مقالات

نہج البلاغہ کی رو سے انسان کامل

مقالہ نگار: سیدہ وجیہہ کاظمی

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

مقدمہ:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْمَعْرُوْفِ مِنْ غَیْرِ رُؤْیَةٍ، وَ الْخَالِقِ مِنْ غَیْرِ مَنْصَبَةٍ، خَلَقَ الْخَلَآئِقَ بِقُدْرَتِهٖ، وَ اسْتَعْبَدَ الْاَرْبَابَ بِعِزَّتِهٖ، وَ سَادَ الْعُظَمَآءَ بِجُوْدِهٖ.

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جو بِن دیکھے جانا پہچانا ہوا اور بے رنج و تعب اٹھائے (ہر چیز کا) پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے مخلوقات کو پیدا کیا اور اپنی عزت و جلالت کے پیش نظر فرمانرواؤں سے اطاعت و بندگی لی اور اپنے جود و عطا کی بدولت با عظمت لوگوں پر سرداری کی۔

انسان کامل وہ ہے جو علم، تقوی، عدل، صبر اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں مکمل ہو۔ انسانِ کامل سے مراد وہ ہستی ہے جو روحانی، اخلاقی اور عقلی کمالات کے بلند ترین درجے پر فائز ہو، جس کا عملی نمونہ نبی اکرمﷺ ہیں۔ یہ تصور خالص شعور، حقیقی شناخت اور مادی حدود سے بلند ہونے کی نمائندگی کرتا ہے۔ انسانیت کو ہدایت، رہنمائی اور مقصدِ حیات سمجھنے کے لیے انسانِ کامل کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو انسان کی حقیقی شناخت اور خالص شعور کو ظاہر کرتا ہے، جو مادی دنیا کی حدود سے بالاتر ہے۔ اسلامی روایات میں اسے "وہ شخص جو کمال کو پہنچ گیا ہے” (مکمل شخص) کہا جاتا ہے۔ یہ شخصیت دیانت، امانت، رذائل سے پاکیزگی، اور وقار و سکینت جیسی چاروں صفات کی حامل ہوتی ہے۔ نہج البلاغہ اس کمال کی عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نہج البلاغہ حضرت علیؑ کے اقوال، خطبات اور خطوط کا مجموعہ ہے، جسے سید رضی نے مرتب کیا۔ نہج البلاغہ اسلامی فلسفہ، اخلاق، عدل اور حکمرانی کے اصولوں کی بنیاد ہے۔

مقاصد:

سوال: نہج البلاغہ میں انسان کامل کے اصول کیا ہیں اور عصر حاضر میں ان کا اثر کیا ہے؟
حضرت علیہ السّلام کے اقوال کے ذریعے انسان کامل کے تصور کی وضاحت کرنا اور عصری افادیت بیان کرنا۔ انسانی کمال اور کامل شخصیت کے اصولوں کا تجزیہ اور ان کی عصری افادیت بیان کرنا۔

ماخذ: نہج البلاغہ، احادیث، خطوط اور خطبات

خلاصہ (مقالے کی مختصر وضاحت)

نہج البلاغہ حضرت علیؑ کے خطبات، خطوط اور اقوال کا ایک مجموعہ ہے، جسے سید رضیؒ نے مرتب کیا۔ یہ کتاب اسلامی فلسفہ، اخلاقیات، عدل و انصاف، اور انسان کی روحانی و اخلاقی ترقی کا جامع ذریعہ ہے۔

نہج البلاغہ نہ صرف علم و حکمت کا خزانہ ہے بلکہ انسان کو انسان کامل بنانے کے اصول بھی فراہم کرتا ہے۔ انسان کامل وہ ہے جو عقل، تقویٰ، عدل، شجاعت، اخلاق اور روحانیت میں متوازن ہو۔ اس مقالے میں نہج البلاغہ کے اہم خطبات کی روشنی میں انسان کامل کے اصول اور عصر حاضر میں ان کے اثرات پر روشنی ڈالی جائے گی۔نہج البلاغہ، حضرت علیؑ کے خطبات، خطوط اور اقوال کا مجموعہ، انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ مقالہ انسان کامل کے تصور کا تجزیہ کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ نہج البلاغہ کے اصول کس طرح ایک مکمل اور اخلاقی شخصیت کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں۔ مقالہ میں انسانی کمال کے مختلف پہلو، جیسے: علم، تقوی، عدل، شجاعت اور روحانی ترقی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ عصر حاضر میں نہج البلاغہ کے رہنما اصول نوجوانوں کی اخلاقی تربیت، سماجی انصاف اور روحانی ترقی کے لیے کس طرح مؤثر ہیں، اس پر بھی بحث کی گئی ہے۔

