
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عظمت و جلالِ الٰہی سے دل و دماغ کے متاثر ہونے کا نام تقویٰ ہے جس کے نتیجے میں انسان کی روح خوف و خشیت الٰہی سے معمور ہو جاتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عبادت و ریاضت میں سر گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ناممکن ہے کہ دل میں اس کا خوف بسا ہو اور اس کا اظہار انسان کے افعال و اعمال سے نہ ہو اور عبادت و نیاز مندی سے چونکہ نفس کی اصلاح اور روح کی تربیت ہوتی ہے، لہٰذا جوں جوں عبادت میں اضافہ ہوتا ہے، نفس کی پاکیزگی بڑھتی جاتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں تقویٰ کا اطلاق کبھی خوف و خشیت پر، کبھی بندگی اور نیاز مندی پر اور کبھی پاکیزگی قلب و روح پر ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ ﴿وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ﴾ [1] میں تقویٰ سے مراد خوف ہے اور ﴿اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ﴾ [2] میں تقویٰ سے مراد عبادت و بندگی ہے اور ﴿وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الْفَآٮِٕزُوْنَ﴾ [3] میں تقویٰ سے مراد پاکیزگی نفس اور طہارتِ قلب ہے۔
احادیث میں تقویٰ کے تین درجے قرار دیئے گئے ہیں:
پہلا درجہ: انسان واجبات کی پابندی اور محرمات سے کنارہ کشی کرے۔
دوسرا درجہ: مستحبات کی بھی پابندی کرے اور مکروہات سے بھی دامن بچا کر رہے۔
تیسرا درجہ: شبہات میں مبتلا ہونے کے اندیشہ سے حلال چیزوں سے بھی ہاتھ اٹھالے۔
پہلا درجہ عوام کا، دوسرا درجہ خواص کا اور تیسرا درجہ خاص الخواص کا ہے۔ چنانچہ خداوندِ عالم نے ان تینوں درجوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے:
﴿لَـيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوا وَّاَحْسَنُوْا ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْ﴾
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اعمال بجا لائے ان پر جو وہ (پہلے) کھا پی چکے ہیں اس میں کچھ گناہ نہیں۔ جب انہوں نے پرہیز گاری اختیار کر لی اور ایمان لے آئے اور نیک کام کئے، پھر پرہیز گاری کی اور ایمان لے آئے پھر پرہیز گاری کی اور اچھے کام کئے اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ [4]
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسی عمل کیلئے جماؤ ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور وہی کشتِ عمل پھلے پھولے گی جسے تقویٰ کے پانی سے سینچا گیا ہو، کیونکہ عبادت وہی ہے جس میں احساس عبودیت کارفرما ہو، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:
﴿ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِىْ نَارِ جَهَـنَّمَ﴾
کیا وہ شخص کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ جو اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑے۔ [5]
چنانچہ ہر وہ اعتقاد جس کی اساس، علم و یقین پر نہ ہو اس عمارت کے مانند ہے جو بغیر بنیاد کے کھڑی کی گئی ہو، جس میں ثبات و قرار نہیں ہو سکتا اور ہر وہ عمل جو بغیر تقویٰ کے ہو اس کھیتی کے مانند ہے جو آبیاری کے نہ ہونے کی وجہ سے سوکھ جائے۔
[1]۔ سورۂ بقرہ، آیت 41[2]۔ سورۂ آل عمران، آیت 102
[3]۔ سورۂ نور، آیت 52
[4]۔ سورۂ مائدہ، آیت 93
[5]۔ سورۂ توبہ، آیت 109
نہج البلاغہ خطبہ 16
مطبوعہ افکار اسلامی صفحہ 155



