شمع زندگی

251۔ تہمت

مَنْ وَضَعَ نَفْسَهٗ مَوَاضِعَ التُّهَمَةِ فَلَا يَلُوْمَنَّ مَنْ اَسَاءَ بِهِ الظَّنَّ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۵۹)
جو شخص خود کو بدنامی کی جگہوں پر لے جائے تو پھر اُسے بُرا نہ کہے جو اُس سے بدظن ہو۔

انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ دوسروں سے بدگمانی کرتا ہے۔ قرآن مجید میں بدگمانی کو گناہ قرار دیا گیا اور اس کے مقابلے میں حسن ظن کی تاکید کی گئی ہے۔ مگر بہت سے افراد اس اصول کو نہیں اپناتے۔ امیرالمومنینؑ نے یہاں بدگمانی سے بچنے کی ایک راہ بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ انسان کو ان کاموں، باتوں، جگہوں اور افراد سے دور رہنا چاہیے جو اس پر تہمت و بدگمانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ شراب خانہ میں جانا خواہ مقصد کوئی ہو، چور کے ساتھ بیٹھنا، خواہ وجہ جو بھی ہو انسان کو متہم کرے گی اور اگر کوئی ایسے تہمت کے مقام پر خود کو لے جائے تو تہمت لگانے والوں کو برا نہ کہے خود کو غلط کہے۔ آپؑ فساد کی جڑ ہی کو کاٹ دینا چاہتے ہیں تاکہ فساد کی شاخ ہی نہ پھوٹے۔ لکھتے ہیں رسولؐ اللہ رات کے وقت مدینہ میں اپنی زوجہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ایک صحابی نے سلام کیا اور جلدی سے گزر گیا پیغمبر اکرمؐ نے اسے روک کر کہا یہ میری زوجہ ہے۔ صحابی نے عرض کی یا رسولؐ اللہ مگر کسی کو آپ سے سوء ظن ہے؟ فرمایا: شیطان انسان کے ساتھ خون کی طرح چلتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button