تعارف

انسان کامل کی تعریف:

انسان کامل وہ ہے جو علم، تقوی، عدل، صبر اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں مکمل ہو۔ نہج البلاغہ اس کمال کی عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں مختلف پہلوؤں سے کی گئی ہے۔ حضرت علیؑ کے نزدیک انسان کامل وہ ہے جو:

علم و حکمت کا حامل ہو
اخلاقی اور روحانی تربیت یافتہ ہو
عدل و انصاف کو عملی طور پر نافذ کرے
اپنے اعمال اور سوچ میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھے

نہج البلاغہ کے خطبات انسان کامل کے ان اصولوں کو واضح کرتے ہیں، اور ہر خطبہ ایک اخلاقی اور عملی سبق فراہم کرتا ہے امام علیؑ کے مطابق انسان کامل ایک ایسا فرد ہے جو روحانی، اخلاقی اور علمی طور پر متوازن ہو۔

نہج البلاغہ کی رو سے انسان کامل کی چند نمایاں خصوصیات:

معرفتِ الٰہی

تقویٰ: اللہ سے ڈرنا اور ہر کام میں خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔
عدل و انصاف: ہر حال میں انصاف کرنا، خواہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

تواضع و انکساری

سچائی: قول و فعل میں صداقت۔
صبر: مصیبت اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا۔
شکر گزاری: نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا۔
انسان کامل مومن ہوتا ہے۔
صاحبِ کمال اور آٹھ اوصاف

معرفتِ الٰہی:

اَوَّلُ الدِّیْنِ مَعْرِفَتُهٗ، وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِیْقُ بِهٖ، وَ كَمَالُ التَّصْدِیْقُ بِهٖ تَوْحِیْدُهٗ، وَ كَمَالُ تَوْحِیْدِهِ الْاِخْلَاصُ لَهٗ، وَ كَمَالُ الْاِخْلَاصِ لَهٗ نَفْیُ الصِّفَاتِ عَنْهُ، لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ اَنَّها غَیْرُ الْمَوْصُوْفِ، وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوْفٍ اَنَّهٗ غَیْرُ الصِّفَةِ.
دین کی ابتدا [۱] اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ (خطبہ 1)

امامؑ واضح فرماتے ہیں کہ دین کی بنیاد ہی معرفتِ خدا ہے۔ جس شخص کو خدا کی پہچان حاصل نہ ہو وہ کمالِ انسانی تک نہیں پہنچ سکتا۔

تقویٰ:

فَالْمُتَّقُوْنَ فِیْهَا هُمْ اَهْلُ الْفَضَآئِلِ: مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ، وَ مَلْبَسُهُمُ الْاِقْتِصَادُ، وَ مَشْیُهُمُ التَّوَاضُعُ. غَضُّوْا اَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِمْ، وَ وَقَفُوْا اَسْمَاعَهُمْ عَلَی الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ. نُزِّلَتْ اَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِی الْبَلَآءِ كَالَّتِیْ نُزِّلَتْ فِی الرَّخَآءِ. وَ لَوْلَا الْاَجَلُ الَّذِیْ كَتَبَ اللهُ لَھُمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ اَرْوَاحُهُمْ فِیْۤ اَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ، شَوْقًا اِلَی الثَّوَابِ، وَ خَوْفًا مِّنَ الْعِقَابِ.
چنانچہ فضیلت ان کیلئے ہے جو پرہیزگار ہیں کیونکہ ان کی گفتگو جچی تلی ہوئی، پہناوا میانہ روی اور چال ڈھال عجز و فروتنی ہے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور فائدہ مند علم پر کان دھر لئے ہیں۔ ان کے نفس زحمت و تکلیف میں بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و آسائش میں۔ اگر (زندگی کی مقررہ) مدت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کیلئے لکھ دی ہے تو ثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کیلئے بھی نہ ٹھہرتیں۔ (خطبہ 191)

