
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نہج البلاغہ کیا ہے؟
نہج البلاغہ تاجدار اقلیم سخن، امیر بیان حضرت علی بن ابی طالب امیر المومنین علیہ السلام کے منتخب کلمات کا ایک نفیس مجموعہ ہے۔ جسے سید شریف رضیؒ (ولادت 359 ہجری وفات 406 ہجری) [1] نے 400 ہجری میں جمع کیا تھا۔ یہ کتاب ”نہج البلاغہ“ کے نام سے پورے عالم اسلام خصوصا، شیعہ مکتبہ فکر رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان شہرت عام رکھتی ہے اور مدارس و حوزات علمیہ میں داخل نصاب رہی ہے۔ جناب سید شریف رضی علیہ الرحمہ نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
خطبات، خطوط، نصائح و مواعظ:
1- خطبات، جس کی کل تعداد 241 ہے -( یعنی امیر المومنین علی علیہ السلام نے جو مختلف مواقع پر خطبے دیے ہیں)
2- خطوط (نامہ) جس کی کل تعداد 79 ہے۔ (یہ وہ مکتوبات ہیں جسےامام عالی مقامؑ نے عمال، کارگزاروں اور معاویہ… وغیرہ کو لکھے ہیں)۔
3- حکمتیں (نصائح و مواعظ) جن کی کل تعداد 480 ہے۔ (یہ علم و دانش کے نہایت مختصر الفاظ میں وہ سرچشمے ہیں جو انسانیت کی تعمیر کرتے ہیں)۔
مرحوم سید شریف رضیؒ کتاب کو مرتب کرنے کے بعد اس کے مقدمے میں لکھتے ہیں: اس کتاب کو مرتب کرنے کے بعد میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس کا نام ”نہج البلاغہ“ رکھا جائے؟ اور میں نے یہی نام رکھ دیا کیونکہ میں نے دیکھا یہ کتاب، دانشور، عالموں، طلاب اور تمام دوستداران علم کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے اور امام علیہ السلام کے کلام کے درمیان، توحید، عدل اور تنزیہ و پاکیزگی خداوند عالم کے سلسلے میں حیرت انگیز کلمات اور دانتوں تلے انگلیاں دبانے والے ایسے نکات پائے جاتے ہیں کہ آدمی دیر تک اپنا سر دھنتا رہے!! اور علم و دانش کے پیاسے اس سے سیرابی حاصل کرتے رہیں۔۔۔
کلام علی (ع) میں روح نبوی ﷺ:
اس لیے کے:
1- دونوں حضرات کا حسب و نسب ایک ہے اور دونوں ہی کی رگوں میں ہاشمی خون دوڑ رہا ہے۔
۔۔۔ ذريتهم بعضهم من بعض۔۔ ۔ ( آل عمران /34)
ترجمہ: یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے –
اور علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میرا رشتہ رسول اکرم ﷺ سے وہی ہے جو نور کا رشتہ نور سے ہوتا ہے یا ہاتھ کا رشتہ بازوؤں سے ہوتا ہے۔۔۔ [2]
2- دونوں ایک ہی نور کے ٹکڑے ہیں۔ كنت أنا و علي بن ابي طالب نورا بين يدي الله
میرا اور علیؑ کا نور خدا کے سامنے تھا جبکہ یہ نور خداوند کی تسبیح و تقدیس میں مشغول تھا یہاں تک کہ صلب آدمؑ میں قرار پایا اور پھر صلب عبدالمطلب میں پہنچا ہمیں نبوت ملی اور علیؑ کے سلسلے میں امامت رکھی گئی۔ [3]
3- علیؑ جانشین رسول اللہ ﷺ اور ان کے وصی ہیں فرمایا: ہارون کو جو موسیٰ سے نسبت تھی وہی نسبت علی کو مجھ سے ہے۔ [4]
انت مني بمنزلة هارون من موسي الا انه لا نبي بعدي رسول خدا ﷺ نے یہ فرما کر خود اور علیؑ کو ایک جان دو قالب بتایا ہے۔
بقول شاعر:
ها علي بشر كيف بشر ربه فيه تجلی و ظهر
آگاہ ہو جاؤ علی ایک ایسے انسان ہیں جو اپنے رب کے صفات کا آئینہ ہیں۔
اور بزبان میر تقی میر:
صورت ظاہر علی پہ نہ جا ہے علی خلوتی راز نہاں
4- من كنت مولاه فعلي مولاه۔۔۔ [5] وغیرہ جیسی حدیثیں تواتر سے نقل ہوئی ہیں اس طرح رسول اللہ ﷺ کے علم کا سلسلہ علیؑ کے ذریعے بلا فصل ہے۔
عباس ابن عبدالمطلب کا بیان:
فضل بن عباس رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اپنے باپ (یعنی رسول اللہ کے چچا عباس) سے پوچھتے ہیں بابا یہ بتائیے کہ رسول خدا سب سے زیادہ اپنے بچوں میں کس کو چاہتے تھے تو عباس بن عبدالمطلب نے جواب دیا: علی کو سب سے زیادہ چاہتے تھے!
فضل نے کہا میں تو ان کے بچوں کی بات کر رہا ہوں اور آپ علی کا نام لے رہے ہیں؟ عباس نے جواب دیا پیغمبر جس قدر علی کو چاہتے تھے کسی اور کو نہیں چاہتے تھے۔ [6]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولہ وسلم اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام میں روحی مماثلت تھی اور دونوں حضرات میں معنوی و روحانی شباہتیں تھیں چنانچہ جو باتیں اور علمی دھارے کلام رسول میں پائے جاتے ہیں وہی کلام علی از جملہ نہج البلاغہ کے خطبات خطوط اور مواعظ و حکمت میں بھی پیوست ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اسی بات کو یوں فرماتے ہیں: و قد علمتم موضعي من رسول الله صلي الله عليه و أله وسلم بالقرابة القريبة— وضعني في حجره و أنا ولد يضمني الي صدره— و لقد قرن الله به (صلي الله عليه و أله) من لدن أن كان فطيما اعظم ملك من ملايكته— يرفع لي في كل يوم من اخلاقه علما —[7]
ترجمہ: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ سے مجھے کس قدر قریبی قرابت حاصل ہے۔ انہوں نے بچپنے میں مجھے اپنی گود میں اس طرح جگہ دی ہے کہ مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔ اپنے بستر پر لٹاتے تھے اپنے کلیجے سے لگا کر رکھتے تھے اور مجھے جسم رسالت کی خوشبو سے مسلسل سرفراز فرمایا کرتے تھے اور غذا کو اپنے دانتوں سے چبا کر مجھے کھلاتے تھے نہ انہوں نے میرے کسی بیان میں جھوٹ پایا اور نہ میرے کسی عمل میں غلطی دیکھی اور اللہ نے دودھ بڑھائی کے دور ہی سے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین فرشتے کو مامور کر دیا تھا۔ جو شب و روز بزرگیوں اور بہترین اخلاق و مکارم کے راستے پر انہیں چلاتا رہے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ اسی طرح تھا جیسے بچہ ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے وہ روزانہ میرے سامنے اپنے اخلاق کریمانہ کا ایک نشانہ پیش کرتے تھے اور پھر مجھے اس کی اقتدا کا حکم دیا کرتے تھے میں نور وحی رسالت کا مشاہدہ کیا کرتا تھا اور خوشبو رسالت سے دماغ کو معطر رکھتا تھا میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کی چیخ کی آواز سنی تھی اور دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسی آواز ہے تو فرمایا: یہ شیطان ہے جو آج اپنی عبادت سے مایوس ہو گیا ہے تم وہ سب دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں اور وہ سب سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں صرف فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو لیکن تم میرے وزیر ہو اور منزل خیر پر ہو۔ [8]
