
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
خلاصہ مقالہ: قرآن، اقوال اہل بیت اطہار علیہم السلام اور ائمہ طاہرینؑ کی تعلیم کردہ دعاؤں سے ایک چیز جو صاف طور پر ہمارے سامنے نکل کر آتی ہے وہ انسان کامل کا تصور ہے۔ وہی انسان کامل کہ جسے کبھی حجت خدا کہا گیا کیونکہ معصومینؑ کے کلام میں اُس کے بارے میں آیا کہ لولا الحجۃ لساخت الارض باھلھا (الکافی 179/1 حدیث نمبر 12) جسے عرفاء ’’جان کائنات‘‘ اور ’’روح کائنات‘‘ مانتے ہیں، جسے فلاسفہ ’’واسطۂ فیض الہی‘‘ کہتے ہیں، جس کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو العلاء سے فرمایا: و بیمنہ رزق الوری (یعنی جس کے ہاتھ سے تمام مخلوقات کو رزق ملتا ہے) (بہار الانوار 23/19)۔
ویسے تو علماء و محققین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا انسان کامل کا مصداق صرف وہ خدائی نمایندہ ہوتا ہے جو معصوم بھی ہوتا ہے یا وہ غیر معصوم افراد بھی اس کے مصداق ہوتے ہیں جو اپنی باطنی پاکیزگی کے سبب قرب الہی کی منزلوں تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں جو قدر متیقّن ہے وہ یہ کہ امام معصوم ضرور ضرور انسان کامل کا مصداق ہوتا ہے۔ اور پھر اس سلسلہ میں امام علی نقی علیہ السلام کی تعلیم کردہ ’’زیارت جامعہ کبیرہ‘‘ کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ مذکورہ زیارت گرچہ امام دہمؑ نے اپنے سے قبل تمام معصومینؑ کو خطاب کرکے پڑھی ہے، لہٰذا اس میں ساری ضمیریں بھی جمع کی استعمال ہوئی ہیں، مگر اس میں اُس انسان کامل کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے جو وجہ بقائے کائنات ہوتا ہے۔
جہاں تک نہج البلاغہ کا تعلق ہے تو اس میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے خطبوں، خطوں اور وصیت ناموں میں جا بجا ایسے انسان کا تصور پیش کیا ہے جسے انسان کامل کہا جا سکتا ہے ۔البتہ بعض مقامات پر (مثلاً خطبۃ المتقین میں) حضرت علیؑ نے انسان کامل کے لئے اتنی سخت صفات کا ذکر کیا ہے جو لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں میں سے ایک میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لئے محققین کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ نہج البلاغہ کا انسان کامل کوئی اور نہیں بلکہ خود حضرت علیؑ ہیں۔
ویسے تو نہج البلاغہ کے محور پانچ موضوعات ہیں اور ساری نہج البلاغہ ان ہی کے اطراف گھومتی ہیں اور وہ علیٰ الترتیب یہ ہیں:
(1) خدا اور صفات خدا
(2) رسولؐ اور بعثت کے وقت کے حالات
(3) دنیا اور اس کی ثباتی
(4) تقویٰ
(5) موت
مگر ان کے علاوہ بھی بہت سے مقامات پر حضرت علیؑ نے ایسے انسان کا نقشہ کھینچا ہے جو مقصد خلقت کائنات اور جو بہ اصطلاح فارسی ’’گل سر سبد‘‘ ہوتا ہے۔ ایسے انسان کا نقشہ کھینچتے وقت کبھی تو حضرت علیؑ خود اپنی صفات کا ذکر کرتے ہیں (مثلاً خطبہ نمبر 3، 4، 37 وغیرہ میں) اور کبھی کمیل ابن زیاد نخعی کا ہاتھ پکڑ کر اُن آنے والے کامل انسانوں کی صفات بیان کرتے ہیں جن کی تعداد اللہ کی جانب سے طے کر دی گئی ہے۔ (رجوع کیجئے کلمات قصار، کلمہ نمبر 147)۔
ان تعارفی کلمات کے بعد اب ہم ذرا تفصیل میں جانا چاہیں گے اور بتانا چاہیں گے کہ حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ میں جس ’’انسان کامل‘‘ کی تصویر کھینچی ہے اُس میں ان ہی کے مطابق کم از کم 12 صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔ یعنی:
(1) خدا کی معرفت اور اُس پر ایمان راسخ رکھنے والا شخص
(2) تقوی یعنی خوف خدا رکھنے والا شخص
(3) قرآن مجید پر آنے پائی سے عمل کرنے والا شخص
(4) دنیا اور اس کی زرق برق سے دل نہ لگانے والا شخص
(5) خدا سے ملاقات اور اس کی عبادت کا شوق رکھنے والا شخص
(6) تواضع اور انکساری کی وجہ سے جھکا ہوا شخص
(7) ہر حال میں سچ بولنے اور حق بیانی کرنے والا شخص
(8) علم و دانش سے سر شار شخص
(9) لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ کرنے والا شخص
(10) دین و دنیا کے بارے میں بصیرت رکھنے والا شخص
(11) کسی بھی حال میں حق کا سودا نہ کرنے والا شخص
(12) حق کی خاطر پوری شجاعت سے اپنی جان کو داؤ پر لگانے والا شخص۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہم اس مختصر سے مقالے میں انسان کامل کی مذکورہ بالا صفات کے سارے شواہد تو نہج البلاغہ سے نہیں پیش کر سکیں گے مگر ہم ہر صفت پر ایک یا دو مثال ضرور لائیں گے۔
جہاں تک انسان کامل کے خدا شناس اور کامل الائمان ہونے کا تعلق ہے تو معرفت خدا کے سلسلہ میں نہج البلاغہ مختلف عبارات سے پٹی پڑی مگر ہم نے جو عبارات منتخب کی ہے وہ یہ ہے۔ مولاؑ فرماتے ہیں:
اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، الاول لا شئی قبلہ والآخرو لا غایۃ لہ، لا تقع الاوھام لہ علی صفۃ ولا تعقد القلوب منہ علی کیفیۃ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اول ہے اس طرح کہ اس سے قبل کوئی شئی نہیں تھی۔ وہ آخر ہے اس طرح کہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہوگا۔ عقلیں اُس کی کسی صفت کا اندازہ نہیں لگا سکتیں اور دل اس کی کیفیت کو اپنی گرفت میں لا نہیں سکتے) (خطبہ 83 صفحہ 273)۔
ایک اور مقام پر حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
واحد لا بعدد و دائم لا بامد و قائم لا بعمد تتلقاہ الاذھان لا بمشاعرۃ و تشھد لہ المرائی ولا بمحاضرۃ (وہ اللہ ایک ہے مگر ایک عدد کے معنیٰ میں نہیں، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر وقت و زمانے کے اعتبار سے نہیں، وہ قائم و برقرار ہے مگر کسی ستون یا کھمبے کے ذریعے نہیں۔ ذہن اُسے مانتا تو ہے مگر اُسے سمجھے بغیر، تمام نظرآنے والی چیزیں اس کے ہونے کی گواہی تو دیتی ہیں مگر اس کے حضور میں حاضر ہوئے بغیر (نہج البلاغہ خطبہ نمبر 183 صفحہ 514)۔
انسان کامل کا خدا پر ایمان کیسا ہوتا ہے اس سلسلہ میں حضرت علیؑ ایک جگہ پر اپنے ہی ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اومن بہ اولا بادیا و استھدیہ قریبا ھادیا واستعینہ قادرا قاھرا واتوکل علیہ کافیا ناصرا (میں اُس خدا پر ایمان رکھتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ وہ اول ہے اور ظاہر ہے ۔اور میں اُسی خدا سے ہدایت طلب کرتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ وہ قریب ہے اور ہدایت دینے والا ہے۔ میں اُسی سے مدد مانگتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ وہ قریب ہے اور ہدایت دینے والا ہے۔ میں اُسی سے مدد مانگتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ وہ قادر ہے اور ہر چیز پر حاوی ہے۔ اور میں اُسی پر توکل کرتا ہوں کیونکہ وہ بھروسا کرنے کیلئے کافی اور (میرا) مددگار ہے (خطبہ نمبر 81 ص 260)۔