اس خطبہ میں امامؑ متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اللہ کی عظمت کو اپنے دلوں میں اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ دنیا اُن کی نظر میں چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہاں واضح ہوتا ہے کہ کامل انسان وہ ہے جس کے دل میں معرفتِ الٰہی راسخ ہو اور وہی معرفت اس کے اخلاق و کردار میں ظاہر ہو۔

عدل و انصاف:

نہج البلاغہ میں عدل و انصاف کو کائنات کے استحکام، حکومت کی بقا اور معاشرتی امن کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علیؑ کے مطابق، عدل کا مطلب ہر چیز کو اس کی مناسب جگہ پر رکھنا اور حق دار کو اس کا حق دینا ہے، جبکہ ظلم و ناانصافی معاشرے کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ "عدل” انصاف ہے اور "احسان” لطف و کرم (خیرات) ہے۔

وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ
فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰى: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ﴾

خداوند عالم کے ارشاد کے متعلق کہ: ’’اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے‘‘، فرمایا:
اَلْعَدْلُ الْاِنْصَافُ، وَ الْاِحْسَانُ التَّفَضُّلُ.
’’عدل‘‘ انصاف ہے اور ’’احسان‘‘ لطف و کرم۔ (حکمت 231)

نہج البلاغہ کے خطبوں اور حکمتوں میں بار بار یہ بات بیان ہوئی ہے کہ انسان کامل نہ تو ظلم کرتا ہے اور نہ ہی ظلم سہتا ہے۔نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام نے انسان کی کمالات اور اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کامل وہ ہے جو نہ صرف علم و حکمت میں بلند ہو بلکہ اپنی زندگی میں عدل و انصاف کو محور بنائے۔عدل کی بنیاد یہ ہے کہ انسان ہر حال میں حق و انصاف کو ترجیح دے، خواہ اس کے ذاتی مفاد کے خلاف ہو یا طاقتور لوگوں کے دباؤ میں۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

"الناس عیال الله فأحبهم إلى الله أنفعهم لعیاله” (خطبہ 53)
یعنی لوگ اللہ کے خاندان کے فرزند ہیں، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو دوسروں کے لیے مفید ہو۔

یہاں عدل اور انصاف کی بنیاد یہ ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اور ہر ایک کے ساتھ برابر سلوک کرے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:

"مَنْ لَمْ یَكُنْ لَهُ فِي الْأَرْضِ نَصِيبٌ مِنَ الْعَدْلِ فَلَا حَقَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ”
ترجمہ: جس کے درمیان زمین میں عدل نہ ہو، اُس کا جنت میں حق نہیں۔

یہ واضح کرتا ہے کہ انسان کامل وہی ہے جو عدل پر عمل کرے اور معاشرتی انصاف قائم کرے۔ خطبہ 53، 67 اور 140 میں بھی عدل پر زور دیا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے یہاں فرمایا کہ حکمران اور عام انسان دونوں پر عدل و انصاف کی ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر خطبہ 140 میں امام علیہ السلام نے عدالت، مساوات، اور مظلوم کی حمایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

تواضع اور انکساری:

وَاعْتَمِدُوْا وَضْعَ التَّذَلُّلِ عَلٰی رُءُوسِکُمْ۔
عجز و انکساری کو سر کا تاج بنانے کا عزم بالجزم کرو۔

انسان کو جو مقام و عظمت ملی ہے اسے اس کی پہچان ہونی چاہیے اور اس عظمت کے ملنے کے سبب سے بھی واقفیت ہونی چاہیے تب وہ اس مقام کی حفاظت کر سکے گا۔ خود کو بلند سمجھنے اور کہنے سے بڑائی نہیں ملتی بلکہ انسان کو یہ مقام تواضع کی وجہ سے نصیب ہوتا ہے۔ تواضع کا سب سے پہلا مقام اللہ کے سامنے ہے جس نے انسان کو باقی مخلوقات پر فضیلت بخشی اور اللہ کے سامنے تواضع کا خوبصورت ترین انداز اس کے حضور سجدہ ہے۔ سجدے کا انکار تکبر ہے اور یہی انکار یا تکبر ابلیس کو ذلت میں ڈال دیتا ہے۔ اس سے انسان کو یہ سیکھنا چاہیے کہ کمال و بزرگی غرور و تکبر سے نہیں عجز و انکساری سے ملتی ہے۔ یاد رہے شیطان کا تکبر اللہ کی ایک نئی مخلوق آدمؑ کے مقابلے میں تھا جو اللہ کو اتنا نا پسند ہوا کہ شیطان کو دربار سے نکال دیا۔ اس لیے اللہ کی مخلوق کے سامنے تکبر سے بچا جائے۔