چنانچہ اسی بات کو لیکر جامع نہج البلاغہ جناب شریف رضی علیہ الرحمہ مقدمہ نہج البلاغہ میں خود فرماتے ہیں:
عليه مسحة من العلم الالهي و فيه عبقة من الكلام النبوي
علی کے کلام میں علم الہی کا رنگ ہے تو دوسری جانب رسول خدا ﷺ کے کلام کی خوشبو بسی ہوئی ہے چنانچہ جو کچھ علی علیہ السلام کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہے رسول اللہ ﷺ کے کلام سے ہماہنگ ہے اور ایک ہی سر چشمے سے ابلتے ہوئے علم و حکمت کے سوتے ہیں جو تشنگان علم و معرفت کو سیراب کرتے ہیں۔
بنیاد دین معرفت خدا ہے:
اس دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں دین کو ماننے والے دین کو نہ ماننے والے خدا کو نہ ماننے والے اپنے عقیدے پر کوئی دلیل نہیں رکھتے صرف وہم و گمان کی بناء پر دین داروں سے جدال کرتے آئیں ہیں اور خدا کا انکار کرتے ہیں اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے انکار خدا کے عقیدے کو تسلیم کر لیں اور مان لیں کہ خدا نہیں ہے تو پھر کچھ ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جوابات کے بغیر ایک سلیم الطبع انسان مطمئن نہیں ہو سکتا۔
مثال کے طور پر انکار خدا کرنے والے (لادین و مذہب) کہتے ہیں: جو کچھ ہے یہی زندگانی دنیا ہے اور یہی زمانہ ہمیں مارتا اور جلاتا ہے۔
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (سورہ جاثیہ، آیت24)
ترجمہ: اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اسی میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کر دیتا ہے اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے یہ صرف ان کے خیالات و گمان ہیں اور بس۔
اب اگر اسی خیال کو تسلیم کر لیں تو کچھ سوالات ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کے جوابات کے بغیر انسان مطمئن نہیں ہو سکتا اور وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:
نمبر 1: کیا انسان کی زندگی بس یہی کم و بیش 60، 70 سال یا سو سال ہے؟ اور پھر ملک عدم کا سناٹا چھایا ہوا ہے؟
نمبر 2: تو کیا ہم سب جانور ہیں اور جانوروں جیسی زندگی گزارنے کے لیے دنیا میں آئے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنی طبعی عمر گزارتا ہے اور کھا پی کر نسل بڑھا کر مٹی میں مل جاتا ہے تو کیا ہم بھی اسی کی نقل ہیں؟
نمبر 3: اور اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں عقل کیوں دی گئی اس جوہر انسانیت کا فائدہ کیا ہے؟
چنانچہ ہم بھی انہی جانوروں کی طرح ہوکر رہ جائیں گے اور آخر آخر دونوں ایک ہی سطح زندگی کے مالک ہوں گے اور عقل رکھتے ہوئے بھی انسان کی کل ترقی حیوانیت ہوگی اس طرح دونوں برابر ہو گئے فرق کیا رہا؟
نمبر 4: اگر خدا نہیں ہے دین و آئین نہیں ہے اور انسان کو کسی کی بارگاہ میں جواب نہیں دینا ہے تو پھر یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ دنیا میں کسی قانون کی پابندی کا فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا کا انکار کرنے کے بعد کسی کے سامنے جواب دینا ہی نہیں ہے اور خدا کے تصور کے بغیر قیامت حساب و کتاب سب بیکار ہے۔
قانون کی پابندی تو اس وقت ہوگی جب پابندی کرنے والے خلاف ورزی کرنے والوں کے بالمقابل انعام و اکرام سے نوازے جائیں اور پابندی کرنے والے فائدہ اٹھائیں!! حالانکہ انکار خدا کرنے کی بنا پر مرنے کے بعد خدا کی بات ماننے اور نہ ماننے والے دونوں برابر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں بھی کسی نیکی یا کار خیر کرنے کا کوئی مطلب باقی نہیں رہتا کیونکہ اس طرح انسان بھی ایک حیوانی زندگی کے برابر ہو گیا۔ حالانکہ خدا پر ایمان رکھنے والے اس کے قانون پر چلنے والے دین کو لے کر ان سارے سوالات کا تشفی بخش جواب رکھتے ہیں نہ گمان کی بنا پر گفتگو کرتے ہیں نہ ہی خدا کو ماننے کے سلسلے میں کسی شک و شبہ کا شکار ہیں۔
قرآن کا مطالعہ، کائنات میں غور و فکر اور انفس و آفاق کی سیر کرنے کے علاوہ معصوم اماموں کی سیرت اور ان کی رہنمائیاں صاحبان ایمان کے دل و دماغ کو روشن کرتیں اور زندگی کو راہ مستقیم سے بھٹکنے سے بچاتی ہیں۔
لہذا اس کے جواب میں پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کریم انکار خدا کی نفی کرتا ہے اور رب العالمین کا عقیدہ پیش کرتے ہوئے الحمدللہ رب العالمین اور مالک یوم الدین کی تلقین کرتا ہے۔
یعنی خدا ہے بھی اور وہی سب کا پروردگار بھی ہے اور یہی نہیں بلکہ آخرت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ارشاد ہوتا ہے:
جو لوگ بظاہر ایمان لائے ”یا یہود ی، نصاری اور ستارہ پرست ہیں“ ان میں سے جو واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھے گا اور نیک عمل انجام دے گا اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہے اور کوئی حزن و خوف نہیں ہے۔ (بقرہ آیت نمبر 62)
چنانچہ نگاہ دین میں ایمان باللہ، خدا کی معرفت، روز جزا و آخرت یعنی قیامت پر یقین ایک دوسرے سے مرتبط اور نہ ٹوٹنے والا ایسا دھاگہ ہے جو آپس میں پیوست ہے۔
نہج البلاغہ ایک ایسی کتاب ہے جو مختلف انداز، مختلف الفاظ، مختلف پیرائے میں نہایت سادہ اور سلیس زبان و بیان میں خدا کے وجود اور اس کی معرفت کی طرف پوری انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔ جیسا کے علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اول الدین معرفتہ— ترجمہ: دین کی ابتدا خدا کی معرفت سے ہے۔
بقول: جہان را صاحب باشد خدا نام
