مرکزی سلائیڈرمقالات

چیونٹی اور ٹڈی اللہ کی دو نشانیاں

علامہ مفتی جعفر حسینؒ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

”چیونٹی“ بظاہر ایک حقیر سی مخلوق ہے اور جسامت کے اعتبار سے نہایت چھوٹی مگر قدرت نے شعور و احساس کی اتنی قوتیں اس میں ودیعت کی ہیں کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ اس کے حسیات خصوصاً قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ جہاں کہیں خوراک ہو یہ اپنے حاسہ کی مدد سے فوراً وہاں پہنچ جاتی ہے اور اپنے جسم سے بیس گنا زائد وزن اٹھا لیتی ہے اور جس چیز کو اکیلے نہیں اٹھا سکتی اسے اٹھانے کیلئے دوسری چیونٹیوں کو اطلاع کر دیتی ہے اور وہ سب مل کر اسے اٹھا لے جاتی ہیں۔ اگر دیوار یا بلندی پر چڑھنے سے بوجھ گر پڑتا ہے تو جتنی مرتبہ گرے اسے اٹھا نے کیلئے پلٹتی ہیں۔ دھوپ ہو یا سایہ، گرمی ہو یا سردی، نہ ہمت ہارتی ہیں اور نہ محنت سے جی چراتی ہیں، ہمہ وقت طلب و تلاش میں لگی رہتی ہیں۔

یوں تو گرمی و سردی میں یکساں سعی و کاوش کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر گرمیوں میں زیادہ سرگرمِ عمل رہتی ہیں تاکہ سردی اور برسات کیلئے اپنے بلوں میں اتنا ذخیرہ فراہم کرلیں جس سے ان کی گزر بسر ہو سکے۔ ان بلوں میں ٹیڑھے میڑھے راستے بناتی ہیں تا کہ بارش کے پانی سے تحفظ ہو سکے۔ اس غذا کی جمع آوری کے ساتھ اس کے بچاؤ کی بھی تمام تدابیر عمل میں لاتی ہیں۔ چنانچہ جب اس کے خراب یا متعفن ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اسے بلوں سے باہر نکال کر ہوا میں پھیلا دیتی ہیں اور سوکھ جانے کے بعد اسے پھر بلوں میں منتقل کر دیتی ہیں۔ یہ نقل و حمل عموماً چاندنی راتوں میں کرتی ہیں تا کہ دن کے وقت گزرنے والے کی وجہ سے ذخیرہ پامال نہ ہو اور اتنی روشنی بھی رہے کے کام جاری رکھا جا سکے اور اگر زمین كى تری و رطوبت کی وجہ سے دانوں سے کونپلیں پھوٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو ہر دانے کے دو ٹکڑے کر دیتی ہیں اور دھنیے کی یہ خاصیت ہے کہ اگر اس کے دو ٹکڑے ہو جائیں تو بھی اگ آتا ہے اس لئے اس کے چار ٹکڑے کر دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ اہتمام بھی کرتی ہیں کہ دانوں کی سطح پر بھوسے کے تنکے بچھا دیتی ہیں تا کہ زمین کے اندر کی نمی سے محفوظ رہیں۔

چیونٹیوں میں نظم و ضبط سے رہنے، مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کا بھرپور جذبہ ہوتا ہے۔ ان میں کچھ کارکن ہوتی ہیں جو خوراک فراہم کرتی ہیں اور کچھ حفاظتی فریضہ انجام دیتی ہیں اور ایک ملکہ ہوتی ہے جو نگران کار ہوتی ہے۔ غرض یہ تمام کام تقسیم عمل اور نظم و ضبط کے تحت انجام پاتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنے اندر ان تمام چیزوں کو سمیٹے ہوئے ہو گی جو بڑی سے بڑی چیز کے اندر پائی جاتی ہیں اور ہر ایک میں قدرت کی صنعت طرازی و کارسازی کی جھلک یکساں اور ہر ایک کی نسبت اس کی قوت و توانائی کی طرف برابر ہوگی۔ خواہ وہ چیونٹی کی طرح چھوٹی ہو، یا درخت خرما کی طرح بڑی۔ ایسا نہیں کہ چھوٹی چیز کو بنانا سہل اور بڑی چیز کو پیدا کرنا اس کیلئے مشکل ہو۔ کیونکہ صورت، رنگ، حجم اور مقدار کا اختلاف صرف اس کی حکمت و تدبیر کی کارفرمائی کی بنا پر ہے، مگر اصل خلقت کے اعتبار سے ان میں کوئی تفاوت نہیں۔ لہٰذا خلقت و آفرنیش کی یہ یک رنگی اس کے صانع کی وحدت و یکتائی کی دلیل ہے۔

”ٹڈی“ ایک مختصر جسامت کا جانور ہے۔ بچپنے میں اس کے پیر چھوٹے، ٹانگیں لمبی، سر بڑا اور دُم چھوٹی ہوتی ہے۔ جب بچپنے کا دور گزر جاتا ہے تو پر بڑے اور جسم کی لمبائی زیادہ ہو جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں جتھا بنا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پرواز کرتا رہتا ہے۔ اس پرواز سے اس کے جسم اور اعصاب پر خوشگوار اثر پڑتا ہے اور جسم قوی اور اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں، لیکن یہ دور اس کیلئے انتہائی پریشان کن ہوتا ہے، کیونکہ بھوک کی شدت اسے کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتی۔ چنانچہ جب ٹڈی دل مل کر پرواز کرتا ہے تو جہاں کہیں سبزہ نظر آتا ہے بے تحاشا ٹوٹ پڑتا ہے اور مادہ اپنی دم سے زمین میں سوراخ کر کے انڈے چھوڑ جاتی ہے جن سے بچے نکلتے ہیں اور جب ان کے جسم و جان میں توانائی آتی ہے تو اُڑنے لگتے ہیں۔

ان کا پھیلاؤ کبھی کبھی دو ہزار مربع میل تک پہنچ جاتا ہے اور ایک دن میں بارہ سو میل کی مسافت طے کر لیتے ہیں اور جدھر سے ہو کر گزرتے ہیں کھڑی کھیتیوں اور سبزہ زاروں کو اس طرح چاٹ جاتے ہیں کہ روئیدگی کا نام و نشان تک نہیں رہتا۔ یہ پرواز گرم خشک موسم میں ہوتی ہے اور جب تک موسم ساز گار رہتا ہے پرواز جاری رہتی ہے۔ جب سخت سردی یا تیز آندھی انہیں منتشر کر دیتی ہے تو جماعتی زندگی کی کشمکش سے آزاد ہو کر تنہا رہ جاتے ہیں۔ یہ تنہائی کی زندگی ان کیلئے بڑی مطمئن زندگی ہوتی ہے۔ نہ انہیں بھوک ستاتی ہے اور نہ پرواز کی تعب و مشقت نڈھال کرتی ہے۔

نہج البلاغہ خطبہ 183 مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ 518

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button