مرکزی سلائیڈرمقالات

واقعہ فدک؟

علامہ مفتی جعفر حسینؒ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

’’فدک‘‘ مدینہ سے دو منزل کے فاصلہ پر ایک سر سبز و شاداب مقام تھا جو یہودیوں کی ملکیت تھا اور انہی سے سنہ ۷ھ میں یہ علاقہ پیغمبر اسلام ﷺ کو صلح کے طور پر حاصل ہوا۔ اس مصالحت کی وجہ یہ ہوئی کہ جب انہیں فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کی طاقت کا صحیح صحیح اندازہ ہوا تو ان کے جنگجویانہ حوصلے پست ہو گئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پیغمبر خدا ﷺ نے کچھ یہودیوں کو پناہ طلب کرنے پر چھوڑ دیا ہے، انہوں نے بھی رسول خدا ﷺ کو پیغام صلح بھیج کر خواہش کی کہ ان سے فدک کا علاقہ لے لیا جائے اور ان کی سر زمین کو جنگ کی آماجگاہ نہ بنایا جائے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انہیں امان دے دی اور یہ علاقہ آپؐ کی خصوصی ملکیت قرار پا گیا، جس میں کسی اور کا دخل نہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ دوسرے مسلمانوں کا انہی اموال میں حصہ ہوتا ہے کہ جنہیں جہاد کے نتیجہ میں بطور غنیمت انہوں نے حاصل کیا ہو، اور جو مال بغیر فوج کشی کے حاصل ہوا ہو وہ مال ’’فَے‘‘ کہلاتا ہے جو صرف پیغمبر ﷺ کا حق ہوتا ہے جس میں کسی اور کا حصہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

﴿وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ؕ﴾
جو مال اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ان لوگوں سے بغیر جنگ کے دلوایا کہ جس کیلئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ، (اس میں تمہارا کوئی حق نہیں)، بلکہ اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا کرتا ہے۔ [1]

اور اس بارے میں کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا کہ ’’فدک‘‘ فوج کشی کے بغیر حاصل ہوا، اس لئے یہ آنحضرت ﷺ کی ذاتی جائیداد تھی جس میں کسی دوسرے کا استحقاق نہیں تھا۔ چنانچہ مؤرخ طبری تحریر کرتے ہیں:

وَ كَانَتْ فَدَكُ خَالِصَۃً لِّرَسُوْلِ اللهِ ﷺ، لِاَنَّهُمْ لَمْ يَجْلِبُوْا عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَّ لَا رِكابٍ.
فدک رسول اللہ ﷺ سے مخصوص تھا، کیونکہ اس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔
(طبری، ج 2، ص 303)

اور امام بلاذری تحریر فرماتے ہیں کہ:
وَ كَانَتْ فَدَكُ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ خَاصَّةً، لِاَنَّهٗ لَمْ يُوْجِفِ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ.
فدک رسول اللہ ﷺ کی خصوصی ملکیت تھا۔ کیونکہ اس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔
(فتوح البلدان، ص 37)

اور یہ بھی مسلم حیثیت سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ علاقہ جناب سیّدہ کو بطور ہبہ عطا کر دیا تھا۔ چنانچہ ملا علی متقی تحریر کرتے ہیں کہ:

عَنْ اَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ﴿وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّهٗ﴾[۲] قَالَ النَّبِیُّ ﷺ:يَا فَاطِمَةُ! لَكِ فَدَكُ .
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب آیہ ﴿وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ﴾ نازل ہوا تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اے فاطمہؑ! فدک تمہارا حصہ ہے‘‘۔
(کنز العمال، ج 2، ص 108)

جب حضرت ابو بکر بر سر اقتدار آئے تو انہوں نے حکومت کی بعض مصلحتوں کے پیش نظر جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو بے دخل کر دیا اور فدک ان کے قبضہ سے نکال لیا۔ چنانچہ ابن حجر تحریر کرتے ہیں:

اِنَّ اَبَا بَكْرٍ انْتَزَعَ مِنْ فَاطِمَةَ فَدَكَ۔
ابو بکر نے جناب فاطمہ علیہ السلام کے ہاتھ سے فدک چھین لیا۔
(صواعق محرقہ، ص 32)

جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور حضرت ابوبکر سے احتجاج کرتے ہوئے فرمایا کہ: تم نے فدک پر قبضہ کر لیا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں مجھے ہبہ فرما چکے تھے۔ جس پر ابوبکر نے جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا سے ہبہ کے گواہ طلب کئے۔ چنانچہ امیر المومنین علیہ السلام اور اُمّ ایمن نے ان کے حق میں گواہی دی۔ مگر حضرت ابوبکر کے نزدیک یہ شہادت قابل تسلیم نہیں سمجھی گئی اور جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کے دعویٰ کو غلط بیانی پر محمول کر تے ہوئے خارج کردیا گیا۔ چنانچہ امام بلاذری تحریر فرماتے ہیں:

قَالَتْ فَاطِمَةُ لِاَبِیْ بَكْرٍ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ جَعَلَ لِیْ فَدَكَ فَاَعْطِنِیْۤ اِيَّاهَا، وَ شَهِدَ لَهَا عَلِىُّ بْنُ اَبِىْ طَالِبٍ، فَسَئَلَهَا شَاهِدًا اٰخَرَ، فَشَهِدَتْ لَهَا اُمُّ اَيْمَنَ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتِ يَا بِنْتَ رَسُوْلِ اللهِﷺ! اَنَّهٗ لَا تَجُوْزُ اِلَّا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ اَوْ رَجُلٍ وَّ امْرَاَتَيْنِ.
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابو بکر سے کہا کہ: رسول اللہ ﷺ نے فدک مجھے دیا تھا، لہٰذا وہ میرے حوالے کرو اور امیر المومنین علیہ السلام نے ان کے حق میں گواہی دی۔ حضرت ابوبکر نے دوسرے گواہ کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ دوسری گواہی اُمّ ایمن نے دی، جس پر ابوبکر نے کہا: اے دختر رسولؐ! تم جانتی ہو کہ گواہی کیلئے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونا چاہئیں۔
(فتوح البلدان، ص 38)

ان شواہد کے بعد اس میں قطعاً گنجائش انکار نہیں رہتی کہ ’’فدک‘‘ پیغمبر ﷺ کی مخصوص ملکیت تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں جناب سیدہؑ کو قبضہ دلا کر ہبہ کی تکمیل کر دی تھی۔ لیکن حضرت ابو بکر نے اس کا قبضہ چھین کر آپؑ کو بے دخل کر دیا اور اسی سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام اور اُمّ ایمن کی گواہی اس وجہ سے مسترد کردی کہ ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی سے نصاب شہادت مکمل نہیں ہوتا۔

اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب فدک پر جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کا قبضہ مسلّم ہے، جیسا کہ حضرتؑ نے بھی اس مکتوب میں: «بَلٰى كَانَتْ فِیْۤ اَیْدِیْنَا فَدَكٌ» سے اس کی صراحت کی ہے تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ان کے دعویٰ پر ثبوت طلب کرنے کے کیا معنی ہوتے ہیں، جبکہ بارِ ثبوت اس کے ذمہ نہیں ہوتا جس کا قبضہ ہو، بلکہ جو اس کے خلاف دعویٰ کرے ثبوت کا بہم پہنچانا بھی اس کے ذمہ ہوتا ہے، کیونکہ قبضہ خود ایک دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا حضرت ابو بکر پر یہ امر عائد ہوتا تھا کہ وہ اپنے تصرف کے جواز پر کوئی ثبوت پیش کرتے اور درصورتیکہ وہ اپنے دعویٰ پر کوئی دلیل نہ لا سکے، جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کا قبضہ ان کی صحیح ملکیت کا ثبوت ہو گا اور اس صورت میں ان سے کسی اور ثبوت اور مشاہدہ کا مطالبہ کرنا بنیادی طور پر غلط ہو گا۔

حیرت اس پر ہوتی ہے کہ جب حضرت ابو بکر کے سامنے اسی نوعیت کے اور قضا یا پیش ہوتے ہیں تو وہ محض دعویٰ کی بنا پر مدعی کے حق میں فیصلہ کردیتے ہیں۔ نہ اس سے ثبوت طلب کیا جاتا ہے اور نہ گواہوں کا مطالبہ ہوتا ہے۔چنانچہ امام بخاری تحریر کرتے ہیں:

عن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ يَقُوْلُ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ: لَوْ قَدْ جَآءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ اَعْطَيْتُكَ هٰكَذَا وَ هٰكَذَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتّٰى قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلٰۤى اَبِیْ بَكْرٍ اَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادٰى: مَنْ كَانَ لَهٗ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ دَيْنٌ اَوْ عِدَةٌ فَلْيَاْتِنِیْ، قَالَ جَابِرٌ: فَجِئْتُ اَبَا بَكْرٍ فَاَخْبَرْتُهٗ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لَوْ جَآءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ اَعْطَيْتُكَ هٰكَذَا وَ هٰكَذَا ثَلَاثًا، قَالَ فَاَعْطَانِیْ.
جابر ابن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا اور اتنا دوں گا، مگر وفاتِ پیغمبر ﷺ تک وہ مال نہ آیا، اور جب ابوبکر کے زمانہ میں آیا تو وہ ان کے پاس گئے اور ابوبکر نے اعلان کرایا کہ جس کا رسول اللہ ﷺ پر قرض ہو یا انہوں نے کسی سے وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور ان سے واقعہ بیان کیا کہ پیغمبر ﷺ نے بحرین کا مال آنے پر مجھے اتنا اور اتنا دینے کا وعدہ کیا تھا جس پر انہوں نے عطا کر دیا۔
(صحیح بخاری، ج 2، جزو 27، ص 190)

اسی حدیث کی شرح میں ابن حجر عسقلانی نے تحریر کیا ہے:
وَ فِيْهِ قَبُوْلُ خَبَرِ الْوَاحِدِ الْعَدْلِ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَ لَوْ جَرَّ ذٰلِكَ نَفْعًا لِّنَفْسِهٖ، لِاَنَّ اَبَا بَكْرٍ لَّمْ يَلْتَمِسْ مِنْ جَابِرٍ شَاهِدًا عَلٰى صِحَّةِ دَعْوَاهُ.
یہ خبر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ صحابہ میں سے ایک عادل کی بھی خبر قبول کی جا سکتی ہے، اگرچہ وہ خود اسی کے فائدے کیلئے کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ابوبکر نے جابر سے ان کے دعویٰ کی صحت پر کوئی گواہ طلب نہیں کیا۔ [3]

اگر حسن ظن پر بنا کرتے ہوئے بغیر کسی شاہد اور بینہ کے جابر کو مال دے دینا جائز تھا تو اسی حسن ظن کی بنا پر جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کے دعویٰ کی تصدیق کرنے میں کیا چیز مانع تھی، جبکہ جابر کے متعلق یہ خوش اعتمادی ہو سکتی ہے کہ وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتے تو جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کے متعلق یہ خوش اعتمادی کیوں نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک قطعہ زمین کی خاطر رسول اللہ ﷺ پر افترا نہیں باندھ سکتیں:

اوّلاً تو آپؑ کی مسلمہ صداقت و دیانت ہی اس کیلئے کافی تھی کہ آپؑ کو ان کے دعویٰ میں سچا سمجھا جاتا، چہ جائیکہ حضرت علی علیہ السلام اور اُمّ ایمن کی گواہی بھی ان کے حق میں موجود ہو، اور یہ کہنا کہ ان دو گواہیوں سے جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کے حق میں فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ قرآن نے شہادت کا اصول یہ مقرر کیا ہے کہ:

﴿وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ‌ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ﴾
اپنے مردوں میں سے دو کی گواہی لیا کرو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ [4]

اگر یہ اصول ہمہ گیر اور عام تھا تو ہر موقع پر اس کا لحاظ ہونا چاہیے تھا، حالانکہ بعض موارد پر اس کی پابندی نظر نہیں آتی۔ چنانچہ جب ایک اعرابی نے ناقہ کے معاملہ میں آنحضرت ﷺ سے جھگڑا کیا ،تو خزیمہ ابن ثابت نے پیغمبر ﷺ کے حق میں گواہی دی اور اس ایک گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا گیا، کیونکہ جن کے حق میں یہ گواہی تھی ان کی دیانت و صداقت میں کوئی شبہ نہ تھا، اس لئے نہ آیۂ شہادت کے عموم میں کچھ رخنہ پڑا اور نہ اسے آئین شہادت کے خلاف سمجھا گیا۔ تو اگر یہاں پیغمبر ﷺ کی صداقت کے پیش نظر ان کے حق میں ایک گواہی کافی سمجھی گئی تو کیا جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی اخلاقی عظمت و راست گفتاری کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام و اُمّ ایمن کی گواہی کو ان کے حق میں کافی نہیں سمجھا جا سکتا تھا؟

اس کے علاوہ اس آیت میں حصر نہیں کیا گیا کہ ان دو صورتوں کے علاوہ اور کوئی صورت اثبات مدّعا کیلئے نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری علیہ الرحمہ نے ’’احقاق الحق‘‘ باب المطاعن میں تحریر کیا ہے:

معترض کا یہ کہنا کہ اُمّ ایمن کی گواہی سے نصاب شہادت نامکمل رہتا ہے، یہ اس بنا پر غلط ہے کہ بعض احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ اور حلف سے بھی حکم لگانا جائز ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن کا حکم منسوخ قرار پائے، کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے حکم لگایا جا سکتا ہے اور ان کی گواہی سند و حجت ہے۔ مگر اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اگر شہادت کے علاوہ کوئی اور دلیل ہوتو وہ قابل قبول نہیں ہے اور نہ اس کی بنا پر حکم لگایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ کہ یہ کہا جائے کہ اس کا مفہوم (لازمی معنی) یہی نکلتا ہے۔ لیکن (ہر مورد میں) مفہوم حجت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس مفہوم کو برطرف کیا جا سکتا ہے، جبکہ حدیث میں اس مفہوم کے خلاف صراحت موجود ہے اور مفہوم کو برطرف کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت منسوخ ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ آیت میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی میں اختیار دیا گیا ہے اور اگر از روئے حدیث ان دو شقوں میں ایک شق کا اور اضافہ ہو جائے اور وہ یہ کہ ایک گواہی اور قسم سے بھی فیصلہ ہو سکتا ہے تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ قرآنی آیت کا حکم منسوخ ہو جائے۔

بہر حال اس جو اب سے یہ امر واضح ہے کہ مدّعی اپنے دعویٰ کے اثبات کیلئے اس کا محتاج نہیں کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی پیش کرے، بلکہ اگر ایک شاہد کے ساتھ حلف اٹھائے تو اسے اس کے دعویٰ میں سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ملا علی متقی تحریر کرتے ہیں:

اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَ اَبَا بَكْرٍ وَّعُمَرَ وَ عُثْمَانَ كَانُوْا يَقْضُوْنَ بِشَهَادَةِ الْوَاحِدِ وَ يَمِيْنِ الْمُدَّعِیْ .
رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ایک گواہی اور مدعی کی قسم پر فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔
(کنز العمال، ج 4، ص 6)

جب ایک گواہ اور قسم پر فیصلے ہوتے رہتے تھے تو اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں نصابِ شہادت نامکمل تھا تو وہ جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا سے قسم لے لیتے اور ان کے حق میں فیصلہ کر دیتے۔ مگر یہاں تو مقصد ہی یہ تھا کہ جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی صداقت کو مجروح کیا جائے تاکہ آئندہ کسی منزل پر ان کی تصدیق کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔

بہر صورت جب اس طرح جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا اور فدک کو ہبۂ رسولؐ نہ سمجھا گیا تو آپؑ نے میراث کی رو سے اس کا مطالبہ کیا کہ اگر تم یہ نہیں مانتے کہ پیغمبر ﷺ نے مجھے ہبہ کیا تھا تو اس سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ فدک پیغمبر ﷺ کی مخصوص ملکیت تھا اور میں ان کی تنہا وارث ہوں۔ چنانچہ عبد الکریم شہر ستانی تحریر کرتے ہیں:

وَ دَعْوٰى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ وِرَاثَةً تَارَةً، وَ تَمْلِيْكًا اُخْرٰى، حَتّٰى دُفِعَتْ عَنْ ذٰلِكَ بِالرِّوَايَةِ الْمَشْهُوْرَةِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: نَحْنُ مَعَاشِرَ الْاَنْۢبِيَآءِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ.
جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ایک دفعہ وراثت کی رو سے دعویٰ کیا اور ایک دفعہ ملکیت کی رو سے، مگر آپؑ کو اس سے محروم کردیا گیا اس مشہور روایت کی وجہ سے جو پیغمبر ﷺ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ: ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے، بلکہ جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
(کتاب الملل و النحل، ص 9)

اس قول کا جسے حدیثِ رسولؐ کہہ کر پیش کیا گیا حضرت ابوبکر کے علاوہ کسی کو علم نہ تھا اور نہ صحابہ میں سے کسی اور نے اسے سنا تھا۔ چنانچہ جلال الدین سیوطی نے تحریر کیا ہے کہ:

اِخْتَلَفُوْا فِیْ مِيْرَاثِهٖ فَمَا وَجَدُوْا عِنْدَ اَحَدٍ مِّنْ ذٰلِكَ عِلْمًا، فَقَالَ اَبُوْ بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: اِنَّا مَعْشَرَ الْاَنْۢبِيَآءِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ.
آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپؐ کی میراث کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا اور کسی کے پاس اس کے متعلق کوئی اطلاع نہ تھی۔ البتہ ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے، بلکہ جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
(تاریخ الخلفاء، ص 54)

عقل یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ پیغمبر ﷺ ان افراد کو جو آپؐ کے وارث سمجھے جا سکتے تھے، یہ تک نہ بتائیں کہ وہ وارث نہیں ہوں گے اور ایک اجنبی کو کہ جسے آنحضرت ﷺ کی وراثت سے دور کا بھی لگاؤ نہ تھا یہ بتا جائیں کہ ان کا کوئی وارث نہیں ہے۔ پھر یہ روایت اس وقت منظر عام پر لائی جاتی ہے کہ جب فدک کا مقدمہ آپ کی عدالت میں دائر ہو چکا تھا اور وہ خود اس میں ایک فریق مخالف کی حیثیت رکھتے تھے، تو ایسی صورت میں ان کا اپنی تائید میں ایسی روایت پیش کرنا جو صرف انہی سے سنی گئی ہو، کیونکر قابل تسلیم ہو سکتی ہے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابوبکر کی جلالت قدر کے پیش نظر اس روایت پر اعتماد کرنا چاہیے تو اگر ان کی عظمت و منزلت کی بنا پر اس روایت پر وثوق کیا جا سکتا ہے تو کیا جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی دیانت و راست بازی کے پیش نظر ان کے دعوائے ہبہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا؟ جبکہ امیر المومنین علیہ السلام اور اُمّ ایمن کی شہادت بھی ان کے حق میں ہو اور اگر اس سلسلہ میں مزید شہادت کی ضرورت محسوس کی گئی تو اس روایت کیلئے بھی شہادت طلب کی جا سکتی ہے، جبکہ یہ روایت قرآن کے عمومی حکم وراثت کے بھی مخالف ہے اور ایسی روایت جو روایۃً کمزور اور درایۃً مقدوح و مجروح ہو، قرآن کے عموی حکم وراثت کی مخصص کیونکر قرار پا سکتی ہے، جبکہ قرآن میں انبیاء علیہم السلام کی وراثت کا صراحتاً تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ‌﴾
سلیمانؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔[5]

دوسرے موقع پر جناب زکریا علیہ السلام کی زبانی ارشاد ہے:
﴿وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِىَ مِنْ وَّرَآءِىْ وَكَانَتِ امْرَاَتِىْ عَاقِرًا فَهَبْ لِىْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا ۙ‏ ﴿۵﴾ يَّرِثُنِىْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ۖ  وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا‏﴾
میں اپنے بعد اپنے بنی اعمام سے ڈرتا ہوں۔ اس لئے کہ میری بیوی بے اولاد ہے۔ (اے اللہ!) تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک ولی عطا فرما جو میرا اور اولاد یعقوبؑ کا وارث ہو اور اے اللہ! تو اسے پسندیدہ قرار دے۔[6]

ان آیات میں ورثہ سے مال ہی کا ورثہ مراد ہے اور اسے معنی مجازی پر محمول کرتے ہوئے علم و نبوت کا ورثہ مراد لینا نہ صرف بعید بلکہ واقعیت کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ علم و نبوت ورثہ میں ملنے والی چیزیں نہیں ہیں اور نہ ان میں بطور ورثہ منتقل ہونے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اگر یہ ورثہ میں منتقل ہوا کرتیں تو پھر تمام انبیاء علیہم السلام کی اولاد کو نبی ہونا چاہیے تھا۔ اس تفریق کے کوئی معنی نہیں کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی اولاد کو ورثہ نبوت ملے اور بعض کو اس سے محروم کردیا جائے۔ حیرت ہے کہ نبوت کے بطور ورثہ منتقل ہو نے کا نظریہ ان لوگوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے جو ہمیشہ سے شیعوں پر یہ اعتراض کرتے چلے آئے ہیں کہ انہوں نے امامت و خلافت کو ایک موروثی چیز قرار دے کر اسے ایک ہی خاندان میں منحصر کردیا ہے، تو کیا یہاں ورثہ نبوت مراد لینے سے نبوت ایک موروثی چیز بن کر نہ رہ جائے گی۔