دین کی اساس:
یعنی عقیدہ توحید کے بغیر دین ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا اور دین کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ہی غلط ہے اس لیے کہ انسانی زندگی کی اصل و اساس خدا اور اس کا قانون یعنی دین ہے جب خدا ہی نہیں آیا تو دین بھی نہیں آیا نتیجے میں انسان کی زندگی حیوانیت، درندگی، مفاد پرستی، سود جوئی اور منفعت طلبی کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتی اور اگر معرفت الہی حاصل ہو جائے تو چیزیں بدل جاتی ہیں اور زندگی میں مقصدیت پیدا ہوتی ہے۔لہذا خدا کی معرفت زندگی کا اصل مقصد اور اسی مقصد کی راہ میں زندگی گزارنا انسانی زندگی ہے۔
انسانی طبیعت:
انسان فطرتاً ترقی اور کمال کو پسند کرتا ہے فضائل و کمالات سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے کار خیر او ر نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتا ہے۔ کسی مافوق کی نظر عنایت کا آرزو مند ہے۔ اپنے ہر چھوٹے بڑے کام اسے دکھانا چاہتا ہے اور اس پر واہ واہی چاہتا ہے اور پھر اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل پر اجر و ثواب کا خواہش مند رہتا ہے یہ اس کی فطرت ہے یہی اس کی طبیعت ہے اور یہ سب انسانی طینت اور اس کے مزاج کا حصہ ہے چنانچہ دین کے علاوہ اس کے اس جذبے کو کوئی پورا کر سکا ہے نہ ہی اس کے ان مطالبات کا درست انداز میں جواب دینے کا دعوی کرتا ہے۔ دین ہی اس فطری طلب کو سمجھتا ہے اور اسے پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے چنانچہ یہ تمام خواہشیں صرف عقیدہ توحید کے اقرار و ایقان اور دامن دین سے وابستگي سے پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے خدائے واحد کا عقیدہ عالی ترین عقیدہ ہے اور یہ تسلیم کرنا کہ وہ سب سے بزرگ و برتر ہے وہ فضائل و کمالات کا خالق اور حسن و جمال کا سرچشمہ ہے۔ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے نیکیوں کا خریدار اور تمام نیکیوں اور خوبیوں کا خود سرچشمہ فیاض ہے وہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا بھی ہے اسے محفوظ بھی رکھتا ہے وہ حاضر و ناظر ہے اس لیے اس کی نگاہ کرم سے چھوٹے سے چھوٹا عمل نیک و کار خیر پوشیدہ ہے نہ ضائع و برباد ہوتا ہے لہذا خداوند عالم کی شناخت اس کی معرفت اس کے دین کی پیروی دنیا کی تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خیر و کمال کا سرچشمہ ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں دنیا و آخرت کو ہمیشہ ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيا حَسَنةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ— (سورہ بقرہ ، آیت 201)
علی علیہ السلام نے دین کے آغاز کو معرفت خدا اور اللہ تعالی کی شناخت کو بتا کر پورے نہج البلاغہ میں اسے جگہ جگہ بشریت کو سمجھایا ہے اور یہ وہی بات ہے جسے رسول مقبول نے روز اول اسلام کو پہچنواتے وقت ارشاد فرمایا:
قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا۔
کہو کہ کوئی لائق عبادت نہیں سوائے خدائے واحد کے، کامیاب ہو جاؤ گے۔
پھر امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
الدنیا دار ممر لا دار مقر والناس فیہا رجلان رجل باع فیہا نفسہ فاو بقھا و رجل ابتاع نفسہ فاعتقہا۔۔۔ [9]
یہ دنیا ایک وقتی جائے قیام ہے جہاں سے آگے بڑھ جانا ہے اور دنیا میں لوگ دو طرح کے ہیں ایک وہ ہےجس نے اپنے کو بیچ ڈالا اور غلام ہو گیا یعنی خدا نشناس و بے معرفت خواہشات نفس کا غلام انسان، اور ایک وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خرید لیا اور خود کو آزاد کر لیا (یعنی معرفت خدا حاصل کر کے اس کی اطاعت کرنے والا)
بقول:
انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
(انیس)
آدم از بیبصری بندگی آدم کرد
گوهری داشت ولی نذر و قباد و جم کر
یعنی در خوئے غلامی زسگاں خوار تر است
من ندیدم کہ سگی پیش سگی سر خم کرد
(اقبال)
ترجمہ: انسان اپنی نادانی و جہالت کی وجہ سے دوسروں کا غلام ہو گیا اور اپنے گوہر انسانیت کو بادشاہوں کے نذر کر دیا یعنی دوسروں کی غلامی میں خود کو اتنا گرا دیا کہ کتے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ میں نے کسی کتے کو کسی دوسرے کتے کے سامنے سر جھکاتے نہیں دیکھا۔
معرفت خدا دل کی نگاہوں سے حاصل ہوتی ہے:
لوگ اپنی لاعلمی ، جہالت اور مادیات میں صبح و شام زندگی گزارنے کی وجہ سے خواہش رکھتے ہیں کہ جیسے ہر چیز آنکھوں سے دیکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالی کو بھی آنکھوں سے دیکھیں! چنانچہ یہی بے بصیرتی ہے۔
یاد رکھیے اللہ نے ہمیں دو طرح کی آنکھیں دی ہیں:
1۔ سر کی آنکھیں
2۔ دل کی آنکھیں
سر کی آنکھیں اس لیے ہیں تاکہ محدود دائرے کی چیزیں دیکھیں، مادیات کو دیکھ سکیں، دنیا کی ہر چھوٹی بڑی، مادی اشیا کو دیکھ کر اسے مانیں مگر اسی کے ساتھ جو غیر مادی چیزیں ہیں، آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں، مگر دل کی نگاہیں اسے دیکھتی ہیں اور عقل اسے سمجھتی ہے اس میں غور و فکر کرتی ہے اور پھر اس کی تصدیق کرتی ہے۔
ذعلب یمانی خدمت علی (ع) میں:
لہذا ذعلب یمانی خدمت امیر المومنین علی علیہ السلام میں پہنچ کر دریافت کرتے ہیں: یا امیر المومنین کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا بھی ہے جو اس کی عبادت کرتے ہیں—!؟
هل رأيت ربك يا أمير المومنين تو فرمایا: لم أعبد ربا لم أره لم تره العيون بمشاهدة العيان و لكن رأته القلوب بحقائق الايمان
فرمایا: میں ایسے پروردگار کی عبادت نہیں کرتا جسے نہ دیکھا ہو ہاں البتہ اسے آنکھیں دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں بلکہ دل کی نگاہیں حقیقت ایمانی سے اسے درک کرتیں ہیں۔ [10]
خداوند عالم کا ارشاد ہے: ”لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ“ (سوره انعام آیت 103)