امیرالمؤمنینؑ نہج البلاغہ کے سب سے تفصیلی خطبے میں اس مرضِ تکبر سے اور اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں اور اس مرضِ تکبر کے علاج سے مطلع فرماتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’عجز و انکساری اور تواضع کو اپنے سر کا تاج بنا لو، تکبر و خود بینی کو پاؤں تلے روند ڈالو اور رعونت کا طوق گردن سے اتار پھینکو۔ اپنے اور اپنے دشمن شیطان اور اس کی سپاہ کے درمیان تواضع و فروتنی کا مورچہ قائم کرو‘‘۔ (نہج البلاغہ خطبہ 190)

امامؑ کے نزدیک جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں محبوب ہو جاتا ہے۔ کامل انسان تکبر سے پاک ہوتا ہے۔

سچائی:

نہج البلاغہ میں سچ (صدق) کو ایمان کی بنیاد، نجات کا ذریعہ، اور عزت و وقار کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے مطابق، سچ اور جھوٹ میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہے (آنکھ اور کان کے درمیان)۔ سچائی انسان کو پستی سے بچا کر بلندیوں اور معاشرتی عزت سے نوازتی ہے، جبکہ جھوٹ انسان کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔

امام علی علیہ السّلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

جَانِبُوا الْكَذِبَ فَاِنَّهٗ مُجَانِبٌ لِّلْاِیْمَانِ، الصَّادِقُ عَلٰی شَرَفِ مَنْجَاةٍ وَّ كَرَامَةٍ، وَ الْكَاذِبُ عَلٰی شَفَا مَهْوَاةٍ وَّ مَهَانَةٍ.
"سچا شخص نجات و عزت کی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے۔ جھوٹ سے بچو، اس لئے کہ وہ ایمان سے الگ چیز ہے۔”

امامؑ کے نزدیک سچ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ کامل انسان جھوٹ سے پاک اور صداقت کا پیکر ہوتا ہے۔امامؑ نے جھوٹ کو ہلاکت اور گمراہی کا سبب قرار دیا ہے اور سچائی کو ہدایت کا راستہ بتایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامل انسان صداقت کو اپنا شعار بناتا ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ 84)

امام فرماتے ہیں:

عَلَامةُ الْاِیْمَانِ اَنْ تُؤْثِرَ الصِّدْقَ حَیْثُ یَضُرُّكَ عَلَى الْكَذِبِ حَیْثُ یَنْفَعُكَ، وَ اَنْ لَّا یَكُوْنَ فِیْ حَدِیْثِكَ فَضْلٌ عَنْ عَمَلِكَ، وَ اَنْ تَتَّقِیَ اللهَ فِیْ حَدِیْثِ غَیْرِكَ.
"ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لئے سچائی باعث نقصان ہو اسے جھوٹ پر ترجیح دو، خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو۔ اور تمہاری باتیں تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو۔”

امامؑ کے نزدیک سچ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ کامل انسان جھوٹ سے پاک اور صداقت کا پیکر ہوتا ہے۔ اور انسان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ سچ کواپنی زندگی کا حصہ نہ بنا لے۔ (حکمت 358)

صبر:

انسان کامل میں صبر پایا جاتا ہے۔

نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام نے صبر کو انسان کامل کی نمایاں خصوصیات میں شامل کیا ہے۔ صبر نہ صرف مشکلات اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے، بلکہ یہ انسان کے کردار کو مضبوط، فیصلوں کو درست اور معاشرتی تعلقات کو مستحکم بناتا ہے۔