نہج البلاغہ کی رو سے انسان کامل کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا ترس یعنی متقی ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں نہج البلاغہ تقویٰ کے ذکر سے بھی بھری پڑی ہے۔ تقویٰ کا ذکر اتنی جگہ اور اتنی طرح سے آیا ہے کہ اُن میں سے کسی ایک عبارت کو مقالہ کے چننا میرے لئے بے حد مشکل کام بن گیا تھا۔ بہرحال ہم ایک عبارت ہم بطور مثال پیش کررہے ہیں۔ مولاؑ فرماتے ہیں:
فالمتقون فیھا (ای فی الدینا) ھم اھل الفاضائل منطقھم الصواب و ملبسھم الاقتصاد و مشھیم التواضع ۰۰۰ عظم الخالق فی انفسھم و فصغر مادونہ فی اعینھم ۰۰۰ قلو بھم محزونہ و شرورھم مامونہ واجسادھم نحیفہ و حاجاتھم خفیفہ وانفسھم عفیفہ ۰۰۰ اما اللیل فصافون اقدامھم تالین لاجزاء القرآن یرتلونہ ترتیلا یحزنون بہ انفسھم ۰۰۰ ظنوا ان زفیر جھنم و شھیقھا فی اصول اذانھم، فھم حانون علیٰ اوساطھم و مفترشون لجباھھم ۰۰۰ واما النھار فحلماء علماء ابرار اتقیاء قد یراھم الخوف بری القداح ینظر الیھم الناظر فیحسبھم مرضی و مالقوم من مرض۔
(اس دنیا میں متقین بڑی فضیلت والے ہوتے ہیں، اُن کا بولنا نپا تلا، اُن کا لباس اوسظ درجے کا، اور ان کی چال انکساری سے بھری ہوتی ہے۔۔۔ خالق یعنی خدا کی عظمت کا خیال اُن کی روح کی گہرائیوں میں بیٹھا ہوتا ہے، اسی وجہ سے بقیہ تمام چیزیں اُن کی نگاہ میں بے حیثیت ہوتی ہیں۔۔۔ ان کے دل (قیامت کے حساب و کتاب کے خوف سے) غم زدہ رہتے ہیں۔ دنیا والے اُن کے شر سے امان میں ہوتے ہیں۔ ان کے بدن لاغر اور اُن کی خواہشیں بے حد کم ہوتی ہیں۔ اُن کے درون پاک ہوتے ہیں۔۔۔ جب رات آتی ہے تو وہ (پوری رات نمازوں میں گزارنے کیلئے مصلے پر) کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ (دوران نماز) قرآن کے مختلف حصوں کو پڑھتے ہیں اور پھر اُسی تلاوت کی وجہ سے غم زدہ ہو جاتے ہیں۔۔۔ (پھر تو وہ اُس منزل تک پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں جہنم کی چیخ پکار اپنے کانوں سے سنائی دینے لگتی، نتیجتاً وہ اپنی کمریں جھکا لیتے ہیں (اور رکوع کرنے لگتے ہیں پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنی پیشانیوں کو زمین پر رکھ کرسجدے میں جر پڑتے ہیں)۔۔۔پھر جب دن آتا ہے تو وہ بہت بردبار، پرھے لکھے، نیک اور متقی نظر آتے ہیں۔ (ان کے جسم یوں دکھتے ہیں جیسے) خوف نے انہیں تیر کی طرح لاغر بنا دیا ہو۔ دیکھنے والے جب اُن کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں مریض سمجھتے ہیں جبکہ انہیں کوئی مرض نہیں ہوتا (خطبہ نمبر 191 صفحہ 566۔568)۔
انسان کامل کی تیسری صفت جو ہمیں نہج البلاغہ میں نظر آتی ہے وہ اس کا ’’قرآن پر عمل‘‘ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مقام پر حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: و یعطف الرای علی القرآن اذا عطفوا القرآن علی الرای (وہ انسان کامل اپنی رائے کو قرآن کا تابع بناتا ہے اُس وقت کہ جب لوگ قرآن کو اپنی رائے کا تابع بنا رہے ہوتے ہیں) (خطبہ 126 صفحہ 399)۔