ترجمہ: نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔
چشم دل باز کن که جان بینی
آنچه نادیدنی است، آن بینی (هاتف اصفهانی)
متفکر اسلام شہید مرتضی مطہری اسی ضمن میں بڑی عجیب بات کہتے ہیں: کہ ہر شے کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، جب تک روح باطن محفوظ ہے اگر ظاہری شکل و صورت میں کوئی عیب بھی آ جائے تو اس کی بھر پائی ممکن ہے لیکن اگر روح چلی جائے تو اس کی اصلیت و حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔
چنانچہ دین بھی اپنا ایک ظاہر رکھتا ہے اور باطن بھی، دین کا ظاہر، یہی اعمال ہیں جسے ہم سب انجام دیتے ہیں لیکن باطن اور اس کی روح، ایمان ہے جب تک قلب انسان نور ایمان سے آشنا نہیں ہوتا اس کے دل میں نور توحید نہیں چمکتا وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی تاریک بڑے سے ہال میں بھٹک رہا ہو، لیکن جیسے ہی اس کے اندر نور ایمان آتا ہے وہ ایک ایسے ہال میں وارد ہوتا ہے جہاں ہر چیز روشن ہے۔ [11]
لہذا ایک مرد با ایمان، خدا پر یقین رکھنے والا انسان خوشی و غم دونوں حالات میں روشن و منور میدانوں میں قدم رکھتا ہے اس کے لیے دنیا کی خوشی بھی معنی رکھتی ہے اور رنج و مصائب بھی، نہ وہ خوشیوں میں بہکتا ہے نہ ہی رنج و مصائب میں گمراہی کا شکار ہوتا ہے، چنانچہ قرآن اسے ”الذين يؤمنون بالغيب“ سے تعبیر کرتا ہے اور حضرت علی علیہ السلام خدا کی معرفت کو حاصل دین قرار دیتے ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ کہ دین کی ابتدا ہی عرفان الہی ہے اور اسی کی معرفت سب کچھ ہے۔
حقوق بشر کو توحید کا سہارا چاہیے:
دنیا مانے یا نہ مانے، اس دنیا میں کسی نہ کسی عنوان سے ایک خدا سب کے دل کی گہرائیوں میں بسا ہوا ہے اور خدائے واحد کا انکار کرنے والے اپنے انکار پر نہ کوئی دلیل دے پاتے ہیں نہ ہی عقل و خرد کو مطمئن کرپاتے ہیں مگر توحید پرست، خدائے واحد پر یقین رکھنے والے ہزار دلیلوں سے اپنے وجود پر اور لوگوں کے باطل و بیہودہ خیالات کی دنیا پر آج بھی راج کر رہے ہیں خود بھی مطمئن ہیں اور لا دین و لا مذہب، دہریت کو بھی دلائل و برہان کی روشنی میں چیلنج کرتے آئے ہیں، جو لوگ انسانیت کا دم بھرتے ہیں اور اپنے کاموں کو انسانیت کے نام پر ختم کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ”حقوق بشر“، ”انسانی حقوق“ جیسے نعروں کے پیچھے سکون دل تلاشنے کے باوجود، اصل توحید کی چمک سے آنکھیں نہیں بند کر پاتے، راز کیا ہے؟ تو سنئے حقیقتا، خدا کی معرفت تنہا دین کی اساس ہی نہیں بلکہ انسانیت کی آبرو اور عزت بھی ہے کیونکہ یہ بلند بانگ نعرہ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک کہ توحید و یکتا پرستی اور ایک اللہ کی شناخت پر اسے کھڑا نہ کیا جائے، یہاں سوال ہے کہ انسانیت کیا ہے؟ اور حقوق انسانی کسے کہتے ہیں؟ جواب ملتا ہے۔
حقوق انسانی کی فہرست:
خلوص، مروت، نیکی و رحم دلی، صلح و امن، جنگ سے نفرت اور دوری، محرومین، بیماروں، زخمیوں اور پسماندہ افراد کی امداد، عفت و پاکدامنی، دوسروں کو تکلیف نہ پہنچانا، راہ زندگی میں تلاش و کوشش کرنا، ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنا، کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالنا اور تجاوز نہ کرنا ”حقوق انسانی“ کی طویل فہرست کا ایک حصہ ہے یہانتکہ اسی راہ میں جان و مال اور عزت بھی کام آجائے تو بڑی بات ہے۔
لیکن اگر اس مقام پر رک کر کوئی پوچھے کہ بتائیے ہم آخر کیوں یہ قربانیاں دیں؟ کیوں ہم اپنے ذاتی مفادات کو دوسرے پر قربان کر دیں؟ کیوں دوسروں کے فائدے کو اپنے مفادات پر مقدم کریں؟ ہم سختیوں اور مصیبتوں میں کیوں اپنے کو ڈال کر دوسروں کے لیے آسائش و آرام فراہم کریں؟ آخر اس کے پیچھے کیا فلسفہ ہے؟ کون سی منطق ہمیں مطمئن کر سکتی ہے؟ تو اگر اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے دل کو سکون ملتا ہے ہم اسے اچھا سمجھتے ہیں یہ سب معنوی چیزیں ہیں جس کا تعلق ہماری روح و جان سے ہے تو یہ جواب تشفی و تسلی کے لیے کافی نہیں ہو سکتا! جب تک درمیان میں خدا نہ آجائے کیونکہ زندگی میں خدا کی شناخت اس کی معرفت انسان کو ہر قسم کی قربانی کے لیے اپنے پیروں پر کھڑا کرتی ہے۔
دل کہتا ہے یہ محرومیت کیوں؟ اس لیے کہ خدا دیکھ رہا ہے وہ بدلہ دینے والا ہے وہ حاضر و ناظر ہے اس کی نگاہ میں بشر کی عزت ہے خدمت خلق کو وہ عبادت قرار دیتا ہے اس کا اجر دوگنا بلکہ دس گنا ہے لہذا انسانیت یا حقوق انسانی کی بنا و اساس بھی خدا شناسی ہے ۔انسانیت، خدا شناسی یعنی توحید سے جدا نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اگر جدا ہو جائے تو یہ انسان یا اپنی خواہشات کا غلام ہے یا پھر خدا کا بندہ ہے ان دو حالتوں سے خالی نہیں ہو سکتا اب اگر خدا کا بندہ نہیں ہے تو دنیا کا بڑے سے بڑا کام انسانیت کی ہر خدمت اس کی شہوت و خواہشات نفس کی راہ میں قربان ہوگی اور اگر توحید پرست ہے تو انسانیت کا بھرم باقی رہے گا اور یہی حقوق انسانی کا اعتبار ہے۔
یہاں کوئی تیسری راہ نہیں ہے۔ انسان یا بندہ نفس ہے یا پھر بندہ خدا ہے۔ اگر وہ بندہ نفس ہے تو پھر حیوانیت و درندگی ابھر کر سامنے آئے گی اور پھر کسی اخلاقی شرافت و عظمت کا کوئی بھرم باقی نہ رہے گا اور نہ ہی اس کا دعوی سچا مانا جائے گا لہذا خدا کی معرفت اور اس پر ایمان رکھے بغیر انسانیت کی خدمت محض ایک کھوکھلا نعرہ ہے جس کی روح (اسپرٹ) معدوم و ناموجود ہے۔
علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
الدنيا دار ممر لا دار مقر والناس فيها رجلان رجل باع نفسه فاوبقها و رجل ابتاع نفسه فاعتقها
یہ دنیا ایک وقتی گزرگاہ ہے اور یہاں بسنے والے دو طرح کےلوگ ہیں ایک وہ جس نے اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر لیا ایک وہ جس نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر لیا۔ [12]
