مقالات

رزق کا ضامن کون

علامہ مفتی جعفر حسینؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خداوند عالم رزق کا ضامن اور روزی کا کفیل ہے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا مِنْ دَآ بَّةٍ فِى الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾
زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کے رزق کا ذمہ اللہ نے نہ لیا ہو۔ [1]

لیکن اس کے ضامن رزق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سب کیلئے زندگی و معیشت کے سروسامان مہیا کر دیئے ہیں اور جنگلوں، پہاڑوں، دریاؤں، معدنوں اور زمین کی وسعتوں میں سب کا حصہ یکساں رکھا ہے اور ہر ایک کو ان سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے۔ اس کے انعامات کسی ایک سے مخصوص نہیں ہیں اور نہ اس کے رزق کا دروازہ کسی کیلئے بند ہے۔

چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

﴿كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۤءِ وَهٰٓؤُلَاۤءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ‌ ؕ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا‏ ﴾
ہم اِن کی اور اُن کی تمہارے پروردگار کی بخششوں سے مدد کرتے ہیں اور تمہارے پروردگار کی بخشش کسی کیلئے بند نہیں۔ [2]

اب اگر کوئی تن آسانی و سہولت پسندی کی وجہ سے ان چیزوں کو حاصل نہ کرے اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے تو ایسا نہیں کہ گھر بیٹھے روزی پہنچ جایا کرے۔ اس نے تو زمین پر گونا گوں نعمتوں کے خوان چن دیئے ہیں، لیکن انہیں حاصل کرنے کیلئے ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سمندر کی تہ میں موتی بکھیر دیئے ہیں، لیکن انہیں نکالنے کیلئے غوطہ زنی کی حاجت ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں لعل و جواہر بھر دیئے ہیں، لیکن کوہ کنی کے بغیر ان تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ زمین میں نمو کے خزانے موجود ہیں، مگر تخم پاشی کے بغیر ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دنیا میں چو طرفہ رزق کے انبار بکھرے ہوئے ہیں، مگر سفر کی مشقتوں کے بغیر انہیں سمیٹا نہیں جا سکتا۔

چنانچہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

﴿فَامْشُوْا فِىْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ‌ؕ﴾
زمین کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو، اور اس کا رزق کھاؤ۔ [3]

اس کے ’’رازق‘‘ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ نہ کد و کاوش کرنا پڑے، نہ تلاشِ معاش میں گھر سے نکلنا پڑے اور خود بخود روزی پہنچ جایا کرے۔ بلکہ رازق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں نشو و نما کی صلاحیت پیدا کی، روئیدگی کیلئے بادل برسائے، پھل، سبزیاں اور غلے پیدا کئے۔ یہ سب تو اللہ کی طرف سے ہے لیکن ان کا حاصل کرنا انسان کی سعی و عمل سے وابستہ ہے۔ جو جدوجہد کرے گا وہ اپنی کوشش و ریاضت کے ثمرات سے بہرہ اندوز ہوگا اور جو اپنی کوشش سے ہاتھ اٹھا لے گا وہ اپنی سستی و کوتاہی کے نتائج سے دو چار ہو گا۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے:

﴿وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ‏ ﴾
انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ [4]

نظامِ قدرت اسی پر قائم ہے کہ ’’بوؤ اور کاٹو‘‘ اور بوئے بغیر روئیدگی کی امید رکھنا اور کئے بغیر نتائج کی آس لگانا غلط ہے۔ اعضا و جوارح ہیں ہی اس لئے کہ انہیں بر سر عمل رکھا جائے۔ چنانچہ حضرت باری کا جناب مریم سلام اللہ علیہا سے خطاب ہے:

﴿ وَهُزِّىْۤ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا‏ ﴿۲۵﴾ فَكُلِىْ وَاشْرَبِىْ وَقَرِّىْ عَيْنًا‌ ۚ﴾
تم خرمے کے درخت کا تنا اپنی طرف ہلاؤ، تم پر پکے ہوئے خرمے گریں گے، انہیں کھاؤ اور (چشمے کا پانی ) پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ [5]

قدرت نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کیلئے کھانے پینے کا سامان مہیا کر دیا، لیکن ایسا نہیں کیا کہ خرموں کو درخت سے اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیا ہو، کیونکہ جہاں تک رزق کے پیدا کرنے کا تعلق ہے وہ اسی کا کام ہے، اس لئے درخت کو سر سبز و شاداب کیا، اس میں پھل لگائے اور پھلوں کو پختہ کر دیا۔ لیکن جب انہیں اتارنے کی نوبت آتی ہے تو قدرت دخل نہیں دیتی۔ صرف حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو ان کا کام یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کو ہلائیں اور اپنے رزق کو حاصل کریں۔

اگر اس کی رازقیت کے یہی معنی ہیں کہ ’’جو دیتا ہے وہی دیتا ہے اور جو ملتا ہے اسی کی طرف سے ملتا ہے‘‘ تو پھر انسان جو کچھ بھی کھائے کمائے گا اور جس طرح بھی حاصل کرے گا، وہ اس کیلئے حلال ہی ہو گا۔ خواہ چوری سے حاصل ہو یا رشوت سے، ظلم سے حاصل ہو یا غصب سے۔ کیونکہ یہ اللہ کا فعل اور اس کا دیا ہوا رزق ہو گا جس میں انسان کے اختیار کا کچھ دخل نہ ہو گا اور جہاں کوئی چیز اختیار کے حدود سے باہر ہو اس کیلئے حلال و حرام کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے کسی قسم کی باز پرس ہوتی ہے، اور جب ایسا نہیں بلکہ اس سے حلال و حرام کا تعلق ہوتا ہے تو پھر اسے انسانی اعمال سے متعلق ہونا چاہئے تا کہ اس سے پوچھا جا سکے کہ اس نے حلال طریقہ سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے۔ البتہ جہاں اس نے اکتساب رزق کی قوتیں ہی نہیں دیں وہاں رزق رسانی کا ذمہ خود لیا ہے۔ چنانچہ شکم مادر میں جنین کیلئے غذا کے پہنچانے کا سروسامان کیا جو اس کی ضرورت اور احتیاج کے مطابق اسے ملتا رہتا ہے، لیکن جب یہی بچہ کار گاہ ہستی میں قدم رکھتا ہے اور ہاتھ پیر ہلانے کی سکت اس میں آ جاتی ہے تو پھر منہ ہلائے بغیر اپنے سر چشمۂ رزق سے غذا حاصل نہیں کر سکتا۔

[1] سورۂ ہود، آیت 6
[2] سورۂ بنی اسرائیل، آیت 20
[3] سورۂ ملک، آیت 15
[4] سورۂ نجم، آیت 39

نہج البلاغہ خطبہ 89 مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ 285

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button