اگر حضرت ابو بکر کی نظر میں اس حدیث کی رو سے پیغمبر ﷺ کا کوئی وارث نہیں ہو سکتا تھا تو اس وقت یہ حدیث کہاں تھی کہ جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حق وراثت تسلیم کرتے ہوئے دستاویز تحریر کر دی تھی۔چنانچہ صاحب سیرت حلبیہ، سبط ابن جوزی سے نقل کرتے ہیں:

اِنَّ فَاطِمَةَ جَآءَتْ اِلٰۤى اَبِیْ بَكْرٍ وَّ هُوَ عَلَى الْمِنْۢبَرِ فَقَالَتْ: يَاۤ اَبَا بَكْرٍ! اَ فِیْ كِتَابِ اللهِ اَنْ تَرِثَ ابْنَتَكَ وَ لَاۤ اَرِثُ اَبِیْ، فَاسْتَعْبَرَ اَبُوْ بَكْرٍ بَاكِيًا، ثُمَّ نَزَلَ فَكَتَبَ لَهَا بِفَدَكٍ، وَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ: مَا هٰذَا؟ فَقَالَ: كِتَابٌ كَتَبْتُهٗ لِفَاطِمَةَ مِيْرَاثَهَا مِنْ اَبِيْهَا، قَالَ: فَمَا ذَا تُنْفِقُ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ وَ قَدْ حَارَبَتْكَ الْعَرَبُ كَمَا تَرٰى، ثُمَّ اَخَذَ عُمَرُ الْكِتَابَ فَشَقَّهٗ.
حضرت ابو بکر منبر پر تھے کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا تشریف لائیں اور فرمایا کہ: قرآن میں یہ تو ہو کہ تمہاری بیٹی تمہاری وارث بنے اور میں اپنے باپ کا ورثہ نہ پاؤں۔ اس پر حضرت ابو بکر رونے لگے اور منبر سے نیچے اتر آئے اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دستاویز لکھ دی۔ اتنے میں حضرت عمر آئے اورپوچھا کہ یہ کیا ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا کہ: میں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کیلئے میراث کا نوشتہ لکھ دیا ہے کہ جو انہیں ان کے باپ کی طرف سے پہنچتی ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ: پھر مسلمانوں پر کیا صرف کرو گے، جبکہ عرب تم سے جنگ کیلئے آمادہ ہیں۔ اور یہ کہہ کر حضرت عمر نے وہ تحریر چاک کر ڈالی۔
(سیرت حلبیہ، ج 3، ص 400)

اس طرز عمل کو دیکھنے کے بعد ہر صاحبِ بصیرت بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ یہ روایت خود ساختہ اور غلط ہے اور صرف فدک پر تصرف حاصل کرنے کیلئے گھڑ لی گئی تھی۔ چنانچہ جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس طرح اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا کہ حضرت ابوبکر و عمر کے بارے میں وصیت فرما دی کہ یہ دونوں ان کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی اس ناراضگی کو جذبات پر محمول کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو کم کرنا کسی صحیح جذبہ کی بنا پر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ ناراضگی جذبات کے ماتحت ہوتی تو امیر المومنین علیہ السلام حضرت زہر ا سلام اللہ علیہا کی اس بے محل ناراضگی کو روکتے، مگر کوئی تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ جناب امیر علیہ السلام نے اس ناراضگی کو بے محل سمجھا ہو۔ اور پھر آپؑ کی ناراضگی ذاتی رنجش اور جذبات کے نتیجہ میں ہو کیسے سکتی تھی، جبکہ ان کی خوشنودی و ناخشنودی عین منشائے الٰہی کے مطابق ہوتی تھی۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ کا یہ ارشاد اس کا شاہد ہے:

يَا فَاطِمَةُ! اِنَّ اللهَ يَغْضِبُ لِغَضَبِكِ وَ يَرْضٰى لِرِضَاكِ۔
اے فاطمہؑ! اللہ تمہارے غضب سے غضبناک اور تمہاری خوشنودی سے خوشنود ہوتا ہے۔ [7]

حوالہ جات

[1] سورۂ حشر، آیت 6
[2] سورۂ بنی اسرائیل، آیت 26
[3] فتح الباری، ج 4، ص 475
[4] سورۂ بقرہ، آیت 282
[5] سورۂ نمل، آیت 16
[6] سورۂ مریم، آیت 5، 6
[7] الصواعق المحرقۃ، ج 2، ص 507

نہج البلاغہ مکتوب 45 مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ750

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button