چنانچہ اپنے نفس کو خدا کے حوالے کر کے آزادی حاصل کر لینا ہی اصل انسانی زندگی ہے جس کی طرف امیر المومنین علی علیہ السلام اشارہ فرما رہے ہیں، یہ فارسی شعر ملاحظہ فرمائیں:
نیست بر لوح دلم جز الف قامت یار
چه کنم حرف دگر یاد نداد استادم
ترجمہ: میرے دل میں تو بس اللہ ہی کی محبت گھر کر چکی ہے۔ (الف اشارہ ہے اللہ کے الف کی طرف ہے) اس کے علاوہ کچھ بھی مجھے یاد ہی نہیں کہ استاد ازل نے ہمیں یہی ایک حرف سکھایا ہے۔
عقل و دل کی سیرابی:
نہج البلاغہ معارف علوی کا وہ خزانہ ہے جو حیات و موت کے موضوع کے علاوہ زندگی کے بنیادی ترین مسائل جیسے توحید، نبوت ،امامت، معا د پر یوں روشنی ڈالتا ہے کہ ہر باشعور و انصاف پسند طالب حق در علی پر سر نیاز خم کرنے پر مجبور نظر آتا ہے-
ناطقے بند، ہیں چپ، عقل و خرد کے خوگر کہ علی نہج بلاغہ کی زباں بولتے ہیں (راقم)
بقول حضرت پیام اعظمی:
حیات ڈھونڈ رہی ہے علی کا دروازہ
اور عصر حاضر علی کی تلاش میں ہے
زندگانی دنیا کی درست تفسیر، حیات دنیا کا آخرت سے رشتہ، زہد و پارسائی کی صحیح وضاحت، تقوی کی روشن مثال، امت میں آل محمد کی عظمت و حیثیت و دیگر متنوع و مختلف عناوین اور مباحث، کہ جسے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اپنا موضوع سخن قرار دیا ہے۔
نہج البلاغہ میں توحید، عرفان، معرفت کے نشانے:
جا بجا خطبات خطوط اور کلمات قصار میں نظريہ توحید، وحدانیت الہی، یکتا پرستی ،شرک کی نفی ،عدم شرک پر بحث و گفتگو نہایت پرکشش دلچسپ اور نہایت باریک و لطیف انداز سے کی گئی ہے۔
اسی طرح علی علیہ السلام نے عدل، قضا و قدر جیسے پیچیدہ موضوعات پر گفتگو کر کے معارف اسلامی کو غنی و توانگر بنا دیا ہے اور سیاسیات کی دنیا میں اپنے نظریے اور عمل سے اہل سیاست کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
انسان حیرت و تعجب کا پتلا بنا ہوا دم بخود ہو کر رہ جاتا ہے کہ علی علیہ السلام نے کس صفائی اور علمی انداز سے انسانی ذہنوں کو معرفت کردگار سے سیراب فرمایا ہے بقول شہید مطہری یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ [13]
حضرت علی (ع) حکیم اصحاب رسول (ص):
اور تمام محققین اہل سنت تو اس بات کے معترف ہیں کہ علی اصحاب پیغمبر میں ایک حکیم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اور ان کی عقل دوسروں سے مافوق تھی اور جناب بو علی سینا سے منقول ہے: کان علی بین اصحاب محمد کالمعقول بین المحسوس۔ (وہی حوالہ ص 56)
اگر تعلیمات علی ابن ابی طالب نہ ہوں تو پوری انسانیت قرآن مجید کی غیبی تعلیمات کی باریکیوں سے بے خبر و بے بہرہ رہ جائے کیونکہ آپ وارث علم نبی اور آپ کا گھرانہ علم قرآن و وحی الہی کا مخزن ہے۔ ان کے علاوہ بعد پیغمبر قرآن و اسلامی تعلیمات کے اسرار و رموز سے کوئی اور واقف ہے نہ آگاہ، علی خزانہ علم ہیں، امرائے کلام ہیں۔
أنا لامراء الكلام و فيما تنشبت عروقه و علينا تهدلت غصونه۔ [14] ترجمہ: اور ہم (اہل بیت ) اقلیم سخن کے فرمان روا ہیں وہ ہمارے رگ و ریشہ میں سمایا ہوا ہے اور اس کی شاخیں ہم پر جھکی ہوئی ہیں۔
پھر آل محمد کی عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں آل محمد سے مقابلہ ناممکن ہے۔
لا يقاس بال محمد عليهم السلام من هذه الامة احد —
اس امت میں کسی کو آل محمد علیہم السلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن لوگوں پر ان کے احسانات برابر جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں ۔۔۔ انہی کے بارے میں پیغمبر کی وصیت اور انہی کے لیے نبی کی وراثت ہے۔ [15]
اور اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
ينحدر عني السيل ولا يرقي الي الطير
میں وہ کوہ بلند ہوں جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مار سکتا —[16]
یعنی علی (ع) علم و حلم، صبر و استقامت، نور و حکمت، شجاعت و شہامت کی وہ بلند و بالا چوٹی ہیں کہ جس تک رسائی ناممکن ہے یہاں تک کہ آل محمد کا تعارف کراتے ہوئے عجیب و غریب انکشاف کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں: هم عيش العلم— وہ ( آل محمد) علم کے لیے زندگی اور جہالت کے لیے پیغام موت ہیں ان کا حلم (قوت برداشت) ان کے علم کا اور ان کا ظاہر ان کے باطن کا اور ان کی خاموشی ان کے کلام کی حکمتوں کا پتہ دیتی ہے— ان کی وجہ سے حق اپنے اصلی مقام پر پلٹ آیا اور باطل اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کی زبان جڑ سے کٹ گئی۔ [17]
انسانیت کے سامنے کھلا دروازہ:
آپ نے مسلمان متفکرین کے لیے علم و دانش حکمت و عرفان کی راہیں ہموار کی ہیں تو انسانیت کے سامنے اپنے بیانات کے ذریعہ خدائے یکتا کی طرف پہنچنے کا راستہ کھولا ہے اور یہ کہہ کر: الحمدلله الدال علي وجوده بخلقه۔۔۔ سب پر حجت تمام کر دی۔
تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جو (خلق کائنات) سے اپنے وجود کا اور ایجاد مخلوقات سے اپنے قدیم ہونے کا اور ان کی باہمی شباہت و شکل و صورت میں ملاپ سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دینے والا ہے نہ حواس پنجگانہ اسے چھو سکتے ہیں اور ناپردے اسے چھپا سکتے ہیں چونکہ بنانے والے اور بننے والے گھیرنے والے اور گھرنے والے پالنے والے اور پلنے والے میں فرق ہوتا ہے۔ [18]
مطالعہ توحید کے نصاب:
1۔ کل کائنات یعنی مخلوقات اور آثار کائنات میں غور و فکر خداوند تک پہنچاتی ہے۔
2۔ خود انسان کا جسم اور اس کے اعضاء و جوارح وجود الہی اور اس کی صناعی کا بہترین عرفان عطا کرتے ہیں۔
3۔ نہج البلاغہ میں جا بجا خاص اعضائے جسمانی اور بعض مخلوق بھی خداوند کی خدائی اور اس کی حکمت و تدبیر و معرفت کا ذریعہ بنتی ہے جیسے آنکھ زبان کان قلب اور مخلوقات میں چمگادڑ، چیونٹی، مور (جو کہ عرب کا پرندہ بھی نہیں) پھر بھی علی علیہ السلام اس کے بارے میں تشریح فرماتے ہیں اور اپنے علم سے پوری خلقت کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیتے ہیں۔