خطبہ 3 خطبہ شقشقیہ

فَرَاَیْتُ اَنَّ الصَّبْرَ عَلٰى هَاتَاۤ اَحْجٰى، فَصَبَرتُ وَ فِی الْعَیْنِ قَذًى،وَ فِی الْحَلْقِ شَجًا، اَرٰى تُرَاثِیْ نَهْبًا. اس خطبہ میں امامؑ نے اپنے صبر کی مثال پیش کی ہے
امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کامل اپنی زندگی میں صبر کے ساتھ عدل اور تقویٰ پر عمل کرتا ہے اور معاشرت میں امن قائم کرتا ہے۔۔

انسان کامل میں صبر کی اہمیت:

مصیبت میں استقامت: مشکلات کے دوران ثابت قدم رہنا اور ہار نہ ماننا۔
غصہ پر قابو: صبر انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانے کی طاقت دیتا ہے۔
معاشرتی عدل: صبر کے بغیر انصاف قائم کرنا ممکن نہیں، کیونکہ فیصلے جلد بازی اور جذباتی عمل سے خراب ہو سکتے ہیں۔
روحانی ترقی: صبر انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور دنیاوی و اخروی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

نہج البلاغہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کامل وہ ہے جو نہ صرف صبر کرے بلکہ صبر کے ساتھ عدل، تقویٰ، اور خدمت خلق کو بھی عملی طور پر نافذ کرے۔

انسان کامل کی اہم خصوصیات میں سے ایک صبر وبردباری ہے۔سختی اور دشواریوں سے سامنا انسانی زندگی کا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ ان مشکلات سے مقابلہ کرنا اور سختیوں کو جھیلنا اور پریشانیوں کے مقابلے میں استقامت دکھانے سے انسان کی زندگی شیریں بن جاتی ہے۔ اگر صبر واستقامت کی نعمت سے بے بہرہ ہوں تو انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ اسی لئے امیر المؤمنینؑ نے صبرکو نجات کا وسیلہ قرار دیا ہے: رحم الله امرأ سمع حُكما فوعى،… و جَعل الصبر مطية نجاته (نہج البلاغہ،خطبہ۷)” خدا اس شخص پر رحم کرے، جس نے حکمت کا کوئی کلمہ سنا تو اسے گرہ میں باندھ لیا۔۔۔ اور صبر کو نجات کی سواری بنا لیا”.

صبر کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں مولا متقیانؑ نے فرمایا: "فى وصيته لابنه الحسن عليه السلام: عوّد نفسك التصبّر على المكروه، و نعم الخُلق التصبُر فى الحق (نہج البلاغہ،مکتوب 31)” سختیوں کو جھیلنے کا خوگر بنو۔حق کی راہ میں صبر وشکیبائی بہترین سیرت ہے»۔مولا علیؑ نے صبر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اسے انسانی سر کے ساتھ تشبیہ دی ہے: عليكم بالصبر؛ فان الصبر من الايمان كالراس من الجسد، و لا خير فى جسد لا رأس معه، و لا خیر فى ايمان لا صبر معه (نہج البلاغہ،مکتوب، 42)” صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بےکار ہے یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ ہر وہ شخص جس کے پاس صبر نہیں اس کا ایمان بھی نہیں۔”

شکر گزاری:

انسان کامل میں شکرگزاری سے مراد اللہ کی نعمتوں کا اعتراف، ہر نعمت کو پہچاننا اور اس کا شکریہ ادا کرنا۔ روحانی سکون، شکر گزار دل کو اطمینان اور سکون عطا کرتا ہے۔ معاشرتی محبت، شکرگزاری دوسروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرتی ہے۔ اخروی کامیابی، نہج البلاغہ کے مطابق شکر کرنے والا انسان آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔

نہج البلاغہ میں شکر گزاری کو نعمتوں کے تحفظ، اضافے اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ امام علی (ع) کے مطابق، سچا شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ نعمتوں کو گناہ کے بجائے نیک کاموں میں استعمال کرنے سے ہوتا ہے، جبکہ ناشکری نعمتوں کے زوال اور عذاب کا باعث بنتی ہے۔

نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام نے انسان کی کمالات میں شکرگزاری کو نمایاں مقام دیا ہے۔ شکر نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ہے بلکہ انسان کے دل و دماغ کو سکون اور معاشرت میں محبت و ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

نہج البلاغہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کامل وہ ہے جو شکر گزار ہو، صابر ہو، عادل ہو اور تقویٰ پر عمل کرے۔ شکر انسان کی روح اور معاشرتی زندگی میں روشنی پیدا کرتا ہے اور اسے اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ شکر نعمتوں کے لیے ایک مضبوط قلعہ اور ان میں اضافے کا باعث ہے۔

