شمع زندگی

246۔ خود شناسی

هَلَكَ امْرُؤٌ لَمْ يَعْرِفْ قَدْرَهٗ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۴۹)
جو شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

انسان بعض اوقات اپنی عظمتِ انسانی اور مقام آدمیت کو بھول جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے کرامت و شرافت کی خوشخبری سنائی ہے مگر وہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ چند پیسوں یا وقتی خواہشوں کے پیچھے جا کر اپنے آپ کو اس مقام سے گرا دیتا ہے اور ہوا و ہوس میں غرق ہو کر گھٹیا کام کرتا ہے۔ امیرالمومنینؑ نے اس فراموشی کو ہلاکت و بربادی قرار دیا ہے۔ امامؑ متوجہ فرما رہے ہیں کہ اپنے انسانی مقام و منزلت قدر و اہمیت کو پہچانیں اور اس کی حفاظت کریں۔ اس فرمان کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جو کچھ ہے خود کو اس سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ جوانی کی طاقت آئی یا حکومت کا نشہ لاحق ہوا تو اپنے بچپن کی کمزوری اور بڑھاپے کے ضعف کو فراموش کر دیتا ہے اور خود پسندی میں مبتلا ہو کر اپنے مقام کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اور یوں ہلاک ہو جاتا ہے۔ دنیاوی زندگی میں بھی مثلاً کوئی کسی شعبہ میں مہارت نہیں رکھتا مگر خود کو ماہر سمجھتا ہے۔ طب کی چند کتابیں پڑھ کر خود کو ذہین و حاذق حکیم سمجھنے لگتا ہے تو دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور وہی خطرات اسے بھی لوگوں کی نگاہوں میں گرا دیں گے اور یہ اس کی ہلاکت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button