4۔ کبھی فرماتے ہیں اگر ایک خدا کے علاوہ کوئی دوسرا خدا بھی ہوتا تو اس کے بھی سفیر آتے وہ بھی اپنے رسول بھیجتا۔
حالانکہ ایسا نہیں ہوا جس سے ایک خدا کے ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔
بس خدا ہی ہے:
علی علیہ السلام آغاز خطبے میں ذات حق کی تعریف و تمجید سے اپنے کلام کا آغاز کرتے ہیں اور یہ ایسی صراحت ہے کہ وجود خدا میں شک کی کسی طرح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ موجود کی تعریف ہوتی ہے معدوم کی تعریف نہیں ہوتی اور ذات باری کے وجود کا عقیدہ انسانی ادب عالیہ کا جزو لا ینفک ہونے کے ساتھ ساتھ حیات انسان کا اعلی ترین فکری و علمی خیال ہے جو ستون ہستی کی پہچان ہے اور دنیا کو پہچنواتا ہے اور نام خدا سے آشنا کرواتا ہے۔
الحمدلله الذي لا يبلغ مدحته القائلون — [19]
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مدح و ثنا تک بولنے والوں کی پہنچ نہیں جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک رسائی رکھتی ہیں نہ اس کے کمال ذات کی کوئی حد معین ہے۔۔۔
ذات مطلق بے حد و انتہا:
خداوند عالم ہی اصل ہستی ہے اور بے حد و انتہا ہے جس کی ذات ہر لحاظ سے صمد ہے یعنی کہیں سے بھی کوئی پہلو ہی نہیں جسے خالی کہا جائے جو بھر پائی کے لائق ہو یا جہاں احتیاج و نیاز مندی کا شائبہ پایا جائے بلکہ وہ عین وجود ہے وہی ہستی ہے اور ہر ہست اسی کا ایک عکس اور پر تو ہے اس کے اندر کہیں سے کوئی فقدان کا گزر نہیں بلکہ جو چیز ذات حق میں فاقد ہے وہ خود فاقدییت ہے یعنی ہر قسم کی نفی اس سے نفی کی جاتی ہے سلب سلب ہونا اس پر صدق کرتا ہے یعنی وہ ہستی محض وجود محض ہے کیفیت و ماہیت جیسے الفاظ اس کے لیے بے محل اور بیکار و ناکار آمد ہیں چنانچہ فرماتے ہیں:
—كمال توحيده الاخلاص له — کمال توحید (وحدانیت) ہر طرح کی تنزیہ و اخلاص ہے اور کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے کیونکہ ہر صفت گواہ ہے کہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف گواہ ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔
اور اگر ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ سب قرآن مجید کی آیات کی تفسیر ہے جس میں خداوند تعالی اپنے بارے میں کہتا ہے۔
ليس كمثله شيء (سورہ شوري/11)
ولله المثل الاعلي (سورہ نحل / 60 و دیگر آیات—)
یہ وہ معارف ہیں جسے دور حاضر کا ہر پڑھا لکھا انسان بہتر طریقے سے درک کرتا ہے اور توحید و یکتائی کی طرف بڑھتا ہے فرماتے ہیں: ليس في الاشياء بوالج ولا عنها بخارج — نہ وہ چیزوں کے اندر ہے اور نہ ان سے باہر —[20]
کیونکہ کسی شے کے اندر آنا (حلول کرنا) محدودیت لاتا ہے اور باہر رہنا بھی سبب محدودیت ہے اور خداوند ساتھ ہو کر بھی اندر نہیں اور باہر رہ کر بھی جدا نہیں یعنی وہ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اشیاء اس کی مقہور اور وہ ہر شے پر قاہر و محیط ہے۔
خلقت خدا کے وجود کی دلیل ہے:
الحمدلله الدال علي وجوده بخلقه ۔۔۔[21]
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جو خلق کائنات سے اپنے وجود کا اور پیدا شدہ مخلوقات سے اپنے قدیم و ازلی ہونے کا اور ان کی باہمی شباہت سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دینے والا ہے نہ حواس اسے چھو سکتے ہیں اور نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں۔۔۔
یعنی کائنات کا ہر ذرہ اس کے ہونے کا پتہ دیتا ہے اور اس کی ذات حواس خمسہ کے دائرے سے باہر فہم و عقل او ر دل کی معرفت کے دائرے میں دریافت ہوتی ہے دل اس کو پاتا ہے عقل اس کی مددگار ہوتی ہے۔
اور جس طرح سے نشان قدم، آدمی کے جانے پر، عمارت کا وجود اس کے معمار پر ،گاڑیوں کی رفت و آمد چلانے والے پر دلالت کرتی ہیں ،اسی طرح سے یہ پوری دنیا اس کی ایک ایک چیز بنانے والے خالق کا پتہ دیتی ہیں بقول شاعر:
نشاں ہلال نما راہ میں بتاتے ہیں
کہ تھوڑی دور پہ آگے سوار جاتے ہیں
ٹپک کے جھاڑیوں سے خون یہ بتاتا ہے
کہ زخم کھا کے کہیں پر شکار جاتا ہے
صنم تراش نہ ہو تو صنم نہیں بنتا
قدم نہ ہو تو نشان قدم نہیں بنتا۔
(جوش ملیح آبادی)
سر سپردگی کا جذبہ:
انسان کے اندر کمال طلبی اور کمال پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور وہ کمال مطلق کے سامنے اپنا سر ٹیکنے کے لیے بے چین رہتا ہے اسی لیے وہ اس معبود حقیقی کے سامنے سر سپردگی کرتا ہے جو رحمان و رحیم ہے قدو س ،سلام، مومن، مھیمن، عزیز و جبار، غفور و رحیم ہے اور ہر پہلو سے کامل عین کمال عین جمال ہے یعنی وہی خدائے یگانہ کہ جس کی دنیا پرستش کرتی ہے اس منزل میں یہ انسان بس ایک ہی کلمہ زبان سے جاری کرتا ہےـ
إياك نعبد وإياك نستعين— (سوره الحمد)
خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
علی علیہ السلام اسی عالی احساس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
إلهي ما عبدتك خوفاً من نارك ولا طمعاً في جنتك ولكن وجدتك أهلا للعبادة فعبدتك[22] خدایا میں نے تیری عبادت نہ جہنم کی آگ کے خوف سے کی ہے ، نہ ہی جنت کی لالچ میں بلکہ تجھے لائق عبادت پایا اس لیے تیری عبادت کی ہے۔
اسلام جو کہ کامل و اکمل دین و آئین الہی ہے اس کے معنی ہی سر تسلیم خم کرنا اور سر سپردن ہے۔
(الاسلام هو التسليم۔۔۔) اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے ۔ [23]
کس کے سامنے؟ اس خالق و مالک کے سامنے جس نے انسان جیسی مخلوق بنائی جو شکر و کفر دونوں کی تمیز رکھتا ہے چاہے تو اپنے مالک کی نعمتیں پا کر شکریہ ادا کرے چاہے تو اس سے فائدہ اٹھا کر بھی ناشکری پر اتر آئے اور باغی و طاغی ہو جائے۔ مگر شکر ادا کرنے والے مسلسل یاد ولی نعمت، منعم حقیقی یعنی اللہ تبارک و تعالی کی مدح و ستائش میں مست و مگن رہتے ہیں اور اسے لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں بھلانا چاہتے۔
الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم و یتفکرون في خلق السماوات و الارض— (آل عمران/ 191)
جو لوگ اٹھتے بیٹھتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں تفکر کرتے ہیں۔
عبادت سے پہلے عرفان چاہیے:
قرآن کریم مقصد خلقت عبادت کو بتاتا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا ليعبدون (سورہ الذاریات/56)
اور عبادت کے لیے عرفان ضروری ہے یعنی پہلے انسان اپنے مالک کو بقدر ظرف پہچانے تب جاکر قرآن کا منشا پورا ہوگا لہذا حضرت نے دین کے آغاز میں معرفت الہی کو بنیاد قرار دیا ہے پھر جب عرفان حاصل ہو جائے تو اسکی عبادت بھی ہوگی اور یہ ہے دوسرا مرحلہ جس قدر معرفت میں گہرائی ہوگی اسی قدر پرستش و عبادت کا رتبہ بھی برتر و بہتر ہوگا چنانچہ نہج البلاغہ میں عبادت کے مدارج ہیں۔
معرفت کے لحاظ سے درجات عبادت:
1- تاجرانہ
2- غلامانہ
3- آزادانہ
فرماتے ہیں:
«إِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّهَ رَغْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ، وَإِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّهَ رَهْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ، وَإِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّهَ شُكْراً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الأَحْرَار» [24] ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیش نظر کی یہ تاجرانہ عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف جہنم سے اس کی عبادت کی یہ غلامانہ عبادت ہے اور ایک جماعت نے شکر وسپاس کے لائق جان کر اس کی عبادت کی یہ آزادوں کی عبادت ہے۔
ہر چند حضرت کی نگاہ میں یہ تینوں، عبادت ہیں اور امیر المومنین عبادت کی نفی نہیں فرماتے، بلکہ عابدوں کی ذہنیت اور ان کے دانی و عالی خیالات پر روشنی ڈالتے ہیں اور منزل کمال پر کون ہے اس کی نشاندہی فرماتے ہیں کہ آزاد منش انسان حریت حاصل کر لینے والا حقیقی عرفان خدا سے لبا لب ہے لہذا پھر فرماتے ہیں:
لَوْ لَمْ يَتَوَعَّدِ اللَّهُ عَلَى مَعْصِيَتِهِ لَكَانَ يَجِبُ أَلَّا يُعْصَى شُكْراً لِنِعَمِهِ [25] اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت و نافرمانی کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا جب بھی اس کی نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔
یاد خدا قلوب کی روشنی:
فرمایا: أن الله سبحانه جعل الذكر جلاء للقلوب ۔۔۔
بے شک اللہ ”جو کہ ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے“ نے اپنی یاد کو قلوب کی روشنی قرار دیا ہے جس کی وجہ سے بہرے پن کے بعد سنتے ہیں اور اندھے پن کے بعد دیکھتے ہیں اور نافرمانی خدا کے بعد فرمانبردار ہو گئے۔ ہر عہد اور انبیاء سے خالی دور میں یکے بعد دیگرے رب العزت کے کچھ مخصوص بندے ہمیشہ رہے ہیں جن کے ضمیر میں وہ سرگوشیاں کرتا آیا ہے اور ان کی عقلوں کے راستے ان سے باتیں کرتا رہا ہے۔ [26]
یعنی انسان مومن جب یاد خدا کی منزل میں قدم رکھتا ہے اور اس کا دل یاد الہی سے معمور ہوتا ہے تو دل الہام الہی کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ خداوند عالم اس کے دل کو اپنا ہمراز بنالیتا ہے اور خدا اس سے گفتگو کرنے لگتا ہے۔
هر که را اسرار حق آموختند مہر کردند و دهانش دوختند
ترجمہ: جو اسرار الہی سےواقف ہوتا ہے وہ خاموشی اختیار کرلیتا ہے ۔
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
يا رب أسألك بحقك وقدسك أن تجعل أوقاتي من الیل و النہار بذكرك معمورة و بخدمتك موصولة—
ترجمه: اے میرے پروردگار تجھے تیرے حق اور تیری قداست و پاکیزگی کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تو میرے اوقات اور میرے روز و شب کو اپنی یاد سے بھر دے اور مجھے اپنی خدمت میں لے لے یہاں تک کہ میرا ہر ایک عمل تیرے نام اور ہر ورد زباں، تیری یاد کا جزو بن جائے۔
(دعائے کمیل مفاتیح الجنان صفحہ 120، اردو)
مومن ذمہ دار ہوتا ہے:
صاحب ایمان ایک ذمہ دار فرد ہوتا ہے وہ ذمہ داری کو قبول کرتا ہے اور پھر اسے سلیقے سے نبھاتا ہے حدیث کہتی ہے :
— ولکن اللہ یحب عبدا اذا عمل عملا احکمہ ۔۔۔[27] بے شک اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو اپنے کام کو اچھی طرح انجام دیتا ہے۔
صاحبان ایمان کے رات و دن:
علی علیہ السلام فرماتے ہیں: و اما اللیل فصافون اقدامھم — وأما النهار فحلماء علماء ابرار اتقياء۔۔۔
ترجمہ: راتوں میں تو پیروں کو جمائے ہوئے کھڑے ہو کر ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن یہی دن کے وقت قوت برداشت کے مالک، عالم و دانشمند، نیکوکار اور خوف الہی میں ڈوبے ہوئے رہتے ہیں۔ [28]
یعنی ایمان والے اپنے خدا کی شناخت کے ساتھ ساتھ خود کی بھی شناخت حاصل کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے شب بیداری ذکر و یاد الہی میں پوری پوری رات عبادت میں بسر کرنے کے باوجود دن کے وقت ایک حلیم، بردبار، عالم، نیکوکار اور پرہیزگار کی حیثیت سے سماج میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ علی علیہ السلام ایسے ہی لوگوں کے لئے فرماتے ہیں:
طوبي لنفس أدت الي ربها فرضها ۔۔۔[29] ترجمہ: وہ خوش نصیب ہے جس نے اپنے پروردگار کے فرائض کو پہچان کر اسے پورا کیا اور سختی و مصیبت پر صابر رہا ۔
غور طلب بات ہے کہ حضرت علی علیہ السلام فرائض کے پہچاننے اور اس کی ادائیگی کی بات اس وقت کرتے ہیں جب پہلےخود ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنی زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح لوگوں کےسامنے پیش کر دیتے ہیں اور اپنے گورنروں کو قوم کے کمزور و پسماندہ طبقے سے غفلت و بے توجہی برتنے پر تنبیہ کرتے ہیں۔
خطابات لے کر خوش رہوں یا ذمہ داری پوری کروں:
فرماتے ہیں: (أاقنع من نفسي بأن يقال أمير المومنين ولا اشاركهم في مكاره الدهر—) [30]