اسی نہج البلاغہ میں ایک مقام پر نوف بکالی نامی صحابی سے زاہدوں یعنی وہی کامل انسانوں کی صفات بیان کرتے ہوئے مولاؑ کہتے ہیں: طوبیٰ للزاھدین فی الدینا والراغبین فی الآخرۃ ، اولیک قوم اتخذوا الارض بساطاً و ترابھا فراشاً وما ء ھا طیباً والقرآن شعاراً والدعاء رثاراً (آفرین ہے اُن لوگوں پر جو دنیا سے منہ موڑتے ہیں اور آخرت سے لو لگاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو زمین کو (اپنے لیے) فرش، مٹی کو (اپنے لیے) بستر اور پانی (کو اپنے لیے) شربت مانتے ہیں۔ ایسے لوگ قرآن کو اپنا اوڑھنا اور دعا کو اپنا بچھونا بنا لیتے ہیں (کلمات قصار، کلمہ نمبر 104 ص 854)۔
انسان کامل کی چوتھی صفت جو جگہ جگہ نہج البلاغہ میں نظر آتی ہے وہ اُس کی ’’دنیا سے بے رغبتی‘‘ ہے۔ ایک مقام پر امام المتقینؑ فرماتے ہیں: قرۃ عینہ فیما لایزول وزھادتہ فیما لایبقی (اس زاہدشخص یا یوں کہا جائے کہ اس انسان کامل کی آنکھوں کی ٹھنڈک آخرت کی وہ نعمتیں ہوتی ہیں جو کبھی زائل نہیں ہونگی اور اس کی بے تعلقی دنیا کی ان نعمتوں سے ہوتی ہے جو باقی نہیں رہیں گی) (خطبہ 191 ص 569)۔ اسی خطبہ میں ایک جگہ پر مولاؑ خاصان خدا کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ارادتھم الدینا فلم یریدوھا و اسرتھم ففدوا انفسھم منھا (دنیا ان کو بہت لبھانا چاہتی ہے مگر وہ اس کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھتے۔ اور (اگر) دنیا اُنہیں قیدی بنا بھی لیتی ہے تو وہ اپنی جان کا فدیہ دیکراُس سے خود کو آزاد کرا لیتے ہیں)۔ (خطبہ 191 صفحہ 567)۔
نہج البلاغہ کی رو سے انسان کامل کی کی پانچویں صفت یہ ہوتی ہے کہ ’’وہ خدا سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے‘‘۔ لہٰذا ہر آن وہ اُس کی یاد اور اسکی عبارت میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس سلسلہ میں مکتوب نمبر 28 میں حضرت علیؑ گرچہ مندرجہ ذیل جملہ آل عبدالمطلب کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں مگر ان کی اصل مراد وہ اہل بیتؑ ہیں جو شوق لقاء اللہ رکھتے ہیں۔ مولاؑ تحریر فرماتے ہیں: احب اللقاء الیھم لقاء ربھم (ہر شئی سے ملاقات سے زیادہ انہیں اپنے رب سے ملاقات کا شوق ہوتا ہے)۔ پھر خطبۂ ھمام میں متقین، جو در حقیقت انسان کامل ہی ہوتے ہیں، اُن کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لولا الاجل الذی کتب اللہ لھم لم تستقر ارواحھم فی اجسادھم طرفۃ عین شوقا الی الثواب و خوفا منن العقاب (اگر اُس موت کا وقت معین نہ ہوتا جو اللہ نے اُن کے لئے لکھ دی ہے تو (اپنے نیک اعمال کا) ثواب دیکھنے کے شوق سے اور (قیامت کے خطرناک) عقاب کے خوف سے اُن کی روحیں پلک جھپکنے بھر کی مدت کے لئے بھی ان کے جسموں میں نہ ٹھہرتیں (خطبہ 191 س 566)۔
پھر ایک جگہ پر خاصان خدا کے بارے میں فرماتے ہیں: ان للذکر لاھلاً، اخذوامن الدنیا بدلاً فلم تشغلھم تجارۃ ولا بیع عنہ یقطعون بہ ایام الحیاۃ (اللہ کو یاد کرنے والے کچھ خاص لوگ ہیں جنہوں نے یاد خدا کو دنیا سے بدل لیا ہے (یعنی یاد خدا کو لے لیا ہے اور دنیا کی تڑک بھڑک کو ترک کر دیا ہے) اب تو اُن کا حال ایسا ہے کہ دنیا کی کوئی خریدو فروخت انہیں خدا کی یاد سے غافل نہیں کرپاتی۔ اب تو وہ اسی حالت میں (کسی طرح) اپنی زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں (کیوںکہ انہیں ہر پل خدا سے ملاقات کا انتظارہے) (خطبہ 219 ص 629)۔
