداد کے باجود بھی کم ہیں۔
آج اسلام جو اتنی سر بلندی کے ساتھ زندہ ہے اور پھل پھول رہا ہے یہ سہرا بھی علیؑ ہی کے سر بندھا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اتنے فضائل کے مالک انسان کسی زبان پر کبھی بھی اپنی کامیابی کہ کلمہ جاری نہیں ہوا۔ لیکن خانہ کعبہ میں پیدا ہو کر کامیاب زندگی گذارنے والے کے سر پر جیسے ہی مسجد کوفہ میں ابن ملجم کی تلوار لگی تو زبان سے جاری ہونے والا سب سے پہلا جملہ ’’فزت و ربِّ الکعبۃ‘‘ اس بات کی نشان دہی کر رہا تھا کہ علیؑ کی نگاہ میں تنہا راہ خدا میں زندگی گذار لینا کافی نہیں ہے بلکہ انسان کی اصلی کامیابی یاد خدا میں مر جانا ہے۔
اسی نکتہ کی طرف قرآن مجید میں انسانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا گیا:
’’ولاتحسبّن الذین قتلوافی سبیل اللّہ امواتاً بل احیاء عندربّھم یرزقون‘‘۔ (48)
خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والے کو مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔
پروردگارا! جب تو نے علیؑ کو علوم و معارف کا منبع قرار ہی دیا تو ہم میں سے ہر ایک کو اس بحر ذخار سے بطور احسن فیض یاب ہونے کی توفیق عنایت فرما۔
اور جس طرح تو نے علیؑ کو کامیاب زندگی کے ساتھ ساتھ کامیاب اس دنیا سے اٹھایا اسی طرح ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی علیؑ و اولاد علیؑ کے نقش قدم پر چل کر تیری عطا کی ہوئی اس زندگی کی نعمت کو بھی تیری ہی راہ قربان کرکے اس دار فانی سے رخصت ہوں۔
والسلام علی من اتبع الھدیٰ
سید محمد ظہیر زیدی
فہرست حوالہ جات
[1] سورہ جن، آیہ 25-26[2] نہج البلاغہ، خطبہ 28
[3] خصال صدوق، ج 2، ص 176
[4] بحارالانوار، ج4، ص174۔ ینابیع المودۃ، ص77
[5] تفسیرنور؛ج4، ص 87
[6] ینابیع المودۃ، ص 66
[7] ینابیع المودۃ، ص 69
[8] نہج البلاغہ، خطبہ 93
[9] نہج البلاغہ، خطبہ 3
[10] نہج البلاغہ، خطبہ 5
[11] نہج البلاغہ، خطبہ 116
[12] الاحتجاج جلد 1، ص 110
[13] نہج البلاغہ، خطبہ 57
[14] نہج البلاغہ، خطبہ 59
[15] نہج البلاغہ، خطبہ 60
[16] نہج البلاغہ، خطبہ 100
[17] بحار الانوار، ج 36، ص 3
[18] علیؑ کیست؟ 459
[19] نہج البلاغہ، نامہ 45
[20] تفسیرموضوعی نہج البلاغہ، ص 107
[21] نہج البلاغہ، خطبہ 192
[22] نہج البلاغہ، خطبہ 197
[23] نہج البلاغہ، خطبہ 56
[24] نہج البلاغہ، خطبہ 122
[25] نہج البلاغہ، خطبہ 131
[26] تجلی امامت
[27] نہج البلاغہ، حکمت 250
[28] علیؑ کیست؟ ص 451
[29] مناجات حضرت علیؑ در مسجد کوفہ
[30] دعائے کمیل کاحصہ
[31] نہج البلاغہ، خطبہ 15
[32] نہج البلاغہ، خطبہ 15
[33] نہج البلاغہ، خطبہ 15
[34] نہج البلاغہ، خطبہ 26
[35] نہج البلاغہ، خطبہ 6
[36] نہج البلاغہ، خطبہ 77
[37] نہج البلاغہ، خطبہ 72
[38] نہج البلاغہ، خطبہ 208
[39] نہج البلاغہ، خطبہ،150
[40] نہج البلاغہ؛خطبہ 36
[41] نہج البلاغہ؛خطبہ 63
[42] نہج البلاغہ، نامہ 45
[43] بحارالانوار، ج 43، ص 183
[44] نہج البلاغہ، خطبہ 202
[45] نہج البلاغہ؛خطبہ 197
[46] نہج البلاغہ؛خطبہ 202
[47] فرائد السمطین، ج 1، ص177
[48] سورہ آل عمران، آیہ 169




