
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
اس خطبہ کا پہلا جز علم الٰہیات کے اہم مطالب پر مشتمل ہے جس میں خلق کائنات سے خالق کائنات کے وجود پر استدلال فرماتے ہوئے اس کی ازلیت و عینیت صفات پر روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ جب ہم کائنات پر نظر کرتے ہیں تو ہر حرکت کے پیچھے کسی محرک کا ہاتھ کارفرما نظر آتا ہے جس سے ایک سطحی ذہن والا انسان بھی یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کوئی اثر مؤثر کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ چند دنوں کا ایک بچہ بھی اپنے جسم کے چھوئے جانے سے اپنے شعور کے دھندلکوں میں یہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی چھونے والا ہے جس کا اظہار وہ آنکھوں کو کھولنے یا مڑ کر دیکھنے سے کرتا ہے تو پھر کس طرح دنیائے کائنات کی تخلیق اور عالم کون و مکاں کا نظم و نسق کسی خالق و منتظم کے بغیر مانا جا سکتا ہے؟
جب ایک خالق کا اعتراف ضروری ہوا تو اسے موجود بالذات ہونا چاہیے، کیونکہ ہر وہ چیز جس کی ابتدا ہے اس کیلئے ایک مرکز وجود کا ہونا ضروری ہے کہ جس تک وہ منتہی ہو۔ تو اگر وہ بھی کسی موجد کا محتاج ہوگا تو پھر اس موجد کیلئے سوال ہو گا کہ وہ از خود ہے یا کسی کا بنایا ہوا اور جب تک ایک موجود بالذات ہستی کا اقرار نہ کیا جائے کہ جو تمام ممکنات کیلئے علۃ العلل ہو، عقل علت و معلول کے نامتناہی سلسلوں میں بھٹک کر سلسلہ موجودات کی آخری کڑی کا تصور بھی نہ کر سکے گی اور تسلسل کے چکر میں پڑ کر اسے کہیں ٹھہراؤ نصیب نہ ہوگا اور اگر خود اسی کو اپنی ذات کا خالق فرض کیا جائے تو دو صورتوں سے خالی نہیں ہوگا یا تو وہ معدوم ہوگا یا موجود، اگر معدوم ہو گا تو معدوم کسی کو موجود نہیں بنا سکتا اور اگر موجود ہو گا تو اسے دوبارہ موجود کرنے کے کوئی معنی نہیں ہوتے، لہٰذا اسے ایسا موجود ماننا پڑے گا جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو اور اس کے ماسوا ہر چیز اس کی محتاج ہو اور یہی احتیاج کائنات اس سرچشمہ وجود کے ازلی اور ہمیشہ سے برقرار ہونے کی شاہد ہے۔
اور اس کے علاوہ چونکہ ہر چیز تغیر پذیر ہے، محل و مکان کی محتاج ہے اور عوارض و صفات میں ایک دوسرے کے مشابہ ہے اور مشابہت کثرت کی آئینہ دار ہوتی ہے اور وحدت اپنی آپ ہی نظیر ہے، اس لئے کوئی چیز اس کی مثل و نظیر نہیں ہو سکتی اور ایک کہی جانے والی چیزوں کو بھی اس کی یکتائی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ ہر اعتبار سے واحد و یگانہ ہے۔ وہ ان تمام چیزوں سے منزہ و مبرا ہے جو جسم و جسمانیات میں پائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ وہ جسم ہے، نہ رنگ ہے، نہ شکل ہے، نہ کسی جہت میں واقع ہے اور نہ کسی محل و مکان میں محدود ہے۔ اس لئے انسان اپنے حواس و مشاعر کے ذریعہ اس کا ادراک و مشاہدہ نہیں کر سکتا، کیونکہ حواس انہی چیزوں کا ادراک کر سکتے ہیں جو زمان و مکان اور مادہ کے حدود کی پابند ہوں۔ لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ دیکھا جا سکتا ہے اس کیلئے جسم مان لینا ہے اور جب وہ جسم ہی نہیں ہے اور نہ جسم کے ساتھ قائم ہے اور نہ کسی جہت و مکان میں واقع ہے تو اس کے دیکھے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی یہ پوشیدگی ان لطیف اجسام کی طرح نہیں ہے کہ جن سے ان کی لطافت کی وجہ سے نگاہیں آر پار ہو جاتی ہیں اور آنکھیں انہیں دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں۔ جیسے فضا کی پہنائیوں میں ہوا، بلکہ وہ ذاتی طور پر پوشیدہ ہے۔ البتہ اس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے۔
وہ دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے، لیکن آلات سماعت و بصارت کا محتاج نہیں، کیونکہ اگر وہ دیکھنے سننے کیلئے اعضا کا محتاج ہو گا تو اس کی ذات اپنے کمالات میں خارجی چیزوں کی دست نگر ہو گی اور بحیثیت ذات کامل نہ رہے گی، حالانکہ وہ ہر لحاظ سے کامل ہے اور اس کا کوئی کمال اس کی ذات سے الگ نہیں، کیونکہ ذات کے علاوہ الگ سے صفات ماننے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذات ہو گی اور کچھ صفتیں اور اس ذات و صفات کے مجموعہ کا نام ہوگا ’’خدا‘‘ اور جو چیز اجزا سے مرکب ہو وہ اپنے وجود میں اجزا کی محتاج ہوتی ہے اور ان اجزا کو مرکب کے ترکیب پانے سے پہلے موجود ہونا چاہیے۔ تو جب اجزا اس پر مقدم ہوں گے تو وہ ہمیشہ سے موجود اور ازلی کیونکر ہو سکتا ہے، جبکہ اس کا وجود اجزا سے متاخر ہے۔ حالانکہ وہ اس وقت بھی علم و قدرت و ربوبیت لئے ہوئے تھا جبکہ کوئی چیز موجود نہ تھی، کیونکہ اس کی کوئی صفت خارج سے اس میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ جو صفت ہے وہی ذات ہے اور جو ذات ہے وہی صفت ہے۔ اس لئے اس کا علم اس پر منحصر نہیں ہے کہ معلوم کا وجود ہو لے تو پھر وہ جانے، کیونکہ اس کی ذات حادث ہونے والے معلومات سے مقدم ہے اور نہ اس کی قدرت کیلئے ضروری ہے کہ مقدور کا وجود ہو تو وہ قادر سمجھا جائے، کیونکہ قادر اسے کہتے ہیں جو ترک و فعل پر یکساں اختیار رکھتا ہو اور اس کیلئے مقدور کا ہونا ضروری نہیں اور یونہی ربّ کے معنی مالک کے ہیں اور وہ جس طرح معدوم کا اس کے موجود ہونے کے بعد مالک ہے اسی طرح موجود کے پردہ عدم میں ہونے کی صورت میں اسے موجود کرنے پر اختیار رکھتا ہے کہ چاہے اسے معدوم رہنے دے اور چاہے اسے وجود بخش دے۔