انسان کامل کی ایک اور صفت جو نہج البلاغہ میں نظر آتی ہے وہ اس کی تواضع اور انکساری ہے۔ حضرت علیؑ ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں: طوبیٰ لمن ذل فی نفسہ۔۔۔ (آفرین ہے اُس شخص پر جس نے اپنے نفس کو جھکا دیا یعنی جس نے اپنے اندر سے ہر قسم کی اکڑ ختم کر دی) (کلمہ نمبر 123 صفحہ 860)۔ پھر ایک جگہ پر حضرت علیؑ جو اس وقت حاکم تھے، اپنے بارے میں فرماتے ہیں: قد کرھت ان یکون جال فی ظنکم انی احب الاطراء و استماع الثناء ولست بحمد اللہ کذلک ولوکنت احب ان یقال ذلک لترکتہ انحطاطاً للہ سبحانہ عن تناول ماھوا احق بہ من العظمۃ والکبریاء (مجھے یہ سخت ناگوار ہے کہ تمہارے خیال میں بھی یہ بات آئے کہ میں بڑھ چڑھ سراہے جانے کو پسند کرتا ہوں اور اپنی تعریف سننے کا خواہش مند ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ اور اگر میں یہ بات پسند بھی کرتا ہوتا تو اب تک میں اللہ کے سامنے حضوع و خشوع دکھاتے ہوئے اس چیز کو چھوڑ چکا ہوتا کیونکہ اللہ مجھ سے کہیں زیادہ عظمت و کبریائی رکھنے والا ہے (خطبہ 214 ص 618)۔
نہج البلاغہ کے مطابق انسان کامل کی ایک صفت اس کی ’’راست گوئی اور حق بیانی‘‘ ہے پھر چاہے اس کا نتیجہ جو بھی ہو۔ اس سلسلہ میں ہم حضرت علیؑ کا ایک قول پیش کرنا چاہیں گے جس میں انہوں نے ویسے تو اہل بیت اطہار کا تذکرہ کیا ہے مگر جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ اہل بیت یعنی پیغمبر ﷺ کے گھرانے کے لوگ ہی انسان کامل ہیں۔
حضرت فرماتے ہیں:
نحن الشعار و الاصحاب و الخزنۃ والابواب (ہم ہی اسرار الٰہی کے حقیقی رازدار ہیں، ہم ہی پیغمبر اسلامؐ کے سچے یار و مددگار ہیں، ہم ہی علم خدا کے خزانہ دار ہیں، ہم ہی شہر علم کے تنہا دروازے ہیں) پھر اسی خطبہ میں تھوڑا آگے چل کر مولاؑ اہل بیتؑ یا یوں کہوں کہ انسان ہائے کامل کے بارے میں فرماتے ہیں: فیھم کرائم القرآن و ھم کنوز الرحمن، ان نطقوا صدقوا وان صمتوا لم یسبقوا، فلیصدق رائد اھلہ و لیحضر عقلہ (قرآن کی متشابہ آیات کا بھی علم ان کے پاس ہے کیونکہ وہ اللہ کے خزانے ہیں۔ وہ جب بولتے ہیں سچ بولتے ہیں اور جب خاموش رہتے ہیں تو کوئی ان سے آگے نکل نہیں پاتا۔ اور (سنو کہ) رہبر کو اپنے ماننے والوں سے ہمیشہ سچ ہی بولنا چاہیے اور اپنی عقل کو ہمیشہ حاضر رکھنا چاہئے) (خطبہ نمبر 152 صفحہ 431)۔
انسان کامل کی اگلی صفت کی بات کریں تو نہج البلاغہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا شخص ’’علم غیب و علم لدنی سے سرشار‘‘ ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں نہج البلاغہ میں مثالیں تو بہت ہیں مگر اختصار کی خاطر ہم یہاں بس چند شواہد پر ہی اکتفاء کریں گے۔ مولا فرماتے ہیں: لو تعلمون ما اعلم مما طوی عنکم غیبہ اذا لخرجتم الی الصعدات تبکون علی اعمالکم تلتدمون علی انفسکم۔۔۔ (وہ پنہاں باتیں جو میں جانتا ہوں اورجو تم پر آشکار نہیں ہیں اگر تم انہیں جان لیتے تو تم اپنا گھر بار چھوڑ کر بیابانوں میں نکل جاتے۔ پھر تم اپنی بدعمالیوں پر روتے اور اپنی کرتوتوں پر ماتم کرتے (خطبہ 114 صفحہ 357)۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: عندنا اھل البیت ابواب الحکم وضیاء الامر (ہم اہل بیتؑ کے پاس حکمت کے دروازے ہیں اور گنجلک معاملات میں بھی راہ صواب کو جاننے کا نور ہے) (خطبہ 118 ص 362)۔