حقیقی شکر: شکر کا تقاضا ہے کہ جس ذات (اللہ) نے احسان کیا ہے اسے پہچانا جائے اور نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے۔
ناشکری کا انجام: ناشکری نعمتوں کے زوال کا سبب بنتی ہے اور مسلسل گناہ کے باوجود نعمتوں کا ملنا اللہ کی رضا نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔
شکر کی توفیق: شکر خود اللہ کی ایک نعمت ہے، جس پر بھی شکر ادا کرنا ضروری ہے۔

انسان کامل ہمیشہ اپنے پاس موجود نعمتوں پر شکرگزار رہتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکری سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔مولائے متقیان علی بن ابی طالبؑ نے شکر گزاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَ مَنْ أُعْطِيَ الشُّكْرَ لَمْ يُحْرَمِ الزِّيَادَةَ (نہج البلاغہ،کلمات قصار 135) «جو شکر کرے وہ اضافہ سے محروم نہیں ہوتا»۔

انسان کامل کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرتا رہتا ہے کیونکہ اس کو علم ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا مقابلہ شکرکے ساتھ نہیں کیا جاسکتا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي إِلَيْهِ مَصَائِرُ الْخَلْقِ وَ عَوَاقِبُ الْأَمْرِ، نَحْمَدُهُ عَلَى عَظِيمِ إِحْسَانِهِ وَ نَيِّرِ بُرْهَانِهِ وَ نَوَامِي فَضْلِهِ وَ امْتِنَانِهِ؛ حَمْداً يَكُونُ لِحَقِّهِ قَضَاءً وَ لِشُكْرِهِ أَدَاءً وَ إِلَى ثَوَابِهِ مُقَرِّباً وَ لِحُسْنِ مَزِيدِهِ مُوجِباً (نہج البلاغہ،خطبہ ۱۸۱)” تمام حمد اس کے لیے ہے جس کی طرف مخلوق کی بازگشت اور ہر چیز کی انتہا ہے۔ ہم اس کے عظیم احسان، روشن وواضح برہان اور اس کے لطف و کرم کی افزائش پر اس کی حمد وثناء کرتے ہیں۔ ایسی حمد کہ اس کا حق پورا ہو اور شکر ادا ہو اور اس کے ثواب کے قریب لے جانے والی اور اس کے بخششوں کو بڑھانے والی ہو۔”

امیر المؤمنینؑ شکر گزاری کو نعمتوں کے اضافے کا ضامن قرار دریتے ہوئے فرماتے ہیں: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَفْتَحَ عَلَى عَبْدٍ بَابَ الشُّكْرِ، وَ يُغْلِقَ عَنْهُ بَابَ الزِّيَادَةِ (کلمات قصار،434)” ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند كر دے۔”

امام علی (ع) نے شکر کو ایک بہترین صفت قرار دیا ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی بخشتی ہے۔

لَا تَنْسَوْا عِنْدَ النِّعَمِ شُكْرَكُمْ۔ (نہج البلاغہ خطبہ۷۹)
نعمتوں کے وقت شکر کو نہ بھول جاؤ۔

انسان کامل کی یہ پہچان ہے کہ وہ کسی سے بھلائی کرے اور کسی کے کام آئے تو خوش ہوتا ہے اور جس سے بھلائی کرتا ہے اور جس پر احسان کرتا ہے اس سے کبھی شکریے کی توقع نہیں رکھتا بلکہ جو اس کے ساتھ زیادتی بھی کرتا ہے یہ اس کے ساتھ بھی احسان کرتا ہے۔ امیرالمومنینؑ کے فرمان کے مطابق کسی کو سزا دینا چاہتا ہے تو سزا بھی احسان کے ذریعے دیتا ہے۔ اس انسان کامل پر جب کوئی احسان کرتا ہے تو اس احسان کو نہیں بھولتا اور اس کے احسان کا شکریہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ (خطبہ 79)

انسان کامل مومن ہوتا ہے:

نہج البلاغہ کی روشنی میں مومن (کامل) وہ ہے جس کا چہرہ بشاش مگر دل غمگین ہو، بلند ہمت، شاکر و صابر، اور نرم طبیعت ہو۔ وہ شہرت سے نفرت اور تواضع کو پسند کرتا ہے، جس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور وہ خود عاجز ہو۔ حقیقی مومن قربِ الہیٰ کے سبب کمال کی منزلوں تک پہنچتا ہے

امام علی علیہ السّلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

اَلْمُؤْمِنُ بِشْرُهٗ فِیْ وَجْهِهٖ، وَ حُزْنُهٗ فِیْ قَلْبِهٖ، اَوْسَعُ شَیْءٍ صَدْرًا، وَ اَذَلُّ شَیْءٍ نَفْسًا، یَكْرَهُ الرِّفْعَةَ، وَ یَشْنَاُ السُّمْعَةَ، طَوِیْلٌ غَمُّهٗ، بَعِیْدٌ هَمُّهٗ، كَثِیْرٌ صَمْتُهٗ، مَشْغُوْلٌ وَّقْتُهٗ، شَكُوْرٌ صَبُوْرٌ، مَغْمُوْرٌۢ بِفِكْرَتِهٖ، ضَنِیْنٌۢ بِخَلَّتِهٖ، سَهْلُ الْخَلِیْقَةِ، لَیِّنُ الْعَرِیْكَةِ! نَفْسُهٗۤ اَصْلَبُ مِنَ الصَّلْدِ، وَ هُوَ اَذَلُّ مِنَ الْعَبْدِ.
"مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل و خوار سمجھتا ہے۔ سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے۔ اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش، ہمہ وقت مشغو ل، شاکر، صابر، فکر میں غرق، دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور وہ خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔”

امامؑ کے مطابق ایمان انسان کے کمال کی بنیاد ہے۔ کامل انسان نہ صرف اللہ کے حقوق ادا کرتا ہے بلکہ معاشرت میں انصاف اور بھلائی بھی قائم رکھتا ہے۔
(کلماتِ قصار 333)

صاحبِ کمال اور آٹھ اوصاف:

طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ وَ طَابَ كَسْبُهُ وَ صَلَحَتْ سَرِيرَتُهُ وَ حَسُنَتْ خَلِيقَتُهُ وَ أَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ وَ أَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ لِسَانِهِ وَ عَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ وَ وَسِعَتْهُ السُّنَّةُ وَ لَمْ يُنْسَبْ إلَى الْبِدْعَةِ.
(حکمت ۱۲۳)
ترجمہ: خوشا نصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا، مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ،سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا۔

اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کو خلق کیا اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے خود کتابیں نازل فرمائیں اور انبیا ء و رسل کو بھیجا۔ یہ الہی نمائندے اللہ کے بندوں کو کبھی بشارتیں دے کر اللہ کی طرف بلاتے ہیں تو کبھی ڈر اور خوف کو تبلیغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔

امیر المؤمنینؑ خود فرماتے ہیں:

أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَثَثْتُ لَكُمُ الْمَوَاعِظَ الَّتِي وَعَظَ الْأَنْبِيَاءُ بِهَا أُمَمَهُمْ وَ أَدَّيْتُ إِلَيْكُمْ مَا أَدَّتِ الْأَوْصِيَاءُ إِلَى مَنْ بَعْدَهُمْ.
ترجمہ: اللہ کے بندو ! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تم کو لباس سے ڈھانپا اور ہر طرح کا سامان معیشیت تمہارے لےے مہیا کیا اگر کوئی دنیاوی بقاء کی (بلندیوں پر) چڑھنے کا زینہ یا موت کو دور کرنے کا راستہ پاسکتا ہوتا تو وہ سلیمان ابن داؤد (علیہ السلام) ہوتے کہ جن کے لئے نبوت و انتہائے تقرب کے ساتھ جن و انس کی سلطنت قبضہ میں دے دی گئی تھی لیکن جب وہ اپناآب ودانہ پورا اور اپنی مدت(حیات ) ختم کر چکے تو فنا کی کمانوں نے انہیں موت کے تیروں کی زد پر رکھ لیا گھر ان سے خالی ہوگئے اور بستیاں اجڑ گئیں اور دوسرے لوگ ان کے وارث ہو گئے۔ (خطبہ ۱۸۰)