کیا میں اسی خطاب میں مگن رہوں کہ مجھے امیر المومنین کہا جاتا ہے اور زمانے کی سختیوں میں رعیت کا شریک نہ رہوں اور زندگی کی بد مزگیوں اور تلخیوں میں ان کے لیے نمونہ عمل (آئیڈیل) نہ بنوں میں اس لیے تو نہیں پیدا ہوا ہوں کہ اچھے اچھے کھانوں کی دھن میں لگا رہوں جیسے کہ ایک جانور اپنےچارے کی فکر میں مگن رہتا ہے۔۔۔ اور مقصد زندگی سے غافل رہتا ہے۔
عرفان خدا تربیت نفس کا بہترین ذریعہ:
نگاہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام میں خداوند کی معرفت جہاں انسان کی زندگی کا بنیادی عنصر ہے تو وہیں تعمیر و تربیت نفس انسانی کے لیے سرچشمہ فیاض بھی ہے۔
من اصلح ما بينه و بين الله اصلح الله ما بينه و بين الناس ۔۔۔[31] جس نے اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات کی اصلاح کر لی تو اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات کی اصلاح کر دے گا اور جس نے اپنی آخرت کو سنوار لیا تو خدا اس کی دنیا سنوار دے گا اور جو خود اپنے آپ کو وعظ و نصیحت کرے تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی ۔
پھر فرماتے ہیں: من نصب نفسه للناس اماما فلیبدأ بتعليم نفسه قبل تعليم غيره —
جو لوگوں کا قائد و پیشوا بننا چاہتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے قبل اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار پیش کرنا چاہیے اور جو اپنے نفس کی تعلیم و تربیت کر لے وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ [32]
خاتمہ گفتگو :
معرفت خدا کے سلسلے میں بات کو ختم کرتے ہوئے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبہ نمبر 183 پر آپ کی خاص توجہ چاہتا ہوں۔
فرماتے ہیں: الحمدلله الذي لا تدركه الشواهد ۔۔۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جسے حواس پا نہیں سکتے، نہ جگہیں اسے گھیر سکتی ہیں، نہ آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہیں، نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں، وہ مخلوقات کے نیست کے بعد ہست ہونے سے اپنے ہمیشہ سے ہونے کا اور ان کے باہم مشابہ ہونے سے اپنے بے مثل ہونے کا پتہ دیتا ہے، وہ اپنے وعدے میں سچا اور بندوں پر ظلم و زیادتی کرنے سے بالاتر ہے۔۔۔ وہ چیزوں کے وجود پذیر ہونے سے اپنے قدیم ہونے پر اور ان کے عجز و کمزوری کے نشانوں سے اپنی قدرت پر اور ان کے فنا ہو جانے کی اضطراری کیفیتوں سے اپنی ہمیشگی پر (عقل سے) گواہی حاصل کرتا ہے۔
وہ گنتی اور شمار میں آئے بغیر (یگانہ) ہے وہ کسی (متعینہ) مدت کے بغیر ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور ستون (و اعضاء) کے سہارے کے بغیر قائم و برقرار ہے حواس و مشاعر کے بغیر ذہن اسے قبول کرتے ہیں اور اس تک پہنچے بغیر نظر آنے والی چیزیں اس کی ہستی کی گواہی دیتی ہیں، عقلیں اس کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتیں، بلکہ وہ عقلوں کے وسیلے سے عقلوں کے لیے آشکارا ہوا ہے اور عقلوں ہی کے ذریعے سے عقل و فہم میں آنے سے انکاری ہے، اور ان کے معاملے میں خود انھیں کو حکم ٹھہرایا ہے۔ وہ اس معنی سے بڑا نہیں کہ اس کے حدود و اطراف پھیلے ہوئے ہیں کہ جو اسے مجسم صورت میں بڑا کرکے دکھاتے ہیں اور نہ اس اعتبار سے عظیم ہے کہ وہ جسامت میں انتہائی حدوں تک پھیلا ہوا ہے، بلکہ وہ شان و منزلت کے اعتبار سے بڑا ہے اور دبدبہ و اقتدار کے لحاظ سے عظیم ہے۔
نکتہ: کہتے ہیں عقل بڑی کہ بھینس، چنانچہ عقل کو بڑا سمجھنے والے علی (ع) کی باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔
دعائیہ:
خداوند بحق علی (ع) و اولاد علی (ع) ہم سب کو عرفان خدا کے جام سرمست سے سیراب کرے اور ظہور مہدی (ع) موعود میں تعجیل فرمائے۔ آمین۔
والسلام مع الاکرام
سید مشاہد عالم رضوی (ہلوری)
2026/01/07
لکھنؤ
حوالہ جات
[1] گویا آپ اس ارزشمند کتاب کو تالیف کرنے کے چھ سال بعد 47 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آّپ کے بڑے بھائی نے عجیب شعر کہا:لله عمرك من قصير طاهر
ولرب عمر طال بالادناس
ترجمہ: تمھاری چھوٹی سی مگر پاک و پاکیزہ عمر کی خوبیوں کا کیا کہنا! اور بہت سی عمریں گندگیوں کے ساتھ بڑھاپے کو پہچ جایا کرتی ہیں۔ (مقدمہ نہج البلاغہ الشریف الرضی نقل از نہج البلاغہ دشتی، ص 18)
(سید مرتضیؒ کا مرثیہ بھائی کے لئے)
[2] نہج البلاغہ، نامہ 45 دشتی، شیروانی (حفظ)، جوادیؒ اردو ص 561
[3] ینابیع المودہ، ج 1 ص 47، لسان المیزان جلد 2، ص 229، مناقب امیر المومنین خوارزمی ص 145
[4] سنن ترمذی حدیث 3731، صحیح بخاری حدیث 4416، صحیح مسلم حدیث 6221
[5] سنن ابن ماجہ حدیث 121
[6] شرح ابن ابی الحدید نقل از حکمتھا و اندرز ھا، شھید مطھری
[7] نہج البلاغہ خطبہ 192
[8] نہج البلاغہ خطبہ 192 آقایان دشتی ، جوادی، شیروانی
[9] حکمت 133
[10] نہج البلاغہ خطبہ نمبر177 و میزان الحکمہ، ج 3، محمد ری شہری
[11] حکمتھا و اندرزھا شھید مطھری ،ص 97
[12] حکمت 133 ، نہج البلاغہ
[13] سیری در نہج البلاغہ ص 50
[14] نہج البلاغہ خطبہ 230 و بحار الانوار
[15] نہج البلاغہ خطبہ 2، ترجمہ مفتی جعفر صاحب مرحوم
[16] نہج البلاغہ خطبہ 3، شقشقیہ
[17] نہج البلاغہ خطبہ 236 مفتی جعفر صاحب
[18] نہج البلاغہ خطبہ نمبر 150
[19] نہج البلاغہ خطبہ1
[20] نہج البلاغہ خطبہ 184 مفتی جعفر صاحب
[21] نہج البلاغہ خطبہ 150 مفتی جعفر صاحب
[22] بحار الانوار جلد21
[23] نہج البلاغہ حکمت 125 مفتی جعفر صاحب
[24] نہج البلاغہ حکمت 237 مفتی جعفر صاحب
[25] نہج البلاغہ حکمت 290 مفتی جعفر صاحب
[26] نہج البلاغہ خطبہ 219 مفتی جعفر صاحب باتصرف
[27] الحیاۃ ، حکیمی ، ج 1، ص274
[28] نہج البلاغہ خطبہ 191، خطبہ ھمام
[29] نہج البلاغہ مکتوب 45 مفتی جعفر صاحب
[30] نہج البلاغہ مکتوب 45 مفتی جعفر صاحب
[31] نہج البلاغہ حکمت 89، مفتی جعفر صاحب
[32 نہج البلاغہ حکمت 73 مفتی جعفر صاحب