نہج البلاغہ کے مطابق انسان کامل کی نویں صفت یہ ہوتی ہے کہ ’’وہ لوگوں کی راہنمائی حق کی طرف کرتا ہے‘‘۔ اس سلسلہ میں ہادی برحق حضرت علیؑ فرماتے ہیں: انظروا اھل بیت نبیکم فالزموا سمتھم واتبعوا اثرھم فلن یخرجوکم من ھدی ولن یعیدوکم فی ردی ۔۔۔ (تم اپنے نبیؐ کے اہل بیتؑ کو دیکھو۔ تم ان کے راستے سے جڑ جاؤ اور ان کے نقش قدم پر چل پڑو۔ وہ کبھی تمہیں ہدایت کیے راستے سے نہیں ہٹائیں گے، اور کبھی ہلاکت کی طرف نہیں لے جائیں گے (خطبہ 95 ص 317)۔ ایک خطبہ میں خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں: انما مثلی بینکم کمثل السراج فی الظلمۃ یستضیئی بہ من ولجھا (تمہارے درمیان میری مثال ایک چراغ کی سی ہے جوشخص بھی اُس کی طرف بڑھتا ہے نور حاصل کرتا ہے) (خطبہ 185 صفحہ 528)۔
انسان کامل کی اگلی صفت جو نہج البلاغہ نے بتائی ہے وہ ’’بصیرت‘‘ ہے یعنی وہ ایک صاحب بصیرت شخص ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی اپنے ہی بارے میں مکتوب نمبر 62 میں مولاؑ لکھتے ہیں: انا علیہ لعلی بصیرۃ من نفسی ویقین من ربی (میں اس معاملے میں بلکہ ہر معاملے میں پوری بصیرت رکھتا اور اپنے پروردگار کی طرف سے دئے گے یقین پر پوری طرح قائم ہوں) (صفحہ 800)۔ خیال رہے کہ انسان کامل چونکہ بصیرت رکھتا ہے لہٰذا تمام امور اس کے سامنے شیشے کی طرح بالکل صاف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بارے میں فرمایا: ما شککت فی الحق من اریتہ وما کذبت ولا کذبت ولا ضللت ولا ضل بی (جب سے حق مجھے دکھایا گیا ہے تب سے لیکر آج تک میں نے اُس میں کبھی شک نہیں کیا۔ نہ میں نے کبھی جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے کبھی جھوٹ بولا گیا۔ اور نہ میں کبھی گمراہ ہوا اور نہ مجھے کبھی گمراہ کیا گیا) (کلمہ نمبر 184، 185 صفحہ 881)۔
انسان کامل کی ایک اور وصف جس کا پتہ ہمیں نہج البلاغہ سے چلتا ہے وہ اُس کا ’’بے باک اور نڈر‘‘ ہونا ہے۔ وہ کبھی اور کسی حال میں حق کا سودا نہیں کرتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ طول تاریخ میں ایسے افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنے اصولوں کا سودا نہیں کیا پھر بھلے ہی انہیں زندانوں میں ڈالا گیا ہو یا زہر کا پیالہ پینا پڑا ہو۔ اس سلسلہ میں جہاں انبیاء و اوصیاء کا ذکر کیا جاتا ہے وہیں حضرت علیؑ کو بھی سب سے نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ ایسی عبارات سے بھری بڑی ہے جہاں مولاؑ اپنے مؤقف سے ایک ذرّہ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پھر تو بات یہاں تک پہنچی کہ انہیں تلوار کی ضربت سے شہید ہونا پڑا مگر انہوں نے حق کا سودا نہیں کیا۔
اس سلسلہ میں مولاؑ ایک جگہ فرماتے ہیں: ولعمری ما علی من قتال من خالف الحق و خابط الغی من ادھان ولا ایھان (مجھے میری جان کی قسم! میں حق کی مخالفت کرنے والوں اور گمراہی میں بھٹکنے والوں سے جنگ کرنے میں ذرا بھی رو رعایت اور سستی نہیں کروں گا) (خطبہ 24 صفحہ 177)۔ پھر ایک خطبہ وہی مرد جری فرماتے ہیں: ایھا الناس انا فقات عین الفتنہ ولم یکن لیجتری علیھا احد غیری بعد ان ماج غیھبھا و اشتد کلبھا (اے لوگو! میں نے فتنے کی آنکھ پھوڑدی اور میرے سوا کسی میں اس کام کی جرأت نہیں تھی۔ (میں نے یہ کام اس وقت کیا) جب فتنوں کی موجیں زور زور سے اچھل رہی تھیں اور اپنے آپے سے باہر ہو ئی جا رہی تھیں) (خطبہ 91 صفحہ 309)۔