اس حکمت بھرے فرمان میں امامؑ نے ایک صاحب کمال کو آٹھ اوصاف سے یاد کیا۔ گویا راہ واضح فرمائی کہ جو چاہتا ہے علیؑ اس کی مدح سرائی کریں تو وہ ان اوصاف کو اپنا لے۔ اور علیؑ کا مورد تعریف یقیناً صاحب کمال ہی ہو سکتا ہے۔امامؑ نے کچھ صاحب ِ کمال پیاروں کے نام لے کر ان کی تعریف کی ہے ان کی راہوں کو اپنا کر انسان امام ؑکی تعریف کا مصداق بن سکتا ہے اور کمال ِ انسانی کے مدارج کو درک کر سکتا ہے۔

نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے مطابق انسانِ کامل (متقین) اللہ سے ڈرنے والا، عادل، حلیم، سخی، حق گو، اور نفس پر قابو پانے والا ہوتا ہے، جو عبادت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، زمین کی آبادی اور حیوانوں کا خیال رکھتا ہے۔ وہ اپنے اعمالِ صالحہ سے مطمئن نہیں ہوتا اور عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے

طریقہ کار:

مقالہ تحقیقی اور تحلیلی نوعیت کا ہے۔
بنیادی ماخذ: نہج البلاغہ (خطبات، خطوط، اقوال)
ثانوی ماخذ: تحقیقاتی مقالات، کتب اور عصر حاضر میں انسان کامل کے فلسفے پر مطالعہ، اقوال اور خطوط کے ذریعے انسانی کمال کی صفات کو واضح کرنا

تحقیقاتی جائزہ:

اہم محققین نے نہج البلاغہ میں انسان کامل کے تصور پر کافی تحقیق کی ہے۔

نہج البلاغہ پر مختلف علماء کی تحقیقات
سید رضی کا مجموعہ: علامہ سید رضیؒ نے نہج البلاغہ کو جمع کیا اور اس میں انسانی کمال کے اصول کو نمایاں کیا۔علامہ اقبال: علامہ اقبال نے انسان کامل کو اسلامی اخلاق اور روحانی ترقی کا ماڈل قرار دیا۔
مولانا شبلی نعمانی اور دیگر علماء کی تشریحات: مولانا شبلی نعمانی اور دیگر اہلِ تشیع علماء نے انسانی کمال کی تعریف میں نہج البلاغہ کے خطبات کے عملی اثرات بیان کیے۔

تجزیہ – دلائل، مثالیں، تجزیہ

نتائج:

نہج البلاغہ ایک ایسا علمی اور اخلاقی خزانہ ہے جو انسان کامل کے تمام پہلووں کی تربیت کرتا ہے۔

انسان کامل وہ ہے جو علم، تقویٰ، عدل، اخلاق اور روحانیت میں متوازن ہو۔ نہج البلاغہ میں موجود خطبات، خطوط اور اقوال ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ حقیقی انسانیت کا معیار کیا ہے۔

”نہج البلاغہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانیت صرف جسمانی ترقی نہیں بلکہ اخلاق، عدل، علم اور روحانیت کی مکمل تربیت ہے“۔ (خطبہ 192)

عصر حاضر میں نہج البلاغہ کی تعلیمات نوجوانوں کی تربیت، قیادت اور معاشرتی انصاف کے لیے آج بھی عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

حوالہ جات

[1] نہج البلاغہ، مرتب: سید رضی،
ترجمہ و شرح: مختلف مترجمین، مکتبہ و ناشرانِ اسلامی۔
خطبہ 1
خطبہ 7
خطبہ 31 (شقشقیہ سے متعلق صبر کا ذکر)
خطبہ 79
خطبہ 84
خطبہ 180
خطبہ 181
خطبہ 190
خطبہ 191
نہج البلاغہ، باب حکمتیں (کلماتِ قصار)
حکمت 123
حکمت 135
حکمت 231
حکمت 333
حکمت 358
حکمت 434
نہج البلاغہ، باب مکتوبات (خطوط)
مکتوب 31 (امام علیؑ کی وصیت امام حسنؑ کے نام)
مکتوب 42
قرآن مجید
سورہ النحل (16:90) : إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ
اسلامی اخلاقیات و فلسفہ سے متعلق کتب، انسان کامل، شرح نہج البلاغہ۔

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button