اگر ہم نہج البلاغہ کو غور سے پڑھیں تو جو اگلی صفت ہمیں انسان کامل کی نظر آتی ہے وہ یہ کہ ’’انسان کامل حق کی بالا دستی کی خاطر اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتا‘‘۔ ایک خطبہ میں امیر المومنینؑ فرماتے ہیں: وما اھدد بالحرب ولا ارھب باضرب ( نہ تو مجھے جنگ سے دھمکایا جا سکتا ہے اور نہ مجھے تلوار سے ڈرایا جا سکتا ہے) (خطبہ 22 ص 172)۔ پھر خطبہ نمبر 34 میں آیا ہے کہ جب حضرت علیؑ کے ساتھیوں نے اہل شام سے جنگ کرنے میں کچھ سستی دکھائی اور عدم آمادگی کا اظہار کیا تو حضرتؑ نے ان سے فرمایا: ۔۔۔انت فکن ذاک ان شئت۔۔۔ فاما انا فواللہ دون ان عطعی ذلک ضرب بالمشرفیہ تطیر منہ فراش الھام و تطیح السواعد والاقدام ویفعل اللہ بعد ذالک مایشاء (اگر تم جنگ کرنے کے بجائے دبک کر بیٹھنا چاہتے ہو تو ضرور بیٹھو مگر میں تو تب تک خاموش نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ تیزدھار تلوار سے ایسے وار نہ کر لوں جن سے دشمن کی کھوپڑی کے ٹکڑے ہوا میں اڑتے نظر آئیں اور ہاتھ پیر کٹ کر گرتے دکھائی دیں، پھر اس کے بعد خدا جو چاہے وہ کرے یعنی پھر نتیجہ چاہے جو نکلے) (خطبہ 34 ص 201)۔
یہ انسان کامل کی وہ کچھ صفات تھیں جو ہمیں نہج البلاغہ میں نظر آئیں۔ دوسرے لفظوں میں اگرہم ان صفات کو اپنے ذہن میں رکھ کر کسی انسان کا نقشہ کھینچیں گے تو وہ یقیناً انسان کامل ہوگا۔ وہی انسان جو مقصد خلقت کائنات، جو روح کائنات و جان کائنات ہوتا ہے۔ جسے اہل فارس ’’آرمان الہی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
اس بات کا ذکر دوبارہ کرتے چلیں کہ انسان کامل کی وہ صفات جو نہج البلاغہ میں بیان ہوئی ہیں وہ کسی عام انسان میں پائی جاتیں۔ وہ صرف اور صرف ان خاصان خدا میں موجود ہوتی ہیں جو دو عالم کا نور ہوتے ہیں جن کی توصیف کے لئے الفاظ اتنے کم پڑ جاتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام جیسیے شخص کو کہنا پڑتا ہے: موالی لا احصی ثنائکم ولا ابلغ من الدح کنھکم ( اے میرے آقاؤں! میں آپ کی خوبیوں کو گن بھی نہیں سکتا چہ جائے کہ انہیں بیان کروں اور میں آپ کی مدح کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتا چاہے جتنا جتن کروں) (زیارت جامعہ کبیرہ)۔ اسی زیارت میں امامؑ یہ بھی کہتیے کہ: بابی انتم و امی و نفسی کیف اصف حسن ثنائکم و احصی جمیل بلائکم (میں آپ پر فداء ہو جاؤں، میرے ماں باپ اور میری جان آپ پر فدا ہو جائے۔ میں کس طرح آپ کی مدح و ثنا کروں اور کس طرح آپ کی خوبیوں کو شمار کروں؟)۔
اے خدا! ہماری اس ادنیٰ سی کاوش کو اُن انسان ہائے کامل کے صدقے میں قبول فرما جن کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس رہی ہیں اور جن کے دیدار کا شوق امیر المومنینؑ جیسوں کو بھی تھا تبھی تو انہوں نے فرمایا:
اٰهِ اٰهِ شَوْقًا اِلٰى رُؤْیَتِهِمْ! ہائے ان کی دید کیلئے میرے شوق کی فراوانی!
(نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ147)۔
از : سید شاہد حسین میثم نونہروی




